احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

روحانی خزائن جلد 2۔ سرمہ چشمہ آریہ۔ یونی کوڈ

روحانی خزائن جلد 2۔ سرمہ چشمہ آریہ۔ یونی کوڈ

 

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 47
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 47
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/47/mode/1up

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
جَآءَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا۔
اِنَّا اَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِیْنَ سَلَاسِلَ وَّ اَغْلَالًا وَّ سَعِیْرًا۔
بحمد اللہ کہ ایں کحل الجواہر شد از کوہ صواب و صدق ظاہر
متاب ازسرمہ روگر روشنی چشم مے بائد کہ عاقل از دل و جان و دست دار و چشم بینارا

ُسرمہ چشم آریہ
فیہ شفاء للناس

از تالیفات مرزا غلام احمد صاحب مؤلف براہین احمدیہ دربارہ
ردّ اصول ویدؔ و اثبات حقیّت اصول قرآن شریف بوعدۂ انعام پانسو روپیہ
اس ہندو یا آریہ کے لئے جو اس رسالہ کا رد لکھ کر دکھلاوے

ماہ ستمبر ۱۸۸۶ ؁ء بمطابق بماہ ذوالحجہ ۱۳۰۳ ؁ھ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 48
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 48
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/48/mode/1up

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
اشتھار واجب الاظھار
یہ رسالہ کحل الجواہر سرمہ چشم آریہ نہایت صفائی سے چھپ کر ایک 3روپیہ بارہ۱۲؍ آنہ اس کی قیمت عام لوگوں کے لئے قرار پائی ہے اور خواص اور ذی استطاعت لوگ جو کچھ بطور امداد دیں ان کے لئے موجب ثواب ہے کیونکہ سراج منیر اور براہین کے لئے اسی قیمت سے سرمایہ جمع ہو گا اور اس کے بعدرسالہ سراج منیر انشاء اللہ االقدیر چھپے گا پھر اس کے بعد پنجم حصہ کتاب براہین احمدیہ چھپنا شروع ہو گا جو بعض لوگ توقف طبع کتاب براہین سے مضطرب ہو رہے ہیں ان کو معلوم نہیں کہ اس زمانہ توقف میں کیا کیا کارروائیاں بطور تمہید کتاب کے لئے عمل میں آئی ہیں ۴۳ ہزار کے قریب اشتہار تقسیم کیا گیا اور صدہا جگہ ایشیا و یورپ و امریکہ میں خطوط دعوتِ اسلام اردو انگریزی میں چھپوا کر اور رجسٹری کراکر بھیجے گئے جن کا تذکرہ انشاء اللہ پنجم حصہ میں آئے گا ۔ و انما الاعمال بالنیّات۔ باایں ہمہ اگر بعض صاحب اس توقف سے ناراض ہوں تو ہم ان کو فسخ بیع کی اجازت دیتے ہیں وہ ہم کو اپنی خاص تحریر سے اطلاع دیں تو ہم بدیں شرط کہ جس وقت ہم کو ان کی قیمت مرسلہ میسر آوے اس وقت باخذ کتاب واپس کر دیں گے بلکہ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ ایسے صاحبوں کی ایک فہرست طیار کی جائے اور ایک ہی دفعہ سب کا فیصلہ کیا جائے اور یہ بھی ہم اپنے گذشتہ اشتہار میں لکھ چکے ہیں اور اب بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اب یہ سلسلہ تالیف کتاب بوجہ الہامات الٰہیہ دوسرارنگ پکڑ گیا ہے اور اب ہماری طرف سے کوئی ایسی شرط نہیں کہ کتاب تین سو جُز تک ضرور پہنچے بلکہ جس طور سے خدائے تعالیٰ مناسب سمجھے گا کم یا زیادہ بغیر لحاظ پہلی شرائط کے اس کو انجام دے گا کہ یہ سب کام اسی کے ہاتھ میں اور اسی کے امر سے ہے۔ واجب تھا ظاہر کیا گیا۔ و السلام علی من اتبع الھدی۔ المشتھر
خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان
ضلع گورداسپور پنجاب

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 49
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 49
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/49/mode/1up

سرمہ چشم آریہ

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ‏
اے دلبر و دلستا و دلدار
لرزاں زِتجلیّت دل و جا
در ذاتِ تو جُز تحیرّے یست
در غیبی و قدرتت ہویدا
دوری و قریب تر زِجان ہم
آں کیست کہ منتہائے تو یافت
کردی دو جہاں عیاں زِ قُدرت
و اے جانِ جہان و نورِ انوار
حیران زِرخت قلوب و ابصار
ہنگامِ نظر نصیب افکار
پنہانی و کارِ تو نمودار
نوری و نہاں تر از شبِ تار
و آں کو کہ شود محیطِ اسرار
بے مادہ و بے نیازِ انصار

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 50
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 50
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/50/mode/1up

و اؔ یں طرفہ کہ ہیچ کم نہ گردد
با آنکہ عطائے تُست بسیار
حُسنِ تو غنی کند زِہر حُسن
مہر تو بخود کشد زِہر یار
حسنِ نمکینت ار نہ بُودی
از حُسن نہُ بودی، ہیچ آثار
شوخی زِ تو یافت روئے خوبان
رنگ از تو گرفت گُل بہُ گلزار
سیمین ذقنان کہ سیب دارند
آمد ز ہمان بلند اشجار
ایں ہر دو ازان دیار آیند
گیسوئے بُتان و مشکِ تاتار
از بہر نمائش جمالت
بینم ہمہ چیز آئینہ دار
ہر برگ صحیفۂ ہدایت
ہر جوہر و عرض شمع بردار
ہر نفس بتو رہے نماید
ہر جان بدہد صلائے این کار
ہر ذرّہ فشاند از توُ نورے
ہر قطرہ براند از تو انہار
ہر سو زِ عجائب تو شورے
ہر جا زِ غرائب تو اذکار
از یادِ تو نورہا بہ بینم
در حلقۂ عاشقانِ خون بار
آنکس کہ بہ بند عشقت اُفتاد
دیگر نہ شنید پندِ اغیار
اے مونسِ جان چہ دلستانی
کز خود بربودیم بہ یکبار
ازیاد تو ایں دلے بغم غرق
دارد گُہرے نہاں صدف وار
چشم و سرِما فدائے رُویت
جان و دلِ ما بتو گرفتار
عشقِ تو بہ نقد جان خریدیم
تا دم نہ زند دگر خریدار
غیر از تو کہ سرزدے زِ جیبم
در برجِ دلم نماند دَیّار
عمریست کہ ترکِ خویش و پیوند
کردیم و دمے جز از تو دشوار
ہزار ہزار شکر اُس قادرِ مطلق کا جس نے انسان کی رُوح اور ہر یک مخلوق اور ہر ذرّہ کو محض اپنے ارادہ کی طاقت سے پیدا کرکے وہ استعدادیں اور قوتیں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 51
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 51
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/51/mode/1up

اورؔ خاصیتیں اُن میں رکھیں جن پر غور کرنے سے ایک عجیب عالم عظمت اورقُدرتِ الٰہی کا نظر آتا ہے اور جن کے دیکھنے اور سوچنے سے معرفت الٰہی کا کامل دروازہ کھلتا ہے۔ اُسی قادرِ توانا کی مدح اور حمد میں محو رہنا چاہیئے جس کی ایجاد کے بغیر کوئی ایک چیز بھی موجود نہیں ہوئی وہی ایک ذات عجیب الحکمت و عظیم القدرت ہے جس کے فقط حکمی طاقت سے جو کچھ وجود رکھتا ہے پیدا ہوگیا۔ ہر ایک ذرہ اَنْتَ رَبِّی اَنت رَبِّی کی آوازسے زبان کشا ہے۔ ہر ایک جان انت مالکی انت مالکی کی شہادت سے نغمہ سرا ہے۔ وہی حکیمِ مطلق ہے جس نے انسانی روحوں کو ایک ایسا پُر منفعت جسم بخشا کہ جو اِس جہان میں کمالات حاصل کرنے اور اُس جہان میں اُن کا پورا پورا حظ اُٹھانے کے لئے بڑا بھارایار و مددگار ہے۔ روح اور جسم دونوں مل کر اس کے وجود کو ثابت کر رہے ہیں۔ اور ظاہری باطنی دونوں قوتیں اُس کی شہادت دے رہی ہیں۔ وہی محسنِ حقیقی ہے جس نے وفاداری سے ایمان لانے والوں کو ہمیشہ کی رستگاری کی خوشخبری دی اور اپنے صادق عارفوں اور سچے محبوں کے لئے اس جنتِ دائمی کا وعدہ دیا جو بدرجۂ اکمل و اتم مظہر العجائب ہے جس کی نہریں اسی دنیوی حیات میں جوش مارنا شروع کرتی ہیں۔ جس کے درخت اسی جگہ کی آبپاشی سے نشوونما پاتے جاتے ہیں۔ اُسکی قدرت و حکمت ہر جگہ اور ہر چیز میں موجود ہے اور اُس کی حفاظت جو ہر یک چیز کے شامل حال ہے اُسکی عام خالقیت پر گواہ ہے۔ اس کی حکیمانہ طاقتیں بے انتہا ہیں کون ہے جو اُنکی تہ تک پہنچ سکتا ہے۔ اُس کی قادرانہ حکمتیں عمیق در عمیق ہیں۔ کون ہے جو اُن پر احاطہ کرسکتا ہے۔ ہریک چیز کے اندر اُسکے وجود کی گواہی چھپی ہوئی ہے۔ ہر یک مصنوع اُس صانع کامل کی راہ دکھلارہا ہے۔ موجود بوجود حقیقی وہی ایک رب العالمین ہے اور باقی سب اُس سے پیدا اور اُس کے سہارے سے قائم

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 52
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 52
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/52/mode/1up

اورؔ اُس کی قدرتوں کے نقشِ قدم ہیں۔
کس قدر ظاہر ہے نور اُس مبدء الانوار کا
بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا
چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہوگیا
کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا
اُس بہار حُسن کا دل میں ہمارے جوش ہے
مت کرو کچھ ذکر ہم سے تُرک یا تاتار کا
ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف
جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا
چشمۂ خورشید میں موجیں تری مشہود ہیں
ہر ستارے میں تماشا ہے تری چمکار کا
تونے خود روحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑکا نمک
اس سے ہے شورِ محبت عاشقان زار کا
کیا عجب تو نے ہر اک ذرّہ میں رکھے ہیں خواص
کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر اُن اسرار کا
تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں
کس سے کھل سکتا ہے پیچ اس عقدۂ دشوار کا
خوبرویوں میں ملاحت ہے ترے اس حسن کی
ہر گُل و گلشن میں ہے رنگ اُس تری گلزار کا
چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے
ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خم دار کا
آنکھ کے اندھوں کو حائل ہوگئے سو سو حجاب
ورنہ تھا قبلہ ترا رُخ کافر و دیندار کا
ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اِک تیغ تیز
جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غمِ اغیار کا
تیرے ملنے کیلئے ہم مل گئے ہیں خاک میں
تا مگر درماں ہو کچھ اِس ہجر کے آزار کا
ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا
جاں گھٹی جاتی ہے جیسے دل گھٹے بیمار کا
شور کیسا ہے ترے کوچہ میں لے جلدی خبر
خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا
بعد اس کے اور بعد صلوٰۃ و سلام بر نبی کریم خیرالانام محمد مصطفی احمد مجتبیٰ خاتم المرسلین رحمۃ للعالمین اور اُس کی آل و اصحاب مطہرین و مہذبین رضی اللہ تعالےٰ عنہم اجمعین یہ عاجز مؤلف کتاب براہین احمدیہ خدمت میں طالبین حق کے گذارش کرتا ہے کہ مارچ ۱۸۸۶ ؁ء کے مہینے میں جب کہ یہ عاجز بمقام ہوشیار پور مقیم تھا۔ لالہ مُرلیدھر صاحب ڈرائنگ ماسٹر سے جو آریہ سماج ہوشیار پور کے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 53
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 53
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/53/mode/1up

ایکؔ اعلیٰ درجہ کے رُکن اور مدار المہام ہیں مباحثہ مذہبی کا اتفاق ہوا۔ وجہ اس کی یہ ہوئی کہ ماسٹر صاحب موصوف نے خود آکر درخواست کی کہ تعلیمِ اسلام پرمیرے چند سوالات ہیں اور چاہتا ہوں کہ پیش کروں۔ چونکہ یہ عاجز ایک زمانۂ دراز کی تحقیق اور تدقیق کے رُو سے خوب جانتا ہے کہ عقائد حقہ اسلام پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا اور جس کسی بات کو کوئی کوتہ اندیش مخالف اعتراض کی صورت میں دیکھتا ہے وہ در حقیقت ایک بھاری درجہ کی صداقت اور ایک عالی مرتبہ کی حکمت ہوتی ہے جو اس کی نظر بیمار سے چھپی رہتی ہے اسلئے باوجود شدت کم فرصتی میں نے مناسب سمجھا کہ ماسٹر صاحب کو اُن کے اعتراضات کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے مدد دوں اور بطور نمونہ ان کو دکھلاؤں کہ وید اور قرآن شریف میں سے کونسی کتاب اللہ تعالےٰ کی عظمت اور قدرت اور شوکت اور شان کے مطابق ہے اور کس کتاب پر سچے اور واقعی اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔ سو اس غرض سے ماسٹر صاحب کو کہا گیا کہ اگر آپ کو مذہبی بحث کا کچھ شوق ہے تو ہمیں بسروچشم منظور ہے لیکن مناسب ہے کہ دونوں فریق کے اصول کی حقیقت کھولنے کی غرض سے ہر دو فریق کی طرف سے سوالا ت پیش ہوں تا کوئی شخص جو اُن سوالات و جوابات کو پڑھے اس کو دونوں مذہبوں کے جانچنے اور پرکھنے کے لئے موقعہ مل سکے چنانچہ بمنظوری جانبین اسی التزام سے بحث شروع ہوئی۔ اول گیاراں مارچ ۱۸۸۶ ؁ء کی رات میں اس عاجز کے مکان فرودگاہ پر ماسٹر صاحب کی طرف سے ایک تحریری اعتراض شق القمر کے بارہ میں پیش ہوا اور پھر چودھویں مارچ ۱۸۸۶ ؁ء کے دن میں اس عاجز کی طرف سے آریہ صاحبوں کے اس اصول پر اعتراض پیش ہوا کہ پرمیشر نے کوئی رُوح پیدا نہیں کی اور نہ وہ کسی روح کو خواہ کوئی کیسا ہی راست باز اور وفادار اور سچا پرستار ہوہمیشہ کے لئے جنم مرن

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 54
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 54
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/54/mode/1up

کےؔ عذاب سے نجات بخشے گا۔ ان دونوں بحثوں کے وقت یہ بات طے ہوچُکی تھی کہ جواب الجواب کے جواب تک بحث ختم ہو۔ اُس سے پہلے نہ ہو۔ لیکن ہم افسوس سے لکھتے ہیں کہ ماسٹر صاحب نے شرائط قرار یافتہ کو کچھ ملحوظ نہ رکھا۔ پہلے جلسہ میں جو گیاراں مارچؔ ۱۸۸۶ء ؁ کو بوقت شب ہؤا تھا اُن کی طرف سے یہ ناانصافی ہوئی کہ جب جواب الجواب کے جواب کا وقت آیا جس کی تحریر کے لئے وہ آپ ہی فرماچکے تھے تو ماسٹر صاحب نے رات بڑی چلے جانے کا عُذر پیش کیا۔ ہر چند اس عاجز اور اکثر حاضرین نے سمجھایا کہ اے ماسٹر صاحب ابھی رات کچھ ایسی بڑی نہیں گئی ہم سب پر رات کا برابر اثر ہے مگر اقرار کے برخلاف کرنا بھی اچھی بات نہیں جواب ضرور تحریر ہونا چاہئیے لیکن وہ کچھ بھی ملتفت نہ ہوئے آخر بمواجہ تمام حاضرین کہا گیا کہ یہ جواب تحریر ہونے سے رہ نہیں سکتا۔ اگر آپ اس وقت اس کو ٹالنا چاہتے ہیں تو بالضرور اپنے طور پر رسالہ کے ساتھ شامل کیا جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے طوعاً و کرہاً بطور خود لکھا جانا تسلیم کیا پر اسی جلسہ میں وہ تحریر ہو کر پیش ہونا اُن کو بہت ناگوار معلوم ہؤا جس کی وجہ سے وہ بلا توقف اُٹھ کر چلے گئے بات یہ تھی کہ ماسٹر صاحب کو یہ فکر پڑی کہ اگر اسی وقت جواب الجواب کا جواب پیش ہؤا تو خدا جانے مجھے کیا کیا ندامتیں اُٹھانی پڑیں گی غرض یہ جلسہ تو اس طور پر ختم ہوا اور اس کے تمام واقعات جو اِس مضمون میں مندرج ہیں اُن کی شہادت حاضرین جلسہ جن کے نام حاشیہ میں درج ہیں دے سکتے ہیں* اب دوسرا جلسہ جو چودھویں مارچ ۸۶ء ؁
حاضرین جلسہ بحث گیاراں مارچؔ کے نام یہ ہیں۔ میان شتروگن صاحب پسر کلاں راجہ رودرسین صاحب والی ریاست سوکیت حال وارد ہوشیار پور۔ میاں شترنجی صاحب پسر خورد راجہ صاحب موصوف۔ میاں جنمی جی صاحب پسر خورد راجہ صاحب۔ بابو

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 55
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 55
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/55/mode/1up

میںؔ دن کے وقت شیخ مہر علی صاحب رئیس اعظم ہوشیار پور کے مکان پر ہوا اُس کی بھی کیفیت سُنیے۔ اوّل حسب قرارداد اِس عاجز کی طرف سے ایک تحریری اعتراض پیش ہؤا جس کا مطلب یہ تھا کہ خدا ئے تعالےٰ کی خالقیت سے انکار کرنا اور پھر اُسی التزام سے جاودانی نجات سے منکر رہنا جو آریہ سماج والوں کا اُصول ہے اِس سے خدائے تعالےٰ کی توحید و رحمت دونوں دُور ہوتی ہیں۔ جب یہ اعتراض جلسۂ عام میں سُنایا گیا تو ماسٹر صاحب پر ایک عجیب حالت طاری ہوئی جس کی کیفیت کو ماسٹر صاحب ہی کا جی جانتا ہوگا اور نیز وہ سب لوگ جو فہیم اور زیرک حاضر جلسہ تھے معلوم کرگئے ہوں گے۔ ماسٹر صاحب کو اس وقت کچھ بھی سوجھتا نہیں تھا کہ اس کا کیا جواب دیں۔ سو ناچار حیلہ جوئی کی غرض سے گھنٹہ سوا گھنٹہ کے عرصہ تک یہی عذر پیش کرتے رہے کہ یہ سوال ایک نہیں ہے بلکہ دو ہیں تو اس کے جواب میں عرض کردیا گیا کہ حقیقت میں سوال ایک ہی ہے یعنی خدائے تعالےٰ کی خالقیت سے انکار کرنا اور مکتی میعادی اُسی خراب اْصول کا ایک بد اثر ہے جو اُس سے الگ نہیں ہوسکتا۔ اِس جہت سے دونوں ٹکڑے سوال کے حقیقت میں ایک ہی ہیں کیونکہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی خالقیت سے منکر ہوگا اُس کے لئے ممکن نہیں کہ ہمیشہ کی نجات کا اقرار کرسکے سو انکارِ خالقیت
مولرؔ اج صاحب نقل نویس۔ لالہ رام لچھمن صاحب ہیڈ ماسٹر لودھیانہ۔ بابو ہرکشن داس صاحب سیکنڈ ماسٹر ہوشیار پور۔ اِس جگہ مکرر لکھا جاتا ہے کہ میاں شتروگہن صاحب نے کئی بار ماسٹر صاحب کی خدمت میں التجا کی کہ آپ جواب الجواب کا جواب لکھنے دیں ہم لوگ بخوشی بیٹھیں گے۔ ہمیں کسی نوع سے تکلیف نہیں بلکہ ہمیں جواب سُننے کا شوق ہے ایسا ہی کئی ہندو صاحبوں نے یہ منشا ظاہر کیا مگر ماسٹر صاحب نے کچھ ایسی مصلحت سوچی کہ کسی کی بات کو نہ مانا اور اُٹھ کر چلے گئے۔ مؤلف

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 56
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 56
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/56/mode/1up

اورؔ انکارِ نجات جاودانی باہم لازم ملزوم ہے اور ایک دوسرے سے پیدا ہوتا ہے۔ سو درحقیقت جو شخص یہ بات ثابت کرنا چاہے کہ خدائے تعالیٰ کے رب العٰلمین اور خالق نہ ہونے میں کچھ حرج نہیں اُس کو یہ ثابت کرنا بھی لازم آجائیگا کہ خدا ئے تعالیٰ کے کامل بندوں کا ہمیشہ جنم مرن کے عذاب میں مُبتلا رہنا اورکبھی دائمی نجات نہ پانا یہ بھی کچھ مضائقہ کی بات نہیں غرض بعد بہت سے سمجھانے کے پھر ماسٹر صاحب کچھ سمجھے اور جواب لکھنا شروع کیا اور تین گھنٹہ تک بہت سے وقت اور غم و غصہ کے بعد ایک ٹکڑۂ سوال کا جواب قلم بند کرکے سُنایا اور دوسرے ٹکڑہ کی بابت جوُمکتی کے بارہ میں تھا یہ جواب دیا کہ اِس کا جواب ہم اپنے مکان پر جاکر لکھ کر بھیج دیں گے۔ چنانچہ اِس طرف سے ایسا جواب لینے سے انکار ہوا اور عرض کردیا گیا کہ آپ نے جو کچھ لکھنا ہے اسی جلسہ میں حاضرین کے رو برو تحریر کریں اگر گھر میں بیٹھ کر لکھنا تھا تو پھر اس جلسہبحث کی ضرورت ہی کیا تھی مگر ماسٹر صاحب نے نہ مانا اور کیونکر مانتے اُنکی تو اُس وقت حالت ہی اور ہو رہی تھی۔ اب قصہ کوتاہ یہ کہ جب کسی طور سے ماسٹر صاحب نے لکھنا منظور نہ کیا تو ناچار پھر یہ کہا گیا کہ جس قدر آپ نے لکھا ہے وہی ہم کو دیں تا اُس کا ہم جواب الجواب لکھیں تو اِس کے جواب میں اُنہوں نے بیان کیا کہ اب ہماری سماج کا وقت ہے اب ہم بیٹھ نہیں سکتے ناچار جب وہ جانے کے لئے مستعد ہوئے تو اُن کو کہا گیا کہ آپ نے یہ اچھا نہیں کیا کہ جو کچھ باہم عہد ہوچکا تھا اس کو توڑ دیانہ آپ پورا جواب لکھا اور نہ ہمیں اب جواب الجواب لکھنے دیتے ہیں۔ خیر بدرجۂ ناچاری یہ جواب الجواب بھی بطورِ خود تحریر کرکے رسالہ کے ساتھ شامل کیا جائیگا چنانچہ یہ بات سُنتے ہی ماسٹر صاحب معہ اپنے رفیقوں کے اُٹھ کر چلے گئے اور حاضرین جلسہ جن کے نام حاشیہ میں درج ہیں بخوبی معلوم کرگئے کہ ماسٹر صاحب کی یہ تمام کارروائی گریز اور کنارہ کشی کے لئے ایک بہانہ تھی۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 57
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 57
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/57/mode/1up

* اب ہم قبل اس کے کہ ماسٹر صاحب کا پہلا سوال جو شق القمر کے بارہ میں ہے
نام حاضرین جلسہ جو ماسٹر صاحب کی بیجا کارروائی کے گواہ ہیں۔ شیخ مہرؔ علی صاحب رئیسِ اعظم ہوشیار پور۔ مولوی الٰہی ؔ بخش صاحب وکیل ہوشیار پور۔ ڈاکٹر مصطفٰےؔ علی صاحب۔ بابو احمد حسینؔ صاحب ڈپٹی انسپکٹر پولیس ہوشیار پور۔ میاں عبد اللہ صاحب حکیم۔ میاں شہابؔ الدین صاحب دفعدار۔ لالہ نرائن داس صاحب وکیل۔ پنڈت جگنؔ ناتھ صاحب وکیل۔ لالہ رام لچھمنؔ صاحب ہیڈماسٹر لودہیانہ۔ بابو ہرکشنؔ داس صاحب سیکنڈ ماسٹر۔ لالہ گنیش ؔ داس صاحب وکیل۔ لالہ سیتاؔ رام صاحب مہاجن۔ میاں شتروگہن صاحب پسرِ کلاں راجہ صاحب سوکیتؔ ۔ میاں شترنؔ جی صاحب پسر خورد راجہ صاحب موصوف۔ منشی گلابؔ سنگھ صاحب سرشتہ دار۔ مولوی غلام رسول صاحب مدرس۔ مولوی فتحؔ الدین صاحب مدرس۔ ان تمام حاضرین کے رُو برو لالہ مُرلیدھر صاحب ڈرائینگ ماسٹر نے ہر ایک بات میں ناانصافی کی۔ اِس عاجز نے اپنا اعتراض ایک گھنٹہ کے قریب سُنا دیا تھا مگر انہوں نے تین گھنٹہ تک وقت لیا اور پھر بھی اعتراض کا ایک ٹکڑہ چھوڑ گئے اصلی منشا اُنکا یہ معلوم ہوتا تھا کہ کسی طرح دن گذر جائے اور اس بلا سے نجات پائیں مگر دن اُنکا دشمن ابھی تیسرے حصہ کے قریب سر پر کھڑا تھا اور واضح رہے کہ ماسٹر صاحب کا یہ عذر کہ اب ہماری سماج کا وقت آگیا ہے بالکل عبث اور کچا بہانہ تھا۔ اول تو ماسٹر صاحب نے پہلے کوئی ایسی شرط نہیں کی تھی کہ جب سماج کا وقت ہوگا تو بحث کو درمیان چھوڑ کر چلے جائیں گے ماسوائے اس کے یہ تو دین کا کام تھا اور جن لوگوں نے سماج میں حاضر ہونا تھا وہ تو سب موجود تھے بلکہ بہت سے ہندو اورمسلمان اپنا اپنا کام چھوڑ کر اسی غرض سے حاضر تھے اور تمام صحن مکان کا حاضرین سے بھرا ہؤا تھا سو اگر ماسٹر صاحب کی نیّت میں فرق نہ ہوتا تو اسی جلسہ عظیمہ کو جو صدہا آدمیوں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 58
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 58
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/58/mode/1up

تحرؔ یر کریں صفائی بیان کے لئے ایک مقدمہ لکھتے ہیں یہ مقدمہ درحقیقت اُسی مضمون کا
کا ؔ مجمع تھا سماج سمجھا ہوتا علت غائی سماجوں کی لیکچر وغیرہ ہی ہؤا کرتی تھی سو وہ تو اُس جگہ ایسی میسر تھی کہ جو سماج میں کبھی میسر نہیں آئی ہوگی۔ ماسوا اس کے جب ماسٹر صاحب نے بہت سا حصہ وقت کا صرف باتوں میں ہی ضائع کرکے پھر بہت سی سستی اور آہستگی سے جواب لکھنا شروع کیا تو اسی وقت ہم سمجھ گئے تھے کہ آپکی نیت میں خیر نہیں ہے اِسی خیال سے اُنکو کہا گیا کہ بہتر یوں ہے کہ جو جو ورق آپ لکھتے جائیں وہ مجھے دیتے جائیں تا میں اُسکا جواب الجواب بھی لکھتا جاؤں اِس انتظام سے دونوں فریق جلد تر فراغت کرلیں گے مگر اُنکا تو مطلب ہی اور تھا وہ کیونکر ایسے انصاف کی باتوں کو قبول کرتے سو انہوں نے انکار کیا اور لالہ رام لچھمن صاحب اُنکے رفیق نے مجھے کہا کہ مَیں آپکی غرض کو سمجھ گیا۔ لیکن ماسٹر صاحب ایسا کرنا نہیں چاہتے چنانچہ وُہی بات ہوئی اور اخیر پر ناتمام کام چھوڑ کر سماج کا عذر پیش ہوگیا اگر کوئی دُنیا کا مقدمہ یا کام ہوتا تو ماسٹر صاحب ہزار دفعہ سماج کے وقت کو چھوڑ دیتے پر سچ تو یہ ہے کہ سماج کا عذر تو ایک بہانہ ہی تھا اصل موجب تو وہ گھبراہٹ تھی جو اعتراض کی عظمت اور بزرگی کی و جہ سے ماسٹر صاحب کے دل پر ایک عجیب کام کر رہی تھی۔ اسی باعث سے پہلے ماسٹر صاحب نے باتوں میں وقت کھویا اور اعتراض کو سُنتے ہوئے ایسے گھبرائے اور کچھ ایسے مبہوت سے ہو گئے کہ چہرہ پر پریشانی کے آثار ظاہر تھے اور ناکارہ عذرات پیش کرکے یہ چاہا کہ بغیر تحریر جواب اُٹھ کر چلے جائیں اسی وجہ سے لوگ تحریر جواب سے نااُمید ہوکر متفرق ہوگئے اور بعض یہ کہتے ہوئے اُٹھ گئے کہ اب کیا بیٹھیں اب تو بحث ختم ہوگئی آخر ماسٹر صاحب نے طوعاً و کرہاً حاضرین کی شرم سے کچھ لکھا جس کا آدھا دھڑ تو ماسٹر صاحب کے کاغذ پر اور آدھا اُن کے دل میں ہی رہا بہرحال وہ اپنے جواب کو اِسی جان کندن میں چھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے۔ ماسٹر صاحب کو اُٹھتے وقت میں نے یہ بھی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 59
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 59
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/59/mode/1up

ایکؔ حصہ ہے جس کو ہم نے جلسہ بحث گیارہویں مارچ ۱۸۸۶ء میں ماسٹر صاحب کے جواب الجواب کے ردّ میں لکھنا چاہا تھا مگر بوجہ عہد شکنی ماسٹر صاحب اور چلے جانے ان کے اور برخاست ہوجانے جلسہ بحث کے لکھ نہ سکے ناچار حسبِ وعدہ اب لکھنا پڑا۔ سو کچھ اس میں سے اس جگہ اور کچھ جیسا کہ مناسب محل و ترتیب ہوگا بعد میں لکھیں گے۔ وما توفیقی اِلّاباللّٰہ ھونعم المولٰی ونعم النصیر۔
مُقدّمہ
ماسٹر صاحب نے اسلامؔ کے عقیدہ پر شق القمر کا اعتراض پیش کیا ہے اور اس اعتراض سے ان کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ آج کل کے نو تعلیم یافتہ لوگ انگریزی فلسفہ کے پھیلنے کی وجہ سے ان سب عجائبات سماوی و ارضی کو قانونِ قدرت کے برخلاف سمجھتے ہیں جن پر ان کی عقل محیط نہیں ہوسکتی اور جن کو انہوں نے نہ بچشم خود دیکھا اور نہ اپنے فلسفہ کی کتابوں میں اس کا اثر یا نشان پایا اس لئے ماسٹر صاحب نے یہ اعتراض پیش کردیا تا فلسفی طبع لوگ جن کے دل ودماغ پر خیالات فلسفہ غالب آرہے ہیں۔ خواہ نخواہ شق القمر کے محال ہونے میں ان کے ساتھ ہاں کے ساتھ ملائیں اور گو ان کی بات کیسی ہی ادھوری اور بودی ہو مگر پنچایت کے اتفاق سے کچھ آب ورنگ لے آوے۔ سو
کہاؔ کہ اگر آپ اس وقت کسی نوع سے ٹھہرنا مصلحت نہیں سمجھتے تو میں دوروز اور اس جگہ ہوں اور اپنا دن رات اسی خدمت میں صرف کرسکتا ہوں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ فرصت نہیں۔ اخیر پر ہم یہ بھی ظاہر کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ ماسٹر صاحب جو کچھ گھر پر جاکر لکھیں گے ہمیں کچھ اطلاع نہیں اس لئے ہم اس کی نسبت کچھ تحریر کرنے سے معذور ہیں منہ۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 60
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 60
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/60/mode/1up

اوّلؔ ہم یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ شق القمر کا معجزہ اہل اسلام کی نظر میں ایسا امر نہیں ہے کہ جو مدار ثبوت اسلام اور دلیل اعظم حقانیت کلام اللہ کا ٹھہرایا گیا ہو بلکہ ہزارہا شواہد اندرونی و بیرونی وصدہا معجزات و نشانوں میں سے یہ بھی ایک قدرتی نشان ہے جو تاریخی طور پر کافی ثبوت اپنے ساتھ رکھتا ہے جس کا ذکر آئندہ عنقریب آئے گا۔ سو اگر تمام کھلے کھلے ثبوتوں سے چشم پوشی کرکے فرض بھی کرلیں کہ یہ معجزہ ثابت نہیں ہے اور آیت کے اس طور پر معنے قرار دیں جس طور پر حال کے عیسائی و نیچری یا دوسرے منکرین خوارق کرتے ہیں تو اس صورت میں بھی اگر کچھ حرج ہے تو شاید ایسا ہے کہ جیسے بیس کروڑ روپیہ کی جائداد میں سے ایک پیسے کا نقصان ہوجائے۔ پس اس تقریر سے ظاہر ہے کہ اگر بفرض محال اہلِ اِسلام تاریخی طور پر اس معجزہ کو ثابت نہ کرسکیں تو اس عدم ثبوت کا اسلام پر کوئی بداثر نہیں پہنچ سکتا۔* سچ تو یہ ہے کہ کلام الٰہی نے مسلمانوں کو دوسرے معجزات سے بکلّی بے نیاز کردیا ہے وہ نہ صرف اعجاز بلکہ اپنی برکات و تنویرات کے رو سے اعجاز آفرینؔ بھی ہے۔ فی الحقیقت قرآن شریف اپنی ذات میں ایسی صفات کمالیہ رکھتا ہے جو اس کو خارجیہ معجزات کی کچھ بھی حاجت نہیں۔ خارجیہ معجزات کے ہونے سے اس میں کچھ زیادتی نہیں ہوتی اور نہ ہونے سے کوئی نقص عائد حال نہیں ہوتا۔ اس کا بازار حسن معجزات خارجیہ کے زیور سے رونق پذیر نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں آپ ہی ہزارہا معجزات عجیبہ و غریبہ کا جامع ہے جن کو ہریک زمانہ کے لوگ دیکھ سکتے ہیں نہ یہ کہ صرف گزشتہ کا حوالہ دیا جائے۔ وہ ایسا ملیح الحسن محبوب ہے کہ ہریک چیز اس سے مل کر آرائش پکڑتی ہے اور وہ اپنی آرائش میں کسی کی آمیزش کا محتاج نہیں۔
معجزات اور خوارق قرآنی چار قسم پر ہیں۔ (۱) معجزات عقلیہ (۲) معجزات علمیہ (۳) معجزات برکات روحانیہ (۴) معجزات تصرفات خارجیہ۔ نمبر اول دو و تین کے معجزات خواص ذاتیہ قرآن شریف میں سے ہیں اور نہایت عالی شان اور بدیہی الثبوت ہیں جن کو ہریک زمانہ میں ہریک شخص تازہ بتازہ طور پر چشم دید ماجرا کی طرح دریافت کرسکتا ہے لیکن نمبر چار کے معجزات یعنے تصرفات خارجیہ یہ بیرونی خوارق ہیں جن کو قرآن شریف سے کچھ ذاتی تعلق نہیں انہیں میں سے معجزہ شق القمر بھی ہے۔ اصل خوبی اور حسن و جمال قرآن شریف کا پہلے تینوں قسم کے معجزات سے وابستہ ہے بلکہ ہر ایک کلام الٰہی کا یہی نشان اعظم ہے کہ یہ تینوں قسم کے معجزات کسی قدر اس میں پائے جائیں اور قرآن شریف میں تو یہ ہر سہ قسم کے اعجاز اعلیٰ و اکمل و اتم طور پر پائے جاتے ہیں اور انہیں کو قرآنِ شریف اپنی بے مثل و مانند ہونے کے اثبات میں بار بار پیش کرتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔ قُلْ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 61
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 61
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/61/mode/1up

اوّلؔ ہم یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ شق القمر کا معجزہ اہل اسلام کی نظر میں ایسا امر نہیں ہے کہ جو مدار ثبوت اسلام اور دلیل اعظم حقانیت کلام اللہ کا ٹھہرایا گیا ہو بلکہ ہزارہا شواہد اندرونی و بیرونی وصدہا معجزات و نشانوں میں سے یہ بھی ایک قدرتی نشان ہے جو تاریخی طور پر کافی ثبوت اپنے ساتھ رکھتا ہے جس کا ذکر آئندہ عنقریب آئے گا۔ سو اگر تمام کھلے کھلے ثبوتوں سے چشم پوشی کرکے فرض بھی کرلیں کہ یہ معجزہ ثابت نہیں ہے اور آیت کے اس طور پر معنے قرار دیں جس طور پر حال کے عیسائی و نیچری یا دوسرے منکرین خوارق کرتے ہیں تو اس صورت میں بھی اگر کچھ حرج ہے تو شاید ایسا ہے کہ جیسے بیس کروڑ روپیہ کی جائداد میں سے ایک پیسے کا نقصان ہوجائے۔ پس اس تقریر سے ظاہر ہے کہ اگر بفرض محال اہلِ اِسلام تاریخی طور پر اس معجزہ کو ثابت نہ کرسکیں تو اس عدم ثبوت کا اسلام پر کوئی بداثر نہیں پہنچ سکتا۔* سچ تو یہ ہے کہ کلام الٰہی نے مسلمانوں کو دوسرے معجزات سے بکلّی بے نیاز کردیا ہے وہ نہ صرف اعجاز بلکہ اپنی برکات و تنویرات کے رو سے اعجاز آفرینؔ بھی ہے۔ فی الحقیقت قرآن شریف اپنی ذات میں ایسی صفات کمالیہ رکھتا ہے جو اس کو خارجیہ معجزات کی کچھ بھی حاجت نہیں۔ خارجیہ معجزات کے ہونے سے اس میں کچھ زیادتی نہیں ہوتی اور نہ ہونے سے کوئی نقص عائد حال نہیں ہوتا۔ اس کا بازار حسن معجزات خارجیہ کے زیور سے رونق پذیر نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں آپ ہی ہزارہا معجزات عجیبہ و غریبہ کا جامع ہے جن کو ہریک زمانہ کے لوگ دیکھ سکتے ہیں نہ یہ کہ صرف گزشتہ کا حوالہ دیا جائے۔ وہ ایسا ملیح الحسن محبوب ہے کہ ہریک چیز اس سے مل کر آرائش پکڑتی ہے اور وہ اپنی آرائش میں کسی کی آمیزش کا محتاج نہیں۔
ہمہ خوبان عالم را بزیورہا بیا رایند
تو سیمیں تن چناں خوبی کہ زیورہا بیا رائی
پھر ماسوا اس کے سمجھنا چاہئے کہ جو لوگ شق القمر کے معجزہ پر حملہ کرتے ہیں ان کے پاس صرف یہی ایک ہتھیار ہے اور وہ بھی ٹوٹا پھوٹا کہ شقؔ القمر قوانین قدرتیہ کے برخلاف ہے اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اول ہم ان کے قانونِ قدرت کی کچھ تفتیش کرکے پھر وہ ثبوت تاریخی پیش کریں جو اس واقعہ کی صحت پر
لَّٮِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا‏
۱؂ یعنی ان منکرین کو کہہ دے کہ اگر تمام جن وانس یعنے تمام مخلوقات اس بات پر متفق ہوجائے کہ اس قرآن کی کوئی مثل بنانی چاہیئے تو وہ ہرگز اس بات پر قادر نہیں ہوں گے کہ ایسی ہی کتاب انہیں ظاہری و باطنی خوبیوں کی جامع بناسکیں اگرچہ وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں اور پھر دوسرے مقام میں فرماتا ہے۔
مَا فَرَّطْنَا فِىْ الْـكِتٰبِ مِنْ شَىْءٍ‌
یعنے اس کتاب (قرآن شریف) سے کوئی دینی حقیقت باہر نہیں رہی بلکہ یہ جمیع حقائق و معارف دینیہ پر مشتمل ہے۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔
وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْـكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّـكُلِّ شَىْءٍ
یعنی ہم نے یہ کتاب (قرآن شریف) تمام علوم ضروریہ پر مشتمل نازل فرمائی ہے۔ اور پھر فرماتا ہے
يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةًۙ فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌؕ‏
یعنی یہ قرآن شریف وہ پاک اوراق ہیں جن میں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 62
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 62
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/62/mode/1up

دلالتؔ کرتے ہیں سو جاننا چاہئے کہ نیچر کے ماننے والے یعنی قانون قدرت کے پیرو کہلانے والے اس خیال پر زور دیتے ہیں کہ یہ بات بدیہی ہے کہ جہاں تک انسان اپنی عقلی قوتوں سے جان سکتا ہے وہ بجز قدرت اور قانون قدرت کے کچھ نہیں یعنی مصنوعات و موجودات مشہودہ موجودہ پر نظر کرنے سے چاروں طرف یہی نظر آتا ہے کہ ہریک چیز مادی یا غیر مادی جو ہم میں اور ہمارے اردگرد یا فوق وتحت میں موجود ہے وہ اپنے وجود اور قیام اور ترتب آثار میں ایک عجیب سلسلہ انتظام سے وابستہ ہے جو ہمیشہ اس کی ذات میں پایا جاتا ہے اور کبھی اس سے جدا نہیں ہوتا۔ قدرت نے جس طرح پر جس کا ہونا بنادیا بغیر خطاکے اسی طرح ہوتا ہے اور اُسی طرح پر ہوگا پس وہی سچ ہے اور اصول بھی وہی سچے ہیں جو اس کے مطابق ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ بلاشبہ یہ سب سچ مگر کیا اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ قدرت الٰہی کے طریقے اور اس کے قانون اسی حد تک ہیں جو ہمارے تجربہ اور مشاہدہ میں آچکے ہیں اس سے زیادہ نہیں۔ جس حالت میں الٰہی قدرتوں کو غیر محدود ماننا ایک ایسا ضروری مسئلہ ہے جو اسی سے نظامِ کارخانۂ
تمامؔ آسمانی کتابوں کا مغز اور لب لباب بھرا ہوا ہے اور پھر فرماتا ہے۔
وَاِنْ کُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِه فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوْا النَّارَ الَّتِىْ وَقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ
۱؂ یعنے اے منکرین اگر تم اس کلام کے بارہ میں جو ہم نے اپنے بندہ پر نازل کیا ہے کچھ شک میں ہو یعنے اگر تم اس کو خدا کا کلام نہیں سمجھتے اور ایسا کلام بنانا انسانی طاقت کے اندر خیال کرتے ہو تو تم بھی ایک سورت جو انہیں ظاہری باطنی کمالات پر مشتمل ہو بناکر پیش کرو۔ اور اگر تم نہ بناسکو اور یاد رکھو کہ ہرگز بنا نہیں سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن پتھر ( ُ بت) اور آدمی ہیں یعنی ُ بت اور مشرک اور نا،فرمان لوگ ہی اس آگ کے بھڑکنے کا موجب ہورہے ہیں اگر دنیا میں ُ بت پرستی و شرک و بے ایمانی و نافرمانی نہ ہوتی تو وہ آگ بھی افروختہ نہ ہوتی تو گویا اس کا ایندھن یہی چیزیں ہیں جو علت موجبہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 63
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 63
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/63/mode/1up

الوؔ ہیت وابستہ اور اسی سے ترقیات علمیہ کا ہمیشہ کے لئے دروازہ کھلا ہوا ہے تو پھر کس قدر غلطی کی بات ہے کہ ہم یہ ناکارہ حجت پیش کریں کہ جو امر ہماری سمجھ اور مشاہدہ سے باہر ہے وہ قانون قدرت سے بھی باہر ہے بلکہ جس حالت میں ہم اپنے مونہہ سے اقرار کرچکے کہ قوانین قدرتیہ غیر متناہی اور غیر محدود ہیں تو پھر ہمارا یہ اصول ہونا چاہئے کہ ہریک نئی بات جو ظہور میں آوے پہلے ہی اپنی عقل سے بالاتر دیکھ کر اس کو رد نہ کریں بلکہ خوب متوجہ ہوکر اس کے ثبوت یا عدم ثبوت کا حال جانچ لیں اگر وہ ثابت ہو تو اپنے قانون قدرت کی فہرست میں اس کو بھی داخل کرلیں اور اگر وہ ثابت نہ ہو تو صرف اتنا کہہ دیں کہ ثابت نہیں مگر اس بات کے کہنے کے ہم ہرگز مجاز نہیں ہوں گے کہ وہ امر قانون قدرت سے باہر ہے بلکہ قانون قدرت سے باہر کسی چیز کو سمجھنے کے لئے ہمارے لئے ُ پرضرور ہے کہ ہم ایک دائرہ کی طرح خدائے تعالیٰ کے تمام قوانین ازلی و ابدی پر محیط ہوجائیں اور بخوبی ہمارا فکر اس بات پر احاطۂ تام کرلے کہ خدائے تعالیٰ نے روز اول سے آج تک کیا کیا قدرتیں ظاہر کیں اور آئندہ اپنے ابدی زمانہ
اُسؔ کے افروختہ ہونے کی ہیں اور پھر ایک جگہ فرمایا ہے
لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ‌ؕ وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ‏
یعنے یہ قرآن جو تم پر اتارا گیا اگر کسی پہاڑ پر اتارا جاتا تو وہ خشوع اور خوف الٰہی سے ٹکڑہ ٹکڑہ ہوجاتا اور یہ مثالیں ہم اس لئے بیان کرتے ہیں کہ تا لوگ کلام الٰہی کی عظمت معلوم کرنے کے لئے غور اور فکر کریں۔ یہ تو قرآن شریف میں ان اعجازی کمالات کا ذکر ہے جو خود اس کے نفس نفیس میں پائے جاتے ہیں لیکن بایں ہمہ تصرفات خارجیہ کے اعجاز بھی قرآن شریف میں بکثرت درج ہیں اور اس قسم کے معجزات جمال قرآنی کے لئے بطور اس زیور کے ہیں جو خوبوں کو پہنایا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ نفس خوبصورتی زیور کے محتاج نہیں گو اس سے حسن کی آب و تاب کسی قدر اور بڑھ جاتی ہے۔ اس جگہ واضح رہے کہ تصرفات خارجیہ کے معجزات قرآن شریف میں کئی نوع پر

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 64
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 64
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/64/mode/1up

میںؔ کیا کیا قدرتیں ظاہر کرے گا۔ کیا وہ جدید درجدید قدرتوں کے ظاہر کرنے پر قادر ہوگا یا کوہلو کے بیل کی طرح انہیں چند قدرتوں میں مقیّد اور محصور رہے گا جن کو ہم دیکھ چکے ہیں اور جن پر ہمارا بخوبی احاطہ ہے اور اگر انہیں میں مقیّد اور محصور رہے گا تو باوجود اس کے غیر محدود الوہیت اور قدرت اور طاقت کے یہ مقید اور محصور رہنا کس وجہ سے ہوگا کیا وہ آپ ہی وسیع قدرتوں کے دکھلانے سے عاجز آئے گا یا کسی دوسرے قاسر نے اس پر جبر کیا ہوگا یا اس کی خدائی کو انہیں چند قسم کی قدرتوں سے قوت پہنچتی ہے اور دوسری قدرتوں کے ظاہر کرنے سے اس پر زوال آتا ہے بہرحال اگر ہم خدائے تعالیٰ کی قدرتوں کو غیرمحدود مانتے ہیں تو یہ جنون اور دیوانگی ہے کہ اس کی قدرتوں پر احاطہ کرنے کی امید رکھیں کیونکہ اگر وہ ہمارے مشاہدہ کے پیمانہ میں محدود ہوسکیں تو پھر غیر محدود اور غیر متناہی کیونکر رہیں اور اس صورت میں نہ صرف یہ نقص پیش آتا ہے کہ ہمارا فانی اور ناقص تجربہ خدائے ازلی و ابدی کی تمام قدرتوں کا حد بست کرنے والا ہوگا بلکہ ایک بڑا بھاری نقص یہ بھی ہے کہ اس کی
مندرج ؔ ہیں۔ ایک نوع تو یہی کہ جو دعائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خدائے تعالیٰ نے آسمان پر اپنا قادرانہ تصرف دکھلایا اور چاند کو د۲و ٹکڑے کردیا۔ دوسرے وہ تصرف جو خدائے تعالیٰ نے جناب ممدوح کی دعا سے زمین پر کیا اور ایک سخت قحط سات برس تک ڈالا۔ یہاں تک کہ لوگوں نے ہڈیوں کو پیس کر کھایا۔ تیسرے وہ تصرف اعجازی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شرِ کفار سے محفوظ رکھنے کے لئے بروز ہجرت کیا گیا یعنے کفار مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ جل شانہٗ نے اپنے اس پاک نبی کو اس بدارادہ کی خبر دے دی اور مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرجانے کا حکم فرمایا اور پھر بفتح و نصرت واپس آنے کی بشارت دی بدھ کا روز اور دوپہر کا وقت اور سختی گرمی کے دن تھے جب یہ ابتلا منجانب اللہ ظاہر ہوا اس مصیبت کی حالت میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ناگہانی طور پر اپنے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 65
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 65
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/65/mode/1up

قدرتوؔ ں کے محدود ہونے سے وہ خود بھی محدود ہوجائے گا اور پھر یہ کہنا پڑے گا کہ جو کچھ خدائے تعالیٰ کی حقیقت اورُ کنہ ہے ہم نے سب معلوم کرلی ہے اور اس کے گہراؤ اور تہ تک ہم پہنچ گئے ہیں اور اس کلمہ میں جس قدر کفر اور بے ادبی اور بے ایمانی بھری ہوئی ہے وہ ظاہر ہے حاجت بیان نہیں سو ایک محدود زمانہ کے محدود در محدود تجارب کو پورا پورا قانونِ قدرت خیال کرلینا اور اس پر غیر متناہی سلسلۂ قدرت کو ختم کردینا اور آئندہ کے نئے اسرار کھلنے سے ناامید ہوجانا ان پست نظروں کا نتیجہ ہے جنہوں نے خدائے ذوالجلال کو جیسا کہ چاہئے شناخت نہیں کیا اور جو اپنی فطرت میں نہایت منقبض واقعہ ہوئے ہیں یہاں تک کہ ایک کنوئیں کی مینڈک ہوکر یہ خیال کررہے ہیں کہ گویا ایک سمندر ناپیدا کنار
قدیمیؔ شہر کو چھوڑنے لگے اور مخالفین نے مار ڈالنے کی نیت سے چاروں طرف سے اس مبارک گھر کو گھیرلیا تب ایک جانی عزیز جس کا وجود محبت اور ایمان سے خمیر کیا گیا تھا۔ جانبازی کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر باشارہ نبوی اس غرض سے مونہہ چھپا کر لیٹ رہا کہ تا مخالفوں کے جاسوس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکل جانے کی کچھ تفتیش نہ کریں اور اسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر قتل کرنے کے لئے ٹھہرے رہیں۔
کس بہر کسے سرندہدجان نفشاند
عشق است کہ ایں کار بصد صدق کناند
سو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس وفادار اور جان نثار عزیز کو اپنی جگہ چھوڑ کر چلے گئے تو آخر تفتیش کے بعد ان نالائق بدباطن لوگوں نے تعاقب کیا اور چاہا کہ راہ میں کسی جگہ پاکر قتل کرڈالیں اس وقت اور اس مصیبت کے سفر میں بجز ایک بااخلاص اور یکرنگ اور دلی دوست کے اور کوئی انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نہ تھا۔ ہاں ہروقت اور نیز اس پرخطر سفر میں وہ مولیٰ کریم ساتھ تھا جس نے اپنے اس کامل وفادار بندہ کو ایک عظیم الشان اصلاح کے لئے دنیا میں بھیجا تھا سو اس نے اپنے اس پیارے بندہ کو محفوظ رکھنے کے لئے بڑے بڑے عجائب تصرفات اس راہ میں دکھلائے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 66
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 66
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/66/mode/1up

پر انؔ کو عبور ہوگیا ہے’’ تمام خوشیاں عارفوں کی اور تمام راحتیں غمزدوں کی اسی میں ہیں کہ خدائے تعالیٰ کی قدرتوں کا کنارہ لا یدرک ہے میں یہ نہیں کہتا کہ بے تحقیق اور بے ثبوت عقلی یا آزمائشی یا تاریخی کسی نئی بات کو مان لو کیونکہ اس عادت سے بہت سے رطب ویابس کا ذخیرہ اکٹھا ہوجائے گا بلکہ میں
جو اؔ جمالی طور پر قرآن شریف میں درج ہیں منجملہ ان کے ایک یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جاتے وقت کسی مخالف نے نہیں دیکھا حالانکہ صبح کا وقت تھا اور تمام مخالفین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کررہے تھے سو خدائے تعالیٰ نے جیسا کہ سورۂیٰسین میں اس کا ذکر کیا ہے ان سب اشقیا کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور آنحضرت ان کے سروں پر خاک ڈال کر چلے گئے۔ ازاں جملہ ایک یہ کہ اللہ جل شانہٗ نے اپنے نبی معصوم کے محفوظ رکھنے کے لئے یہ امر خارق عادت دکھلایا کہ باوجود یکہ مخالفین اس غار تک پہنچ گئے تھے۔ جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معہ اپنے رفیق کے مخفی تھے مگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ سکے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے ایک کبوتر کا جوڑا بھیج دیا جس نے اسی رات غار کے دروازہ پر آشیانہ بنادیا اور انڈے بھی دے دیئے اور اسی طرح اذن الٰہی سے عنکبوت نے اس غار پر اپنا گھر بنا دیا جس سے مخالف لوگ دھوکا میں پڑکر ناکام واپس چلے گئے۔ ازانجملہ ایک یہ کہ ایک مخالف جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پکڑنے کے لئے مدینہ کی راہ پر گھوڑا دوڑائے چلا جاتا تھا جب وہ اتفاقاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچا تو جناب ممدوح کی بددعا سے اس کے گھوڑے کے چاروں ُ سم زمین میں دھنس گئے اور وہ گر پڑا اور پھر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ مانگ کر اور عفو تقصیر کرا کر واپس لوٹ آیا ۔چوتھی وہ تصرف اعجازی کہ جب دشمنوں نے اپنی ناکامی سے منفعل ہوکر لشکر کثیر کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھائی کی تا مسلمانوں کو جو ابھی تھوڑے سے آدمی تھے نابود کردیں اور دینِ اسلام کا نام و نشان مٹا دیں تب اللہ جل شانہٗ نے جناب موصوف کے ایک مٹھی کنکریوں کے چلانے سے مقام بدر میں دشمنوں میں ایک تہلکہ ڈال دیا اور ان کے لشکر کو شکست فاش ہوئی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 67
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 67
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/67/mode/1up

