احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

روحانی خزائن جلد 1۔ براہین احمدیہ حصہ دوم یونی کوڈ

روحانی خزائن جلد 1۔ براہین احمدیہ حصہ دوم یونی کوڈ

 

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 53

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 53

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/53/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 54

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 54

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/54/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 55

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 55

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/55/mode/1up

3

الجزو ۷۱ سورۃ الانبیاء

براہین احمدیہ

کے مخالفوں کی جلدی

کئی ایک پادری صاحبوں اور ہندو صاحبوں نے جوش میں آکر اخبار سفیر ہند اور نور افشاں اور رسالہ وِدیا پرکاشک میں ہمارے نام طرح طرح کے اعلان چھپوائے ہیں جن میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ضرور ہم ردّاس کتاب کی لکھیں گے اور بعض صاحب ڈوموں کی طرح ایسے ایسے صریح ہجو آمیز الفاظ استعمال میں لائے ہیں کہ جن سے ان کی طینت کی پاکی خوب ظاہر ہوتی ہے گویا وہ اپنی اوباشانہ تقریروں سے ہمیں ڈراتے اور دھمکاتے ہیں۔ مگر انہیں معلوم نہیں ہم تو ان کی تہہ سے واقف ہیں اور ان کے جھوٹے اور ذلیل اور پست خیال ہم پر پوشیدہ نہیں۔ سو ان سے ہم کیا ڈریں گے اور وہ کیا ڈراویں گے۔

کرمک پروانہ راچوں موت می آید فراز

می فتد بر شمع سوزاں ازرہِ شوخی و ناز

بہرحال ہم ان کی خدمت میں التماس کرتے ہیں کہ ذرا صبر کریں اور جب کوئی حصہ کتاب کی فصلوں میں سے چھپ چکتا ہے تب جتنا چاہیں زور لگالیں۔ ایک عام مقولہ مشہور ہے کہ سانچ کو آنچ نہیں۔ سو ہم سچ پر ہیں۔ ہمارے سامنے کسی پادری یا پنڈت کی کیا پیش جاسکتی ہے اور کسی کی نری زبان کی فضول گوئی سے ہمارا کیا بگڑ سکتا ہے۔ بلکہ ایسی باتوں سے خود

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 56

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 56

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/56/mode/1up

پادریوں اور پنڈتوں کی دیانتداری کھلتی جاتی ہے کیونکہ جس کتاب کو ابھی نہ دیکھا اور نہ بھالا نہ اس کی براہین سے کچھ اطلاع نہ اس کے پایۂ تحقیقات سے کچھ خبر اس کی نسبت جھٹ پٹ مونہہ کھول کر ردّ نویسی کا دعویٰ کردینا کیا یہی ان لوگوں کی ایمانداری اور راستبازی ہے؟ اے حضرات! جب آپ لوگوں نے ابھی میری دلائل کو ہی نہیں دیکھا تو پھر آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ آپ ان تمام دلائل کا جواب لکھ سکیں گے؟ جب تک کسی کی کوئی حجت نکالی ہوئی یا کوئی برہان قائم کی ہوئی یا کوئی دلیل لکھی ہوئی معلوم نہ ہو اور پھر اس کو جانچا نہ جائے کہ یقینی ہے یا ظنی اور مقدمات صحیحہ پر مبنی ہے یا مغالطات پر تب تک اس کی نسبت کوئی مخالفانہ رائے ظاہر کرنا اور خواہ نخواہ اس کے رد لکھنے کے لئے دم زنی کرنا اگر تعصب نہیں تو اور کیا ہے؟ اور جب آپ لوگوں نے قبل از دریافت اصل حقیقت رد لکھنے کی پہلے ہی ٹھہرالی تو پھر کب نفسِ امّارہآپ کا اس بات سے باز آنے کا ہے جو بات بات میں فریب اور تدلیس اور خیانت اور بددیانتی کو کام میں لایا جائے تا کسی طرح یہ فخر حاصل کریں کہ ہم نے جواب لکھ دیا۔

اگر آپ لوگوں کی نیت میں کچھ خلوص اور دل میں کچھ انصاف ہوتا تو آپ لوگ یوں اعلان دیتے کہ اگر دلائل کتاب کی واقع میں صحیح اور سچی ہوں گی تو ہم بسروچشم ان کو قبول کریں گے ورنہ اظہار حق کی غرض سے ان کی رد لکھیں گے۔ اگر آپ ایسا کرتے تو بے شک منصفوں کے نزدیک منصف ٹھہرتے اور صاف باطن کہلاتے۔ لیکن خدا نہ کرے کہ ایسے لوگوں کے دلوں میں انصاف ہو جو خدا کے ساتھ بھی بے انصافی کرتے ہوئے نہیں ڈرتے اور بعض نے اس کو خالق ہونے سے ہی جواب دے رکھا ہے اور بعض ایک کے تین بنائے بیٹھے ہیں اور کسی نے اس کو ناصرہ میں لا ڈالا ہے اور کوئی اُس کو اجودھیا کی طرف کھینچ لایا ہے۔

اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ آپ سب صاحبوں کو قسم ہے کہ ہمارے مقابلہ پر ذرا توقف نہ کریں افلاطون بن جاویں بیکن کا اوتار دھاریں ارسطو کی نظر اور فکر لاویں اپنے مصنوعی

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 57

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 57

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/57/mode/1up

خداؤں کے آگے استمداد کے لئے ہاتھ جوڑیں پھر دیکھیں جو ہمارا خدا غالب آتا ہے یا آپ لوگوں کے آلہہ باطلہ۔ اور جب تک اس کتاب کا جواب نہ دیں تب تک بازاروں میں عوام کالانعام کے سامنے اسلام کی تکذیب کرنا یا ہنود کے مندروں میں بیٹھ کر ایک وید کو ایشرکرت اور ست ودیا اور باقی سارے پیغمبروں کو مفتری بیان کرنا صفت حیا اور شرم سے دور سمجھیں۔

یارو خودی سے باز بھی آؤ گے یا نہیں؟

خوُ اپنی پاک صاف بناؤ گے یا نہیں؟

باطل سے میل دل کی ہٹاؤ گے یا نہیں؟

حق کی طرف رجوع بھی لاؤ گے یا نہیں؟

کب تک رہو گے ضد و تعصب میں ڈوبتے؟

آخر قدم بصدق اٹھاؤ گے یا نہیں؟

کیونکر کرو گے ردّ جو محقق ہے ایک بات؟

کچھ ہوش کرکے عذر سناؤ گے یا نہیں؟

سچ سچ کہو اگر نہ بنا تم سے کچھ جواب

پھر بھی یہ منہ جہاں کو دکھاؤ گے یا نہیں؟

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 58

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 58

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/58/mode/1up

اشتہارِ ضروری

کتاب براھین احمدیہ کی قیمت جو بالفعل 3دس روپیہ قرار پائی ہے وہ صرف مسلمانوں کے لئے کمال درجہ کی تخفیف اور رعایت ہے کہ جن کو بشرط وسعت اور طاقت مالی کے اعانت دین متین میں کسی نوع کا دریغ نہیں۔ لیکن جو صاحب کسی اور مذہب یا ملت کے پابند ہوکر اس کتاب کو خریدنا چاہیں تو چونکہ اعانت کی ان سے کچھ توقع نہیں۔ لہٰذا ان سے وہ پوری پوری قیمت لی جائے گی جو حصہ اولیٰ کے اعلان میں شائع ہوچکی ہے۔

المشتھر

مولف براھین احمدیہ

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 59

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 59

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/59/mode/1up

عرضؔ ضروری بحالت مجبوری

انسان کی کمزوریاں جو ہمیشہ اس کی فطرت کے ساتھ لگی ہوئی ہیں ہمیشہ اس کو تمدن اور تعاون کا محتاج رکھتی ہیں اور یہ حاجت تمدن اور تعاون کی ایک ایسا بدیہی امر ہے کہ جس میں کسی عاقل کو کلام نہیں خود ہمارے وجود کی ہی ترکیب ایسی ہے کہ جو تعاون کی ضرورت پر اول ثبوت ہے ہمارے ہاتھ اور پاؤں اور کان اور ناک اور آنکھ وغیرہ اعضاء اور ہماری سب اندرونی اور بیرونی طاقتیں ایسی طرز پر واقع ہیں کہ جب تک وہ باہم مل کر ایک دوسرے کی مدد نہ کریں تب تک افعال ہمارے وجود کے علی مجری الصحت ہرگز جاری نہیں ہوسکتے اور انسانیت کیَ کل ہی معطل پڑی رہتی ہے جو کام دو ہاتھ کے ملنے سے ہونا چاہیئے وہ محض ایک ہی ہاتھ سے انجام نہیں ہوسکتا اور جس راہ کو دو پاؤں مل کر طے کرتے ہیں وہ فقط ایک ہی پاؤں سے طے نہیں ہوسکتا اسی طرح تمام کامیابی ہماری معاشرت اور آخرت کے تعاون پر ہی موقوف ہورہی ہے کیا کوئی اکیلا انسان کسی کام دین یا دنیا کو انجام دے سکتا ہے ہرگز نہیں کوئی کام دینی ہو یا دنیوی بغیر معاونت باہمی کے چل ہی نہیں سکتا ہریک گروہ کہ جس کا مدعا اور مقصد ایک ہی مثل اعضا یکدیگر ہے اور ممکن نہیں جو کوئی فعل جو متعلق غرض مشترک اس گروہ کے ہے بغیر معاونت باہمی ان کی کے بخوبی و خوش اسلوبی ہوسکے بالخصوص جس قدر جلیل القدر کام ہیں اور جن کی علت غائی کوئی فائدہ عظیمہ جمہوری ہے وہ تو بجز جمہوری اعانت کے کسی طور پر انجام پذیر ہی نہیں ہوسکتے اور صرف ایک ہی شخص ان کا متحمل ہرگز نہیں ہوسکتا اور نہ کبھی ہوا انبیاء علیہم السلام جو توکل اور تفویض اور تحمل اور مجاہدات افعال خیر میں سب سے بڑھ کر ہیں ان کو بھی بہ رعایتِ

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 60

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 60

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/60/mode/1up

اسبابِ ظاہری

۱؂ کہنا پڑا خدا نے بھی اپنے قانون تشریعی میں بہ تصدیق اپنے قانون قدرت کے

؂ کا حکم فرمایا۔

مگر افسوس جو مسلمانوں میں سے بہتوں نے اس اصولِ متبرک کو فراموش کردیا ہے اور ایسی اصل عظیم کو کہ جس پر ترقی اور اقبال دین کا سارا مدار تھا بالکل چھوڑ بیٹھے ہیں اور دوسری قومیں کہ جن کی الہامی کتابوں میں اس بارے میں کچھ تاکید بھی نہیں تھی وہ اپنی دلی تدبیر سے اپنے دین کی اشاعت کے شوق سے مضمون 3 پر عمل کرتی جاتی ہیں اور خیالاتِ مذہبی ان کے بباعث قومی تعاون کے روزبروز زیادہ سے زیادہ پھیلتے چلے جاتے ہیں آج کل عیسائیوں کی قوم کو ہی دیکھو جو اپنے دین کے پھیلانے میں کس قدر دلی جوش رکھتے ہیں اور کیا کچھ محنت اور جانفشانی کررہے ہیں لاکھ ہا روپیہ بلکہ کروڑہا انکا صرف تالیفات جدیدہ کے چھپوانے اور شائع کرنیکی غرض سے جمع رہتا ہے ایک متوسط دولتمند یورپ یا امریکہ کا اشاعت تعلیم انجیل کیلئے اس قدر روپیہ اپنی گرہ سے خرچ کردیتا ہے جو اہل اسلام کے اعلیٰ سے اعلیٰ دولت مند من حیث المجموع بھی اسکی برابری نہیں کرسکتے یوں تو مسلمانوں کا اس ملک ہندوستان میں ایک بڑا گروہ ہے اوربعض بعض متمول اور صاحب توفیق بھی ہیں مگر امور خیر کی بجاآوری میں (باستثنائے ایک جماعت قلیل اُمراء اور وُزراء اور عہدہ داروں کے) اکثر لوگ نہایت درجہ کے پست ہمت اور منقبض الخاطر اور تنگ دل ہیں کہ جن کے خیالات محض نفسانی خواہشوں میں محدود ہیں اور جن کے دماغ استغنا کے موادردیّہ سے متعفن ہورہے ہیں یہ لوگ دین اور ضروریات دین کو تو کچھ چیز ہی نہیں سمجھتے۔ ہاں ننگ و نام کے موقعہ پر سارا گھر بار لٹانے کو بھی حاضر ہیں۔ خالصاً دین کیلئے عالی ہمت مسلمان (جیسے ایک سیدنا ومخدؔ ومنا حضرت خلیفہ سید محمدحسن خان صاحب بہادر وزیراعظم پٹیالہ) اس قدر تھوڑے ہیں کہ جن کو انگلیوں پر بھی شمار کرنے کی حاجت نہیں۔

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 61

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 61

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/61/mode/1up

ماسوا اس کے بعض لوگ اگر کچھ تھوڑا بہت دین کے معاملہ میں خرچ بھی کرتے ہیں تو ایک رسم کے پیرایہ میں نہ واقعی ضرورت کے انجام دینے کی نیت سے جیسے ایک کو مسجد بنواتے دیکھ کر دوسرا بھی جو اس کا حریف ہے خواہ نخواہ اس کے مقابلہ پر مسجد بنواتا ہے اور خواہ واقعی ضرورت ہو یا نہ ہو مگر ہزارہا روپیہ خرچ کرڈالتا ہے کسی کو یہ خیال پیدا نہیں ہوتا جو اس زمانہ میں سب سے مقدم اشاعت علم دین ہے اور نہیں سمجھتے کہ اگر لوگ دیندار ہی نہیں رہیں گے تو پھر ان مسجدوں میں کون نماز پڑھے گا صرف پتھروں کے مضبوط اور بلند میناروں سے دین کی مضبوطی اور بلندی چاہتے ہیں اور فقط سنگ مرمر کے خوبصورت قطعات سے دین کی خوبصورتی کے خواہاں ہیں لیکن جس روحانی مضبوطی اور بلندی اور خوبصورتی کو قرآن شریف پیش کرتا ہے اور جو3 ۱؂ کا مصداق ہے اس کی طرف نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتے اور اس شجرہ طیبہ کے ظل ظلیل دکھلانے کی طرف ذرا متوجہ نہیں ہوتے۔ اور یہود کی طرح صرف ظواہر پرست بن رہے ہیں۔ نہ دینی فرائض کو اپنے محل پر ادا کرتے ہیں اور نہ ادا کرنا جانتے ہیں اور نہ جاننے کی کچھ پروا رکھتے ہیں۔

اگرچہ یہ بات قابل تسلیم ہے جو ہر سال میں ہماری قوم کے ہاتھ سے بے شمار روپیہ بنام نہاد خیرات و صدقات کے نکل جاتا ہے مگر افسوس جو اکثر لوگ ان میں سے نہیں جانتے کہ حقیقی نیکی کیا چیز ہے اور بذل اموال میں اصلح اور انسب طریقوں کو مدنظر نہیں رکھتے اور آنکھ بند کرکے بے موقع خرچ کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر جب ساراشوقِ دِلی اسی بے موقع خرچ کرنے میں تمام ہوجاتا ہے۔ تو موقعہ پر آکر اصلی فرض کے ادا کرنے سے بالکل قاصر رہ جاتے ہیں اور اپنے پہلے اسراف اور افراط کا تدارک بطور تفریط اور ترک ماوجب کے کرنا چاہتے ہیں یہ ان لوگوں کی سیرت ہے کہ جن میں روح کی سچائی سے قوت فیاضی اور نفع رسانی کی جوش نہیں مارتی بلکہ صرف اپنی ہی طمع خاص سے مثلاً بوڑھے ہوکر پیرانہ سالی

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 62

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 62

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/62/mode/1up

کے وقت میں آخرت کی تن آسانی کا ایک حیلہ سوچ کر مسجد بنوانے اور بہشت میں بنا بنایا گھر لینے کا لالچ پیدا ہوجاتا ہے اور حقیقی نیکی پر ان کی ہمدردی کا یہ حال ہے کہ اگر کشتی دین کی ان کی نظر کے سامنے ساری کی ساری ڈوب جائے یا تمام دین ایک دفعہ ہی تباہ ہوجائے تب بھی ان کے دل کو ذرا لرزہ نہیں آتا اور دین کے رہنے یا جانے کی کچھ بھی پروا نہیں رکھتے اگر درد ہے تو دنیا کا اگر فکر ہے تو دنیا کا اگر عشق ہے تو دنیا کا اگر سودا ہے تو دنیا کا اور پھر دنیا بھی جیسا کہ دوسری قوموں کو حاصل ہے حاصل نہیں ہریک شخص جو قوم کی اصلاح کے لئے کوشش کررہا ہے وہ ان لوگوں کی لاپروائی سے نالاں اور گریاں ہی نظر آتا ہے اور ہر یک طرف سے یاحسرتًا علی القوم کی ہی آواز آتی ہے اوروں کی کیا کہیں ہم آپ ہی سناتے ہیں۔

ہم نے صدہا طرح کا فتور اور فساد دیکھ کر کتاب براھین احمدیہ کو تالیف کیا تھا اور کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ تر روشن دکھلایا گیا چونکہ یہ مخالفین پر فتح عظیم اور مومنین کے دل و جان کی مراد تھی اس لئے اُمراء اسلام کی عالی ہمتی پر بڑا بھروسا تھا جو وہ ایسی کتاب لاجواب کی بڑی قدر کریں گے اور جو مشکلات اس کی طبع میں پیش آرہی ہیں۔ ان کے دور کرنے میں بدل و جان متوجہ ہوجائیں گے مگر کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کیا تحریر میں لاویں اللّٰہ المستعان واللّٰہ خیر و ابقی!!

بعض صاحبوں نے قطع نظر اعانت سے ہم کو سخت تفکر اور تردد میں ڈال دیا ہے ہم نے پہلا حصہ جو چھپ چکا تھا اس میں سے قریب ایک سو پچاس جلد کے بڑے بڑے امیروں اور دولت مندوں اور رئیسوں کی خدمت میں بھیجی تھیں اور یہ امید کی گئی تھی جو امراء عالی قدر خریداری کتابؔ کی منظور فرما کر قیمت کتاب جو ایک ادنیٰ رقم ہے بطور پیشگی بھیج دیں گے اور ان کی اس طور کی اعانت سے دینی کام بآسانی پورا ہوجائے گا

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 63

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 63

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/63/mode/1up

اور ہزارہا بندگانِ خدا کو فائدہ پہنچے گا۔ اسی امید پر ہم نے قریب ڈیڑھ سو کے خطوط اور عرائض بھی لکھے اور بہ انکسار تمام حقیقت حال سے مطلع کیا مگر باستثناء دو تین عالی ہمتوں کے سب کی طرف سے خاموشی رہی نہ خطوط کا جواب آیا نہ کتابیں واپس آئیں مصارف ڈاک تو سب ضائع ہوئے لیکن اگر خدانخواستہ کتابیں بھی واپس نہ ملیں تو سخت دقت پیش آئے گی اور بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا افسوس جو ہم کو اپنے معزز بھائیوں سے بجائے اعانت کے تکلیف پہنچ گئی اگر یہی حمایت اسلام ہے تو کار دین تمام ہے ہم بکمال غربت عرض کرتے ہیں کہ اگر قیمت پیشگی کتابوں کا بھیجنا منظور نہیں تو کتابوں کو بذریعہ ڈاک واپس بھیج دیں ہم اسی کو عطیہ عظمیٰ سمجھیں گے اور احسان عظیم خیال کریں گے ورنہ ہمارا بڑا حرج ہوگا اور گم شدہ حصوں کو دوبارہ چھپوانا پڑے گا کیونکہ یہ پرچہ اخبار نہیں کہ جس کے ضائع ہونے میں کچھ مضائقہ نہ ہو ہریک حصہ کتاب کا ایک ایسا ضروری ہے کہ جس کے تلف ہونے سے ساری کتاب ناقص رہ جاتی ہے برائے خدا ہمارے معزز اخوان سرد مہری اور لاپروائی کو کام میں نہ لائیں اور دنیوی استغناء کو دین میں استعمال نہ کریں۔ اور ہماری اس مشکل کو سوچ لیں کہ اگر ہمارے پاس اجزا کتاب کے ہی نہیں ہوں گے تو ہم خریداروں کو کیا دیں گے اور ان سے پیشگی روپیہ کہ جس پر چھپنا کتاب کا موقوف ہے کیونکر لیں گے۔ کام ابتر پڑ جائے گا اور دین کے امر میں جو سب کا مشترک ہے ناحق کی دقت پیش آجائے گی۔

اُمیدوار بود آدمی بخیر کساں

مرا بخیر تو امید نیست بدمرساں

ایک اور بڑی تکلیف ہے جو بعض نافہم لوگوں کی زبان سے ہم کو پہنچ رہی ہے اور وہ یہ ہے جو بعض صاحب کہ جن کی رائے بباعث کم توجہی کے دینی معاملات میں صحیح نہیں ہے وہ اس حقیقت حال پر اطلاع پاکر جو کتاب براہین احمدیہ کی طیاری پر نو ہزار روپیہ خرچ آتا ہے بجائے اس کے جو دلی غمخواری سے کسی نوع کی اعانت کی طرف متوجہ ہوتے

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 64

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 64

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/64/mode/1up

اور جو زیر باریاں بوجہ کمی قیمت کتاب و کثرت مصارف طبع کے عائد حال ہیں ان کے جبر نقصان کے لئے کچھ لِلّٰہ فی اللّٰہ ہمت دکھلاتے منافقانہ باتیں کرنے سے ہمارے کام میں خلل انداز ہورہے ہیں اور لوگوں کو یہ وعظ سناتے ہیں جو کیا پہلی کتابیں کچھ تھوڑی ہیں جواب اس کی حاجت ہے اگرچہ ہم کو ان لوگوں کے اعتراضوں پر کچھ نظر اور خیال نہیں اور ہم جانتے ہیں جو دنیا پرستوں کی ہریک بات میں کوئی خاص غرض ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ اسی طرح شرعی فرائض کو اپنے سر پر سے ٹالتے رہتے ہیں کہ تا کسی دینی کارروائی کی ضرورت کو تسلیم کرکے کوئی کوڑی ہاتھ سے نہ چھوڑنی پڑے لیکن چونکہ وہ ہماری اس جہد بلیغ کی تحقیر کرکے لوگوں کو اس کے فوائد عظیمہ سے محروم رکھنا چاہتے ہیں اور باوصفیکہ ہم نے پہلے حصّہ کے پرچہ منضمہ میں وجوہ ضرورت کتاب موصوف کی بیان کردی تھیں پھر بھی بمقتضائے فطرتی خاصیت اپنی کے نیش زنی کررہے ہیں ناچار اس اندیشہ سے کہ مبادا کوئی شخص ان کی واہیات باتوں سے دھوکا نہ کھاوے پھر کھول کر بیان کیا جاتا ہے کہ کتاب براہین احمدیہ بغیر اشد ضرورت کے نہیں لکھی گئی۔ جس مقصد اور مطلب کے انجام دینے کے لئے ہم نے اس کتاب کو تالیف کیا ہے اگر وہ مقصد کسی پہلی کتاب سے حاصل ہوسکتا تو ہم اسی کتاب کو کافی سمجھتے اور اسی کی اشاعت کے لئے بدل و جان مصروف ہوجاتے اور کچھ ضرور نہ تھا جو ہم سالہا سال اپنی جان کو محنت شدید میں ڈال کر اور اپنی عمر عزیز کا ایک حصہ خرچ کرکے پھر آخرکار ایسا کام کرتے جو محض تحصیل حاصل تھا لیکن جہاں تک ہم نے نظر کی ہم کو کوئی کتاب ایسی نہ ملی جو جامع ان تمام دلائل اور براہین کی ہوتی کہ جن کو ہم نے اس کتاب میں جمع کیا ہے اور جن کا شائع کرنا بغرض اثبات حقیّت دین اسلام کے اس زمانہ میں نہایت ضروری ہے تو ناچار واجب دیکھ کر ہم نے یہ تالیف کی اگر کسی کو ہمارے اس بیان میں شبہ ہو تو ایسی کتاب کہیں سے نکال کر ہم کو دکھادے تاہم بھی جانیں ورنہ بیہودہ بکواس کرنا اور ناحق

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 65

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 65

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/65/mode/1up

بندگانِ خدا کو ایک چشمہ فیض سے روکنا بڑا عیب ہے۔

مگر یاد رہے جو اس مقولہ سے کسی نوع کی خود ستائی ہمارا مطلب نہیں جو تحقیقات ہم نے کی اور پہلے عالی شان فضلاء نے نہ کی یا جو دلائل ہم نے لکھیںؔ اور انہوں نے نہ لکھیں یہ ایک ایسا امر ہے جو زمانہ کے حالات سے متعلق ہے نہ اس سے ہماری ناچیز حیثیت بڑھتی ہے اور نہ ان کی بلند شان میں کچھ فرق آتا ہے انہوں نے ایسا زمانہ پایا کہ جس میں ابھی خیالات فاسدہ کم پھیلے تھے اور صرف غفلت کے طور پر باپ دادوں کی تقلید کا بازار گرم تھا سو ان بزرگوں نے اپنی تالیفات میں وہ روش اختیار کی جو ان کے زمانہ کی اصلاح کے لئے کافی تھی ہم نے ایسا زمانہ پایا کہ جس میں بباعث زور خیالات فاسدہ کے وہ پہلی روش کافی نہ رہی بلکہ ایک پرزور تحقیقات کی حاجت پڑی جو اس وقت کی شدت فساد کی پوری پوری اصلاح کرے یہ بات یاد رکھنی چاہیئے جو کیوں ازمنۂ مختلفہ میں تالیفات جدیدہ کی حاجت پڑتی ہے اس کا باعث یہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا یعنی کسی زمانہ میں مفاسد کم اور کسی میں زیادہ ہوجاتے ہیں اور کسی وقت کسی رنگ میں اور کسی وقت کسی رنگ میں پھیلتے ہیں اب مولف کسی کتاب کا جو ان خیالات کو مٹانا چاہتا ہے اس کو ضرور ہوتا ہے جو وہ طبیب حاذق کی طرح مزاج اور طبیعت اور مقدار فساد اور قسم فساد پر نظر کرکے اپنی تدبیر کو علٰی قدر ما ینبغی و علٰی نحو ما ینبغی عمل میں لاوے اور جس قدر یا جس نوع کا بگاڑ ہوگیا ہے اسی طور پر اس کی اصلاح کا بندوبست کرے اور وہی طریق اختیار کرے کہ جس سے احسن اور اسہل طور پر اس مرض کا ازالہ ہوتا ہو کیونکہ اگر کسی تالیف میں مخاطبین کے مناسب حال تدارک نہ کیا جائے تو وہ تالیف نہایت نکمی اور غیر مفید اور بے سود ہوتی ہے اور ایسی تالیف کے بیانات میں یہ زور ہرگز نہیں ہوتا جو منکر کی طبیعت کے پورے گہراؤ تک غوطہ لگا کر اس کے دلی خلجان کو بکلی مستاصل کرے پس ہمارے معترضین اگر ذرا غور کرکے سوچیں گے تو ان پر

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 66

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 66

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/66/mode/1up

بہ یقین کامل واضح ہوجائے گا کہ جن انواع و اقسام کے مفاسد نے آج کل دامن پھیلا رکھا ہے ان کی صورت پہلے فسادوں کی صورت سے بالکل مختلف ہے وہ زمانہ جو کچھ عرصہ پہلے اس سے گزر گیا ہے وہ جاہلانہ تقلید کا زمانہ تھا۔ اور یہ زمانہ کہ جس کی ہم زیارت کررہے ہیں یہ عقل کی بداستعمالی کا زمانہ ہے۔ پہلے اس سے اکثر لوگوں کو نامعقول تقلید نے خراب کر رکھا تھا اور اب فکر اور نظر کی غلطی نے بہتوں کی مٹی پلید کردی ہے یہی وجہ ہے کہ جن دلائل عمیقہ اور براہین قاطعہ لکھنے کی ہم کو ضرورتیں پیش آئیں وہ ان نیک اور بزرگ عالموں کو کہ جنہوں نے صرف جاہلانہ تقلید کا غلبہ دیکھ کر کتابیں لکھی تھیں پیش نہیں آئی تھیں۔ ہمارے زمانہ کی نئی روشنی (کہ خاک برفرق ایں روشنی) نو آموزوں کی روحانی قوتوں کو افسردہ کررہی ہے۔ ان کے دلوں میں بجائے خدا کی تعظیم کے اپنی تعظیم سما گئی ہے اور بجائے خدا کی ہدایت کے آپ ہی ہادی بن بیٹھے ہیں۔ اگرچہ آج کل تقریباً تمام نو آموزوں کا قدرتی میلان وجوہات عقلیہ کی طرف ہوگیا ہے لیکن افسوس کہ یہی میلان بباعث عقل ناتمام اور علم خام کے بجائے رہبر ہونے کے رہزن ہوتا جاتا ہے۔ فکر اور نظر کی کجروی نے لوگوں کے قیاسات میں بڑی بڑی غلطیاں ڈال دی ہیں اور مختلف رایوں اور گوناگوں خیالات کے شائع ہونے کے باعث سے کم فہم لوگوں کے لئے بڑی بڑی دقتیں پیش آگئی ہیں۔ سو فسطائی تقریروں نے نو آموزوں کی طبائع میں طرح طرح کی پیچیدگیاں پیدا کردی ہیں۔ جو امور نہایت معقولیت میں تھے وہ ان کی آنکھوں سے چھپ گئے ہیں۔ جو باتیں بغایت درجہ نامعقول ہیں ان کو وہ اعلیٰ درجہ کی صداقتیں سمجھ رہے ہیں۔ وہ حرکات جو نشاء انسانیت سے مغائر ہیں ان کو وہ تہذیب خیال کئے بیٹھے ہیں اور جو حقیقی تہذیب ہے اس کو وہ نظر استخفاف اور استحقار سے دیکھتے ہیں پس ایسے وقت میں اور ان لوگوں کے علاج کے لئے جو اپنے ہی گھر میں محقق بن بیٹھے ہیں اور اپنے ہی منہ سے میاں مٹھو کہلاتے ہیں ہم نے کتاب براہین احمدیہ کوجو تین سو براہین

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 67

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 67

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/67/mode/1up

قطعیہ عقلیہ پر مشتمل ہے بغرض اثبات حقانیت قرآن شریف جس سے یہ لوگ بکمال نخوت مونہہ پھیر رہے ہیں تالیف کیا ہے کیونکہ یہ بات اجلی بدیہات ہے جو سرگشتۂ عقل کو عقل ہی سے تسلی ہوسکتی ہے اور جو عقل کا رہزدہ ہے وہ عقل ہی کے ذریعہ سے راہ پر آسکتا ہے۔

اب ہریک مومن کے لئے خیال کرنے کا مقام ہے کہ جس کتاب کے ذریعہ سے تین سو دلائل عقلی حقیت قرآن شریف پر شائع ہوگئیں اور تمام مخالفینؔ کے شبہات کو دفع اور دور کیا جائے گا وہ کتاب کیا کچھ بندگان خدا کو فائدہ پہنچائے گی اور کیسا فروغ اور جاہ و جلال اسلام کا اس کی اشاعت سے چمکے گا ایسے ضروری امر کی اعانت سے وہی لوگ لاپروا رہتے ہیں جو حالت موجودہ زمانہ پر نظر نہیں ڈالتے۔ اور مفاسد منتشرہ کو نہیں دیکھتے اور عواقب امور کو نہیں سوچتے یا وہ لوگ کہ جن کو دین سے کچھ غرض ہی نہیں اور خدا اور رسول سے کچھ محبت ہی نہیں۔ اے عزیزو!! اس ُ پرآشوب زمانہ میں دین اسی سے برپا رہ سکتا ہے جو بمقابلہ زور طوفان گمراہی کے دین کی سچائی کا زور بھی دکھایا جاوے اور ان بیرونی حملوں کے جو چاروں طرف سے ہورہے ہیں حقانیت کی قوی طاقت سے مدافعت کی جائے یہ سخت تاریکی جو چہرۂ زمانہ پر چھا گئی ہے یہ تب ہی دور ہوگی کہ جب دین کی حقیت کے براہین دنیا میں بکثرت چمکیں اور اس کی صداقت کی شعاعیں چاروں طرف سے چھوٹتی نظر آویں۔ اس پراگندہ وقت میں وہی مناظرہ کی کتاب روحانی جمعیت بخش سکتی ہے کہ جو بذریعہ تحقیق عمیق کے اصل ماہیت کے باریک دقیقہ کی تہہ کو کھولتی ہو اور اس حقیقت کے اصل قرارگاہ تک پہنچاتی ہو کہ جس کے جاننے پر دلوں کی تشفی موقوف ہے۔

اے بزرگو!!! اب یہ وہ زمانہ آگیا ہے کہ جو شخص بغیر اعلیٰ درجہ کے عقلی ثبوتوں کے اپنے دین کی خیر منانی چاہے تو یہ خیال محال اور طمع خام ہے۔ تم آپ ہی نظر اٹھا کر دیکھو جو کیسی طبیعتیں خود رائی اختیار کرتی جاتی ہیں اور کیسے خیالات بگڑتے جاتے ہیں اس زمانہ کی ترقی

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 68

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 68

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/68/mode/1up

علوم عقلیہ نے یہی الٹا اثر کیا ہے حال کے تعلیم یافتہ لوگوں کی طبائع میں ایک عجب طرح کی آزاد منشی بڑھتی جاتی ہے اور وہ سعادت جو سادگی اور غربت اور صفا باطنی میں ہے۔ وہ ان کے مغرور دلوں سے بالکل جاتی رہی ہے اور جن جن خیالات کو وہ سیکھتے ہیں وہ اکثر ایسے ہیں کہ جن سے ایک لامذہبی کے وساوس پیدا کرنے والا ان کے دلوں پر اثر پڑتا جاتا ہے اور اکثر لوگ قبل اس کے جو ان کو کوئی مرتبہ تحقیق کامل کا حاصل ہو صرف جہل مرکب کے غلبہ سے فلسفی طبیعت کے آدمی بنتے جاتے ہیں۔ آؤ اپنی اولاد اور اپنی قوم اور اپنے ہموطنوں پر رحم کرو اور قبل اس کے جو وہ باطل کی طرف کھینچے جائیں۔ ان کو حق اور راستی کی طرف کھینچ لاؤ تا تمہارا اور تمہاری ذریت کا بھلا ہو اور تا سب کو معلوم ہو جو بمقابلہ دین اسلام کے اور سب ادیان بے حقیقت محض ہیں دنیا میں خدا کا قانون قدرت یہی ہے جو کوشش اور سعی اکثر حصول مطلب کا ذریعہ ہوجاتی ہے اور جو شخص ہاتھ پاؤں توڑ کر اور غافل ہوکر بیٹھ جاتا ہے وہ اکثر محروم اور بے نصیب رہتا ہے سو آپ لوگ اگر دین اسلام کی حقیت کے پھیلانے کے لئے جو فی الواقع حق ہے کوشش کریں گے تو خدا اس سعی کو ضائع نہیں کرے گا خدا نے ہم کو صدہا براہین قاطعہ حقیت اسلام پر عنایت کیں اور ہمارے مخالفین کو ان میں سے ایک بھی نصیب نہیں اور خدا نے ہم کو حق محض عطا فرمایا اور ہمارے مخالفین باطل پر ہیں اور جو راستبازوں کے دلوں میں جلال احدیت کے ظاہر کرنے کے لئے سچا جوش ہوتا ہے اس کی ہمارے مخالفوں کو بو بھی نہیں پہنچی لیکن تب بھی دن رات کی کوشش ایک ایسی موثر چیز ہے کہ باطل پرست لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور چوروں کی طرح کہیں نہ کہیں ان کی نقب بھی لگتی ہی رہتی ہے ۔دیکھو عیسائیوں کا دین کہ جس کا اصول ہی اول الد ُ ن دُرد ہے پادریوں کی ہمیشہ کی کوششوں سے کیسا ترقی پر ہے اور کیسے ہر سال ان کی طرف سے فخریہ تحریریں چھپتی رہتی ہیں کہ اس برس چار ہزار عیسائی ہوا اور اس سال آٹھ ہزار پر خداوند مسیح کا فضل ہوگیا ابھی کلکتہ میں جو پادری ھیکر صاحب نے اندازہ کرسٹان شدہ آدمیوں کا بیان کیا ہے اس سے ایک نہایت قابل افسوس خبر ظاہر ہوتی ہے۔ پادری صاحب

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 69

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 69

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/69/mode/1up

فرماتے ہیں جو پچاس سال سے پہلے تمام ہندوستان میں کرسٹان شدہ لوگوں کی تعداد صرف ستائیس ہزار تھی اس پچاس سال میں یہ کارروائی ہوئی جو ستائیس ہزار سے پانچ لاکھ تک شمار عیسائیوں کا پہنچ گیا ہے انا للّٰہ وانا الیہ راجعون !! اے بزرگو اس سے زیادہ تر اور کون سا وقت انتشار گمراہی کا ہے کہ جس کے آنے کی آپ لوگ راہ دیکھتے ہیں ایک وہ زمانہ تھا جو دین اسلام 3 ۱؂ کا مصداق تھا اور اب یہ زمانہ!!! کیاؔ آپ لوگوں کا دل اس مصیبت کو سن کر نہیں جلتا؟ کیا اس وباء عظیم کو دیکھ کر آپ کی ہمدردی جوش نہیں مارتی؟ اے صاحبان عقل و فراست۔ اس بات کا سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ جو فساد دین کی بے خبری سے پھیلا ہے اس کی اصلاح اشاعت علم دین پر ہی موقوف ہے سو اسی مطلب کو کامل طور پر پورا کرنے کے لئے میں نے کتاب براہین احمدیہ کو تالیف کیا ہے اور اس کتاب میں ایسی دھوم دھام سے حقانیت اسلام کا ثبوت دکھلایا گیا ہے کہ جس سے ہمیشہ کے مجادلات کا خاتمہ فتح عظیم کے ساتھ ہوجاوے گا۔ اس کتاب کی اعانت طبع کے لئے جس قدر ہم نے لکھا ہے وہ محض مسلمانوں کی ہمدردی سے لکھا گیا ہے کیونکہ ایسی کتاب کے مصارف جو ہزارہا روپیہ کا معاملہ ہے اور جس کی قیمت بھی بہ نیت عام فائدہ مسلمانوں کے نصف سے بھی کم کردی گئی ہے یعنے پچیس روپیہ میں سے صرف دس روپیہ رکھے گئے ہیں وہ کیونکر بغیر اعانت عالی ہمت مسلمانوں کے انجام پذیر ہو۔

بعض صاحبوں کی سمجھ پر رونا آتا ہے جو وہ بروقت درخواست اعانت کے یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم کتاب کو بعد طیاری کتاب کے خریدلیں گے پہلے نہیں ان کو سمجھنا چاہیئے کہ یہ کچھ تجارت کا معاملہ نہیں اور مولف کو بجز تائید دین کے کسی کے مال سے کچھ غرض نہیں اعانت کا وقت تو یہی ہے کہ جب طبع کتاب میں مشکلات پیش آرہی ہیں ورنہ بعد چھپ چکنے کے اعانت کرنا ایسا ہے کہ جیسے بعد تندرستی کے دوا دینا۔ پس ایسی لاحاصل اعانت سے کس ثواب کی توقع ہوگی۔ خدا نے لوگوں کے دلوں سے دینی محبت کیسی مٹادی جو اپنے ننگ و ناموس کے کاموں میں ہزارہا روپیہ آنکھ بند کرکے خرچ کرتے چلے جاتے ہیں لیکن دینی کاموں کے بارے میں جو اس

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 70

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 70

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/70/mode/1up

حیات فانی کا مقصد اصلی ہیں لمبے لمبے تاملوں میں پڑجاتے ہیں زبان سے تو کہتے ہیں جو ہم خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں پر حقیقت میں اُن کو نہ خدا پر ایمان ہے نہ آخرت پر اگر ایک ساعت اپنے بذل اموال کی کیفیت پر نظر کریں جو خداداد نعمتوں کو اپنے نفس امارہ کے فربہ کرنے کے لئے ایک برس میں کس قدر خرچ کر ڈالتے ہیں اور پھر سوچیں جو خلق اللہ کی بھلائی اور بہبودی کے لئے ساری عمر میں خالصاً للہ کتنے کام کئے ہیں تو اپنے خیانت پیشہ ہونے پر آپ ہی رو دیں پر ان باتوں کو کون سوچے اور وہ پردے جو دل پر ہیں کیونکر دور ہوں 3 ۱؂ انہیں لوگوں کی پست ہمتی اور دنیا پرستی پر خیال کرکے بعض ہمارے معزز دوستوں نے جو دین کی محبت میں مثل عاشق زار پائے جاتے ہیں بمقتضائے بشریت کے ہم پر یہ اعتراض کیا ہے کہ جس صورت میں لوگوں کا یہ حال ہے تو اتنی بڑی کتاب تالیف کرنا کہ جس کی چھپوائی پر ہزارہا روپیہ خرچ آتا ہے بے موقع تھا سو ان کی خدمت والا میں یہ عرض ہے کہ اگر ہم اُن صدہا دقائق اور حقائق کو نہ لکھتے کہ جو درحقیقت کتاب کے حجم بڑھ جانے کا موجب ہیں تو پھر خود کتاب کی تالیف ہی غیر مفید ہوتی۔ رہا یہ فکر کہ اس قدر روپیہ کیونکر میسر آوے گا سو اس سے تو ہمارے دوست ہم کو مت ڈراویں اور یقین کرکے سمجھیں جو ہم کو اپنے خدائے قادر مطلق اور اپنے مولیٰ کریم پر اس سے زیادہ تر بھروسا ہے کہ جو ممسک اور خسیس لوگوں کو اپنی دولت کے اُن صندوقوں پر بھروسا ہوتا ہے کہ جن کی تالی ہر وقت اُن کی جیب میں رہتی ہے سو وہی قادر توانا اپنے دین اور اپنی وحدانیت اور اپنے بندہ کی حمایت کے لئے آپ مدد کرے گا۔3 ۲ ؂