یہ ؔ کہتا ہوں کہ خدائے ذوالجلال کی تعظیم کرکے اس کے نئے کاموں کی نسبت (جو تمہاری محدود نظروں میں نئے دکھائی دیتے ہیں) بے جا ضد بھی مت کرو کیونکہ جیسا کہ میں بیان کرچکا ہوں خدائے تعالیٰ کی عجائب قدرتوں اور دقائق حکمتوں اور پیچ در پیچ اسراروں کے ابھی تک انسان نے بکلی حد بست نہیں کی
اور ؔ خدائے تعالیٰ نے ان چند کنکریوں سے مخالفین کے بڑے بڑے سرداروں کو سراسیمہ اور اندھا اور پریشان کرکے وہیں رکھا اور ان کی لاشیں انہیں مقامات میں گرائیں جن کے پہلے ہی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ الگ نشان بتلا رکھے تھے۔ ایسا ہی اور کئی عجیب طور کے تائیدات و تصرفات الٰہیہ کا (جو خارق عادت ہیں) قرآن شریف میں ذکر ہے جن کا ماحصل یہ ہے کہ کیونکر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مسکینی اور غریبی اور یتیمی اور تنہائی اور بے کسی کی حالت میں مبعوث کرکے پھر ایک نہایت قلیل عرصہ میں جو تیس برس سے بھی کم تھا ایک عالم پر فتح یاب کیا اور شہنشاہِ قسطنطنیہ و بادشاہان دیار شامؔ و مصرؔ و ممالک مابین دجلہؔ و فراتؔ وغیرہ پر غلبہ بخشا اور اس تھوڑے ہی عرصہ میں فتوحات کو جزیرہ نما عرب ؔ سے لے کر دریائے جیحونؔ تک پھیلایا اور ان ممالک کے اسلامؔ قبول کرنے کی بطور پیشگوئی قرآن شریف میں خبردی اس حالتِ بے سامانی اور پھر ایسی عجیب و غریب فتحوں پر نظر ڈال کر بڑے بڑے دانشمند اور فاضل انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے کہ جس جلدی سے اسلامی سلطنت اور اسلام دنیا میں پھیلا ہے اس کی نظیر صفحۂ تواریخ دنیا میں کسی جگہ نہیں پائی جاتی اور ظاہر ہے کہ جس امر کی کوئی نظیر نہ پائی جائے اسی کو دوسرے لفظوں میں خارق عادت بھی کہتے ہیں۔ غرض قرآنؔ شریف میں تصرفات خارجیہ کا ذکر بھی بطور خارق عادت بہت جگہ آیا ہے بلکہ ذرا نظر کھول کر دیکھو تو اس پاک کلام کا ہریک مقام تائیدات الٰہیہ کا نقارہ بجارہا ہے اور ایک تصویر کھینچ کر دکھلا رہا ہے کہ کیونکر اسلامؔ اپنی اول حالت میں ایک خورد تر بیج کی طرح دنیا میں بویا گیا اور پھر وہ تھوڑے ہی عرصہ میں جو خارق عادت ہے کیسا بزرگ و عظیم القدر

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 68
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 68
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/68/mode/1up

اور نہ آگے کو اس کی لیاقت و طاقت ایسی نظر آتی ہے کہ اس مالک الملک کے وراء الوراء بھیدوں کے ایک چھوٹے سے رقبۂ زمین کی طرح پیمائش کرسکے یا کسی ایک چیز کے جمیع خواص پر احاطہ کرنے کا دم مارسکے مجھے ان صاف باطن لوگوں کے آگے منطقی دلائل کی حاجت نہیں جو اپنے اس پیارے
ہوؔ کر اکثر حصہ دنیا میں پھیل گیا اور ہریک موقعہ پر کیا کیا عجیب تائیدات الٰہیہ اس کی حمایت میں ظہور میں آتی رہیں۔ اب ہم بیرونی معجزات کا بیان (جو اعجازی تصرفات ہیں) اسی قدر کافی سمجھ کر ان معجزات کی تشریح کچھ زیادہ کرنا چاہتے ہیں جو قرآن شریف کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کی بطنی اور نفسی خاصیتیں ہیں کیونکہ اس قسم کے معجزات بباعث دائمی شہود اور وجود کے قوی الاثر ہیں جن کو ہر ایک طالب صادق اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے اور ہریک منصف کی نظر میں بالضرورت قابل یقین ٹھہرسکتے ہیں۔ سو اوّل جاننا چاہئے کہ معجزہ عادات الٰہیہ میں سے ایک ایسی عادت یا یوں کہو کہ اس قادر مطلق کے افعال میں سے ایک ایسا فعل ہے جس کو اضافی طور پر خارق عادت کہنا چاہئے پس امر خارقِ عادت کی حقیقت صرف اس قدر ہے کہ جب پاک نفس لوگ عام طریق و طرز انسانی سے ترقی کرکے اور معمولی عادات کو پھاڑ کر قرب الٰہی کے میدانوں میں آگے قدم رکھتے ہیں تو خدائے تعالیٰ حسب حالت ان کے ایک ایسا عجیب معاملہ ان سے کرتا ہے کہ وہ عام حالاتِ انسانی پر خیال کرنے کے بعد ایک امر خارقِ عادت دکھائی دیتا ہے اور جس قدر انسان اپنی بشریت کے وطن کو چھوڑ کر اور اپنے نفس کے حجابوں کو پھاڑ کر عرصاتِ عشق و محبت میں دور تر چلا جاتا ہے اسی قدر یہ خوارق نہایت صاف اور شفاف اور روشن و تابان ظہور میں آتے ہیں۔ جب تزکیہ نفس انسانی کمال تام کی حالت پر پہنچتا ہے اور اس کا دل غیر اللہ سے بالکل خالی ہوجاتا ہے اور محبت الٰہی سے بھر جاتا ہے تو اس کے تمام اقوال و افعال و اعمال و حرکات و سکنات و عبادات

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 69
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 69
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/69/mode/1up

مالکؔ سے دلی محبت رکھتے ہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ خود ان کو وہی ان کی سچی محبت یہ طریقِ ادب سکھادے گی کہ ذات جامع الکمالات حضرت احدیت کے علم کے ساتھ اپنے محدود علم کو برابر جاننا اور اس کی ازلی ابدی قدرتوں کو اپنے مشاہدات یا معلومات سے زیادہ نہ سمجھنا بہت برا
و معاؔ ملات و اخلاق جو انتہائی درجہ پر اس سے صادر ہوتے ہیں وہ سب خارق عادت ہی ہوجاتے ہیں سو بمقابل اس کے ایسا ہی معاملہ باری تعالیٰ کا بھی اس مبدّل تام سے بطور خارق عادت ہی ہوتا ہے سو چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم مبدّل تام اور سیّد المبدلین اور امام المطہرین تھے جن کو قادر مطلق نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا تھا اس لئے تمام سراپا وجود ان کے کا حقیقت میں معجزہ ہی تھا اور ضرور تھا کہ ایسے عالی شان نبی پر جو کلام نازل ہوا تھا وہ بباعث تبدل تام اس کے غایت درجہ کا خارق عادت ہوتا جس سے تمام اولین آخرین کی نظریں خیرہ رہ جاتیں کیونکہ اگرچہ کلام الٰہی فی ذاتہٖ کلام انسانی سے ایسا ہی ممیز ہے جیسا خدا انسان سے تمیز تام رکھتا ہے لیکن باوجود اس کے فیضان وحی حسب استعداد و حالتِ صفوت و اخلاق فاضلہ و ملکات صالحہ وحی یاب ہوا کرتا ہے اور اسی کی طرف ایک روحانی اشارہ ہے جو قرآن شریف میں پایا جاتا ہے یعنی یہ کہ وہ پاک کلام بہت سے فرشتوں کی حفاظت کے ساتھ اترا ہے۔ سو ظاہری فرشتے تو معلوم ہی ہیں مگر پاک اخلاق اور پاکیزہ حالتیں اور شوق و ذوق سے بھری ہوئی وارداتیں اور درد دل اور جوش محبت اور صدق و صفا و تبتل و وفاو توکل و رضا و نیستی وفنا اور شورش ہائے عشقِ مولیٰ ایک قسم کے فرشتے ہی ہیں جو قادر مطلق نے اپنے اس محبوب افضل الرسل کے وجود میں اکمل و اتم طور پر پیدا کئے تھے اور پھر اسی کے اتباع سے ہریک مومن کامل کے دل میں بھی باذنہٖ تعالیٰ پیدا ہوجاتے ہیں اور اگرچہ عام مومنوں میں بھی جو ابھی حالتِ کمالیہ تک نہیں پہنچے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 70
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 70
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/70/mode/1up

اور ؔ نالائق خیال ہے جو ادب اور تعظیم اور عجز اور عبودیت کی حقیقت سے نہایت دور پڑا ہوا ہے لیکن میں ان خشک فلسفیوں کو جو عشق الٰہی اور اس کی بزرگ ذات کی قدر شناسی سے غافل ہیں جہاں تک مجھے طاقت عقلی دی گئی ہے بدلائلِ شافیہ راہ راست کی طرف پھیرنا چاہتا ہوں کیونکہ
ان کاتخم ؔ پایا جاتا ہے لیکن وہ تخم اس چھپی ہوئی آگ کی طرح ہے جو افروختہ آگ کا کام نہیں دے سکتی جیسے ظاہر ہے کہ انڈا مرغ کا قائم مقام نہیں ہوسکتا اور نہ بیج درخت کا حکم رکھتا ہے اور اگرچہ ہریک زمین کے نیچے پانی ہے لیکن بجز بہت سی جان کنی اور محنت اور مدت تک زمین کھودنے کے وہ پانی نکل نہیں سکتا اسی طرح آتش شوق الٰہی جب تک اپنے کمال اشتعال کی حالت میں نہ آئے تب تک اس کے فوائد مترتب نہیں ہوسکتے لیکن جب وہ کامل طور پر افروختہ ہوجاتی ہے اور چاروں طرف سے بھڑک اٹھتی ہے تب وہ دخل شیطان سے محفوظ رکھنے کے لئے فرشتوں کا کام دیتی ہے اور ملائک حفاظت میں شمار کی جاتی ہے۔ پاک اعمال اور پاک حالتیں اور پاک وارداتیں اور پاک جوش اور پاک درد اور پاک حزن اور پاک اخلاقی ظہور جب اپنے اشتعال اور کمال کی حالت میں ہوں تو ان نیک اور ہوشیار چوکیداروں کی طرح ہیں جو اپنے مالک کے محل کے دروازوں پر چاروں طرف دن رات پہرہ کے لئے کھڑے رہتے ہیں سو ہر چند اس محل کے سارے دروازے کھلے ہیں (یعنی ہر ایک قسم کی قوتیں اور استعدادیں) مگر بباعث تقید محافظین بجز سرد ہوا اور محبوب چیزوں کے کوئی نابکار چیز اندر نہیں جاسکتی اور اگر کتا یا چور اندر جانے کا ارادہ کرتا ہے تو پکڑا جاتا ہے اور مار کھاتا ہے لیکن وہ محل جس کے دروازے تو کھلے ہیں مگر دروازوں پر کوئی نیک و ہوشیار چوکیدار نہیں گو اس میں ٹھنڈی ہوا اور اچھی اچھی چیزیں بھی داخل ہوتی ہیں مگر ایسے گھر کو اکثر چور لگے رہتے ہیں اور کتے اس کی چیزوں کو پلید کرتے رہتے ہیں۔ سو یہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 71
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 71
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/71/mode/1up

میںؔ دیکھتا ہوں کہ ان کی روحا نی زندگی بہت ہی کمزور ہوگئی ہے اور ان کی بے جا آزادی اور ضعفِ ایمان نے بہت ہی برا اثر ان کے ارادت باطنی اور ان کی دینی اولوالعزمی اور ان کی اندرونی حالت پر ڈالا ہے اور عجیب طور پر انہوں نے ضلالت کو صداقت کے ساتھ ملا دیا ہے مذہب وہ چیز ہے جس کی برکات کی اصل جڑھ ایمان و اعتبار و حسن
گھر ؔ خرابی کی حالت میں رہتا ہے پس جس جگہ صفوت و عصمت و تبتل و محبت کامل و تام وحزن و درد و شوق و خوف ہے اس جگہ انوار وحی کے کامل تجلیات بغیر آمیزش کسی نوع کی ظلمت کے وارد ہوتے رہتے ہیں اور آفتاب کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے رہتے ہیں اور جس جگہ یہ مرتبہ کمالِ تام کا نہیں اس جگہ وحی بھی اس عالی مرتبہ سے متنزل ہوتی ہے۔ غرض وحی الٰہی ایک ایسا آئینہ ہے جس میں خدائے تعالیٰ کی صفات کمالیہ کا چہرہ حسب صفائی باطن نبی منزل علیہ کے نظر آتا ہے اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اپنی پاک باطنی و انشراح صدری و عصمت و حیا وصدق و صفا وتوکل و وفا اور عشق الٰہی کے تمام لوازم میں سب انبیاء سے بڑھ کر اور سب سے افضل و اعلیٰ و اکمل و ارفع و اجلٰی و اصفا تھے اس لئے خدائے جل شانہٗ نے ان کو عطر کمالات خاصہ سے سب سے زیادہ معطر کیا اور وہ سینہ اور دل جو تمام اولین و آخرین کے سینہ و دل سے فراخ تر و پاک تر و معصوم تر و روشن تر تھا وہ اسی لائق ٹھہرا کہ اس پر ایسی وحی نازل ہو کہ جو تمام اولین و آخرین کی وحیوں سے اقویٰ و اکمل و ارفع و اتم ہوکر صفات الٰہیہ کے دکھلانے کے لئے ایک نہایت صاف اور کشادہ اور وسیع آئینہ ہو۔ سو یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف ایسے کمالات عالیہ رکھتا ہے جو اس کی تیز شعاعوں اور شوخ کرنوں کے آگے تمام صحف سابقہ کی چمک کالعدم ہورہی ہے کوئی ذہن ایسی صداقت نکال نہیں سکتا جو پہلے ہی سے اس میں درج نہ ہو۔ کوئی فکر ایسے برہان عقلی پیش نہیں کرسکتا جو پہلے ہی سے اس نے پیش نہ کی ہو۔ کوئی تقریر ایسا قوی اثر کسی دل پر ڈال نہیں سکتی جیسے قوی اور

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 72
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 72
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/72/mode/1up

اعتقاؔ د و حسن ظن و اطاعت و اتباع مخبر صادق و کلام الٰہی ہے لیکن وہ لوگ اپنے غلط فلسفہ کی و جہ سے مذہب کی حقیقت کچھ اور ہی سمجھ رہے ہیں سو انہیں لازم ہے کہ تعصب اور خود پسندی کے شور وغوغا سے اپنے تئیں الگ کرکے سیدھی نظر اور سیدھے خیال سے اس سوال پر غور کریں کہ ایمان کیا شے ہے اور اس پر
پر ؔ برکت اثر لاکھوں دلوں پر وہ ڈالتا آیا ہے۔ وہ بلاشبہ صفات کمالیہ حق تعالیٰ کا ایک نہایت مصفا آئینہ ہے جس میں سے وہ سب کچھ ملتا ہے جو ایک سالک کو مدارجِ عالیہ معرفت تک پہنچنے کے لئے درکار ہے۔
اور جیسا کہ ہم عنوان اس حاشیہ پر لکھ چکے ہیں معرفت حقانی کے عطا کرنے کے لئے تین دروازے قرآن شریف میں کھلے ہوئے ہیں ایک عقلی یعنے خدائے تعالیٰ کی ہستی اور خالقیت اور اس کی توحید اور قدرت اور رحم اور قیومی اور مجازات وغیرہ صفات کی شناخت کے لئے جہاں تک علوم عقلیہ کا تعلق ہے استدلالی طریق کو کامل طور پر استعمال کیا ہے اور اس استدلال کے ضمن میں صناعت منطق و علم بلاغت و فصاحت و علوم طبعی و طبابت و ہیئت و ہندسہ و دقائق فلسفیہ و طریق جدل و مناظرہ وغیرہ تمام علوم کو نہایت لطیف و موزوں طور پر بیان کیا ہے جس سے اکثر دقیق مسائل کا پیچ کھلتا ہے۔ پس یہ طرز بیان جو فوق العادت ہے ازقسم اعجاز عقلی ہے کیونکہ بڑے بڑے فیلسوف جنہوں نے منطق کو ایجاد کیا اور فلاسفی کے قواعد مرتب کئے اور بہت کچھ طبعی اور ہیئت میں کوشش مغززنی کی وہ بباعث نقصان عقل اپنے ان علوم سے اپنے دین کو مدد نہیں دے سکے اور نہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کرسکے اور نہ اوروں کو فائدہ دینی پہنچا سکے بلکہ اکثر ان کے دہریہ اور ملحد اور ضعیف الایمان رہے اور جو بعض ان میں سے کسی قدر خدائے تعالیٰ پر ایمان لائے انہوں نے ضلالت کو صداقت کے ساتھ ملا کر اور خبیث کو طیب کے ساتھ مخلوط

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 73
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 73
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/73/mode/1up

ثوابؔ مترتب ہونے کی کیوں امید کی جاتی ہے سو جاننا چاہیئے کہ ایمان اس اقرار لسانی و تصدیق قلبی سے مراد ہے جو تبلیغ وپیغام کسی نبی کی نسبت محض تقویٰ اور دوراندیشی کے لحاظ سے صرف نیک ظنی کی بنیاد پر یعنے بعض وجوہ کو معتبر سمجھ کر اور اس طرف غلبہ اور رجحان پاکر بغیر انتظار کامل اور قطعی اور
کرؔ کے راہ راست کو چھوڑ دیا۔ پس یہ الٰہی عقل از قبیل خارق عادت ہے جس کے استدلال میں کوئی غلطی نہیں اور جس نے علوم مذکورہ سے ایک ایسی شائستہ خدمت لی ہے جو کبھی کسی انسان نے نہیں لی اور اس کے ثبوت کے لئے یہی کافی ہے کہ دلائل وجود باری عزاسمہٗ اور اس کی توحید و خالقیت وغیرہ صفات کمالیہ کے اثبات میں بیان قرآن شریف کا ایسا محیط و حاوی ہے جس سے بڑھ کر ممکن ہی نہیں کہ کوئی انسان کوئی جدید برہان پیش کرسکے اگر کسی کو شک ہو تو وہ چند دلائل عقلی متعلق اثبات ہستی باری عزاسمہٗ یا اس کی توحید یا اس کی خالقیت یا کسی دوسری الٰہی صفت کے متعلق بطور امتحان پیش کرے تا بالمقابل قرآن شریف میں سے وہی دلائل یا ان سے بڑھ کر اس کو دکھلائے جائیں جس کے دکھلانے کے ہم آپ ہی ذمہ وار ہیں غرض یہ دعویٰ اور یہ تعریف قرآنی لاف و گذاف نہیں بلکہ حقیقت میں حق ہے اور کوئی شخص عقائد حقہ کے اثبات میں کوئی ایسی دلیل پیش نہیں کرسکتا جس کے پیش کرنے سے قرآن شریف غافل رہا ہو۔ قرآن شریف بآواز بلند بیسیوں جگہ اپنے احاطہ تامہ کا دعویٰ پیش کرتا ہے چنانچہ بعض آیات ان میں سے ہم اس حاشیہ میں درج بھی کرچکے ہیں سو اگر کوئی طالب حق آزمائش کا شائق ہو تو ہم اس کی تسلی کامل کرنے کے لئے مستعد اور تیار اور ذمہ وار ہیں مگر افسوس تو یہ ہے کہ اس پرغفلت اور لاپروائی اور بے قدری کے زمانہ میں ایسے لوگ بہت ہی تھوڑے ہیں جو صدق دلی سے طالب حق ہوکر اس خاصیتِ عظمیٰ و معجزہ کبریٰ کی آزمائش چاہیں بلکہ وہ اسی میں اپنی سرخروئی سمجھ لیتے ہیں کہ بات کو

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 74
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 74
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/74/mode/1up

واشگاؔ ف ثبوت کے دلی انشراح سے قبولیت و تسلیم ظاہر کی جائے لیکن جب ایک خبر کی صحت پر وجوہ کاملہ قیاسیہ اور دلائل کافیہ عقلیہ مل جائیں تو اس بات کا نام ایقان ہے جس کو دوسرے لفظوں میں علم الیقین بھی کہتے ہیں اور جب خدائے تعالیٰ خود اپنے خاص جذبہ اور موہبت سے خارق عادت
سنتےؔ ہی انکار کردیں لیکن ظاہر ہے کہ صرف اس بات کے کہنے سے کہ ہم نہیں مانتے یا ہم اس کو خلاف عقل یا خلاف قانون قدرت سمجھتے ہیں امر متنازعہ فیہ انفصال نہیں پاتا اور صداقت پسندوں کا یہ طریق ہرگز نہیں۔ ایک شخص کو ایک امر متنازعہ فیہ کے اثبات کے لئے میدان میں کھڑے دیکھ کر اور آواز پر آواز مارتے سن کر پھر اس کی طرف رخ نہ کریں اسے آزما کر نہ دیکھ لیں اور دور بیٹھے یونہی کہتے رہیں کہ اس کی یہ باتیں جھوٹ اور بے اصل ہیں کیا یہ شیوہ کسی واقعی راست باز کا ہوسکتا ہے۔ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ دوسرا دروازہ معرفت الٰہی کا جو قرآن شریف میں نہایت وسیع طور پر کھلا ہوا ہے دقائق علمیہ ہیں جس کو بوجہ خارق عادت ہونے کے علمی اعجاز کہنا چاہئے وہ علوم کئی قسم کے ہیں اول علم معارف دین یعنے جس قدر معارف عالیہ دین اور اس کی پاک صداقتیں ہیں اور جس قدر نکات و لطائف علم الٰہی ہیں جن کی اس دنیا میں تکمیل نفس کے لئے ضرورت ہے ایسا ہی جس قدر نفس امارہ کی بیماریاں اور اس کے جذبات اور اس کی دوری یا دائمی آفات ہیں یا جو کچھ ان کا علاج اور اصلاح کی تدبیریں ہیں اور جس قدر تزکیہ و تصفیہ نفس کے طریق ہیں اور جس قدر اخلاق فاضلہ کے انتہائی ظہور کی علامات و خواص و لوازم ہیں یہ سب کچھ باستیفائے تام فرقان مجید میں بھرا ہوا ہے اور کوئی شخص ایسی صداقت یا ایسا نکتہ الٰہیہ یا ایسا طریق وصول الی اللہ یا کوئی ایسا نادر یا پاک طور مجاہدہ و پرستش الٰہی کا نکال نہیں سکتا جو اس پاک کلام میں درج نہ ہو۔ دوسرے علم خواص روح و علم نفس ہے جو ایسے احاطہ تام سے اس

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 75
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 75
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/75/mode/1up

کےؔ طور پر انوار ہدایت کھولے اور اپنے آلاء و نعماء سے آشنا کرے اور لدُنی طور پر عقل اور علم عطا فرماوے اور ساتھ اس کے ابواب کشف اور الہام بھی منکشف کرکے عجائبات الوہیت کا سیر کراوے اور اپنے محبوبانہ حسن و جمال پر اطلاع بخشے تو اس مرتبہ کا نام عرفان ہے جس کو دوسرے
کلام ؔ معجز نظام میں اندراج پایا ہے کہ جس سے غور کرنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ بجز قادرِ مطلق کے یہ کسی کا کام نہیں۔ تیسرے علم مبدء و معاد و دیگر امور غیبیہ جو عالم الغیب کے کلام کا ایک لازمی خاصہ ہے جس سے دلوں کو تسلی و تشفی ملتی ہے اور غیب دانی خدائے قادر مطلق کی مشہودی طور پر ثابت و متحقق ہوتی ہے یہ علم اس تفصیل اور کثرت سے قرآن شریف میں پایا جاتا ہے کہ دنیا میں کوئی دوسری کتاب اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ پھر علاوہ اس کے قرآنِ شریف نے تائید دین میں اور اور علوم سے بھی اعجازی طور پر خدمت لی ہے اور منطق اور طبعی اور فلسفہ اور ہیئت اور علم نفس اور طبابت اور علم ہندسہ اور علم بلاغت وفصاحت وغیرہ علوم کے وسائل سے علم دین کا سمجھانا اور ذہن نشین کرنا یا اس کا تفہیم درجہ بدرجہ آسان کردینا یا اس پر کوئی برہان قائم کرنا یا اس سے کسی نادان کا اعتراض اٹھانا مدنظر رکھا ہے غرض طفیلی طور پر یہ سب علوم خدمت دین کے لئے بطور خارق عادت قرآن شریف میں اس عجیب طرز سے بھرے ہوئے ہیں جن سے ہریک درجہ کا ذہن فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اگرچہ دلی جوش اس عاجز کا اس بات کی طرف دامن دل کھینچ رہا ہے کہ ان سب علوم میں سے دو دو تین تین مسائل علمی جو قرآن شریف میں درج ہیں نمونہ کے طور پر اس جگہ لکھے جائیں اور کچھ براہین عقلیہ بھی جو اس پاک کلام میں اثبات اصول دین کے لئے اندراج پائے ہیں تحریر ہوں لیکن چونکہ یہ سب بیانات طوالت طلب ہیں اور رسالہ ہذا بوجہ قلیل الحجم ہونے کے ان کی برداشت نہیں کرسکتا اور کتاب براہین احمدیہ خود ان سب باتوں کی متکفل ہے اس لئے خوفِ اطناب سے ترک کردیا گیا۔ طالبین حق انشاء اللہ تعالیٰ براہین احمدیہ میں ان

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 76
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 76
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/76/mode/1up

لفظوؔ ں میں عین الیقین اور ہدایت اور بصیرت کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ اور جب ان تمام مراتب کی شدت اثر سے عارف کے دل میں ایک ایسی کیفیت حالی عشق اور محبت کے باِذنہ ٖ تعالیٰ پیدا ہوجائے کہ تمام وجود عارف کا اس کی لذت سے بھر جائے اور آسمانی انوار اس کے
سب ؔ مقاصد کو پالیں گے مگر اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگرچہ یہ علوم کسبی طور پر بھی لوگ حاصل کرتے ہیں لیکن ایک اُمی محض جو سخت تاریکی اور جہالت کے زمانہ میں ایک جنگلی ملک میں پیدا ہوا جس نے مکتب میں ایک حرف نہ پڑھا اور فلاسفہ سے کبھی مخالطت نہ ہوئی اور منطق اور طبعی اور ہیئت اور علم نفس وغیرہ کا اپنی پرجہالت ملک میں نام بھی نہ سنا اس سے یہ چشمۂ فیض کامل اور صحیح طور پر جوش مارنا ایسا کہ کوئی فلسفی اس پر سبقت نہ لے جاسکے بہ بداہت عقل خارق عادت ہے۔ جو شخص بالکل ان پڑھ ہوکر ایسے بے مثل طور پر حقائق عالیہ فلسفہ و طبعی و ہیئت و علم خواص روح و معارف دین بغیر کسی کے سکھائے اور پڑھائے کے بیان کرے تو اس کے معجزہ ہونے میں کسی دانا اور منصف مزاج کو تامل نہیں ہوسکتا۔ تیسرا دروازہ معرفت الٰہی کا جو قرآن شریف میں اللہ جل شانہٗ نے اپنی عنایت خاص سے کھول رکھا ہے برکات روحانیہ ہیں جس کو اعجاز تاثیری کہنا چاہئے۔ یہ بات کسی سمجھدار پر مخفی نہیں ہوگی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا زادبوم ایک محدود جزیرہ نما ملک ہے جس کو عرب کہتے ہیں جو دوسرے ملکوں سے ہمیشہ بے تعلق رہ کر گویا ایک گوشۂتنہائی میں پڑا رہا ہے۔ اس ملک کا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ظہور سے پہلے بالکل وحشیانہ اور درندوں کی طرح زندگی بسر کرنا اور دین اور ایمان اور حق اللہ اور حق العباد سے بے خبر محض ہونا اور سینکڑوں برسوں سے بت پرستی و دیگر ناپاک خیالات میں ڈوبے چلے آنا اور عیاشی اور بدمستی اور شراب خوری اور قماربازی وغیرہ فسق کے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 77
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 77
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/77/mode/1up

دلؔ پر بکلی احاطہ کرکے ہریک ظلمت و قبض و تنگی کو درمیان سے اٹھاویں یہاں تک کہ بوجۂ کمال رابطہ عشق و محبت و بباعث انتہائی جوش صدق و صفا کی بلا اور مصیبت بھی محسوس اللذت و مدرک الحلاوت ہو تو اس درجہ کا نام اطمینان ہے جس کو دوسرے لفظوں میں حق الیقین اور فلاح اور
طرؔ یقوں میں انتہائی درجہ تک پہنچ جانا اور چوری اور قزاقی اور خون ریزی اور دختر کشی اور یتیموں کا مال کھا جانے اور بیگانہ حقوق دبا لینے کو کچھ گناہ نہ سمجھنا۔ غرض ہریک طرح کی ُ بری حالت اور ہریک نوع کا اندھیرا اور ہرقسم کی ظلمت و غفلت عام طور پر تمام عربوں کے دلوں پر چھائی ہوئی ہونا ایک ایسا واقعہ مشہور ہ ہے کہ کوئی متعصب مخالف بھی بشرطیکہ کچھ واقفیت رکھتا ہو اس سے انکار نہیں کرسکتا اور پھر یہ امر بھی ہریک منصف پر ظاہر ہے کہ وہی جاہل اور وحشی اور یا وہ اور ناپارسا طبع لوگ اسلام میں داخل ہونے اور قرآن کو قبول کرنے کے بعد کیسے ہوگئے اور کیونکر تاثیرات کلام الٰہی اور صحبت نبی معصوم ؐ نے بہت ہی تھوڑے عرصہ میں ان کے دلوں کو یکلخت ایسا مبدل کردیا کہ وہ جہالت کے بعد معارف دینی سے مالا مال ہوگئے اور محبت دنیا کے بعد الٰہی محبت میں ایسے کھوئے گئے کہ اپنے وطنوں اپنے مالوں اپنے عزیزوں اپنی عزتوں اپنی جان کے آراموں کو اللہ جل شانہٗ کے راضی کرنے کے لئے چھوڑ دیا۔ چنانچہ یہ دونوں سلسلے ان کی پہلی حالت اور اس نئی زندگی کے جو بعد اسلام انہیں نصیب ہوئے قرآن شریف میں ایسی صفائی سے درج ہیں کہ ایک صالح اور نیک دل آدمی پڑھنے کے وقت بے اختیار چشم پُرآب ہوجاتا ہے۔ پس وہ کیا چیز تھی جو ان کو اتنی جلدی ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف کھینچ کر لے گئی وہ دو ہی باتیں تھیں ایک یہ کہ وہ نبی معصومؐ اپنی قوتِ قدسیہ میں نہایت ہی قوی الاثر تھا ایسا کہ نہ کبھی ہوا اور
نہ ہوگا۔ دوسری خدائے قادر مطلق حیّ قیوم کے پاک کلام کی زبردست اور عجیب

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 78
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 78
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/78/mode/1up

نجاتؔ سے بھی تعبیر کرتے ہیں مگر یہ سب مراتب ایمانی مرتبہ کے بعد ملتے ہیں اور اس پر مترتّب ہوتے ہیں۔ جو شخص اپنے ایمان میں قوی ہوتا ہے وہ رفتہ رفتہ ان سب مراتب کو پالیتا ہے لیکن جو شخص ایمانی طریق کو اختیار نہیں کرتا اور ہریک صداقت کے قبول کرنے سے اوّل قطعی اور یقینی
تاثیرؔ یں تھیں کہ جو ایک گروہ کثیر کو ہزاروں ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئیں بلاشبہ یہ قرآنی تاثیریں خارق عادت ہیں کیونکہ کوئی دنیا میں بطور نظیر نہیں بتلا سکتا کہ کبھی کسی کتاب نے ایسی تاثیر کی ۔کون اس بات کا ثبوت دے سکتا ہے کہ کسی کتاب نے ایسی عجیب تبدیل و اصلاح کی جیسی قرآن شریف نے کی وید تو خود تہیدست ہے اور ایک شخص بھی ثابت نہیں ہوسکتا کہ جو کبھی اور کسی زمانہ میں بذریعہ تاثیرات وید کمالات باطنی تک پہنچا ہو اور اس قدر تو وید کے پیرو خود اقرار کرتے ہیں کہ صرف وید کے چار رشی کمال تک پہنچے ہیں وبس مگر چار کا کامل ہونا بھی بے ثبوت ہے سچ تو یہ ہے کہ وید کے ماننے والوں کوکبھی اس قدر بھی نصیب نہیں ہوا کہ خدائے تعالیٰ کو واحد لاشریک مان کر مبدء جمیع فیوض کا سمجھیں اور اسی کے کامل القدرت ہاتھ کو ہریک وجود کا موجد قرار دیں اور اس کے بھائی بند نہ بن بیٹھیں اگر کوئی شخص اس بات کو برا مانیں تو اسی کی گردن پر ہے کہ تاثیرات طیبہ وید کو ثابت کرکے دکھلا دے اور ان الزاموں کو اس کے سر پر سے اٹھادے۔ جن سے ہندوؤں کے پرمیشر کی کچھ بھی عزت باقی نہ رہی ہمیں وید سے کوئی بے وجہ عناد نہیں مگر ہم سچ سچ کہتے ہیں اور ہم اپنے خدائے قادر مطلق کو گواہ رکھ کر بیان کرتے ہیں کہ ہمارا اور کسی خدا ترس کا دلی انصاف اس بات کوہرگز قبول نہیں کرسکتا کہ جس کامل ذات کے برکت* وجود سے ذرہ ذرہ قائم ہے اور جو تمام دنیا کا مالک کہلاتا ہے اس کی بادشاہی صرف دوسروں کے سہارے سے چلی آتی ہے نہ اپنی قدرت خاصہ سے اور تمام روحیں اور اجسام یونہی اتفاق اور قسمت سے اس کو مل گئے ہیں نہ آپ پیدا کرنے سے اور اس کی خدائی اتفاقی ہے نہ حقیقی۔ اب وید سے مونہہ پھیر کر قرآن شریف کی طرف دیکھنا چاہئے کہ کیسی پاک تاثیریں رکھتا ہے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 79
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 79
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/79/mode/1up

اورؔ نہایت واشگاف ثبوت مانگتا ہے اس کی طبیعت کو اس راہ سے کچھ مناسبت نہیں اور وہ اس لائق ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اس قادر غنی بے نیاز کے فیوض حاصل کرے۔ عادت اللہ قدیم سے اسی طرح پر جاری ہے اور یہ اس فن علم الٰہی کا نہایت باریک نکتہ ہے جس پر سعادت مندوں کو
لاکھوؔ ں مقدسوں کا یہ تجربہ ہے کہ قرآن شریف کے اتباع سے برکات الٰہی دل پر نازل ہوتی ہیں اور ایک عجیب پیوند مولیٰ کریم سے ہوجاتا ہے خدائے تعالیٰ کے انوار اور الہام ان کے دلوں پر اترتے ہیں اور معارف اور نکات ان کے مونہہ سے نکلتے ہی ایک قوی توکل ا ن کو عطا ہوتی ہے اور ایک محکم یقین ان کو دیا جاتا ہے اور ایک لذیذ محبت الٰہی جو لذت وصال سے پرورش یاب ہے ان کے دلوں میں رکھی جاتی ہے اگر ان کے وجودوں کو ہاون مصائب میں پیسا جائے اور سخت شکنجوں میں دے کر نچوڑا جائے تو ان کا عرق بجز ُ حب الٰہی کے اور کچھ نہیں۔ دنیا ان سے ناواقف اور وہ دنیا سے دور تر و بلند تر ہیں۔ خدا کے معاملات ان سے خارق عادت ہیں انہیں پر ثابت ہوا ہے کہ خدا ہے۔ انہیں پر کھلا ہے کہ ایک ہے جب وہ دعا کرتے ہیں تو وہ ان کی سنتا ہے۔ جب وہ پکارتے ہیں تو وہ انہیں جواب دیتا ہے جب وہ پناہ چاہتے ہیں تو وہ ان کی طرف دوڑتا ہے وہ باپوں سے زیادہ ان سے پیار کرتا ہے اور ان کی درودیوار پر برکتوں کی بارش برساتا ہے پس وہ اس کی ظاہری و باطنی و روحانی و جسمانی تائیدوں سے شناخت کئے جاتے ہیں اور وہ ہریک میدان میں ان کی مدد کرتا ہے کیونکہ وہ اس کے اور وہ ان کا ہے۔ یہ باتیں بلا ثبوت نہیں اور ہم عنقریب رسالہ سراج منیر میں انشاء اللہ القدیر ایک کھلا کھلا ثبوت اس کا دکھلائیں گے۔ لیکن ہم اس جگہ یہ ظاہر کرنا چاہئے۱؂ کہ کسی دوسرے دین میں یہ برکتیں ہرگز نہیں۔ وید نے اگر آریوں کے دلوں پر کچھ اثر ڈالا ہے تو وہ صرف گالیاں اور دشنام دہی ہے تمام مقدسوں کو فریبی کہنا سب پاک

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 80
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 80
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/80/mode/1up

غور ؔ کرنی چاہئے کہ ہمیشہ ثواب اور فیضان سماوی ایمان پر ہی مترتّب ہوتا ہے۔ اس راہ کا سچا فلسفہ یہی ہے کہ انسان دین قبول کرنے کی ابتدائی حالت میں اس بے نیاز مطلق اور اس کی قدرت اور اس کے وعد وو عید اور اس کے اخبار و اسرار کے ماننے میں لنبے لنبے انکاروں سے مجتنب رہے کیونکہ ایمانی صورت کے قائم رکھنے کے لئے (جس پر تمام ثواب وابستہ ہے) ضرور تھا کہ خدائے تعالیٰ امور ایمانیہ کو ایسا منکشف نہ کرتا کہ وہ دوسرے بدیہات کی طرح ہریک عام اور خاص کی نظر میں مسلّم الوجود ہوجاتی۔ یہ تو سچ ہے کہ انسان مکلف بوجہ عقل ہے نامعقول باتوں کو مان نہیں سکتا اور نہ در حالت انکار قابل الزام ٹھہرتا ہے لیکن خدا تمہیں ہدایت کرے تم خوب سوچ لو کہ خدائے تعالیٰ بھی کسی نامعقول بات پر (جو عندالعقل اس کی قدرت اور طاقت سے بعید ہے) ایمان لانے کے لئے تمہیں مجبور نہیں کرتا۔ اور ہمارے کسی لفظ سے یہ نہیں نکلتا کہ تم کسی ایسی بات پر ایمان لاؤ جو فی الحقیقت دوربین نظروں میں نامعقول ہے بلکہ ہماری تقریر کا مدعا اور لب لباب یہ ہے کہ ایمانی امور ایسے ہونے چاہئے کہ جو من وجہ ظاہر اور من وجہ مخفی ہوں اور امکانی طور پر عقل ان کا وجود باور تو کرسکے۔ مگر دوسرے مشہودات
نبیوؔ ں کا نام مکار رکھنا دنیا کے برگزیدوں کو بجز اپنے تین یا چار وید کے رشیوں نامعلوم الوجود کو جھوٹا اور دغاباز اور ٹھگ قرار دینا انہیں لوگوں کا کام ہے کیا ان لوگوں کے مونہہ سے بجز بدظنیوں اور بدزبانیوں کے کبھی کچھ معارف الٰہی کے نکات بھی نکلے ہیں۔ کیا بجز گندی باتوں اور نابکار خیالات یا تحقیر اور توہین اور ٹھٹھے اور ہنسی اور پرشرارت اور بدبودار لفظوں کے کبھی کوئی دقیق بھید معرفت الٰہی کا بھی ان کی زبان سے سنا گیا ہے۔ کیا ان برتنوں سے کبھی کوئی صفا دلی کا قطرہ بھی مترشح ہوا ہے یا انہوں نے باطنی پاکیزگی میں کچھ ترقی کی ہے ہرگز نہیں سو جو کچھ ویدؔ کا اثر ہے سو ظاہر ہے حاجت بیان نہیں۔ منہ۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 81
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 81
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/81/mode/1up

ومرؔ ئیات بدیہہ کی طرح ہاتھ پکڑ کر دکھلا نہ سکے یعنے انسان اور گدھے وغیرہ محسوس چیزوں کی طرح ان کا وجود نہ ہو جن کو ٹٹول کر معلوم کرسکیں یا بچشم خود دیکھ سکیں یا دکھا سکیں یا اشکال ہندسی اور اعمال حسابی کی طرح ایسے منکشف نہ ہوں جن میں دس دس برس کے بچے بھی اختلاف نہ کرسکیں۔ غرض وہ کیفیت ان میں محفوظ ہو جو ایمان کا مفہوم قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے اور پھر باایں ہمہ بالغ نظروں اور حقیقت شناسوں کی نگاہوں میں نامعقول اور بعیداز عقل بھی نہ ہوں۔
نہ چنداں بخور کز دہائت براید
نہ چنداں کہ از ضعف جانت براید
اب خلاصہ و ماحصل اس تقریر کا یہ ہے کہ کسی مذہب کے قبول کرنے سے غرض یہ ہے کہ وہ طریق اختیار کیا جائے جس سے خدائے غنی مطلق جو مخلوق اور مخلوق کی عبادت سے بکلی بے نیاز ہے راضی ہوجائے اور اس کے فیوض رحمت اترنے شروع ہوجائیں جن سے اندرونی آلائشیں دور ہوکر صحن سینہ یقین اور معرفت سے پرہوجائے سو یہ تدبیر اپنی فکر سے پیدا کرنا انسان کا کام نہیں تھا۔ اس لئے اللہ جل شانہ نے اپنے وجود اور اپنے عجائبات قدرت خالقیت یعنے ارواح و اجسام و ملائک و دوزخ و بہشت و بعث و حشر و رسالت و دیگر تمام اسرار مبدء و معاد کو یکساں طور پر پردہ غیب میں رکھ کر اور کچھ کچھ قیاسی یا امکانی طور پر عقل کو اس کوچہ میں گزر بھی دے کر غرض کچھ دکھلا کر اور کچھ چھپا کر بندوں کو ان سب باتوں پر ایمان لانے کے لئے مامور کیا اور یہ سب کچھ اس لئے کیا کہ جب بندہ باوجود کش مکش مخالفانہ خیالات کے خدائے تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لائے گا اور سب عجائبات اخروی و وجود دوزخ و بہشت و ملائک وغیرہ کو اس کی قدرت میں سمجھ کر دیکھنے سے پہلے ہی قبول کرلے گا تو یہ قبول کرنا اس کے حق میں صدق شمار کیا جائے گا کیونکہ ہنوز یہ چیزیں در پردہ غیب ہیں اور مرئی اور مشہود طور پر نمایاں اور ظاہر نہیں ہیں سو یہ صدق خدائے تعالیٰ کی توجہ رحمت کے لئے ایک موجب ہوجائے گا کیونکہ خدائے تعالیٰ بوجہ اپنی استغنا ذاتی کے انہیں لوگوں پر توجہ رحمت کرتا ہے جن کا صدق ظاہر ہوتا ہے۔ یوں تو انسان کی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 82
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 82
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/82/mode/1up

فطرؔ تی عادت ہے کہ جو چیز کھلے کھلے طور پر مضر یا مفید ہو اس سے بہ نفرت بھاگتا یا اس کے لینے کو بصد رغبت دوڑتا ہے یعنی جیسی صورت ہو لیکن وہ اپنی اس عادت سے کسی ثواب کا مستحق نہیں ٹھہرسکتا اگر کوئی شخص بجلی سے ڈر کر اپنے کوٹھے میں چھپ جائے یا شیر سے خوف کھاکر اپنے شہر کی طرف بھاگے تو وہ ہرگز یہ نہیں کہہ سکتا کہ اے بجلی یا شیر میں نے تم سے خوف کیا تم مجھ سے راضی ہوجاؤ۔ سو ظاہر ہے کہ جو ڈرنا یا امید کرنا ضروری طور پر لازم آتا ہے وہ کسی تحسین یا آفرین کا موجب نہیں ٹھہرسکتا۔ اسی وجہ سے لازم ہے کہ جو شخص خدائے تعالیٰ اور اس کے عجائبات آخر کو مان کر رضامندی الٰہی کا خواہشمند ہے وہ ان سب چیزوں کے ماننے میں بے جا اڑوں سے پرہیز کرے اور جہاں تک ممکن ہو مطالبہ دلائل میں نرمی اختیار کرکے فقط اتنا کرے کہ ایک راہ کو دوسری راہوں پر ترجیح دیکھ لے اور ایسے یقینی ثبوت کے لئے کہ جیسے چار کانصف دو ہے اپنی نابالغ عقل کو آوارہ اور سرگرداں نہ ہونے دے بلکہ تمام تر سعادت تو اس میں ہے کہ غیب ہی کی صورت میں قبول کرے اور ظاہری حواس کی خواہ نخواہ شہادت طلب کرنے سے اور فلسفہ کے طول طویل اور لاطائل جھگڑوں سے حتی الوسع اپنے تئیں بچاوے کیونکہ اگر خدا کو دیکھ کر ہی یا انتہائی تحقیقات سے ہی قبول کرنا ہے اور جزا سزا کو تجربہ کرکے ہی ماننا ہے تو پھر ایسے ماننے میں کون سی خاص فضیلت یا صدق پایا جاتا ہے اس طرح پر کون ہے جو قبول نہیں کرتا۔ دنیا میں ایسی طبیعت کا کوئی بھی آدمی نہیں کہ اگر اس کو پورا پورا ثبوت خدا کی ہستی یا عالم مجازات یا عجائبات قدرت کامل جائے تو پھر وہ منکر ہی رہے مثلاً اگر خدائے تعالیٰ ہریک انسان کو نظر آجائے اور سب کو اپنی خدائی قدرتیں دکھلا دے یا اگر مثلاً ایسا ہو کہ دس بیس ہزار آدمی ہریک قوم اور ہریک ملک کی قبروں سے اٹھ کر اپنی اپنی قوم اور قبیلہ میں آجائیں اور اپنے اپنے بیٹوں اور پوتوں کو خدا اور اس کی سزا وجزا کی ساری حقیقت سنادیں تو پھر ممکن نہیں کہ پھر بھی کوئی شخص کافر اور بے دین رہ جائے۔ اب اس جگہ بالطبع سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس حالت میں خدائے تعالیٰ ان باتوں کے کرنے پر قادر تھا اور اس پختہ ثبوت سے کفر اور بے دینی کی جڑھ کاٹی جاتی تھی تھے تو پھر اس نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ بلاشبہ اگر وہ ایسا کرتا تو پھر حق اور

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 83
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 83
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/83/mode/1up

باطل کا بکمال صفائی فیصلہ ہوجاتا اور فلسفہ کی نکمی اور بودی اور ظنی اور وہمی دلائل کی کچھ حاجت نہ رہتی تو اس کا جواب یہی ہے کہ جو اوپر گزر چکا یعنے بے شبہ خدائے تعالیٰ ایسا کرسکتا تھا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایسا جلوۂ دیدار دکھا سکتا تھا کہ ایک ہی تجلی سے سب گردنیں جھک جاتیں اور ایک ہی دفعہ تمام دنیا کی دینی نزاعوں کا تصفیہ ہوجاتا لیکن ایسا کرنے میں وہ بات جس سے ثواب ملتا ہے اور صادقوں کو مراتب عالیہ اور قرب اور وجاہت عطا کی جاتی ہے وہ باقی نہ رہتی یعنی ایمان بالغیب جس کی وجہ سے درجات اخروی ملتے ہیں وہ اپنی صورت میں محفوظ نہ رہتا۔ سو یہ بڑے بھاری درجہ کی صداقت ہے جو سوال مذکورہ بالا پر غور کرنے سے ہر یک اعلیٰ و ادنیٰ کو سمجھ آسکتی ہے۔ غرض ایمان پر ثواب اور اجر ملنے کا یہی بھید ہے کہ جن چیزوں پر ایمان لایا جاتا ہے وہ اگرچہ غور اور نظر کرنے سے صحیح اور راست ہیں۔ لیکن ان کا ثبوت ایسا کھلا کھلا ثبوت نہیں ہے جیسے اور مشہودات اور محسوسات کا ہوا کرتا ہے بلکہ ایمان بالغیب کی حد میں ہیں سو صادق آدمی جب خدا اور اس کی سزا وجزا وغیرہ امور غیبیہ پر ایمان لاتا ہے تو اس ایمان میں بوجہ انواع اقسام کے اوہام اور نفس امارہ کی چار طرفہ کشاکش کی سخت آزمائش میں پڑتا ہے۔ آخر چونکہ وہ صادق ہوتا ہے اس لئے سب راہیں چھوڑ کر اور سب خیالات پر غالب آکر اسی رب رحیم کی راہ اختیار کرلیتا ہے اور اس صدق کی برکت سے کہ وہ اپنے علم سے زیادہ رجوع اور اپنی واقفیت سے زیادہ وفا اور اپنے تجربہ سے زیادہ استحکام اختیار کرتا ہے۔ جناب الٰہی میں قبول کیا جاتا ہے۔ اور پھر اسی صدق و صفا کی برکت سے عرفانی آنکھیں اس کو عنایت ہوتی ہیں اور ربانی لذت اور محبت اس کو عطا کی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس مرتبہ تک جا پہنچتا ہے جہاں تک انسانی کمالات ختم ہوجاتے ہیں مگر یہ سب کچھ کامل طور پر پیچھے سے ملتا ہے پہلے نہیں۔ یہ تو معرفت صحیحہ تک پہنچنے کے لئے سنت اللہ یا یوں کہو کہ قانون قدرت ہے لیکن اس زمانہ کے خشک فلسفیوں نے اس صداقت پر ایک ذرّہ اطلاع نہیں پائی* اور وہ بالکل اس بات سے بے خبر ہیں کہ کیونکر انسان
* حاشیہ جاننا ؔ چاہئے کہ خدائے تعالیٰ اور عالم مجازات اور دیگر امور مبدء اور معاد کے ماننے میں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 84
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 84
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/84/mode/1up

ایمانؔ کے محکم اور استوار زینہ سے عرفان کے بلند مینار تک پہنچتا ہے اور اسی بے خبری کی وجہ سے ان میں اپنے قدم اول میں ہی تعجیل اور جلدی بھری ہوئی ہے اور نہایت شتاب کاری سے علم دین کو ایک ادنیٰ سا کام اور ایک ناکارہ ہنر سمجھ کریہ ارادہ کررہے ہیں کہ مذہب کے تمام اصول و فروع کو اپنی ابتدائی حالت میں ہی بغیر انتظار دوسرے حالات مترقّبۂ کمالات فطرت کے اس طرح پر دریافت کرلیں جیسے کوئی ہندسہ یا حساب کا مسئلہ دریافت کیا جاتا ہے اور اگر کوئی دقیقۂ دینی اس حد کے انکشاف تک نہ پہنچ سکے تو اس کی نسبت صاف حکم صادر کردیں کہ یہ سراسر باطل اور پیرایہ صداقت سے خالی ہے مگر جیسا کہ ہم ابھی بیان کرچکے ہیں یہ ایمانی حکمت کا طریق نہیں ہے۔
فلسفیوؔ ں کا طریقہ انبیاء علیہم السلام کے طریقہ سے بہت مختلف ہے نبیوں کے طریق کا اصلِ اعظم یہ ہے کہ ایمان کا ثواب تب مترتب اور بارور ہوگا کہ جب غیب کی باتوں کو غیب ہی کی صورت میں قبول کیا جائے اور ظاہری حواس کی کھلی کھلی شہادتیں یا دلائل ہندسیہ کے یقینی اور قطعی ثبوت طلب نہ کئے جائیں کیونکہ تمام و کمال مدار ثواب اور استحقاقِ قرب وتوصل الٰہی کا تقویٰ پر ہے اور تقویٰ کی حقیقت وہی شخص اپنے اندر رکھتا ہے جو افراط آمیز تفتیشوں اور لمبے چوڑے انکاروں اور ہرہر جزئی کی موشگافی سے اپنے تئیں بچاتا ہے اور صرف دور اندیشی کے طور سے ایک راہ کی سچائی کا دوسری راہوں پر غلبہ اور رحجان دیکھ کر بحسن ظن قبول کرلیتا ہے۔ اسی بات کا نام ایمان ہے اور اسی ایمان پر فیوض الٰہی کا دروازہ کھلتا ہے اور دنیا و آخرت میں سعادتیں حاصل ہوتی ہیں جب کوئی نیک بندہ ایمان پر محکم قدم مارتا ہے اور پھر دعا اور نماز اور فکر اور نظر سے اپنی حالت علمی میں ترقی چاہتا ہے تو خدائے تعالیٰ خود اس کا متولی ہوکر اور آپ اس کا ہاتھ پکڑ کر درجہ ایمان سے درجۂ عین الیقین تک اس کو پہنچا دیتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ بعد استقامت و مجاہدات و

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 85
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 85
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/85/mode/1up

بلکہؔ انسانی ظلمت یا شیطانی رعونت کی ایک تاریکی ہے کیونکہ اگر ایسا ہی ہوتا اور مذہب کے تمام اجزاء اور جو کچھ اس میں بھرا ہوا ہے پہلے ہی سے اظہر من الشمس اور بدیہی اور بیّن الانکشاف ہوتے یا اشکال ہندسی اور حساب کے اعمال کی طرح قطعی الثبوت دکھائی دیتے تو پھر اس حالت میں ایمان ایمان نہ رہتا اور جو ایمان لانے پر ثواب اور سعادتیں اور برکتیں مترتب ہوتی ہیں ان کو انسان ہرگز نہ پاسکتا کیونکہ ظاہر ہے کہ بیّن الحقیقت اور ظاہر الوجود باتوں کو مان لینا ایمان نہیں ہے۔ مثلاً اگر کوئی کہے کہ میں اس بات پر ایمان لایا کہ پانی سرد اور آگ گرم ہے اور ہر ایک انسان آنکھوں سے دیکھتا اور کانوں سے سنتا اور مونہہ سے کھاتا اور پاؤں سے چلتا ہے اور میں اس
ریاؔ ضات و تزکیہ و تصفیہ نفس ملتا ہے پہلے نہیں اور جو شخص پہلے ہی تمام جزئیات کی بکلی صفائی کرنا چاہتا ہے اور قبل از صفائی اپنے بدعقائد اور بداعمال کو کسی حالت میں چھوڑنا نہیں چاہتا وہ اس ثواب اور اس راہ کے پانے سے محروم ہے کیونکہ ایمان اسی حد تک ایمان ہے جب تک وہ امور جن کو مانا گیا ہے کسی قدر پردۂ غیب میں ہیں یعنی ایسی حالت پر واقعہ ہیں جو ابھی تک عقلی ثبوت نے ان پر احاطہ تام نہیں کیا اور نہ کسی کشفی طور پر وہ نظر آئی بلکہ ان کا ثبوت صرف غلبۂ ظن تک پہنچا ہے وبس۔
یہ تو انبیا کا سچا فلسفہ ہے جس پر قدم مارنے سے کروڑہا بندگان خدا آسمانی برکتیں پاچکے ہیں اور جس پر ٹھیک ٹھیک چلنے سے بے شمار خلق اللہ معرفت تامہ کے درجہ تک پہنچ چکی ہیں اور ہمیشہ پہنچتی ہیں اور جن اعلیٰ درجہ کے تعینیوں کو شوخی اور جلدی سے فلسفی لوگوں نے ڈھونڈہا اور نہ پایا وہ سب مراتب ان ایماندار بندوں کو بڑی آسانی سے مل گئے اور اس سے بھی بڑھ کر اس میں معرفت تامہ کے درجہ تک پہنچ گئے کہ جو کسی فلسفی کے کانوں نے اس کو نہیں سنا۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 86
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 86
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/86/mode/1up

باتؔ پر ایمان لایا کہ آفتاب اور قمر موجود ہیں اور زمین پر بہت سے جمادات اور نباتات اور حیوانات پائے جاتے ہیں تو ایسا ایمان لانا ایک ہنسی کی بات ہے نہ کہ ایمان اور اسی وجہ سے بدیہی اور کھلی کھلی باتوں کو ماننا عنداللہ و عندالعقلاء ثواب پانے کا موجب نہیں ٹھہرسکتا بلکہ ایمان وہ شے ہے کہ جن باتوں کو عقل قبو ل تو کرتی ہے مگر بوجہ در پردہ غیب ہونے کے جیسا کہ چاہئے ان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی ان باتوں میں اپنی فراست فطرتی سے کچھ ترجیح یعنے آثارِ صداقت دیکھ کر اور کسی قدر دلائل عقلیہ کا غلبہ اس طرف پاکر اور پھر خدا کے کلام کو اس پر شاہد ناطق و صادق معلوم کرکے ان باتوں کو مان لیا جائے یہی ایمان ہے جو ذریعہ خوشنودی خداوند کریم
اورؔ نہ اس کی آنکھ نے دیکھا اور نہ کبھی اس کے دل میں گزرا۔ لیکن اس کے مقابلہ پر خشک فلاسفروں کا جھوٹا اور مغشوش فلسفہ جس پر آج کل کے نو تعلیم یافتہ لوگ فریفتہ ہورہے ہیں اور جس کے بدنتائج کی بے خبری نے بہت سے سادہ لوحوں کو برباد کردیا ہے۔ یہ ہے کہ جب تک کسی اصل یا فرع کا قطعی طور پر فیصلہ نہ ہوجائے اور بکلی اس کا انکشاف نہ ہوجائے تب تک اس کو ہرگز ماننا نہیں چاہئے گو خدا ہو یا کوئی اور چیز ہو ۔ان میں سے اعلیٰ درجہ کے اور کامل فلاسفر جنہوں نے ان اصولوں کی سخت پابندی اختیار کی تھی انہوں نے اپنا نام محققین رکھا جن کا دوسرا نام دہریہ بھی ہے۔ ان کامل فلاسفروں کا بہ پابندی اپنے اصول قدیمہ کے یہ مذہب رہا ہے کہ چونکہ خدائے تعالیٰ کا وجود قطعی طور پر بذریعہعقل ثابت نہیں ہوسکتا اور نہ ہم نے اس کو بچشم خود دیکھا اس لئے ایسے خدا کا ماننا ایک امر مظنون اور مشتبہ کا مان لینا ہے جو اصول متقررہ فلسفہ سے بکلی بعید ہے سو انہوں نے پہلے ہی خدائے تعالیٰ کو درمیان سے اڑایا۔ پھر فرشتوں کا یوں فیصلہ کیا کہ یہ بھی خدائے تعالیٰ کی طرح نظر نہیں آتے چلو یہ بھی درمیان سے اٹھاؤ۔ پھر روحوں کی طرف متوجہ ہوئے اور یہ رائے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 87
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 87
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/87/mode/1up

جلّؔ شَانہٗ ہوجاتا ہے اور بعد اس کے جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں مرتبہ ایقان ہے اور پھر اس کے بعد مرتبہ عرفان کا ہے یعنے جبکہ بندہ ایسی باتوں کو مان لیتا ہے جن کو اس کی عقل امکان یا جواز یا وجوب کی صورت میں قبول توکرلیتی ہے مگر انکشاف کلّی کے طور پر ان پر احاطہ نہیں کرسکتے تو خدائے تعالیٰ کی نظر میں وہ شخص صادق ٹھہر جاتا ہے اور حضرت خداوند کریم عزّ اسمہٗ بہ برکت اس ایمان کے عرفان کا مرتبہ اس کو عطا کردیتا ہے یعنی اپنی طرف سے علم و معرفت و سکینت اس پر نازل کرتا ہے اور کشفی اور الہامی نوروں سے وہ بقیّہ ظلمت بھی اٹھا دیتا ہے جس کے اٹھانے سے عقل دود آمیز عاجز رہ گئی تھی اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے جیسے انسان کی فطرت میں مبادی امور کے کسی قدر سمجھنے
ظاہرؔ کی کہ ہم کوئی ثبوت قابل اطمینان اس بات پر نہیں دیکھتے کہ بعد مرنے کے روح باقی رہ جاتی ہے نہ کوئی روح نظر آتی ہے اور نہ واپس آکر کچھ اپنا قصہ سناتی ہے بلکہ سب روحیں مفارقت بدن کے بعد خدا اور فرشتوں کی طرح بے اثر و بے نشان ہیں سو ان کا بھی وجود ماننا خلاف دلیل و برہان ہے۔ ان سب فیصلوں کے بعد ان کی نظر عمیق نے تکالیف شرعیہ کی مشقت اور حلال حرام کا فرق اصول فلسفہ کا سخت مخالف سمجھا۔ اس لئے انہوں نے صاف صاف اپنی رائے ظاہر کردی کہ ماں اور بہن اور جورو میں فرق کرنا یا اور چیزوں میں سے بلاثبوت ضرر طبی بعض چیزوں کو حرام سمجھ لینا یہ سب بناوٹی باتیں ہیں جن پر کوئی فلسفی دلیل قائم نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ ننگا رہنے میں کوئی شناعت عقلی ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس میں طبی قواعد کے رو سے فوائد ہیں۔ اسی طرح ان فلاسفروں کے اور بھی مسائل ہیں۔ اور خلاصہ ان کے مذہب کا یہی ہے کہ وہ بجز دلائل قطعیہ عقلیہ کے کسی چیز کو نہیں مانتے اور ان کی فلسفیانہ نگاہ میں گو کیسی کوئی بدعملی ہو جب تک براہین قطعیہ فلسفیہ سے اس کا بدہونا ثابت نہ ہولے یعنے جب تک اس میں کوئی طبی ضرر یا دنیوی بدانتظامی متصور

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 88
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 88
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/88/mode/1up

کے ؔ لئے ایک عقلی قوت رکھی ہے اسی طرح انسان میں کشف اور الہام کے پانے کی بھی ایک قوت مخفی ہے جب عقلِ انسانی اپنی حدِّ مقررہ تک چل کر آگے قدم رکھنے سے رہ جاتی ہے تو اس جگہ خدائے تعالیٰ اپنے صادق اور وفادار بندوں کو کمال عرفان اور یقین تک پہنچانے کی غرض سے الہام اور کشف سے دستگیری فرماتا ہے اور جو منزلیں بذریعہ عقل طے کرنے سے رہ گئی تھیں اب وہ بذریعہ کشف اور الہام طے ہوجاتی ہیں اور سالکین مرتبہ عین الیقین بلکہ حقّ الیقین تک پہنچ جاتے ہیں یہی سنت اللہ اور عادت اللہ ہے جس کی رہنمائی کے لئے تمام پاک نبی دنیا میں آئے ہیں اور جس پر چلنے کے بغیر کوئی شخص سچی اور کامل معرفت تک نہیں پہنچا مگر کم بخت خشک فلسفی کو کچھ ایسی جلدی ہوتی ہے کہ وہ یہیؔ
نہ ؔ ہو تب تک اس کا ترک کرنا بے جا ہے مگر جو دوسرے درجہ کے فلاسفر ہیں انہوں نے لوگوں کے لعن طعن سے اندیشہ کرکے اپنے فلاسفری اصولوں کو کچھ نرم کردیا ہے اور قوم کے خوف اور ہم جنسوں کی شرم سے خدا اور عالم جزا اور دوسری کئی باتوں کو ظنی طور پر تسلیم کر بیٹھے ہیں لیکن یہ اعلیٰ درجہ کے فلاسفر ان کو سخت نالائق اور بدفہم اور غبی الطبع اور بزدل اور اپنی سوسائیٹی کے بدنام کنندہ خیال کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے فلاسفر ہونے کا دعویٰ تو کیا لیکن اصول فلسفہ پر جیسا کہ حق چلنے کا تھا نہیں چلے۔ اس لئے اول درجہ کے فلاسفر اس بات سے عار رکھتے ہیں کہ ان ناقصوں کو فلاسفر کے باعزت لفظ سے مخاطب یا موسوم کیا جائے کیونکہ انہوں نے کچھ کچھ تو فلسفہ کے طریقہ پر قدم مارا اور کچھ عام لوگوں کی ملامت لعنت سے ڈر کر نبیوں کے عقائد میں بھی (جو فلسفیوں کے منشاء کے موافق قطعی اور یقینی دلائل سے ثابت نہیں ہوسکتے) ٹانگ اڑادی اس لئے یہ لوگ ان کی نظر میں نیم حکیم ہیں حقیقی فلاسفر نہیں ہاں ممکن بلکہ قرین قیاس ہے اور امید کی جاتی ہے کہ جیسے جیسے ایک سخت جوش قطعی اور یقینی اور نہایت واشگاف ثبوت عقلی طلب کرنے کا انکے مستعد اور ہونہار لوگوں کے دلوں میں آتا جائے گا۔ ویسی ویسی وہ کسریں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 89
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 89
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/89/mode/1up

چاہتاہے کہ جو کچھ کھلنا ہے وہ عقلی مرتبہ پر ہی کھل جائے اور نہیں جانتا کہ عقل انسانی اپنی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتی اور نہ طاقت سے آگے قدم رکھ سکتی ہے اور نہ اس بات کی طرف فکر دوڑاتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے انسان کو اس کے کمالات مطلوبہ تک پہنچانے کے لئے صرف جوہرِ عقل ہی عطا نہیں کیا بلکہ کشف اور الہام پانے کی قوّت بھی اس کی فطرت میں رکھی ہے سو جو کچھ خدائے تعالیٰ نے اپنی حکمت کاملہ سے وسائل خداشناسی انسان کی سرشت کو عطا کئے ہیں۔ ان وسائل میں سے صرف ایک ابتدائی اور ادنیٰ درجہ کے وسیلہ کو استعمال میں لانا اور باقی وسائل خداشناسی سے بکلّی بے خبر رہنا بڑی بھاری بدنصیبی ہے اور ان قوتوں کو ہمیشہ بیکار رکھ کر ضائع کردینا اور ان سے فائدہ نہ اٹھانا پرلے درجہ کی بے سمجھی ہے سو ایسا شخص سچا فلسفی ہرگز نہیں ہوسکتا کہ جو کشف اور الہام پانے کی قوت کو معطل اور بیکار چھوڑتا ہے بلکہ اس سے انکار کرتا ہے حالانکہ ہزاروں مقدسوں کی شہادت سے کشف اور الہام کا پایا جانا بہ پایہ ثبوت پہنچ چکا ہے اور تمام سچے عارف اسی طریق سے معرفت کاملہ تک
جوؔ باقی رہ گئے ہیں ان کے خیالات سے وہ سب نکل جائیں گے اور عقائد اور اعمال میں پوری پوری مطابقت اپنے بڑے بھائیوں سے کرلیں گے تب وہ شیطانی اور ظلمانی دو کالے پانی دنیا کے برباد کرنے کے لئے ایک ہی ہوکر بہیں گے اور اگر آئندہ ذرّیت میں فلسفہ نے ترقی کی تو وہ بجائے اس کے کہ حال کے فلسفیوں کی طرح یہ سوال کریں کہ اگر ملائک یا شیاطین کچھ چیز ہیں تو ہمیں دکھلاؤ یہ اعلیٰ درجہ کے سوالات کریں گے کہ اگرخدا اور اس کی قدرتیں کچھ چیز ہیں تو ہمیں ظاہر ظاہر بلاواسطہ اسباب دکھاؤ اور اگر روحیں بعد مفارقت بدن باقی رہ جاتی ہیں اور ان کا وجود بھی کچھ چیز ہے تو وہ بھی ہمیں دکھلاؤ غرض جیسے جیسے ان نوآموزوں کے فلسفہ میں صیقل ہوتا جائے گا۔ اعلیٰ سے اعلیٰ سوال ان کے دلوں میں پیدا ہوتے جائیں گے یہاں تک کہ اول درجہ کے فلاسفروں سے ہاتھ جا ملائیں گے۔ ابھی تو حال کچا اور خیال بھی کچا ہے۔ منہ۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 90
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 90
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/90/mode/1up

پہنچےؔ ہیں۔ آریہ مت والے جن کا دھرم دلی روشنی سے علاقہ نہیں رکھتا وہ کشف اور ایسے الہام سے تو قطعاً منکر ہیں جو امور غیبیہ اور خوارق اعجازیہ پر مشتمل ہو بقول ان کے وید پیشگوئیوں سے بکلّی خالی اور قدرتی نشانوں سے بکلّی تہیدست ہے مگر باایں ہمہ پھر بھی الہاؔ می کتاب ویدؔ ہی کو مانتے ہیں۔ غرض جیسا کہ خدائے تعالیٰ کا کلام اس کی صفات کمالیہ کا آئینہ ہونا چاہئے یہ انوار الٰہی وید میں ثابت نہیں کرسکتے بلکہ اپنے ہی مونہہ سے اقرار کرتے ہیں کہ ان کا وید اؔ خبارِ غیب اور اسرارِ قدرت سے بکلّی عاری اور عاجز ہے لیکن ان سب خرابیوں کے ساتھ اس بات پر بھی اصرار کرتے ہیں کہ الہام الٰہی وید ہی پر ختم ہے وہ ہمیشہ کے کشف اور الہامؔ سے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف چار آدمیوں کو جن پر وید اترا یہ قوت الہامی بوجہ ان کے نیک اعمال کے قدرت نے عطا کی تھی مگر بعد ان کے کسی کو نہیں ملی گویا وہ چار آدمی ایک انوکھی پیدائش کے تھے جن سے باقی جمیع بنی آدم کو ان کی فطرت یا عمل کےُ رو سے کچھ مناسبت نہیں سو یہ قوم روحانی اندھا ہونے پر راضی ہے ہاں آج کل عقل عقل تو پکارتے ہیں اور قانون قدرت بھی کسی کے مونہہ سے سن لیا ہے تب ہی تو لالہ مرلیدھر صاحب نے اعتراض کیا ہے کہ شقّ القمر قانون قدرت کے برخلاف ہے مگر ہمیں لالہ صاحب موصوف کے اس تقلیدی اعتراض پر نظر کرکے بڑا ہی افسوس آتا ہے کاش انہوں نے کہیں سے یہ بھی سنا ہوتا کہ خدائے تعالیٰ کی خدائی اور الوہیّت اس کی قدرت غیر محدودہ اور اسرار نامعدودہ سے وابستہ ہے جس کو قانون کے طور پر کسی حد کے اندر گھیرلینا انسان کا کام نہیں ہے خداشناسی کے لئے یہ بڑا بھاری بنیادی مسئلہ ہے کہ خدائے ذوالجلال کی قدرتیں اور حکمتیں بے انتہا ہیں اس مسئلہ کی حقیقت سمجھنے اور اس پر عمیق غور کرنے سے سب الجھاؤ اور پیچ خیالات کا رفع ہوجاتا ہے اور سیدھا راہ حق شناسی اور حق پرستی کا نظر آنے لگتا ہے۔ ہم اس جگہ اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ خدائے تعالیٰ ہمیشہ اپنی ازلی ابدی صفات کے موافق کام کرتا ہے اور اگر ہم دوسرے لفظوں میں انہیں ازلی ابدی صفات پر چلنے کا نام قانون الٰہی رکھیں تو بے جا نہیں مگر ہمارا کلام اور بحث اس میں ہے کہ وہ آثار صفات ازلی ابدی یا یوں کہو کہ وہ قانون قدیم الٰہی محدود یا معدود کیوں مانا جائے ہاں بے شک یہ تو ہم مانتے ہیں اور مان لینا چاہئے کہ جو کچھ صفتیں جناب الٰہی کی ذات میں موجود ہیں انہیں صفات

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 91
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 91
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/91/mode/1up

غیرؔ محدود کے آثار اپنے اپنے وقتوں میں ظہور میں آتے ہیں نہ کوئی امر ان کا غیر اور وہ صفات ہریک مخلوق ارضی و سماوی پر مؤثر ہورہی ہیں اور انہیں آثار الصّفات کا نام سنت اللہ یا قانون قدرت ہے مگر چونکہ خدائے تعالیٰ معہ اپنی صفات کاملہ کے غیر محدود اور غیر متناہی ہے اس لئے ہماری بڑی نادانی ہوگی اگر ہم یہ دعویٰ کریں کہ اس کے آثار الصّفات یعنی قوانین قدرت باندازہ ہمارے تجربہ یا فہم یا مشاہدہ کے ہیں اس سے بڑھ کر نہیں۔ آج کل کے فلسفی الطبع لوگوں کی یہ بڑی بھاری غلطی ہے کہ اول وہ قانون قدرت کو ایسا سمجھ بیٹھے ہیں جس کی من کل الوجوہ حدبست ہوچکی ہے۔ اور پھر بعد اس کے جو امر نیا پیش آئے اس کو ہرگز نہیں مانتے اور ظاہر ہے کہ اس خیال کی بنا راستی پر نہیں ہے اور اگر یہی سچ ہوتا تو پھر کسی نئی بات کے ماننے کے لئے کوئی سبیل باقی نہ رہتا اور امور جدیدہ کا دریافت کرنا غیرممکن ہوجاتا کیونکہ اس صورت میں ہریک نیا فعل بصورت نقص قوانین طبعی نظر آئے گا اور اس کے ترک کرنے سے ناحق ایک جدید صداقت کو ترک کرنا پڑے گا یہی وجہ ہے کہ یہ منحوس اصول آج تک دکھانے کے ہی دانت رہے ہیں نہ کھانے کے اور امور جدیدہ کا قوی ظہور اس قاعدہ کی تار وپود کو ہمیشہ توڑتا رہا ہے جب کسی زمانہ میں کوئی جدید خاصہ متعلق علم طبعی یا ہیئت وغیرہ علوم کے متعلق ظہور پکڑتا رہا ہے تو ایک مرتبہ فلسفہ کے شیش محل پر ایک سخت بھونچال کا موجب ہوا ہے جس سے متکبر فلسفیوں کا شورشرارہ کچھ عرصہ کے واسطے فرو ہوتا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کے خیالات ہمیشہ پلٹے کھاتے رہے ہیں اور کبھی ایک ہی صورت یا ایک ہی نقشہ پر ہرگز قائم نہیں رہے اگر کوئی صفحات تاریخ زمانہ میں واقعات سوانح عمری حکماء پر غور کرے تو اس کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کے خیالات کی ٹرین کتنی مختلف سڑکوں یا یہ کہ کس قدر متناقض چالوں پر چلی ہے اور کیسے داغ خجالت اور ندامت کے ساتھ ایک رائے کو دوسری رائے سے تبدیل کرتے آئے ہیں اور کیونکر انہوں نے ایک مدت دراز تک کسی بات کا انکار کرکے اور قانون قدرت سے اس کو باہر سمجھ کر آخر نہایت متندمانہ حالت میں اسی بات کو قبول کرلیا ہے سو اس تبدیل آراء کا کیا سبب تھا یہی تو تھا کہ جو کچھ انہوں نے سمجھ رکھا تھا وہ ایک ظنی بات تھی جس کی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 92
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 92
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/92/mode/1up

مشاؔ ہدات جدیدہ نے تکذیب کی سوجن شکلوں اور حالتوں میں وہ مشاہدات جدیدہ جلوہ گر ہوئے انہیں کے موافق ان کی راؤں کی پٹری بدلتی اور الٹتی پلٹتی رہی اور جدھر تجارب جدیدہ کا رخ پلٹتا رہا ادھر ہی ان کے خیالات کی ہوائیں پلٹا کھاتی رہیں غرض فلسفیوں کے خیالات کی لگام ہمیشہ امور جدید الظہور کے ہاتھ میں رہی ہے اور اب بھی بہت کچھ ان کی نظروں سے چھپا ہوا ہے جس کی نسبت امید کی جاتی ہے کہ وہ آئندہ ٹھوکریں کھا کھا کر اور طرح طرح کی رسوائیاں اٹھا اٹھا کر کسی نہ کسی وقت قبول کریں گے کیونکہ قوانینِ قدرت انسانی عقل کے دفتر میں ابھی تک ایسے منضبط نہیں اور نہ ہوسکتے ہیں جن پر نظر کرکے نئی تحقیقاتوں سے نوامیدی ہو۔ کیا کوئی عقلمند خیال کرسکتا ہے کہ انسان دنیا کے مکتب خانہ میں باوجود اپنی اس قدر عمر قلیل کے تحصیل اسرارِ ازلی ابدی سے بکلّی فراغت پاچکا ہے اور اب اس کا تجربہ عجائبات الٰہیہ پر ایسا محیط ہوگیا ہے کہ جو کچھ اس کے تجربہ سے باہر ہو وہ فی الحقیقت خدائے تعالیٰ کی قدرت سے باہر ہے میں جانتا ہوں کہ ایسا خیال بجز ایک بے شرم اور ابلہ آدمی کے کوئی دانشمند نہیں کرسکتا۔ فلاسفروں میں سے جو واقعی نیک دانا اور سچے روحانی آدمی گزرے ہیں انہوں نے خود تسلیم کرلیا کہ ہمارے خیالات جو محدود اور منقبض ہیں خدا اور اس کے بے انتہا بھیدوں اور حکمتوں کی شناخت کا ذریعہ نہیں ہوسکتے بارہا فلاسفروں نے اپنی راؤں میں ندامتیں اٹھائیں اور صدہا خواص قاعدہ طبعی کے برخلاف اور قوانین طبعیہ کے نقیض ہوکر پھر مشاہدہ کے رو سے ثابت ہوگئے تو آخر وہ ماننے ہی پڑے اور علوم طبعی یا ہئیت کی وہاں کچھ پیش نہ گئی۔ ہاں بعض سوانح عجیبہ جو تاریخی طور پر ثابت کی جاتی ہیں جیسے یہی معجزہ شق القمر جو لالہ مرلیدھر صاحب کی نظر میں پرمیشر کے ازلی ابدی قانون قدرت کے برخلاف ہے ایسے سوانحہ پر یقین لانا یا نہ لانا اپنے علم وسیع یا محدود پر موقوف ہے یہ حجت ہرگز نہیں ہوسکتی کہ یہ واقعہ علوم طبعی یا ہیئت کے برخلاف ہے کیونکہ قدرتِ قدیمہ کاملہ کے موافق یا مخالف ہونا بعد احاطۂ قدرت کے معلوم ہوسکتا ہے اس لئے یہ علوم ناقصہ ہیئت و طبعی جو ہمارے دفتروں میں منضبط ہیں وہ اس تعریف کے ہرگز لائق نہیں جو انہوں نے کوئی دقیقہ اور کوئی امر تہہ میں چھپا ہوا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 93
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 93
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/93/mode/1up

نہیںؔ چھوڑا اور نہ ایسا بھروسہ ان پر کرنا عقلمندی ہے۔ خواص جدید الظہور کا ایک عجیب کرشمہ ہے جو ہمیشہ قیاسی علوم کی بربادی اور بے عزتی کرتا رہا ہے اور کرے گا اور جس طرح ہمارے زمانہ نے ایسے علوم جدید ہ پائے جن سے پہلے لوگ بے خبری میں گزر گئے یا باطل کو حق کہتے سو گئے ایسا ہی ممکن بلکہ قرین قیاس ہے کہ آنے والی ذریت اس زمانہ کی غلطیاں نکالے اور وہ باتیں ان پر ظاہر ہوں جو اس زمانہ پر ظاہر نہیں ہوئیں آسمان تو آسمان ہے زمین کے خواص جاننے سے ابھی کب فراغت ہوچکی ہے۔
تو کارِ زمین رانکو ساختی
کہ با آسمان نیز پرداختی
غرض علوم جدیدہ کا سلسلہ منقطع ہونا نظرنہیں آتا شق القمر کے ایک تاریخی واقعہ سے کیوں اتنا نفرت یا تعجب کرو۔ گزشتہ دنوں میں تو جس کو کچھ تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے ایک یورپین فلاسفر کو سورج کے ٹوٹنے کی ہی فکر پڑگئی تھی پھر شاید شگاف ہوکر مل گیا۔ فلاسفروں کو ابھی بہت کچھ سمجھنا اور معلوم کرنا باقی ہے۔ کے آمدی کے پیر شدی۔ ابھی تو نام خدا ہے غنچہ صبا تو چھو بھی نہیں گئی ہے یہ نہایت محقق صداقت ہے کہ ہریک چیز اپنے اندر ایک ایسی خاصیت رکھتی ہے جس سے وہ خدائے تعالیٰ کی غیرمتناہی قدرتوں سے اثر پذیر ہوتی رہی سو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خواص اشیاء ختم نہیں ہوسکتے گو ہم ان پر اطلاع پائیں یا نہ پائیں اگر ایک دانہ خشخاش کے خواص تحقیق کرنے کے لئے تمام فلاسفر اولین و آخرین قیامت تک اپنی دماغی قوتیں خرچ کریں تو کوئی عقلمند ہرگز باور نہیں کرسکتا کہ وہ ان خواص پر احاطہ تام کرلیں سو یہ خیال کہ اجرام علوی یا اجسام سفلی کے خواص جس قدر بذریعہ علم ہیئت یا طبعی دریافت ہوچکے ہیں اسی قدر پر ختم ہیں اس سے زیادہ کوئی بے سمجھی کی بات نہیں۔
اب خلاصہ اس تمام مقدمہ کا یہ ہے کہ قانون قدرت کوئی ایسی شے نہیں ہے کہ ایک حقیقت ثابت شدہ کے آگے ٹھہرسکے کیونکہ قانون قدرت خدائے تعالیٰ کے ان افعال سے مراد ہے جو قدرتی طور پر ظہور میں آئے یا آئندہ آئیں گے لیکن چونکہ ابھی خدائے تعالیٰ اپنی قدرتوں کے دکھلانے سے تھک نہیں گیا ہے اور نہ یہ کہ اب قدرت نمائی سے بے زور ہوگیا ہے یا سو گیا ہے یا کسی طرف کو

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 94
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 94
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/94/mode/1up

کھسکؔ گیا ہے یا کسی خارجی قاسر سے مجبور کیا گیا ہے اور مجبوراً آئندہ کے عجائب کاموں سے دستکش ہوگیا ہے اور ہمارے لئے وہی چند صدیوں کی کار گزاری (یا اس سے کچھ زیادہ سمجھ لو) چھوڑ گیا ہے اس لئے ساری عقلمندی اور حکمت اور فلسفیت اور ادب اور تعلیم اسی میں ہے کہ ہم چند موجودہ مشہودہ قدرتوں کو جنہیں ابھی صدہا طور کا اجمال باقی ہے مجموعہ قوانین قدرت خیال نہ کر بیٹھیں اور اس پر نادان لوگوں کی طرح ضد نہ کریں کہ ہمارے مشاہدات سے خدائے تعالیٰ کا فعل ہرگز تجاوز نہیں کرسکتا کیونکہ یہ صرف احمقانہ دعویٰ ہے جو ہرگز ثابت نہیں کیا گیا اور نہ ثابت کیا جاسکتا ہے۔ ہم نے مانا کہ مذہب نیچر کا نقیض نہیں ہے۔ مگر یہ آپ کیونکر ہم سے تسلیم کراتے ہیں کہ سب خواص نیچریہ پر انسان محیط ہوچکا ہے کیا اس پر کوئی دلیل بھی ہے یا نرا تحکم ہی سے مونہہ بند کرنا چاہتے ہیں یہ صاف ظاہر ہے کہ اگر تجارب و مشاہدات جو آج تک قلمبند ہوچکے ہیں صحیح اور کامل ہوتے تو علوم جدیدہ کو قدم رکھنے کی جگہ نہ رہتی حالانکہ آپ لوگ بھی کہا کرتے ہیں کہ علوم جدیدہ کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہے میں سوچ میں ہوں کہ کیونکر ایسی چیزیں کامل اور قطعی طور پر مقیاس الصّداقت یا میزان الحق ٹھہر سکتی ہیں جن کے اپنے ہی پورے طور کے انکشاف میں ابھی بہت سی منازل باقی ہیں اور اس پیچ در پیچ معمّانے یہاں تک حکما ء کو حیران اور سرگردان کر رکھا ہے کہ بعض ان میں سے حقائقِ اشیاء کے منکر ہی ہوگئے (منکرین حقائق کا وہی گروہ ہے جس کو سوفسطائی کہتے ہیں) اور بعض ان میں سے یہ بھی کہہ گئے کہ اگرچہ خواص اشیاء ثابت ہیں تاہم دائمی طور پر ان کا ثبوت نہیں پایا جاتا۔ پانی آگ کو بجھا دیتا ہے مگر ممکن ہے کہ کسی ارضی یا سماوی تاثیر سے کوئی چشمہ پانی کا اس خاصیت سے باہر آجائے آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے مگر ممکن ہے کہ ایک آگ بعض موجبات اندرونی یا بیرونی سے اس خاصیت کو ظاہر نہ کرسکے کیونکہ ایسی عجائب باتیں ہمیشہ ظہور میں آتی رہتی ہیں۔ حکماء کا یہ بھی قول ہے کہ بعض تاثیرات ارضی یا سماوی ہزاروں بلکہ لاکھوں برسوں کے بعد ظہور میں آتی ہیں جو ناواقف اور بے خبر لوگوں کو بطور خارقِ عادت معلوم دیتی ہیں اور کبھی کبھی کسی کسی زمانہ میں ایسا کچھ ہوتا رہتا ہے کہ کچھ عجائبات

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 95
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 95
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/95/mode/1up

آسمانؔ میں یا زمین میں ظاہر ہوتے ہیں جو بڑے بڑے فیلسوفوں کو حیرت میں ڈالتے ہیں اور پھر فلسفی لوگ ان کے قطعی ثبوت اور مشاہدہ سے خیرہ اور متندم ہوکر کچھ نہ کچھ تکلّفات کرکے طبعی یا ہیئت میں ان کو گھسیڑ دیتے ہیں تا ان کے قانون قدرت میں کچھ فرق نہ آجائے ایسا ہی یہ لوگ اِدھر کی اُدھر لگا کر اور نئی باتوں کو کسی علمی قاعدہ میں جبراً دھنسا کر گزارہ کرلیتے ہیں جب تک پردار مچھلی نہیں دیکھی گئی تھی تب تک کوئی فلسفی اس کا قائل نہ تھا اور جب تک متواتر دم کے کٹنے سے دم کٹے کتے پیدا نہ ہونے لگے تب تک اس خاصیت کا کوئی فلاسفر اقراری نہ ہوا اور جب تک بعض زمینوں میں کسی سخت زلزلہ کی وجہ سے کوئی ایسی آگ نہ نکلی کہ وہ پتھروں کو پگھلا دیتی تھی مگر لکڑی کو جلا نہیں سکتی تھی تب تک فلسفی لوگ ایسی خاصیت کا آگ میں ہونا خلاف قانون قدرت سمجھتے رہے جب تک اسپی ریٹر کا آلہ نہیں نکلا تھا کس فلسفی کو معلوم تھا کہ عمل ٹرینس فیوژن آف بلڈ (یعنے ایک انسان کا خون دوسرے انسان میں داخل کرنا) قانون فطرت میں داخل ہے۔ بھلا اس فلاسفر کا نام لینا چاہئے جو الیکٹرک مشین یعنی بجلی کی کل نکلنے سے پہلے اس بجلی لگانے کے عمل کا قائل تھا۔
فلسفی را چشم حق بین سخت نابینا بود
گرچہ بیکن باشد ویا بو علی سینا بود
یہ ثابت ہوچکا ہے اور ہمیشہ مشاہدہ میں آتا ہے کہ جو لوگ خواہ نخواہ قانونِ قدرت کے پابند کہلاتے ہیں وہ اپنی رائے میں بہت کچے ہوتے ہیں اگر دس بیس معتبر اور پختہ عقلمند اور ان کے ہم رتبہ آدمی کوئی عجیب بات ہنسی کے طور پر بھی بیان کردیں مثلاً یہ کہہ دیں کہ ہم ایک پردار آدمی کو بچشم خود دیکھ آئے ہیں یا ایک پتھر میں سے شہد مترشح ہوتا ہم نے دیکھا کیا بلکہ کھایا ہے یا آسمان سے ہم نے پھول برستے دیکھے اور پھولوں میں سے سونا نکلا یا شاید کوئی واقعہ صحیحہ ہی پیش آوے جیسے آج کل کے بعض اخباروں میں شائع کیا گیا ہے کہ یورپ کے ایک ملک میں ایک پتھر تیس من وزنی برسا جس میں ہڈیاں بھی ملی ہوئی ہیں شاید ان کی ہڈیاں ہیں جو چاند کے کمرہ میں رہنے والے ہیں تو فی الفور فلاسفر صاحب کے دل میں ایک دھڑکا سا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 96
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 96
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/96/mode/1up

شروؔ ع ہوجائے گا تو یہ دھڑکا اور اضطراب اس کم بخت کا اس کے نقصان عقل اور فہم پر صریح شہادت دیتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اکثر سرمایہ اس کا ظن ہے کیونکہ کسی قطعی ثبوت میں انسان کبھی تردّد نہیں کرسکتا مثلاً اگر کسی زندہ آدمی کو دس بیس آدمی مل کر یہ کہیں کہ تو زندہ نہیں بلکہ مرا ہوا ہے تو اس قدر کیا وہ دس ہزار آدمی کی شہادت سے بھی اپنی زندگی سے شک میں نہیں پڑے گا بلکہ بے شمار اشخاص کا مجمع بھی اپنے حلفی گواہوں سے اس کو اضطراب میں نہیں ڈالے گا کیونکہ اس کو اپنی زندگی پر پورا پورا یقین ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ فلسفہ میں جو واقعی دانا ہیں وہ تجارب فلسفیہ پر بہت ہی کم یقین رکھتے ہیں کیونکہ ان کے معلومات وسیع ہیں اور ان کو اپنے فلسفہ کی اندرونی حقیقت معلوم ہے۔
علامہ شارح قانون جو طبیب حاذق اور بڑا بھاری فلسفی ہے ایک جگہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے جو یونانیوں میں یہ قصے بہت مشہور ہیں جو بعض عورتوں کو جو اپنے وقت میں عفیفہ اور صالحہ تھیں بغیر صحبت مرد کے حمل ہوکر اولاد ہوئی ہے۔ پھر علامہ موصوف بطور رائے کے لکھتا ہے کہ یہ سب قصے افترا پر محمول نہیں ہوسکتے کیونکہ بغیر کسی اصل صحیح کے مختلف افراد اور مہذب قوموں میں ایسے دعاوی ہرگز فروغ نہیں پاسکتے ہیں اور نہ عورتوں کو جُرأت ہوسکتی ہے کہ وہ زانیہ ہونے کی حالت میں اپنے حمل کی ایسی وجہ پیش کریں جس سے اور بھی ہنسی کرائیں اور ہمیں اس بات سے پرہیز کرنا چاہئے کہ خواہ نخواہ ایسی تمام عورتوں پر زنا کا الزام لگائیں جو مختلف ملکوں اور قوموں اور زمانوں میں مستور الحال گزر چکی ہیں کیونکہ طبی قواعد کے رو سے ایسا ہونا ممکن ہے وجہ یہ کہ بعض عورتیں جو بہت ہی نادر الوجود ہیں بباعثِ غلبۂ رجولیت اس لائق ہوتی ہیں کہ ان کی منی دونوں طور قوت فاعلی و انفعالی رکھتی ہو اور کسی سخت تحریک خیال شہوت سے جنبش میں آکر خودبخود حمل ٹھہرنے کا موجب ہوجائے۔ میں کہتا ہوں کہ ایسے قصے ہندوؤں میں بھی مشہور ہیں سورج بنسی اور چندر بنسی خاندان کی انہیں قصوں پر بنیاد پائی جاتی ہے۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 97
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 97
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/97/mode/1up

غرض ؔ یہ خیال ہندوؤں میں بھی پرانا چلا آتا ہے یہاں تک کہ رگ وید میں لکھا ہے کہ ایک نیک بخت رشی کی لڑکی کو فقط اندر دیوتا کی ہی توجہ سے حمل ہوگیا تھا اور ایسا ہی شمس و قمر سے بھی شرفا آریہ کی پاکدامن لڑکیوں کو حمل ہوتا رہا ہے۔ اب ان قصوں اور کہانیوں کو جو بہ کثرت مختلف قوموں میں پائی جاتی ہیں یکمرتبہ مردود اور باطل سمجھ کر پایۂ اعتبار سے ساقط کردینا حکیمانہ طریق نہیں ہے بلکہ حق تو یہ ہے کہ اگر ان قصوں کو ان کے زوائد سے الگ کرکے دیکھا جائے تو ان کے نیچے وہی ایک دقیق خاصہ علم طبعی کا چھپا ہوا نظر آتا ہے جس کی طرف علامہ نے اشارہ کیا ہے اور اس بات پر ضد نہیں کرنی چاہئے کہ اگر یہ بات کچھ حقیقت رکھتی ہے تو پھر عام طور پر کیوں وقوع میں نہیں آتی کیونکہ اول تو یہ سوانح ایسے نادر الوقوع نہیں ہیں جیسے آج کل کے نئے فلسفی ان کو خیال کررہے ہیں بلکہ مختلف قوموں میں اس کے آثار سلسلہ وار چلے آئے ہیں۔ اگرچہ عبرانیوں میں تو صرف حضرت مسیح اس طرز کی پیدائش میں بیان کئے گئے ہیں لیکن یونانیوں اور آریوں کی کتابوں میں اس کی نظیریں بہت پائی جاتی ہیں اور حال کے زمانہ اور اس کے قریب قریب بھی بعض ممالک کی عورتیں حمل دار ہوکر ایسا کچھ بیان کرتی رہی ہیں اب ان سب قصوں کی نسبت گو کسی منکر کی کیسی ہی رائے ہو مگر صرف ان کے نادر الوقوع ہونے کی وجہ سے وہ سب کی سب رد نہیں کی جاسکتیں اور ان کے ابطال پر کوئی دلیل فلسفی قائم نہیں ہوسکتی بلکہ اکثر یونانی فلسفی (آسمانوں کے ماننے والے) اور انہیں میں سے افلاطوؔ ن اور ارسطوؔ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ حادث چیزوں کی مبادی آسمانوں کی حرکتیں اور ان کے مختلف دورے ہیں۔ اسی جہت سے علوی اور سفلی چیزوں کے حکم اور حال مختلف ہوتے ہیں اور اسی بنا پر ان کے مذہب کے رو سے ممکن ہے کہ ایک دور میں ایسی عجائب چیزیں یا عجائب شکلوں کے جانور پیدا ہوں کہ نہ تو دور سابق میں اور نہ دور لاحق میں ان کی نظیر پائی جائے غرض نادر الظہور اشیاء کا سلسلہ اس وضع عالم کو لازمی پڑا ہوا ہے۔ اور علامہ موصوف نے اس مقام میں ایک تقریر بہت ہی عمدہ لکھی ہے وہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ سب انسان ایک نوع میں ہونے کی وجہ سے باہم مناسب الطبع واقعہ ہیں مگر پھر بھی ان

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 98
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 98
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/98/mode/1up

میںؔ سے بعض کو نادر طور پر کبھی کبھی کسی کسی زمانہ میں خاص خاص طاقتیں یا کسی اعلیٰ درجہ کی قوتیں عطا ہوتی ہیں جو عام طور پر دوسروں میں نہیں پائی جاتیں جیسے مشاہدہ سے ثابت ہوا ہے کہ بعض نے حال کے زمانہ میں تین سو برس سے زیادہ عمر پائی ہے جو بطور خارق عادت ہے اور بعض کی قوت حافظہ یا قوت نظر ایسے کمال درجہ کو پہنچی ہے جو اس کی نظیر نہیں پائی گئی اور اس قسم کے لوگ بہت نادر الوجود ہوتے ہیں جو صدہا یا ہزاروں برسوں کے بعد کوئی فرد ان میں سے ظہور میں آتا ہے اور چونکہ عوام الناس کی نظر اکثر امور کثیر الوقوع اور متواتر الظہور پر ہوا کرتی ہے اور یہ بھی ہوتا ہے کہ عام لوگوں کی نگاہ میں جو باتیں کثیر الوقوع اور متواتر الظہور ہوں وہ بطور قاعدہ یا قانون قدرت کے مانی جاتی ہیں اور انہیں کی سچائی پر انہیں اعتماد ہوتا ہے اس لئے دوسرے امور جو نادر الوقوع ہوتے ہیں وہ بمقابل امور کثیر الوقوع کے نہایت مضمحل اور مشتبہ بلکہ باطل کے رنگ میں دکھائی دیتے ہیں اسی وجہ سے عوام کیا بلکہ خواص کو بھی ان کے وجود میں شکوک اور شبہات پیدا ہو جاتے ہیں۔ سو بڑی غلطی جو حکما کو پیش آتی ہے اور بڑی بھاری ٹھوکر جو ان کو آگے قدم رکھنے سے روکتی ہے یہ ہے کہ وہ امور کثیر الوقوع کے لحاظ سے نادر الوقوع کی تحقیق کے درپے نہیں ہوتے اور جو کچھ ان کے آثار چلے آتے ہیں ان کو صرف قصے اور کہانیاں خیال کرکے اپنے سر پر سے ٹال دیتے ہیں حالانکہ یہ قدیم سے عادت اللہ ہے جو امور کثیر الوقوع کے ساتھ نادر الوقوع عجائبات بھی کبھی کبھی ظہور میں آتے رہتے ہیں اس کی نظیریں بہت ہیں جن کا لکھنا موجب تطویل ہے اور حکیم بقراط نے اپنی ایک طبی کتاب میں چند چشم دید بیماروں کا بھی حال لکھا ہے۔ جو قواعدِ طبی اور تجربہ اطباء کے رو سے وہ ہرگز قابل علاج نہیں تھے مگر ان بیماروں نے عجیب طور پر شفا پائی جس کی نسبت ان کا خیال ہے کہ یہ شفا بعض نادر تاثیرات ارضی یا سماوی سے ہے۔ اس جگہ ہم اس قدر اور لکھنا چاہتے ہیں کہ یہ بات صرف نوع انسان میں محدود نہیں کہ کثیر الوقوع اور نادر الوقوع خواص کا اس میں سلسلہ چلا آتا ہے بلکہ اگر غور کرکے دیکھیں تو یہ دوہرا سلسلہ ہریک نوع میں پایا جاتا ہے مثلاً نباتات میں سے آک کے درخت کو دیکھو کہ کیسا تلخ اور زہرناک

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 99
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 99
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/99/mode/1up

ہوتا ؔ ہے مگر کبھی مدتوں اور برسوں کے بعد ایک قسم کی نبات اس میں پیدا ہوجاتی ہے جو نہایت شیریں اور لذیذ ہوتی ہے اب جس شخص نے اس نبات کو کبھی نہ دیکھا ہو اور معمولی قدیمی تلخی کو دیکھتا آیا ہو بے شک وہ اس نبات کو ایک امر طبعی کی نقیض سمجھے گا ایسا ہی بعض دوسری نوع کی چیزوں میں بھی دور دراز عرصہ کے بعد کوئی نہ کوئی خاصہ نادر ظہور میں آجاتا ہے کچھ تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ مظفر ؔ گڈھ میں ایک ایسا بکرا پیدا ہوا کہ جو بکریوں کی طرح دودھ دیتا تھا۔ جب اس کا شہر میں بہت چرچا پھیلا تو میکالف صاحب ڈپٹی کمشنر مظفر گڈھ کو بھی اطلاع ہوئی تو انہوں نے یہ ایک عجیب امر قانون قدرت کے برخلاف سمجھ کر وہ بکرا اپنے روبرو منگوایا چنانچہ وہ بکرا جب ان کے روبرو دوہا گیا تو شاید قریب ڈیڑھ سیر دودھ کے اس نے دیا اور پھر وہ بکرا بحکم صاحب ڈپٹی کمشنر عجائب خانہ لاہور میں بھیجا گیا۔ تب ایک شاعر نے اس پر ایک شعر بھی بنایا اور وہ یہ ہے۔
مظفر گڈھ جہاں پر ہے مکالف صاحب عالی یہاں تک فضل باری ہے کہ بکرا دودھ دیتا ہے
اس کے بعد تین معتبر اور ثقہ اور معزز آدمی نے میرے پاس بیان کیا کہ ہم نے بچشم خود چند مردوںں کو عورتوں کی طرح دودھ دیتے دیکھا ہے بلکہ ایک نے ان میں سے کہا کہ امیر علی نام ایک سید کا لڑکا ہمارے گاؤں میں اپنے باپ کے دودھ ہی سے پرورش پایا تھا کیونکہ اس کی ماں مرگئی تھی۔ ایسا ہی بعض لوگوں کا تجربہ ہے کہ کبھی ریشم کے کیڑے کی مادہ بے نر کے انڈے دے دیتی ہے اور ان میں سے بچے نکلتے ہیں۔ بعض نے یہ بھی دیکھا کہ چوہا مٹی خشک سے پیدا ہوا جس کا آدھا دھڑ تو مٹی تھی اور آدھا چوہا بن گیا۔ حکیم فاضل قرشی یا شاید علامہ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ایک بیمار ہم نے دیکھا جس کا کان ماؤف ہوکر بہرہ ہوگیا تھا پھر کان کے نیچے ایک ناسور سا پیدا ہوگیا جو آخر وہ سوراخ سے ہوگئے اس سوراخ کی راہ سے وہ برابر سن لیتا تھا گویا خدا نے اس کے لئے دوسرا کان عطا کیا۔ ان دونوں طبیبوں میں سے ایک نے اور غالباً قرشی نے خود اپنی اڈّی میں سوراخ ہوکر اور پھر اس راہ سے مدت تک براز یعنے پاخانہ آتے رہنا تحریر کیا ہے۔ جالینوس سے سوال کیا گیا کہ کیا انسان آنکھوں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 100
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 100
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/100/mode/1up

کی ؔ راہ سے سن سکتا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ ہنوز تجربہ شہادت نہیں دیتا لیکن ممکن ہے کہ کوئی ایسی مشارکت کانوں اور آنکھوں کی مخفی ہو جو کسی ہاتھ کے عمل سے یا کسی سماوی موجب سے ظہور پذیر ہوکر اس خاصیت کے ظہور کا موجب ہوجائے کیونکہ ابھی علمِ استدراک خواص مختتم نہیں۔ ڈاکٹر برنی آر نے اپنے سفرنامہ کشمیر میں پیر پنجال کی چڑھائی کی تقریب بیان پر بطور ایک عجیب حکایت کے لکھا ہے جو ترجمہ کتاب مذکور کے صفحہ ۸۰ میں درج ہے کہ ایک جگہ پتھروں کے ہلانے جلانے سے ہم کو ایک بڑا سیاہ بچھو نظر پڑا جس کو ایک نوجوان مغل نے جو میری جان پہچان والوں میں سے تھا اٹھا کر اپنی مٹھی میں دبالیا اور پھر میرے نوکر کے اور میرے ہاتھ میں دے دیا مگر اس نے ہم میں سے کسی کو بھی نہ کاٹا۔ اس نوجوان سوار نے اس کا باعث یہ بیان کیا کہ میں نے اس پر قرآن کی ایک آیت پڑھ کر پھونک دی ہے اور اسی عمل سے اکثر بچھوؤں کو پکڑلیتا ہوں۔ اور صاحب کتاب فتوحات و فصوص جو ایک بڑا بھارا نامی فاضل اور علوم فلسفہ وتصوف میں بڑا ماہر ہے وہ اپنی کتاب فتوحات میں لکھتا ہے کہ ہمارے مکان پر ایک فلسفی اور کسی دوسرے کی خاصیت احراق آگ میں کچھ بحث ہوکر اس دوسرے شخص نے یہ عجیب بات دکھلائی کہ فلسفی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کوئلوں کی آگ میں جو ہمارے سامنے مجمر میں پڑی ہوئی تھی ڈال دیا اور کچھ عرصہ اپنا اور فلسفی کا ہاتھ آگ پر رہنے دیا۔ مگر آگ نے ان دونوں ہاتھوں میں سے کسی پر ایک ذرا بھی اثر نہ کیا۔ اور راقم اس رسالہ نے ایک درویش کو دیکھا کہ وہ سخت گرمی کے موسم میں یہ آیت قرآنی پڑھ کر وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ‌ۚ‏
۱؂ زنبور کو پکڑلیتا تھا اور اس کی نیش زنی سے بکلّی محفوظ رہتا تھا۔ اور خود اس راقم کے تجربہ میں بعض تاثیرات عجیبہ آیت قرآنی کی آچکی ہیں جن سے عجائبات قدرت حضرت باری جل شانہٗ معلوم ہوتے ہیں۔ غرض یہ عجائب خانہ دنیا کا بے شمار عجائبات سے بھرا ہوا ہے جو دانا اور شریف حکیم گزرے ہیں انہوں نے اپنے چند معدود معلومات پر ہرگز ناز نہیں کیا اور وہ اس بات کو بہت بے شرمی اور گستاخی سمجھتے رہے ہیں کہ اپنے محدود تجربہ کا نام

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 101
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 101
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/101/mode/1up

خداؔ ئے تعالیٰ کا قانون قدرت رکھیں مگر ان کے مقلد بباعث اپنی خامی اور ناتمامی کے سخت درجہ پر قانونِ قدرت کے قائل بلکہ غلام پائے جاتے ہیں سو یہ اسی مثل کا مصداق ہے کہ در پدر شیرینی بسیاراست لیکن پسر گرمی داراست۔ بالخصوص اس زمانہ کے نوآموز لڑکوں میں قانونِ قدرت کا خیال واجبی حد سے بڑھ گیا ہے اکثر نامقید اور آوارہ طبع اور ملحدانہ طبیعت کے آدمی ان کم فہم لڑکوں کو بگاڑتے جاتے ہیں جن کی نادانی اور سادہ لوحی رحم کے لائق ہے۔ یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ اگر خواص قدرتیہ کا خاتمہ ہوچکا ہے تو اس کا یہ لازمی نتیجہ ہونا چاہئے کہ آئندہ خواص جدیدہ ظہور میں نہ آویں۔ اور اگر ابھی خاتمہ نہیں ہوا اور نئے انکشافات اور تازہ معلومات کے کھلنے کی امید ہے تو پھر کیوں ایک نئی بات کو سنتے ہی بکری کی طرح انکار میں گردن ہلادیں خدا نے ان کو یہ سمجھ نہیں دی کہ عجائبات الٰہی کا میدان جو رنگا رنگ اور بے انتہا چشموں اور کہولوں اور آبشاروں سے آبپاشی پودہ نفس ناطقہ انسان کے لئے ُ پر ہے وہ کیونکر تجارب محدودہ کی ظرف تنگ میں سماسکتا ہے اور اگر ایسا فرض بھی کرلیا جائے کہ خدائے تعالیٰ کی قدرتیں اسی حد تک ختم اور خرچ ہوچکی ہیں جو ہمیں معلوم ہے تو پھر اس سے کیونکر خدائے تعالیٰ کا اپنی ذات اور اپنی قدرتوں اور اپنی حکمتوں میں بے انتہا ہونا قائم رہ سکتا ہے اس کی غیر محدود حکمتوں اور قدرتوں کو سمجھنے کے لئے یہی ایک تو راہ ہے کہ ایک ذرّہ کے موافق بھی اگر کوئی چیز ہو تو اس پر اگر تمام انسانی عقلیں قیامت تک غور کریں تو اس کے عجائبات کی تہ تک نہیں پہنچ سکتیں کیا جس نے یہ پُر بہار آسمان جو مہر و ماہ اور ستاروں کے چراغوں سے سج رہا ہے اور یہ رشک گلزار زمین جو رنگا رنگ مخلوقات سے آباد ہورہی ہے بغیر ایک ذرّہ مشقت اٹھانے کے صرف اپنے ارادہ سے پیدا کردیا اس کی قدرتوں کا کوئی انتہا پاسکتا ہے۔ اور یہ بات نہایت ظاہروبدیہی ہے کہ جب تک علوم و خواص جدیدۃ الظہور کی اس عالم بے ثبات کے ساتھ دُم لگی ہوئی ہے تب تک کوئی دانا اپنے معلومات محدودہ و معدودہ کو قانونِ قدرت کے نام سے موسوم نہیں کرسکتا اور خود ہمیں اپنی اس غیر مستقل اور اوباشانہ عادت سے شرمندہ ہونا چاہئے کہ اول ہم کسی بات کے عدم امکان پر ایسا سخت اصرار کریں کہ گویا خدائے تعالیٰ کو اس کی خدائی کے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 102
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 102
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/102/mode/1up

کاموؔ ں سے ہی جواب دے دیں اور پھر اسی بات کا وقوع اور ظہور اور ثبوت دیکھ کر اسی مونہہ سے یہ کہنا شروع کردیں کہ ہاں یہ قانونِ قدرت میں ہی داخل ہے ایسے لوگ جن میں فطرتی طور پر مادہ حیا کا کم پایا جاتا ہے وہ اگر یہ سیرت اختیار رکھیں تو انہیں کچھ مضائقہ نہیں لیکن اگر ایک باعزت اور باتہذیب و بامرتبت جنٹلمین یہ طریقہ متزلزلہ اختیار کرے جو اسے بیسیوں مرتبہ سخت انکاروں کے بعد اقرار کرنا پڑے تو البتہ یہ افسوس کا مقام ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنے مجربات و مشاہدات کا اعتبار نہ کریں تو پھر سب علوم ضائع ہوجائیں گے مگر میں اس کے جواب میں بجز اس دعا کے کہ اے خدائے قادر مطلق ان کو حقیقت شناسی کی سمجھ بخش اور کیا کہہ سکتا ہوں کیا خواص جدیدہ کے پیدا ہونے سے پہلے علوم ضائع ہوجایا کرتے ہیں مثلاً آگ بالخاصیت محرق ہے جس کی اس خاصیت کو بارہا ہم تم آزما چکے ہیں بلکہ یہ خاصیت ہمارے مجربات و مشاہدات متواترہ میں سے ہے مگر باایں ہمہ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ایسی دوا یا روغن پیدا ہو کہ جب وہ کسی عضو یا کسی اور چیز پر لگایا جائے تو آگ اپنی خاصیت احراق اس پر ظاہر نہ کرسکے اور یہ بھی ممکن ہے کہ خود آگ میں ہی باذنہ ٖ تعالیٰ کسی اندرونی یا بیرونی حوادث سے یہ صورت پیدا ہوجائے ایسا ہی یہ بھی ممکنات میں سے ہے کہ کوئی اس قسم کی آگ زمین سے یا آسمان سے پیدا ہو جو اپنے خواص میں اس آگ سے اختلاف رکھتی ہو جیسی نار حجاز جس کے نکلنے کی خبر چھ سو باون برس پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دی تھی جو صحیح بخاریؔ اور مسلمؔ میں پانسو برس پہلے ظہور سے مندرج اور شائع ہوچکی تھی۔ غرض صدہا ایسی صورتیں تأثیرات ارضی یا سماوی اور موجبات اندرونی یا بیرونی سے ظہور میں آسکتی ہیں کہ جو ایک چیز کی خاصیت موجودہ مجر بہ میں خلل انداز ہوسکیں اور علوم جدیدہ کا دروازہ جو نہایت وسیع اور غیر متناہی طور پر کھلا ہوا ہے وہ اسی بنا پر تو ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم بے سمجھے سوچے میری بات کو اپنی رائے کی بنیاد قرار دو۔ بلکہ میں کہتا ہوں کہ تم خوب جانچو اور پرکھو اور کھوٹے کھرے میں تمیز کرو اور جو کچھ زمانہ تمہیں دکھلا رہا ہے اسے اچھی طرح آنکھیں کھول کر دیکھو پھر اگر یہی رائے غالب اور فائق نظر آئے (تو اے ہمارے ملک کے نوجوانوں) اسے قبول کرو۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 103
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 103
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/103/mode/1up