پناہم آں توانائیست ہر آن

ز بخل ناتوانانم مترساں

مطبوعہ سفیر ہند امرت سر

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 71

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 71

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/71/mode/1up

مقدّمہ

اور اس میں کئی مقصد واجب الاظہار ہیں جو ذیل میں تحریر

کئے جاتے ہیں

اول ہر ایک صاحب کی خدمت میں جو اعتقاد اور مذہب میں ہم سے مخالف ہیں بصد ادب اور غربت عرض کی جاتی ہے جو اس کتاب کی تصنیف سے ہمارا ہرگز یہ مطلب اور مدعا نہیں جو کسی دل کو رنجیدہ کیا جائے یا کسی نوع کا بے اصل جھگڑا اُٹھایا جائے بلکہ محض حق اور راستی کا ظاہر کرنا مراد دلی اور تمناءقلبی ہے اور ہم کو ہرگز منظور نہ تھا کہ اس کتاب میں کسی اپنے مخالف کے خیالات اور عندیات کا ذکر زبان پر لاتے بلکہ اپنے کام سے کام تھا اور مطلب سے مطلب مگر کیا کیجئے کہ کامل تحقیقات اور باستیفاءبیان کرنا جمیع اصولِ حقہ اور ادلہ کاملہ کا اسی پر موقوف ہے کہ ان سب اربابِ مذاہب کا جو برخلاف اصولِ حقہ کے رائے اور خیال رکھتے ہیں غلطی پر ہونا دکھلایا جائے پس اس جہت سے ان کا ذکر کرنا اور انکے شکوک کو رفع دفع کرنا ضروری اور واجب ہوا اور خود ظاہر ہے کہ کوئی ثبوت بغیر رفع کرنے عذرات فریق ثانی کے کماحقہ اپنی صداقت کو نہیں پہنچتا مثلاً جب ہم اثبات وجودِ صانع عالم کی بحث لکھیں تو تکمیل اُس بحث کی اس بات پر موقوف ہوگی جو دہریہ یعنے منکرین وجودِ خالق کائنات کے ظنون فاسدہ کو دور کیا جائے اور جب ہم حضرت باری کے خالق الارواح والا َجسام ہونے پر دلائل قائم کریں تو ہم پر انصافاًلازم ہے جو آریہ سماج ٭والوں کے اوہام اور وسواس کو بھی جو خدا تعالیٰ کے

یہ ایک نیا فرقہ ہے جو ہندوﺅں میں پیدا ہوا ہے جو اپنی مذہبی مجلس کو آریہ سماج سے موسوم کرتے ہیں۔ ان دنوں میں سرپرست بلکہ بانی مبانی اس فرقہ کے ایک پنڈت صاحب ہیں کہ جن کا

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 72

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 72

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/72/mode/1up

خالق ہونے سے منکر ہیں مٹا ویں اور جب ہم ضرورت الہام کی دلائل تحریر کریں تو ہم پر ان شبہات کا ازالہ کرنا بھی واجب ہوگا جو برہمو سماج والوں کے دلوں میں متمکن ہورہے ہیں علاوہ اس کے یہ بات بھی نہایت پختہ تجربہ سے ثابت ہے کہ اس زمانہ کے مخالفین اسلام کی یہ عادت ہورہی ہے کہ جب تک اپنے اصولِ مسلمہ کو باطل اور خلافِ حق نہیں دیکھتے اور اپنے مذہب کے فساد پر مطلع نہیں ہوتے تب تک راستی اور صداقت دین اسلام کی کچھ بھی پروا نہیں رکھتے اور گو آفتاب صداقت دین الٰہی کا کیسا ہی ان کو چمکتا نظر آوے۔ تب بھی اس آفتاب سے دوسری طرف مونہہ پھیر لیتے ہیں پس جبکہ یہ حال ہے تو ایسی صورت میں دوسرے مذاہب کا ذکر کرنا نہ صرف جائز بلکہ دیانت اور امانت اور پوری ہمدردی کا یہی مقتضا ہے جو ضرور ذکر کیا جائے اور ان کے اوہام کے مٹانے اور

نام دیانند ہے اور ہم اس وجہ سے اس فرقہ کو نیا فرقہ کہتے ہیں کہ وہ تمام اُصول کہ جن کا یہ فرقہ پابند ہے اور وہ تمام خیالات اور تاویلات کہ وید کی نسبت اس فرقہ نے پیدا کئے ہیں وہ بہ ہیئت مجموعی کسی قدیم ہندو مذہب میں نہیں پائی جاتی اور نہ کسی وید بھاش اور نہ کسی شاستر میں یکجائی طور پر ان کا پتہ ملتا ہے بلکہ منجملہ ان ذخیرہ متفرق خیالات کے کچھ تو پنڈت دیانند صاحب کے اپنے ہی دل کے بخارات ہیں اور کچھ ایسے بے جا تصرفات ہیں کہ کسی جگہ سے سر اور کسی جگہ سے ٹانگ لی گئی۔ غرض اسی قسم کی کارسازیوں سے اس فرقہ کا قالب طیار کیا گیا اور پہلا اُصول اس فرقہ کا یہی ہے جو پرمیشر روحوں اور اجسام کا خالق نہیں بلکہ یہ سب چیزیں پرمیشر کی طرح قدیم اور انادی اور اپنے وجود کی آپ ہی پرمیشر ہیں اور پرمیشر اُن کے نزدیک ایک ایسا شخص ہے جو اپنی بہادری سے یا اتفاق سے سلطنت کو پہنچ گیا ہے اور اپنے جیسی چیزوں پر حکومت کرتا ہے اور انہیں کے سہارے اور آسرے سے اس کی پرمیشری بنی ہوئی ہے ورنہ اگر وہ چیزیں نہ ہوتیں تو پھر خیر نہ تھی اور وہ سب چیزیں یعنے ارواح اور اجزاءصغار اجسام کی اپنے وجود اور بقا میں بالکل پرمیشر سے بے تعلق ہیں یہاں تک کہ اگر پرمیشر کا مرنا بھی فرض کیا جائے تو ان کا کچھ بھی حرج نہیں۔ نعوذ باللّٰہ من ھذہ الھفوات۔ منہ۔

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 73

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 73

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/73/mode/1up

ان کے عقائد کے بطلان ظاہر کرنے میں کسی طرح کی فروگذاشت اور کسی طور کا اخفا نہ رکھا جائے بالخصوص جبکہ وہ لوگ ہماری دانست میں صراطِ مستقیم سے دور اور مہجور ہیں اور ہم اپنے سچے دل سے ان کو خطا پر سمجھتے ہیں اور ان کے اصول کو حق کے برخلاف جانتے ہیں اور ان کا انہیں عقائد پر اس عالم فانی سے کوچ کرنا موجب عذابِ عظیم یقین رکھتے ہیں۔ تو پھر اس صورت میں اگر ہم ان کی اصلاح سے عمداً چشم پوشی کریں اور ان کا گمراہ ہونا اور دوسرے لوگوں کو گمراہی میں ڈالنا دیدہ و دانستہ روا رکھیں تو پھر ہمارا کیا ایمان اور کیا دین ہوگا اور ہم اپنے خدا کو کیا جواب دیویں گے۔ اور اگرچہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض دنیا پرست آدمی کہ جن کو خدا اور خدا کے سچے دین کی کچھ بھی پروا نہیں ان کو اپنے مذہب کی خرابیاں یا اسلام کی خوبیاں سن کر بڑا رنج دل میں گزرے گا اور منہ بگاڑیں گے اور کچھ کا کچھ بولیں گے مگر ہم امید رکھتے ہیں کہ ایسے طالب صادق بھی کئی نکلیں گے کہ جو اس کتاب کے پڑھنے سے صراطِ مستقیم کو پاکر جنابِ الٰہی میں سجدات شکر کے ادا کریں گے اور خدا نے جو ہم کو سجھایا ہے وہ اُن کو بھی سوجھاوے گا اور جو کچھ ہم پر ظاہر کیا ہے وہ ان پر بھی ظاہر کردے گا اور حقیقت میں یہ کتاب انہیں کے لئے تصنیف ہوئی ہے اور یہ سارا بوجھ ہم نے انہیں کی خاطر اٹھایا ہے وہی ہمارے حقیقی مخاطب ہیں اور ان کی خیر خواہی اور ہمدردی ہمارے دل میں اس قدر بھری ہوئی ہے کہ نہ زبان کو طاقت ہے کہ بیان کرے اور نہ قلم کو قوت ہے کہ تحریر میں لاوے۔

بدل دردے کہ دارم از برائے طالبان حق

نمے گردد بیاں آں درد از تقریر کوتاہم

دل و جانم چناں مستغرق اندر فکر او شان ست

کہ نے از دل خبردارم نہ از جان خود آگاہم

بدیں شادم کہ غم ازبہر مخلوقِ خدا دارم

ازیں درلذتم کز دردمے خیزد زدل آہم

مرا مقصود و مطلوب و تمنا خدمت خلق است

ہمیں کارم ہمیں بارم ہمیں رسمم ہمیں راہم

نہ من از خود نہم در کوچہ ¿ پند و نصیحت پا

کہ ہمدردی برد آنجا بہ جبر و زور و اکراہم

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 74

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 74

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/74/mode/1up

غم خلق خدا صرف اززباں خوردن چہ کارست ایں

گرش صد جاں بہ پاریزم ہنوزش عذر میخواہم

چو شام پر غبار و تیرہ حال عالمے بینم

خدا بروے فرود آرد دعا ہائے سحرگاہم

سو اب سب ارباب صدق و صفا کی خدمت میں التماس ہے جو مجھ خاکسار کو ایک حقیقی خیر خواہ اور دِلی ہمدرد تصور فرما کر میری اس کتاب کو توجہ ¿ کامل سے مطالعہ فرماویں اور جیسا کہ انسان اپنے دوست کی بات میں بہت غور کرتا ہے اور جہاں تک ممکن ہو اس کی نصائح مشفقانہ کو بدظنی کی نظر سے نہیں دیکھتا اور اگر حقیقت میں وہ نصائح اس کے حق میں بہتر اور مفید ہوں تو اپنی ضد چھوڑ کر ان کو قبول کرلیتا ہے بلکہ اس دوست کا ممنون اور مشکور ہوتا ہے جو قلبی محبت اور صداقت سے اس کا ناصح بنا اور جن باتوں میں اس کی خیر اور بھلائی تھی ان سے اس کو اطلاع دے دی اسی طرح میں بھی ہریک قوم کے بزرگوں اور اربابِ علم اور فضل سے متوقع ہوں کہ جو جو میں نے براہین اور دلائل حقیت دین اسلام کے بارے میں لکھی ہیں یا جن جن وجوہات سے میں نے کلام الٰہی ہونا فرقان مجید کا اور افضل اور اعلیٰ ہونا اس کا دوسری کتب الہامیہ سے ثابت کیا ہے۔ اگر ان ثبوتوں کو کامل اور لاجواب پاویں تو انصاف اور خداترسی سے قبول فرماویں اور یونہی لاپروائی اور بدظنی سے منہ نہ پھیرلیں۔٭

اگر کوئی مخالفین اسلام میں سے یہ اعتراض کرے کہ قرآن شریف کو سب الہامی کتابوں سے افضل اور اعلیٰ قرار دینے میں یہ لازم آتا ہے کہ دوسری الہامی کتابیں ادنیٰ درجہ کی ہوں حالانکہ وہ سب ایک خدا کی کلام ہے اس میں ادنیٰ اور اعلیٰ کیونکر تجویز ہوسکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک باعتبار نفس الہام کے سب کتابیں مساوی ہیں مگر باعتبار زیادت بیان امور مکملات دین کے بعض کو بعض پر فضیلت ہے پس اسی جہت سے قرآن شریف کو سب کتابوں پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ جس قدر قرآن شریف میں امور تکمیل دین کے جیسے مسائل توحید اور ممانعت انواع و اقسام شرک اور معالجاتِ امراضِ روحانی اور دلائل ابطال مذاہب باطلہ اور براہین اثبات عقائد حقہ وغیرہ بکمال شد و مد بیان فرمائے گئے ہیں وہ دوسری کتابوں میں درج نہیں۔ جیسا کہ ہم ثبوت اس دعویٰ کا فصل اوّل اس کتاب

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 75

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 75

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/75/mode/1up

خاکساریم و سخن از رہ غربت گوئم

یعلم اللّٰہ کہ بکس نیست غبارے مارا

مانہ بیہودہ پے ایں سروکارے برویم

جلوئہ حسن کشد جانب یارے مارا

صاحبو! انسان کی دانشمندی اور زیرکی سب اسی میں ہے کہ وہ ان اصولوں اور اعتقادوں کو جو بعد مرنے کے موجب سعادتِ ابدی یا شقاوتِ ابدی کا ٹھہریں گے اسی زندگی میں خوب معلوم کرکے حق پر قائم اور باطل سے گریزاں ہو اور اپنے ان نازک عقائد کی بنا کہ جن کو مدار نجات کا جانتا ہے اور آخری خوشحالی کا باعث تصور کرتا ہے ثبوتِ کامل اور مستحکم

میں بہ تفصیل تمام ذکر کریں گے۔

اور اگر یہ شبہ پیدا ہو کہ خدائے تعالیٰ نے حقائق اور معارف دینی کو اپنی ساری کتابوں میں برابر کیوں درج نہ فرمایا اور قرآن شریف کو سب سے زیادہ جامع کمالات کیوں رکھا۔ تو ایسا شبہ بھی صرف اس شخص کے دل میں گزرے گا کہ جو وحی کی حقیقت کو نہیں جانتا اور اس بات پر اطلاع نہیں رکھتا کہ کن تحریکات سے اور کس طرح پر وحی نازل ہوتی ہے سو ایسے شخص پر واضح رہے کہ اصل حقیقت وحی کی یہ ہے جو نزول وحی کا بغیر کسی موجب کے جو مستدعی نزول وحی ہو ہرگز نہیں ہوتا۔ بلکہ ضرورت کے پیش آجانے کے بعد ہوتا ہے اور جیسی جیسی ضرورتیں پیش آتی ہیں بمطابق ان کے وحی بھی نازل ہوتی ہے کیونکہ وحی کے باب میں یہی عادت اللہ جاری ہے کہ جب تک باعث محرکِ وحی پیدا نہ ہولے تب تک وحی نازل نہیں ہوتی۔ اور خود ظاہر بھی ہے جو بغیر موجودگی کسی باعث کے جو تحریک وحی کی کرتا ہو یونہی بلا موجب وحی کا نازل ہوجانا ایک بے فائدہ کام ہے جو خداوند تعالیٰ کی طرف جو حکیم مطلق ہے اور ہریک کام برعایت حکمت اور مصلحت اور مقتضاءوقت کے کرتا ہے منسوب نہیں ہوسکتا۔ پس سمجھنا چاہئیے کہ جو قرآن شریف میں تعلیم حقانی کامل اور مفصل طور پر بیان کی گئی اور دوسری کتابوں میں بیان نہ ہوئی یا جو جو امور تکمیل دین کے اس میں لکھے گئے اور دوسری کتابوں میں نہ لکھے گئے تو اس کا یہی باعث ہے کہ پہلی کتابوں کو وہ تمام وجوہ محرک وحی کے پیش نہ آئے اور قرآن شریف کو پیش آگئے۔ اور خود ظاہر ہوجانا ان تمام وجوہِ محرکہ وحی کا کسی پہلے عہد میں قبل عہد قرآن شریف کے ایک امر محال تھا۔ چنانچہ اس بات کا ثبوت بھی فصل اوّل میں بدلائل کاملہ دیا جائے گا۔ منہ۔

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 76

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 76

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/76/mode/1up

پر رکھے اور ایسی باتوں پر جو چھٹپن میں کسی پالنے والی ماما نے سکھائی تھیں مغرور اور فریفتہ نہ رہے کیونکہ صرف ان اوہام اور خیالات پر بھروسہ کرکے بیٹھے رہنا کہ جن کی حقیت کی اپنے ہاتھ میں ایک بھی دلیل نہیں حقیقت میں اپنے نفس کو آپ دھوکا دینا ہے ہریک عاقل جانتا اور سمجھتا ہے کہ ایسی کتابیں یا ایسے اصول کتابوں کے کہ جن کو مختلف قوموں نے خدا کی رضامندی اور اپنی رستگاری کا وسیلہ سمجھ رکھا ہے اور جنکے نہ ماننے سے ایک قوم دوسری قوم کو دوزخ کی طرف بھیج رہی ہے علاوہ شہادت الہامیہ کے دلائل عقلیہ سے بھی ثابت کرنا اشد ضروری ہے کیونکہ اگرچہ شہادتِ الہامی بڑی معتبر خبر ہے اور استکمال مراتب یقین کا اسی پر موقوف ہے لیکن اگر کوئی کتاب مدعی الہام کی کسی ایسے امر کی تعلیم کرے کہ جس کے امتناع پر کھلا کھلی دلائل عقلیہ قائم ہوتی ہیں تو وہ امر ہرگز درست نہیں ٹھہر سکتا بلکہ وہ کتاب ہی باطل یا محرف یا مبدل المعنی کہلائے گی کہ جس میں کوئی ایسا خلاف عقل امر لکھا گیا پس جبکہ تصفیہ ہریک امر کے جائز یا ممتنع ہونے کا عقل ہی کے حکم پر موقوف ہے اور ممکن اور محال کی شناخت کرنے کیلئے عقل ہی معیار ہے تو اس سے لازم آیا۔ کہ حقیت اصول نجات کی بھی عقل ہی سے ثابت کی جائے کیونکہ اگر اُصول مذاہب مختلفہ کے دلائل عقلیہ سے ثابت نہ ہوں بلکہ ان کا باطل اور ممتنع اور محال ہونا ثابت ہوتو پھر ہمیں کیونکر معلوم ہو کہ زید کے اصول سچے اور بکر کے جھوٹے ہیں یا ہندوﺅں کی پستک غلط اور بنی اسرائیل کی کتابیں صحیح ہیں اور نیز اگر حق اور باطل میں عقلاً کچھ فرق قائم نہ ہوتو پھر اس حالت میں کیونکر ایک طالب حق کا جھوٹ اور سچ میں تمیز کر کے جھوٹ کو چھوڑے اور سچ کو اختیار کرے اور کیونکر ایسے اصولوں کے نہ ماننے سے کوئی شخص خداوند تعالیٰ کے حضور میں ملزم ٹھہرے٭۔اور جبکہ ہم فی الحقیقت اپنی نجات کیلئے ایسے عقائد کے محتاج ہیں کہ جنکا

غیر معقول اصول کہ جن کے امتناع پر عقل دلائل بینہ پیش کرتی ہے ہرگز سچے نہیں ہوسکتے کیونکہ اگر وہ سچے ہوں تو پھر ہر یک امر میں دلائل قطعیہ عقلیہ کا اعتبار اٹھ جائے گا۔

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 77

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 77

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/77/mode/1up

حق ہونا دلائل عقلیہ سے ثابت ہو تو پھر یہ سوال ہوگا کہ وہ عقائد حقہ کیونکر ہمیں معلوم ہوں اور کس یقینی اور کامل اور آسان ذریعہ سے ہم ان تمام عقائد کو معہ ان کی دلائل کے با © ٓسانی دریافت کرلیں اور حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچ جائیں پس اس کے جواب میں عرض کیا جاتا ہے کہ وہ یقینی اور کامل اور آسان ذریعہ کہ جس سے بغیر تکلیف اور مشقت اور مزاحمت شکوک اور شبہات اور خطا اور سہو کے اصول صحیحہ معہ ان کی دلائل عقلیہ کے معلوم ہوجائیں اور یقین کامل سے معلوم ہوں وہ قرآن شریف ہے اور بجز اس کے دنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں اور نہ کوئی ایسا دوسرا ذریعہ ہے کہ جس سے یہ مقصد اعظم ہمارا پورا ہوسکے۔٭

پس جب وہی اصول جو مدار نجات کا سمجھے گئے تھے سچے نہ ہوئے تو پھر بالضرور ایسے لوگ جو ان پر بھروسہ کئے بیٹھے تھے بغیر نجات کے رہ جائیں گے اور مستوجب عذاب ابدی اور عقوبت دائمی کے ٹھہریں گے کیونکہ ان کے اپنے گھر کے اصول تو جھوٹے نکلے اور سچے اُصولوں کو جو عقل کے مطابق تھے انہوں نے پہلے ہی سے قبول نہ کیا اور یہ بات اسی دنیا میں ظاہر ہے کہ جو شخص کسی امر ممتنع اور محال یا دروغ اور باطل کو اپنا اعتقاد ٹھہراتا ہے اور مدلل اور ثابت شدہ باتوں کو قبول نہیں کرتا اس کو کیسی کیسی ندامتیں اٹھانی پڑتی ہیں اور کیا کچھ اہل تحقیق کے منہ سے سننا پڑتا ہے بلکہ اپنا ہی نفس اس کا ہر وقت اس کو ملزم قرار دیتا ہے اور بسا اوقات گھبرا کر آپ ہی اپنے دل سے خطاب کرتا ہے جو یہ کیا واہیات اعتقاد ہے جو میں نے اختیار کررکھا ہے۔ پس یہ بھی ایک عذابِ روحانی ہے جو اسی جہان میں اس پر نازل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ منہ