نصیحتؔ گوش کن جانان کہ ازجان دوست تردارند
جوانان سعادت مند پند پیر دانا را
میری رائے میں فلسفیوں سے بڑھ کر اور کسی قوم کی دلی حالت خراب نہ ہوگی۔ خدا میں اور بندہ میں وہ چیز جو بہت جلد جدائی ڈالتی ہے وہ شوخی اور خودبینی اور متکبری ہے سو وہ اس قوم کے اصول کو ایسی لازم پڑی ہوئی ہے کہ گویا انہیں کے حصہ میں آگئی ہے یہ لوگ خدائے تعالیٰ کی قدرتوں پر حاکمانہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور جس کے مونہہ سے اس کے برخلاف کچھ سنتے ہیں اس کو نہایت تحقیر اور تذلیل کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ نوخیزوں کے عام خیالات اسی طرف بڑھتے جاتے ہیں یہ کسی قوی دلیل کا اثر نہیں بلکہ ہمارے ملک کے لوگوں میں بھیڑ یا چال چلنے کا بہت سا مادہ موجود ہے جس سے تعلیم یافتہ جماعت بھی مستثنیٰ نہیں سو اس فطرت اور عادت کے جو لوگ ہیں وہ ایک بڑی ڈھاری والے کو گڑھے میں پڑا ہوا دیکھ کر فی الفور اس میں کود پڑتے ہیں اور اس سے بڑھ کر ان کے ہاتھ میں اور کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ یہ فلاں عقلمند کا قول ہے۔ غرض زہرناک ہوا کے چلنے سے کمزور لوگ بہت جلد ہلاک ہوتے ہیں لیکن ایک روشن دل آدمی جس کی فطرت میں خدائے تعالیٰ نے وسعت علمی کی استعداد رکھی ہوئی ہے وہ ایسے خیالات کو کہ خدائے تعالیٰ کے اسرار پر احاطہ کرنا کسی انسان کا کام ہے بغائت درجہ عقل و ایمان سے دور سمجھتا ہے۔ واقعی جتنا انسان عجائبات غیر متناہیہ حضرت باری جل شانہ ٗپر اطلاع پاتا ہے۔ اتنا ہی غرور اور گھمنڈ اس کا ٹوٹ جاتا ہے اور نئے طالب علموں کی شوخیاں اور بے راہیاں اس کے دل و دماغ سے جاتی رہتی ہیں اور مدت دراز تک ٹھوکریں کھانے کی وجہ سے ابتدائی حالت کے تہ و بالا ہوئے ہوئے خیالات کچھ کچھ روبراہ ہوتے جاتے ہیں جیسے ایک بڑے فلاسفر کا قول ہے کہ میں نے علم اور تجربہ میں ترقیات کیں یہاں تک کہ آخری علم اور تجربہ یہ تھا کہ مجھ میں کچھ علم اور تجربہ نہیں سچ ہے دریائے غیرمتناہی علم و قدرت باری جل شانہٗ کے آگے ذرّہ ناچیز انسان کی کیا حقیقت ہے کہ دم مارے۔ اور اس کا علم اور تجربہ کیا شے ہے تا اس پر نازل کرے سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ
۱؂ کیا عمدہ اور صاف اور پاک اور خدائے تعالیٰ کی عظمت اور بزرگی کے موافق یہعقیدہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 104
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 104
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/104/mode/1up

ہے کہؔ جو کچھ اس سے ہونا ثابت ہے وہ قبول کیا جائے اور جو کچھ آئندہ ثابت ہو اس کے قبول کرنے کے لئے آمادہ رہیں اور بجز امور منافی صفات کمالیہ حضرت باری عزاسمہٗ سب کاموں پر اس کو قادر سمجھا جائے اور امکانی طور پر سب ممکناتِ قدرت پر ایمان لایا جائے یہی طریق اہل حق ہے جس سے خدائے تعالیٰ کی عظمت و کبریائی قبول کی جاتی ہے اور ایمانی صورت بھی محفوظ رہتی ہے جس پر ثواب پانے کا تمام مدار ہے نہ یہ کہ چند محدود باتیں اس غیر محدود کے گلے کا ہار بنائی جائیں اور یہ خیال کیا جائے کہ گویا اس نے اپنے ازلی ابدی زمانہ میں ہمیشہ اسی قدر قدرتوں میں اپنی جمیع طاقتوں کو محدود کررکھا ہے یا اسی حد پر کسی قاسر سے مجبور ہورہا ہے اگر خدائے تعالیٰ ایسا ہی محدود القدرت ہوتا تو اس کے بندوں کے لئے بڑے ماتم اور مصیبت کی جگہ تھی وہ عظیم الشان قدرتوں والا اپنی ذات و صفات میں لایدرک ولا انتہا ہے کون جانتا ہے کہ اس نے پہلے کیا کیا کام کیا اور آئندہ کیا کیا کرے گا تَعَالَی اللّٰہُ عُلُوًّا کَبِیْرًا۔ ایک حکیم کا قول ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی بھی گمراہی نہیں کہ انسان اپنی عقل کے پیمانہ سے باری عزّا سمہٗ کے ملک کو ناپنا چاہے یہ بیانات بہت صاف ہیں جن کے سمجھنے میں کوئی دقّت نہیں لیکن بڑی مشکل کی یہ بات ہے کہ دنیا پرست آدمی جس کی نظر دنیا کی مدح وذم پر لگی ہوئی ہے وہ جب ایک رائے اپنی قائم کرکے مشہور کردیتا ہے تو پھر اس رائے کا چھوڑنا (خواہ کیسی ہی وجوہات بینہ مخالف رائے نکل آویں) اس پر بہت مشکل ہوجاتا ہے اور پھر جب ایسے غلط خیالات میں چند نامی عقلاء مبتلا ہوجائیں تو ادنیٰ استعداد کے آدمی ان خیالات کی تقلید کرنا اور بے سوچے سمجھے اس پر قدم مارنا اپنی عقلمندی ثابت کرنے کے لئے ایک ذریعہ سمجھ لیتے ہیں فلسفی تقلید ہمیشہ اسی طرح پھیلتی رہی ہے کم استعداد لوگ جو بچوں کی سی کمزوری رکھتے ہیں وہ بڑے بابا کا مونہہ دیکھ کر وہی باتیں کہنے لگتے ہیں جو اس بزرگ کے مونہہ سے نکلیں گو وہ واقعی ہوں یا غیر واقعی۔ اور صحیح ہوں یا غیر صحیح۔ ان کو اپنی سمجھ تو ہوتی ہی نہیں ناچار وہ کسی نامی صیاد کے دام میں پھنس جاتے ہیں واقعی جتنا انسان تقلید سے نفرت کرکے بھاگتا ہے اُتنا ہی تقلید میں بار بار پڑتا ہے۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 105
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 105
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/105/mode/1up

اِسؔ جگہ اس بات کا جواب دینا بھی مناسب ہے کہ اگر سب امور قوانین ازلیہ و ابدیہ میں داخل ہیں یعنے پہلے ہی سے بندھے ہوئے چلے آتے ہیں تو پھر معجزات کیا شے ہیں سو جاننا چاہئے کہ بے شک یہ تو سچ ہے کہ قوانین ازلیہ و ابدیہ سے یا یوں کہو کہ خدائے تعالیٰ کے ازلی ارادہ اور اس کے قضا وقدر سے کوئی چیز باہر نہیں گو ہم اس پر اطلاع پاویں یا نہ پاویں۔ جفّ القلم بما ھو کائن مگر اسی عادت الٰہیہ نے جو دوسرے لفظوں میں قانون قدرت سے موسوم ہوسکتی ہے بعض چیزوں کے ظہور کو بعض کے ساتھ مشروط کررکھا ہے پس جو امور ازلی ابدی ارادہ نے مقدسوں کی دعاؤں اور ان کی برکات انفاس اور ان کی توجہ اور ان کی عقد ہمت اور ان کے اقبال ایام سے وابستہ کررکھے ہیں اور ان کے تضرعات اور ابتہالات پر مترتب کی جاتی ہیں وہ امور جب انہیں شرائط اور انہیں وسائل سے ظہور میں آتے ہیں تب ان امور کو اس خاص حالت میں معجزہ یا کرامت یا نشان یا خارق عادت کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ اس جگہ خارق عادت کے لفظ سے اس شبہ میں نہیں پڑنا چاہئے کہ وہ کون سا امر ہے جو عادت الٰہیہ سے باہر ہے کیونکہ اس محل میں خارق عادت کے قول سے ایک مفہوم اضافی مراد ہے یعنے یوں تو عادات ازلیہ و ابدیہ خدائے کریم جل شانہٗ سے کوئی چیز باہر نہیں مگر اس کی عادات جو بنی آدم سے تعلق رکھتی ہیں دو طور کی ہیں ایک عادات عامہ جو روپوش اسباب ہوکر سب پر مؤثر ہوتی ہیں دوسری عادات خاصہ جو بتوسط اسباب اور بلاتوسطِ اسباب خاص ان لوگوں سے تعلق رکھتی ہیں جو اس کی محبت اور رضا میں کھوئی جاتی ہیں یعنے جب انسان بکلّی خدائے تعالیٰ کی طرف انقطاع کرکے اپنی عادات بشریہ کو استرضاءِ حق کے لئے تبدیل کردیتا ہے تو خدائے تعالیٰ اس کی اس حالت مبدلہ کے موافق اس کے ساتھ ایک خاص معاملہ کرتا ہے جو دوسروں سے نہیں کرتا یہ خاص معاملہ نسبتی طور پر گویا خارق عادت ہے جس کی حقیقت انہیں پر کھلتی ہے جو عنایت الٰہی سے اس طرف کھینچے جاتے ہیں۔ جب انسان اپنی بشری عادتوں کو جو اس میں اور اس کے ربّ میں حائل ہیں شوق توصل الٰہی میں توڑتا ہے تو خدائے تعالیٰ بھی اپنی عام عادتوں کو اس کے لئے توڑ دیتا ہے یہ توڑنا بھی عاداتِ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 106
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 106
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/106/mode/1up

ازلیہؔ میں سے ہے کوئی مستحدث نہیں ہے جو مورد اعتراض ہوسکے گویا قدیم قانون حضرت احدیت جل شانہٗ اسی طور پر چلا آتا ہے کہ جیسے جیسے انسان کا بھروسا خدائے تعالیٰ پر بڑھتا ہے ایسا ہی اس طرف سے الوہیت کی قدرتوں کی چمکار اور اس کی کرنیں زیادہ سے زیادہ اس پر پڑتی ہیں اور جیسے جیسے اس طرف سے ایک پاک اور کامل تعلق ہوتا جاتا ہے ایسا ہی اس طرف سے بھی کامل اور طیب برکتیں ظاہر و باطن پر اترتی ہیں اور جیسی جیسی محبت الٰہی کی موجیں عاشق صادق کے دل سے اٹھتی ہیں ایسا ہی اس طرف سے بھی ایک نہایت صاف اور شفاف دریائے محبت کا زورشور سے چھوٹتا ہے اور دائرہ کی طرح اس کو اپنے اندر گھیر لیتا ہے اور اپنے الٰہی زور سے کھینچ کر کہیں کا کہیں پہنچا دیتا ہے اور جیسا یہ امر صاف صاف ہے ویسا ہی ہمارے نیچر کے مطابق بھی ہے ہم تم بھی جیسے جیسے دوستی اور محبت اور اخلاص میں بڑھتے ہیں تو اس دو طرفہ صفائی محبت کی یہی نشانی ہوا کرتی ہے کہ دونوں طرف سے آثار خلوص و اتحاد و یگانگت کے ظاہر ہوں نہ صرف ایک طرف سے ہو ہریک دوست اپنے دوست کے ساتھ عوام الناس کی نسبت معاملہ خارق عادت رکھتا ہے جب انسان اپنی پہلی زندگی کی نسبت ایک ایسی نئی زندگی حاصل کرتا ہے جس کو نسبتی طور پر خارق عادت کہہ سکتے ہیں تو اسی دم سے وہی قدیم خدا اپنی تجلیات نادرہ کے رو سے ایک نیا خدا اس کے لئے ہوجاتا ہے اور وہ عادتیں اس کے ساتھ ظہور میں لاتا ہے جو پہلی زندگی کی حالت میں کبھی خیال میں بھی نہیں آئی تھیں۔ خوارق کی کل جس سے عجائبات قدرتیہ حرکت میں آتی ہیں انسان کی تبدیل یافتہ روح ہے اور وہ سچی تبدیلی یہاں تک آثار نمایاں دکھاتی ہے کہ بعض اوقات ایک ایسے طور سے شور محبت دل پر استیلا پکڑتا ہے اور عشق الٰہی کے ُ پرزور جذبات اور صدق اور یقین کی سخت کششیں ایسے مقام پر انسان کو پہنچا دیتی ہیں کہ اس عجیب حالت میں اگر وہ آگ میں ڈالا جائے تو آگ اس پر کچھ اثر نہیں کرسکتی اگر وہ شیروں اور بھیڑیوں اور ریچھوں کے آگے پھینک دیا جائے تو وہ اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ اس وقت وہ صدق اور عشق کے کامل اور قوی تجلیات سے بشریت کے خواص کو پھاڑ کر کچھ اور ہوجاتا ہے اور جس طرح لوہے کے ظاہر و باطن پر آگ مستولی ہوکر

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 107
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 107
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/107/mode/1up

اس ؔ کو اپنے رنگ میں لے آتی ہے اسی طرح یہ بھی آتشِ محبتِ الٰہی کے ایک سخت استیلا سے کچھ کچھ اس طاقت عظمیٰ کے خواص ظاہر کرنے لگتا ہے جو اس پر محیط ہوگئی ہے سو یہ کچھ تعجب کی بات نہیں کہ عبودیت پر ربوبیت کا کامل اثر پڑنے سے اس سے ایسے خوارق ظاہر ہوں۔ بلکہ تعجب تو یہ ہے کہ ایسے اثر کے بعد بھی عبودیت کی معمولی حالت میں کچھ فرق پیدا نہ ہو کیونکہ اگر لوہا آگ میں تپانے سے کسی قدر خاصہ آگ کا ظاہر کرنے لگے تو یہ امر سراسر مطابق قانونِ قدرت ہے لیکن اگر سخت تپانے کے بعد بھی اسی پہلی حالت پر رہے اور کوئی خاصیت جدید اس میں پیدا نہ ہو تو یہ عندالعقل صریح باطل ہے سو فلاسفی تجارب بھی ان خوارق کے ضروری ہونے پر شہادت دے رہے ہیں۔ یہ افسانہ نہیں اس پر عارفانہ روح لے کر غور کرو۔ کیا بدنصیب وہ شخص ہے جو اس کو افسانہ سمجھے اور غور نہ کرے اس حالت خارقہ کو عارف کا دل جو مبدل ہے خوب شناخت کرتا ہے۔ دنیا اس حالت سے غافل ہے اور انکار کرتی ہے پر وہ جو اس مرتبہ تک پہنچا ہے وہ اس یقینی صداقت کے تصور سے سرور میں ہے۔ یہ تجلیات الٰہیہ کا ایک دقیق بھید ہے اور اعلیٰ درجہ کا راز معرفت ہے اور انسانی روح کے تعلقات جو درپردہ وہ اپنے ربّ کریم سے نہایت نازک اور لایدرک طور پر واقعہ ہیں وہ اسی نقطہ پر آکر کھلتے ہیں اور اسی نقطہ پر ایک طرفۃ العین کے لئے بندہ کے ہاتھ خدا کے ہاتھ اور اس کی آنکھیں خدا کی آنکھیں اور اس کی زبان خدا کی زبان کہلاتی ہے اور ربوبیت کی چادر ذرّہ عبودیت پر پڑ کر اس کو اپنے انوار میں متواری اور اپنی پرزور موجوں کے نیچے گم کردیتی ہے۔ فلسفیوں کی پرغرور روحیں اس انتہائی مرتبہ کے دریافت کرنے سے بے نصیب گئیں اور خدائے عزوجل نے دل کے غریب اور سادہ لوگوں کو یہ حالتیں دکھا دیں اور ان پر وارد کردیں۔وَ 3 3 اب خلاصہ کلام یہ کہ خدائے تعالیٰ کی ذات میں بہت سی عجائب رحمتیں اور بہت سی نادر وفاداریاں ہیں مگر کھلے کھلے طور پر انہیں پر ظاہر ہوتی ہیں کہ جو لوگ اسی کے ہوجاتے ہیں اور اسی کے ہورہتے ہیں اور اس ایک کے پانے کے لئے بہتوں کی جدائی اختیار کرتے ہیں خاک میں گرتے ہیں تا وہ پکڑلے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 108
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 108
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/108/mode/1up

نامؔ وننگ سب کھوہ دیتے ہیں تا وہ راضی ہوجائے رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْ اَمْرِنَا وَ ادْخِلْنَا فِیْ عِبَادِکَ الْمُخْلَصِیْنَ۔ اٰمِیْن۔
جنس نام و ننگ و عزت را زِ دامان ریختم
یار آمیزد مگر باما بہ خاک آمیختم
دل بدادیم ازکف و جاں در رہے انداختیم
ازپئے وصلِ نگاری حیلہ ہا انگیختم
اب ہم وہ مباحثہ مذہبی جو مابین ہمارے اور لالہ مرلیدھر صاحب ڈرائینگ ماسٹر کے بالموا جہ وقوع میں آیا ذیل میں درج کرتے ہیں۔
وہ یہ ہے۔
اعتراض از طرف لالہ مرلیدھر صاحب ڈرائینگ ماسٹر
میں نے اس وقت چھ۶ سوال پوچھنے ہیں جن میں سے پہلا یہ ہے کہ اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ نبی معجزے دکھلاتے رہے ہیں چنانچہ حضرت محمد صاحب نے چاند کے دو ٹکڑے کرکے دونوں آستینوں سے نکال دیا۔ سو یہ امر قانون قدرت کے برخلاف ہے کہ ایک شے ہزاروں میل لمبی چوڑی یا ہزاروں میل قطر والی چھہ انچہ یا ایک فٹ کے سوراخ سے نکل جاوے اور چاند جو ماہواری گردش زمین کے گرد کرتا ہے وہ اپنی گردش کو چھوڑ کر ادھر ادھر ہوجائے جس سے انتظام عالم میں ہی فرق آجائے۔ اور پھر علاوہ اس کے سوائے دو چار شخصوں کے کوئی نہ دیکھے۔ کیونکہ کسی ملک میں مثلاً ہندوستانؔ چینؔ برہماؔ وغیرہ کی تاریخوں میں اس کا کچھ ذکر نہیں پایا جاتا۔ اِس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ باتیں بالکل بناوٹی ہیں اگر اصلی ہیں تو ان کا کیا ثبوت ہے۔ مرلیدؔ ھر
جواب از مؤلفِ رسالہ ہذا
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
ماسٹرؔ صاحب نے جو معجزہ شق القمر پر اعتراض کیا ہے کہ شق القمر ہونا خلافِ عقل

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 109
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 109
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/109/mode/1up

ہےؔ اور دوسرے یہ کہ آستین میں سے چاند کے دو ٹکڑے ہوکر نکل جانا صریح عقل کے برخلاف ہے۔ اس کے جواب میں واضح ہو کہ یہ اعتراض کہ کیونکر چاند دو ٹکڑے ہوکر آستین میں سے نکل گیا تھا یہ سراسر بے بنیاد اور باطل ہے کیونکہ ہم لوگوں کا ہرگز یہ اعتقاد نہیں ہے کہ چاند دو ٹکڑے ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی آستین میں سے نکلا تھا اور نہ یہ ذکر قرآن شریف میں یا حدیث صحیح میں ہے اور اگر کسی جگہ قرآن یا حدیث میں ایسا ذکر آیا ہے تو وہ پیش کرنا چاہیئے۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے کوئی آریہ صاحبوں پر یہ اعتراض کرے کہ آپ کے یہاں لکھا ہے کہ مہان دیوجی کی لٹوں سے گنگا نکلی ہے۔ پس جس اعتراض کی ہمارے قرآن یا حدیث میں کچھ بھی اصلیت نہیں اس سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ ماسٹر صاحب کو اصول اور کتب معتبرہ اسلام ؔ سے کچھ بھی واقفیت نہیں۔ بھلا اگر یہ اعتراض ماسٹر صاحب کا کسی اصل صحیح پر مبنی ہے تو لازم ہے کہ ماسٹرؔ صاحب اسی جلسہ میں وہ آیت قرآن شریف پیش کریں جس میں ایسا مضمون درج ہے یا اگر آیت قرآن نہ ہو تو کوئی حدیث صحیح ہی پیش کریں جس میں ایسا کچھ بیان کیا گیا ہو اور اگر بیان نہ کرسکیں تو ماسٹر صاحب کو ایسا اعتراض کرنے سے متندم ہونا چاہئے کیونکہ منصب بحث ایسے شخص کے لئے زیبا ہے جو فریق ثانی کے مذہب سے کچھ واقفیت رکھتا ہو باقی رہا یہ سوال کہ شق قمر ماسٹر صاحب کے زعم میں خلافِ عقل ہے جس سے انتظام ملکی میں خلل پڑتا ہے یہ ماسٹر صاحب کا خیال سراسر قلت تدبّر سے ناشی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ جل شانہٗ جو کام صرف قدرت نمائی کے طور پر کرتا ہے وہ کام سراسر قدرتِ کاملہ کی ہی وجہ سے ہوتا ہے نہ قدرتِ ناقصہ کی وجہ سے یعنے جس ذات قادر مطلق کو یہ اختیار اور قدرت حاصل ہے کہ چاند کو دو ٹکڑہ کرسکے اس کو یہ بھی تو قدرت حاصل ہے کہ ایسے ُ پرحکمت طور سے یہ فعل ظہور میں لاوے کہ اس کے انتظام میں بھی کوئی خلل عائد نہ ہو اسی وجہ سے تو وہ سرب شکتی مان اور قادرِ مطلق

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 110
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 110
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/110/mode/1up

کہلاتاؔ ہے اور اگر وہ قادر مطلق نہ ہوتا تو اس کا دنیا میں کوئی کام نہ چل سکتا۔ ہاں یہ شناعتِ عقلی آریوں کے اکثر عقائد میں جابجا پائی جاتی ہے جس سے ایک طرف تو ان کے اعتقادات سراسر خلاف عقل معلوم ہوتے ہیں اور دوسری طرف خلاف قدرت و عظمتِ الٰہی بھی جیسے روحوں اور اجزاء صغار عالم کا غیر مخلوق اور قدیم اور انادی ہونا اصول آریہ سماج کا ہے۔ اور یہ اصول صریح خلاف عقل ہے اگر ایسا ہو تو پرمیشر کی طرح ہرایک چیز واجب الوجود ٹھہرجاتی ہے اور خدائے تعالیٰ کے وجود پر کوئی دلیل قائم نہیں رہتی بلکہ کاروبار دین کا سب کا سب ابتر اور خلل پذیر ہوجاتا ہے کیونکہ اگر ہم سب کے سب خدائے تعالیٰ کی طرح غیرمخلوق اور انادی ہی ہیں تو پھر خدائے تعالیٰ کا ہم پر کونسا حق ہے اور کیوں وہ ہم سے اپنی عبادت اور پرستش اور شکر گزاری چاہتا ہے اور کیوں گناہ کرنے سے ہم کو سزا دینے کو طیار ہوتا ہے اور جس حالت میں ہماری روحانی بینائی اور روحانی تمام قوتیں خودبخود قدیم سے ہیں تو پھر ہم کو فانی قوتوں کے پیدا ہونے کے لئے کیوں پرمیشر کی حاجت ٹھہری۔ غرض خلاف عقل بات اگر تلاش کرنی ہو تو اس سے بڑھ کر اور کوئی بات نہیں جو خدائے تعالیٰ کو اول اپنا خدا کہہ کر پھر اس کو خدائی کے کاموں سے الگ رکھا جائے لیکن جو کام خدائے تعالیٰ کا صرف قدرت سے متعلق ہے اس پر وہ شخص اعتراض کرسکتا ہے کہ اول خدائے تعالیٰ کی تمام قدرتوں پر اس نے احاطہ کرلیا ہو۔ اور اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ مسئلہ شق القمر ایک تاریخی واقعہ ہے جو قرآن شریف میں درج ہے اور ظاہر ہے کہ قرآنِ شریف ایک ایسی کتاب ہے جو آیت آیت اس کی بروقت نزول ہزاروں مسلمانوں اور منکروں کو سنائی جاتی تھی اور اسی کی تبلیغ ہوتی تھی اور صدہا اس کے حافظ تھے مسلمان لوگ نماز اور خارج نماز میں اس کو پڑھتے تھے پس جس حالت میں صریح قرآن شریف میں وارد ہوا کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور جب کافروں نے یہ نشان دیکھا تو کہا کہ جادو ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَر وَاِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَيَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ‏ ‏

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 111
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 111
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/111/mode/1up

تو اس صورت میں اس وقت کے منکرین پر لازم تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے مکان پر جاتے اور کہتے کہ آپ نے کب اور کس وقت چاند کو دو ٹکڑے کیا اور کب اس کو ہم نے دیکھا لیکن جس حالت میں بعد مشہور اور شائع ہونے اس آیت کے سب مخالفین چپ رہے اور کسی نے دم بھی نہ مارا تو صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے ضرور دیکھا تھا تب ہی تو ان کو چون و چرا کرنے کی گنجائش نہ رہی غرض یہ بات بہت صاف اور ایک راست طبع محقق کے لئے بہت فائدہ مند ہے کہ قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کوئی جھوٹا معجزہ بحوالہ اپنے مخالفوں کی گواہی کے لکھ نہیں سکتے تھے اور اگر کچھ جھوٹ لکھتے تو ان کے مخالف ہم عصر اور ہم شہر اس زمانہ کے اسے کب پیش جانے دیتے۔ علاوہ اس کے سوچنا چاہئے کہ وہ مسلمان لوگ جن کو یہ آیت سنائی گئی اور سنائی جاتی تھی وہ بھی تو ہزاروں آدمی تھے اور ہریک شخص اپنے دل سے یہ محکم گواہی پاتا ہے کہ اگر کسی پیر یا مرشد یا پیغمبر سے کوئی امر محض دروغ اور افترا ظہور میں آوے تو سارا اعتقاد ٹوٹ جاتا ہے اور ایسا شخص ہر ایک شخص کی نظر میں برا معلوم ہونے لگتا ہے، اس صورت میں صاف ظاہر ہے کہ اگر یہ معجزہ ظہور میں نہیں آیا تھا اور افترا محض تھا تو چاہئے تھا کہ ہزارہا مسلمان جو آنحضرت پر ایمان لائے تھے ایسے کذب صریح کو دیکھ کر یکلخت سارے کے سارے مرتد ہوجاتے لیکن ظاہر ہے کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی ظہور میں نہیں آئی پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ معجزہ شق القمر ضرور وقوع میں آیا تھا۔ ہریک منصف اپنے دل میں سوچ کر دیکھ لے کہ کیا تاریخی طور پر یہ ثبوت کافی نہیں ہے کہ معجزہ شق القمر اسی زمانہ میں بحوالہ شہادت مخالفین قرآن شریف میں لکھا گیا اور شائع کیا گیا اور پھر سب مخالف اس مضمون کو سن کر چپ رہے کسی نے تحریر یا تقریر سے اس کا ردّ نہ کیا اور ہزاروں مسلمان اس زمانہ کی رویت کی گواہی دیتے رہے اور یہ بات ہم مکرر لکھنا چاہتے ہیں کہ قدرت اللہ پر اعتراض کرنا خود ایک وجہ سے انکار خدائے تعالیٰ ہے کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 112
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 112
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/112/mode/1up

کی ؔ قدرت مطلقہ کو نہ مانا جائے اور حسب اصول تناسخ آریہ صاحبان یہ اعتقاد رکھا جائے کہ جب تک زید نہ مرے بکر ہرگز پیدا نہیں ہوسکتا۔ اس صورت میں تمام خدائی اس کی باطل ہوجاتی ہے بلکہ اعتقاد صحیح اور حق یہی ہے کہ پرمیشر کو سرب شکتی مان اور قادر مطلق تسلیم کیا جائے اور اپنے ناقص ذہن اور ناتمام تجربہ کو قدرت کے بے انتہا اسرار کا محک امتحان نہ بنایا جائے ورنہ ہمہ دانی کے دعویٰ پر اس قدر اعتراض وارد ہوں گے اور ایسی خجالتیں اٹھانی پڑیں گی کہ جن کا کچھ ٹھکانا نہیں۔ انسان کا قاعدہ ہے کہ جو بات اپنی عقل سے بلند تر دیکھتا ہے اس کو خلاف عقل سمجھ لیتا ہے حالانکہ بلند تر از عقل ہونا شے دیگر ہے اور خلاف عقل ہونا شے دیگر۔ بھلا میں ماسٹر صاحب سے پوچھتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ اس بات پر قادر رہتا یا نہیں کہ جس قدر اب جرم قمری مشہود ومحسوس ہے اس سے آدھے سے بھی کام لے سکتا اور اگر قادر نہیں تو اس پر عقلی دلیل جو عندالعقل تسلیم ہوسکے کون سی ہے اور کس کتاب میں لکھی ہے تو جس حالت میں معجزہ شق القمر میں یہ بات ماخوذ ہے کہ ایک ٹکڑا اپنی حالت معہودہ پر رہا اور ایک اس سے الگ ہوگیا وہ بھی ایک یا آدھ منٹ تک یا اس سے بھی کم۔ تو اس میں کون سا استبعاد عقلی ہے اور بفرض محال اگر استبعاد عقلی بھی ہو تو ہم کہتے ہیں کہ عقل ناقص انسان کی ہریک کام ربانی تک کب پہنچ سکتی ہے بھلا آپ ہی بتلاویں کہ یہ مسئلہ جو آپ کے اصول کے رو سے ستیارتھ پرکاش میں پنڈت دیانند صاحب نے لکھا ہے کہ روح انسانی اَوس کی طرح کسی گھاس پات وغیرہ پر گرتی ہے پھر اس کو کوئی عورت کھالیتی ہے اس سے بچہ پیدا ہوتا ہے یہ کس قدر عقل کے برخلاف اور تمام اطباء اور فلاسفہ کی تحقیق کے مخالف ہے۔* کیونکہ ظاہر ہے کہ بچہ صرف عورت ہی کی منی سے پیدا نہیں ہوتا
لالہ مرلیدھر صاحب ڈرائینگ ماسٹر نے چودھویں مارچ ۱۸۸۶ء کے جلسۂ بحث میں جس میں راقم رسالہ ہذا کا حق تھا کہ پہلے اپنا اعتراض پیش کرے وقت کو ناحق ضائع کرنے کے لئے گیاراں مارچ ۸۶ء ؁

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 113
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 113
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/113/mode/1up

بلکہؔ عورت اور مرد دونوں کی منی سے پیدا ہوتا ہے اور اس کے اخلاق روحانی بھی صرف ماں سے مشابہت نہیں رکھتے بلکہ ماں اور باپ دونوں سے مشابہت رکھتے ہیں تو پھر یہ اعتقاد کس قدر نامعقول اور خلاف عقل ہے کہ گویا ایک عورت کی غذا میں ہی وہ روح مخلوط ہوکر کھائی جاتی ہے اور مرد اس سے محروم رہ جاتا ہے۔ پھر سوچنا چاہیئے کہ کیا روح کوئی جسم کی قسم ہے کہ جسم سے مخلوط ہوجاتی ہے دیکھو کس قدر یہ اصول بعید از عقل ہے۔ ماسوا اس کے زمین کے نیچے سے ہزاروں جانور زندہ نکلتے ہیں اور بہت سی چیزوں میں سینکڑوں برسوں کے بعد کیڑے پڑجاتے ہیں ان چیزوں میں کہاں سے اور کس راہ سے روح آجاتی ہے۔ غرض اگر آپ یہ دعویٰ نہ کرتے کہ جو امر بظاہر برتر از عقل معلوم ہو وہ خدائے تعالیٰ کی قدرت سے بعید ہے تو ہمیں کچھ ضرور نہ تھا کہ آپ پر
کےؔ بحث کے متعلق ایک فضول جھگڑا شروع کردیا اور چند سطریں مندرجہ ذیل لکھ کر اور ان پر اپنے دستخط کرکر جلسہ عام میں ایک بڑے جوش سے کھڑے ہوکر سنائیں اور وہ یہ ہیں۔
آج پہلے اس کے کہ میں کوئی نیا سوال پیش کروں مرزا صاحب کی پہلے روز کی تقریر میں سے وہ حصہ جو انہوں نے فرمایا ہے کہ ستیارتھ پرکاش میں لکھا ہے کہ روحیں اَوس وغیرہ پر پھیلتی ہیں اور عورتیں کھاتی ہیں تو آدمی پیدا ہوتے ہیں پیش کرتا ہوں یہ ستیارتھ پرکاش میں کسی جگہ نہیں اگر ہے تو ستیارتھ پرکاش َ میں دیتا ہوں اس میں سے نکال کر دکھلاویں تاکہ سچ اور جھوٹ کی نرتی لوگ کرلیں۔ ۱۴؍ مارچ ۱۸۸۶ء۔ مرلیدھر ڈرائینگ ماسٹر۔
اس کے جواب میں اول تو میں نے یہ کہا کہ پہلے روز کی تقریر اسی روز کے ساتھ ختم ہوئی۔ آپ پر لازم تھا کہ اسی روز جھگڑا شروع کرتے اب یہ کیونکر اس جلسہ بحث میں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 114
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 114
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/114/mode/1up

اعترؔ اض کرتے لیکن اب تو ماسٹر صاحب آپ پر فرض ہوگیا کہ اول اپنے گھر کی باتوں کو (جو صریح خلاف عقل معلوم ہوتی ہیں۔ )عقل کے رو سے ثابت کرلیں پھر کسی دوسرے پر اعتراض کریں بھلا جس حالت میں آپ کے نزدیک روح بھی ایک باریک جسم ہے جو اوس یعنے شبنم کی طرح ہوکر آسمان سے گرتی ہے تو آپ پر یہ بھی سوال وارد ہوگا کہ انڈے میں جب بچہ مرجاتا ہے تو وہ کس راہ سے نکل جاتی ہے۔ اور پھر جب اس لاش یا میت میں اندر ہی اندر کیڑے پڑجاتے ہیں تو وہ کس راہ سے آتے ہیں پانی کے کیڑے اور ہوا کے کیڑے اور پھلوں کے کیڑے کس اَوس سے پیدا ہوتے ہیں ہریک منصف سمجھ سکتا ہے کہ یہ بات کہنا کہ یہ امر خلافِ عقل ہے اس شخص کے لئے حق پہنچتا ہے کہ جس نے اوّل اپنے گھر کی صفائی کرلی ہو لیکن درحقیقت عقائد اسلام میں تو ایک بات بھی خلاف عقل
تحریک کے لائق نہیں بلکہ از قبیل 228مُشتے کہ بعد از جنگ یاد آمد۔ ہے اگر آپ کو چار روز کی بات اب جاکر سوجھی ہے تو آپ بروقت شائع کرنے اپنے مضمون کے بطور خود لکھ دیں کہ یہ حوالہ غلط ہے۔ پھر دیکھا جائے گا۔ اور میں اب بھی کتاب نکال کر دکھلا دیتا لیکن مجھے پتہ یاد نہیں اور نہ میں ناگری پڑھ سکتا ہوں یہ سب عذرات سن کر ماسٹر صاحب نے سراسر مکابرہ کی راہ سے اسی پر ضد کرنا شروع کیا کہ جب تک اس کا تصفیہ نہ ہولے دوسری گفتگو نہیں کرسکتے اس پر مولوی الٰہی بخش صاحب وکیل نے بھی انہیں بہت سمجھایا کہ اس موقعہ پر گزشتہ قصوں کو لے بیٹھنا بے جا ہے آج کے دن آج ہی کی بحث ہونی چاہیئے بھلا اتنی بڑی کتاب جس کا پتہ و مقام خاص یاد نہیں اگر کسی سے پڑھائی بھی جائے تو کیا دو چار روز سے کم میں ختم ہوسکتی ہے اس کے جواب میں لالہ صاحب نے ُ تند ہوکر ان کو فرمایا کہ کیا آپ عدالتوں میں ایسی ہی وکالتیں کیا کرتے ہیں یہ رعایت کی بات ہے غرض جب دیکھا گیا کہ خدا نے ماسٹر صاحب کی کچھ ایسی ہی سمجھ رکھی ہے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 115
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 115
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/115/mode/1up

پائیؔ نہیں جاتی۔ ہاں بعض امور دقیقہ برتر از عقول ناقصہ ہیں جو کمال معرفت کی حالت میں منکشف ہوجاتے ہیں مگر آپ کے مذہب میں تو ہزاروں باتیں خلاف عقل اور خلاف شان الوہیت پائی جاتی ہیں تو پھر آپ دوسروں پر کیونکر اعتراض کرسکتے ہیں۔ پس اسی قدر کافی ہے۔
ماسٹر صاحب کا جواب الجواب معہ اس کی ردّ کے
قولُہٗ مرزا صاحب میرے سے حدیث یا آیت مانگتے ہیں اور ساتھ ہی قرآن کی آیت تحریر فرما کر اقرار کرتے ہیں کہ قمر کے دو ٹکڑے حضرت نے کئے۔
اقول صاحب من میں نے چاند کے دو ٹکڑے ہونے پر تو آپ سے کسی آیت یا حدیث
کہ ؔ وہ بہرحال اپنے الٹے کو سیدھا اور دوسرے کے سیدھے کو الٹا خیال کرتے ہیں تو قصہ کوتاہ کرنے کی غرض سے ان کو کہا گیا کہ جب ہم یہ بحث شائع کریں گے تو اس مقام پر ستیارتھ پرکاش کا حوالہ بھی ضرور لکھ دیں گے چنانچہ ماسٹر صاحب نے جب تک یہ اقرار تحریری نہ لکھا لیا تب تک صبر نہ آیا سو آج وہ روز ہے جو ہم اس وعدہ کو پورا کریں اور دیکھیں کہ ماسٹر صاحب کس قدر انسانی غیرت کو کام میں لاکر شرمندہ اور منفعل ہوتے ہیں۔
لیکن اوّل اس بات کا کھول دینا ازبس ضروری ہے کہ جس حالت میں ستیارتھ پرکاش میں وہ مضمون جس کا حوالہ دیا گیا تھا صاف درج تھا تو پھر کیوں ماسٹر صاحب نے اس کے اندراج سے صاف انکار کیا اور اس کے مطالبہ میں اس قدر بے جا ضد کی کہ بہت سے وقت کو کھویا جس سے ہمارا حق بالمقابل اعتراض کرنے کا بہت سا ضائع ہوا اس کا سبب تین میں سے ایک ہے یا تو یہ کہ ابھی ماسٹر صاحب کو اپنے مذہب کی کتابوں کی کچھ خبر ہی نہیں صرف دیکھا دیکھی بحث کرنے کا شوق ہوگیا ہے یا دوسرا سبب یہ بھی ہوسکتا ہے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 116
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 116
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/116/mode/1up

کی ؔ سند نہیں مانگی بلکہ ایک ادنیٰ استعداد کا اردو خوان بھی میرے جواب کو پڑھ کر سمجھ سکتا ہے کہ میں نے تو آپ سے یہ ثبوت مانگا تھا کہ قرآن شریف یا حدیث میں کہاں لکھا ہے کہ چاند دو ٹکڑے ہوکر زمین پر گر پڑا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی آستینوں میں سے اس کو نکال دیا سو آپ نے اس کا کچھ ثبوت نہ دیا۔
قولہ میرا سوال تھا کہ جو بات خلافِ قانون قدرت ہے (یعنے شق القمر) وہ کس طرح ہوسکتی۔
اقول بے شک اس قدر حصہ آپ کے سوال کا تو بہت صحیح اور درست ہے کہ خلاف قانون قدرت ازلی و ابدی کوئی بات ظہور میں نہیں آتی لیکن ساتھ اس کے یہ دعویٰ آپ کا کہ اس قانون ازلی و ابدی پر انسانی عقل نے احاطہ تام کرلیا ہے اور پھر اس خیال باطل
کہؔ خبر تو تھی لیکن خیانت کی راہ سے دوسروں کے بہکانے اور دھوکا دینے کے لئے ایک امر حق کو چھپانا چاہا ہے یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس قسم کے جھوٹے اور لغو مسائل کا حتی الوسع لوگوں کے روبرو ظاہر نہ کرنا پنڈت دیانند کی طرف سے بطور وصیت فہمائش ہے جس پر ان کے پیرو عمل کررہے ہیں اور یہ آخری سبب قرین قیاس ہے اور یہی وجہ تھی کہ ماسٹر صاحب نے اپنا تمام جوش اسی میں خرچ کیا کہ ایسا نالائق مضمون اور ایسا باطل خیال ستیارتھ پرکاش میں ہرگز نہیں ہے اور نہ پنڈت دیانند صاحب کی شان کے لائق ہے کہ ایسی احمقانہ باتیں ان کی قلم سے نکلیں مگر شکر ہے کہ آخر چور پکڑا گیا۔ اور اس جگہ ماسٹر صاحب کو بھی معلوم رہے کہ پنڈت صاحب کی یہ ایک نئی غلطی نہیں بلکہ ان کی اکثر تحریریں ایسی ہی ہیں کہ جن کو غلطستان کہنا چاہئے اُن کی فطرت ہی کچھ ایسی واقعہ تھی کہ باریک باتوں تک ان کی عقل نہیں پہنچ سکتی تھی اور خالص اور مغشوش دلائل میں فرق نہیں کرسکتے تھے ہاں بعض اوقات پیچھے سے وقت گزرنے کے بعد سمجھ بھی جاتے تھے کہ ہم سے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 117
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 117
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/117/mode/1up

کےؔ رو سے شق القمر پر اعتراض کرنا یہ بالکل غلط اور سراسر سمجھ کا پھیر ہے عقلمندی یہ ہے کہ قانون قدرت جو ہنوز انسانی دفتروں میں غیر مکمل ہے اس کو ہمیشہ عجائبات جدید الظہور کا تابع رکھنا چاہیے نہ یہ کہ جو عجائبات خواص عالم نئے نئے کھلتے جائیں ان کو باوجود ثبوت کے اس وجہ سے رد کردیں کہ جو کچھ آج تک ہمیں معلوم ہے یہ اس سے زائد امر ہے۔ اس سے زیادہ تر کون سی فضول گوئی اور بے سمجھی ہوگی کہ اپنے چند روزہ اور محدود اور مشتبہ تجربہ کو خدائے تعالیٰ کا مکمل قانون قدرت خیال کر بیٹھیں اور پھر جو آئندہ اسرار کھلتے جائیں ان کو اس بنا پر خلاف قانون قدرت سمجھ لیں کہ وہ ہمارے معلومات سابقہ سے زیادہ ہیں مجھے یقین ہے کہ آپ نے اس رسالہ کے مقدمہ مذکورہ بالا کو پڑھ کر سمجھ لیا ہوگا کہ قانون قدرت کیا چیز ہے اور کس حالت میں کسی امر کو کہہ سکتے ہیں
غلطیؔ ہوئی مگر وہ سمجھنا کچھ اپنی لیاقت سے نہیں بلکہ لوگوں کے اعتراضات بارش کی طرح چاروں طرف سے برس کر متنبہ کرتے تھے اور اسی نقصان فہم کی وجہ سے پنڈت دیانند کا اپنی تمام زندگی میں یہ طریق رہا ہے کہ اول ایک بات کا دعویٰ کرنا کہ یہ مسئلہ وید کا ہے اور ہمارے ویدوں میں یوں ہی لکھا ہے اور پھر اس کو کسی رسالہ وغیرہ میں چھپوا دینا اور پھر جس وقت دانشمند لوگ اس پر اعتراض کرکے اس کا باطل ہونا کھول دیں اور لاجواب کردیں تو پھر اس مسئلہ سے گریز کرجانا اور یہ عذر پیش کردینا کہ جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ہمارا قصور نہیں ہے بلکہ سہو کاتب ہے چنانچہ پہلے انہوں نے اپنے ستیارتھ پرکاش میں جو وید بھاش کے مشتہر کرنے سے پہلے لکھی گئی ہے صفحہ ۴۲ میں لکھا تھا کہ پتھروں میں سے جو کوئی جیتا ہو اس کا ترپن نہ کرے اور جتنے مر گئے ہوں ان کا تو ضرور کرے اور اس پر چند فوائد اور دلائل بھی بیان کئے تھے لیکن پھر مدت کے بعد انہوں نے اشتہار دیا کہ یہ سہو کاتب ہے۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 118
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 118
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/118/mode/1up

کہ ؔ یہ خلافِ قانون قدرت ہے اور اگر آپ نے اب تک اس مقدمہ کو غور کرکے نہیں دیکھا تو میں آپ کو توجہ دلاتا ہوں کہ آپ غور سے اس مفید مقام کو پڑھیں کیونکہ ان علمی نکات کے جانے بغیر آپ قانون قدرت کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے۔
قولہ شق القمر سے انتظام عالم میں فتور واقعہ ہوجاتا ہے۔
اقول اگر کسی کی خود اپنی ہی عقل میں فتور نہ ہو تو سمجھ سکتا ہے کہ کسی چیز کے ایک نئے خاصہ کا ظہور میں آنا اس کے پہلے خاصہ کے ابطال کے لئے ایک لازمی امر نہیں ہے سو اسی قاعدہ کے رو سے دانشمند لوگ جو خدائے تعالیٰ کی عظیم الشان قدرتوں سے ہمیشہ ہیبت زدہ رہتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ حکیم مطلق جس کی حکمتوں کا انتہا نہیں اس کی طرف سے قمر و شمس میں ایسی خاصیت مخفی ہونا ممکن ہے کہ باوجود انشقاق کے ان کے فعل میں فرق
گویاؔ کاتب نے اپنی طرف سے ایک صفحہ معہ دلائل و فوائد لکھ مارا اور پنڈت صاحب سوئے رہے انہیں کچھ خبر نہیں۔
پھر شاید عرصہ باراں سال کا یا کچھ کم و بیش ہوا ہوگا کہ پنڈت صاحب نے ایک اشتہار اپنا دستخطی کاہنپور میں مشتہر کیا تھا کہ اکیس شاستر ایشرکرت یعنے خدا کا کلام ہے۔ پھر رفتہ رفتہ جیسے شاستروں کی خوبیاں پنڈت صاحب پر کھلتی گئیں ان کو انسان کا کلام سمجھتے گئے یہاں تک کہ تھوڑے ہی عرصہ میں چار وید ایشرکرت رہ گئے اور باقی سب انسانی کتابیں ٹھہرائی گئیں پھر اس کے بعد ویدوں کا حصہ جس کو براہمن کہتے ہیں ان کی نظر میں صحیح ثابت نہیں ہوا تو آخر اس کو بھی ایشرکرت سے باہر کردیا اور صرف اس کے دوسرے حصہ سنگتا (منتر بہاگ) کو الہامی سمجھا گیا۔ کاش پنڈت صاحب ایک دو سال اور بھی جیتے تا ان نوخیال آریوں کو چاروں ویدوں سے بھی آزاد کرجاتے۔ اتھرون وید کا قصہ تو جلد پاک ہوجاتا کیونکہ اس کی نسبت تو پہلے ہی بعض ہندؤں کا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 119
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 119
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/119/mode/1up

نہ آؔ وے اسی کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ‏
نزدیک آگئی وہ گھڑی اور پھٹ گیا چاند۔ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ روز ازل سے حکیم مطلق نے ایک خاصہ مخفی چاند میں رکھا ہوا تھا کہ ایک ساعت مقررہ پر اس کا انشقاق ہوگا اور یہ ظاہر ہے کہ نجوم اور شمس اور قمر کے خواص کا ظہور ساعات مقررہ سے وابستہ ہے اور ساعات کو حدوث عجائبات سماوی و ارضی میں بہت کچھ دخل ہے اور حقیقت میں قوانین قدرتیہ کا شیرازہ انہیں ساعات سے باندھا گیا ہے سو کیا عمدہ اور پرحکمت اور فلسفیانہ اشارہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے آیت مندرجہ بالا میں فرمایا کہ چاند کے پھٹنے کی جو ساعت مقرر اور مقدر تھی وہ نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ اس آیت کے آگے بھی فرماتا ہے
وَكَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ‌ وَكُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ‏
خیالؔ ہے کہ وہ براہمن پشتک ہے اور تین ویدوں میں اس کا کہیں ذکر نہیں۔ خیر یہ جھگڑا ہمارے اس وقت کے بحث سے متعلق نہیں صرف یہ ظاہر کرنا تھا کہ پنڈت دیانند قائم الرائے آدمی نہیں تھا اور فطرت سے ان کو ایک موٹی عقل ملی تھی جس کی وجہ سے وہ دوسروں کی باتوں کو تو کیا سمجھتے اپنی رائے کے آخری نتائج سے بھی اکثر بے خبر رہتے تھے یہی وجہ تھی کہ ان کے خیالات ایک ہی مرکز پر قائم نہیں رہ سکتے تھے۔ اوائل میں ان کی یہ رائے تھی کہ تناسخ باطل ہے چنانچہ یہ رائے ان کی ایک مرتبہ وکیل ہند امرتسر میں بھی چھپی تھی پھر اسی اخبار میں لکھا تھا کہ اب پنڈت صاحب فرماتے ہیں کہ اب میں نے عقیدہ تناسخ کو اختیار کرلیا ہے گو پہلے نہیں تھا پھر چاندؔ اپور کے مباحثہ پر جو ان کی طرف سے ایک رسالہ نکلا تھا اس میں انہوں نے مکتی جاودانی کا صاف اقرارکیا تھا چنانچہ اب تک رسالہ موجود ہے اور جب سوال کیا گیا کہ اگر مکتی جاودانی ہے تو پھر روح کسی نہ کسی دن مکتی پاکر ختم ہوجائیں گے کیونکہ پرمیشر میں تو یہ قدرت

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 120
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 120
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/120/mode/1up

یعنے ؔ کفار نے تو چاند پھٹنے کو سحر پر حمل کیا اور تکذیب کی مگر یہ سحر نہیں ہے بلکہ خدائے تعالیٰ کی ان امور یعنے قوانین قدرتیہ میں سے ہے جو اپنے اپنے وقتوں میں قرار پکڑنے والے ہیں اور عقلمند انسان اس نشان قدرت سے کیوں تعجب کرے کیا اللہ تعالیٰ کے کارخانہ قدرت میں یہی ایک بات بالاتر از عقل ہے جو حکیموں اور فلسفیوں کی سمجھ میں نہیں آتی اور باقی تمام اسرار قدرت انہوں نے سمجھ لئے ہیں اور کیا یہ ایک ہی عقدہ لاینحل ہے اور باقی سب عقدوں کے حل کرنے سے فراغت ہوچکی ہے اور کیا اللہ تعالیٰ کے عجائب کاموں میں سے یہی ایک عجیب کام ہے اور کوئی نہیں بلکہ اگر غور کرکے دیکھو تو اس قسم کے ہزارہا عجائب کام اللہ تعالیٰ کے دنیا میں پائے جاتے ہیں زمین پر سخت سخت زلازل آتے رہتے ہیں اور بسا اوقات کئی میل زمین تہ و بالا ہوگئی ہے مگر پھر بھی انتظام عالم میں فتور واقع نہیں ہوا حالانکہ جیسے چاند کو اس انتظام میں دخل ہے ویسا ہی زمین کو غرض یہ ملحدانہ شکوک انہیں لوگوں
ہی ؔ نہیں کہ کوئی روح پیدا کرسکے۔ اس کے جواب میں انہوں نے اپنے چیلوں کو یہ پٹی پڑھائی کہ روح بے انت ہیں کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ پھر جب ہم نے اخبار وکیل ہند میں مشتہر کیا کہ کیا پرمیشر بھی جانتا ہے یا نہیں کہ اس قدر روح ہیں تو یہ جواب ملا کہ روحوں کی تعداد کی پرمیشر کو بھی خبر نہیں اس کی بے خبری سے ہی یہ سارا انتظام دنیا کا چلا جاتا ہے پھر جب لوگوں نے اس اعتقاد پر بہت ہنسی ٹھٹھا شروع کیا تب پنڈت صاحب تنگ اور لاچار آکر دوسری طرف الٹے اور فرمایا کہ ہاں روح تو بے انت نہیں ہیں مگر یہ بات سچ ہے کہ کسی کو اوتار ہو یا رشی ہو کوئی ہو ہمیشہ کی نجات نہیں ملے گی اور کیسا ہی کوئی اعلیٰ درجہ کا نیک اور عاشق الٰہی ہوجائے مگر تب بھی جونوں کی دائمی بلا سے اس کو مخلصی نہیں ہوگی پرمیشر تو رحیم ہی تھا مگر وہ بیچارہ کیا کرسکے ہمیشہ کی نجات دینا اس کی قدرت سے باہر ہے کیونکہ وہ کسی روح کو پیدا نہیں کرسکتا۔ اس کی ساری بدنامیوں کی جڑھ یہی ہے غرض پنڈت

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 121
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 121
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/121/mode/1up

کےؔ دلوں میں اٹھتے ہیں کہ جو خدائے تعالیٰ کو اپنے جیسا ایک ضعیف اور کمزور اور محدود الطاقت خیال کرلیتے ہیں اگر خدائے تعالیٰ پر اس قسم کے اعتراضات وارد ہوسکتے ہیں تو پھر کسی طور سے عقل تسلی نہیں پکڑسکتی کہ یہ بڑے بڑے اجرام علوی و سفلی کیونکر اور کن ہتھیاروں سے اس نے بنا ڈالے۔
قولہ ممالک غیر اور اقوام غیر کی تاریخ میں ایسی بڑی بات کا ذکر (یعنی شق القمر کا ذکر) ضرور چاہئے۔
اقول میں کہتا ہوں کہ آپ اپنے اسی قول سے ملزم ٹھہرسکتے ہیں کیونکہ جس حالت میں چاند کے دو ٹکڑہ کرنے کا دعویٰ زور شور سے ہوچکا تھا یہاں تک کہ خاص قرآن شریف میں مخالفوں کو الزام دیا گیا کہ انہوں نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا اور اعراض کرکے کہا کہ یہ پکا جادو ہے۔ اور پھر یہ دعویٰ نہ صرف عرب میں بلکہ اسی زمانہ میں تمام ممالک روم و شام و مصر و فارس وغیرہ دور دراز ممالک میں پھیل گیا تھا تو اس صورت میں یہ بات کچھ تعجب کا محل نہ تھا کہ مختلف قومیں جو مخالف اسلام تھیں وہ دم بخود اور خاموش رہتیں اور بوجہ عناد
صاؔ حب کی کارروائیوں میں اس قسم کی خیانتیں بہت تھیں کہ ایک بات کو اپنے منہ سے نکالنا یا چھپوا دینا اور جب اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہوجائے تو فی الفور منکر ہوجانا اور پھر طبع شدہ کتاب کی ترمیم کرکے دوسری کتاب چھپوانا۔ اب ہم اصل مقصود کی طرف رجوع کرکے ستیارتھ پرکاش کا وہ مقام لکھتے ہیں جس کے لکھنے کا ماسٹر مرلیدھر صاحب کو وعدہ دیا گیا تھا اور وہ یہ ہے۔
ستیارتھ پرکاش ۱۸۷۵ ؁ء آٹھواں سمولاس صفحہ ۲۶۳۔
سوال جنم اور موت وغیرہ کس طرح سے ہوتے ہیں۔
جواب لنگ شریر یعنے جسم دقیق (روح) اور ستہول شریر جسم کثیف باہم مل کر جب ظاہر ہوتے ہیں تب اس کا نام جنم یعنے پیدائش ہوتا ہے۔ اور دونوں کی علیحدگی سے غائب ہوجانے کو موت کہتے ہیں۔
سو اس طرح سے ہوتا ہے کہ روح اپنے اعمال کے نتائج سے گردش کرتی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 122
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 122
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/122/mode/1up

وبغضؔ و حسد شق القمر کی گواہی دینے سے زبان بند رکھتیں کیونکہ منکر اور مخالف کا دل اپنے کفر اور مخالفت کی حالت میں کب چاہتا ہے کہ وہ مخالف مذہب کی تائید میں کتابیں لکھے یا اس کے معجزات کی گواہی دیوے۔ ابھی تازہ واقعہ ہے کہ لالہ شرمپت و ملاوامل آریہ ساکنان قادیان و چنددیگر آپ کے آریہ بھائیوں نے قریب ۷۰ کے الہامی پیشگوئیاں اس عاجز کی بچشم خود پوری ہوتی دیکھیں جن میں پنڈت دیانند کی وفات کی خبر بھی تھی۔ چنانچہ اب تک چند تحریری اقرار بعضوں کے ہمارے پاس موجود پڑے ہیں لیکن آخر قوم کے طعن ملامت سے اور نیز ان کی اس دھمکی سے کہ ان باتوں کی شہادت سے اسلام کو تائید پہنچے گی اور وہ امر ثابت ہوگا کہ جس میں پھر وید کی بھی خیر نہیں ڈر کر مونہہ بند کرلیا اور ناراستی سے پیار کرکے راستی کی شہادت سے کنارہ کش ہوگئے سو مخالف ہونے کی حالت میں اگر کوئی ادائے شہادت سے خاموش رہے تو کچھ تعجب کی بات نہیں بلکہ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اگر مخالف کی طرف سے ایک دعویٰ کا جھوٹا ہونا کھل جائے تو پھر جھوٹ کی اشاعت کے لئے قلم نہ اٹھائیں اور دروغگو کو اس کے گھر تک نہ پہنچائیں سو میں پوچھتا ہوں کہ اگر آنحضرت
اورؔ اپنے افعال کی تاثیر سے گھومتے ہوئے پانی یا کسی اناج یا ہوا میں ملتی ہے پھر جب وہ پانی یا کسی بوٹے وغیرہ کے ساتھ مل جاتی ہے تو جیسے جس کے افعال کا اثر یعنے جتنا جس کو سکھ یا دکھ ہونا ضروری ہے خدا کے حکم کی موافق ویسی جگہ اور ویسے ہی جسم میں مل کے شکم مادر میں داخل ہوجاتی ہے پھر جب حیوان یا انسان میں وہ غذا کے ساتھ اندر چلی جاتی ہے اس کے جسم کے حصہ کی کشش سے اس کا جسم بنتا ہے اسی طریقہ سے جو پرمیشر نے مقرر کررکھا ہے روح نکلنے کے بعد آفتاب کی کرنوں کے ساتھ اوپر کو کھینچی جاتی ہے اور پھر چاند کے نور کے ساتھ (اَوس کی طرح) زمین پر کسی بوٹی وغیرہ پر گرتی ہے۔ پھر بموجب طریقۂ مذکورہ بالا جسم اختیار کرتی ہے۔
یہ پنڈت صاحب کی عبارت ہے جو ہم نے ستیارتھ پرکاش سے نکال کر اس جگہ لکھی ہے اب ہم ماسٹر صاحب سے پوچھتے ہیں کہ کیوں صاحب ابھی سچ اور جھوٹ کی نرتی ہوئی یا نہیں۔ اس وقت ذرا آپ فرمائیں تو سہی کہ آپ کے دل کا کیا حال ہے کیا وہ آپ کا قول سچ نکلا کہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 123
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 123
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/123/mode/1up

صلیؔ اللہ علیہ و سلم جنہوں نے عام اور علانیہ طور پر یہ دعویٰ مشہور کردیا تھا کہ میرے ہاتھ سے معجزہ شق القمر وقوع میں آگیا ہے اور کفار نے اس کو بچشم خود دیکھ بھی لیا ہے مگر اس کو جادو قرار دیا اپنے اس دعویٰ میں سچے نہیں تھے تو پھر کیوں مخالفین آنحضرت جو اسی زمانہ میں تھے جن کو یہ خبریں گویا نقارہ کی آواز سے پہنچ چکی تھیں چپ رہے اور کیوں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے مواخذہ نہ کیا کہ آپ نے کب چاند کو دو ٹکڑے کرکے دکھایا اور کب ہم نے اس کو جادو کہا اور اس کے قبول سے مونہہ پھیرا اور کیوں اپنے مرتے دم تک خاموشی اختیار کی اور مونہہ بند رکھا یاں تک کہ اس عالم سے گزر گئے کیا ان کی یہ خاموشی جو ان کی مخالفانہ حالت اور جوش مقابلہ کے بالکل برخلاف تھی اس بات کا یقین نہیں دلاتے کہ کوئی ایسی سخت روک تھی جس کی و جہ سے کچھ بول نہیں سکتے تھے مگر بجز ظہور سچائی کے اور کون سی روک تھی یہ معجزہ مکہ میں ظہور میں آیا تھا اور مسلمان ابھی بہت کمزور اور غریب اور عاجز تھے پھر تعجب یہ کہ ان کے بیٹوں یا پوتوں نے بھی انکار میں کچھ زبان کشائی نہ کی حالانکہ ان پر واجب و لازم تھا کہ اتنا بڑا دعویٰ اگر افترا محض تھا اور صدہا کوسوں میں مشہور ہوگیا تھا اس کی ردّ میں
مضمونؔ مذکورہ بالا ستیارتھ پرکاش میں کسی جگہ نہیں۔ افسوس اس روز ناحق آپ نے ہمارے اوقات کو ضائع کیا اور اپنی علمی حیثیت کا پردہ پھاڑا اور آج آپ ہی جھوٹے نکلے۔ ہر کہ باصادقاں آویخت آبروئے خودریخت۔
اب آپ سوچ لیں کہ آپ کے پنڈت صاحب ویددان نے کیسا ایک ناقص خیال خلاف عقل و خلاف تجارب طبعی و طبابت ظاہر کیا ہے تمام عقلا جانتے ہیں کہ روح کا تعلق صرف بچہ کی والدہ سے نہیں ہوتا بلکہ والد اور والدہ دونوں سے ہوتا ہے اور روحانی اخلاق کا افاضہ بچہ کے وجود پر والدین کی طرف سے ہوتا ہے نہ ان میں سے ایک کی طرف سے ۔ ہاں اگر پنڈت صاحب یہ کسی بوٹی وغیرہ پر گرتی ہے جس کو مرد اور عورت دونوں کھالیتے ہیں اور دونوں منیوں میں روح کا عرق مخلوط ہوجاتا ہے تب بھی کچھ بات تھی مگر اس جگہ یہ شبہ پیدا ہوگا کہ کیا رُوح آدھی آدھی ہوکر گرتی ہے اور اگر ایسا ہی ہے تو پھر دو ٹکڑے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 124
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 124
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/124/mode/1up

کتابیںؔ لکھتے اور دنیا میں شائع اور مشہور کرتے اور جبکہ ان لاکھوں آدمیوں عیسائیوں، عربوں، یہودیوں، مجوسیوں وغیرہ میں سے ردّ لکھنے کی کسی کو جرأت نہ ہوئی اور جو لوگ مسلمان تھے وہ علانیہ ہزاروں آدمیوں کے روبرو چشم دید گواہی دیتے رہے جن کی شہادتیں آج تک اس زمانہ کی کتابوں میں مندرج پائی جاتی ہیں تو یہ صریح دلیل اس بات پر ہے کہ مخالفین ضرور شق القمر مشاہدہ کرچکے تھے اور ردّ لکھنے کے لئے کوئی بھی گنجائش باقی نہیں رہی تھی اور یہی بات تھی جس نے ان کو منکرانہ شوروغوغا سے چپ رکھا تھا سو جبکہ اسی زمانہ میں کروڑہا مخلوقات میں شق القمر کا معجزہ شیوع پاگیا مگر ان لوگوں نے خجلت زدہ ہوکر اس کے مقابلہ پر دم بھی نہ مارا تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس زمانہ کے مخالفین اسلام کا چپ رہنا شق القمر کے ثبوت کی دلیل ہے نہ کہ اس کے ابطال کی۔ کیونکہ اس بات کا جواب مخالفین اسلام کے پاس کوئی نہیں کہ جس دعویٰ کا رد انہیں ضرور لکھنا چاہئے تھا انہوں نے کیوں نہیں لکھاؔ ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کوئی معمولی درویش یا گوشہ نشین نہیں تھے تا یہ عذر پیش کیا جائے کہ ایک فقیر صلح مشرب جس نے دوسرے مذاہب پر کچھ حملہ نہیں کیا چشم پوشی کے لائق تھا بلکہ آں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنے عام مخالفین کا جہنمی ہونا بیان کرتے تھے اس صورت میں مطلق طور پر جوش پیدا ہونے کے موجبات موجود تھے۔ ماسوا اس کے یہ بھی کچھ ضروری معلوم نہیں ہوتا کہ واقعہ شق القمر پر جو چند سیکنڈ سے کچھ زیادہ نہیں تھا ہر یک ولایت کے لوگ اطلاع پاجائیں کیونکہ مختلف ملکوں میں دن رات کا قدرتی تفاوت اور کسی جگہ مطلع ناصاف اور ُ پرغبار ہونا اور کسی جگہ ابر ہونا ایسا ہی کئی اور ایک موجبات عدم رویت ہوجاتے ہیں اور نیز بالطبع انسان کی طبیعت اور عادت اس کے برعکس واقع ہوئی ہے کہ ہر وقت آسمان کی طرف نظر لگائے رکھے بالخصوص رات کے
ہونےؔ کے بعد اس کا پیوند کیونکر ہوجاتا ہے۔ غرض پنڈت صاحب اپنے اس باطل اعتقاد سے عجب حیص بیص میں اپنے پس ماندگوں کو پھنسا گئے ہیں اور وید کے فلسفہ کا عجیب ایک نمونہ دکھا گئے۔
اور ہم اس جگہ یہ بھی بیان کرنا چاہتے ہیں کہ پنڈت دیانند صاحب کا یہ اعتقاد کہ روح جسم ہے یہ بھی سراسر غلط اور فاسد ہے روح ہرگز جسم نہیں ہے جسم قسمت کو قبول کرتا ہے اور روح قابل انقسام نہیں اور اگر یہ کہو کہ وہ جز لایتجزی ہے یعنے پرمانو (پر کرتی )ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ کئی روحوں کو باہم جوڑ کر ایک بڑا جسم طیار ہوجائے جس کو دیکھ سکیں اور ٹٹول سکیں کیونکہ جز لایتجزی جس کو آریہ لوگ پرکرتی یا پرمانو کہتے ہیں یہی خاصیت رکھتی ہے جیسے پنڈت صاحب آپ ہی قائل ہیں کہ اجسام کثیف پرمانوں کے باہم ملنے سے طیار ہوتے ہیں مگر کیا پنڈت صاحب کا کوئی شاگرد ایسا جسم ہم کو دکھا سکتا ہے جو دو چار ہزار یا دو چار لاکھ یا کسی اور اندازہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 125
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 125
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/125/mode/1up

نے کیوں نہیں لکھاؔ ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کوئی معمولی درویش یا گوشہ نشین نہیں تھے تا یہ عذر پیش کیا جائے کہ ایک فقیر صلح مشرب جس نے دوسرے مذاہب پر کچھ حملہ نہیں کیا چشم پوشی کے لائق تھا بلکہ آں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنے عام مخالفین کا جہنمی ہونا بیان کرتے تھے اس صورت میں مطلق طور پر جوش پیدا ہونے کے موجبات موجود تھے۔ ماسوا اس کے یہ بھی کچھ ضروری معلوم نہیں ہوتا کہ واقعہ شق القمر پر جو چند سیکنڈ سے کچھ زیادہ نہیں تھا ہر یک ولایت کے لوگ اطلاع پاجائیں کیونکہ مختلف ملکوں میں دن رات کا قدرتی تفاوت اور کسی جگہ مطلع ناصاف اور ُ پرغبار ہونا اور کسی جگہ ابر ہونا ایسا ہی کئی اور ایک موجبات عدم رویت ہوجاتے ہیں اور نیز بالطبع انسان کی طبیعت اور عادت اس کے برعکس واقع ہوئی ہے کہ ہر وقت آسمان کی طرف نظر لگائے رکھے بالخصوص رات کے
پرؔ روحوں کے باہم ملنے سے طیار ہوگیا ہو اور دیکھنے اور ٹٹولنے میں آسکتا ہو۔ سو یہ دیانند صاحب کا پوچ خیال ہے کہ روح بھی پرمانوہی ہے۔
ماسوا اس کے ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ جز لا یتجزی دلائل عقلیہ اور ہندسیہ سے باطل ہے اور اس کے ابطال پر ایک آسان دلیل یہ ہے کہ اگر جز لایتجزی یعنے پر مانو (پرکرتی) کو دو چیزوں کے درمیان رکھا جائے تو ضرور ہے کہ وہ دونوں چیزیں اطراف مخالف سے اس کو مس کریں گی اور یہ امر تقسیم کو ثابت کرنے والا ہے۔
دوسرے یہ کہ نقطہ بھی جز لا یتجزی ہے اور بموجب اُصول موضوعہ علمِ ہندسہ کے ہم کو اختیار ہے کہ ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک خط مستقیم کھینچ لیں مثلاً ہم مختار ہیں کہ نقاط ا اور ب میں ا۔۔۔۔ب ایک ایسا خط مستقیم کھینچ لیں جس کاُ کل مجموعہ گیاراں نقطے ہوں پھر بعد اس کے ہم یہ بھی اختیار رکھتے ہیں کہ بموجب شکل دہم مقالہ اولیٰ تحریر اقلیدس اس خط محدود کی تنصیف کریں۔ سو ظاہر ہے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 126
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 126
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/126/mode/1up

وقتؔ جو سونے اور آرام کرنے کا اور بعض موسموں میں اندر بیٹھنے کا وقت ہے ایسا التزام بہت بعید ہے۔
پھر ان سب باتوں کے بعد ہم یہ بھی لکھتے ہیں کہ شق القمر کے واقعہ پر ہندوؤں کی معتبر کتابوں میں بھی شہادت پائی جاتی ہے مہابھارتہہ کے دھرم پر ب میں بیاس جی صاحب لکھتے ہیں کہ ان کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہوکر پھر مل گیا تھا۔ اور وہ اس شق قمر کو اپنے بے ثبوت خیال سے بسوامتر کا معجزہ قرار دیتے ہیں لیکن پنڈت دیانند صاحب کی شہادت اور یورپ کے محققوں کے بیان سے پایا جاتا ہے کہ مہابھارتہہ وغیرہ پُر ان کچھ قدیم اور پرانے نہیں ہیں بلکہ بعض پُرانوں کی تالیف کو تو صرف آٹھ سو یا نو سو برس ہوا ہے۔ اب قرین قیاس ہے کہ مہابھارتہہ یا اس کا واقعہ بعد مشاہدہ
کہ ؔ اس خط کے دو ٹکڑے برابر کرنے سے درمیانی نقطہ (جو پرمانو ہے) منقسم ہوجائے گا اور یہی مطلب تھا۔ ماسوا اس کے جو شخص علم نفس میں سے کچھ پڑھا ہوگا اور دلائل عدم تجسم روح اس نے دیکھے ہوں گے اس پر صاف کھل جائے گا کہ پنڈت دیانند نے اس اپنے اعتقاد میں ایسی ڈبل غلطی کھائی ہے جس سے ثابت ہوگیا ہے کہ وہ بالکل علم روح سے بیگانہ اور ناآشنا ہے۔ کیا روح میں جسمانی لوازم و خواص بھی پائے جاتے ہیں؟ کیا وہ اپنے تعلق بالبدن میں تعلق جسمانی سے مشابہ ہے کیا وہ اپنے دخول اور خروج میں اجسام کی طرز اور طریق پر ہے پس جس حالت میں نہ جسم کو روح سے کچھ مشابہت ہے اور نہ روح کو جسم سے کچھ مماثلت تو کس قدر بے سمجھی ہے کہ روح کو جسم تسلیم کیا جائے اور پھر غذا کی طرح عورتوں اور دیگر مادہ حیوانات کو کھلایا جائے ۔ہم حیران ہیں کہ یہ کس قسم کی باتیں وید میں درج ہیں اور کیوں لوگوں نے ان فاش غلطیوں کو قبول کرلیا ہے۔ افسوس افسوس افسوس۔ منہ۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 127
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 127
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/127/mode/1up

واقعہؔ شق القمر جو معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم تھا لکھا گیا اور بسوامتر کا نام صرف بے جا طور کی تعریف پر جیسا کہ قدیم سے ہندوؤں کے اپنے بزرگوں کی نسبت عادت ہے درج کیا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی شہرت ہندوؤں میں مؤلف تاریخ فرشتہ کے وقت میں بھی بہت کچھ پھیلی ہوئی تھی کیونکہ اس نے اپنی کتاب کے مقالہ یازدہم میں ہندوؤں سے یہ شہرت یافتہ نقل لے کر بیان کی ہے کہ شہر دہار کہ جو متصل دریائے پہنبل صوبہ مالوہ میں واقع ہے اب اس کو شاید دہارا نگری کہتے ہیں وہاں کا راجہ اپنے محل کی چھت پر بیٹھا تھا ایکبارگی اس نے دیکھا کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور پھر مل گیا اور بعد تفتیش اس راجہ پر کھل گیا کہ یہ نبی عربی صلی اللہ علیہ و سلم کا معجزہ ہے تب وہ مسلمان ہوگیا۔ اس ملک کے لوگ اس کے اسلام کی وجہ یہی بیان کرتے تھے اور اس گرد نواح کے ہندوؤں میں یہ ایک واقعہ مشہور تھا جس بنا پر ایک محقق مؤلف نے اپنی کتاب میں لکھا۔ بہرحال جب آریہ دیس کے راجوں تک یہ خبر شہرت پاچکی ہے اور آریہ صاحبوں کے مہابہارتہہ میں درج بھی ہوگئے اور پنڈت دیانند صاحب ُ پرانوں کے زمانہ کو داخل زمانہ نبوی سمجھتے ہیں اور قانون قدرت کی حقیقت بھی کھل چکی تو اگر اب بھی لالہ مرلیدھر صاحب کو شق القمر میں کچھ تامل باقی ہو تو ان کی سمجھ پر ہمیں بڑے بڑے افسوس رہیں گے۔
قولہ قرآن میں لکھا جانا تاریخی ثبوت نہیں ورنہ دنیا میں جس قدر جدے جدے مذاہب والے اپنے اپنے دیوتاؤں وغیرہ کی نسبت عجائبات بیان کرتے ہیں وہ سب سچے ہوجائیں گے۔
اقول اے ماسٹر صاحب افسوس کہ تعصب کے جوش نے آپ کی کہاں تک نوبت پہنچا دی کہ آپ کی نظر میں قرآنی واقعات عام لوگوں کے مزخرفات کے برابر ہوگئے۔ ایسی باتیں جن کو لوگ بے ٹھکانہ اور بے بنیاد اپنے دیوتاؤں وغیرہ کی نسبت سینکڑوں یا ہزاروں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 128
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 128
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/128/mode/1up

برسوؔ ں کے بعد بنا دیتے ہیں جونہ ان دیوتاؤں کے زمانہ میں تحریر ہوکر شائع ہوتے ہیں اور نہ معزز اور معتبر دیکھنے والوں تک ان کا سلسلہ متواتر اور معتبر طور پر پہنچتا ہے بلکہ سراسر وہ مخلوق پرستوں کے مفتریات ہوتے ہیں جن کے ساتھ کوئی روشن دلیل نہیں ہوتی۔ ایسی بے اصل اور بے ثبوت مفتریات کو قرآنی واقعات سے آپ تشبیہہ دیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ قرآن میں لکھا جانا تاریخی ثبوت نہیں تو پھر آپ ہی فرماویں کہ جس حالت میں ایسی کتاب کی تحریر تاریخی ثبوت نہیں ہوسکتی جو اپنے زمانہ کا ایک شہرت یافتہ واقعہ مخالفوں کی گواہی کے حوالہ سے بتلاتی ہے اور کتاب بھی ایک ایسے شخص کی کتاب ہے جو تمام دنیا میں عزت اور مرتبت کے ساتھ مشہور ہے تو پھر تاریخی ثبوت کسے کہتے ہیں۔ کیا تاریخوں کے تمام مجموعہ میں اس سے عمدہ تر کوئی ثبوت مل سکتا ہے کہ کوئی واقعہ ہم ایسی کتاب میں لکھا ہوا پاویں جو اسی زمانہ کا واقعہ ہو جس زمانہ کی وہ کتاب ہے اور اسی مصنف نے اس کو لکھا ہو جس نے اس کو دیکھا بھی ہو اور وہ مؤلف کتاب بھی اپنی شہرت اور عزت میں سرآمد روزگار ہو اور پھر باوجود ان سب باتوں کے مصنف نے مخالفوں کو بطور گواہِ واقعہ قرار دیا ہو۔ اور پھر وہ کتاب بھی ایسی محفوظ چلی آتی ہو کہ اسی زمانہ میں اکثر حصہ دنیا میں شہرت پاگئی ہو اور ہزارہا حافظ اس کی ابتدا سے ہوتے آئے ہوں یاں تک کہ لاکھوں حافظوں تک نوبت پہنچ گئی ہو اور اسی زمانہ کے اس کے قلمی نسخے اور بعض تفسیریں بھی موجود ہوں اور بے شمار بندگان خدا ابتدا سے اس کو اپنی پنجگانہ نمازوں میں پڑھتے اور تلاوت کرتے اور نیز پڑھاتے چلے آئے ہوں اگر کوئی تاریخی کتاب ان سب صفتوں کی جامع دنیا بھر میں بجز قرآن شریف کے آپ کی نظر میں گزری ہے تو آپ اس کو پیش کریں اور اگر پیش نہ کرسکیں تو آپ کی سزا وہی درد خجالت اور انفعال کافی ہے جو لاجواب رہنے کی حالت میں آپ کے عائد حال ہوگی۔ آپ کو خبر نہیں کہ دنیا میں جس قدر بڑے بڑے مخالف باعلم عیسائی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 129
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 129
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/129/mode/1up

یہودیؔ مجوسی وغیرہ ہیں وہ قرآنی شہادتوں سے یعنی ان واقعات سے جو قرآن شریف نے اپنے زمانہ کے متعلق لکھے ہیں انکار نہیں کرسکتے ہاں تعصب کی راہ سے بعض آیات کے معنے اور طور پرکرلیتے ہیں مثلاً شق القمر میں وہ آپ کی طرح یہ نہیں کہتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ امر خلاف واقعہ قرآن شریف میں لکھ دیا ہے۔ چنانچہ اس بات کی تو آپ بھی شہادت دے سکتے ہیں کہ آپ نے تمام عمر میں کوئی ایسی کتاب کسی فاضل انگریز یا یہودی کی نہیں دیکھی ہوگی جس میں انہوں نے آپ کی طرح یہ رائے ظاہر کی ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک جھوٹا دعویٰ شق القمر کا قرآن میں لکھ دیا ہے کیونکہ جو فاضل قسیس اور باخبر انگریز ہیں وہ لوگ بباعث اپنی عام اور وسیع واقفیت کے خوب جانتے ہیں کہ جس طور اور التزام سے قرآن شریف نے اشاعت پائی ہے اور جس تشدد سے مخالفوں اور موافقوں کی نگرانی اس کی آیت آیت پر رہی ہے اور جس ُ سرعت اور جلدی سے اس کے ہریک مضمون کی تبلیغ لاکھوں آدمیوں کو ہوتی رہی ہے اور جس قلیل عرصہ میں جو بعد زمانۂ نبوی تیس برس سے بھی کم تھا وہ دنیا کے اکثر حصوں میں شہرت پاگیا ہے وہ ایسا طور اور طریق چاروں طرف سے محفوظ ہے کہ اس میں یہ گنجائش ہی نہیں کہ کوئی جھوٹا معجزہ یا کوئی جھوٹی پیش گوئی افترا کرکے قرآن شریف میں درج ہوسکتی جس کے افترا پر عیسائیوں یہودیوں عربوں مجوسیوں میں سے کسی کو بھی اطلاع نہ ہوتی۔ اسی وجہ سے اگرچہ آج تک صدہا فاضل انگریزوں نے بوجہ شدت عناد بہت کچھ مخالفانہ حملے اپنی کتابوں اور تفسیروں میں قرآن شریف پر کرنے چاہے ہیں جن میں وہ باطل پر ہونے کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوسکے مگر یہ رائے جو آپ نے بیان کی آج تک ان میں سے کسی نے بھی نہیں کی۔ سو آپ کا ایسی کتاب کو مؤرخانہ وقعت سے باہر سمجھنا اور جوہر صافی اور خس و خاشاک برابر خیال کرلینا اور صاف صاف فرق دیکھ کر اپنی آنکھ پر پردہ ڈال لینا صرف نظر کا گھاٹا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 130
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 130
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/130/mode/1up

ہےؔ وبس۔
قولہ۔ اگر خلاف قانون قدرت پر اس وجہ سے یقین کیا جائے کہ پرمیشر سرب شکتی مان ہے تو پھر دنیا میں ہم کسی بات کو بھی جھوٹ نہیں کہہ سکتے اور فریبی اور دغاباز لوگ روزبروز بہکا سکتے ہیں۔
اقول اے صاحب میں نے آپ کو کب اور کس وقت کہا ہے کہ بے ثبوت اور تحقیق ہریک بات کو مان لیا کرو۔ میں تو آپ کو کھلا کھلا ثبوت دے رہا ہوں اور خود میرا یہی اصول ہے کہ بے تحقیق کسی تاریخی واقعہ کو نہیں ماننا چاہئے لیکن میں ساتھ اس کے آپ کو یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر حقیقی دانائی سے کچھ بہرہ حاصل کرنے کا شوق ہے تو چند ناکارہ اور محدود تجارب کا نام قانون قدرت مت رکھو اور کنوئیں کے مینڈک کی طرح دنیا میں اسی قدر پانی مت سمجھو جو آپ کی نظر کے سامنے ہے۔ ایک تو آپ کے مذہب میں پہلے ہی سے یہ خرابی ہے کہ آپ لوگ اپنے تئیں واجب الوجود اور قدیم ہونے میں پرمیشر کے بھائی بند خیال کررہے ہیں پھر اگر یہ دوسرا اعتقاد فاسد بھی اس کے ساتھ مل گیا کہ پرمیشر کی طاقتیں اور قدرتیں بھی آپ کے معلومات سے زیادہ نہیں تو اس صورت میں آپ صرف بھائی بند نہ رہے بلکہ پرمیشر کے بزرگ بھی ٹھہر گئے کیونکہ بزرگوں اور باپوں کو یہ کہنا بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی نسبت یہ دعویٰ کریں کہ ان کے معلومات ہمارے معلومات سے زیادہ نہیں۔
قولہ باقی سوالات جو مرزا صاحب نے اس غرض سے کئے ہیں کہ پہلے انسان اپنے گھر کو سوچ لے اگر اپنے میں نقص ہو تو دوسرے سے سوال نہ کرے تمام جہان کے نزدیک یہ مسئلہ غلط ہے۔
اقول ماسٹر صاحب آپ تمام جہان کو کیوں ناحق بدنام کرتے ہیں اپنے خیالات عجیبہ سے غرض رکھیں۔ اس بات کو کون نہیں جانتا کہ بحث مباحثہ اظہار حق کی غرض سے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 131
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 131
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/131/mode/1up

ہونا ؔ چاہئے یعنے اس نیت سے کہ اگر حق ظاہر ہو تو اسے قبول کرلیں مگر وہ شخص جو ایک بات کو اپنے لئے تو جائز رکھتا ہے لیکن اگر فریق مخالف کے کسی امر مسلم میں اس کے ہزار جز میں سے ایک جز بھی پائی جائے اور کیسی یہ خوبی سے پائی جائے تب بھی اس کو قبول نہیں کرتا ایسے شخص کی نیت ہرگز بخیر نہیں ہوتی اور جو وقت اس کے ساتھ بحث میں خرچ ہو وہ ناحق ضائع جاتا ہے پس کیا یہ ُ بری بات ہے کہ ایسے شخص کو سمجھایا جائے کہ بھائی جبکہ تو خود آپ ہی ایسی باتوں کو مانتا ہے کہ نہ صرف بالاتر از عقل بلکہ خلاف عقل بھی ہیں تو جو امور عقلِ محدود انسانی سے بالاتر ہیں اور ان کا ثبوت بھی تجھے دیا جاتا ہے۔ ان کے ماننے میں تجھے کیوں تامل ہے بلکہ تمام تر دینداری و پرہیزگاری تو اس میں ہے کہ اگر انسان ایک بات کو اپنی رائے میں صحیح سمجھتا ہے تو اسی نوع کی بات میں اپنے مخالف کے ساتھ منکرانہ جھگڑا نہ لے بیٹھے کہ یہ اوباشانہ طریق ہے جس میں فریقین کی تضیع اوقات ہے پھر پر ظاہر ہے کہ ایسا جھگڑا کس قدر برا اور خلاف طریق انصاف ہوگا کہ ایسی بات سے انکار کیا جائے کہ جو اپنے مسلّمات سے صدہا درجہ صاف اور پاک اور قدرت الٰہی میں داخل اور تاریخی طور پر ثبوت بھی اپنے ساتھ رکھتی ہو۔ بے شک ایسا نکما جھگڑا کرنے والا اپنا اور اپنے مخالف کا وقت عزیز کھونا چاہتا ہے جس کو الزامی جواب سے متنبہ کرنا اپنے حفظِ اوقات کے لئے فرض طریق مناظرہ ہے اور نیز چونکہ دنیا میں مختلف طبیعتوں کے آدمی ہیں بعض لوگ جو نادر الوجود ہیں وہ تحقیقی بات سن کر اپنی ضد چھوڑ دیتے ہیں اور اکثر عوام جو تحقیقی جواب سمجھنے کا مادہ ہی نہیں رکھتے یا بعض ان میں سے کچھ مادہ تو رکھتے ہیں مگر چاند پر خاک ڈالنا چاہتے ہیں اس لئے ان کا مونہہ الزامی جوابوں سے بند ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ الزامی طور پر چند مسلّمات آپ کے آپ کو سنائے گئے ورنہ اصل مدار جواب کا تو تحقیق پر ہی ہے۔ بالآخر یہ بھی واضح رہے کہ ہر چند ویدوں میں بہت سی بے بنیاد کہانیاں بطور معجزات گزشتہ دیوتاؤں کے لکھے ہیں مثلاً رگوید اشتک اول میں لکھا ہے کہ اسونوں (دیوتاؤں) نے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 132
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 132
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/132/mode/1up

کسیؔ نامعلوم زمانہ میں ایک لولی کو لوہے کی ٹانگیں دے دی تھیں اور بانجھ کو دودھیلا کردیا تھا اور ایک اندھے کو سوجا کھا بنا دیا تھا اور ایک شخص جس کا سرکٹ گیا تھا بجائے اس سر کے گھوڑے کا سر اس پر لگا دیا تھا اور سیا وارشی کو جس کے تین ٹکڑے ہوگئے تھے ازسر نو زندہ کردیا تھا وغیرہ وغیرہ مگر ہم نے الزامی جوابوں میں ان کہانیوں کو پیش نہیں کیا کیونکہ گو ان بے اصل قصوں کو جن کا حوالہ کسی ایسے بے نشان زمانہ پر دیا گیا ہے جو وید کے وجود سے پہلے گزر چکا ہے تمام پُرانوں والے تو مانتے ہیں مگر حال کے چند آریہ سماج والے ان مقامات وید میں بڑی جان کنی سے بے سروپا و پُرتکلّف تاویلیں کرتے ہیں۔
تتمہ
آریوں کا اصول تناسخ قانونِ قدرت کے اصول سے منافی ہے
اے حضرات آریہ صاحبان اگر تمام جہان قانون قدرت کا قائل ہوجائے پھر بھی آپ لوگوں کو قائل ہونے کی کوئی سبیل نہیں کیونکہ قانون قدرت کے ماننے سے سب تار وپود آپ کے مذہب کا ٹوٹ جاتا ہے۔ آپ لوگ تو تصرفات قدرتیہ جناب الٰہی کے قائل ہی نہیں اور نہ قائل ہوسکتے ہیں اور قانون قدرت کو ماننا تو آپ کا مذہب ہی نہیں اور نہ ہوسکتا ہے۔ وجہ یہ کہ آپ کا مسئلہ تناسخ تب قائم رہ سکتا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ کو اس کے مختارانہ کاموں اور ارادی قدرتوں سے اور اختیاری تصرفات سے اور ذاتی طاقتوں اور ذاتی قوتوں سے ازل سے ابد تک معطل اور بیکار اور عاجز اور لاچار سمجھا جائے پس اس سے ظاہر ہے کہ آپ لوگوں کا اواگون خدائے تعالیٰ کے قانون قدرت کا ضد پڑا ہوا ہے اور ضد بھی ایسی ضد کہ ایک کے ماننے سے دوسرا قائم نہیں رہ سکتا کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ کے قادرانہ تصرفات کو تسلیم کیا جائے اور یہ مان لیا جائے کہ اس نے تمام اجرام علوی اور اجسام سفلی کو اپنی قدرت ربوبیت سے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 133
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 133
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/133/mode/1up

پیدا ؔ کرکے اجزائے عالم کو باہم انضباط بخشا ہے اور محض اپنی قدرت کاملہ سے اور خاص اپنے ہی ارادہ اور مشیت سے تمام چیزوں مادی و غیر مادی کو ایک پرحکمت سلسلہ انتظام میں خود اپنی حکیمانہ مصلحت سے منسلک کیا ہے تو یہی مان لینا جس کا نام دوسرے لفظوں میں قانون قدرت ہے آپ کے اصول تناسخ کی بیخ کنی کرتا ہے وجہ یہ کہ آپ کا مسئلہ تناسخ اس بنا پر کھڑا کیا ہے کہ یہ ترتیب عالم جو بالفعل موجود ہے پرمیشر کے ارادہ اور قدرت سے نہیں اور نہ اس کی حکمت اور مصلحت سے بلکہ گنہگارو ں کے گناہ نے یہ مختلف صورتوں کی چیزیں پیدا کردی ہیں جس میں پرمیشر کا ذرا دخل نہیں مثلاً گائے جو دودھ دیتی ہے۔ یا گھوڑا جو سواری کے کام آتا ہے یا گدھا جو بوجھ اٹھاتا ہے۔ یا زمین جس پر ہم آباد ہیں۔ یا چاند اور سورج جو دو چمکتے ہوئے چراغ اپنی مختلف قوتوں اور خاصیتوں سے انواع اقسام کے فوائد دنیا کو پہنچاتے ہیں۔* یا گیہوں اور چنے اور چانول وغیرہ ماکولات جن کو ہم کھاتے ہیں
شاؔ ئد کسی ناواقف آریہ کو اس جگہ دھوکا لگے کہ آریہ سماج والے اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ روح بطور تناسخ چاند یا سورج یا زمین وغیرہ سے بھی تعلق پکڑلیتی ہے بلکہ وہ ان چیزوں کو جڑ یا بے جان سمجھتے ہیں تو اس کے جواب میں ماننا چاہئے کہ اول تو آریوں کا ایسا خیال کرنا کہ سورج و چاند و زمین و اگنی و وایو وغیرہ یہ سب بے روح چیزیں ہیں جن میں جان نہیں ہے سراسر غلط اور وید کی تعلیم سے بھی منافی ہے کیونکہ وید کے صدہا مقامات سے ثابت ہے کہ سورج چاند اور اگنی وغیرہ ارکان اولیہ عالم کے لئے ایک ایک روح ہے ان روحوں کے یونانی و مجوسی بھی قائل ہیں ایسا ہی دنیا کے تمام تناسخیہ فرقے ان ارواح کو مانتے ہیں۔ بلکہ ان کا بیان ہے کہ جب انسانی روح سورج و چاند و ستاروں وغیرہ سے تعلق پکڑتی ہے تو پھر وہ دیوتا بن کر قابل پرستش ہوجاتی ہے اسی وجہ سے تو قدیم سے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 134
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 134
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/134/mode/1up

یہ ؔ سب بقول آپ کے حقیقت میں انسانی روحیں ہیں جو کسی جنم گزشتہ کی شامت سے بطور تناسخ یہ صورتیں اختیار کرلی ہیں اور یہ سارا مجمع مختلف چیزوں کا جو زمین و آسمان میں نظر آتا ہے یہ سب حسب اصول آپ لوگوں کے اتفاقی ہے جس میں پرمیشر کے ارادہ اور قدرت کا سر مودخل نہیں اور نہ اس کو ان چیزوں کے زیادہ یا کم کرنے یا موجود یا معدوم کرنے میں ایک ذرا اختیار ہے اور آپ لوگوں کے خیال میں یہ جما ہوا ہے کہ اگر انسانی روحیں مرتکب گناہوں کے نہ ہوتیں تو یہ چندیں ہزار عالم مخلوقات جونظر آرہا ہے ان میں سے ایک بھی نہ ہوتا۔ گویا ہریک آرام دنیا کا بزعم آپ لوگوں کے بدکاریوں سے ہی میسر آتا ہے اور تمام دنیوی نعمتوں کے حاصل ہونے کا اصل موجب بدکاریاں ہی ہیں۔ کوئی شخص گناہ کرکے گائے کے جنم میں آئے تو آپ دودھ پئیں اور پھر کسی بدکاری سے گھوڑی کا جنم لے تو آپ کو سواری میسر ہو۔ اور پھر کسی معصیت سے گدھی یا خچر یا اونٹ کی جون میں
ہندؔ و لوگ سورج و آگ وغیرہ کی پرستش کرتے آئے ہیں اور اب بھی ان میں سے بہت سا گروہ اس پرستش پر قائم ہے یونانی بھی ان چیزوں کی پرستش کرتے رہے ہیں اور ان کا نام وہ ارباب الانواع رکھتے ہیں گبروں کا آتش پرستی کرنا تو سب سے بڑھ کر ہے۔
اگر صد سال گبر آتش فروزد
چویکدم اندراں افتد بسوزد
ماسوا اس کے یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ ہریک جسم میں جتنے ذرّات ہیں اسی قدر روحوں کا اس سے تعلق ہے اگر ایک قطرہ پانی کو خوردبین سے دیکھا جائے تو ہزاروں کیڑے اس میں نظر آتے ہیں ویسا ہی پھلوں میں اور بوٹیوں میں اور ہوا میں بھی کیڑے مشہود و محسوس ہیں۔ بہرحال ہریک جسم دار چیز کیڑوں سے بھری ہوئی ہے مگر کبھی وہ کیڑے مخفی ہوتے ہیں یا یوں کہو کہ بالقوہ پائے جاتے ہیں اور کبھی مکمن قوت سے حیز فعل میں آجاتے ہیں مثلاً جس اناج کو دیکھو تو بظاہر ایسا معلوم ہوگا کہ اس میں کوئی کیڑا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 135
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 135
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/135/mode/1up

پڑےؔ تو آپ کی باربرداری کا کام چلے پھر اگر کوئی ایسا بڑا کام کرے جس کی سزا میں اس کو عورت کی جون میں ڈالا جائے تو آپ لوگوں کو جورو نصیب ہو۔ اور اگر کوئی ایک شخص کسی شامت گناہ سے مرے تب وہی روح اس کی بیٹا یا بیٹی بن کر آپ کو صاحب اولاد بنائے۔ اس سے ثابت ہوا کہ بموجب اصول آپ کے تمام سلسلہ خدائی کا گناہوں کے طفیل ہی چل رہا ہے۔ اور اگر گناہ ظہور میں نہ آتے تو پرمیشر تو کچھ چیز ہی نہیں تھا اور اس کی قدرتیں اور حکمتیں سب ہیچ اور بے حقیقت تھیں۔ پس آپ کو تو قانون قدرت کا نام ہی نہیں لینا چاہئے کیونکہ قانون قدرت کا تو یہ ضروری تقاضا ہے کہ تمام اجزائے عالم بحکم اس واضح قانون کے روزِ ازل سے باہم انضباط یافتہ ہیں یہ نہیں کہ کسی اتفاقی شامت سے یہ ہزاروں قسم کی مخلوقات پیدا ہوگئی ہے اور اگر وہ بلااتفاق نہ ہوتا تو پیدا ہونے سے رہ جاتے اور پرمیشر گو کیسا ہی ان چیزوں کے پیدا کرنے کے لئے ارادہ کرتا مگر کچھ بھی نہ ہوسکتا۔ غرض جب آپ کا ایمان
نہیںؔ اور پھر خودبخود اس کے اندر میں ہی سے کچھ تغیر پیدا ہوکر اس قدر کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں کہ گویا وہ سب جسم کیڑے ہی کیڑے ہیں اس سے ظاہر ہے کہ ارواح کو اجسام سے ایک لازمی اور دائمی تعلق پڑا ہوا ہے اب جو شخص تناسخ یعنے اواگون کا قائل ہے ضرور اس کو کہنا پڑے گا کہ اجسام نباتی و معدنی و حیوانی و اجرام علوی کا ایک ایک ذرّہ کسی وقت انسان کا روح تھا کیونکہ جیسا کہ تجربہ ثابت کررہا ہے۔ ایک ایک ذرّہ جسم سے ایک ایک روح تعلق رکھتا ہے اور اجرام علوی میں روحوں کا ہونا شائد ناواقفوں کی نظر میں تعجب کا محل ہوگا لیکن حال کے فلسفیوں کی تحقیقاتوں نے کھول دیا ہے کہ کرۂ شمس و قمر وغیرہ جانداروں کی آبادی سے خالی نہیں چنانچہ پنڈت دیانند اور اس کے پیرو بھی اس بات کے قائل ہیں سو یہ بات تو ہریک کو معلوم ہے کہ جس کرہ میں کوئی جاندار چیز ہو وہ اسی کرہ کے مادّہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 136
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 136
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/136/mode/1up

اورؔ دھرم آپ کو ایسی ایسی تعلیمیں دے رہا ہے تو پھر اس جگہ پرمیشر کی قدرتوں کا کیا ذکر اور قانونِ قدرت کے نام لینے کا کونسا محل ہے کیونکہ قدرت یا قانونِ قدرت تو اسے کہتے ہیں کہ اول اس مالک کی خالقانہ طاقتوں اور قادرانہ تصرفات اور مختارانہ کاموں کو تسلیم کرکے پھر اس سلسلہ ظہور طاقتوں کو قانون قدرت سے ُ ملقب کیا جائے مگر اس جگہ تو وہ بات ہی نہیں رہی اور پرمیشر صرف نام کا پرمیشر رہ گیا ہے جس کو ایک ذرّہ کے پیدا کرنے کی بھی طاقت نہیں ہاں روحوں پر کسی مخفی وجہ کے سبب سے اس کو تسلط ہوگیا ہے شائد کسی اگلے جنم میں اس نے بہت اچھے کرم کئے ہوں گے جس سے وہ اس حکمرانی کے لائق ٹھہرگیا۔ غرض جب پرمیشر میں قدرت کا نشان نہیں مختارانہ تصرفات کی طاقت نہیں قادرانہ کاموں کی ہمت نہیں۔ ترتیب دنیا میں اس کو کچھ دخل ہی نہیں تو پھر ظاہر ہے کہ وہ اس لائق بھی نہیں کہ اس کا کوئی قانونِ قدرت ہو بلکہ وہی مثل صادق آئے گی کہ
سےؔ پیدا ہوتی ہے جیسے کرۂ زمین میں جو کچھ ہے وہ زمین سے ہی پیدا ہوا ہے اور پیدا ہوتا ہے پس جبکہ اجرام علوی میں جانداروں کا ہونا ثابت ہے جس کو آریہ لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں تو اس سے ظاہر ہے کہ وہ تمام جاندار سورج و چاند وغیرہ اجرام سے بھی پیدا ہوئے ہوں گے اور اس پیدائش سے یہ ثابت ہوگیا کہ اجسام سفلی کی طرح اجرام علوی بھی کئی طور پر روحوں کی کانیں ہیں پس اس سے تناسخ والوں کو ماننا پڑا کہ کسی زمانہ میں سورج چاند وغیرہ اجرام انسانی روحیں تھیں اور پھر وہ کسی عمل کے نیک یا بداثر سے سورج چاند وغیرہ اجرام بن گئے اور یہ اعتقاد جس قدر قانون قدرت اور عقل کا دشمن ہے اس کے بیان کرنے کی بھی حاجت نہیں۔ فتدبر۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 137
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 137
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/137/mode/1up

جامہؔ ندارم دامن از کجا آرام۔ ہاں اپنے ہی گناہوں کا آپ کو شکرگزار ہونا چاہئے جنہوں نے آپ کو گوؤوں کا دودھ پلایا۔ گھوڑوں پر چڑھایا۔ غرض سب آپ کا کام بنایا اور سب کچھ کیا اور کرایا۔ حقیقت میں اس مسئلہ تناسخ نے آپ کو بہت کچھ فائدہ پہنچایا۔ اگر اس سے کچھ نقصان پہنچا تو بس یہی کہ ایک تو پرمیشر ہاتھ سے گیا اور دوسرا حلال حرام کا کچھ ٹھکانا نہ رہا۔ خیر پرمیشر کا تو آپ کو کیا افسوس ہوگا گزارہ تو چلا ہی جاتا ہے۔ مگر جو حلال حرام میں گڑبڑ پڑگیا یہ خرابی ایک دنیادار غیرت مند کی نظر میں بھی جس کو ایک ذرہ ننگ وناموس کا پاس ہو قابل برداشت نہیں کیونکہ اگر مسئلہ تناسخ صحیح ہے تو اس کے رو سے ممکن ہے کہ کسی شخص کی والدہ یا دختر یا حقیقی بہن یا دادی یا نانی مرنے کے بعد کسی عورت کی جون میں پڑکر پھر اسی شخص کے نکاح میں آجائے جس کی ماں یا لڑکی ہے اور دنیا جو ایک ظلمت گاہ اور بے تمیزی کی جگہ ہے اس میں کون آکر خبر دے سکتا ہے کہ اے بھلے مانس اس سے شادی مت کر یہ تو تیری ماں یا بہن یا دادی یا نانی ہے۔ سو سوچ کر دیکھ لینا چاہئے کہ اس اواگون کے مسئلہ نے صرف آپ کے پرمیشر کی عزت پر ہی ہاتھ نہ ڈالا بلکہ ایسے ایسے ضرر بھی اس میں موجود ہیں اور بلاشبہ جو شخص اس مسئلہ تناسخ کو روا اور جائز سمجھتا ہے اس کو اس کے بدنتائج بھی روا اور جائز کہنے پڑیں گے۔ مگر ہائے افسوس جو لوگ دنیا کے پرستار ہیں اور قومی تعصبوں کی زنجیر میں گرفتار وہ اپنے بدعقیدوں کو کسی ڈھب چھوڑنا نہیں چاہتے۔ قوم کا رعب ان کے دلوں پر ایسا غالب ہے کہ جو مخلوق پرستی کی حد تک پہنچ گیا ہے خدائے تعالیٰ کا ان کے دلوں میں اتنا بھی قدرنہیں جو ایک بوڑھی عورت کو اپنے گھر کی سوئی کا ہوتا ہے۔
دنیا کی حرص و آز میں کیا کچھ نہ کرتے ہیں
نقصاں جو ایک پیسہ کا دیکھیں تو مرتے ہیں
زر سے پیار کرتے ہیں اور دل لگاتے ہیں
ہوتے ہیں زر کے ایسے کہ بس مر ہی جاتے ہیں
جب اپنے دلبروں کو نہ جلدی سے پاتے ہیں
کیا کیا نہ ان کے ہجر میں آنسو بہاتے ہیں
پر ان کو اس سجن کی طرف کچھ نظر نہیں
آنکھیں نہیں ہیں کان نہیں دل میں ڈر نہیں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 138
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 138
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/138/mode/1up

ان ؔ کے طریق و دھرم میں گو لاکھ ہو فساد
کیسا ہی ہو عیاں کہ وہ ہے جھوٹ اعتقاد
پر تب بھی مانتے ہیں اسی کو بہر سبب
کیا حال کردیا ہے تعصب نے ہے غضب
دل میں مگر یہی ہے کہ مرنا نہیں کبھی
ترک اس عیال و قوم کو کرنا نہیں کبھی
اے غافلاں و فانکند ایں سرائے خام
دنیائے دوں نماند و نماند بکس مدام
تَمّت المباحثہ الاُوْلٰی
وللّٰہ الحمد فی الاولیٰ والاخریٰ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 139
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 139
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/139/mode/1up

مباؔ حثہ ثانیہ
منعقدہ ۱۴؍ مارچ ۱۸۸۶ ؁ء
اعتراض از طرف مؤلفِ رسالہ ہذا
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
آریہ صاحبوں کا اعتقاد ہے کہ پرمیشر نے کوئی روح پیدا نہیں کی بلکہ کل ارواح انادی اور قدیم اور غیر مخلوق ہیں ایسا ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مکتی یعنے نجات ہمیشہ کے لئے انسان کو نہیں مل سکتی بلکہ ایک مدت مقررہ تک مکتی خانہ میں رکھ کر پھر اس سے باہر نکالا جاتا ہے۔ اب ہمارا اعتراض یہ ہے کہ یہ دونوں اعتقاد ایسے ہیں کہ ایک کے قائم ہونے سے تو خدائے تعالیٰ کی توحید بلکہ اس کی خدائی ہی دور ہوتی ہے اور دوسرا اعتقاد ایسا ہے کہ بندۂ وفادار پرناحق کی سختی ہوتی ہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اگر تمام ارواح کو اور ایسا ہی اجزاء صغار اجسام کو قدیم اور انادی مانا جائے تو اس میں کئی قباحتیں ہیں منجملہ ان کے ایک تو یہ کہ اس صورت میں خدائے تعالیٰ کے وجود پر کوئی دلیل قائم نہیں ہوسکتی کیونکہ جس حالت میں بقول آریہ صاحبان ارواح یعنے جیو خودبخود موجود ہیں اور ایسا ہی اجزاء صغار اجسام بھی خودبخود ہیں تو پھر صرف جوڑنے جاڑنے کے لئے ضرورت صانع کی ثابت نہیں ہوسکتی بلکہ ایک دہریہ جو خدائے تعالیٰ کا منکر ہے عذر پیش کرسکتا ہے کہ جس حالت میں تم نے کل چیزوں کا وجود خودبخود بغیر ایجاد پرمیشر کے آپ ہی مان لیا ہے تو پھر اس بات پر کیا دلیل ہے کہ ان چیزوں کے باہم جوڑنے جاڑنے کے لئے پرمیشر کی حاجت ہے؟ دوسری یہ قباحت کہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 140
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 140
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/140/mode/1up

ایسا ؔ اعتقاد خود خدائے تعالیٰ کو اس کی خدائی سے جواب دے رہا ہے کیونکہ جو لوگ علم نفس اور خواص ارواح سے واقف ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں کہ جس قدر ارواح میں عجائب وغرائب خواص بھرے ہوئے ہیں وہ صرف جوڑنے جاڑنے سے پیدا نہیں ہوسکتے مثلاً روحوں میں ایک قوت کشفی ہے جس سے وہ پوشیدہ باتوں کو بعد مجاہدات دریافت کرسکتے ہیں اور ایک قوت ان میں عقلی ہے جس سے وہ امور عقلیہ کو معلوم کرسکتے ہیں۔ ایسا ہی ایک قوت محبت بھی ان میں پائی جاتی ہے جس سے وہ خدائے تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں اگر ان تمام قوتوں کو خودبخود بغیر ایجاد کسی موجد کی مان لیا جائے تو پرمیشر کی اس میں بڑی ہتک عزت ہے گویا یہ کہنا پڑے گا کہ جو عمدہ اور اعلیٰ کام تھا وہ تو خودبخود ہے اور جو ادنیٰ اور ناقص کام تھا وہ پرمیشر کے ہاتھ سے ہوا ہے اور اس بات کا اقرار کرنا ہوگا کہ جو خودبخود عجائب حکمتیں پائی جاتی ہیں وہ پرمیشر کے کاموں سے کہیں بڑھ کر ہیں ایسا کہ پرمیشر بھی ان سے حیران ہے غرض اس اعتقاد سے آریہ صاحبوں کے خدا کی خدائی پر بڑا صدمہ پہنچے گا یاں تک کہ اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہوگا اور اس کے وجود پر کوئی عقلی دلیل قائم نہ ہوسکے گی اور نیز وہ مبدء کل فیوض کا نہیں ہوسکے گا بلکہ اس کا صرف ایک ناقص کام ہوگا اور جو اعلیٰ درجہ کے عجائب کام ہیں ان کی نسبت یہی کہنا پڑے گا کہ وہ سب خودبخود ہیں لیکن ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر فی الحقیقت ایسا ہی ہے تو اس سے اگر فرضی طور پر پرمیشر کا وجود مان بھی لیا جائے تب بھی وہ نہایت ضعیف اور نکما سا وجود ہوگا جس کا عدم وجود مساوی ہوگا یاں تک کہ اگر اس کا مرنا بھی فرض کیا جائے تو روحوں کا کچھ بھی حرج نہ ہوگا اور وہ اس لائق ہرگز نہیں ہوگا کہ کوئی روح اس کی بندگی کرنے کے لئے مجبور کی جائے کیونکہ ہریک روح اس کو جواب دے سکتی ہے کہ جس حالت میں تم نے مجھے پیدا ہی نہیں کیا اور نہ میری طاقتوں اور قوتوں اور استعدادوں کو تم نے بنایا تو پھر آپ کس استحقاق سے مجھ سے اپنی پرستش چاہتے ہیں اور نیز جبکہ پرمیشر روحوں کا خالق ہی نہیں تو ان پر محیط بھی نہیں ہوسکتا۔ اور جب احاطہ نہ ہوسکا تو پرمیشر اور روحوں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 141
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 141
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/141/mode/1up