یہ قول ہمارا جو یقینی اور کامل اور آسان ذریعہ شناخت عقائد حقہ کا بجز قرآن شریف کے اور کوئی نہیں اپنے موقعہ پر بدلائل کاملہ ثابت کیا گیا ہے اور جو لوگ دوسری کتابوں کے پابند ہیں ان کے اصولوں کا غلط اور باطل اور نادرست ہونا بکمال تحقیق دکھلایا گیا ہے مگر شائد اس جگہ برہمو سماج والے جو کسی کتاب الہامی کے پابند نہیں اور اصول حقہ کے جاننے میں صرف اپنی ہی عقل کو کافی سمجھتے ہیں اس وہم کو دل میں جگہ دیں کہ کیا مجرد عقل انسان

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 78

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 78

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/78/mode/1up

صاحبو! میں نے بہ یقین تمام معلوم کرلیا ہے اور جو شخص ان باتوں پر غور کرے گا کہ جن پر مَیں نے غور کی ہے وہ بھی بہ یقین تمام معلوم کرلے گا کہ وہ سب اصول کہ جن پر ایمان لانا ہریک طالب سعادت پر واجب ہے اور جن پر ہم سب کی نجات موقوف ہے اور جن سے ساری اُخروی خوشحالی انسان کی وابستہ ہے وہ صرف قرآن شریف ہی میں محفوظ ہیں اور

کی معرفت اصول حقہ کے لئے یقینی اور کامل اور آسان ذریعہ نہیں سو اگرچہ یہ وہم ان کا الہام کے بحث میں جو انشاءاللہ عنقریب بہ تفصیل تمام اسی کتاب میں درج ہوگی جیسا کہ چاہیئے دور کیا جائے گا مگر اس مقام میں بھی وہم مذکور کا قلع و قمع کرنا ضروری ہے سو واضح ہو کہ اگرچہ یہ سچ بات ہے کہ عقل بھی خدا نے انسان کو ایک چراغ عطا کیا ہے کہ جس کی روشنی اس کو حق اور راستی کی طرف کھینچتی ہے اور کئی طرح کے شکوک اور شبہات سے بچاتی ہے اور انواع و اقسام کے بے بنیاد خیالوں اور بے جا وساوس کو دور کرتی ہے نہایت مفید ہے بہت ضروری ہے بڑی نعمت ہے مگر پھر بھی باوجود ان سب باتوں اور ان تمام صفتوں کے اس میں یہ نقصان ہے کہ صرف وہی اکیلی معرفت حقائق اشیاءمیں مرتبہ یقین کامل تک نہیں پہنچا سکتی کیونکہ مرتبہ یقین کامل کا یہ ہے کہ جیسا کہ حقائق اشیاءکے واقعہ میں موجود ہیں انسان کو بھی ان پر ایسا ہی یقین آجائے کہ ہاں حقیقت میں موجود ہیں مگر مجرد عقل انسان کو اس اعلیٰ درجہ یقین کا مالک نہیں بنا سکتی۔ کیونکہ غایت درجہ حکم عقل کا یہ ہے کہ وہ کسی شے کے موجود ہونے کی ضرورت کو ثابت کرے جیسا کسی چیز کی نسبت یہ حکم دے کہ اس چیز کا ہونا ضروری ہے یا یہ چیز ہونی چاہیئے مگر ایسا حکم ہرگز نہیں دے سکتی کہ واقعہ میں یہ چیز ہے بھی اور یہ پایہ ¿ یقین کامل کا کہ علم انسان کا کسی امر کی نسبت ہونا چاہیئے کے مرتبہ سے ترقی کرکے ہے کے مرتبہ تک پہنچ جائے تب حاصل ہوتا ہے کہ جب عقل کے ساتھ کوئی دوسرا ایسا رفیق مل جاتا ہے کہ جو اس کی قیاسی وجوہات کو تصدیق کرکے واقعات مشہودہ کا لباس پہناتا ہے یعنے جس امر کی نسبت عقل کہتی ہے کہ ہونا چاہیئے وہ رفیق اس امر کی نسبت یہ خبر دے دیتا ہے کہ واقعہ میں وہ امر موجود بھی ہے۔ کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کرچکے ہیں عقل صرف ضرورت شے کو ثابت کرتی ہے خود شے کو ثابت نہیں کرسکتی۔ اور ظاہر ہے کہ کسی شے کی ضرورت کا ثابت ہونا

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 79

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 79

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/79/mode/1up

باقی سب کتابوں کے اصول بگڑ گئے ہیں اور ایسی جعلی اور مصنوعی اور اس قدر طریقہ ¿ مستقیمہ ¿ حکمت اور مجری طبعی سے دور جاپڑے ہیں کہ ان کے لکھنے سے بھی ہمیں شرم آتی ہے اور یہ قول ہمارا بلا تحقیق نہیں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس کتاب کی تالیف سے

امر دیگر ہے اور خود اس شے کا ثابت ہوجانا امر دیگر بہرحال عقل کے لئے ایک رفیق کی حاجت ہوئی کہ تا وہ رفیق عقل کے اس قیاسی اور ناقص قول کا کہ جو ہونا چاہیئے کے لفظ سے بولا جاتا ہے مشہودی اور کامل قول سے جو ہے کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے جبر نقصان کرے اور واقعات سے جیسا کہ وہ نفس الامر میں واقعہ ہیں آگاہی بخشے سو خدا نے جو بڑا ہی رحیم اور کریم ہے اور انسان کو مراتب قصوی یقین تک پہنچانا چاہتا ہے اس حاجت کو پوری کیا ہے اور عقل کے لئے کئی رفیق مقرر کرکے راستہ یقین کامل کا اس پر کھول دیا ہے تانفس انسان کا کہ جس کی ساری سعادت اور نجات یقین کامل پر موقوف ہے اپنی سعادت مطلوبہ سے محروم نہ رہے۔ اور ہونا چاہیئے کے نازک اور پُرخطر پل سے کہ عقل نے شکوک اور شبہات کے دریا پر باندھا ہے بہت جلد آگے عبور کرکے ہے کے قصر عالی میں جو دارالامن والا طمینان ہے داخل ہوجائے اور وہ رفیق عقل کے جو اس کے یار اور مددگار ہیں۔ ہر مقام اور موقعہ میں الگ الگ ہیں۔ لیکن از روئے حصر عقلی کے تین سے زیادہ نہیں اور ان تینوں کی تفصیل اس طرح پر ہے کہ اگر حکم عقل کا دنیا کے محسوسات اور مشہودات سے متعلق ہو جو ہر روز دیکھے جاتے یا سنے جاتے یا سونگھے جاتے یا ٹٹولے جاتے ہیں تو اس وقت رفیق اس کا جو اس کے حکم کو یقین کامل تک پہنچاوے مشاہدہ صحیحہ ہے کہ جس کا نام تجربہ ہے۔ اور اگر حکم عقل کا ان حوادث اور واقعات سے متعلق ہو جو مختلف ازمنہ اور امکنہ میں صدور پاتے رہے ہیں یا صدور پاتے ہیں تو اس وقت اس کا ایک اور رفیق بنتا ہے کہ جس کانام تواریخ اور اخبار اور خطوط اور مراسلات ہے اور وہ بھی تجربہ کی طرح عقل کی دود آمیز روشنی کو ایسا مصفا کردیتا ہے کہ پھر اس میں شک کرنا ایک حمق اور جنون اور سودا ہوتا ہے اور اگر حکم عقل کا ان واقعات سے متعلق ہو جو ماوراءالمحسوسات ہیں جن کو ہم نہ آنکھ سے دیکھ سکتے

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 80

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 80

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/80/mode/1up

پہلے ایک بڑی تحقیقات کی گئی اورہریک مذہب کی کتاب دیانت اور امانت اورخوض اورتدبر سے دیکھی گئی اورفرقانِ مجید اوران کتابوں کا باہم مقابلہ بھی کیا گیا اور زبانی مباحثات بھی اکثر قوموں کے بزرگ علماءسے ہوتے رہے۔ غرض جہاں تک طاقت بشری ہے

ہیں اور نہ کان سے سن سکتے ہیں اور نہ ہاتھ سے ٹٹول سکتے ہیں اور نہ اس دنیا کی تواریخ سے دریافت کرسکتے ہیں تو اُس وقت اُس کا ایک تیسرا رفیق بنتا ہے کہ جس کا نام الہام اور وحی ہے اور قانون قدرت بھی یہی چاہتا ہے کہ جیسے پہلے دو مواضع میں عقل ناتمام کو دو رفیق میسر آگئے ہیں تیسرے موضع میں بھی میسر آیا ہو۔ کیونکہ قوانین فطرتیہ میں اختلاف نہیں ہوسکتا بالخصوص جبکہ خدا نے دنیا کے علوم اور فنون میں کہ جن کے نقصان اور سہو اور خطا میں چنداں حرج بھی نہیں انسان کو ناقص رکھنا نہیں چاہا تو اس صورت میں خدا کی نسبت یہ بڑی بدگمانی ہوگی جو ایسا خیال کیا جاوے جو اُس نے ان امور کی معرفت تامہ کے بارے میں کہ جن پر کامل یقین رکھنا نجاتِ اُخروی کی شرط ہے اور جن کی نسبت شک رکھنے سے جہنم ابدی طیار ہے انسان کو ناقص رکھنا چاہا ہے اور اس کے علم اخروی کو صرف ایسے ایسے ناقص خیالات پر ختم کردیا ہے کہ جن کی محض اٹکلوں پر ہی ساری بنیاد ہے اور ایسا ذریعہ اس کے لئے کوئی بھی مقرر نہیں کیا کہ جو شہادتِ واقعہ دے کر اس کے دل کو یہ تسلی اور تشفی بخشے کہ وہ اصولِ نجات کہ جن کا ہونا عقل بطور قیاس اور اٹکل کے تجویز کرتی ہے وہ حقیقت میں موجود ہی ہیں اور جس ضرورت کو عقل قائم کرتی ہے وہ فرضی ضرورت نہیں بلکہ حقیقی اور واقعی ضرورت ہے اب جبکہ یہ ثابت ہوا کہ الٰہیات میں یقین کامل صرف الہام ہی کے ذریعہ سے ملتا ہے اور انسان کو اپنی نجات کے لئے یقین کامل کی ضرورت ہے اور خود بغیر یقین کامل کے ایمان سلامت لے جانا مشکل۔ تو نتیجہ ظاہر ہے کہ انسان کو الہام کی ضرورت ہے اور اس جگہ یہ بھی جاننا چاہیئے کہ اگرچہ ہریک الہامِ الٰہی یقین دلانے کے لئے ہی آیا تھا لیکن قرآن شریف نے اس اعلیٰ درجہ یقین کی بنیاد ڈالی کہ بس حد ہی کردی تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ پہلے جتنے الہام خدا کی طرف سے نازل ہوئے

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 81

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 81

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/81/mode/1up

ہریک طور کی کوشش اور جانفشانی اظہار حق کے لئے کی گئی۔ بالآخر ان تمام تحقیقاتوں سے یہ امر بپایہ ¿ ثبوت پہنچ گیا کہ آج رُوئے زمین پر سب الہامی کتابوں میں سے ایک فرقان مجید ہی ہے کہ جس کا کلامِ الٰہی ہونا دلائل قطعیہ سے ثابت ہے۔

وہ صرف شہادت واقعہ کی ادا کرتے رہے۔ اور ان کی ساری طرز منقولات کی طرز تھی اور اسی باعث سے وہ آخر میں بگڑ گئے اور خود غرضوں اور خود پرستوں نے کچھ کا کچھ سمجھ لیا۔ لیکن قرآن شریف کی تعلیم نے عقل کا بھی سارا بوجھ آپ ہی اٹھالیا۔ اور انسان کو ہریک طرح کی مشکلات سے خلاصی بخشی۔ آپ ہی مخبر صادق ہوکر الٰہیات کے واقعات کی خبردی۔ اور پھر آپ ہی عقلی طور پر اس خبر کو بپایہ ¿ ثبوت پہنچایا۔ جو شخص دیکھے اسے معلوم ہو کہ قرآن شریف میں دو امر کا التزام اول سے آخر تک پایا جاتا ہے۔ ایک عقلی وجوہ اور دوسری الہامی شہادت۔ یہ دونوں امر فرقان مجید میں دو بزرگ نہروں کی طرح جاری ہیں۔ جو ایک دوسرے کے محاذی اور ایک دوسرے پر اثر ڈالتے چلے جاتے ہیں۔ عقلی وجوہ کی جو نہر ہے۔ وہ یہ ظاہر کرتی گئی ہے کہ یہ امر ایسا ہونا چاہیئے اور جو اس کے مقابلہ پر الہامی شہادت کی نہر ہے۔ وہ بزرگ اور راستباز مخبر کی طرح یہ دلوں کو تسلی بخشتی گئی ہے کہ واقعہ میں بھی ایسا ہی ہے۔ اور طرز فرقانی سے جو طالب حق کو حق کے معلوم کرنے میں آسانی ہے وہ بھی ظاہر ہے کیونکہ پڑھنے والا فرقان مجید کا ساتھ ساتھ دلائل عقلی کو بھی معلوم کرتا جاتا ہے۔ ایسے دلائل کہ جس سے زیادہ تر محکم دلائل کسی دفتر فلسفی میں مرقوم نہیں۔ جیسا کہ ہم اس دعوےٰ کو اسی کتاب کی فصل اول میں ثابت کریں گے۔ اور پھر دوسری طرف الہام الٰہی سے شہادت واقعہ پاکر اعلیٰ درجہ یقین کو پہنچ جاتا ہے اور یہ سب کچھ اس کو مفت ملتا ہے جو دوسرے شخص کو ساری عمر کی مغزخواری اور جان کنی سے بھی نہیں مل سکتا۔ پس ثابت ہوا کہ یقینی اور کامل اور آسان ذریعہ شناخت اصولِ حقہ کا اور ان سب عقائد کا کہ جن کے علم یقینی پر ہماری نجات موقوف ہے۔ صرف قرآنِ شریف ہے اور یہی ثابت کرنا تھا۔ منہ ۔

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 82

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 82

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/82/mode/1up

جس کے اصولِ نجات کے بالکل راستی اور وضع فطرتی پر مبنی ہیں۔ جس کے عقائد ایسے کامل اور مستحکم ہیں جو براہین قویہ ان کی صداقت پر شاہد ناطق ہیں جس کے احکام حق محض پر قائم ہیں جس کی تعلیمات ہریک طرح کی آمیزش شرک اور بدعت اور مخلوق پرستی سے بکلی پاک ہیں جس میں توحید اور تعظیم الٰہی اور کمالات حضرت عزت کے ظاہر کرنے کے لئے انتہا کا جوش ہے جس میں یہ خوبی ہے کہ سراسر وحدانیت جنابِ الٰہی سے بھرا ہوا ہے اور کسی طرح کا دھبہ نقصان اور عیب اور نالائق صفات کا ذاتِ پاک حضرت باری تعالیٰ پر نہیں لگاتا اور کسی اعتقاد کو زبردستی تسلیم کرانا نہیں چاہتا بلکہ جو تعلیم دیتا ہے اس کی صداقت کی وجوہات پہلے دکھلا لیتا ہے اور ہرایک مطلب اور مدعا کو حجج اور براہین سے ثابت کرتا ہے۔ اور ہریک اصول کی حقیت پر دلائل واضح بیان کرکے مرتبہ یقین کامل اور معرفت تام تک پہنچاتا ہے۔ اور جو جو خرابیاں اور ناپاکیاں اور خلل اور فساد لوگوں کے عقائد اور اعمال اور اقوال اور افعال میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان تمام مفاسد کو روشن براہین سے دور کرتا ہے اور وہ تمام آداب سکھاتا ہے کہ جن کاجاننا انسان کو انسان بننے کے لئے نہایت ضروری ہے اور ہریک فساد کی اسی زور سے مدافعت کرتا ہے کہ جس زور سے وہ آج کل پھیلا ہوا ہے اس کی تعلیم نہایت مستقیم اور قوی اور سلیم ہے گویا احکام قدرتی کا ایک آئینہ ہے اور قانونِ فطرت کی ایک عکسی تصویر ہے اور بینائی دلی اور بصیرتِ قلبی کے لئے ایک آفتابِ چشم افروز ہے اور عقل کے اجمال کو تفصیل دینے والا اور اس کے نقصان کا جبر کرنے والا ہے۔ لیکن دوسری کتابیں جو الہامی کہلاتی ہیں۔ جب ان کی حالت موجودہ کو دیکھا گیا تو بخوبی ثابت ہوگیا جو وہ سب کتابیں ان صفات کاملہ سے بالکل خالی اور عاری ہیں اور خدا کی ذات اور صفات کی نسبت طرح طرح کی بدگمانیاں ان میں پائی جاتی ہیں اور مقلد ان کتابوں کے عجیب عجیب عقائد کے پابند ہورہے ہیں۔ کوئی فرقہ ان میں سے خدا کو خالق اور قادر ہونے سے جواب دے رہا ہے۔ اور قدیم اور خودبخود ہونے میں اس کا بھائی اور حصہ دار بن بیٹھا ہے۔ اور کوئی بتوں اور

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 83

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 83

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/83/mode/1up

مورتوں اور دیوتوں کو اس کے کارخانہ میں دخیل اور اس کی سلطنت کا مدار المہام سمجھ رہا ہے کوئی اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں اور پوتے اور پوتیاں تراش رہا ہے اور کوئی خود اسی کو مچھ اور کچھ کا جنم دے رہا ہے۔ غرض ایک دوسرے سے بڑھ کر اس ذات کامل کو ایسا خیال کررہے ہیں کہ گویا وہ نہایت ہی بدنصیب ہے کہ جس کمال تام کو اس کے لئے عقل چاہتی تھی وہ اس کو میسر نہ ہوا۔ اب اے بھائیو! خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب میں نے ایسے ایسے باطل عقائد میں لوگوں کو مبتلا دیکھا اور اس درجہ کی گمراہی میں پایا کہ جس کو دیکھ کر جی پگھل آیا اور دل اور بدن کانپ اٹھا۔ تو میں نے ان کی رہنمائی کے لئے اس کتاب کا تالیف کرنا اپنے نفس پر ایک حق واجب اور دَین لازم دیکھا جو بجز ادا کرنے کے ساقط نہ ہوگا۔ چنانچہ مسودہ اس کتاب کا خدا کے فضل و کرم سے تھوڑے ہی دِنوں میں ایک قلیل بلکہ اقل مدت میں جو عادت سے باہر تھی طیار ہوگیا اور حقیقت میں یہ کتاب طالبان حق کو ایک بشارت اور منکران دین اسلام پر ایک حجت الٰہی ہے کہ جس کا جواب قیامت تک ان سے میسر نہیں آسکتا اور اسی وجہ سے اس کے ساتھ ایک اشتہار بھی انعامی دس ہزار روپیہ کا شامل کیا گیا کہ تاہریک منکر اور معاند پر جو اسلام کی حقیت سے انکاری ہے اتمام حجت ہو اور اپنے باطل خیال اور جھوٹے اعتقاد پر مغرور اور فریفتہ نہ رہے۔