میں ؔ حجاب ہوگیا اور جب حجاب ہوا تو پرمیشر سرب گیانی نہ ہوسکا یعنے علم غیب پر قادر نہ ہوا۔ اور جب قادر نہ رہا تو اس کی سب خدائی درہم برہم ہوگئی تو گویا پرمیشر ہی ہاتھ سے گیا اور یہ بات ظاہر ہے کہ علم کامل کسی شے کا اس کے بنانے پر قادر کردیتا ہے اس لئے حکماء کا مقولہ ہے کہ جب علم اپنے کمال تک پہنچ جائے تو وہ عین عمل ہوجاتا ہے اس حالت میں بالطبع سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا پرمیشر کو روحوں کی کیفیت اورُ کنہ کا پورا پورا علم بھی ہے یا نہیں اگر اس کو پورا پورا علم ہے تو پھر کیا وجہ کہ باوجود پورا پورا علم ہونے کے پھر ایسی ہی روح بنا نہیں سکتا سو اس سوال پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ پرمیشر روحوں کے پیدا کرنے پر قادر نہیں بلکہ ان کی نسبت پورا پورا علم بھی نہیں رکھتا۔ دوسرا ٹکڑہ ہمارے سوال کا حق العباد سے متعلق ہے یعنے یہ کہ آریہ صاحبان کے اعتقاد مذکورہ بالا کے رو سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پرمیشر اپنے بندوں سے بھی ناحق کا ایک بخل رکھتا ہے کیونکہ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ مکتی اور نجات کی اصل حقیقت یہی ہے کہ انسان ماسوائے اللہ کے محبت سے مونہہ پھیر کر پرمیشر کی محبت میں ایسا محو ہوجائے کہ جس طرح عاشق اپنے محبوب کے دیکھنے سے لذت اٹھاتا ہے ایسا ہی اپنے محبوب حقیقی کے تصور سے لذت اٹھائے اور محبت بجز معرفت حاصل نہیں ہوسکتی اور قاعدہ کی بات ہے کہ موجب محبت کے دو ہی امر ہیں یا حُسن یا احسان پس جب انسان بہ باعث اپنی کامل معرفت کے خدائے تعالیٰ کے حُسن و احسان پر اطلاع کامل طور پر پاتا ہے تو لامحالہ اس سے کامل محبت پیدا ہوجاتی ہے اور کامل محبت سے لذت ملتی ہے پس اسی جہان سے بہشتی زندگی عارف کی شروع ہوجاتی ہے اور وہی معرفت اور محبت عالم آخرت میں سرور دائمی کا موجب ہوجاتی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں نجات سے تعبیر کرتے ہیں۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ جب ایک شخص کو پورا پورا سامان نجات کا میسر آگیا اور پرمیشر کی کرپا اور فضل سے مکتی پاگیا تو پھر کیوں پرمیشر اس کو ناکردہ گناہ مکتی خانہ سے باہر نکالتا ہے کیا وہ اس بات سے چڑتا ہے کہ کوئی عاجز بندہ ہمیشہ کے لئے آرام پاسکے جس حالت میں ابدی بقا کے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 142
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 142
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/142/mode/1up

روحوں ؔ میں قوت رکھی گئی ہے تو کیا پرمیشر اپنے بندوں کو ابدی سرور نہیں دے سکتا۔ بعض صاحب اس جگہ پر یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ بندوں کے اعمال محدود ہیں اس لئے جزا بھی اس کی محدود ہی ملتی ہے میں کہتا ہوں کہ یہ خیال غلط ہے۔ کیونکہ عمل اعظم بندہ کا یہی ہے کہ وہ وفاداری سے ایمان لاتا ہے اور بے انتہا وفاداری کی نیت سے تکالیف مالی و جانی اٹھانے کے لئے ہر وقت مستعد رہتا ہے تو اس صورت میں عمل اس کا محدود نہ ہوا بلکہ غیرمحدود ہوا اگر پرمیشر اس کو زندہ چھوڑتا تو وہ کبھی بے وفائی نہ کرتا یہ نعوذ باللہ پرمیشر کا قصور ہوا کہ اس نے اس کو مہلت نہ دی ماسوا اس کے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے موجب نجات ومکتی کا ایک ایسا امر ہے کہ وہ پرمیشر کی صحبت میں رہ کر کم نہیں ہوسکتا بلکہ ترقی کرنا چاہئے کیونکہ کوئی عقلمند ہرگز خیال نہیں کرسکتا کہ پرمیشر کی صحبت سے گیان اور محبت میں کچھ فرق آجاتا ہے اور جس طرح ممکن نہیں کہ باوجود چراغ کے ہونے کے اندھیرا ہوجائے اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ باوجود علل موجبہ مکتی کے پھر کوئی شخص مکتی خانہ سے باہر نکالا جائے۔ پرمیشر بمنزلہ خریدار کے نہیں ہے تا یہ کہا جائے کہ جس قدر اس نے کوئی چیز لی اسی قدر اس نے دام بھی دے دیئے بلکہ یہ معاملہ محبت و عشق کا ہے اور کوئی منصف مزاج معشوق اپنے وفادار عاشق سے ایسا بدمعاملہ ہرگز نہیں کرسکتا کہ اس کو ناحق خرابی میں ڈالے۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ آیا پرمیشر اس بات پر قادر ہے یا نہیں کہ اپنے بندہ کو ہمیشہ کے لئے مکتی دے دے۔ اگر قادر ہے اور بندہ وفادار بھی اس کا مستحق ہے اور علل لازمہ موجبہ بھی دائمی مکتی کو چاہتے ہیں تو پھر کیوں پرمیشر ایسی سختی کرتا ہے کہ اول ایک بندہ کو ایک ایسا مقرب بنا کر کہ وہ اوتار ہوگیا یا اس پر وید نازل ہوگئے پھر ناحق اس کی عزت بگاڑ دیتا ہے اور رفتہ رفتہ مختلف جونوں میں ڈال کر اس کی کیڑوں مکوڑوں تک نوبت پہنچاتا ہے بعض صاحب یہ بھی جواب دیتے ہیں کہ یہ کام پرمیشر نے ایک مصلحت سے اختیار کررکھا ہے اور وہ مصلحت یہ ہے کہ چونکہ پرمیشر روحوں کے پیدا کرنے پر قادر نہیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ کل ارواح معدود اور محدود ہیں تو اس صورت میں اگر

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 143
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 143
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/143/mode/1up

پرمیشرؔ ان سب کو مکتی دے دے تو پھر ہمیشہ دنیا پیدا کرنے کا سلسلہ بند ہوجاتا ہے کیونکہ جو روح مکتی پاکر مکتی خانہ میں گیا وہ تو گویا ہاتھ سے گیا اور بہ باعث نہ ہونے آمدن اور روزمرہ کے خرچ کی آخر سب روح ایک دن ختم ہوجائیں گے اور پھر پرمیشر دنیا پیدا کرنے سے قاصر اور عاجز رہے گا اور یہ امر خلاف اصول آریہ سماج ہے غرض آریہ صاحبوں کے اصول کے بموجب نہ پرمیشر کی توحید اور عظمت قائم رہتی ہے اور نہ مکتی یافتہ روح کبھی ناگہانی آفت سے نجات پاسکتے ہیں بلکہ اس شخص کی طرح جس کو ایک دورہ خاص پر مرگی کی بیماری پڑتی ہے ایسا ہی روحیں بھی ایک قسم کی بیماری میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے اور جیسے جیسے مکتی خانہ سے نکالنے کا وقت نزدیک آتا جائے گا ویسا ہی جزع فزع میں مبتلا ہوتے جائیں گے خداوند کریم جل شانہٗ قرآن شریف میں فرماتا ہے
وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ فَاِنَّ الْجَـنَّةَ هِىَ الْمَاْوٰىؕ‏
یعنی جو شخص اپنے پروردگار سے ڈر کر تزکیہ نفس کرے اور ماسوائے اللہ سے مونہہ پھیر کر خدائے تعالیٰ کی طرف رجوع لے آئے تو وہ جنت میں ہے اور جنت اس کی جگہ ہے یعنے خود ایک روحانی جنت بباعث قوت ایمانی و حالت عرفانی اس کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے جو اس کے ساتھ رہتی ہے اور وہ اس میں رہتا ہے سو اس جگہ ماسٹر صاحب سے یہ بھی درخواست کرتا ہوں کہ بہ مقابل اس آیت قرآنی کے جو جاودانی اور لازوالی مکتی پر دلیل پیش کرتی ہے جو کچھ وید میں محدود مکتی کا فلسفہ بتلایا گیا ہے وہ شرتی بھی اس جگہ پیش کردیں۔ ۱۴؍ مارچ ۸۶ ؁ء
جواب لالہ مرلیدھر صاحب معہ جواب الجواب از طرف مؤ لفِ رسالہ ہذا
قولہ۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ آریہ سماج والوں کا اعتقاد یہ ہے کہ پرمیشر نے کوئی روح پیدا نہیں کی اور کل ارواح انادی اور قدیم اور غیر مخلوق ہیں ایسا ہی ان کا یہہ بھی اعتقاد ہے کہ مکتی یعنے نجات ہمیشہ کے لئے کسی انسان کو نہیں مل سکتی بلکہ ایک مدّت مقررہ تک مکتی خانہ میں رکھ کر پھر اس سے نکالا جاتا ہے یہ بیان مرزا صاحب کا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 144
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 144
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/144/mode/1up

بہتؔ کچھ فرق آریہ سماج کے اصولوں سے رکھتا ہے جو آگے ظاہر کیا جائے گا۔
اقول جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ اس بیان میں ذرّہ فرق نہیں بلاشبہ آریہ سماج والوں کے یہ دونوں اعتقاد ہیں جن پر تناسخ یعنے اواگون کی بنیاد ہے اگر کچھ فرق تھا تو آپ نے ظاہر کیا ہوتا۔ آپ نے وعدہ تو کیا کہ آگے جاکر اس فرق کو بیان کریں گے مگر کسی جگہ بیان نہ کیا کہ یہ فرق ہے بلکہ آگے جاکر تو بقول شخصے کہ دروغ گورا حافظہ نباشد۔ آپ نے صاف اقرار کردیا کہ ایسا ہی اعتقاد آریہ سماج والے رکھتے ہیں۔ اصل بات تو یہ ہے کہ آپ لوگوں کے دل بھی اس بات پر شہادت ہیں کہ یہ وید کے دونوں اصول سخت درجہ کے مخالف عظمت و قدرت و توحید و شان الٰہی ہیں اسی واسطے کبھی کبھی لوگوں کے شرم سے آپ لوگوں کی طبیعت اِخفا کی طرف رجوع کرجاتی ہے مگر ایسی باتوں کو آپ کیونکر چھپا سکتے ہیں جو پنڈت دیانند صاحب کے قلم سے مشتہر ہوچکی ہیں خویش و بیگانہ اس پر اطلاع پاچکے ہیں۔ ماسٹر صاحب؟ آپ ُ برا نہ مانیں آپ کے وید کی ایسی ایسی تعلیموں نے ناستک مت والوں (دہریوں) کو بہت کچھ مدد دی ہے اگر غور سے دیکھا جائے تو آریہ صاحبوں کا وید ایک ایسا خدا بتا رہا ہے جس سے حق ُ جو آدمی ضرور ہے کہ نفرت کرے وہ اپنے پرمیشر کو اپنی بادشاہی کا خود موجب نہیں سمجھتے بلکہ ایسا خیال کرتے ہیں کہ وہ بادشاہت کسی بخت و اتفاق سے اس کو ملی ہے یعنی اس کی خوش قسمتی سے چند ارواح اور اجسام بنے بنائے اس کو مل گئے ہیں اور شاید ابھی ارواح اور اجسام کا کوئی اور دفینہ بھی کسی جگہ پوشیدہ ہو جس کی ہنوز پرمیشر کو اطلاع نہیں ہوئی مگر کیا یہ ایسا اعتقاد ہے جس کو عظمت و قدرت و شان کبریائی حضرت اللہ جل شانہٗ کے مطابق کہہ سکتے ہیں خدائے تعالیٰ وہ کامل ذات ہے جس کو تمام فیوض کا مبدء اور تمام انوار کا سرچشمہ اور تمام چیزوں کا قیوم اور تمام خوبیوں کا جامع اور تمام کمالات کا مستجمع اور عجز اور نقص اور احتیاج الی الغیر سے پاک ہے لیکن تم سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ ارواح اور اجسام کی غیر مخلوق اور خودبخود ماننے سے ان تمام صفاتِ کاملہ الٰہیہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 145
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 145
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/145/mode/1up

میںؔ سے کوئی بات بھی قائم نہیں رہ سکتی اور ایک ایسا سخت صدمہ اس کی شان خدائی پر پہنچتا ہے کہ اس میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔
ایک ادنیٰ درجہ کی عقل بھی سمجھ سکتی ہے کہ خدائے تعالیٰ کے ایک ہونے کے یہی معنے ہیں کہ درحقیقت وجود اسی کا وجود ہے اور باقی سب چیزیں اس سے نکلی ہیں اور اسی کے ساتھ قائم اور اسی کے رشحاتِ فیض سے اپنے کمالات مطلوبہ تک پہنچتی ہیں مگر افسوس کہ آریوں کا علم الٰہی اس کے برخلاف بتلا رہا ہے ان کی کتابیں انہیں واویلوں سے ُ پر ہیں کہ ہم بھی پرمیشر کی طرح قدیم اور غیر مخلوق اور انادی اور اس کی مشابہ اور اپنے اپنے وجود کے آپ خدا ہیں نہیں سوچتے کہ اگر وہ بھی قدیم الذّات اور قائم بذاتہ ٖ اور واجب الوجود ہیں تو پھر خدا جیسے ہوکر اس کی ماتحت کیوں ہوگئے اور کس نے درمیان میں ہوکر دونوں میں تعلق پیدا کردیا افسوس کہ ان لوگوں نے عقیدہ باطلہ وید سے ایسی محبت کی ہے کہ خدائے تعالیٰ کی عظمت اور کمالیت کے لئے ذرہ غیرت باقی نہیں رہی اور اس عقیدۂ مذکورہ بالا کے بدتر اثر نے ان کا کچھ باقی نہیں چھوڑا اور اسی بداعتقاد کا بداثر جاودانی نجات کا بھی رہزن ہوا ہے اور اسی کی نحوست سے آریہ مت کے دفتر میں ایک ہنگامہ مفاسد برپا ہورہا ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی ذات و صفات کو صحیح یا غلط طور پر جاننا ایک ایسا امر ہے کہ اس کا اثر (جیسا کہ ہو) تمام باقی اصولوں پر پڑتا ہے اگر اس میں صلاحیت ہو تو دوسرے اصول بھی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر اس میں فساد ہو تو وہ فساد دوسرے اصولوں میں بھی سرائت کرتا ہے اسی جہت سے اس اصل الاصول کے بگڑنے سے آریوں کے سب عقائد کی ستیاناس ہوئی ہے اور سب خیالات کو اس ایک ہی بگڑے ہوئے خیال نے تہ و بالا کردیا ہے اور اب جب تک اس کی اصلاح نہ ہو تب تک باقی خراب شدہ خیالات کسی نوع سے درستی پر نہیں آسکتے اب حقیقت میں آریوں کو بڑی مشکل پیش آگئی ہے اب ان دونوں وید اور پرمیشر سے ایک کو ضرور چھوڑنا پڑے گا۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 146
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 146
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/146/mode/1up

یہ باؔ ت ایک لڑکا بھی سمجھ سکتا ہے کہ اگر سب ارواح اور اجسام خودبخود پرمیشر کی طرح قدیم اور انادی ہیں اور اپنے اپنے وجود کے آپ ہی خدا ہیں۔ * تو پرمیشر اس دعویٰ کا ہرگز مجاز نہیں رہا کہ میں ان چیزوں کا ربّ اور پیدا کنندہ ہوں کیونکہ جب کہ ان چیزوں نے پرمیشر کے ہاتھ سے وجود ہی نہیں لیا تو پھر ایسا پرمیشر ان کا ربّ اور مالک کیونکر ہوسکتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی بچہ بنا بنایا آسمان سے گرے یا زمین کے خمیر سے خود پیدا ہوجائے تو کسی عورت کو یہ دعویٰ ہرگز نہیں پہنچتا کہ یہ میرا بچہ ہے بلکہ اس کا بچہ وہی ہوگا جو اس کے پیٹ سے نکلا ہے سو جو خدا کے ہاتھ سے نکلا ہے وہی خدا کا ہے اور جو اس کے ہاتھ سے نہیں نکلا وہ اس کا کسی طور سے نہیں ہوسکتا۔ کوئی صالح اور بھلا مانس ایسی چیزوں پر ہرگز قبضہ نہیں کرتا جو اس کی نہ ہوں تو پھر کیونکر آریوں کے پرمیشر نے ایسی چیزوں پر قبضہ کرلیا جن پر قبضہ کرنے کا اس کو کوئی استحقاق نہیں ۔سوسوچنا چاہئے کہ یہ بات کس قدر مکروہ اور دوراز حقا نیّت ہے کہ مالک الخلق اور رب العالمین کو اس کی مخلوقات سے جواب دیا جاتا ہے اور جو اصل حقیقت خدائی کی کی۱؂ اس سے اس کو الگ کیا جاتا ہے ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ اگر ہندوؤں کے وید میں کوئی اور غلطی نہ ہوتی تو اس کے مخالف حق ہونے کے لئے یہی ایک بڑی دلیل تھی کہ خدائے تعالیٰ کی صفات حقہ کے بیان کرنے میں اس نے ایسی رہزنی کی ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کی خدائی قائم ہونے کے لئے بہت ضروری امر تھا وہی اس نے جڑھ سے اکھیڑ دیا ہے۔
ایسا ہی ذرا سوچ کر معلوم کرلینا چاہئے کہ اگر یہ تمام روحیں جن کے پیدا کرنے کی پرمیشر کو طاقت نہیں ہمیشہ کے لئے مکتی پاجائیں تو پھر پرمیشر بجز اس کے کہ مجبوری کے طور پر خالی ہاتھ
خدا بمعنے خود آیندہ ہے اور خدائے تعالیٰ جل شانہٗ اسی وجہ سے خدا کہلاتا ہے کہ وہ کسی کے پیدا کرنے کے بغیر خودبخود ہے سو اگر ارواح و اجسام بھی خودبخود ہیں تو وہ سب خدا ہی ہوئے اور بموجب اصول آریہ کے ان کو بھی خدا کہنا جائز بلکہ واجب ہوا۔ منہ۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 147
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 147
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/147/mode/1up

بیٹھا ؔ رہے اور کیا کرسکتا ہے تو اس صورت میں وہ اصول آریہ سماج والوں کا جو دنیا کا سلسلہ ہمیشہ بنا رہتا ہے کیونکر قائم رہ سکتا ہے اب ظاہر ہے کہ آپ لوگوں کے اعتقاد کے رو سے پرمیشر کی بادشاہت صرف غیر مخلوق روحوں کے سہارے سے چل رہی ہے اور اگر یہ کہو کہ پرمیشر روحوں کو کبھی جاودانی مکتی نہیں دے گا تو پھر کیونکر سلسلہ دنیا کا منقطع ہوگا اور کیونکر پرمیشر مجبور ہوکر خالی بیٹھے گا۔ تو ہم کہتے ہیں کہ ایرا دِ اعتراض کے لئے محض فرض کرنا نجات ابدی کا جو امور ممکنہ میں داخل ہے کافی ہے کیونکہ فن فلسفہ میں امور جائز الوقوع میں صرف ان کے فرض وقوع پر بحث کی جاتی ہے نہ تحقق فی الخارج میں فلسفی کو اس سے کچھ غرض نہیں کہ وہ امر وقوع میں آیا یانہ آیا بلکہ فلسفی قطع نظر وقوع لاوقوع سے صرف مادہ جواز پر برہان قائم کرتا ہے مثلاً فلسفی کہتا ہے کہ اگر زید ایک تولہ زہر کھالے تو بے شک مرے گا کیونکہ صدہا مرتبہ کا تجربہ صحیحہ و صادقہ اس بات پر شہادت دے رہا ہے پس اس کے جواب میں یہ معارضہ کہ زید نے عہد کیا ہوا ہے کہ میں ہرگز زہر نہیں کھاؤں گا ۔ حجت کو اٹھا نہیں سکتا کیونکہ گو زید زہر کھانا نہیں چاہتا اور فرض کیا کہ اس نے عہد کیا ہوا ہے کہ میں ہرگز زہر نہیں کھاؤں گالیکن عندالعقل اس کا زہر کھانا اور مرنا ممکن ہے اسی واسطے صناعت منطق میں قضیہ ضروریہ مطلقہ کو قضیہ دائمہ مطلقہ سے اخص مطلق قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً یہ قضیہ کہ ہریک انسان بالضرورت حیوان ہے یعنے حیوانیت ہریک انسان کے وجود کو صفت ضروری ہے کہ جو اس کے وجود سے مُنفِک نہیں ہوسکتی یہ قضیہ ضروریہ مطلقہ ہے اور یہ دوسرا قضیہ کہ زید جو وکیل ہے ہمیشہ مقدمہ میں فتح پاتا ہے دائمہ مطلقہ ہے پس یہ جو دائمہ مطلقہ ہے قضیہ ضروریہ مطلقہ سے اسی واسطے اس کا اخص سمجھا جاتا ہے کہ گو فتح پانا زید کا مثل مفہوم ضروریہ مطلقہ کے جمیع اوقات میں پایا جاتا ہے اور ہمیشہ زید مقدمہ کو جیتتا ہے لیکن اس کا جیتنا اور فتح پانا عندالعقل ضروری نہیں برخلاف قضیہ ضروریہ مطلقہ کے کہ اس میں دوام نسبت حیوانیت کا انسان سے جو موضوع قضیہ کا ہے ضروری ہے کیونکہ عقل ہارنا اور شکست کھانا زید کا تجویز کرسکتی ہے گو اب تک ایک ظاہری

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 148
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 148
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/148/mode/1up

اتفاق ؔ سے زید ہارا نہیں اور نہ کبھی شکست کھائی لیکن کوئی عقلِ سلیم سلب نسبت حیوانیت کا انسان سے تجویز نہیں کرسکتے غرض جو امر عندالعقل ممکن الوقوع ہے خارج میں اس کا واقع ہونا شرط نہیں اور نہ وقوع فی الخارج اور امکان فی نفس الامر میں کسی طرح کا تلازم ذہنی ہے پس اسی دلیل سے روحوں کا انادی ماننا نہ صرف خدائے تعالیٰ کے ازلی جلال اور اس کی صفت ربوبیت اور مبدء فیوض ہونے کو صدمہ پہنچاتا ہے بلکہ اس کی ابدی خدائی اور قدرت نمائی کا بھی جو مدار کاروبار الوہیت ہے بکلّی استیصال کرکے اس کے نام و نشان کو مٹانا چاہتا ہے۔غرض یہ اصول اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا دشمن ہے۔
ایسا ہی اس کا بدنتیجہ جو نجات محدود ہے ہر وقت یہ بات یاد دلاتا ہے کہ خدائے تعالیٰ بوجہ خالق نہ ہونے کے ناقص القدرت تھا اور بغیر مکتی محدود کے اس کی خدائی نہیں چل سکتی تھی اس لئے مجبوراً اس نے مکتی کو محدود رکھا گویا لوگوں کو اپنی بدقسمتی سے ایک ادھورا خدا ملا جو نجاتِ جاودانی دینے پر قادر ہی نہ تھا اس لئے اس کے بدقسمت بندے ہمیشہ کی نجات پانے سے رہ گئی اور اس جگہ پرمیشر کا خیر خواہ بن کر مکتی محدودہ کا یہ جواب دینا کہ انسان دائمی مکتی پانے کا حق نہیں رکھتا اس لئے پرمیشر اس کو دائمی مکتی نہیں دیتا ایک ہنسی کی بات ہے کیونکہ پرمیشر تو بوجہ اپنے ضعف اور عجز اور ناطاقتی کے کسی وجہ سے دائمی مکتی دے ہی نہیں سکتا اور نہ ایسی قدرت رکھتا ہے تو پھر اس صورت میں بندہ کے اعمال کا ذکر کرنا ہی فضول ہے کیا بندہ اپنے دائمی ایمان اور وفاداری کی وجہ سے دائمی جزا کا مستحق نہیں ٹھہرسکتا لیکن جب پرمیشر میں طاقت ہی نہیں تو دائمی مکتی کون دیوے۔ اور اگر پرمیشر دائمی نجات دینے کا ارادہ بھی کرے تو کرکیا سکتا ہے۔ اب دیکھو کس قدر آریہ صاحبان اپنے پرمیشر کی ہتک کررہے ہیں ہم کیونکر باور کریں کہ وہ اس قدر موٹی بات کو بھی سمجھتے نہیں یا کیونکر ہم تسلیم کرلیں کہ ان کی انسانی فطرت ایسی مسخ ہوگئی ہے کہ ایسی صاف صاف صداقتیں بھی ان کی ٹیڑھی نظر میں غلط دکھائی دیتی ہیں بلکہ سارا موجب قوم اور برادری کے پاس ہے جس کے باعث سے لاکھوں دنیا پرست خدا کو اور اس کی پاک راہوں کو چھوڑ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 149
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 149
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/149/mode/1up

دیتے ؔ ہیں۔
اے زِ تعلیم وید آوارہ
منکر از فیض بخش ہموارہ
آں قدیرے کہ نیست زُوچارہ
نزد تو عاجزست وناکارہ
بشنوی گر بود بحق روئے
شور قَالُوا بلٰی زِہر سوئے
آنکہ باذات او بقاؤ حیات
چوں نبا شد بدیع ماآں ذات
ناتوانی ست طور مخلوقات
کے خدا ایں چنیں بود ہیئات
کے پسندد خرد کہ ربّ قدیر
ناتواں باشد وضعیف وحقیر
نظرے کن بشانِ ربانی
داوری ہا کن بنادانی
یں چہ دین است و آئین ست
کہ خدا ناتوا ن و مسکین است
گربدیں دین و کیش ہستی شاد
مایۂ عمر را دہی برباد
قولہ۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ (آریہ سماج والوں کے اعتقاد کے رو سے) مکتی شدہ شخص مکتی خانہ سے نکالا جاتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ آریہ سماج کے اصولوں کے موافق کوئی مکتی خانہ علیحدہ عمارت نہیں۔
اقول۔ سبحان اللہ کیا عمدہ جواب ہے۔ اعتراض تو یہ تھا کہ روحوں کو انادی اور قدیم اور پرمیشر کی طرح واجب الوجود اور غیر مخلوق ماننے سے پرمیشر ایسا کمزور اور مجبور ٹھہر جاتا ہے کہ وہ کسی طرح روحوں کو دائمی نجات دینے پر قادر نہیں ہوسکتا گو ارادہ بھی کرے۔ کیونکہ دائمی نجات دینے سے اس کی خدائی کا سلسلہ دور ہوتا ہے آپ اس کا جواب دیتے ہیں کہ مکتی خانہ کوئی علیحدہ عمارت نہیں جس سے نکالا جائے۔ ناظرین سوچ سکتے ہیں کہ یہ کس قسم کا جواب ہے جس حالت میں آریوں کا بالاتفاق یہ اصول ہے کہ ہمیشہ کے لئے کسی کی مکتی نہیں ہوسکتی کوئی اوتار ہو یا رشی ہو یامنی ہو بلکہ کچھ مدت تک نجات دے کر پھر اس دارالنجات سے دارالتناسخ کی طرف بھیجے جاتے ہیں اور مختلف جونوں میں گردش کرتے کرتے کیڑے مکوڑوں تک نوبت پہنچتی ہے تو پھر کیا یہ اصول ماسٹر صاحب کو یاد نہیں یا دانستہ لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں اور اگر ماسٹر صاحب کو لفظی نزاع کے طور پر یہ اعتراض ہے کہ مکتی خانہ کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے۔ کیا کوئی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 150
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 150
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/150/mode/1up

اینٹوںؔ یا پتھروں کی دان عمارت ہے جس کو خانہ کہنا چاہئے تو ہمیں صرف ماسٹر صاحب کے اعتقاد پر افسوس نہ ہوگا بلکہ ان کی علمیت و محاورہ دانی پر بھی سخت افسوس ہوگا۔ کیا ماسٹر صاحب نہیں جانتے کہ تمام الفاظ تحقیقی طور پر ہی مستعمل نہیں ہوا کرتے بلکہ مجازات و استعارات بھی استعمال میں آتے ہیں مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے ایک بوتل شربت کی پی لی یا ایک رکیبی چانولوں کی کھالی تو کیا ماسٹر صاحب اس سے یہ سمجھیں گے کہ اس نے بوتل اور رکیبی کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے کھالیا ہے۔ اسی طرح خانہ (یادار) کا لفظ کئی محلوں اور موقعوں پر بولا جاتا ہے اور ہر جگہ اینٹوں یا پتھروں کی عمارات مراد نہیں ہوتیں۔ سو جس حالت میں آریوں کے نزدیک دنیا دارالتناسخ ہے تو کیا بے جا ہوا اگر بمقابل اس کے دوسرے جہان کا نام دارالنجات (مکتی خانہ) رکھا گیا۔ اگر اب بھی ماسٹر صاحب کے دل کو کوئی وہم پکڑتا ہو تو کسی اپنے زیرک بھائی بند کو پوچھ کر دیکھ لیویں۔
قولہ۔ مرزا صاحب اپنا اعتقاد یاد کریں کہ انہوں نے مانا ہوا ہے کہ انسان بعد مرنے کے نجات پاکر ایک مکان بہشت میں رہے گا جہاں عمدہ باغ خدا نے لگایا ہوا ہے اچھی اچھی عورتیں یا حوریں موجود ہیں نہریں شراب وغیرہ کی جاری ہیں غرض نجات کی حالت میں بھی دنیاوی سامان موجود ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں بلکہ واں وہ باتیں بھی موجود ہوں گی جو یہاں ممنوع ہیں مثلاً شراب اور بہت سی عورتیں مگر ایسا نہیں بلکہ نجات شدہ لوگ بڑے انند اور خودمختاری کی حالت میں رہیں گے۔
اقول۔ اے ماسٹر صاحب آپ یہ بے اصل باتیں مونہہ سے نکالتے ہوئے کچھ شرم تو کریں اتنا جھوٹ کیونکر ہضم ہوگا۔ بھلا جب حسب اصول آپ کے نجات یافتہ لوگ ایک مدت مقررہ کے بعد مکتی خانہ سے کان پکڑ کر باہر نکال دیئے جائیں گے اور ان کے رونے چلانے پر کچھ رحم نہیں کیا جائے گا بلکہ بڑی سختی سے خلافِ مرضی ان کے حکم اخراج عمل میں آئے گا۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 151
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 151
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/151/mode/1up

اورؔ بڑی ذلت اور رسوائی سے بقول شخصے کہ (پابدست دگرے دست بدست دگرے) مکتی خانہ سے باہر پھینکے جائیں گے تو کیا اس وقت ان کے لئے وہ سُرگ نرگ کا نمونہ بلکہ اس سے بدتر نہیں ہوجائے گا تو پھر اس مجبورانہ مصیبت کے وقت خودمختاری کہاں رہے گی اور انند کیسا ہوگا آپ کہتے ہیں کہ نجات شدہ لوگ بڑی خوشی اور انند میں رہیں گے افسوس ہے آپ کی سمجھ پر۔ کیا ایسے مقام میں بھی کوئی کامل خوشی میسر آسکتی ہے جس میں نکالے جانے اور پھر دوہری مرتبہ کروڑہا برسوں کی مصیبتوں کا دغدغہ درپیش ہے اور ہردم یہی فکر جان کو کھارہا ہے کہ اب تھوڑے عرصہ کے بعد بے شمار ذلتوں اور رسوائیوں کا مونہہ دیکھنا ہوگا۔ پھر کیڑے مکوڑے کتے بلے بننا ہوگا۔ پھر ایک گناہ کے بدلے میں لاکھوں جونیں بھگتنی ہوں گی اور زمانہ دراز اور مدت غیر معین تک دکھوں دردوں کو اٹھانا ہوگا۔ کیا جس کو اس قدر یقینی اور قطعی طور پر غم درپیش ہے اور غم بھی کیسا غم کہ لاعلاج۔ وہ بھی خوش رہ سکتا ہے سو آپ کس مونہہ سے کہہ سکتے ہیں کہ جس مکتی خانہ کا وید نے ذکر کیا ہے وہ بڑی انند اور خودمختاری اور خوشی کی جگہ ہے آپ کے مکتی خانہ سے خدا کی پناہ اگر ایسا ہی پرمیشر اور ایسا ہی اس کا مکتی خانہ ہے تو پھر بدقسمت زاہدوں عابدوں کے لئے اِس جگہ بھی رونا اور اُس جگہ بھی رونا ہی ہوگا۔
رہا آپکا یہ اعتراض کہ مسلمانوں کی بہشت میں دنیوی نعمتیں بھی موجود ہوں گی تو یہ کچھ اعتراض کی بات نہیں بلکہ اس سے تو آپکو اور آپکے پرمیشر کو بہت شرمندہ ہونا چاہیئے کیونکہ مسلمانوں کے خداوند قادر اور غنی مطلق نے تو دائمی اور جاودانی طور پر سب کچھ اپنے بے انتہا خزانوں سے عالم آخرت میں قرآن شریف پر ایمان لانے والوں کو عطا کیا ہے اور روحانی اور جسمانی دونوں طور کی نعمتیں مرحمت فرمائیں کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے سچے پرستار اس دنیا میں صرف روح ہی سے اس کی بندگی اور اطاعت نہیں کرتے بلکہ روح اور جسم دونوں سے کرتے ہیں اور خلقت انسانی کا کمال

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 152
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 152
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/152/mode/1up

صرفؔ روح ہی سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ روح اور جسم دونوں کے امتزاج و اختلاط سے پیدا ہوتا ہے سو اس نے فرمان برداروں کو سعادت تامہ تک پہنچانے کے لئے اور ان کو پورا پورا اجر دینے کے لئے نجات جاودانی کی لذات کو دو قسم پر مشتمل کیا۔ اپنے محبوبانہ دیدار کی لذتیں بھی دیں اور اپنی دوسری نعمتیں بھی بارش کی طرح ان پر برسائیں۔ غرض وہ کام کر دکھلایا جو اس قادر عظیم الشان کی قدرتوں اور عظمتوں اور بے انتہا رحمتوں کے لائق ہے لیکن آپ کا پرمیشر تو مفلس اور دیوالیہ ہی نکلا اور اپنی عاجزی اور درویشی اور مفلسی اور ناطاقتی اور بے اختیاری کے باعث سے آپ لوگوں کو کسی ٹھکانہ نہ لگا سکا اور نہ کوئی مستقل خوشی پہنچا سکا۔ غرض کچھ بھی نہ کرسکا نہ روحانی نعمتیں ہمیشہ کے لئے دے سکا۔ نہ جسمانی اور دونوں طور سے آپ کو ناکام اور نامراد اور محروم اور بے نصیب رکھا اور جس کے لئے مرتے تھے اور جان نثاری کرتے تھے وہ ایسا نامنصف اور بے سمجھ اور مورکھ اور بے خبر نکلا کہ اس نے تمہاری روحانی اور بدنی مشقتوں کا کچھ بھی قدر نہ کیا اور اپنی الٹی سمجھ سے عاشقانہ وفاداریوں اور جان نثاریوں کو چند روزہ مزدوری خیال کرلیا۔ کیا ایسے بخیل اور ناطاقت اور بے سمجھ پرمیشر سے محبتیں بڑھ سکتی ہیں اور صفائی کامل سے کوئی دل رجوع ہوسکتا ہے ہرگز نہیں بلکہ اس کی قدرت اور سخاوت اور قدر شناسی کی حقیقت کھلنے سے جب تپ کرنے والوں کی روحیں بہت ہی افسوس ناک اور نادم ہوں گی کہ اگر یہی پرمیشر اور یہی اس کی مکتی تھی تو ہم خواہ مخواہ کی ٹکریں کیوں ماریں اور مکتی خانہ سے نکالے جانے کے وقت ضرور مضمون اس شعر کا رو رو کر پڑھتے ہوں گے۔
اب تو کچھ سمجھ کے جان تجھ پہ کریں گے قربان
ہم تو اس روز کو پچھتاتے ہیں جب دل ہی دیا
سو خدائی کے کام وہ ہیں نہ یہ اور چارہ سازی اور بندہ نوازی اس کو کہتے ہیں نہ اس کو۔ بہ بین تفاوت راہ از کجاست تا بکجا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ویدؔ کے رو سے اس ناکارہ اور ناقص مکتی کا ملنا بھی آپ لوگوں کے لئے محال ہے اور آپ کے پرمیشر نے محض ٹالنے کی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 153
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 153
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/153/mode/1up

غرضؔ سے مکتی کے ملنے میں ایسی دشواریاں ڈال دیں ہیں جو ممکن ہی نہیں کہ آپ لوگ ان سے مخلصی پاسکیں بھلا جب ایک گناہ کے لئے ایک لاکھ اور کئی ہزار جون کی سزا ٹھہری اور ایک طرفۃ العین یعنے ایک پلکارہ بھی خدائے تعالیٰ سے غافل ہونا گناہ ٹھہرا تو پھر مکتی پانے کی کون سی راہ باقی رہی۔ سو اگر آپ لوگ حقیقت حال کو سوچیں تو اپنی نوامیدی کی حالت کو دیکھ کر ماتم کریں اور سوگ میں بیٹھیں کیونکہ پرمیشر نے تو ایک طرح سے مکتی دینے سے آپ لوگوں کو جواب دے دیا ہے کیونکہ نہ نومن تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔ کیا اس زندگی موجودہ میں کوئی شخص آپ لوگوں میں سے دعویٰ کرسکتا ہے کہ میں نے کبھی کسی قسم کا گناہ نہیں کیا نہ صغیرہ نہ کبیرہ اور نہ کبھی جھوٹ زبان پر آیا۔ اور نہ کبھی کسی کو زبان یا ہاتھ یا آنکھ وغیرہ سے ستایا اور نہ کبھی مال ناجائز کھایا اور نہ کبھی ایک سیکنڈ بھی اپنے پرمیشر کو بھلایا اور نہ کسی اور قسم کا گناہ یا بدخیال دل میں آیا۔ میں جانتا ہوں کہ ایسا دعویٰ کرنا ممکن ہی نہیں تو پھر کسی آئندہ جون کا بھی اسی پر قیاس کرلیجئے کیونکہ اس دارالغفلت دنیا میں گناہ انسان کی فطرت کو لگا ہوا ہے اور جیسے فطرتی خواص اس موجودہ زندگی میں آپ سے الگ نہیں ہوسکے ایسا ہی کسی آئندہ جون میں دنیا میں آکر ان فطرتی خواص کا بکلی دور ہوجانا ممتنع اور محال ہے۔ بعض موٹی سمجھ کے آدمی جن کو بہ باعث اپنی نادانی اور نقصان علمی کے گناہ کی فلاسفی معلوم نہیں وہ شاید بوجہ اپنے کمال درجہ کی سادہ لوحی کے ایسا خیال کرتے ہوں گے کہ گویا گناہ انہیں دوچار باتوں کا نام ہے کہ انسان ارتکاب زنا یا خون یا شہادت دروغی پر دلیری کرے یا کسی جگہ سیندہ لگاوے یا کسی کی گانٹھُ کترلے اور پھر جب ان چند معدود اور مشہور جرائم کو چھوڑ دے تو پھر گناہ سے بکلّی پاک اور صفا ہوگیا اور اپنے پرمیشر کو کہہ سکتا ہے کہ اب تیرے حقوق سب میں نے ادا کردیئے اور جو کچھ کرنا میرے پر واجب تھا سب کچھ میں کر گزرا۔ لیکن درحقیقت یہ خیال سراسر غلط بلکہ بھاری گناہ ہے جو انسان اپنے تئیں بے گناہ اور

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 154
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 154
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/154/mode/1up

خداؔ ئے تعالیٰ کے سارے حقوق کو ادا کرنے والا خیال کرلے اسی وجہ سے راست بازوں اور مقدسوں نے طریق تواضع اور فروتنی اور استغفار کو لازم پکڑا اور کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں بکلی نیک اور بے گناہ ہوں حضرت مسیح علیہ السلام کو کسی نے کہا کہ اے نیک استاد‘ تو آپ نے یہ پیارا اور دلکش جواب دیا کہ میں نیک نہیں ہوں یعنے ایک گنہگار آدمی ہوں مجھے تو کیوں نیک کہتا ہے۔ سبحان اللہ معرفت الٰہی انہیں پاک لوگوں کے حصہ میں آئی تھی جنہوں نے کیسے ہی تقدس کی حالت میں بھی اپنے تئیں بے گناہ اور نیک نہیں سمجھا اور حقیقت میں اس سے بڑھ کر اور کوئی گناہ نہیں کہ اپنے تئیں بے گناہ خیال کیا جائے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ گناہ انسان کی سرشت کو ایک لازم غیر منفک ہے جس کا تدارک صرف رحمت اور مغفرت الٰہی کرسکتی ہے نہ کوئی اور چیز اور اگر خدائے تعالیٰ ہریک گناہ پر سزا دینے لگے اور استغفار اور توبہ قبول نہ ہو اور فضل شامل حال نہ ہو تو بندہ کبھی نجات نہیں پاسکتا مثلاً اگر یہ سزا ہندوؤں کے اصول کے طور پر دی جائے یعنے جونوں میں ڈالا جائے تو اگر ہندوؤں کا پرمیشر قطع نظر ایک لاکھ جون کے ایک گناہ کے عوض میں صرف ایک جون کی سزا پر ہی کفایت کرے تب بھی اس بے انتہا سلسلہ کا انقطاع محال ہے چہ جائیکہ ایک گناہ کے بدلے میں دو لاکھ کے قریب جون بھگتنی پڑے اور پھر اس گناہ سے فراغت ہوکر دوسرے گناہ کی سزا نئے سرے سے شروع ہو اور ایک طرف بندہ سزائیں پاتا جائے اور ایک طرف نئے گناہ جو اس کی فطرت کو لگے ہوئے ہیں اور ہردم اور ہرلحظہ اس سے صادر ہورہے ہیں انبار کے انبار جمع ہوتے جائیں۔ پس جبکہ حقیقت گناہ یہ ہے اور اس سے مخلصی پانا عندالعقل محال ہے تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ اگر مکتی پانا اسی بات پر موقوف ہے کہ کسی قسم کا گناہ باقی نہ رہے اور کسی نوع سے خطا صادر نہ ہوسکے تو آریوں کے مکتی پانے کے کوئی لچھن نظر نہیں آتے۔ اور فرض کے طور پر اگر مان بھی لیں کہ کوئی آریہ ان سب شرائط کو پورا کرکے کسی زمانہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 155
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 155
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/155/mode/1up

میںؔ مکتی پاجائے گا تو پھر بھی مکتی پانا نہ پانا اس کا برابر ہوگا کیونکہ صرف تھوڑے عرصہ تک مکتی خانہ میں پتھر کی طرح پڑا رہے گا۔ اور پھر جیسا کہ ہم ابھی بیان کرچکے ہیں پرمیشر اپنی تلون مزاجی سے اس پر ناحق ناراض ہوکر سخت ذلیل اور رسوا کرکے اس کو باہر نکال دے گا اور چوروں کی طرح ہاتھوں میں اس کے مجبوری کی ہتھکڑی ہوگی اور پاؤں میں روک کا زنجیر اور گردن میں پرمیشر کی خفگی کا ایک بڑا لمبا رسّا ہوگا اور پھر اس نیک بخت کو خواہ وہ اوتار ہو یا کوئی ایسا رشی ہو جس پر کوئی وید اترا ہے یا کوئی دوسرا رکھی منی یا بھگت غرض کوئی ہو اس کو کھینچتے کھینچتے دنیا کے اسی گڑھے میں الٹا کر پھینک دیں گے جس سے وہ بیچارہ کروڑوں برس بلکہ ہزاروں ارب تک جان مار کر اور روپیٹ کر اتفاقاً نکل آیا تھا یہ آپ لوگوں کا پرمیشر ہے اور یہ اس کی مکتی ہے اور یہ اس کا انعام و اکرام ہے اور یہ اس کا ابتدا و انجام ہے۔ سو ایسے پرمیشر کو دور سے ہی سلام ہے۔ ایسے پرمیشر کے یہ شعر مطابق حال ہے۔
بادوستاں چہ کردی کہ کنی بدیگراں ہم
حقا کہ واجب آمدزِ تو احتراز کردن
اور اگر ماسٹر صاحب کا اعتراض سے یہ مطلب ہے کہ اسلامی بہشت میں صرف دنیوی نعمتوں کا ذکر ہے وصال الٰہی اور روحانی لذّ ات کا کہیں ذکر نہیں تو ہم اس جھگڑے کے فیصلہ کرنے کے لئے یہ عمدہ طریق سمجھتے ہیں کہ ماسٹر صاحب کسی اخبار کے ذریعہ سے پختہ طور پر ہم کو یہ اطلاع دیں کہ ہاں میری یہی رائے ہے کہ قرآن شریف میں وصالِ الٰہی اور لذّاتِ روحانی کا کہیں ذکر نہیں مگر وید میں ایسا بہت کچھ ذکر ہے تو اس صورت میں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ صرف تین یا چار ہفتہ تک ایک مستقل رسالہ اسی بارہ میں بغرض مقابلہ وید و قرآن طیار کرکے جہاں تک ہوسکے بہت جلد چھپوا دیں گے اور سو روپیہ بطور انعام ایک نامی اور فاضل برہمو صاحب کے پاس جو آریوں کے بھائی بند ہے امانت رکھ دیں گے پھر اگر ماسٹر صاحب بپابندی اپنے چاروں ویدوں کی سنگتا کے جن کو وہ الہامی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 156
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 156
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/156/mode/1up

سمجھتےؔ ہیں روحانی لذات اور وصال ربانی کے بارے میں جو نجات یابوں کو حاصل ہوگا۔ قرآن شریف کا مقابلہ کرکے دکھلاویں اور وہ برہمو صاحب اس کی تائید اور تصدیق کریں تو وہ سو روپیہ ماسٹر صاحب کا ہوگا ورنہ بجائے اس سو روپیہ کے ہم ماسٹر صاحب سے کچھ نہیں مانگتے صرف یہی شرط کرتے ہیں کہ مغلوب ہونے کی حالت میں ایسے وید سے جو بار بار انہیں ندامت دلاتا ہے دست بردار ہوکر اسلام کی سچی راہ کو اختیار کرلیں۔ (یار غالب شو کہ تا غالب شوی) اور اگر ماسٹر صاحب اس رسالہ کی اشاعت کے بعد ایک ماہ تک خاموش رہے اور ایسا مضمون کسی اخبار میں اور نہ اپنے کسی رسالہ میں شائع کیا تو اے ناظرین آپ لوگ سمجھ جائیں کہ وہ بھاگ گئے۔
رہا یہ اعتراض کہ شراب جو دنیا میں بھی ممنوعات اور محرمات میں سے ہے وہ کیونکر بہشت میں روا ہوجائے گی۔ اس کا جواب وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے کہ بہشتی شراب کو اس دنیا کی فساد انگیز شرابوں سے کچھ مناسبت نہیں جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
وَسَقٰٮهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا
اِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًا‌ۚ‏
عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ يُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِيْرًا‏
یعنے جو لوگ بہشت میں داخل ہوں گے ان کا خدا ان کو ایک ایسی پاک شراب پلائے گا جو ان کو کامل طور پر پاک کردے گی۔ نیک لوگ وہ جام پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہے یعنے ان کے دل وہ شراب پی کر غیر کی محبت سے بکلّی ٹھنڈے ہوجاویں گے۔ وہ کافوری شراب ایک چشمہ ہے جس کو اسی دنیا میں خدا کے بندے پینا شروع کرتے ہیں۔ وہ اس چشمہ کو ایسا رواں کردیتے ہیں کہ نہایت آسانی سے بہنے لگتا ہے اور وسیع اور فراخ نہریں ہوجاتی ہیں۔ یعنے ریاضاتِ عشقیہ سے سب روکیں ان کی دور ہوجاتی ہیں اور نشیب و فراز بشریت کا صاف اور ہموار ہوجاتا ہے اور جناب الٰہی کی طرف انقطاع کلی میسر آکر معارف الٰہیہ میں وسعت تامہ پیدا ہوجاتی ہے اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے
وَكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍۙ‏
لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَلَا يُنْزِفُوْنَۙ‏

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 157
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 157
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/157/mode/1up

لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًاۙ‏
اِلَّا قِيْلاً سَلٰمًا سَلٰمًا‏
وُجُوْهٌ يَّوْمَٮِٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ‏
اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ‌ۚ‏
وَمَنْ كَانَ فِىْ هٰذِهٖۤ اَعْمَىٰ فَهُوَ فِىْ الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَاَضَلُّ سَبِيْلاً‏
ور شراب صافی کے پیالے جو آب زُلال کی طرح مصفی ہوں گے بہشتیوں کو دیئے جائیں گے۔ وہ شراب ان سب عیبوں سے پاک ہوگی کہ دردسر پیدا کرے یا بیہوشی اور بدمستی اس سے طاری ہو۔ بہشت میں کوئی لغو اور بیہودہ بات سننے میں نہیں آئے گی اور نہ کوئی گناہ کی بات سنی جائے گی بلکہ ہر طرف سلام سلام جو رحمت اور محبت اور خوشی کی نشانی ہے سننے میں آئے گا۔ اس دن مومنوں کے مونہہ تروتازہ اور خوبصورت ہوں گے اور وہ اپنے رب کو دیکھیں گے اور جو شخص اس جہان میں اندھا ہے وہ اس جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بھی گیا گزرا۔ اب ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ وہ بہشتی شراب دنیا کی شرابوں سے کچھ مناسبت اور مشابہت نہیں رکھتی بلکہ وہ اپنی تمام صفات میں ان شرابوں سے مبائن اور مخالف ہے اور کسی جگہ قرآن شریف میں یہ نہیں بتلایا گیا کہ وہ دنیوی شرابوں کی طرح انگور سے یا قندسیاہ اور کیکر کے چھلکوں سے یا ایسا ہی کسی اور دنیوی مادہ سے بنائی جائے گی بلکہ بار بار کلام الٰہی میں یہی بیان ہوا ہے کہ اصل تخم اس شراب کا محبت اور معرفت الٰہی ہے جس کو دنیا سے ہی بندہ مومن ساتھ لے جاتا ہے۔ اور یہ بات کہ وہ روحانی امر کیونکر شراب کے طور پر نظر آجائے گا۔ یہ خدائے تعالیٰ کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے جو عارفوں پر مکاشفات کے ذریعہ سے کھلتا ہے اور عقلمند لوگ دوسری علامات و آثار سے اس کی حقیقت تک پہنچتے ہیں۔ روحانی امور کا جسمانی طور پر متمثل ہوجانا کئی مقامات قرآن شریف میں بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ یہ بھی لکھا ہے کہ تسبیح اور تقدیس الٰہی کی باتیں پھلدار درختوں کی طرح متمثل ہوں گی۔ اور نیک اعمال پاک اور صاف نہروں کی طرح دکھلائی دیں گے اسی کی طرف دوسرے مقام میں
اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے
كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُهَا فِىْ السَّمَآءِۙ‏
تُؤْتِىْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍۢ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 158
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 158
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/158/mode/1up

یعنے پاک کلمات پاک درختوں سے مشابہت رکھتے ہیں جن کی جڑھ مضبوط ہے اور شاخیں آسمان میں اور ہمیشہ اور ہر وقت تروتازہ پھل دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک مقام میں اللہ تعالیٰ نے امور ایمانیہ کو باغات سے تشبیہہ دی ہے اور اعمال صالحہ کو نہروں سے جو اس باغ کے نیچے بہتی ہیں اور اس کی جڑوں کو پانی پہنچا کر اس کو تروتازہ رکھتی ہیں۔ اور ایک جگہ قرآن شریف میں یہ بھی ذکر آیا ہے کہ جب عارف لوگ بہشت میں کسی قسم کی لذت حسی طور پر پائیں گے تو ان کو یقین ہوگا کہ یہ لذات انہیں روحانی لذات سے مشابہ ہیں جن کو ہم دنیا میں عشق اور محبت الٰہی کی وجہ سے پاتے تھے ایسا ہی قرآن شریف میں بیسیوں مقامات میں اس بات کا ذکر پایا جاتا ہے کہ عالم آخرت میں جو جسمانی طور پر لذات بہشتیوں کو دی جائیں گی حقیقت میں وہ سب روحانی لذات کے اظلال و آثار ہوں گے اگر وہ سب مقامات قرآنی بحوالہ آیات اس جگہ لکھے جائیں تو اس رسالہ میں بہت سا طول ہوجائے گا۔ سو ہم جیسا کہ وعدہ کرچکے ہیں ماسٹر مرلیدھر صاحب کی درخواست سے یہ سب امور مفصل طور پر کسی الگ رسالہ میں تحریر کریں گے۔ اور واضح رہے کہ لذات روحانی کا جسمانی طور پر متمثل ہونا جو بہشت کی نسبت بیان کیا گیا ہے کوئی ایسا امر نہیں ہے جس کو جدید اور دوراز فہم خیال کیا جائے۔ دیکھنا چاہئے کہ عالم رویا یعنے عالم خواب میں بھی (جو اس دوسرے عالم سے بشدت مشابہ ہے گویا اس کی دوسری شاخ ہے) کیسے امور معقولہ محسوس طور پر مشہود ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہر ایک عقلمند انسان اپنے ذاتی تجربہ سے عالم رویا میں معقولات کا محسوسات کے پیرایہ میں متمثل ہونا بخوبی جانتا ہوگا بارہا ہم تم اپنے سرور اور خوشی کی حالت میں جو ایک روحانی امر ہے عالم رؤیا میں ایک نہایت سرسبز باغ دیکھتے ہیں جس میں ہم سیر کررہے ہیں یا عمدہ میوؤں کا مشاہدہ کرتے ہیں جن کو ہم کھارہے ہیں سو حقیقت میں یہ وہی روحانی خوشی اور راحت ہوتی ہے جو جسمانی طور پر ہم کو نظر آجاتی ہے۔ ایسا ہی کبھی غم کی حالت سانپ یا بچھو یا صاعقہ یا کسی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 159
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 159
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/159/mode/1up

درندہؔ یا زلزلہ کی شکل میں دکھائی دیتی ہے یا ناقص اور مکروہ چیزوں کی صورت میں جیسے پیاز یا مولیاں یا مرچیں یا بدبودار چیزیں یا نجاست آمیز کیچڑ وغیرہ کے رنگ میں نمودار ہوتی ہیں غرض یہ بات محقّقین اور مجر بین کے مشاہدات کثیرہ متواترہ سے ثابت ہوچکی ہے جس سے فلسفیوں نے بھی اتفاق کرلیا ہے کہ عالم رویا اور عالم آخرت مرا یا متقابلہ کی طرح واقعہ ہیں جو کچھ فطرت اور قدرت الٰہی نے عالم خواب میں خواص عجیبہ رکھے ہیں اور جس عجیب طور سے روحانی امور محسوس و مشہود طور پر اس عالم میں دکھائی دیتے ہیں بعینہٖ یہی حال عالم آخرت کا ہے یا یوں کہو کہ عالم خواب عالم آخرت کے لئے اس عکسی آئینہ کی طرح ہے جو ہوبہو فوٹو گراف اتار دکھائے اور اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ موت اور خواب دو حقیقی بہنیں ہیں جن کا حلیہ اور شکل اور لوازم اور خواص قریب قریب ہیں اور اگر ہم اسی زندگی دنیا میں عالم آخرت کے کچھ اسرار بغیر ذریعہ الہام اور وحی کے دریافت کرسکتے ہیں تو بس یہی ایک ذریعہ عالم رویا کا ہے سو دانشمندوں کو چاہئے کہ اگر اس عالم کی کیفیت کچھ دریافت کرنا چاہیں تو عالم رویا پر بہت غور اور توجہ کریں کیونکہ جن عجائبات سے یہہ عالم رویا بھرا ہوا ہے اسی قسم کے عجائبات عالم آخرت میں بھی ہیں اور جس طور کی ایک خاص تبدیل وقوع میں آکر عالم رویا پیدا ہوجاتا ہے اور پھر اس میں یہ عجائبات کھلتے ہیں عالمِ آخرت میں بھی اسی کے مشابہ تبدیل ہے سو جبکہ خدائے تعالیٰ کا قانون قدرت عالمِ رویا میں یہی ہے کہ وہ روحانیات کو جسمانیات سے متمثل کرتا ہے اور معقولات کو محسوسات کا لباس پہناتا ہے سو وہی قانون قدرت دوسرے عالم میں بھی سمجھنا چاہئے اور یہ خیال آریوں کا کہ عالم آخرت میں صرف روح اکیلی رہ جائے گی اور اس کے ساتھ جسم نہیں ہوگا اور لذتیں بھی صرف روحانی اور معقولی طور پر ہوں گی یہ سراسر تحکم ہے جس پر کوئی دلیل نہیں یہ بات نہایت صاف اور بدیہی الثبوت ہے کہ انسان ترقیات غیر متناہیہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور ذریعہ ان ترقیات کا اس کی وہ جسمی ترکیب ہے جس کو قادر مطلق

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 160
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 160
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/160/mode/1up

نے ؔ ایسی حکمت کاملہ سے صورت پذیر کیا کہ تکمیل نفس ناطقہ انسان کے لئے عجیب آثار اس سے مترتب ہوئے گویا حکیم مطلق نے روح انسان کو اپنے مراتب عالیہ تک پہنچنے کے لئے ایک ضروری سیڑھی عطا کردی سو جیسا کہ یہ ظاہر ہے کہ ان مراتب عالیہ کی کوئی انتہا نہیں ایسا ہی یہ بھی ظاہر ہے کہ اس سیڑھی کی بھی ہمیشہ کے لئے ضرورت ہے اور یہ کیونکر ہوسکے کہ وہ ذریعہ ترقیات جس کی ہمیشہ کے لئے روح کو ضرورت ہو اس سے الگ کیا جائے ماسوا اس کے ترقیات تو ایک طرف رہیں علوم حاصل کردہ بھی بغیر شمول جسم کے محفوظ نہیں رہ سکتے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جسم کے ماؤف ہونے کے ساتھ ہی انسانیت کے افعال میں فتور پڑجاتا ہے۔ مثلاً اگر سر پر کوئی چوٹ لگ جائے تو جس مقام پر اس چوٹ کا صدمہ پہنچے اس مقام کی دماغی قوت ساتھ ہی خلل پذیر یا معطل ہوجاتی ہے اگر کسی کو شک ہو تو تجربہ کرکے دیکھ لے پس جبکہ صدور افعال انسانیت کے لئے جسم کی صحت و درستی نہایت ضروری ہے اور جسمی اختلال کو روحانی اختلال لازم پڑا ہوا ہے تو اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ہماری روح بغیر شمول جسم کے انسانی لوازم اور کمالات اور حفظ کمالات کا مظہر و مصدر نہیں ہوسکتی ہم دنیا میں صریح دیکھتے ہیں کہ جسم کے آفت زدہ ہونے سے روحانی کاروبار میں ابتری واقع ہوجاتی ہے۔ مجانین یعنے سودائیوں اور پاگلوں کی جب جسمی حالت درست نہیں رہتی اور دماغی اعتدال میں کچھ فرق واقع ہوجاتا ہے تو مجرد روح کے ہونے سے افعال انسانیت ہرگز ان سے صادر نہیں ہوسکتے۔ بعض آدمیوں کو دماغی فتوروں سے اس قدر متاثر دیکھا گیا ہے کہ تمام علوم یک دفعہ ان کو بھول گئے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنا نام بھی یاد نہیں رہا اور بار بار دوسروں سے پوچھتے ہیں کہ میرا نام کیا ہے۔ اب جبکہ ایک تھوڑے سے جسمی خلل سے انسانی افعال میں اس قدر آفتیں پیدا ہوجاتی ہیں تو ہم کس طور سے یقین کرلیں اور کون سی دلیل ہمارے ہاتھ میں ہے جس سے ہم اس بات کے باور کرنے کے لئے بکلی تیار ہوجائیں کہ جب روح جسم سے قطعی طور پر الگ ہوجائے گی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 161
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 161
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/161/mode/1up

تبؔ اس مفارقت تامہ سے کوئی ضرر انسانی کمالات کے عائد حال نہیں ہوگا ہم جانتے ہیں کہ ضرور ہوگا تجارب طبی ہمارے لئے دلیل کافی ہے یعنی ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اختلال جسمانی اختلال روحانی کا موجب ہے اور جسمانی صحت یا مرض کو روحانی صلاح یا فساد پر ایک قوی اثر ہے اب جو شخص اس بدیہی دلیل کے برخلاف رائے رکھتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ انسانیت کاملہ کے خواص بلا ترکیب جسم جیسا کہ چاہیئے کہ مجرد روح سے صادر ہوسکتے ہیں تو بار ثبوت اسی کی گردن پر ہے جس سے وہ کبھی سبکدوش نہیں ہوسکتا کیونکہ محققین کے تجارب اس بات کی تائید میں انتہا تک پہنچ گئے ہیں کہ صدور افعال کاملہ انسانیت کے لئے ترکّبِ جسم مع الروح ضروری ہے اور جب جسم آیا تو جسمانی لوازم بھی ساتھ آئیں گے۔ ہاں چونکہ وہ بہشتی جسم ایک لطیف اور نورانی بدن ہوگا اس لئے اس کے لوازم بھی لطیف اور نورانی ہی ہوں گے۔ اب دیکھنا چاہیئے کہ قریب بقیاس اور قانون قدرت کے موافق اور دلائل طبعیہ اور طبیہ سے تائید یافتہ اور ثابت شدہ وہ بہشت ہے جس کو قرآن شریف نے نہایت پاکیزگی سے بیان کیا ہے اور براہین شافیہ سے اس کا ثبوت دیا ہے یا وہ وہمی اور خلاف قیاس اور منحوس مکتی خانہ جس کا وید میں ذکر ہے یعنے یہ کہ مجرد روحیں پتھر کی طرح پڑی رہیں گی اور پھر کچھ عرصہ کے بعد مکتی خانہ سے باہر نکالی جائیں گی۔ کیا انسان کی انتہائی سعادت یہی ہے کہ وہ مجرد روح رہ کر ان بابرکت اور نہایت مفید حواس کو کھو بیٹھے جو اس کی غیر متناہی ترقیات کا موجب ہیں اور پھر اس پر بھی کفایت نہیں بلکہ مصیبت پر مصیبت یہ کہ انجام کار مکتی خانہ سے ذلیل کرکے نکالا جائے انصاف کرنا چاہیئے کہ کیا ایسی نامعقول مکتی پر کوئی فلسفی برہان قائم ہوسکتی ہے اور کیا اس جہان میں اور اس زندگی میں کوئی شافی دلیل ہم کو اس بات پر مل سکتی ہے کہ افعال کاملہ انسانیت جو قویٰ ظاہری و باطنی سے وابستہ اور دماغی حواسوں سے ظہور پذیر ہیں وہ مجرد روحوں سے صادر ہوسکتے ہیں اگر کسی آریہ کے نزدیک کوئی ایسی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 162
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 162
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/162/mode/1up

دلیلؔ پائی جاتی ہے جس سے یہ ثبوت مل سکے تو کس وقت کے لئے مخفی رکھی ہے واجب و لازم ہے کہ پیش کریں۔ خاص کر ماسٹر مرلیدھر صاحب جو وید کے غایت درجہ کے ثنا خوان ہیں اور بقول شخصے کہ دیکھا نہ بھالا صدقے گئی خالہ۔ پہلے اس سے کہ ویدوں کی حقیقت معلوم کریں یوں ہی وید وید کررہے ہیں۔ ان پر تو فرض ہے کہ ضرور اس جگہ وید کا فلسفہ پیش کریں۔ تاوید کی ڈوبتی ہوئی کشتی کا کوئی گوشہ باقی رہ جائے۔
ندارد کسے باتو نا گفتہ کار
ولیکن چو گفتی دلیلش بیار
قولہ۔ مرزا صاحب اپنے اعتراض کی تفصیل اس طرح فرماتے ہیں کہ اگر تمام ارواح کو اور ایسا ہی اجزاء صغار اجسام کو قدیم اور انادی اور غیر مخلوق مانا جائے تو اس میں کئی قباحتیں ہیں منجملہ ان کے ایک تو یہ کہ خدائے تعالیٰ کے وجود پر کوئی دلیل قائم نہیں ہوسکتی کیونکہ جس حالت میں ارواح یعنے جیو خودبخود موجود ہیں اور ایسا ہی اجزاء صغار بھی خودبخود ہیں تو پھر صرف جوڑنے جاڑنے سے ضرورت صانع کی ثابت نہیں ہوسکتی بلکہ ایک دہریہ بھی جو خدائے تعالیٰ کا منکر ہے عذر پیش کرسکتا ہے کہ جس حالت میں تم نے دو چیزوں کا خودبخود ہونا بغیر ایجاد پرمیشر کے آپ ہی مان لیا ہے تو پھر اس بات پر کیا دلیل ہے کہ جوڑنے جاڑنے کے لئے پرمیشر کی حاجت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی باتیں وہ لوگ کہتے ہیں کہ جن کو نہ تو روح کی ہی کیفیت معلوم ہے کہ وہ کیا ہے اور نہ مادہ کی ہی کیفیت کہ وہ کیا چیز ہے۔
اقول۔ واہ کیا عمدہ جواب دیا ہے۔ اگر ماسٹر صاحب کسی عدالت کے جج ہوں تو خوب ہی ُ پربہار فیصلہ لکھیں ماسٹر صاحب کی عقل عجیب کے نزدیک جو لوگ خداوند ذوالجلال قادر مطلق کو جمیع عالم کا صانع سمجھتے ہیں اور ہریک فیض کا مبداء اور ہریک وجود کا موجد و قیوم اور ہریک سلسلہ کا منتہا اسی کو قرار دیتے ہیں اور بغیر اس کے ظاہر کرنے کے کسی چیز کا ظہور خودبخود نہیں مانتے اور بغیر اس کے پیدا کرنے کے کسی چیز کا اپنے آپ ہی پیدا ہوجانا تسلیم نہیں کرتے بلکہ سب چیزوں کا مبدء و مرجع اسی کو جانتے ہیں اور جمیع اجزاء

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 163
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 163
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/163/mode/1up

عالمؔ کی نسبت یہی اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ اسی کی ایجاد سے موجود اور اسی کے سہارے سے قائم اور اسی کے رشحاتِ فیض سے پرورش یاب ہے اُن کو نہ روح کی کچھ کیفیت معلوم ہے نہ مادہ کی بلکہ بقول ماسٹر صاحب یہ معرفت روح اور مادہ کی انہیں لوگوں کے حصہ میں آگئی ہے کہ جو اپنی روحوں اور اپنے جسمی مادہ کو خدائے تعالیٰ کی طرح غیرمخلوق اور اپنے اپنے وجود کے آپ ہی خدا خیال کرتے ہیں۔ اے لالہ صاحب؟ اگر آپ غیرمخلوق ہوکر اپنے پرمیشر سے مساوی ہیں تو پھر اپنی خدائی کچھ دکھلائیے یا اپنی روح کے غیر متناہی زمانوں کی کوئی کہانی ہی سنائیے ورنہ اگر نرا دعویٰ ہی دعویٰ ہے تو پھر اس فضول گوئی کا ثبوت کیا ہوا۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ گیان آپ نے کہاں سے حاصل کیا ہے۔ اگر وید کی یہی تعلیم ہے تو پھر منادی کیوں نہیں کرادیتے کہ آریوں کا پرمیشر روحوں کے پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ افسوس آپ لوگ کیوں نہیں سمجھتے کہ خدا ایسا چاہئے جو اپنی خدائی کے کام چلانے میں کسی غیر کے اتفاقی وجود کا محتاج نہ ہو بلکہ جن چیزوں پر وہ خدائی کرتا ہو وہ سب اسی کے ہاتھ سے نکلی ہوں۔ ہائے تم پر افسوس تم کیوں نہیں سمجھتے کہ جس کے مقابل پر کروڑہا وجود خودبخود چلے آتے ہیں وہ کاہے کا خدا ہے اور کون سی خدائی اس میں ہے۔ اے نادانوں اور سمجھ کے ناقصو خدا کی کامل اور پوری خوبی کس بات میں ہے آیا اس میں کہ وہ اپنی قدرت سے کچھ نہ کرسکے اور اس کی خدائی دوسروں کے سہارے سے چلتی ہو یا اس بات میں کہ وہ سب کچھ کرتا ہو اور اس کی خدائی اسی کی غیرمتناہی طاقتوں سے چلتی ہو۔ ذرا اکیلے بیٹھ کر سوچو؟ اپنے پلنگ پر لیٹے ہوئے ایک خالص فکر کو اس کے گہراؤ تک لے جاؤ؟ کہ خدا کی ضرورتیں کہاں سے اور کہاں تک ہیں؟ بعض آریہ سماج والے ارواح کے غیرمخلوق اور اپنے وجود کے آپ خدا ہونے کے بارے میں یہ دلیل پیش کیا کرتے ہیں کہ اگر ارواح کسی وقت معدوم تھیں اور پھر خدائے تعالیٰ کے پیدا کرنے سے موجود ہوئیں تو گویا نیست سے ہست ہوگیا اور نیستی سے ہستی ہونا ایسی دوراز فہم بات ہے کہ کوئی عقلمند

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 164
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 164
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/164/mode/1up

اسؔ کو نہیں مانے گا مگر میں کہتا ہوں کہ یوں تو فاسد اور ناقص عقل کے مارے ہوئے خدائے تعالیٰ کو بھی نہیں مانتے لیکن جس شخص کی عقل سلیم ہے اس کو تو خدائے تعالیٰ کے ماننے کے ساتھ ہی اس کی وہ تمام صفات بھی ماننی پڑیں گی جو مدار اس کی خدائی اور الوہیت کی ہیں اور جو شخص خدائے تعالیٰ کی اس نہایت ضروری صفت کو مان لے گا کہ وہ قادر مطلق اور بے انتہا طاقتوں کا مالک ہے تو پھر ہرگز اس کی قدرتوں کو اپنی عقل ناقص کے ساتھ موازنہ نہیں کرے گا اور خدائے غیرمحدود کی قادرانہ قوتوں کو کسی حدّ خاص میں محدود نہیں جانے گا۔ اور نیز جب ایک عقلمند دیکھے گا کہ خدائے تعالیٰ ایسا اپنی ذات میں مظہر العجائب و بلند تر از احاطۂ فکر و قیاس ہے جو بغیر اسباب آنکھوں کے دیکھتا ہے اور بغیر اسباب کانوں کے سنتا ہے اور بغیر اسباب زبان کے بولتا ہے اور بغیر حاجت معماروں و مزدوروں و نجاروں و آلات عمارت سازی و فراہمی اینٹوں و پتھروں وغیرہ کے صرف اپنے ارادہ اور حکم کے اشارہ سے ایک طرفۃ العین میں زمین و آسمان بناسکتا ہے تو بے شک اس بات کا یقین بھی کرے گا کہ وہ قادر خدا نیستی سے ہستی بھی کرسکتا ہے یہی تو خدائی ہے اسی وجہ سے تو وہ سرب شکتی مان اور قادر مطلق اور غیرمتناہی قدرتوں کا مالک کہلاتا ہے۔ اگر اس کے کام بھی انسانی کاموں کی طرح محتاج باسباب و مواد و اوقات ضروریہ ہوں تو پھر وہ کاہے کا خدا ہوا اور اس کی خدائی کیونکر چل سکے۔ کیا اس کے تمام کام بالاتر از عقل نہیں ہیں؟ کیا اس کی عجائب قدرتیں ایسی نہیں ہیں کہ ان پر نظر ڈال کر عقل ناقص انسانی خیرہ رہ جاتی ہے؟ تو پھر کیسی جہالت ہے کہ جو بات اس کی خدائی کا مدار اور اس کی الوہیت کی حقیقت ہے اسی پر اعتراض کیا جائے۔ اگر اس قسم کے جاہلانہ وہم دل سے اٹھ نہیں سکتے تو پھر ایسے ناکارہ اور عاجز پرمیشر کو ماننا ہی کیا ضرورت ہے۔ اگر خدائے تعالیٰ کی قدرتوں کے باریک بھیدوں پر عقل انسانی محیط ہوسکتی تو گویا خدائی کی ساری کیفیت وُ کنہ معلوم ہوجاتی اگر عقلِ انسانی کی نظرِ ناقص کسی صفت ربانی کے اول آخر پر پھر جائے تو وہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 165
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 165
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/165/mode/1up

صفتؔ محدود ہوجائے گی اور صفت کا محدود ہونا ذات باری کے محدود ہونے کو مستلزم ہے۔ بھلا وہ خدا کیسا ہوا جس کی ساری قدرتوں پر ایک ذرّہ مخلوق محیط ہوجائے۔ اور ایسا پرمیشر کس بات کا پرمیشر ہے کہ اگر وہ کسی اپنے امر متخیّل کو کہے کہ ہوجا تو کچھ بھی نہ ہو۔ خدا تو اسی ذات عجیب القدرت کا نام ہے کہ جو اس کے ارادہ سے سب کچھ ہوجاتا ہے۔ جب وہ اپنے کسی امر مقصود کو کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ فی الفور اس کی قدرت کاملہ سے نقش وجود پکڑ جاتا ہے یہ راز نہایت دقیق معرفت کا نکتہ ہے کہ سب مخلوقات کلمات الٰہیہ ہیں۔ عیسائیوں نے جب اپنی نادانی سے یہ کہنا شروع کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کلمۃ اللہ ہیں یعنے ان کی روح کلمہ الٰہی ہے جو متشکل بروح ہوگئی ہے تو خدائے تعالیٰ نے اس کا یہ حقانی جواب دیا کہ کوئی بھی ایسی روح نہیں جو کلمۃ اللہ نہ ہو اور مجرد الٰہی حکم سے نہ نکلی ہو
قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّىْ
اسی کی طرف اشارہ ہے اور یہ بات جو کلمات اللہ بصورت ارواح و دیگر مخلوق جلوہ گر ہوجاتی ہیں یہ خالقیت کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے اور اسرار الٰہیہ میں سے ایک باریک نکتہ ہے جس کی طرف کسی انسانی عقل کو خیال نہیں آیا اور خدائے تعالیٰ کے پاک اور کامل کلام نے اس کو اپنے الٰہی نور سے منکشف کیا ہے اور اگر ایسا نہ مانا جائے تو خدائے تعالیٰ اپنے ہی کلمہ اور امر سے ارواح اور اجسام کو وجود پذیر کرلیتا ہے۔ تو پھر آخر یہ ماننا پڑے گا کہ جب تک باہر سے اجسام اور روحیں نہ آویں پرمیشر کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ مگر کیا ایسا کم بخت پرمیشر ہوسکتا ہے کہ جو درحقیقت اپنے گھر سے تو دیوالیہ اور مفلس اور تہیدست ہے لیکن کسی عارضی اتفاق سے اس کی خدائی کا دھندا چل رہا ہو۔ اگر پرمیشر ایسا ہی ہے تو سب امیدیں خاک میں مل گئیں اور ایسے پرمیشر پر بھروسہ کرنا بھی بڑا معرض خطر ہوگا۔
اور یہ کہنا کہ خدائے تعالیٰ کی وہی قدرت قابل تسلیم ہے جو ہماری سمجھ میں آجائے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس کا نام جہالت رکھیں یا تعصب یا دیوانگی۔ اگر خدائے تعالیٰ کی قدرتوں میں یہ بھی شرط ہے کہ انسان کے اندازۂ فہم سے زیادہ نہ ہوں تو بس پھر اس کی قدرتیں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 166
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 166
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/166/mode/1up

ہوچکیںؔ ۔ قدرت ربانی تو اسی کا نام ہے کہ عقل انسانی اس کے اسرار تک نہ پہنچ سکے۔ اگر ہم تم الٰہی قدرتوں کے تمام و کمال حقیقت پر احاطہ کرسکتے ہیں تو گویا ہم نے خدا پر ہی احاطہ کرلیا۔ اے عقل کے نو خریدارو آریو؟ تم کیوں بے فائدہ ان مسائل کے ساتھ سر ٹکراتے ہو جو تمہارے ذہن کی رسائی سے اونچے ہیں۔ ہم اگر عقلمند ہیں تو ہماری عقلمندی یہی ہے کہ ہم خدائے تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں صرف اتنا کریں کہ کلی طور پر اس بات کو تحقیق کرکے دیکھ لیں کہ آیا خدائے تعالیٰ کے ان کاموں پر نظر کرکے جو اب تک اس نے کئے ہیں اس بات کا ثبوت پایا جاتا ہے یا نہیں کہ اس کے عجائب کام اور اس کی غرائب قدرت ہماری عقول ناقصہ کے دائرہ سے باہر ہیں اور جس طور سے اس کی ربوبیت اور لایدرک طاقت نے صرف اوقات و حاجت انصار و آلات سے غنی اور بے نیاز ہوکر یہ عالم بنا ڈالا ہے اس طرف خیال دوڑانے سے ہماری عقلوں کے پر جلتے ہیں سو ہماری دانشوری یہی ہے کہ ہم اس کلی طور کی تحقیق سے سبق حاصل کرلیں اور جزئیات عالم کے ان پیچ درپیچ رازوں کو جو ہمارے اندازۂ عقل اور فہم سے بالاتر ہیں حل کرنے کے لئے اپنے تئیں ناپیدا کنار سمندر میں ڈال کر ہلاک نہ کریں۔
بعض اشخاص یہ کہا کرتے ہیں کہ اگر عقل ہماری اسرار قدرت کو (جو ماخذ علم و حکمت ہیں) سمجھ نہیں سکتی تو پھر وہ کس کام کی ہے اور جابجا ہم قدرت پر ہی ایمان لاکر اور فکر کو معطل چھوڑ کر علوم حکمیہ کیونکر حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ ان کو سمجھ کاپھیرلگاہوا ہے۔ تقریر مذکورہ بالا سے ہمارا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ بکلی تحقیق و تفتیش سے مونہہ پھیر کر ہر جگہ آمنّا و صدّقنا پر ہی کفایت کرنی چاہئے۔ اورنظر اور فکر کو کہیں اور کسی جگہ کام میں نہیں لانا چاہئے بلکہ ہمارا مطلب و مدعا یہ ہے کہ ایسے امور کی موشگافی اور تہ بینی کی امید سے اپنی عقلوں اور فکروں کو آوارہ مت کرو جو تمہاری بساط سے باہر ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ بہتیرے ایسے لوگ ہیں کہ ناجائز فکروں میں پڑکر اپنی اس معین اور مقرر وسعت سے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 167
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 167
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/167/mode/1up

جوؔ قدرت نے ان کو دے رکھی ہے باہر چلتے جاتے ہیں اور اپنی محدود عقل سے کل کائنات کے عمیق در عمیق رازوں کو حل کرنا چاہتے ہیں سو یہ افراط ہے جیسے بکلی تحقیق و تفتیش سے مونہہ پھیر لینا تفریط ہے اللہ جل شانہٗ فرماتا ہے
وَاقْصِدْ فِىْ مَشْيِكَ
ی اپنی چال میں توسط اختیار کر۔ نہ ایسا فکر کو منجمد کرلینا چاہئے کہ جو ہزارہا نکات و لطائف الٰہیات قابل دریافت ہیں ان کی تحصیل سے محروم رہ جائیں اور نہ اس قدر تیزی کرنی چاہئے کہ ان فکروں میں پڑجائیں کہ خدائے تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے اور یا اس نے اس قدر ارواح اور اجسام کس طرح بنالئے ہیں اور یا اس نے کیونکر اکیلا ہونے کی حالت میں اس قدر وسیع عالم بنا ڈالا ہے۔
اور اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ ارواح کا حادث اور مخلوق ہونا قرآن شریف میں بڑے بڑے قوی اور قطعی دلائل سے بیان کیا گیا ہے چنانچہ برعایت ایجاز و اجمال چند دلائل ان میں سے نمونہ کے طور پر اس جگہ لکھے جاتے ہیں۔
اول یہ بات بہ بداہت ثابت ہے کہ تمام روحیں ہمیشہ اور ہرحال میں خدائے تعالیٰ کی ماتحت اور زیر حکم ہیں اور بجز مخلوق ہونے کے اور کوئی وجہ موجود نہیں جس نے روحوں کو ایسے کامل طور پر خدائے تعالیٰ کی ماتحت اور زیر حکم کردیا ہو سو یہ روحوں کے حادث اور مخلوق ہونے پر اول دلیل ہے۔
دوم یہ بات بھی بہ بداہت ثابت ہے کہ تمام روحیں خاص خاص استعدادوں اور طاقتوں میں محدود اور محصور ہیں جیسا کہ بنی آدم کے اختلاف روحانی حالات و استعدادات پر نظر کرکے ثابت ہوتا ہے اور یہ تحدید ایک محدد کو چاہتی ہے جس سے ضرورت محدث کی ثابت ہوکر (جو محدد ہے) حدوث روحوں کا بہ پایۂ ثبوت پہنچتا ہے۔
سوم یہ بات بھی کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ تمام روحیں عجز و احتیاج کے داغ سے آلودہ ہیں اور اپنی تکمیل اور بقا کے لئے ایک ایسی ذات کی محتاج ہیں جو کامل اور قادر اور

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 168
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 168
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/168/mode/1up

عالمؔ اور فیاض مطلق ہو اور یہ امر ان کی مخلوقیت کو ثابت کرنے والا ہے۔
چہارم یہ بات بھی ایک ادنیٰ غور کرنے سے ظاہر ہوتی ہے کہ ہماری روحیں اجمالی طور پر ان سب متفرق الٰہی حکمتوں اور صنعتوں پر مشتمل ہیں جو اجرام علوی و سفلی میں پائے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا باعتبار اپنے جزئیات مختلفہ کے عالم تفصیلی ہے اور انسان عالم اجمالی کہلاتا ہے یا یوں کہو کہ یہ عالم صغیر اور وہ عالم کبیر ہے پس جبکہ ایک جزئی عالم کے بوجہ پائے جانے پرحکمت کاموں کے ایک صانع حکیم کی صنعت کہلاتی ہے تو خیال کرنا چاہئے کہ وہ چیز کیونکر صنعت الٰہی نہ ہوگی جس کا وجود اپنے عجائبات ذاتی کے رو سے گویا تمام جزئیات عالم کی عکسی تصویر ہے اور ہریک جزئی کے خواص عجیبہ اپنے اندر رکھتی ہے اور حکمت بالغہ ایزدی پر بوجہ اتمّ مشتمل ہے۔
ایسی چیز جو مظہر جمیع عجائبات صنعتِ الٰہی ہے مصنوع اور مخلوق ہونے سے باہر نہیں رہ سکتی بلکہ وہ سب چیزوں سے اول درجہ پر مصنوعیت کی مہر اپنے وجود پر رکھتی ہے اور سب سے زیادہ تر اور کامل تر صانع قدیم کے وجود پر دلالت کرتی ہے سو اس دلیل سے روحوں کی مخلوقیت صرف نظری طور پر ثابت نہیں بلکہ درحقیقت اجلی بدیہات ہے۔ ماسوا اس کے دوسری چیزوں کو اپنی مخلوقیت کا علم نہیں مگر روحیں فطرتی طور پر اپنی مخلوقیت کا علم رکھتی ہیں ایک جنگلی آدمی کی روح بھی اس بات پر راضی نہیں ہوسکتی کہ وہ خودبخود ہے اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ‌ؕ قَالُوْا بَلٰى‌
یعنے روحوں سے َ میں نے سوال کیا کہ کیا میں تمہارا رب (پیدا کنندہ) نہیں ہوں تو انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں یہ سوال وجواب حقیقت میں اس پیوند کی طرف اشارہ ہے جو مخلوق کو اپنے خالق سے قدرتی طور پر متحقق ہے جس کی شہادت روحوں کی فطرت میں نقش کی گئی ہے۔
پنجم جس طرح بیٹے میں باپ اور ماں کا کچھ کچھ حُلیہ اور خو بُو پائی جاتی ہے اسی طرح

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 169
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 169
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/169/mode/1up

روحیںؔ جو خدائے تعالیٰ کے ہاتھ سے نکلی ہیں اپنے صانع کی سیرت و خصلت سے اجمالی طور پر کچھ حصہ رکھتی ہیں اگرچہ مخلوقیت کی ظلمت و غفلت غالب ہوجانے کی وجہ سے بعض نفوس میں وہ رنگ الٰہی کچھ پھیکا سا ہوجاتا ہے لیکن اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ ہریک روح کسی قدر وہ رنگ اپنے اندر رکھتی ہے اور پھر بعض نفوس میں وہ رنگ بداستعمالی کی وجہ سے بدنما معلوم ہوتا ہے مگر یہ اس رنگ کا قصور نہیں بلکہ طریقہ استعمال کا قصور ہے۔ انسان کی اصلی قوتوں اور طاقتوں میں سے کوئی بھی بری قوت نہیں صرف بداستعمالی سے ایک نیک قوت بری معلوم ہونے لگتی ہے۔ اگر وہی قوت اپنے موقع پر استعمال کی جائے تو وہ سراسر نفع رسان اور خیر محض ہے اور حقیقت میں انسان کو جس قدر قوتیں دی گئی ہیں۔ وہ سب الٰہی قوتوں کے اظلال و آثار ہیں۔ جیسے بیٹے کی صورت میں کچھ کچھ باپ کے نقوش آجاتے ہیں ایسا ہی ہماری روحوں میں اپنے رب کے نقوش اور اس کی صفات کے آثار آگئے ہیں جن کو عارف لوگ خوب شناخت کرتے ہیں اور جیسے بیٹا جو باپ سے نکلا ہے اس سے ایک طبعی محبت رکھتا ہے نہ بناوٹی۔ اسی طرح ہم بھی جو اپنے رب سے نکلے ہیں اس سے فی الحقیقت طبعی محبت رکھتے ہیں نہ بناوٹی اور اگر ہماری روحوں کو اپنے رب سے یہ طبعی و فطرتی تعلق نہ ہوتا تو پھر سالکین کو اس تک پہنچنے کے لئے کوئی صورت اور سبیل نہ تھی سو اگرچہ دلائل مخلوقیت ارواح جن کو اللہ جل شانہٗ نے آپ قرآن شریف میں معقولی طور پر بیان کیا ہے اس کثرت سے ہیں کہ اگر وہ سب اس جگہ لکھے جائیں تو خود انہیں دلائل کی ایک بڑی کتاب ہوجائے گی مگر ہم بالفعل اسی قدر پر کفایت کرتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ طالب حق کے لئے اسی قدر کافی ہے۔
اب ہم اس جگہ ماسٹر صاحب کی خدمت میں بادب عرض کرتے ہیں کہ ہم نے روحوں کی مخلوقیت جس سے ان کی کیفیت بکلی ظاہر ہوتی ہے دلائل مندرجہ قرآن شریف کے رو سے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 170
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 170
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/170/mode/1up

بقدرؔ کفایت بیان کردی ہے اگر ماسٹر صاحب کا وید بھی کچھ علم الٰہی سے حصہ رکھتا ہے تو انہیں لازم ہے کہ اس وقت بمقابلہ قرآن شریف کے وید کے وہ دلائل عقلیہ پیش کریں جن کی رو سے غیر مخلوق اور غیر محدث ہونا روحوں کا ثابت ہوتا ہے بلکہ اس جگہ ہم مکرر گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ بہتر یوں ہے کہ ماسٹر صاحب بغرض مقابلہ و موازنہ فلسفہ وید و قرآن شریف ہم کو اجازت دیں کہ تاہم ایک علیحدہ رسالہ روحوں کی مخلوقیت اور ان کی خواص اور قوتوں اور طاقتوں کے بارے میں اور دیگر نکات اور لطائف علم روح کے متعلق اس شرط سے لکھیں کہ کسی بات اور کسی دلیل کے بیان کرنے میں بیانات قرآنی سے باہر نہ جائیں یعنے وہی دلائل و براہین مخلوقیت ارواح پیش کریں جو قرآن شریف نے آپ پیش کئے ہیں اور وہی دقائق و معارف علم روح لکھیں جو قرآن شریف نے خود لکھے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس ماسٹر صاحب بھی بمقابل ہمارے ایسا ہی کریں یعنے وہ بھی روحوں کی غیر مخلوقیت بدلائل عقلیہ ثابت کرنے اور علم روح کے بیان کرنے میں وید ہی کی شرتیوں کے پابند رہیں اور وہی دلائل وغیرہ تحریر میں لاویں جو وید نے پیش کئے ہیں اور ہم دونوں فریق صرف حوالہ آیت یا شرتی پر کفایت نہ کریں بلکہ اس آیت پر شرتی کو بتمامہ مع ترجمہ و پتہ و نشان وغیرہ تحریر بھی کردیں۔ اس طور کے مباحثہ و موازنہ سے غالب اور مغلوب میں صاف فرق کھل جائے گا اور جو ان دونوں میں سے حقیقت میں خدا کا کلام ہے وہ کامل طور پر ان باتوں میں عہدہ برا ہوگا اور اپنے حریف کو شکست فاش دے گا اور اس کی ذلت اور رسوائی ظاہر کرے گا۔ لیکن ہم بطور پیشگوئی یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ایسا مقابلہ وید سے ہونا ہرگز ممکن ہی نہیں کیونکہ وید اپنے بیانات میں سراسر غلطی پر ہے اور وہ بوجہ انسانی خیالات ہونے کے یہ طاقت اور قوت بھی نہیں رکھتا کہ خداوند علیم و حکیم کی پاک و کامل کلام کا مقابلہ کرسکے۔ ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ ہم نے علی التساوی یہ شرط پیش کی ہے یعنے اپنے نفس کے لئے اس طرز کے مقابلہ میں کوئی ایسا فائدہ مخصوص نہیں رکھا جس سے فریقِ ثانی منتفع نہ ہوسکتا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 171
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 171
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/171/mode/1up

ہوؔ پس اگر اب بھی ماسٹر صاحب کنارہ کرگئے تو کیا یہ اس بات پر دلیل کافی نہیں ہوگی کہ ان کا وید ان کمالات اور خوبیوں اور پاک سچائیوں سے بکلّی عاری اور خالی ہے۔
قولہ۔ مرزا صاحب اور سب اہل اسلام کا یہی اعتقاد ہے اور قرآن میں آیا ہے کہ جب آنحضرت (محمدؐ صاحب) سے لوگوں نے پوچھا کہ روح کیا چیز ہے تو آپ کچھ نہ بتلا سکے اور اس وقت آیت نازل ہوئی کہ اے محمدؐ کہہ دے کہ روح ایک امر ربی ہے سو مسلمانوں نے تو روح کو کیا سمجھا ہوگا خدا نے انکے ہادی پر بھی روح کی کیفیت ظاہر نہیں کی اور خدا کا بھی کیا جواب عمدہ ہے کہ روح امر ربی ہے کیا اور چیزیں امر ربی نہیں۔
اقول اس وقت ماسٹر صاحب کی خوبی فہم اور جلد بازی کا تصور کرکے مجھے ایک حکایت یاد آگئی ہے کہ ایک ایسا شخص کسی شہر میں تھا جو ہمیشہ چپ رہا کرتا تھا آخر اس کی خاموشی سے لوگ اس وہم میں پڑگئے کہ یہ کوئی بڑا فاضل اور دانشمند ہوگا۔ اسی خیال سے ایک جماعت کثیر اس کی خدمت میں حاضر رہنے لگی۔ ایک دن اس شخص نے اپنے دل میں سوچا کہ مجھے اپنی عقلمندی ظاہر کرنے کے لئے کچھ بولنا چاہئے سو جب اس نے دوچار باتیں ہی مونہہ سے نکالیں تو تمام لوگ سمجھ گئے کہ اگر اس شہر میں کوئی اور نادان بھی ہے تو اس سے بڑھ کر کبھی نہ ہوگا۔ تب اس کے اردگرد سے سب بھاگ گئے اور ساری جماعت متفرق ہوگئی اور وہ اکیلا رہ کر بہت دردمند ہوا۔ بڑی مصیبت سے ایک رات کاٹی صبح ہوتے ہی اس شہر سے کہیں کو چلا گیا اور جاتے وقت ایک دیوار پر لکھ گیا کہ اگر میں پہلے اپنی شکل کو آئینہ میں دیکھ لیتا تو نادانی سے اپنا پردہ فاش نہ کرتا۔
اسی طرح ماسٹر صاحب نے بھی اچھا نہیں کیا کہ لاعلمی اور ناواقفیت اور ناسمجھی کی حالت میں اعتراض کرنے کے لئے زبان کھولی۔ لالہ صاحب میں آپ کی غلطیوں کی کہاں تک اصلاح کرتا جاؤں آپ نے یہ کس سے سن لیا کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے علم روح نہیں دیا گیا تھا اور آپ نے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 172
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 172
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/172/mode/1up

قرآنؔ شریف میں کس جگہ اور کہاں دیکھ لیا کہ حضرت ممدوح روح کے علم سے بے خبر تھے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کو اپنی عقل ناتمام کی شامت سے اس آیت کے سمجھنے میں دھوکا لگا ہے جو قرآن شریف میں وارد ہے اور وہ یہ ہے
وَيَسْــَٔلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ‌ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّىْ وَمَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلاً‏
الجزو ۱۵ سورہ بنی اسرائیل اور کفار تجھ سے (اے محمد ؐ ) پوچھتے ہیں کہ روح کیا ہے اور کس چیز سے اور کیونکر پیدا ہوئی ہے۔ ان کو کہہ دے کہ روح میرے ربّ کے امر میں سے ہے اور تم کو اے کافر و علم روح اور علم اسرار الٰہی نہیں دیا گیا مگر کچھ تھوڑا سا۔ سو اس جگہ اے ماسٹر صاحب آپ کو اپنے نقصان فہم سے یہ غلطی لگی کہ آپ نے اس عبارت کا مخاطب (کہ تم کو علم روح نہیں دیا گیا) آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو سمجھ لیا حالانکہ لفظ مَا اُوْتِیْتُمْ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم کو نہیں دیا گیا جمع کا صیغہ ہے جو صاف دلالت کررہا ہے جو اس آیت کے مخاطب کفار ہیں کیونکہ ان آیات میں جمع کے صیغہ سے کسی جگہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ و سلم کو خطاب نہیں کیا گیا بلکہ جابجا واحد کے صیغہ سے خطاب کیا گیا ہے اور جمع کے صیغہ سے کفار کی جماعت کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایسا سوال کرتے ہیں سو اگر کوئی نرا اندھا نہ ہو تو سمجھ سکتا ہے کہ ان دونوں آیتوں میں دو جمع کے صیغے وارد ہیں۔ اول یَسْءَلُوْنَ یعنی سوال کرتے ہیں۔ دوم مَا اُوْتِیْتُمْ یعنے تم نہیں دیئے گئے اور جیسا کہ ظاہر ہے کہ یَسْءَلُوْنَ کے صیغہ جمع سے مراد کافر ہیں جنہوں نے روح کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا تھا۔ ایسا ہی ظاہر ہے کہ مَا اُوْتِیْتُمْ کے صیغہ جمع سے بھی مراد کافر ہی ہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو تو کسی جگہ جمع کے صیغہ سے خطاب نہیں کیا گیا بلکہ اول مجرد کاف سے جو واحد پر دلالت کرتا ہے خطاب کیا گیا یعنے یہ کہا گیا کہ تجھ سے کفار پوچھتے ہیں یہ نہیں کہا گیا کہ تم سے کفار پوچھتے ہیں۔ پھر بعد اس کے ایسا ہی لفظ واحد سے فرمایا کہ ان کو کہہ دے یہ نہیں فرمایا کہ ان کو کہہ دو برخلاف بیان حال کفار کے کہ ان کو دونوں موقعوں پر جمع کے صیغے سے بیان کیا ہے سو آیت کے سیدھے سیدھے معنے جو سیاق سباق کلام سے سمجھے جاتے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 173
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 173
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/173/mode/1up

ہیںؔ اور صاف صاف عبارت سے نکلتے ہیں یہی ہیں کہ اے محمدؐ کفار تجھ سے روح کی کیفیت پوچھتے ہیں کہ روح کیا چیز ہے اور کس چیز سے پیدا ہوئی ہے سو ان کو کہہ دے کہ روح امر ربی ہے یعنے عالم امر میں سے ہے اور تم اے کافرو کیا جانو کہ روح کیا چیز ہے کیونکہ علم روح حاصل کرنے کے لئے ایماندار اور عارف باللہ ہونا ضروری ہے مگر ان باتوں میں سے تم میں کوئی بھی بات نہیں۔
اب ہریک منصف سمجھ سکتا ہے کہ نادانی اور شتاب کاری کی آمیزش سے کیا کیا ندامتیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ غور کرنا چاہئے کہ ان آیات شریفہ متذکرہ بالا کا کیسا مطلب صاف صاف تھا کہ کفار کی ایک جماعت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے روح کے بارے میں سوال کیا کہ روح کیا چیز ہے تب ایسی جماعت کو جیسا کہ صورت موجودہ تھی بصیغہ جمع مخاطب کرکے جواب دیا گیا کہ روح عالم امر میں سے ہے یعنے کلمۃ اللہ یا ظل کلمہ ہے جو بحکمت و قدرت الٰہی روح کی شکل پر وجود پذیر ہوگیا ہے اور اس کو خدائی سے کچھ حصہ نہیں بلکہ وہ درحقیقت حادث اور بندہ خدا ہے اور یہ قدرت ربانی کا ایک بھید دقیق ہے۔ جس کو تم اے کافرو سمجھ نہیں سکتے۔ * مگر کچھ تھوڑا سا جس کی وجہ سے تم مکلف بایمان ہو۔
یہ ایک سرِ ربوبیت ہے جو کلمات اللہ سے مخلوقات الٰہی پیدا ہوجاتی ہے اس کو اپنی اپنی سمجھ کے موافق ہریک شخص ذہن نشین کرسکتا ہے چاہے اس طرح سمجھ لے کہ مخلوقات کلمات الٰہی کے اظلال و آثار ہیں یا ایسا سمجھ سکتا ہے کہ خود کلمات الٰہی ہی ہیں جو بقدرت الٰہی مخلوقیت کے رنگ میں آجاتے ہیں کلام الٰہی کی عبارت ان دونوں معنے کے سمجھنے کے لئے وسیع ہے اور بعض مواضع قرآن کی ظاہر عبارت میں مخلوقات کا نام کلمات اللہ رکھا گیا ہے جو تجلیات ربوبیت ہے بقدرت الٰہی لوازم و خواص جدیدہ حاصل کرکے حدوث کے کامل رنگ سے رنگین ہوگئے ہیں اور درحقیقت یہ ایک سر ان اسرار خالقیت میں سے ہے جو عقل کے چرخ پر چڑھا کر اچھی طرح سمجھ میں نہیں آسکتے اور عوام

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 174
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 174
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/174/mode/1up

تمہاؔ ری عقلیں بھی دریافت کرسکتی ہیں۔ اس کھلے کھلے مطلب کے سمجھنے میں ماسٹر صاحب نے کتنی بڑی غلطی کھائی ہے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ گویا یہ خطاب لاعلمی کیفیت روح کا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف ہے لاحول ولا قوۃ پتھر پڑیں ایسی سمجھ پرکاش ماسٹر صاحب نے کچھ تھوڑی سی عربی پڑھی ہوتی یا کچھ تھوڑا سا قاعدہ نحو صرف کا ہی دیکھا ہوتا اے صاحب ذرا آنکھ کھول کر دیکھو کہ روح کی کیفیت پوچھنے والے کون لوگ تھے۔ وہ تو آپ کے ہی بھائی بند یعنے منکرین دین اسلام تھے انہیں کو تو یہ جواب دیا گیا تھا کہ روح عالم امر میں سے ہے اور تم ان الٰہی بھیدوں کو اے کافرو کیا جانو ایمان لاؤ تا تمہیں روح کی کیفیت اور اس کے علوم معلوم ہوں اور یہ جو خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ روح عالم امر میں سے ہے جس پر ماسٹر صاحب نے اپنی خوش فہمی سے جھٹ پٹ اعتراض بھی کردیا یہ ایک بڑی بھاری صداقت کا بیان ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ ربوبیتِ الٰہی دو طور سے ناپیدا چیزوں کو پیدا کرتی ہے اور
کےؔ لئے سیدھا راہ سمجھنے کا یہی ہے کہ خدائے تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کرنا چاہا وہ ہوگیا اور سب کچھ اسی کا پیدا کردہ اور اسی کی مخلوق اور اسی کے دست قدرت سے نکلا ہواہے۔ لیکن عارفوں پر کشفی طور سے بعد مجاہدات یہ کیفیت حدوث کھل جاتی ہے اور نظر کشفی میں کچھ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام ارواح و اجسام کلمات اللہ ہی ہیں۔ جو حکمت کاملہ الٰہی پیرایہ حدوث و مخلوقیت سے متلبس ہوگئے ہیں مگر اصل محکم جس پر قدم مارنا اور قائم رہنا ضروری ہے یہ ہے کہ ان کشفیات و معقولات سے قدر مشترک لیا جائے یعنے یہ کہ خدائے تعالیٰ ہریک چیز کا خالق اور محدث ہے اور کوئی چیز کیا ارواح اور کیا اجسام بغیر اس کے ظہور پذیر نہیں ہوئی اور نہ ہوسکتی ہے کیونکہ کلام الٰہی کی عبارت اس جگہ درحقیقت ذوالوجوہ ہے اور جس قدر قطع اور یقین کے طور پر قرآن شریف ہدایت کرتا ہے وہ یہی ہے کہ ہریک چیز خدائے تعالیٰ سے ظہور پذیر و وجود پذیر

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 175
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 175
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/175/mode/1up

دونوںؔ طور کے پیدا کرنے میں پیدا شدہ چیزوں کے الگ الگ نام رکھے جاتے ہیں۔ جب خدائے تعالیٰ کسی چیز کو اس طور سے پیدا کرے کہ پہلے اس چیز کا کچھ بھی وجود نہ ہو تو ایسے پیدا کرنے کا نام اصطلاح قرآنی میں امر ہے اور اگر ایسے طور سے کسی چیز کو پیدا کرے کہ پہلے وہ چیز کسی اور صورت میں اپنا وجود رکھتی ہو تو اس طرز پیدائش کا نام خلق ہے خلاصہ کلام یہ کہ بسیط چیز کا عدم محض سے پیدا کرنا عالم امر میں سے ہے اور مرکب چیز کو کسی شکل یا
ہوئیؔ ہے اور کوئی چیز بغیر اس کے پیدا نہیں ہوئی اور نہ خودبخود ہے سو اس قدر اعتقاد ابتدائی حالت کے لئے کافی ہے پھر آگے معرفت کے میدانوں میں سیر کرنا جس کو نصیب ہوگا اس پر بعد مجاہدات خود وہ کیفیت کھل جائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا
یعنی جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کریں گے ہم ان کو وہ اپنی خاص راہیںآپ دکھلا ویں گے جو مجرد عقل اور قیاس سے سمجھ میں نہیں آسکتیں اور درحقیقت خدائے تعالیٰ نے اپنے عجیب عالم کو تین حصہ پر منقسم کررکھا ہے۔
(۱) عالم ظاہر جو آنکھوں اور کانوں اور دیگر حواس ظاہری کے ذریعہ اور آلات خارجی کے توسل سے محسوس ہوسکتا ہے۔
(۲) عالم باطن جو عقل اور قیاس کے ذریعہ سے سمجھ میں آسکتا ہے۔
(۳) عالم باطن در باطن جو ایسا نازک اور لایدرک وفوق الخیالات عالم ہے جو تھوڑے ہیں جو اس سے خبر رکھتے ہیں وہ عالم غیب محض ہے جس تک پہنچنے کے لئے عقلوں کو طاقت نہیں دی گئی مگر ظن محض۔ اور اس عالم پر کشف اور وحی اور الہام کے ذریعہ سے اطلاع ملتی ہے نہ اور کسی ذریعہ سے اور جیسی عادت اللہ بدیہی طور پر ثابت اور متحقق ہے کہ اس نے ان دو پہلے عالموں کے دریافت کرنے کے لئے جن کا اوپر ذکر ہوچکا ہے انسان کو طرح طرح کے حواس و قوتیں عنایت کی ہیں۔ اسی طرح اس

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 176
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 176
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/176/mode/1up

ہیئتؔ خاص سے متشکل کرنا عالم خلق سے ہے جیسے اللہ تعالیٰ دوسرے مقام میں قرآن شریف میں فرماتا ہے
اَلَا لَـهُ الْخَـلْقُ وَالْاَمْرُ‌ؕ
یعنے بسائط کا عدم محض سے پیدا کرنا اور مرکبات کو ظہور خاص میں لانا دونوں خدا کا فعل ہیں اور بسیط اور مرکب دونوں خدائے تعالیٰ کی پیدائش ہے اب ماسٹر صاحب!دیکھا کہ یہ کیسی اعلیٰ اور عمدہ صداقت ہے جس کو ایک مختصر آیت اور چند معدود لفظوں میں خدائے تعالیٰ نے ادا کردیا۔ اس کے مقابلہ پر اگر آپ وید کے عقیدہ کو
تیسرؔ ے عالم کے دریافت کرنے کے لئے بھی اس فیّاضِ مطلق نے انسان کے لئے ایک ذریعہ رکھا ہے اور وہ ذریعہ وحی اور الہام اور کشف ہے جو کسی زمانہ میں بکلّی بند اور موقوف نہیں رہ سکتا بلکہ اس کے شرائط بجالانے والے ہمیشہ اس کو پاتے رہے ہیں اور ہمیشہ پاتے رہیں گے۔ چونکہ انسان ترقیات غیر محدودہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور خدائے تعالیٰ بھی عیب بخل و امساک سے بکلّی پاک ہے۔ پس اس قوی دلیل سے ایسا خیال بڑا ناپاک خیال ہے جو یہ سمجھا جائے جو خدائے تعالیٰ نے انسان کے دل میں تینوں عالموں کے اسرار معلوم کرنے کا شوق ڈال کر پھر تیسرے عالم کے وسائل وصول سے بکلّی اس کو محروم رکھا ہے۔ پس یہ وہ دلیل ہے جس سے دانشمند لوگ دائمی طور پر الہام اور کشف کی ضرورت کو یقین کرلیتے ہیں اور آریوں کی طرح چار رشیوں پر الہام کو ختم نہیں کرتے جن کی مانند کوئی پانچواں اس کمال تک پہنچنا ان کی نظر عجیب میں ممکن ہی نہیں بلکہ عقلمند لوگ خدائے تعالیٰ کے فیاض مطلق ہونے پر ایمان لاکر الہامی دروازوں کو ہمیشہ کھلا سمجھتے ہیں اور کسی ولایت اور ملک سے اس کو مخصوص نہیں رکھتے ہاں اس صراط مستقیم سے مخصوص رکھتے ہیں جس پر ٹھیک ٹھیک چلنے سے یہ برکات حاصل ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہریک چیز کے حصول کے لئے یہ لازم پڑا ہوا ہے کہ انہیں قواعد

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 177
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 177
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/177/mode/1up

سوچیںؔ تو جتنا شرمندہ ہوں اتنا ہی تھوڑا ہے اسی وجہ سے تو ہم نے آپ کو ایک خاموش درویش کا قصہ سنایا اگر آپ ایسے ایسے فضول اور خام شبہات کے پیش کرنے سے زبان بند رکھتے تو ہمیں آپ کی حیثیت علمی پر وہ شک نہ پڑتا جواب پڑ گیا ہے۔ بالآخر ہم یہ بھی لکھا چاہتے ہیں کہ اگر ماسٹر صاحب کے دل میں یہ خیال ہے کہ قرآن شریف میں علم روح بیان نہیں کیا گیا اور وید میں بیان کیا گیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو کیفیت روح سے
اور ؔ طریقوں پر عمل کیا جائے جن کی پابندی سے وہ چیز مل سکتی ہے۔ غرض عقلمند لوگ عالم کشف کے عجائبات سے انکار نہیں کرتے بلکہ انہیں ماننا پڑتا ہے کہ جس جوادِ مطلق نے عالم اول کے ادنیٰ ادنیٰ امور کے دریافت کرنے کے لئے انسان کو حواس و طاقتیں عنایت کی ہیں وہ تیسرے عالم کے معظم اور عالی شان امور کے دریافت سے جس سے حقیقی اور کامل تعلق خدائے تعالیٰ سے پیدا ہوتا ہے اور سچی اور یقینی معرفت حاصل ہوکر اسی دنیا میں انوار نجات نمایاں ہوجاتے ہیں کیوں انسان کو محروم رکھتا بے شک یہ طریق بھی دوسرے دونوں طریقوں کی طرح کھلا ہوا ہے اور صادق لوگ بڑے زور سے اس پر قدم مارتے ہیں اور اس کو پاتے ہیں اور اس کے ثمرات حاصل کرتے ہیں عجائبات اس عالم ثالث کے بے انتہا ہیں اور اس کے مقابل پر دوسرے عالم ایسے ہیں جیسے آفتاب کے مقابل پر ایک دانہ خشخاش۔ اس بات پر زور لگانا کہ اس عالم کے اسرار عقلی طاقت سے بکلّی منکشف ہوجائیں یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک انسان آنکھوں کو بند کرکے مثلاً اس بات پر زور لگائے کہ وہ قابل رویت چیزوں کو قوت شامہ کے ذریعہ سے دیکھ لے بلکہ عجائبات عالم باطن درباطن سے عقل ایسی حیران ہے کہ کچھ دم نہیں مارسکتی کہ یہ کیا بھید ہے۔ روحوں کی پیدائش