بیا اے طلبگارِ صدق و صواب

بخواں از سر خوض و فکر ایں کتاب

گرت بر کتابم فتد یک نگاہ

بدانی کہ تا جنت این ست راہ

مگر شرطِ انصاف و حق پروریست

کہ انصاف مفتاح دانشوریست

دو چیز ست چوبان دنیا و دیں

دلِ روشن و دیدئہ دُور بیں

کسے کو خرد دارد و نیز داد

نخواہد مگر راہِ صدق و سداد

نہ پیچد سر از آنچہ پاک ست و راست

نتابد رُخ از آنچہ حق و بجاست

چو بیند سخن راز حق پرورے

دِگر در سخن کم کند داورے

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 84

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 84

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/84/mode/1up

الا ایکہ خواہی نجات از خدا

بقصر نجات از درِ حق در آ

بحق گرد و حق را بخاطر نشاں

منہ دل بباطل جو کژ خاطراں

مشو عاشق زشت رُو زینہار

وگر خوب گم گردد از روزگار

زمین از زراعت تہی داشتن

بہ از تخم خار و خسک کاشتن

اگر گرددت دیدئہ عقل باز

بجوئی رہِ حق زِ عجز و نیاز

طلبگار گردی بصدقِ دلی

بخواب اندر اندیشہ ہم نگسلی

نگیری دمے استراحت ازاں

مگر چوں زحق بازیابی نشاں

اجل برسرت ہستی ات چوں حباب

توزیں ساں سر اندر نہادہ بخواب

بآباءو اجداد پیشیں نگر

کہ چوں در گذشتند زیں رہگذر

بیادت نماندست انجامِ شاں

فراموش کردی در اندک زماں

خودت با اجل چیست از مکر و بند

چہ دیوار داری کشیدہ بلند

چو ناگہ نہنگ اجل درکشد

چرا آدمی ایں چنیں سرکشد

بدنیائے دوں دِل مبند اے جواں

تماشائے آں بگذرد ناگہاں

بدنیا کسے جاودانہ نماند

بہ یک رنگ وضع زمانہ نماند

بدست خود از حالت دردناک

سپردیم بسیار کس را بہ خاک

چو خود دفن کردیم خلقے کثیر

چرا یاد ناریم روز اخیر

ز خاطر چرا یادشاں افگنیم

نہ ما آہن جسم و روئیں تنیم

بترس اے معاند ز قہر خدا

کہ سخت ست قہر خداوند ما

بہ ناکردنِ ترس پروردگار

بسا شہر وِیراں شدند و دیار

ازاں بے ہراساں نشانے نماند

نشانے چہ یک استخوانے نماند

ہمہ زیرکی در ہراسیدن ست

وگرنہ بلا بر بلا دیدن ست

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 85

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 85

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/85/mode/1up

بہ ناپاکی و خبث ہا زیستن

بہ از این چنیں زیست نازیستن

بیاﺅ بنہ سوئے انصاف گام

زکیں توبہ کردن چرا شد حرام

یقیں داں کہ قولم زحق پروریست

نہ لاف و گزاف ست ونے سرسریست

بہر مذہبے غور کردم بسے

شنیدم بدل حجت ہر کسے

بخواندم ز ہر ملتے دفترے

بدیدم ز ہر قوم دانشورے

ہم از کودکی سوئے ایں تا ختم

دریں شغل خود را بینداختم

جوانی ہمہ اندریں باختم

دل از غیر ایں کار پرداختم

بماندم دریں غم زمان دراز

نخفتم ز فکرش شبان دراز

نگہ کردم از روئے صدق و سداد

بہ ترس خدا و بعدل و بداد

چو اسلام دینے قوی و متیں

ندیدم کہ برمنبعش آفریں

چناں دارد ایں دیں صفا بیش بیش

کہ حاسد بہ بیند درو روئے خویش

نماید ازاں گونہ راہِ صفا

کہ گردد بصدقش خرد رہنما

ہمہ حکمت آموزد و عقل و داد

رہاند ز ہر نوعِ جہل و فساد

ندارد دگر مثل خود در بلاد

خلافش طریقے کہ مثلش مباد

اصولش کہ ہست آں مدارِ نجات

چہ خورشید تابد بصدق و ثبات

اصول دگر کیش ہا ہم عیاں

نہ چیزے کہ پوشید نش مے تواں

اگر نا مسلماں خبرداشتے

بجاں جنس اسلام نگذاشتے

محمد مہین نقش نور خداست

کہ ہرگز چنوئے بگیتی نخاست

تہی بود از راستی ہر دیار

بکردار آں شب کہ تاریک و تار

خدایش فرستاد و حق گسترید

زمیں را بداں مقدمے جاں دمید

نہالیست از باغِ قدس و کمال

ہمہ آلِ او ہمچو گل ہائے آل

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 86

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 86

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/86/mode/1up

دوم۔ یہ امر بھی قابل گزارش ہے کہ اگر کوئی صاحب برطبق شرائط مندرجہ اشتہار کے جواب اس کتاب کا لکھنا چاہیں تو ان پر لازم ہوگا کہ جیسا کہ اشتہار میں قرار پاچکا ہے دونوں طور پر جواب تحریر فرماویں۔ یعنے بغرض مقابلہ دلائل فرقان مجید کے اپنی کتاب کی دلائل بھی پیش کریں اور ہماری دلائل کو بھی توڑ کر دکھلاویں۔ اور اگر اپنی کتاب کی دلائل بالمقابل پیش نہیں کریں گے اور صرف ہماری دلائل کی جرح قدح کی طرف متوجہ ہوں گے۔ تو اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ وہ اپنی کتاب کی دلائل حقیت کے پیش کرنے سے بکلی عاجز ہیں۔ اور یہ بات واضح رہے کہ ہم بدل خواہشمند ہیں کہ اگر کسی صاحب کو اس بات میں ہم سے اتفاق رائے نہ ہو۔ جو فرقانِ مجید حقیقت میں خدا کی کتاب اور سب الٰہی کتابوں سے افضل اور اعلیٰ ہے اور اپنی حقانیت کے ثبوت میں بے مثل و مانند ہے۔ تو وہ اپنے اِس خیال کی تائید میں ضرور کچھ قلم زنی کریں اور ہم سچ سچ کہتے ہیں جو ہم ان کی اس تکلیف کشی سے نہایت ہی ممنون ہوں گے۔ کیونکہ ہم ہر چند سوچتے ہیں کہ ہم کیونکر عامہ خلائق پر یہ بات ظاہر کردیں کہ جو جو فضائل اور خوبیاں قرآن مجید کو حاصل ہیں یا جن جن دلائل اور براہین قاطعہ سے قرآنِ شریف کا کلامِ الٰہی ہونا ثابت ہے وہ فضیلتیں اور وہ ثبوت دوسری کتابوں کے لئے ہرگز حاصل نہیں۔ تو بعد بہت سی سوچ کے ہم کو اِس سے بہتر اور کوئی تدبیر معلوم نہیں ہوتی کہ کوئی صاحب ان وجوہات اور ان ثبوتوں کو جو ہم نے قرآن مجید کی حقیت اور افضلیت پر لکھی ہیں اپنی کتاب کی نسبت دعویٰ کرکے کوئی رسالہ شائع کرے۔ اور اگر ایسا ہوا اور خدا کرے کہ ایسا ہی ہو تو پھر آفتابِ صداقت اور بزرگی قرآن شریف کا ہریک ضعیف البصر پر بھی ظاہر ہوجائے گا اور آئندہ کوئی سادہ لوح مخالفین کے بہکانے میں نہیں آوے گا۔ اور اگر اس کتاب کے ردّ لکھنے والا کوئی ایسا شخص ہو جو کسی کتاب الہامی کا پابند نہیں جیسے برہمو سماج والے ہیں۔ تو اس پر صرف یہی واجب ہوگا جو ہماری سب دلائل کو نمبروار توڑ کر دکھلاوے اور اپنے مخالفانہ خیالات کو بمقابلہ ہمارے عقائد کے

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 87

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 87

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/87/mode/1up

عقلی دلائل سے ثابت کرکے دکھلاوے۔ پس اگر کوئی ایسا شخص بھی اُٹھا تو اس کی عبرت انگیز تحریرات سے بھی لوگوں کو بڑا فائدہ ہوگا اور جو صاحبان برہمو سماج ہمیشہ عقل عقل کرتے ہیں ان کی عقل کا بھی قصہ پاک ہوجائے گا۔ غرض ہم یقیناً جانتے ہیں جو ہماری کتاب کی اسی دن پوری پوری تاثیر ہوگی اور اسی وقت اس کا ٹھیک ٹھیک قدر بھی معلوم ہوگا کہ جب بمقابلہ اس کی حقانیت کی دلائل کے کوئی صاحب اپنی کتاب کی بھی دلائل پیش کریں گے یا اس زمانہ کے آزاد مشربوں کی طرح صرف اپنے خود تراشیدہ عقائد پر وجوہات دکھلائیں گے کیونکہ ہر یک چیزکا قدر ومنزلت مقابلہ سے ہی معلوم ہوتا ہے۔ اور پھول کی خوبی اور لطافت تب ہی ظاہر ہوتی ہے کہ جب خار بھی اس کے پہلو میں ہو۔

گر نہ بودے در مقابل روئے مکروہ وسیہ

کس چہ دانستے جمال شاہد گلفام را

گرنیفتادے بخصمے کار در جنگ و نبرد

کے شدے جوہر عیاں شمشیر خوں آشام را

روشنی را قدر از تاریکی است و تیرگی

واز جہالت ہاست عزو وقر عقل تام را

حجت صادق زنقض و قدح روشن تر شود

عذر نامعقول ثابت مے کند الزام را

اور اس جگہ یہ بھی التماس ہے کہ جو صاحب ردلکھنے کی طرف متوجہ ہوں وہ اس بات کو یاد رکھیں کہ اگر اظہار حق منظور ہے اور انصاف مدنظر ہے اور پورا کرنا شرط اشتہار کا مقصودِ خاطر ہے تو ہماری دلائل کو اپنی کتاب میں تمام و کمال نقل کریں اور نمبروار جواب دیں۔ اس طرح پر کہ اوّل ہماری دلیل کو بالفاظہ درج فرماویں اور پھر اس کا جواب بہ تصریح لکھیں کہ جس میں کسی طرح کا اجمال اور اہمال نہ ہو کہ تاہریک منصف پر نظر ڈالتے ہی روشن ہوجائے کہ جواب ادا ہوگیا یا نہیں۔ کیونکہ خلاصوں میں پوری پوری کیفیت استدلال کی معلوم نہیں ہوسکتی اور بہت سے ایسے مطالب ہوتے ہیں کہ بروقت اختصار کے معاندین کے خائنانہ تصرفات سے یا ان کی جہالت اور سادہ لوحی سے فوت ہوجاتے ہیں بلکہ بسا اوقات حذف و اسقاط سے اصل مدعا شخص مدلل کا کچھ کا کچھ بن جاتا ہے پھر ایسی حالت

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 88

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 88

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/88/mode/1up

میںیہ بات غیر ممکن ہوجاتی ہے جو ناظرین اس کتاب کے کہ جن کے پاس فریق ثانی کی کتاب موجود نہیں کسی بات کو صحیح طور پر سمجھ سکیں یا کسی رائے کے ظاہر کرنے کا موقعہ پاویں۔ پس چونکہ یہ کتاب اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے کہ جس میں بہ نیت اتمامِ حجت کے پورا پورا جواب دینے والے کو انعام کثیر دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ تو ایسی کتاب کے مقابلہ پر فریب اور تدلیس کو استعمال میں لانا ایک بے جا اور بے سود چالاکی ہے۔ لہذا بکمال تاکید لکھا جاتا ہے کہ صفائی اسی میں ہے اور صرف اسی حالت میں کوئی رد لکھنے والا شرائط اشتہار سے استفادہ اٹھا سکتا ہے کہ جو تقریر ہمارے منہ سے نکلی ہے اور جو طرز عبارت ہماری کتاب میں مندرج ہے وہ سب کامل طور پر بترتیبہ و بالفاظہ بیان کرے۔

سوم۔ یہ امر بھی ہریک صاحب پر روشن رہے کہ ہم نے اس کتاب میں جس قدر دلائل حقیت قرآن مجید اور براہین صدق رسالت حضرت خاتم الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم لکھی ہیں یا جو جو فضائل اور محاسن قرآن شریف کے اور آیات بینات منجانب اللہ ہونے اس کتاب کے کتابِ ہذا میں درج کئے ہیں یا جس طور کا اس کی نسبت کوئی دعویٰ کیا ہے وہ سب دلائل وغیرہ اسی مقدس کتاب سے ماخوذ اور مستنبط ہیں یعنی دعویٰ بھی وہی لکھا ہے جو کتاب ممدوح نے کیا ہے اور دلیل بھی وہی لکھی ہے جو اُسی پاک کتاب نے اُس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ نہ ہم نے فقط اپنے ہی قیاس سے کوئی دلیل لکھی ہے اور نہ کوئی دعویٰ کیا ہے۔ چنانچہ جابجا وہ سب آیات کہ جن سے ہماری دلائل اور دعاوی ماخوذ ہیں۔ درج کرتے گئے ہیں۔ پس جو صاحب بمقابلہ ہماری دلائل کے کچھ اپنی کتاب کے متعلق لکھنا چاہیں۔ یا کوئی دعویٰ کریں تو ان پر بھی لازم ہے جو بپابندی اسی طریق معہود ہمارے کے کاربند ہوں۔ یعنی وہی دعویٰ اور وہی دلیل نفس کتاب اور اصولِ کتاب کے اثبات کی نسبت پیش کریں جو اُن کی کتاب میں مندرج ہو۔ اور اس جگہ یہ بھی یاد رکھیں کہ دلیل سے مراد ہماری عقلی دلیل ہے کہ جس کو معقولی لوگ اپنے مطالب کے اثبات میں پیش کیا کرتے

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 89

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 89

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/89/mode/1up

ہیں۔ کوئی کتھا یا قصہ یا کہانی مراد نہیں ہے۔ غرض ہریک باب میں عقلی دلیل جو کتابِ الہامی میں درج ہو دکھلادیں اور صرف اپنے ہی خیال سے کوئی قیاسی امر بیان کرنا کہ جس کا کوئی اصل صحیح کتاب میں نہیں پایا جاتا روا نہ رکھیں۔ کیونکہ ہر عاقل جانتا ہے۔ کہ ربانی کتاب کا یہ آپ ذمہ ہے کہ اپنے الہامی ہونے کے بارے میں جو جو دعویٰ کرنا واجب ہے وہ آپ کرے اور اس کی دلائل بھی آپ لکھے اور ایسا ہی اپنے اصولوں کی حقیت کو آپ دلائل واضحہ سے بپایہ ¿ صداقت پہنچاوے نہ یہ کہ کتاب الہامی اپنا دعویٰ پیش کرنے اور اس کا ثبوت دینے سے قطعاً ساکت ہو اور اپنے اصولوں کی وجوہ صداقت پیش کرنے سے بھی بکلی سکوت اختیار کرے اور کوئی دوسرا اٹھ کر اس کی وکالت کرنا چاہے۔٭

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 90

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 90

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/90/mode/1up

پس بخوبی یاد خاطر رہے کہ جو صاحب بغرض اثبات حقانیت اپنی کتاب اور اپنے اُصول کے کوئی ایسا دعویٰ یا دلیل پیش کریں گے کہ جس کو ان کی الہامی کتاب نے پیش نہیں کیا تو یہ فعل ان کا اس امر پر شہادتِ قاطعہ ہوگا جو کتاب مقبولہ ان کی کہ جس کو وہ الہامی خیال کررہے ہیں۔ ایفائ مضمون اس شرط سے قاصرہے۔

چہارم۔ بخدمت جملہ صاحبان یہ بھی عرض ہے کہ یہ کتاب کمال تہذیب اور رعایت آداب سے تصنیف کی گئی ہے اور اس میں کوئی ایسا لفظ نہیں کہ جس میں کسی بزرگ یا پیشوا کسی فرقہ کی کسر شان لازم آوے اور خود ہم ایسے الفاظ کو صراحتاً یا کنایتاً اختیار

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 91

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 91

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/91/mode/1up

کرنا خبث عظیم سمجھتے ہیں اور مرتکب ایسے امر کو پرلے درجہ کا شریر النفس خیال کرتے ہیں۔ سو اسی طرح ہریک اپنے شریف مخاطب کو اس طرف توجہ دلائی جاتی ہے کہ ان کی کوششیں بھی اس بارے میں مصروف رہنی چاہئیں کہ تمام تحریر ان کی بشرطیکہ کچھ تحریر کریں جیسا کہ مہذب اشخاص کے لائق ہے سراسر تہذیب پر مبنی ہو اور اوباشانہ کلام اور ہجو اور ہتک مقدسین اور رسولوں اور نبیوں سے بکلی پاک ہو۔ یہ منصب تالیفاتِ مذہبی کا بڑا نازک منصب ہے اور اس میں عنانِ حکومت صرف ایک ہی شخص کے ہاتھ میں نہیں ہوتی بلکہ ہر یک حسن اور قبح میں فرق کرنے والے اور منصف اور متعصب اور مفسد اور حق گو کو

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 92

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 92

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/92/mode/1up

پہچاننے والے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ ایسے شریف لوگ ہریک قوم میں کم و بیش موجود ہوتے ہیں جو مفسدانہ اور غیر مہذب تقریروں کو بالطبع پسند نہیں کرتے اور مختلف فرقوں کے بزرگ ہادیوں کو بدی اور بے ادبی سے یاد کرنا پرلے درجہ کی خباثت اور شرارت سمجھتے ہیں۔ اور فی الواقع سچ بھی ہے کہ جن مقدسوں کو خدا نے اپنی خاص مصلحت اور ذاتی ارادہ سے مقتدا اور پیشوا قوموں کا بنایا اور جن روشن جوہروں کو اس نے دنیا پر چمکا کر ایک عالم کو ان کے ہاتھ سے نور خدا پرستی اور توحید کا بخشا۔ جن کی پرزور تعلیمات سے شرک اور مخلوق پرستی جو اُمّ الخبائث ہے اکثر حصوں زمین سے معدوم ہوگئی اور درخت ذکر وحدانیت الٰہی کا جو سوک گیا تھا پھر سرسبز اور شاداب اور خوشحال ہوگیا اور عمارت خدا پرستی کی جو گرپڑی تھی پھر اپنے مضبوط چٹان پر بنائی گئی۔ جن مقبولوں کو خدا نے اپنے خاص سایہ عاطفت میں لیکر ایسے عجائب طور پر تائید کی کہ وہ کروڑوں مخالفوں سے نہ ڈرے اور نہ تھکے اور نہ گھٹے اور نہ ان کی کارروائیوں میں کچھ تنزل ہوا۔ اور نہ ان پر کچھ بلا آئی جب تک کہ انہوں نے راستی کو ہریک موذی سے امن میں رہ کر زمین پر قائم نہ کرلیا۔ ایسے مقبولان الٰہی کی نسبت زبان درازی کرنا نہایت درجہ کی ناپاکی اور نااہلی اور ہٹ دھرمی ہے۔

ہر کہ تف افگند بہ مہر منیر

ہم برویش فتد تف تحقیر

تا قیامت تف ست بر روئش

قدسیاں دور تر ز بدبویش

اور جو کچھ میں اس مقام میں ادب اور حفظ لسان کے بارے میں نصیحت کررہا ہوں یہ بلاوجہ اور بلا خاص معنے کے نہیں۔ اس وقت میرے ذہن میں کئی ایک ایسے لوگ حاضر ہیں کہ جو انبیاءاور رسولوں کی تحقیر کرکے ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا ایک بڑے ثواب کا کام کررہے

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 93

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 93

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/93/mode/1up

ہیں اور ایسے پر تہذیب فقرے لکھتے ہیں کہ جن سے ان کی طینت کی پاکی خوب ظاہر ہوتی ہے میں نے خوب تحقیق کی ہے کہ ان نالائق حرکات کے بھی دو باعث ہیں کہ جب بعض لوگ حکیمانہ اور معقول کلام کرنے کا مادہ نہیں رکھتے۔ یا جب کسی اہل حق کے الزام اور افحام سے تنگ آجاتے ہیں اور رک جاتے ہیں تو پھر وہ اپنی پردہ پوشی اسی میں دیکھتے ہیں جو علمی بحث کو ٹھٹھے اور ہنسی کی طرف منتقل کردیں اور اگر کسی اور طور سے نہیں تو اسی طرح سے اپنے ہم مشربوں میں نام حاصل کریں۔ پس ایسے لوگوں کو جو اپنی قوم کے معلم اور اتالیق بن بیٹھتے ہیں۔ بغرض حفاظت اس کلاہ فضیلت کے بات بات میں ضدیت کرنی پڑتی ہے اور عوام لوگوں سے کچھ بڑھ کر مادہ تعصب کا دکھلانا پڑتا ہے اور اگر سچ پوچھو تو ایسوں پر کچھ افسوس بھی نہیں۔ کیونکہ جہالت اور تعصب نے چاروں طرف سے ان کو گھیرا ہوا ہوتا ہے۔ نہ خدا کا کچھ خوف ہوتا ہے اور نہ ایمان اور حق اور راستی کی کچھ پروا ہوتی ہے اور جیفہ دنیا پر مرے جاتے ہیں۔ تو پھر جبکہ ان کو خدا سے کچھ غرض ہی نہیں اور حیا سے اور شرم سے کچھ کام ہی نہیں اور سچ کا قبول کرنا کسی طور سے منظور ہی نہیں تو اس حالت میں اگر وہ اوباشانہ باتیں نہ کریں تو اور کیا کریں اور اگر زبان درازی ظاہر نہ کریں تو ان کے ظرف میں اور کیا ہے جو ظاہر کریں۔ اگر بولیں تو کیا بولیں۔ اگر لکھیں تو کیا لکھیں۔ عیسائیوں میں باستثناءان لوگوں کے کہ جن کو تہذیب اور تحقیق سے کچھ غرض نہیں۔٭اس وقت ہزارہا ایسے شریف النفس اور منصف مزاج پیدا ہوتے جاتے

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 94

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 94

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/94/mode/1up

ہیں کہ جنہوں نے دلی انصاف سے عظمت شانِ اسلام کو قبول کرلیا ہے اور تثلیث کے مسئلہ کا غلط ہونا اور بہت سی بدعتوں کا عیسائی مذہب میں مخلوط ہوجانا اپنی تصنیفات میں بڑی شدومد سے بیان کیا ہے۔ مگر افسوس کہ یہ انصاف ہمارے ہم وطنوں آریہ قوم سے مٹا جاتا ہے۔ اس قوم کو تعصب نے اس قدر گھیرا ہے کہ انبیاءکا ادب سے نام لینا بھی ایک پاپ سمجھتے ہیں اور تمام انبیاءکی کسر شان کرکے اور سب کو مفتری اور جعلساز ٹھہرا کر یہ دعویٰ بلا دلیل پیش کرتے ہیں کہ ایک وید ہی خدا کی کلام ہے

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 95

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 95

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/95/mode/1up

جو ہمارے بزرگوں پر نازل ہوئی تھی اور باقی سب الہامی کتابیں جن سے دنیا کو ہزارہا طور کا فائدہ توحید اور معرفت الٰہی کا پہنچا ہے۔ وہ لوگوں نے آپ ہی بنالی ہیں۔ سو اگرچہ یہ دعویٰ تو اس کتاب میں ایسا ردّ کیا گیا ہے کہ وید موجودہ کا قصہ ہی پاک ہوگیا ہے۔ لیکن اس جگہ ہم کو یہ ظاہر کرنا منظور ہے کہ کس قدر ان لوگوں کے خیالات اصول حسن ظن اور تہذیب اور پاک دلی سے دور پڑے ہوئے ہیں اور کیسے یہ لوگ تعصب قدیم کی شامت سے جو ان کی رگ و ریشہ اور تار اور پود میں اثر کر گیا ہے۔ ان نیک ظنی کی طاقتوں کو جو انسان کی شرافت

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 96

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 96

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/96/mode/1up

اور نجابت اور سعادت کا معیار تھیں اور اس کی انسانیت کا زیب و زینت تھیں۔ بہ یکبار کھو بیٹھے ہیں٭جو ان کے دلوں میں یہ خیال سمایا ہوا ہے جو بجز آریہ دیس کے اور جتنے ملکوں میں نبی اور رسول آئے جنہوں نے بہت سے لوگوں کو تاریکی شرک اور مخلوق پرستی سے باہر

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 97

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 97

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/97/mode/1up

نکالا اور اکثر ملکوں کو نورِ ایمان اور توحید سے منور کیا۔ وہ سب نعوذ باللہ جھوٹے اور مفتری تھے۔ اور سچی رسالت اور پیغمبری صرف برہمنوں کی وراثت اور انہیں کے بزرگوں کی جاگیر خاص ہے اور اس بارے میں خدا نے ہمیشہ کے لئے انہیں کو ٹھیکہ دے رکھا ہے اور

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 98

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 98

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/98/mode/1up

اپنے وسیع دریا ہدایت اور رہنمائی کو انہیں کے چھوٹے سے ملک میں گھسیڑ دیا ہے اور ہمیشہ اس کو انہیں کا دیس اور انہیں کی زبان اور انہیں میں سے پیغمبر پسند آگئے ہیں٭

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 99

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 99

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/99/mode/1up

اور وہ بھی صرف تین یا چار کہ جن سے مسئلہ الہام اور رسالت کا قوانین عامہ قدرتیہ اور عادات قدیمہ الٰہیہ میں داخل بھی نہیں ہوسکتا اور امر نبوت اور وحی کا بباعث قلت تعداد الہام یافتہ لوگوں کے ضعیف اور غیر معتبر اور مشکوک اور مشتبہ ٹھہر جاتا ہے اور نیز کروڑہا بندگان خدا جو اس ملک سے بے خبر رہے یا یہ ملک ان کے ملکوں سے بے خبر رہا۔ فضل اور رحمت اور ہدایت الٰہی سے محروم اور نجات سے بے نصیب رہ جاتے ہیں۔ اور پھر طرفہ یہ کہ بموجب خوش عقیدہ آریہ صاحبوں کے وہ تین یا چار بھی خدا تعالیٰ کے ارادہ اور مصلحت خاص سے منصب نبوت پر مامور نہیں ہوئے بلکہ خود کسی نامعلوم جنم کے نیک عملوں کے باعث سے اس عہدہ پانے کے مستحق ہوگئے اور خدا کو بہرحال انہیں پیغمبر

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 100

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 100

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/100/mode/1up

بنانا ہی پڑا۔ اور باقی سب لوگوں کو ہمیشہ کے لئے اس مرتبہ عالیہ سے جواب مل گیا اور کوئی کسی الزام سے اور کوئی کسی تقصیر سے اور کوئی آریہ قوم اور آریہ دیس سے باہر سکونت رکھنے کے جرم سے الہام پانے سے محروم رہا۔ اب دیکھنا چاہئیے کہ اس ناپاک اعتقاد میں خدا کے مقبول بندوں پر کہ جنہوں نے آفتاب کی طرح ظہور کرکے اس اندھیرے کو دور کیا جو ان کے وقت میں دنیا پر چھا رہا تھا کس قدر ناحق بے موجب بدظنی کی گئی ہے اور پھر اپنے پرمیشر پر بھی یہ بدظنی جو اس کو غافل یا مدہوش یا مخبط الحواس تصور کیا ہے کہ جو اس قدر بے خبر ہے کہ گو بعد وید کے ہزارہا طور کی نئی نئی بدعتیں نکلیں اور لاکھوں طرح کے طوفان آئے اور اندھیریاں چلیں اور رنگا رنگ کے فساد برپا ہوئے اور اس کے راج میں ایک بری طرح کا گڑبڑ پڑگیا اور دنیا کو اصلاح جدید کی سخت سخت حاجتیں پیش آئیں۔ پر وہ کچھ ایسا سویا کہ پھر نہ جاگا اور کچھ ایسا کھسکا کہ پھر نہ آیا۔ گویا اس کے پاس اتنا ہی الہام تھا جو وید میں خرچ کر بیٹھا اور وہی سرمایہ تھا جو پہلے ہی بانٹ چکا اور پھر ہمیشہ کے لئے خالی ہاتھ رہ گیا اور منہ پر مہر لگ گئی اور ساری صفتیں اب تک بنی رہیں۔ مگر تکلم کی صفت صرف وید کے زمانہ تک رہی پھر باطل ہوگئی اور پرمیشر ہمیشہ کے لئے کلام کرنے اور الہام بھیجنے سے عاجز ہوگیا٭یہ اعتقاد آریہ قوم کا ہے کہ جس پر ہریک ہندو کو رغبت دلائی

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 101

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 101

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/101/mode/1up

جاتی ہے کہ اسی کو اپنی دھرم بناوے۔ مگر تعجب کہ اس اعتقاد کا وید میں کہیں ذکر تک نہیں۔ اور کوئی شرتی اس میں ایسی نہیں کہ اس متعصبانہ بدظنی کی تعلیم دیتی ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اشلوک انہیں دنوں میں گھڑا گیا ہے کہ جب آریہ قوم کے عقلمندوں نے اپنی پستکوں اور

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 102

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 102

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/102/mode/1up

شاستروں میں یہ بھی لکھ مارا تھا جو ہمالہ پہاڑ اور کچھ ایشیا کے حصہ سے پرے کوئی ملک ہی نہیں اور اسی طرح اور بھی سینکڑوں خام خیالیاں اور وہم پرستیاں کہ جن کا اس وقت ذکر کرنا ہی فضول ہے اور جو اب روز بروز دنیا سے مٹی جاتی ہیں اور علم اور عقل کے حاصل کرنے والے خودبخود ان کو چھوڑتے جاتے ہیں انہیں دنوں میں نکلی تھیں۔ پس غضب کی بات ہے

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 103

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 103

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/103/mode/1up

کہ جو لوگ اس تحقیق اور تدقیق کے مالک ہیں اور جن کے وید مقدس میں بجز آگ اور ہوا اور سورج اور چاند وغیرہ مخلوق چیزوں کے خدا کا پتہ بھی مشکل سے ملتا ہے وہ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح اور حضرت خاتم الانبیاءکو مفتری ٹھہراویں اور ان کے ادوار مبارک کو مکر اور فریب کے دور قرار دیں اور ان کی کامیابیوں کو جو تائید الٰہی کے بڑے نمونہ ہیں بخت اور اتفاق پر حمل کریں اور ان کی پاک کتابیں جو خدا کی طرف سے عین ضرورتوں کے وقتوں میں ان کو ملیں جن کے ذریعہ سے بڑی اصلاح دنیا کی ہوئی وہ وید کے مضامین مسروقہ خیال کئے جائیں۔ اور تماشا یہ کہ اب تک یہ پتہ نہیں دیا گیا کہ کس طور کے سرقہ کا ارتکاب

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 104

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 104

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/104/mode/1up

ہوا۔ کیا کسی جگہ قرآن شریف یا انجیل یا توریت میں وید کی طرح اگنی کی پرستش کا حکم پایا جاتا ہے یا کہیں وایو اور جل کی مناجات لکھ دی ہے یا کسی مقام میں اکاش اور چاند اور سورج کی حمد وثنا کی گئی ہے یا کسی آیت میں اندرکی مہما اور برنن کرکے اس سے بہت سی گوئیں اور بے انتہا مال مانگا گیا ہے۔ اور اگر ان چیزوں میں سے جو وید کا لب لباب اور اس کی ساری تعلیموں کا خلاصہ ہیں کچھ بھی نہیں لیا گیا تو پھر وید میں سے کیا چورایا۔ اور اس جگہ ہمیں پنڈت دیانند صاحب پر بڑا افسوس ہے جو وہ توریت اور انجیل اور قرآن شریف کی نسبت اپنے بعض رسالوں اور نیز اپنے وید بھاش کے بھومکا میں سخت سخت الفاظ استعمال میں لائے ہیں اور معاذ اللہ وید کو کھرا سونا اور باقی خدا کی ساری کتابوں کو کھوٹا سونا قرار دیا ہے۔ سارا باعث ان واہیات باتوں اور بیہودہ چالاکیوں کا یہ ہے کہ پنڈت صاحب نہ عربی جانتے ہیں نہ فارسی اور نہ بجز سنسکرت کے کوئی اور بولی بلکہ اردو خوانی سے بھی بالکل بے بہرہ اور بے نصیب ہیں۔ اور ایک اور بھی باعث ہے جو ان کی نو تصنیف کتابوں کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ علاوہ کم فہمی اور بے علمی اور تعصب کے ان کی فطرتی سمجھ بھی سودائیوں اور وہمیوں کی طرح وضع استقامت پر قائم ہونے اور صراط مستقیم پر ٹھہرنے سے نہایت لاچار ہے اور نیک کو بدخیال کرنا اور بد کو نیک سمجھنا اور کھرے کو کھوٹا اور کھوٹے کو کھرا قرار دینا اور الٹے کو سیدھا اور سیدھے کو الٹا جاننا ان کی ایک عام عادت ہوگئی ہے۔ جو ہر جگہ بلااختیار ان سے ظہور میں آتی ہے اور اسی وجہ سے وید کی وہ تاویلیں جو کبھی کسی کی خواب میں بھی نہیں آئی تھیں وہ کرتے جاتے ہیں اور پھر ان بے بنیاد خیالات کو چھپوا کر لوگوں سے اپنی رُسوائی کراتے ہیں۔ اور اگرچہ سارے ہندوستان کے پنڈت شور مچا رہے ہیں جو ہمارے وید میں توحید کا نام و نشان نہیں اور ہمارے باپ دادوں نے یہ سبق کبھی پڑھا ہی نہیں اور وید نے ہم کو کسی جگہ مخلوق پرستی سے منع کیا ہی نہیں۔ مگر پنڈت جی پھر بھی اپنے

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 105

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 105

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/105/mode/1up

خیالی پلاﺅ پکانے سے باز نہیں آتے اور ان صدہا دیوتوں کو جو وید کے متفرق معبود ہیں صرف ایک ہی خدا بنانا چاہتے ہیں کہ تاوید کے الہامی ہونے میں کچھ فرق نہ آجائے۔ بہرحال جو کچھ انہوں نے وید پر دست درازی کی اور کررہے ہیں یہ تو ان کا اختیار ہے۔ مگر قرآنِ شریف کی نسبت ناحق ہتک اور توہین کرنا یہ وہ کام ہے کہ جس سے ان کی سخت رسوائی ہوگی۔ چنانچہ اس کتاب کی تصنیف سے وہ دن آبھی گیا ہے اور ہمیں معلوم نہیں کہ اب پنڈت صاحب صدہا دلائل حقیت اور افضلیت قرآن شریف کی اور صدہا ادلہ بطلان اصول وید کے کتاب ہذا سے بذریعہ کسی لکھے پڑھے آدمی کے معلوم کرکے پھر بھی جیتے رہیں گے یا خودکشی کا ارادہ جوش مارے گا۔ کیا غضب کی بات ہے کہ قرآن شریف جیسی اعلیٰ اور افضل اور اتم اور اکمل اور احسن اور اجمل کتاب کی توہین کرکے نہ عاقبت کی ذلت سے ڈرتے ہیں اور نہ اس جہان کے طعن و تشنیع کا کچھ اندیشہ رکھتے ہیں۔ شاید ان کو دونوں عالم کی کچھ پروا نہیں رہی۔ اگر خدا کا کچھ خوف نہیں تھا تو بارے دنیا کی ہی رسوائی کا کچھ خوف کرتے۔ اور اگر شرم اور حیا اٹھ گیا تھا تو کاش لوگوں کے ہی لعن طعن کا اندیشہ باقی رہتا۔ اور اگر پنڈت صاحب کا کچھ مادہ ہی ایسا ہے کہ وہ ناحق خدا کے مقدس رسولوں کی توہین کرکے خوش ہوتے ہیں اور کچھ خو ہی ایسی ہے کہ سنبھلی نہیں جاتی تو اس سے بھی وہ خدا کے پاک لوگوں کا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ پہلے اس سے نبیوں کے دشمنوں نے ان روشن چراغوں کے بجھانے کے لئے کیا کیا نہ کیا اور کون سی تدبیر ہے جو عمل میں نہ لائے۔ لیکن چونکہ وہ راستی اور صداقت کے درخت تھے۔ اس لئے وہ غیبی مدد سے دم بدم نشوونما پکڑتے گئے اور معاندین کی مخالفانہ تدبیروں سے کچھ بھی ان کا نقصان نہ ہوا۔ بلکہ وہ ان لطیف اور خوشنما پودوں کی طرح جو مالک کے جی کو بھاتے ہیں اور بھی بڑھتے پھولتے گئے۔ یہاں تک کہ وہ بڑے بڑے سایہ دار اور پھلدار درختوں کے مانند ہوگئے اور دور دور کے روحانی اور حقانی آرام کے ڈھونڈنے والے پرندوں نے آکر ان میں بسیرا لیا اور

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 106

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 106

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/106/mode/1up

مخالفوں کی کچھ بھی پیش نہ گئی۔ اور گو ان بداندیشوں نے بہتیرے ہاتھ پاﺅں مارے۔ ایڑیاں رگڑیں۔ مکاریاں اور عیاریاں دکھلائیں۔ پر آخر مرغ گرفتار کی طرح پھڑپھڑا کے رہ گئے۔ پس جبکہ ہاتھوں سے ان مقدس لوگوں کا نقصان نہ ہوسکا تو صرف زبان کے ہتک آمیز الفاظ سے کب ہوسکتا ہے۔ یہ وہ برگزیدہ قوم ہے کہ جن کے اقبال کی انہیں کے زمانہ میں آزمائش ہوچکی ہے۔ وہ اقبال نہ بت پرستوں کے روکنے سے رکا اور نہ کسی اور مخلوق پرست کی مزاحمت سے بند رہا۔ نہ تلواروں کی دھار اس شان و شوکت کو کاٹ سکی۔ نہ تیروں کی تیزی اس میں کچھ رخنہ ڈال سکی۔ وہ جلال ایسا چمکا جو اس کا حسد کتنوں کا لہو پی گیا۔ وہ تیر ایسا برسا جو اس کا چھوٹنا کئی کلیجوں کو کھا گیا۔ وہ آسمانی پتھر جس پر پڑا اسے پیس ڈالتا رہا اور جو شخص اس پر پڑا وہ آپ ہی پسا گیا۔

خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے

جب آتی ہے تو پھر عالم کو اک عالم دکھاتی ہے

وہ بنتی ہے ہوا اور ہر خس رہ کو اڑاتی ہے

وہ ہو جاتی ہے آگ اور ہر مخالف کو جلاتی ہے

کبھی وہ خاک ہوکر دشمنوں کے سر پہ پڑتی ہے

کبھی ہوکر وہ پانی ان پہ اک طوفان لاتی ہے

غرض رکتے نہیں ہرگز خدا کے کام بندوں سے

بھلا خالق کے آگے خلق کی کچھ پیش جاتی ہے

خلاصہ اس کلام کا یہ ہے کہ اگر پنڈت صاحب وغیرہ معاندین و مخالفین کو دنیا اور قوم کی محبت کے باعث یا ننگ و ناموس کے سبب یا صفت حیا کی کمزوری کی وجہ سے خدا کی سچی کتابوں پر ایمان لانا منظور نہ ہو تو خیر یہ ان کی خوشی۔ مگر ہم ان کو نصیحت کرتے ہیں جو زبان درازیوں سے باز رہیں جو اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ اور بہ فرضِ محال یہ بھی ہم نے تسلیم کیا جو خدا کے پاک پیغمبروں کا صدق ان کی عقل عجیب کے نزدیک ثابت نہیں سہی۔ مگر پھر بھی وہ شخص کہ جس کے دل میں کچھ خدا کا خوف یا لوگوں کے طعن سے ہی کچھ ڈر ہے۔ وہ اس بات کو ضرور تسلیم کرے گا کہ صدق کے عدم ثبوت سے کذب کا ثبوت لازم نہیں آتا۔ کیونکہ مفہوم اس عبارت کا کہ زید کا سچا ہونا ثابت نہیں۔ اس عبارت

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 107

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 107

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/107/mode/1up

کے مفہوم سے ہرگز مساوی نہیں ہوسکتا کہ زید کا جھوٹا ہونا ثابت ہے پس جس حالت میں کسی شخص کا کذب ثابت نہیں تو اس پر احکام کذب کے وارد کرنا اور کاذب کاذب کرکے پکارنا حقیقت میں انہیں لوگوں کا کام ہے کہ جن کا دھرم اور ایمان اور پرمیشر اور بھگوان صرف جیفہ دنیا کا لالچ یا جاہلانہ ننگ و ناموس یا قوم اور برادری ہے اگر وہ حق کو قبول کریں اور ہریک نوع کی ضدیت چھوڑ دیں تو پھر ایک غریب درویش کی طرح سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دین الٰہی میں داخل ہونا پڑے تو پھر پنڈت جی اور گوروجی اور سوامی جی ان کو کون کہے۔ پس اگر ایسے لوگ حق اور راستی کے مزاحم نہ ہوں تو اور کون ہو اور اگر ان کا غضب اور غصہ نہ بھڑکے تو اور کس کا بھڑکے۔ ان کو تو اسلام کی عزت ماننے سے اپنی عزت میں فرق آتا ہے۔ طرح طرح کی وجوہ ِمعاش بند ہوتی ہیں۔ تو پھر کیوں کر ایک اسلام کو قبول کرکے ہزار آفت خریدلیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس سچائی پر یقین کرنے کے لئے صدہا سامان موجود ہیں اس کو تو قبول نہیں کرتے اور جن کتابوں کی تعلیم حرف حرف میں شرک کا سبق دیتی ہے ان پر ایمان لائے بیٹھے ہیں اور بے انصافی ان کی اس سے ظاہر ہے کہ اگر مثلاً کوئی عورت کہ جس کی پاک دامنی بھی کچھ ایسی ویسی ہی ثابت ہو۔ کسی ناکردنی فعل سے متہّم کی جائے تو فی الفور کہیں گے جو کس نے پکڑا اور کس نے دیکھا اور کون معائنہ واردات کا گواہ ہے۔ مگر ان مقدسوں کی نسبت کہ جن کی راستبازی پر نہ ایک نہ دو بلکہ کروڑہا آدمی گواہی دیتے چلے آئے ہیں بغیر ثبوت معتبر اس امر کے کہ کسی کے سامنے انہوں نے مسودہ افترا کا بنایا یا اس منصوبہ میں کسی دوسرے سے مشورہ لیا یا وہ راز کسی شخص کو اپنے نوکروں یا دوستوں یا عورتوں میں سے بتلایا یا کسی اور شخص نے مشورہ کرتے یا راز بتلاتے پکڑا۔ یا آپ ہی موت کا سامنا دیکھ کر اپنے مفتری ہونے کا اقرار کردیا۔ یونہی جھوٹی تہمت لگانے پر طیار ہوجاتے ہیں۔ پس یہی تو سیاہ باطنی کی نشانی ہے اور اسی سے تو ان کی اندرونی خرابی مترشح ہورہی ہے انبیاءوہ لوگ

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 108

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 108

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/108/mode/1up

ہیں کہ جنہوں نے اپنی کامل راستبازی کی قوی حجت پیش کرکے اپنے دشمنوں کو بھی الزام دیا جیسا کہ یہ الزام قرآن شریف میں ہے حضرت خاتم الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے موجود ہے جہاں فرمایا ہے      ۔ (سورئہ یونس الجزو ۱۱) ۱ یعنے میں ایسا نہیں کہ جھوٹ بولوں اور افتراءکروں۔ دیکھو میں چالیس برس اس سے پہلے تم میں ہی رہتا رہا ہوں کیا کبھی تم نے میرا کوئی جھوٹ یا افترا ثابت کیا پھر کیا تم کو اتنی سمجھ نہیں یعنے یہ سمجھ کہ جس نے کبھی آج تک کسی قسم کا جھوٹ نہیں بولا۔ وہ اب خدا پر کیوں جھوٹ بولنے لگا۔ غرض انبیاءکے واقعات عمری اور ان کی سلامت روشی ایسی بدیہی اور ثابت ہے کہ اگر سب باتوں کو چھوڑ کر ان کے واقعات کو ہی دیکھا جائے تو ان کی صداقت ان کے واقعات سے ہی روشن ہورہی ہے مثلاً اگر کوئی منصف اور عاقل ان تمام براہین اور دلائل صدق نبوت حضرت خاتم الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم سے جو اس کتاب میں لکھی جائیں گی قطع نظر کرکے محض ان کے حالات پر ہی غور کرے تو بلاشبہ انہیں حالات پر غور کرنے سے ان کے نبی صادق ہونے پر دل سے یقین کرے گا اور کیونکر یقین نہ کرے وہ واقعات ہی ایسے کمال سچائی اور صفائی سے معطر ہیں کہ حق کے طالبوں کے دل بلااختیار ان کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔ خیال کرنا چاہئے کہ کس استقلال سے آنحضرت اپنے دعویٰ نبوت پر باوجود پیدا ہوجانے ہزاروں خطرات اور کھڑے ہوجانے لاکھوں معاندوں اورمزاحموں اور ڈرانے والوں کے اول سے اخیر دم تک ثابت اور قائم رہے برسوں تک وہ مصیبتیں دیکھیں اور وہ دکھ اٹھانے پڑے جو کامیابی سے بکلی مایوس کرتے تھے اور روزبروز بڑھتے جاتے تھے کہ جن پر صبر کرنے سے کسی دنیوی مقصد کا حاصل ہوجانا وہم بھی نہیں گذرتا تھا بلکہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے ازدست اپنی پہلی جمعیت کو بھی کھو بیٹھے اور ایک بات کہہ کر لاکھ تفرقہ خرید لیا اور ہزاروں بلاﺅں کو اپنے

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 109

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 109

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/109/mode/1up

سر پر بلالیا۔ وطن سے نکالے گئے۔ قتل کے لئے تعاقب کئے گئے۔ گھر اور اسباب تباہ اور برباد ہوگیا۔ بارہا زہر دی گئی۔ اور جو خیر خواہ تھے وہ بدخواہ بن گئے اور جو دوست تھے وہ دشمنی کرنے لگے اور ایک زمانہ دراز تک وہ تلخیاں اٹھانی پڑیں کہ جن پر ثابت قدمی سے ٹھہرے رہنا کسی فریبی اور مکار کا کام نہیں۔ اور پھر جب مدت مدید کے بعد غلبہ اسلام کا ہوا تو ان دولت اور اقبال کے دنوں میں کوئی خزانہ اکٹھا نہ کیا۔ کوئی عمارت نہ بنائی۔ کوئی بارگاہ طیار نہ ہوئی۔ کوئی سامان شاہانہ عیش وعشرت کا تجویز نہ کیا گیا۔ کوئی اور ذاتی نفع نہ اٹھایا۔ بلکہ جو کچھ آیا وہ سب یتیموں اور مسکینوں اور بیوہ عورتوں اور مقروضوں کی خبر گیری میں خرچ ہوتا رہا اور کبھی ایک وقت بھی سیر ہوکر نہ کھایا۔ اور پھر صاف گوئی اس قدر کہ توحید کا وعظ کرکے سب قوموں اور سارے فرقوں اور تمام جہان کے لوگوں کو جو شرک میں ڈوبے ہوئے تھے مخالف بنالیا۔ جو اپنے اور خویش تھے ان کو بت پرستی سے منع کر کے سب سے پہلے دشمن بنایا ۔ یہودیوں سے بھی بات بگاڑلی۔ کیونکہ ان کو طرح طرح کی مخلوق پرستی اور پیر پرستی اور بداعمالیوں سے روکا۔ حضرت مسیح کی تکذیب اور توہین سے منع کیا جس سے ان کا نہایت دل جل گیا اور سخت عداوت پر آمادہ ہوگئے اور ہر دم قتل کردینے کی گھات میں رہنے لگے۔ اسی طرح عیسائیوں کو بھی خفا کردیا گیا۔ کیونکہ جیسا کہ ان کا اعتقاد تھا۔ حضرت عیسیٰ کو نہ خدا نہ خدا کا بیٹا قرار دیا اور نہ ان کو پھانسی مل کر دوسروں کو بچانے والا تسلیم کیا۔ آتش پرست اور ستارہ پرست بھی ناراض ہوگئے۔ کیونکہ ان کو بھی ان کے دیوتوں کی پرستش سے ممانعت کی گئی اور مدار نجات کا صرف توحید ٹھہرائی گئی۔ اب جائے انصاف ہے کہ کیا دنیا حاصل کرنے کی یہی تدبیر تھی کہ ہریک فرقہ کو ایسی ایسی صاف اور دلآزار باتیں سنائی گئیں کہ جس سے سب نے مخالفت پر کمر باندھ لی اور سب کے دل ٹوٹ گئے اور قبل اس کے کہ اپنی کچھ ذرّہ بھی جمعیت بنی ہوتی یا کسی کا حملہ روکنے کے لئے کچھ طاقت بہم پہنچ جاتی

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 110

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 110

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/110/mode/1up

سب کی طبیعت کو ایسا اشتعال دے دیا کہ جس سے وہ خون کرنے کے پیاسے ہوگئے۔ زمانہ سازی کی تدبیر تو یہ تھی کہ جیسا بعضوں کو جھوٹا کہا تھا ویسا ہی بعضوں کو سچا بھی کہا جاتا۔ تا اگر بعض مخالف ہوتے تو بعض موافق بھی رہتے۔ بلکہ اگر عربوں کو کہا جاتا کہ تمہارے ہی لات و عُزّٰی سچے ہیں تو وہ تو اسی دم قدموں پر گر پڑتے اور جو چاہتے ان سے کراتے۔ کیونکہ وہ سب خویش اور اقارب اور حمیت قومی میں بے مثل تھے اور ساری بات مانی منائی تھی صرف تعلیم بت پرستی سے خوش ہوجاتے اور بدل و جان اطاعت اختیار کرتے۔ لیکن سوچنا چاہئیے کہ آنحضرت کا یکلخت ہرایک خویش و بیگانہ سے بگاڑ لینا اور صرف توحید کو جو ان دنوں میں اس سے زیادہ دنیا کے لئے کوئی نفرتی چیز نہ تھی اور جس کے باعث سے صدہا مشکلیں پڑتی جاتی تھیں بلکہ جان سے مارے جانا نظر آتا تھا مضبوط پکڑلینا یہ کس مصلحت دنیوی کا تقاضا تھا اور جبکہ پہلے اسی کے باعث سے اپنی تمام دنیا اور جمعیت برباد کرچکے تھے تو پھر اسی بلاانگیز اعتقاد پر اصرار کرنے سے کہ جس کو ظاہر کرتے ہی نو مسلمانوں کو قید اور زنجیر اور سخت سخت ماریں نصیب ہوئیں کس مقصد کا حاصل کرنا مراد تھا۔ کیا دنیا کمانے کے لئے یہی ڈھنگ تھا کہ ہر ایک کو کلمہ تلخ جو اس کی طبع اور عادت اور مرضی اور اعتقاد کے برخلاف تھا۔ سناکر سب کو ایک دم کے دم میں جانی دشمن بنادیا اور کسی ایک آدھ قوم سے بھی پیوند نہ رکھا۔ جو لوگ طامع اور مکار ہوتے ہیں۔ کیا وہ ایسی ہی تدبیریں کیا کرتے ہیں کہ جس سے دوست بھی دشمن ہوجائیں۔ جو لوگ کسی مکر سے دنیا کو کمانا چاہتے ہیں کیا ان کا یہی اصول ہوا کرتا ہے کہ بیکبارگی ساری دنیا کو عداوت کرنے کا جوش دلاویں اور اپنی جان کو ہر وقت کی فکر میں ڈال لیں۔ وہ تو اپنا مطلب سادھنے کے لئے سب سے صلح کاری اختیار کرتے ہیں اور ہرایک فرقہ کو سچائی کا ہی سرٹیفکیٹ دیتے ہیں۔ خدا کے لئے یک رنگ ہوجانا ان کی عادت کہاں ہوا کرتی ہے خدا کی وحدانیت اور عظمت کا کب وہ کچھ دھیان رکھا کرتے ہیں۔ ان کو اس سے غرض کیا ہوتی ہے کہ ناحق

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 111

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 111

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/111/mode/1up

خدا کے لئے دکھ اٹھاتے پھریں۔ وہ تو صیاد کی طرح وہیں دام بچھاتے ہیں کہ جو شکار مارنے کا بہت آسان راستہ ہوتا ہے اور وہی طریق اختیار کرتے ہیں کہ جس میں محنت کم اور فائدہ دنیا کا بہت زیادہ ہو۔ نفاق ان کا پیشہ اور خوشامد ان کی سیرت ہوتی ہے۔ سب سے میٹھی میٹھی باتیں کرنا اور ہر ایک چور اور سادھ سے برابر رابطہ رکھنا ان کا ایک خاص اصول ہوتا ہے۔ مسلمانوں سے اللہ اللہ اور ہندوﺅں سے رام رام کہنے کو ہر وقت مستعد رہتے ہیں اور ہر ایک مجلس میں ہاں سے ہاں اور نہیں سے نہیں ملاتے رہتے ہیں اور اگر کوئی میر مجلس دن کو رات کہے تو چاند اور گیٹیاں دکھلانے کو بھی طیار ہوجاتے ہیں۔ ان کو خدا سے کیا تعلق اور اس کے ساتھ وفاداری کرنے سے کیا واسطہ اور اپنی خوش باش جان کو مفت میں ادھر ادھر کا غم لگا لینا انہیں کیا ضرورت۔ استاد نے ان کو سبق ہی ایک پڑھایا ہوا ہوتا ہے کہ ہر ایک کو یہی بات کہنا چاہئے کہ جو تیرا راستہ ہے وہی سیدھا ہے اور جو تیری رائے ہے وہی درست ہے اور جو تو نے سمجھا ہے وہی ٹھیک ہے غرض ان کی راست اور ناراست اور حق اور باطل اور نیک اور بد پر کچھ نظر ہی نہیں ہوتی بلکہ جس کے ہاتھ سے ان کا کچھ منہ میٹھا ہوجائے وہی ان کے حساب میں بھگت اور سدھ اور جنٹلمین ہوتا ہے اور جس کی تعریف سے کچھ پیٹ کا دوزخ بھرتا نظر آوے اسی کو مکتی پانے والا اور سرگ کا وارث اور حیات ابدی کا مالک بنا دیتے ہیں۔ لیکن واقعات حضرت خاتم الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم پر نظر کرنے سے یہ بات نہایت واضح اور نمایاں اور روشن ہے کہ آنحضرت اعلیٰ درجہ کے یک رنگ اور صاف باطن اور خدا کے لئے جان باز اور خلقت کے بیم و امید سے بالکل منہ پھیرنے والے اور محض خدا پر توکل کرنے والے تھے۔ کہ جنہوں نے خدا کی خواہش اور مرضی میں محو اور فنا ہوکر اس بات کی کچھ بھی پروا نہ کی کہ توحید کی منادی کرنے سے کیا کیا بلا میرے سر پر آوے گی اور مشرکوں کے ہاتھ سے کیا کچھ دکھ اور درد اٹھانا ہوگا۔ بلکہ تمام

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 112

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 112

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/112/mode/1up

شدتوں اور سختیوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارا کرکے اپنے مولیٰ کا حکم بجا لائے۔ اور جو جو شرط مجاہدہ اور وعظ اور نصیحت کی ہوتی ہے وہ سب پوری کی اور کسی ڈرانے والے کو کچھ حقیقت نہ سمجھا۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مواضعاتِ خطرات اور پھر کوئی ایسا خدا پر توکل کرکے کھلا کھلے شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا اور اس قدر دشمن اور پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں۔ پس ذرہ ایمانداری سے سوچنا چاہئے کہ یہ سب حالات کیسے آنحضرت کے اندرونی صداقت پر دلالت کررہے ہیں۔ ماسوا اس کے جب عاقل آدمی ان حالات پر اور بھی غور کرے کہ وہ زمانہ کہ جس میں آنحضرت مبعوث ہوئے حقیقت میں ایسا زمانہ تھا کہ جس کی حالت موجودہ ایک بزرگ اور عظیم القدر مصلح ربانی اور ہادی ¿ آسمانی کی اشد محتاج تھی٭اور جو جو تعلیم دی گئی۔

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 113

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 113

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/113/mode/1up

وہ بھی واقعہ میں سچی اور ایسی تھی کہ جس کی نہایت ضرورت تھی۔ اور ان تمام امور کی جامع تھی کہ جس سے تمام ضرورتیں زمانہ کی پوری ہوتی تھیں۔ اور پھر اس تعلیم نے اثر بھی ایسا کر دکھایا کہ لاکھوں دلوں کو حق اور راستی کی طرف کھینچ لائی اور لاکھوں سینوں پر لا الہ الا اللّٰہ کا نقش جما دیا اور جو نبوت کی علت غائی ہوتی ہے یعنی تعلیم اصول نجات کے اس کو ایسا کمال تک پہنچایا جو کسی دوسرے نبی کے ہاتھ سے وہ کمال کسی زمانہ میں بہم نہیں پہنچا۔ تو ان واقعات پر نظر ڈالنے سے بلا اختیار یہ شہادت دل سے جوش مار کر نکلے گی کہ آنحضرت ضرور خدا کی طرف سے

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 114

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 114

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/114/mode/1up

سچے ہادی ہیں۔ جو شخص تعصب اور ضدیت سے انکاری ہو اس کی مرض تو لاعلاج ہے خواہ وہ خدا سے بھی منکر ہوجائے ورنہ یہ سارے آثار صداقت جو آںحضرت میں کامل طور پر جمع ہیں کسی اور نبی میں کوئی ایک تو ثابت کرکے دکھلاوے تاہم بھی جانیں۔ منہ سے فضول باتیں بکنا کوئی بڑی بات نہیں جو جی چاہے بک لیا کون روکتا ہے۔ لیکن معقول طور پر مدلل بات کا مدلل جواب دینا شرط انصاف ہے۔ یوں تو ہمارے سارے مخالفین گالیاں

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 115

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 115

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/115/mode/1up

دینے اور توہین کرنے کو بڑے چالاک ہیں اور ہجو اور اہانت کرنا کسی استاد سے خوب سیکھے ہیں۔ ہندو دوسرے تمام پیغمبروں اور کتابوں کی تکذیب کرکے صرف وید کا بھجن گا رہے ہیں کہ جو ہے سو وید ہی ہے۔ عیسائی ساری تعلیم الٰہی انجیل پر ختم کئے بیٹھے ہیں یہ نہیں سمجھتے کہ قدر و منزلت ہریک کتاب کی افادہ توحید سے وزن کی جاتی ہے اور جو کتاب توحید کا فائدہ پہنچانے میں زیادہ ہو وہی رتبہ میں زیادہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اگر منکر وحدانیت الٰہی کا کیسا ہی جامع اخلاق کیوں نہ ہو مگر تب بھی نجات نہیں پاسکتا۔ اب ان صاحبوں کو سوچنا چاہئیے کہ توحید جو مدار نجات کا ہے کس کتاب کے ذریعہ سے دنیا میں سب سے زیادہ شائع ہوئی بھلا کوئی بتلائے تو سہی کہ کس ملک میں وید کے ذریعہ سے وحدانیت الٰہی پھیلی ہوئی ہے۔

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 116

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 116

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/116/mode/1up

یاوہ دنیا کس پردہ زمین میں بستی ہے کہ جہاں رگ اور یجر اور شام اور اتھرون نے توحید الٰہی کا نقارہ بجا رکھا ہے۔ جو کچھ وید کے ذریعہ سے ہندوستان میں پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔ وہ تو یہی آتش پرستی اور شمس پرستی اور بشن پرستی وغیرہ انواع و اقسام کی مخلوق پرستیاں ہیں کہ جن کے لکھنے سے بھی کراہت آتی ہے۔ ہندوستان کے اس سرے سے اس سرے تک نظر اٹھا کر دیکھو۔ جتنے ہندو ہیں سب مخلوق پرستی میں ڈوبے ہوئے نظر آویں گے کوئی مہادیوجی کا پوجاری اور کوئی کرشن جی کا بھجن گانے والا اور کوئی مورتوں کے آگے ہاتھ جوڑنے والا۔ ایسا ہی انجیل کا حال ہے۔ کوئی ملک

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 117

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 117

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/117/mode/1up

نظر نہیں آتا کہ جہاں بذریعہ انجیل کے اشاعت توحید کی ہوئی ہو۔ بلکہ انجیل کے ماننے والے موحد کو ناجی ہی نہیں سمجھتے اور پادری لوگ اہل توحید کو ایک اندھیری آگ میں بھیج رہے ہیں کہ جہاں رونا اور دانت پیسنا ہوگا اور بقول ان کے اس کالی آگ سے وہی شخص بچے گا۔ جو خدا پر موت اور مصیبت اور بھوک اور پیاس اور درد اور دکھ اور تجسم اور حلول ہمیشہ کے لئے روا رکھتا ہو۔ ورنہ کوئی صورت بچنے کی نہیں۔ گویا وہ فرضی بہشت یورپ کی دو بزرگ قوموں انگریزوں اور روسیوں کو نصفا نصف تقسیم کرکے دیا جائے گا اور باقی سب موحد اس قصور سے جو خدا کو ہر ایک طرح کے نقصان سے جو اس کے کمال تام کے منافی ہے پاک سمجھتے تھے دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ غرض ہماری اس تحریر سے یہ ہے کہ آج صفحہ ¿ دنیامیں وہ شے کہ جس کا

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 118

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 118

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/118/mode/1up

نام توحید ہے بجز امت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی فرقہ میں نہیں پائی جاتی اور بجز قرآن شریف کے اور کسی کتاب کا نشان نہیں ملتا کہ جو کروڑہا مخلوقات کو وحدانیت الٰہی پر قائم کرتی ہو اور کمال تعظیم سے اس سچے خدا کی طرف رہبر ہو ہریک قوم نے اپنا اپنا مصنوعی خدا بنالیا اور مسلمانوں کا وہی خدا ہے جو قدیم سے لازوال اور غیرمبدل اور اپنی ازلی صفتوں میں ایسا ہی ہے جو پہلے تھا۔ سو یہ تمام واقعات ایسے ہیں کہ جن سے ہادی اسلام کا صدق نبوت اظہر من الشمس ہے۔ کیونکہ معنے نبوت کے اور علت غائی رسالت اور پیغمبری کی انہیں کی ذات بابرکات میں ثابت اور متحقق ہورہی ہے اور جیسا کہ مصنوعات سے صانع شناخت کیا جاتا ہے ویسا ہی عاقل لوگ اصلاح موجودہ سے اس مصلح ربانی کی شناخت کررہے ہیں اسی طرح ہزارہا ایسے

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 119

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 119

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/119/mode/1up

اور بھی واقعات ہیں کہ جن سے آنحضرت کا موید بتائید الٰہی ہونا ثابت ہوتا ہے مثلاً کیا یہ حیرت انگیز ماجرا نہیں کہ ایک بے زر بے زور بیکس اُمی یتیم تنہا غریب ایسے زمانہ میں کہ جس میں ہر ایک قوم پوری پوری طاقت مالی اور فوجی اور علمی رکھتی تھی ایسی روشن تعلیم لایا کہ اپنی براہین قاطعہ اور حجج واضحہ سے سب کی زبان بند کردی اور بڑے بڑے لوگوں کی جو حکیم بنے پھرتے تھے اور فیلسوف کہلاتے تھے۔ فاش غلطیاں نکالیں اور پھر باوجود بے کسی اور غریبی کے زور بھی ایسا دکھایا کہ بادشاہوں کو تختوں سے گرا دیا اور انہیں تختوں پر غریبوں کو بٹھایا۔ اگر یہ خدا کی تائید نہیں تھی تو اور کیا تھی۔ کیا تمام دنیا پر عقل اور علم اور طاقت اور زور میں غالب آجانا بغیر تائیدالٰہی کے بھی ہوا کرتا ہے۔ خیال کرنا چاہئے کہ جب آنحضرت نے پہلے پہل

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 120

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 120

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/120/mode/1up

مکے کے لوگوں میں منادی کی کہ میں نبی ہوں۔ اس وقت ان کے ہمراہ کون تھا اور کس بادشاہ کا خزانہ ان کے قبضہ میں آگیا تھا کہ جس پر اعتماد کرکے ساری دنیا سے مقابلہ کرنے کی ٹھہر گئی یا کون سی فوج اکٹھی کرلی تھی کہ جس پر بھروسہ کرکے تمام بادشاہوں کے حملوں سے امن ہوگیا تھا۔ ہمارے مخالف بھی جانتے ہیں کہ اس وقت آنحضرت زمین پر اکیلے اور بے کس اور بے سامان تھے صرف ان کے ساتھ خدا تھا جس نے ان کو ایک بڑے مطلب کے لئے پیدا کیا تھا۔ پھر ذرہ اس طرف بھی غور کرنی چاہئیے کہ وہ کس مکتب میں پڑھے تھے اور کس سکول کا پاس حاصل کیا تھا اور کب انہوں نے عیسائیوں اور یہودیوں اور آریہ لوگوں وغیرہ

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 121

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 121

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/121/mode/1up

دنیا کے فرقوں کی مقدس کتابیں مطالعہ کی تھیں۔ پس اگر قرآن شریف کا نازل کرنے والا خدا نہیں ہے تو کیونکر اس میں تمام دنیا کے علوم حقہ الٰہیہ لکھے گئے اور وہ تمام ادلہ کاملہ علم الٰہیات کی کہ جن کے باستیفا اور بصحت لکھنے سے سارے منطقی اور معقولی اور فلسفی عاجز رہے اور ہمیشہ غلطیوں میں ہی ڈوبتے ڈوبتے مر گئے وہ کس فلاسفر بے مثل و مانند نے قرآن شریف میں درج کردیں اور کیونکر وہ اعلیٰ درجہ کی مدلل تقریریں کہ جن کی پاک اور روشن دلائل کو دیکھ کر مغرور حکیم یونان اور ہند کے اگر کچھ شرم ہو تو جیتے ہی مر جائیں ایک غریب اُمّی کے ہونٹوں سے نکلیں اس قدر دلائل صدق کی پہلے نبیوں میں کہاں موجود ہیں۔ آج دنیا میں وہ کون سی کتاب ہے جو ان سب باتوں میں قرآن شریف کا مقابلہ کرسکتی ہے کس نبی پر وہ سب واقعات جو ہم نے بیان کئے مثل آںحضرت کے گزرے ہیں بالخصوص جو وید کے الہام یافتہ رشی قرار دیئے جاتے ہیں ان کا تو خود وجود ہی ثابت نہیں ہوتا قطع نظر اس سے کہ کوئی اثر صدق کا ثابت ہو۔ صاحبو اگر آپ لوگوں کے نزدیک

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 122

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 122

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/122/mode/1up

انصاف بھی کچھ چیز ہے اور عقل بھی کوئی شے قابل لحاظ ہے تو یا تو ایسی دلائل صدق اور راستی کی کہ جن پر قرآن شریف مشتمل ہے جن کو ہم فصلِ اوّل سے لکھنا شروع کریں گے۔ کسی اپنی کتاب سے نکال کر دکھلاﺅ اور یا حیا اور شرم کی صفت کو عمل میں لاکر زبان درازی چھوڑو۔ اور اگر خدا کا کچھ خوف ہے اور نجات کی کچھ خواہش ہے تو ایمان لاﺅ اب یہ مقدمہ ختم ہوگیا اور جس قدر ہم نے مطالب بالائی لکھنے تھے سب لکھ چکے بعد اسکے اصل مطلب کتاب کا شروع ہوگا اور دلائل حقیت قرآن شریف اور صدق نبوت آنحضرت کی بسط اور تفصیل سے بیان کی جائیں گی۔ اور وہ تمام براہین کہ جنکی سچائی کے اعلیٰ مرتبہ پر نظر کرکے دس ہزار روپیہ کا اشتہار کتاب ہذا کے شامل کیا گیا ہے خود فرقان مجید میں سے نکال کر دکھلائی جائیں گی۔ اور یہ طرز دلائل عقلیہ پیش کرنے کی کہ جسکا خاص کلام الٰہی کے بیان پرحصر رکھا گیا ہے یہ ہم میں اور ہمارے مخالفین میں ایک ایسا صاف فیصلہ ہے کہ جو ہریک عقلمند کی آنکھ کھول دینے کو کافی ہے اور ایک ایسی رہنما روشنی ہے کہ جس سے جھوٹوں اور سچوں میں نہایت آسانی سے فرق کھل جائے گا۔ سو اب اے حضراتِ منکرین اسلام اگر آپ لوگوں کو حقیت قرآن شریف میں کچھ کلام ہے یا اسکی افضلیت ماننے میں کچھ تامل ہے تو آپ پر فرض ہوچکا ہے کہ ان دلائل اور براہین کا اپنی اپنی کتابوں میں سے عقلی طورپر جواب دیں ورنہ آپ لوگ جانتے ہیں اور ہر ایک منصف جانتا ہے کہ جس کتاب کی صداقت اور افضلیت صدہا دلائل سے ثابت ہوچکی ہو تو پھر اسکو بغیر توڑنے دلائل اسکی کے اور بغیر پیش کرنے ایسی کتاب کے جو کمالات میں اس سے برابر ہو افترا انسان کا سمجھنا اور توہین کرنا ایک ایسا نامنصفانہ فعل ہے کہ جو صفت حیا اور شرم اور پاک اخلاقی سے بالکل بعید ہے۔ اور اس جگہ ہم اس بات کو بھی کھول کربیان کردیتے ہیں کہ جوصاحب بعد اشاعت اس کتاب کے

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 123

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 123

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/123/mode/1up

راستبازوں کی طرح اس کی دلائل کے توڑنے کی طرف متوجہ نہ ہوں اور یونہی اپنے رسالوں اور اخباروں اور تقریروں اور تحریروں میں عوام کو دھوکا دینے کے لئے اسلام کے چشمہ پاک کا کدورت ناک ہونا بیان کریں یا اپنے گھر میں ہی تعلیم فرقانی کو قابل اعتراض ٹھہراویں تو ایسے صاحب خواہ عیسائی ہوں خواہ ہندو خواہ برہمو سماج والے یا کوئی اور ہوں بہرحال یہ فعل ان کا دیانت اور پاک طینتی کے برخلاف سمجھا جائے گا۔ کیونکہ جس حالت میں ہم دلائل قاطعہ سے حقیت اور صداقت فرقان مجید کی بخوبی ثابت کرچکے اور سارے اعتراض کو تہ اندیشوں اور ناقص عقلوں کے دفعہ اور دور کئے گئے اور اتماماً للحجتہ جواب دینے والوں کو زرکثیر دینے کا وعدہ بھی دیا گیا کہ اگر چاہیں تو اپنے دل کی تسلی کے لئے بہ رجسٹری سرکار تمسک بھی لکھا لیں تو پھر باوجود ہماری ایسی صداقت اور اس درجہ کی صاف باطنی کے اگر اب بھی کوئی شخص یہ سیدھا راستہ بحث اور مناظرہ کا کہ جس میں غالب آنے سے اس قدر مفت روپیہ ملتا ہے اختیار نہ کرے اور اس کتاب کے مقابلہ سے بھاگ کر جاہلوں اور لڑکوں اور عوام کے بہکانے کے لئے جھوٹے الزام اسلام پر لگاتا رہے تو بجز اس کے اور کیا سمجھیں جو اس کی نیت میں ہی فساد اور اس کی طینت میں ہی خلل ہے۔ صاحبوتعصب کو چھوڑو اور حق کو قبول کرو۔ آﺅ کچھ خدا سے ڈرو یہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں اس پر فریفتہ مت ہو۔ یہ چند روزہ زندگی مزرعہ ¿ آخرت ہے۔ اس کو باطل عقیدوں اور جھوٹے خیالوں میں ضائع مت کرو یہ

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 124

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 124

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/124/mode/1up

بڑے کام کی چیز ہے اس کو یونہی ہاتھ سے مت دو۔ یہ مسافر خانہ کسی دن کی بات ہے اس سے دل مت لگاﺅ۔ اور یہ عیش و عشرت دائمی نہیں ہے اس پر مت بھولو۔

عیش دنیائے دوں دمے چند ست

آخرش کار باخداوند ست

ایں سرائے زوال و موت و فناست

ہر کہ بنشست اندریں برخاست

یک دمے رو بسوئے گورستان

واز خموشان آں بہ پرس نشاں

کہ مآل حیاتِ دنیا چیست

ہر کہ پیدا شدست تاکے زیست

ترک کن کین و کبر و ناز و دلال

تانہ کارت کشد بسوئے ضلال

چوں ازیں کار گہ بہ بندی بار

باز نائی دریں بلاد و دیار

اے زدیں بے خبر بخور غم دیں

کہ نجاتت معلق ست بدیں

ہاں تغافل مکن ازیں غم خویش

کہ ترا کار مشکل ست بہ پیش

دل ازیں درد و غم فگار بکن

دل چہ جاں نیز ہم نثار بکن

ہست کارت ہمہ بآں یک ذات

چوں صبوری کنی ازو ہیہات

بخت گردد چو زو بگردی باز

دولت آید ز آمدن بہ نیاز

چوں ببری ز ایں چنیں یارے

چوں بدیں ابلہی کنی کارے

ایں جہان ست مثل مردارے

چوں سگے ہر طرف طلب گارے

خنک آں مرد کو ازیں مردار

روئے آرد بسوئے آں دادار

چشم بندد زغیر و داد دہد

در سر یار سر بباد دہد

ایں ہمہ جوش حرص و آز و ہوا

ہست تا ہست مردِ نابینا

چشم دل اندکے چو گردد باز

سرد گردد بر آدمی ہمہ آز

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 125

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 125

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/125/mode/1up

اے رسن ہائے آز کردہ دراز

زیں ہوس ہا چرا نیائی باز

دولت عمر دمبدم بزوال

تو پریشاں بفکر دولت و مال

خویش و قوم و قبیلہ پر ز دغا

تو بریدہ برائے شاں ز خدا

ایں ہمہ را بکشتنت آہنگ

گہ بصلحت کشند و گاہ بہ جنگ

خاک بر رشتہ کہ پیوندت

بگسلاند ز یار دل بندت

ہست آخر بآں خدا کارت

نہ تو یارِ کسے نہ کس یارت

قدمِ خود بنہ بخوفِ اتم

تاروی از جہاں بصدق قدم

تا خدا ات محب خود سازد

نظر لطف بر تو اندازد

بادہ نوشی زعشق و زاں بادہ

مست باشی و بے خود افتادہ

نیست ایں جائے گہ مقام مدام

ہوش کن تا نہ بد شود انجام

مہر آں زندہ نورت افزاید

مہر ایں مردگان چہ کار آید

لقمہ و معدہ و سر و دستار

سربسر ہست بخشش دادار

حق باری شناس و شرم بدار

پیش زاں کز جہاں بہ بندی بار

رو ازو ازچہ رو بگردانی

سگ وفا مے کند تو انسانی

ترس باید ز قادرے اکبر

ہر کہ عارف ترست ترساں تر

فاسقاں در سیاہ کاری اند

عارفاں در دعا ﺅ زاری اند

اے خنک دیدئہ کہ گریانش

اے ہمایوں دلے کہ بریانش

اے مبارک کسیکہ طالب اوست

فارغ از عمر و زید با رُخِ دوست

ہر کہ گیرد رہِ خدائے یگاں

آں خدایش بس ست در دو جہاں

لاجرم طالب رضائے خدا

بگسلد از ہمہ برائے خدا

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 126

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 126

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/126/mode/1up

شیوہ اش مے شود فدا گشتن

بہرحق ہم زجاں جدا گشتن

در رضائے خدا شدن چوں خاک

نیستی و فنا و استہلاک

دل نہادن در آنچہ مرضی یار

صبر زیر مجارئی اقدار

تو بحق نیز دیگرے خواہی

ایں خیال ست اصل گمراہی

گر دہندت بصیرت و مردی

ازہمہ خلق سوئے حق گردی

درحقیقت بس ست یار یکے

دل یکے جاں یکے نگار یکے

ہر کہ او عاشق یکے باشد

ترکِ جاں پیشش اند کے باشد

کوئے او باشدش زبستاں بہ

روئے او باشدش زریحاں بہ

ہرچہ دلبر بدوکند آں بہ

دیدنِ دلبرش زصدجاں بہ

پا بہ زنجیر پیش دلدارے

بہ ز ہجراں و سیر گلزارے

ہر کہ دارد یکے دلآرامے

جز بوصلش نیابد آرامے

شب بہ بستر تپد ز فرقت یار

ہمہ عالم بخواب و او بیدار

تا نہ بیند صبوری اش ناید

ہر دمش سیل عشق بر باید

در دلِ عاشقاں قرار کجا

توبہ کردن ز روئے یار کجا

حسن جاناں بگوشِ خاطر شاں

گفت رازے کہ گفتنش نتواں

ہم چنیں ست سیرتِ عشاق

صدق ور زاں بایزد خلاق

جاں منور بشمع صدق و یقیں

نور حق تافتہ بہ لوح جبیں

کام یابان و زیں جہاں ناکام

زیرکاں دُور تر پریدہ ز دام

از خود و نفس خود خلاص شدہ

مہبط فیض نورِ خاص شدہ

در خداوند خویش دل بستہ

باطن از غیر یار بگسستہ

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 127

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 127

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/127/mode/1up

پاک از دخل غیر منزلِ دل

یار کردہ بجان و دل منزل

دین و دنیا بکار او کردند

بر درش اوفتادہ چو گردند

ریزہ ریزہ شد آبگینہ ¿ شاں

بوئے دلبر دمد ز سینہ ¿ شاں

نقش ہستی بشست جلوئہ یار

سرزد آخر زِجَیبِ دلِ دلدار

گر برآرند شعلہ ہائے دروں

دود خیزد ز تربت مجنوں

نے ز سرہوش نے زپا خبرے

در سر دلستاں بخاک سرے

ہر کسے را بخود سروکارے

کار دل دادگاں بدلدارے

ہر کسے را بعزتِ خود کار

فکر ایشاں ہمہ بعزتِ یار

تو سرِ خویش تافتہ از دیں

حاصل روزگار تو ہمہ کیں

در عناد و فساد افتادہ

داد و دانش ز دست خود دادہ

سرکشیدہ بناز و کبر و ریا

و از تدین نہادہ بیروں پا

چوں خدا ات نداد نور دروں

عقل و ہوشِ تو جملہ گشت نگوں

کفر گوئی عبادت انگاری

فسق ورزی ثواب پنداری

صد حجابت بچشم خویش فرا

باز گوئی کہ آفتاب کجا

پردہ بردار تا بہ بینی پیش

جانِ ما سوختی بکوری ¿ خویش

تافتی سر ز منعم منان

ایں بود شکر نعمت اے نادان

دل نہادن دریں سراچہ دوں

عاقبت مے کند زدیں بیروں

ترک کوئے حق از وفا دورست

دل بغیرے مدہِ کہ غیورست

دانی و باز سرکشی از وے

ایں چہ برخود ستم کنی ہے ہے

ہرچہ غیرے خدا بخاطر تست

آں بت تست اے بایماں سست

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 128

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 128

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/128/mode/1up

ُپرحذر باش زیں بتان نہاں

دامن دل ز دست شاں برہاں

چیست قدر کسے کہ شرکش کار

چوں زن زانیہ ہزارش یار

صدق مے ورزد صدق پیشہ بگیر

جانب صدق را ہمیشہ بگیر

دیدہ تو بصدق بکشاید

یارِ رفتہ بصدق باز آید

صادق آن ست کو بقلب سلیم

گیرد آں دیں کہ ہست پاک و قویم

دین پاک ست ملت اسلام

از خدائے کہ ہست علمش تام

زیں کہ دیں از برائے آں باشد

کہ ز باطل بحق کشاں باشد

ویں صفت ہست خاصہ ¿ فرقاں

ہر اصولش موثق از برہاں

با براہین روشن و تاباں

مے نماید رہِ خدائے یگاں

من گر امروز سیم داشتمے

آں براہین بزر نگاشتمے

اللہ اللہ چہ پاک دین ست ایں

رحمت رب عالمین ست ایں

آفتاب رہ صواب ست ایں

بخدا بہ ز آفتاب ست ایں

مے برآرد ز جہل و تاریکی

سوئے انوار قرب و نزدیکی

مے نماید بطالبان رہ راست

راستی موجب رضائے خداست

گر ترا ہست بیم آں دادار

بہ پذیر و ز خلق بیم مدار

چوں بود بر تو رحمت آں پاک

دیگر از لعن و طعن خلق چہ باک

لعنت خلق سہل و آسان ست

لعنت آن ست کو ز رحمان ست

بالآخر بعد تحریر تمام مراتب ضروریہ کے اس بات کا واضح کرنا بھی اسی مقدمہ میں قرین مصلحت ہے جو کن کن قسموں کے فوائد پر یہ کتاب مشتمل ہے۔ تا وہ لوگ جو حقانی صداقتوں کے جان لینے پر جان دیتے ہیں اپنے روحانی

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 129

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 129

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/129/mode/1up

محبوب کی خوشخبری پاویں۔ اور تا ان پر جو راستی کے بھوکے اور پیاسے ہیں۔ اپنی دلی مراد کا راستہ ظاہر ہوجاوے۔ سو وہ فوائد چھ(۶) قسم کے ہیں۔ جو بہ تفصیل ذیل ہیں:۔

اول اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ یہ کتاب مہمات دینیہ کے تحریر کرنے میں ناقص البیان نہیں بلکہ وہ تمام صداقتیں کہ جن پر اصول علم دین کے مشتمل ہیں اور وہ تمام حقائق عالیہ کہ جن کی ہیئت اجتماعی کا نام اسلام ہے وہ سب اس میں مکتوب اور مرقوم ہیں۔ اور یہ ایسا فائدہ ہے کہ جس سے پڑھنے والوں کو ضروریات دین پر احاطہ ہوجاوے گا اور کسی مغوی اور بہکانے والے کے پیچ میں نہیں آئیں گے۔ بلکہ دوسروں کو وعظ اور نصیحت اور ہدایت کرنے کے لئے ایک کامل استاد اور ایک عیار رہبر بن جائیں گے۔

دوسرا یہ فائدہ کہ یہ کتاب تین سو محکم اور قوی دلائل حقیت اسلام اور اصول اسلام پر مشتمل ہے کہ جن کے دیکھنے سے صداقت اس دین متین کی ہریک طالب حق پر ظاہر ہوگی بجز اس شخص کے کہ بالکل اندھا اور تعصب کی سخت تاریکی میں مبتلا ہو۔

تیسرا یہ فائدہ کہ جتنے ہمارے مخالف ہیں یہودی۔ عیسائی۔ مجوسی۔ آریہ۔ برہمو۔ بت پرست۔ دہریہ۔ طبعیہ۔ اباحتی۔ لامذہب سب کے شبہات اور وساوس کا اس میں جواب ہے۔ اور جواب بھی ایسا جواب کہ دروغگو کو اس کے گھر تک پہنچایا گیا ہے اور پھر صرف رفع اعتراض پر کفایت نہیں کی گئی بلکہ یہ ثابت کرکے دکھلایا گیاہے کہ جس امر کو مخالف ناقص الفہم نے جائے اعتراض

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 130

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 130

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/130/mode/1up

سمجھا ہے وہ حقیقت میں ایک ایسا امر ہے کہ جس سے تعلیم قرآنی کی دوسری کتابوں پر فضیلت اور ترجیح ثابت ہوتی ہے نہ کہ جائے اعتراض اور پھر وہ فضیلت بھی ایسی دلائل واضح سے ثابت کی گئی ہے کہ جس سے معترض خود معترض الیہ ٹھہر گیا ہے۔

چوتھا یہ فائدہ جو اس میں بمقابلہ اصول اسلام کے مخالفین کے اصول پر بھی کمال تحقیق اور تدقیق سے عقلی طور پر بحث کی گئی ہے اور تمام وہ اصول اور عقائد ان کے جو صداقت سے خارج ہیں بمقابلہ اصول حقہ قرآنی کے ان کی حقیقت باطلہ کو دکھلایا گیا ہے۔ کیونکہ قدر ہریک جوہر بیش قیمت کا مقابلہ سے ہی معلوم ہوتا ہے۔

پانچواں اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ اس کے پڑھنے سے حقائق اور معارف کلامِ ربانی کے معلوم ہوجائیں گے اور حکمت اور معرفت اس کتاب مقدس کی کہ جس کے نور روح افروز سے اسلام کی روشنی ہے سب پر منکشف ہوجائے گی۔ کیونکہ تمام وہ دلائل اور براہین جو اس میں لکھی گئی ہیں اور وہ تمام کامل صداقتیں جو اس میں دکھائی گئی ہیں وہ سب آیات بینات قرآن شریف سے ہی لی گئی ہیں اور ہریک دلیل عقلی وہی پیش کی گئی ہے جو خدا نے اپنی کلام میں آپ پیش کی ہے اور اسی التزام کے باعث سے تقریباً باراں سیپارہ قرآن شریف کے اس کتاب میں اندراج پائے ہیں۔ پس حقیقت میں یہ کتاب قرآن شریف کے دقائق اور حقائق اور اس کے اسرار عالیہ

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 131

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 131

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/131/mode/1up

??? ?? ?? ???? ????? ??? ?? ?? ????? ????? ???? ???? ?? ??? ??? ???? ???? ????? ?? ?? ?? ?? ?????? ?? ???? ???? ???? ?? ???? ????? ???? ?? ?? ??? ? ????? ???? ?? ???? ????? ??? ????? ??????? ?? ???? ????? ???? ?? ????? ?? ?? ?? ???? ?? ????? ?? ????? ????? ??? ????? ?? ?????? ??????? ?? ???? ?? ??? ??? ???? ??? ?? ???? ???? ??? ??????? ??? ????? ?? ???? ??? ??? ?? ??? ?? ??? ???? ????? ?? ?? ?? ???? ???? ??? ????? ??? ??? ??? ?? ??? ????? ????? ????? ?????? ????? ????? ?? ???? ??? ??????? ?? ???? ???? ????? ?? ??? ????? ???? ????? ??? ???? ????? ??? ?????? ?? ??? ????? ???? ?????? ??? ?? ??? ????? ?? ???? ??? ???? ????? ??? ??? ???? ??? ?????? ?? ????? ??? ????? ?????? ???? ?? ??? ??? ???? ???? ??????? ??? ???? ???? ???? ?????? ?? ?? ?? ????? ????? ????? ?? ???? ??? ??? ????? ????? ?? ??? ??? ???? ????? ?? ???? ?? ?? ?? ?? ???? ????? ??? ??? ??? ?? ????? ??? ????? ????? ????? ????? ?? ??? ??????? ??????????? ???? ????? ???? ??? ???? ?????? ???? ?? ????? ???????test

Ruhani Khazain Volume 1. Page: 132

روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۱- براہینِ احمدیہ حصہ دوم: صفحہ 132

http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=1#page/132/mode/1up

 

Theme by Anders Norén