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 178
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 178
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/178/mode/1up

کچھؔ خبر نہ تھی مگر وید کے چاروں رشیوں کو خبر تھی تو اس بات کا تصفیہ نہایت سہل اور آسان ہے اور وہ یہ ہے کہ ماسٹر صاحب مقابلہ کرنے کے عہد پر ہم کو اجازت دیں تاہم علم روح کو جو قرآن شریف میں لکھا ہے جس سے معرفت کاملہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم و کمالیت قرآن شریف ثابت ہوتی ہے ایک مستقل رسالہ میں مرتب کرکے بحوالہ آیات قرآنی شائع کردیں اور جب یہ رسالہ ہماری طرف سے چھپ کرشائع ہوجائے تو اس وقت ماسٹر صاحب
پر ؔ انسان کیوں تعجب کرے اسی دنیا میں صاحبِ کشف پر ایسے ایسے اسرار ظاہر ہوتے ہیں کہ ان کیُ کنہ کو سمجھنے میں بکلی عقل عاجز رہ جاتی ہے۔ بعض اوقات صاحب کشف صدہا کوسوں کے فاصلہ سے باوجود حائل ہونے بے شمار حجابوں کے ایک چیز کو صاف صاف دیکھ لیتا ہے بلکہ بعض اوقات عین بیداری میں باذنہ ٖ تعالیٰ اس کی آواز بھی سن لیتا ہے اور اس سے زیادہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض اوقات وہ شخص بھی اس کی آواز سن لیتا ہے جس کی صورت اس پر منکشف ہوئی ہے۔ بعض اوقات صاحبِ کشف اپنے عالمِ کشف میں جو بیداری سے نہایت مشابہ ہے ارواح گزشتہ سے ملاقات کرتا ہے اور عام طور پر ملاقات ہریک نیک بخت روح یا بدبخت روح کے کشف قبور کے طور پر ہوسکتی ہے چنانچہ خود اس میں مؤلف رسالہ ہذا صاحب تجربہ ہے اور یہ امر ہندوؤں کے مسئلہ تناسخ کی بیخ کنی کرنے والا ہے اور سب سے تعجب کا یہ مقام ہے کہ بعض اوقات صاحب کشف اپنی توجہ اور قوت تاثیر سے ایک دوسرے شخص پر باوجود صدہا کوسوں کے فاصلہ کے باذنہ ٖ تعالیٰ عالم بیداری میں ظاہر ہوجاتا ہے حالانکہ اس کا وجود عنصری اپنے مقام سے جنبش نہیں کرتا اور عقل کے زور سے ایک چیز کا دو جگہ ہونا محال ہے سو وہ محال اس عالم ثالث میں ممکن الوقوع ہوجاتا ہے اسی طرح صدہا عجائبات کو عارف

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 179
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 179
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/179/mode/1up

پر وؔ اجب و لازم ہوگا کہ اس کے مقابل پر ویدؔ کی شرتیوں کے ساتھ ایک رسالہ مرتب کریں، جس میں روح کے بارے میں وید کی فلاسفی بیان کی گئی ہے کہ وہ کیونکر غیر مخلوق اور خدا کی طرح قدیم اور خدا سے الگ چلی آتی ہے اور اس کے خواص کیا کیا ہیں مگر ہم دونوں فریقوں پر لازم ہوگا کہ اپنی اپنی کتاب سے باہر نہ جائیں اور کوئی خود تراشیدہ خیال پیش نہ کریں۔ بلکہ وہی بات پیش کریں جو اپنی کتاب الہامی نے پیش کی ہے اور اس آیت یا شرتی کو بہ پتہ
بچشمؔ خود دیکھتا ہے اور ان کور باطنوں کے انکار سے تعجب پر تعجب کرتا ہے۔ جو اس عالم ثالث کے عجائبات سے قطعاً منکر ہیں۔ راقم رسالہ ہذا نے اس عالم ثالث کے عجائبات اور نادر مکاشفات کو قریب پانچ ہزار کے بچشم خود دیکھا اور اپنے ذاتی تجربہ سے مشاہدہ کیا اور اپنے نفس پر انہیں وارد ہوتے پایا ہے۔ اگر ان سب کی تفصیل لکھی جائے تو ایک بڑی بھاری کتاب تالیف ہوسکتی ہے۔ ان سب عجائبات میں سے ایک بڑی عجیب بات یہ ثابت ہوئی ہے کہ بعض کشفی امور جن کا خارج میں نام و نشان نہیں محض قدرت غیبی سے وجود خارجی پکڑ لیتے ہیں اگرچہ صاحبِ فتوحات و فصوص و دیگر اکثر اکابر متصوفین نے اس بارے میں بہت سے اپنے خود گذشت قصے اپنی تالیفات میں لکھے ہیں لیکن چونکہ دید و شنید میں فرق ہے اس لئے مجرد ان قصوں کی سماعت سے ہم کو وہ کیفیت یقینی حاصل نہیں ہوسکتی تھی۔ جو اپنے ذاتی مشاہدہ سے حاصل ہوئی۔ ایک مرتبہ مجھے یاد ہے کہ میں نے عالم کشف میں دیکھا کہ بعض احکام قضاء و قدر میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں کہ آئندہ زمانہ میں ایسا ہوگا اور پھر اس کو دستخط کرانے کے لئے خداوند قادر مطلق جل شانہ‘ کے سامنے پیش کیا ہے (اور یاد رکھنا چاہئے کہ مکاشفات اور رویا صالحہ میں اکثر

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 180
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 180
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/180/mode/1up

خاصؔ معہ ترجمہ لکھ بھی دیں تاکہ ناظرین رائے لگاسکیں کہ آیا وہ بات اس سے نکلتی ہے یا نہیں۔ سو اگر اس شرط سے ماسٹر صاحب مقابلہ کر دکھائیں یا کوئی اور شخص جو آریوں کے ممتاز علماء میں سے ہو تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو خواہ ماسٹر صاحب ہوں یا منشی اندرمن صاحب مراد آبادی یا منشی جیونداس صاحب سیکرٹری آریہ سماج لاہور یا کوئی اور صاحب جو اس گروہ میں مسلم العلم ہوں سو روپیہ نقد انعام دوں گا اور یہ روپیہ
ایسا ؔ ہوتا ہے کہ بعض صفات جمالیہ یا جلالیہ الٰہیہ انسان کی شکل پر متمثّلہوکر صاحبِ کشف کو نظر آجاتے ہیں اور مجازی طور پر وہ یہی خیال کرتا ہے کہ وہی خداوند قادر مطلق ہے اور یہ امر ارباب کشوف میں شائع و متعارف و معلوم الحقیقت ہے جس سے کوئی صاحب کشف انکار نہیں کرسکتا) غرض وہی صفت جمالی جو بعالم کشف قوت متخیّلہ کے آگے ایسی دکھلائی دی تھی جو خداوند قادر مطلق ہے اس ذات بے چون و بے چگون کے آگے وہ کتاب قضاء وقدر پیش کی گئی اور اس نے جو ایک حاکم کی شکل پر متمثل تھا اپنے قلم کو سرخی کی دوات میں ڈبو کر اول اس سرخی کو اس عاجز کی طرف چھڑکا اور بقیہ سرخی کا قلم کے مونہہ میں رہ گیا اس سے اس کتاب پر دستخط کردیئے اور ساتھ ہی وہ حالت کشفیہ دور ہوگئی اور آنکھ کھول جب خارج میں دیکھا تو کئی قطرات سرخی کے تازہ بہ تازہ کپڑوں پرپڑے چنانچہ ایک صاحب عبداللہ نام جو سنور ریاست پٹیالہ کے رہنے والے تھے اور اس وقت اس عاجز کے پاس نزدیک ہوکر بیٹھے ہوئے تھے دو یا تین قطرہ سرخی کے ان کی ٹوپی پر پڑے۔ پس وہ سرخی جو ایک امر کشفی تھا وجود خارجی پکڑ کر نظر آگئی۔ اسی طرح اور کئی مکاشفات میں جن کا لکھنا موجب تطویل ہے مشاہدہ کیا گیا ہے اور اپنے ذاتی تجارب سے ثابت ہوگیا جو بلاشبہ امور کشفیہ کبھی کبھی باذنہ ٖ تعالیٰ وجود خارجی پکڑتے ہیں یہ امور عقل

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 181
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 181
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/181/mode/1up

فریق ؔ مخالف کی تسلی خاطر کے لئے پہلے ہی کسی فاضل برہمو صاحب کے پاس جیسے بابو نوبین چندر رائے صاحب و پنڈت شیونارائن صاحب اگنی ہوتری ہیں بطور امانت جمع کرایا جائے گا اور انہیں اختیار ہوگا کہ اگر وہ اپنی رائے میں دیکھیں کہ حقیقت میں آریہ صاحب نے وید کا مقابلہ کر دکھایا تو خودبخود بغیر اجازت ایں جانب وہ روپیہ اس آریہ صاحب کے حوالہ کردیں۔ لیکن اگر اس مضمون کو پڑھ کر پھر بھی ماسٹر صاحب یا ان کے کوئی دوسرے
کےؔ ذریعہ سے ہرگز ذہن نشین نہیں ہوسکتے بلکہ جو شخص عقل کے گھمنڈ اور غرور میں پھنسا ہوا ہے وہ ایسی باتوں کو سنتا ہے نہایت تکبر سے کہے گا کہ یہ سراسر محال اور خیال باطل ہے اور ایسا کہنے والا یا تو دروغگو ہے یا دیوانہ یا اس کو سادہ لوحی کی وجہ سے دھوکا لگا ہے اور بہ باعث نقصان تحقیق بات کی تہ تک پہنچنے سے محروم رہ گیا ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ ان عقلمندوں کو کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ وہ امور جن کی صداقت پر ہزارہا عارف و راستباز اپنے ذاتی تجارب سے شہادتیں دے گئے ہیں۔ اور اب بھی دیتے ہیں اور صحبت گزین پر ثابت کردینے کے لئے بفضلہ تعالیٰ اپنی ذمہ داری لیتے ہیں کیا وہ ایسے خفیف امور ہیں جو صرف منکرانہ زبان ہلانے سے باطل ہوسکتے ہیں اور حق بات تو یہ ہے کہ عالم کشف کے عجائبات تو ایک طرف رہے جو عالم عقل ہے یعنے جس عالم تک عقل کی رسائی ہونا ممکن ہے اس عالم کا بھی ابھی تک عقل نے تصفیہ نہیں کیا اور لاکھوں اسرار الٰہی پردہ غیب میں دبے پڑے ہیں۔ جن کی عقلمندوں کو ہوا تک نہیں پہنچی۔ ایک فصلی مکھی جو پلید اور ناپاک زخموں پر بیٹھتی ہے اور اکثر گدھے یا بیل وغیرہ جو زخمی اور مجروح ہوں ان کو ستاتی ہے اس کے اس عجیب خاصہ پر کوئی فلسفی دلیل عقلی نہیں بتلا سکتا کہ وہ اکثر برسات میں تکون کے طور پر پیدا ہوجاتی ہے اور اس کی اولاد صرف کیڑے ہوتے ہیں کہ جو ایک ایک

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 182
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 182
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/182/mode/1up

باعلمؔ بھائی خاموش رہے اور مجھ کو بوعدہ مقابلہ ایسے رسالہ کی تالیف کے لئے تحریک نہ کی تو پھر تمام ناظرین کو سمجھنا چاہئے کہ ان کی سب آوازیں طبل تہی ہیں اور صادقوں کے طریق پر وہ چلنا چاہتے ہی نہیں۔ بھلا یہ کیا اوباشانہ طریق ہے اوّل خدائے تعالیٰ کی پاک کلام اور اس کے کامل نبی کی نسبت ہتک اور توہین کے کلمات مونہہ پر لائیں اور جب مقابلہ وید و قرآن کے لئے کہا جائے تو پھر ایسے چپ ہوں کہ گویا دنیا سے کوچ کرگئے۔ ناظرین
سیکنڈؔ میں دس دس بیس بیس تیس تیس اس کے اندر سے نکلتے جاتے ہیں کیا یہ عقل کے برخلاف ہے یا نہیں کہ مادہ اورَ نر دونوں نوع واحد میں داخل ہوں اور ان کے بچے ایسے ہوں کہ اس نوع سے بکلّی خارج ہوں۔ ایسا ہی اگر چھپکلی کو (جس کو پنجاب میں کرلی کہتے ہیں) درمیان سے کاٹا جائے تو اس کا نیچے اور اوپر کا دھڑ دونوں الگ الگ تڑپتے ہیں اور مضطربانہ حرکت کرتے ہیں اگر بقول پنڈت دیانند صاحب روح بھی جسم کی قسم ہے تو اس سے ضرور لازم آتا ہے کہ روح دو ٹکڑے ہوگیا ہو اور اگر روح کو جسم اور جسمانی ہونے سے منزہ خیال کریں اور اس کا تعلق جسم سے ایسا ہی مجہول الکیفیت و برتر از عقل و فہم خیال کریں جیسے روح کا حدوث برتر از عقل و فہم ہے تو پھر البتہ کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ ہاں پنڈت دیانند کا مذہب جڑھ سے اکھڑتا ہے۔ اسی طرح عقلمندوں کی عقل ناقص کی تراش و خراش پر بہت اعتراض اٹھتے ہیں اور ان کو آخرکار نہایت شرمساری سے مونہہ کے َ بل گرنا پڑتا ہے اور پھر انجام کار بہت خوار اور ذلیل ہوکر اسی بات کا اقرار کرتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کی بے انتہا عجیب و غریب قدرتوں کا احاطہ کرنا انسان کا کام نہیں۔
ہرچہ دانا کند کند نادان لیک بعد از کمال رسوائی
منہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 183
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 183
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/183/mode/1up

سوچ ؔ لیں کہ اس سے بڑھ کر اور کیا صفائی کی بات ہوگی کہ ہم مغلوب ہونے کی حالت میں سو روپیہ نقد دینا وعدہ کرتے ہیں اور غالب ہونے کی حالت میں ہم کچھ بھی نہیں مانگتے صرف یہ امید رکھتے ہیں کہ کوئی روح بے راہی کے طریق سے نادم ہوکر سچائی کا طریق اختیار کرے۔ سو اب ہم منتظر رہیں گے کہ کب لالہ مرلیدھر صاحب یا ان کے کوئی اور آریہ بھائی جو اپنی قوم میں امتیاز علمی رکھتے ہوں ایسی درخواست کریں گے۔
تا سیہ روئے شود ہرکہ دروغش باشد۔
قولہ۔ اسی طرح اسلام نے مادہ کی کیفیت کو بھی نہیں سمجھا اور نہ مادی دنیا کو ہی معلوم کیا کہ زمین و سورج و چاند وغیرہ کیا بستو ہیں زمین جو کہ کرہ ہے اس کی حقیقت اور گردش و کشش وغیرہ جو ہے ان سب کے خلاف ہے سارے مسائل اسلام کے ہیں۔
اقول۔ آپ اس خیال پُر اختلال میں بھی سراسر غلطی پر ہیں اور یہ آپ کا قول بالکل جھوٹ اور افترا یا بے خبری یا بے علمی کا تقاضا ہے جو آپ تعلیم قرآنی کی نسبت ایسا خیال کررہے ہیں بلکہ تعلیم قرآنی میں جیسی واقعی اور حقانی طور پر کیفیت روح اور اس کے خواص بیان کئے گئے ہیں ایسا ہی زمین و سورج و چاند وغیرہ مادی اشیا کی نسبت قرآن شریف میں صحیح صحیح اور واقعی بیان مندرج ہے اور ایسے بلند و عمیق اسرار طبعی و ہیئت و طبابت و دیگر لطائف فلسفہ اس میں پائے جاتے ہیں جن کی طرف کسی حکیم یا فلسفی کا ذہن سبقت نہیں لے گیا۔ اگر آپ اس میں بھی کچھ آزمائش کرنا چاہیں تو حسب تحریک آپ کے ہم ایک ہی رسالہ میں جیسا کہ قول گزشتہ میں ہم وعدہ کرچکے ہیں بمراد مقابلہ وید و قرآن یہ دونوں طور کے مسائل یعنی مسائل علم روح و مسائل علم اشیائے مادی قرآن شریف سے لے کر بیان کرسکتے ہیں مگر اسی شرط متذکرہ بالا کے رو سے یعنے یہ کہ جس طرح ہم اپنے بیان میں قرآن شریف سے باہر نہ جائیں ایسا ہی بمقابل ہمارے آپ بھی کردکھائیں اور آپ یاد رکھیں کہ آپ کی ساری باتیں فضول اور نری دعویٰ ہی دعویٰ ہیں۔ ورنہ وید تو خالق اور مخلوق میں بھی فرق نہیں کرسکا پھر دوسری صداقتیں کیا بیان کرے گا ایک وید کا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 184
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 184
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/184/mode/1up

دعویٰؔ تناسخ ہی دیکھیں یعنی جونوں کا مسئلہ کہ کس قدر مخالف طبعی و طبابت و ہیئت ہے بموجب قرارداد ویدؔ کے جو لوگ نہایت درجہ کے ذلیل گناہ کرتے ہیں وہ کیڑے مکوڑے اور حشرات الارض بنتے ہیں اور انسان کی جون انہیں کو ملتی ہے جن کا گناہ کچھ خفیف ہو۔ اب ایک محقق عقلمند سوچ سکتا ہے کہ اگر یہ بات صحیح ہوتی تو اس سے لازم آتا کہ کیڑوں مکوڑوں کا کثرت سے پیدا ہونا ہمیشہ کثرت گناہوں کے تابع ہو حالانکہ یہ بات بہ بداہت نظر سراسر باطل معلوم ہوتی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ کا قانون قدرت صاف صاف یہی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر کیڑے مکوڑے اور مینڈکیں اور چھوٹے چھوٹے َ پردار اور دوسرے جانور موسم برسات میں ہی پیدا ہوتے ہیں تو کیا اب یہ خیال ہوسکتا ہے کہ ہمیشہ خلقت خدا کی برسات کے دنوں میں ہی کثرت سے گناہ کرتی ہے کسی اور دنوں میں نہیں کرتی۔ دیکھو یہ عقیدہ کس قدر علم طبعی کے برخلاف ہے۔ ایسا ہی جمیع اطباء کی تحقیقات سے اکثری طور پر یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مرد اور عورت کی دو منیوں کے ملنے سے لڑکا لڑکی پیدا ہوتا ہے مگر دیانند صاحب فرماتے ہیں کہ وید کے رو سے صرف عورت کا نطفہ موجب حمل ہوجاتا ہے اور روح شبنم کی طرح کسی بوٹی پر گرتی ہے اس کو کوئی عورت کھا کر حاملہ ہوجاتی ہے دیکھو یہ کس قدر منافی مسائل طبابت ہے۔ ایسا ہی وید میں یہ بھی لکھا ہے کہ اندر نے ایک رشی کی لڑکی کو حمل کردیا بلکہ آپ ہی اس کے پیٹ سے پیدا ہوگیا۔ آپ لوگوں کے بزرگ یہ بھی لکھ گئے ہیں کہ بعض رشی کان کی راہ سے بعض مونہہ کی راہ سے بعض کسی اور دوسرے حیوان کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہیں ایسا ہی آپ کا وید بہت سے ایسے خواص چاند اور سورج کی طرف منسوب کرتا ہے جن کی زمانہ حال کی نئی تحقیق نے صاف صاف بکمال ثبوت تکذیب کی ہے۔ اگر ہم اس وقت وید سے نقل کرکے جو ہمارے سامنے رکھا ہے ان سب باتوں کو جو خلاف مسائل ثابت شدہ طبعی و طبابت و ہیئت اس میں بھری پڑی ہیں لکھیں تو یہ رسالہ ایک بڑی کتاب ہوجائے گی اس لئے بالفعل ہم ان تمام امور کو اس مستقل رسالہ پر موقوف رکھتے ہیں۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 185
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 185
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/185/mode/1up

جسؔ کا ہم بشرائط متذکرہ بالا وعدہ کرچکے ہیں۔
قولہ۔ آج تک مسلمانوں کو چاند وغیرہ کی حقیقت معلوم نہیں کہ کب نکلتا ہے اور کب چھپتا ہے ایک عید ہی آتی ہے تو سب مسلمان ُ شبہ میں پڑجاتے ہیں کہ چاند کون سے دن نکلتا ہے۔
اقول۔ بھلا غنیمت ہے کہ چاند وغیرہ کی حقیقت آپ لوگوں نے تو اچھی طرح سمجھ لی ہے۔ اے ماسٹر صاحب میں نہیں جانتا کہ اس قسم کی بیہودہ اور بے اصل باتوں سے آپ کا مطلب کیا ہے۔ اگر اس نکتہ چینی سے آپ کا مدعا یہ ہے کہ عوام مسلمانوں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ علوم طبعی و ہیئت سے بے خبر ہیں تو میں کہتا ہوں کہ اس وصف کے عوام الناس کس قوم میں نہیں پائے جاتے بلکہ ہندوؤں کے عوام پر تو گویا سادہ لوحی وہم پرستی عجائب پرستی ختم ہے ابھی کسی اخبار میں لکھا تھا کہ ایک ہندو صاحب نے ریل کو دیکھ کر جھک کر اسے سجدہ کیا کہ تیرا دھن بل ہے تو ماتا دیوی ہے کیا ان لوگوں کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ ان کو بھی طبعی یا فلاسفی کی بو پہنچی ہے بھلا آپ ہی فرمائیے کہ ایسے خیالات کے مالک قریب قریب حیوانات کے ہیں یا نہیں۔ کیا جو لوگ آفتاب اور ماہتاب سے لے کر زمین کے تمام عناصر بلکہ پتھروں اور بوٹیوں تک بھی پرستش کرتے ہیں ان کو اس فلسفہ حقہ پر کچھ اطلاع ہے کہ یہ سب چیزیں مخلوق اور ایک صانع قادر کے قبضۂ قدرت میں ہیں نہ کسی کو نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ کچھ نقصان کرسکتی ہیں ایسا ہی جابجا آریہ صاحبوں کے عوام کیا بلکہ خواص بھی علوم فلسفیہ سے بکلّی بے خبر اور غافل محض پائے جاتے ہیں۔ دیکھو ایک طرف آریہ لوگوں کی فلاسفی یہ بتلاتی ہے کہ گائے جو ایک حیوان ہے مسئلہ اواگون کے رو سے کسی زمانہ میں برہمن کی قوم میں سے یعنی ایک برہمنی تھی اور پھر کسی پلید اور بُرے کام کے ارتکاب سے بعض کہتے ہیں کہ زنا کے باعث سے سزایاب ہوکر گائے کی جون میں آئی۔ اور پھر دوسری طرف دیکھو کہ اسی مجرمہ فاسقہ عورت کے ہندوؤں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 186
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 186
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/186/mode/1up

کےؔ خیالات میں کس قدر تعظیم و تکریم جمی ہوئی ہے کہ گویا اسی کی دم پکڑ کر پار ہوجانا ہے۔ یاں تک اس کی بزرگی تسلیم کی جاتی ہے کہ اس کے عوض میں کسی انسان کا خون کرنا ان کے نزدیک کچھ بھی گناہ نہیں بلکہ ثواب کی بات ہے اگرچہ ایسی ایسی حرکات کبھی کبھی اب بھی ہندو لوگ شوخی کی راہ سے کر بیٹھتے ہیں چنانچہ کوکوں کا بمقام امرتسر کئی قصابوں کو بے رحمی سے قتل کرنا ایک ایسا تازہ واقعہ ہے جس میں کچھ زیادہ مدت نہیں گزری لیکن سکھوں کے عہد حکومت میں تو بڑے زور وشور سے بحکم حکام ایسی وارداتیں ہوتی تھیں۔ سکھوں کے دور حکومت پنجاب میں پچاس برس کے اندر اندر شروع بھی ہوا اور ختم بھی ہوگیا اس زمانہ کی تحریروں اور واقف کاروں کے بیانات تائیدی سے یہ ُ پردرد ماجرا معلوم ہوتا ہے کہ اس حیوان کے کسی اتفاقی زخم لگ جانے پر یا کبھی کبھی کسی فاقہ کش کے ہاتھ سے ذبح کئے جانے پر چار ہزار سے کچھ زیادہ مسلمان متفرق مقامات اور دفعات میں زمانہ عملداری سکھوں میں نہایت دردانگیز اور بے رحمی کے طریقوں سے قتل کئے گئے اور جلائے گئے اور پھانسی دیئے گئے اور اس سکھاں شاہی میں ہمیشہ اس منحوس جانور کی حمایت میں ہندوؤں سے ایسی ایسی ہی ظالمانہ حرکتیں ہوتی رہیں یاں تک کہ آخر مظلوموں کی فریاد جناب الٰہی میں سنی گئی اور اس جانور اور اس کے حامیوں پر منعم حقیقی کا غضب بھڑکا اور اس نے عنانِ حکومت ہمیشہ کے لئے ہریک زمان و مکان سے ان کے ہاتھ سے چھین لی اور ایک ایسی مہذب قوم کو ابر رحمت کی طرح دور سے لایا جس میں انسان اور حیوان میں فرق کرنے کی لیاقتیں موجود تھیں اور جس کو قابلیت رعیت پروری و مُلک داری و قدر شناسی اشرف المخلوقات حاصل تھی اس قومِ فاتح اور قا بلِ شکر (یعنی گورنمنٹ برطانیہ) کی حکومت پنجاب میں قائم ہونے سے سب مسلمان اس عذاب سے رہائی پاگئے کہ جو بنی اسرائیل کی طرح ایک مدت مدید سے سکھوں اور ہندوؤں کے ہاتھ سے اٹھاتے تھے اور وہ ہزارہا شریف انسانوں کے خون جو اس ایک حیوان کے عوض میں اس پر ظلم

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 187
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 187
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/187/mode/1up

حکومتؔ میں بہائے گئے تھے اسی طرح ان ظالم سرداروں کا نام و نشان بھی نہ رہا اور آخر ان کے خونوں سے بھی زمین سرخ ہوگئی اور گائے پر بھی جو کچھ بہ غضب الٰہی وارد ہوا اور اب تک ہمیشہ کے لئے وارد ہورہا ہے اس کے بیان کرنے کی تو کچھ حاجت ہی نہیں۔ تادل مردان حق نامد بدرد 228ہیچ قومے را خدا رسوا نہ کرد۔ اب دیکھو کہ ایک لایعقل حیوان کو انسان سے بہتر جاننا اور پہلے آپ ہی اس حیوان کو ایک فاسقہ عورت کی بگڑی ہوئی جون قرار دینا اور پھر اس کی ایسی عزت کرنا کہ اس کے ادنیٰ زخم پر ہزارہا انسانوں کے خون کرنے کو تیار ہوجانا یہ کس قسم کی فلاسفی ہے۔ اگر تلاش کرو تو تمام دنیا میں ایسا وحشیانہ جوش ایک حیوان کے لئے کسی قوم میں ہرگز پایا نہیں جائے گا جیسا کہ ہندوؤں کو گائے کے لئے ہے۔ بعض متعصب برہمنوں کو یہ بھی کہتے سنا ہے کہ اصل میں گائے کا جرم تو خفیف ہی تھا مگر پرمیشر نے اس کوکسی مصلحت سے سخت سزا دے دی۔ شاید یہ پردہ پوشی اور پرمیشر کو ظالم ٹھہرانا اس خیال سے ہے کہ ان کے مجنونانہ زعم میں گائے دراصل انہیں کی بہن یعنے برہمنی ہے اور برہمن ویدوں کے رو سے ایک ایسی چیدہ قوم ہے کہ کئی قسم کے گناہ بھی ان کو معاف ہیں اور اگر کوئی شودرہوکر برہمن کی نسبت کوئی ُ برا لفظ کہے تو منوسمرت میں لکھا ہے کہ اس کی زبان چھیدنی چاہئے اور اگر ہندوؤں میں سے بجز برہمن کسی دوسری قوم کا آدمی بے اولاد ہو تو شاستروں کا حکم ہے کہ اپنی عورت کو برہمن کے پاس بھیج دے اور وہ اس سے ہم صحبت ہوکر اس کے حاملہ ہوجانے کا فکر کرے گا۔ ایسا ہی قریب بتیس کے عجیب عجیب حقوق برہمنوں کے ہیں جن کو شاستروں نے کھیوٹ بندوبست کی طرح برہمنوں کے لئے قائم کررکھا ہے چنانچہ منو شاستر اور دوسرے شاستروں کے پڑھنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور برہمنوں کا دعویٰ ہے کہ یہ سب باتیں وید سے لی گئیں ہیں اور وید میں درج ہیں اور باوا نانک صاحب تو سب پورانوں اور شاستروں کو وید کی طرح ایشر کرت ہی یعنی خدا کا کلام ہی جانتے ہیں جیسا کہ وہ اپنے گرنتھ میں لکھتے ہیں۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 188
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 188
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/188/mode/1up

قدرتؔ بید پور ان کتیباں قدرت سرب بچار۔ یعنے بیدپوران شاستر سب خدا کا کلام ہی ہے سو وہ لوگ جو سکھ ہوکر آریہ سماج میں داخل ہیں اور دو دو ہاتھ کے برابر کیس سرپر رکھے ہوئے ہیں ان پر تو واجب ہے کہ اپنے گورونانک صاحب کے شبد پر عمل کرکے سب پورانوں کو ایشر کا کلام ہی سمجھیں۔ غرض جب منوسمرت اور پرانوں کے رو سے ایسی عزت اور ایسے حقوق برہمن کو حاصل ہیں تو پھر درحقیقت ہندوؤں کے پرمیشر نے بہت بے جا کام کیا کہ ایک برہمنی کو ایک ادنیٰ گناہ سے سخت سزا دے دی۔ درحقیقت ایسی سخت سزا دینے سے پرمیشر کی عدالت پر بڑا دھبہ لگتا ہے کہ اس نے ایسی سنگین اور سخت سزا دی کہ غریب برہمنی کو اپنی اصلی صورت سے مسخ کرکے قیدیوں کی طرح سخت اور خود غرض لوگوں کے حوالہ کردیا۔ جن میں سے کوئی تو اس کے بچہ کو بھوکا چھوڑ کر اس کا دودھ پی جاتا ہے اور کوئی اس کی ہڈیوں اور چمڑہ کے فکر میں رہتا ہے اور کوئی اس کے بچوں پر جوَ ا رکھ کر دن رات ان کی جان کو مارتا ہے اور کوئی باربرداری سے ان کو ریش اور مجروح کرتا ہے غرض کوئی کسی طرح سے اور کوئی کسی طرح سے ان پر ظلم کرتا ہے۔ یاں تک کہ خود آریہ لوگ بھی اس پر رحم نہیں کرتے اور غلاموں کی طرح اس کی خرید اور فروخت جاری رکھتے ہیں اور ہمیشہ قید رکھ کر سختی پر سختی کرتے رہتے ہیں۔ سو اگر گائے کے ان پُر درد واقعات کو بمقابل جنگلی چرندوں اور پرندوں کے دیکھا جائے یا دریا کے جانوروں کے مقابل پر وزن کیا جائے تو حقیقت میں صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پرمیشر نے گائے کو بڑی سخت سزا دی ہے اور اگر یہ کہو کہ پرمیشر نے اس لئے یہ سخت سزا دی کہ تا آئندہ کوئی برہمنی ایسا ُ برا کام نہ کرے تو یہ جواب بھی پوچ ہے کیونکہ اگر پرمیشر کا یہی مطلب ہوتا تو گائے کو انسان کی طرح زبان گویائی دیتا تا وہ برہمنوں کے گھر جاکر اپنی بہنوں کو سمجھاتی کہ اے بہنو! میرا حال دیکھو اگر تم ایسا کروگی تو تم بھی ایسا ہی پاؤگی یا ایسا کرتا کہ پھر جب کبھی گائے آدمی کی جون میں آجاتی تو وہ تمام مصیبتیں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 189
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 189
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/189/mode/1up

گائےؔ بننے اور دکھ درد اٹھانے کی اس کو یاد دلادیتا تا وہ پھر کبھی ایسا ُ برا کام نہ کرتے۔ سو جبکہ پرمیشر نے ایسی سخت سزا تو دی مگر کبھی ایک دفعہ ایسا نہ کیا کہ گائے کو زبان گویائی دیتا یا اسے آدمی کی جون میں آنے کے بعد اس پہلی پُرمصیبت جون کی اطلاع کردیتا تو یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ اب تک گائے کی جون کا انسداد نہیں ہوا بلکہ اس گناہ کے نامعلوم رہنے کی وجہ سے اس حیوان کی نسل نے ایسی ترقی کی ہے کہ کروڑہا گائیں زمین پر پھیل گئی ہیں۔ اگر پرمیشر سے یہ بدانتظامی ظہور میں نہ آتی تو اس نابکار حیوان کی اس قدر ترقی کیوں ہوتی بلکہ گائیوں کا زمین پر نام و نشان نہ رہتا۔ مگر اب بھی اس منحوس جون کے کاٹنے کے لئے ایک عمدہ تجویز خیال میں گزرتی ہے اگر آریہ صاحبان اس کو پسند کرلیں تو ان کی کوشش سے یہ لائق رحم برہمنی اس منحوس جون سےََ مَخلصی پاسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ پنجاب اور ہندوستان کی تمام گائیوں اور بیلوں کو ایک ہی جگہ اکٹھا کرکے ایک ہی دفعہ کسی تدبیر سے اس جہان فانی سے زاویہ عدم میں بھیجا جاوے اگر پھر بھی ہندوؤں کا پرمیشر کسی برہمنی کو ایسی سخت سزا دینے کی جرأت کرے تو اس کے ہم ذمہ وار ہیں بشرطیکہ کسی اور ملک سے کوئی جوڑہ بیل اور گائے کا جدید طور پر نسل جاری کرنے کے لئے منگوایا نہ جاوے کیونکہ اگر آریہ صاحبان ایسا کریں تو گویا پھر خود ان کی مرضی ہے کہ اس منحوس جون سے کبھی برہمنوں کو نجات نہ ملے۔ غرض ہم نے ایک نسخہ بتا دیا ہے آئندہ اس کا کرنا نہ کرنا آریہ صاحبوں کے اختیار میں ہے۔
اب ذرا عقلمند آریوں کو شرمندہ ہونا چاہئے کہ ان کے وید کی فلاسفی نے کس درجہ کے مجنونانہ خیالات تک ان کو پہنچا دیا ہے کیا وید ودیا کی یہی تعلیم ہے کہ اول ایک حیوان کو بلا دلیل و حجت ایک فاسقہ عورت قرار دینا اور پھر اسی پلید اور نابکار جانور کے دودھ پینے کے لئے رغبت دلانا۔ اے بھائیو آریو خدا تمہیں سمجھ اور ہدایت بخشے تمہیں ذرّہ غیظ اور غضب کو الگ کرکے سوچنا چاہئے اور عالمانہ اعتراض کا عالمانہ جواب دینا چاہئے کہ اگر حقیقت

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 190
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 190
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/190/mode/1up

میںؔ گائے ایک نابکار اور سزا یافتہ عورت ہے تو یہ کیا بات ہے کہ اس کو متبرک اور قابل تعظیم سمجھا جائے بلکہ اس کی شکل دیکھنے سے بیزار ہونا چاہئے اور ڈرنا چاہئے اور دور سے توبہ توبہ کرنا چاہئے نہ یہ کہ اس کو بابرکت خیال کرکے صبح اٹھ کر پہلے اسی کا درشن کریں اور مرنے کے وقت وہی برہمن کو بھی سنکلپ کرکے دی جائے اور اگر کسی آدم زاد کے ہاتھ سے اتفاقاً ایک ادنیٰ زخم بھی اس کو پہنچ جائے تو جب تک اس آدمی کے ٹکڑہ ٹکڑہ نہ کرلیں صبر نہ آوے کیا آپ کے وید کا یہی فلسفہ ہے کیا وید ودیا اسی کا نام ہے کیا اسی مشیخت سے مسلمانوں کے عوام پر آپ نے اعتراض کیا ہے کہ سورج اور چاند کی انہیں کیفیت معلوم نہیں بھلا آپ ایماناً بتلاویں کہ قانون انصاف کا جاننا اور سمجھنا زیادہ تر مقدم ہے یا چاند اور سورج کا۔ آپ کے وید کے مسائل ایسے ہیں کہ انہوں نے نہ آپ کے پرمیشر کی کچھ عزت بحال رکھی اور نہ انسان اور حیوان کا فرق قائم رکھا اور نہ قانون انصاف میں سے آپ کو کوئی حرف پڑھایا۔ جہاں دیکھو بے انصافی ہے جس طرف نظر ڈالو ناحق پرستی پائی جاتی ہے اول خدائے تعالیٰ کو خالق اور رحیم اور کریم ہونے سے جواب دیا پھر اس کے بندوں کو ہمیشہ کی نجات سے محروم رکھا الہام کو خواہ نخواہ چار رشیوں میں محدود کردیا الہامی کتاب کا نازل ہونا اسے آریہ دیس کا حق ٹھہرایا گیا۔ سنسکرت پرمیشر کی زبان مقرر کی گئی تمام مجاہدین اور عابدین کو خواہ وہ کیسے اخلاص سے ہی عبادت و بندگی کریں ان چار وید کے رشیوں کی طرح ملہم اور عارف باللہ ہونے سے ہمیشہ کیلئے جواب دیا گیا کیا یہ باتیں قانون انصاف سے نکلی ہیں۔ کیا ان تعلیموں کا بانی مبانی منصف مزاج کہلا سکتا ہے۔ کیا کسی عقلمند کے نزدیک یہ بات شانِ فیاضی الٰہی سے مناسبت رکھتی ہے کہ وہ ہمیشہ کے لئے اپنی نبوت اور الہام یابی کا آریہ دیس کے چار رشیوں کو ہی ٹھیکہ دے رکھے اور باقی تمام بندگان خدا اس کے وسیع اور آباد ملکوں کے ہمیشہ کے لئے اس سے محروم رہیں سو جس کتاب نے قانون انصاف یہ بتلایا ہے اس سے دوسری صداقتوں کی کیا امید رکھیں تمام عارفوں کے نزدیک سورج چاند

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 191
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 191
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/191/mode/1up

اورؔ دوسرے اجرام و اجسام کی شناخت سے اصلی غرض یہ ہے کہ تا ان مصنوعات پر غور کرنے سے صانع حقیقی کی طرف خیال رجوع کرجائے لیکن جس مذہب میں خدائے تعالیٰ کو صانع کامل ہونے سے ہی جواب دیا گیا اگر اس مذہب میں کوئی شخص طبعی اور ہیئت یا دوسرے علوم سے کسی قدر بہرہ بھی حاصل کرلے تو اسے کیا فائدہ حاصل ہوگا۔ یہ برکات قرآنِ شریف میں ہی ہیں کہ اس نے ان تمام علوم طبعی و طبابت وہیئت وغیرہ سے خداشناسی کے لئے خدمت لی ہے سو حقیقت میں یہ علوم مسلمانوں کے کام آتے ہیں نہ آریوں کے جنہوں نے خدا کو ہی خدائی سے جواب دے رکھا ہے۔
اب ہم پھر اصل کلام کی طرف رجوع کرکے کہتے ہیں کہ اب تک ہم نے ماسٹر مرلی دھر صاحب کے قول کی رد میں صرف عوام مسلمانوں کے مقابل پر عوام ہنود کے خیالات علمی کو بغرض مقابلہ و موازنہ پیش کیا ہے لیکن اگر ماسٹر صاحب کا اپنی نکتہ چینی سے یہ مطلب ہے کہ عموماً کل مسلمان علوم طبعی و ہیئت سے بے بہرہ ہیں اور یہ سب علوم ہندوؤں کی وراثت ہے تو اس چھیڑ چھاڑ سے اور بھی ماسٹر صاحب کو شرمندہ ہونا پڑے گا۔ اہل اسلام وہ قوم ہے جن کو جابجا قرآن میں یہی رغبت دی گئی ہے کہ وہ فکر اور خوض میں مشق کریں اور جو کچھ عجائبات صنعت زمین وآسمان میں بھرے پڑے ہیں ان سے واقفیت حاصل کریں۔ مومنوں کی تعریف میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے۔
يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِيَامًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِىْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‌ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا
یعنی مومن وہ لوگ ہیں جو خدائے تعالیٰ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے بستروں پر لیٹے ہوئے یاد کرتے ہیں اور جو کچھ زمین و آسمان میں عجائب صنعتیں موجود ہیں ان میں فکر اورغور کرتے رہتے ہیں اور جب لطائف صنعت الٰہی ان پر کھلتے ہیں تو کہتے ہیں کہ خدایا تو نے ان صنعتوں کو بیکار پیدا نہیں کیا یعنے وہ لوگ جو مومن خاص ہیں صنعت شناسی اور ہیئت دانی سے دنیا پرست لوگوں کی طرح صرف اتنی ہی غرض نہیں رکھتے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 192
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 192
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/192/mode/1up

کہؔ مثلاً اسی پر کفایت کریں کہ زمین کی شکل یہ ہے اور اس کا قطر اس قدر ہے اور اس کی کشش کی کیفیت یہ ہے اور آفتاب اور ماہتاب اور ستاروں سے اس کو اس قسم کے تعلقات ہیں بلکہ وہ صنعت کی کمالیت شناخت کرنے کے بعد اور اس کے خواص کھلنے کے پیچھے صانع کی طرف رجوع کرجاتے ہیں اور اپنے ایمان کو مضبوط کرتے ہیں اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے۔
يُؤْتِىْ الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَآءُ‌‌ ۚ وَمَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِىَ خَيْرًا كَثِيْرًا‌
یعنے خدائے تعالیٰ جس کو چاہتا ہے حکمت دیتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی۔ پس دیکھنا چاہئے کہ ان آیات میں مسلمانوں کو کس قدر علم و حکمت حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور حدیث شریف میں بھی آیا ہے طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ وَّ مُسْلِمَۃٍ یعنی علم کا طلب کرنا ہریک مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے ہاں یہ سچ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے احکام دین سہل و آسان کرنے کی غرض سے عوام الناس کو صاف اور سیدھا راہ بتلایا ہے اور ناحق کی دقتوں اور پیچیدہ باتوں میں نہیں ڈالا مثلاً روزہ رکھنے کیلئے یہ حکم نہیں دیا کہ تم جب تک قواعد ظنیہ نجوم کے رو سے یہ معلوم نہ کرو کہ چاند انتیس کا ہوگا یا تیس کا۔ تب تک رویت کا ہرگز اعتبار نہ کرو اور آنکھیں بند رکھو کیونکہ ظاہر ہے کہ خواہ نخواہ اعمال دقیقہ نجوم کو عوام الناس کے گلے کا ہار بنانا یہ ناحق کا حرج اور تکلیف مالایطاق ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ایسے حسابوں کے لگانے میں بہت سی غلطیاں واقع ہوتی رہتی ہیں سو یہ بڑی سیدھی بات اور عوام کے مناسب حال ہے کہ وہ لوگ محتاج منجم و ہیئت دان نہ رہیں اور چاند کے معلوم کرنے میں کہ کس تاریخ نکلتا ہے اپنی رویت پر مدار رکھیں صرف علمی طور پر اتنا سمجھ رکھیں کہ تیس کے عدد سے تجاوز نہ کریں اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حقیقت میں عندالعقل رویت کو قیاساتِ ریاضیہ پر فوقیت ہے۔ آخر حکمائے یورپ نے بھی جب رویت کو زیادہ تر معتبر سمجھا تو اس نیک خیال کی وجہ سے بتائید قوت باصرہ طرح طرح کے آلات دوربینی و خوردبینی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 193
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 193
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/193/mode/1up

ایجادؔ کئے اور بذریعہ رویت تھوڑے ہی دنوں میں اجرام علوی و سفلی کے متعلق وہ صداقتیں معلوم کرلیں کہ جو ہندوؤں بیچاروں کو اپنی قیاسی اٹکلوں سے ہزاروں برسوں میں بھی معلوم نہیں ہوئی تھیں اب آپ نے دیکھا کہ رویت میں کیا کیا برکتیں ہیں انہیں برکتوں کی بنیاد ڈالنے کے لئے خدائے تعالیٰ نے رویت کی ترغیب دی ذرہ سوچ کرکے دیکھ لو کہ اگر اہل یورپ بھی رویت کو ہندوؤں کی طرح ایک ناچیز اور بے سود خیال کرکے اور صرف قیاسی حسابوں پر جو کسی اندھیری کوٹھڑی میں بیٹھ کر لکھے گئے مدار رکھتے تو کیونکر یہ تازہ اور جدید معلومات چاند اور سورج اور نئے نئے ستاروں کی نسبت انہیں معلوم ہوجاتے سو مکرر ہم لکھتے ہیں کہ ذرا آنکھ کھول کر دیکھو کہ رویت میں کیا کیا برکات ہیں اور انجام کار کیا کیا نیک نتائج اس سے نکلتے ہیں۔
ماسوائے اس کے خود یہ خیال کہ اہل اسلام تحصیل علوم طبعی و ہیئت وغیرہ سے بکلی بے بہرہ چلے آتے ہیں ایسا متعصبانہ خیال ہے جس سے اگر ماسٹر صاحب ذرا انصاف پر آویں تو انہیں بہت شرمندہ اور نادم ہوجانا چاہئے ہمیں اس جگہ کچھ ضرورت نہیں کہ بات کو طول دے کر اہل اسلام کے علمی فضائل کا ثبوت دیں بلکہ اس مقام میں ہم صرف ان چند سطروں کا لکھنا مناسب سمجھتے ہیں جو اف جون دیون بورٹ صاحب۱؂ نے اپنی کتاب میں جس کا ترجمہ ہوکر مؤید الاسلام نام رکھا گیا ہے لکھیں ہیں سو وہ یہ ہیں۔
صفحہ ۹۲ سے تا صفحہ ۹۸ عبارت کتاب جان بورٹ صاحب
مشم۲؂ صاحب کا قول ہے کہ مُؤرّ خان معتبر کے نزدیک یہ بات قرار پاگئی ہے کہ دسویں صدی میں یورپ غایت درجہ کی جہالت میں پڑا ہوا تھا اور یہ بات یقینی ہے کہ اس زمانہ میں اہل عرب (یعنی اہل اسلام نے) ملک ہسپانیہ اور اٹلی میں بہت سے مدرسے جاری کئے تھے اور ان مدرسوں میں ہزاروں طلباء عیسائی عربی فارسی اور حکمت کی تعلیم پاتے تھے اور پھر ان علوم کو مدارس اسلام سے لاکر عیسائی مدرسوں میں جاری کرتے تھے۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 194
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 194
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/194/mode/1up

ہمیںؔ اس بات کا اقرار کرنا چاہئے کہ تمام قسم کے علم یعنی طب و طبعیات و فلسفہ و ریاضی جو دسویں صدی سے یورپ میں جاری ہوئے ہیں یہ سب اصل میں اہل عرب مسلمانوں کے فلسفی مدارس سے سیکھے گئے تھے خصوصاً ہسپانیہ کے اہل اسلام بانی فلسفہ یورپ خیال کئے جاتے ہیں اہل اسلام کو علمی ترقی بھی ایسی ہی جلدی حاصل ہوئی جیسے ان کو ملکوں پر فتحیں حاصل ہوئی تھیں۔ سول سے اصفہان تک اہل عرب کا علم بہت جلد پھیل گیا اور بغداد اور کوفہ اور قاہرہ اور بصرہ اور فیز۱؂اور مراکو اور گوردووا اور گریندا اور وین شیا۲؂ اور سول۳؂ میں اہل عرب کی حکمت نے بہت جلد رواج پایا۔ حقیقت میں اہل عرب مسلمانوں نے تمام علوم کو نئے سرے ترقی دی اور یوناؔ ن اور روماؔ کے علوم میں دوبارہ جان ڈالی۔ نویں صدی سے چودھویں صدی تک عربؔ کے علم و فضل سے یہ نور حاصل ہوتا رہا اور اہل یورپ کو تاریکی جہالت سے روشنی علم و عقل میں لایا۔ اگر آٹھواں خلیفہ عبدالرحمن ہسپانیہ میں مدرسے اور مکتب خانے جاری نہ کرتا تو ہمیں بے شک اہلِ عرب کے علم و فضل سے مطلق فائدہ نہ ہوتا کیونکہ بغداد اور بخارا اور بصرہ کے مدارس بہت مشہور تھے مگر وہ اس قدر دور تھے کہ طلباء یورپ کو واں جانے میں بہت دقت پڑتی تھی۔ مذہب اسلام اپنی ترقی کے زمانہ میں ہی نہیں بلکہ اپنی ابتدائی حالت میں ہی اور مذہبوں کی نسبت علم کی طرف بہت مائل تھا۔ آ نحضرت نے خود فرمایا ہے کہ جس آدمی میں علم نہ ہو وہ قالب بے روح ہے۔ یہ تمام عبارت جان بورٹ صاحب کی ہے جس کو ہم نے ماسٹر صاحب اور ان کے دوستوں کے ملاحظہ کے لئے اس جگہ تحریر کیا ہے اس سے منصفین کو ایک محکم شہادت ملتی ہے کہ اہل اسلام ایک علم دوست قوم ہے جن کی فطرت و خمیر میں علم چلا آتا ہے اور جن کی شاگردی کے اہل یورپ باوصف ہمہ فضائل علمی اقراری ہیں پھر دیکھنا چاہئے کہ یہی صاحب دیون بورٹ اپنے رسالہ مذکورہ کے صفحہ ۷۲ سے صفحہ ۸۳ تک قرآن شریف کی بدیں الفاظ تعریف و مدح کرتے ہیں۔ چنانچہ اصل عبارت ان کی لکھی جاتی ہے اور وہ یہ ہے۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 195
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 195
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/195/mode/1up

مسلمانؔ قرآن شریف کی ایسی عظمت کرتے ہیں کہ عیسائیوں نے اپنی انجیل کی کبھی ایسی تکریم ہوتے نہیں دیکھی قرآن شریف میں صرف احکام مذہبی و تہذیب اخلاق ہی کا ذکر نہیں بلکہ گبن صاحب کا قول ہے کہ اوقیانوس سے گنگا تک قرآن شریف مجموعہ قوانین مانا جاتا ہے۔ قرآن میں قوانین دیوانی و فوجداری و سلوک باہمی پائے جاتے ہیں اور وہ مسائل نجات روح و حقوق عامہ و حقوقِ شخصی و نفع رسانی خلائق وغیرہ پر حاوی ہے منجملہ محاسن و خوبیوں قرآن کے جس پر اہل اسلام کو ناز کرنا بجا ہے دو باتیں نہایت عمدہ ہیں اوّل قرآن شریف کی وہ خوش بیانی جس میں خدائے تعالیٰ کا ذکر ہے اور جس کے سننے سے آدمی کے دل پر ایک طرح کا اثر پیدا ہوتا اور خوف آتا ہے۔ دوسرؔ ے قرآن تمام ان خیالات سے مبرا ہے جو خلاف تہذیب خیال کئے جاسکتے ہیں اور اس کے تمام اصول ایسے ہیں جو کوئی ان میں سے خلاف عقل نہیں مگر افسوس کہ یہ عیب یہودیوں کی مقدس کتابوں میں اکثر واقعہ ہیں۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کے اصول میں سب کو اتفاق ہے اور کوئی ایسی بات نہیں جو زبردستی مان لینی پڑے اور سمجھ میں نہ آوے فقط۔
یہ بیان قرآن شریف کی نسبت تو جان بورٹ صاحب۱؂ کا ہے اور ایسا ہی کارلل صاحب۲؂ اپنی کتاب کی جلد ۶ صفحہ ۲۱۴ میں لکھتے ہیں کہ قرآن شریف کے پڑھنے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ صادق کا کلام ہے اور صداقت سے ُ پر ہے۔ اب دیکھئے کہ یوروپ کے بڑے بڑے فلاسفر جن کے گھر میں گویا آج طبعی اور ہیئت نے جنم لیا ہوا ہے اور جو سورج اور چاند وغیرہ کی کیفیت آپ لوگوں سے بہتر جانتے اور سمجھتے ہیں وہ کس قدر قرآن شریف کے معقولانہ مسائل کے قائل اور مداح ہیں اور کیسی اپنی صاف طینتی کی وجہ سے صاف اقرار کرتے ہیں کہ قرآن شریف کے مسائل علومِ عقلیہ کے خلاف نہیں ہیں اور کوئی اس میں ایسا اعتقاد نہیں جو زبردستی ماننا پڑے پس جس حالت میں ایسے لوگ جو فلاسفی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 196
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 196
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/196/mode/1up

کے ؔ پتلے خیال کئے جاتے ہیں۔ قرآن شریف کے حکیمانہ طور و طریق کی کھلی کھلی شہادتیں دیتے ہیں تو پھر اگر آپ اے ماسٹر صاحب یا آپ کا کوئی اور بھائی جن کی آنکھیں انہیں لوگوں کے علوم پڑھنے سے کچھ کچھ کھلی ہیں اور یہی لوگ آپ کے معلم اور استاد ہیں فضائلِ قرآنی سے انکاری رہیں تو اس سے قرآن شریف کا کیا نقصان ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اگر یورپ اور ایشیا کے تمام مخالف فضائل قرآنیہ سے انکار کرتے تو بھی کچھ نقصان کی بات نہ تھی آفتاب بہرحال آفتاب ہی ہے چاہے کوئی اس کی روشنی کا اقراری ہو یا نہ ہو مگر یورپ کے فاضل اور صاحب علم لوگ اس قدر قابل تحسین ہیں کہ انہوں نے بیسوں کتابیں تالیف کرکے قرآن شریف کے بارہ میں شہادت حقہ کو ادا کردیا ہے اور باستثناء نیم ملاں پادریوں کی جو تنخواہیں پاکر اسلاؔ م سے عناد رکھتے ہیں باقی جس قدر واقعی دانا اور فلاسفر ہیں ان کے دلوں میں دن بدن محبت اسلام کی پیدا ہوتی جاتی ہے لیکن آپ لوگوں کی نسبت کیا کہیں اور کیا لکھیں اور کیا تحریر میں لاویں کہ ناحق بے موجب سراسر عناد اور بخل کی راہ سے نکتہ چینیاں کرتے ہیں اور حقیقت میں آپ لوگوں کے اعتراض اسی رنگ کے ہیں کہ جیسے ایک شخص قوافی سے ناواقف عروض سے جاہل تقطیع سے بے خبر ربط معانی و الفاظ سے بے تمیز درستی وزن وزحافات کی شناخت سے ناآشنا محض بلکہ زباندانی سے محروم مطلق یہ دعویٰ کر بیٹھے کہ سعدیؔ و حافظ ؔ شیرازی و ظہیرؔ فاریابی و فردوسیؔ و طوسیؔ و انوریؔ و سناؔ ئی وغیرہ شعرائے نامدار بالکل سخن گوئی و سخن فہمی سے ناواقف و محروم مطلق تھے اور اس پر دلیل یہ پیش کرے کہ میں ان کے اشعار کو سمجھ نہیں سکتا پس آپ لوگوں کا یہی حال ہے خدائے تعالیٰ رحم فرماوے۔
قولہ۔ جو لوگ روح اور مادہ کی حقیقت کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ سرشتی کرم جس کو مرزا صاحب بہت ہی جھوٹے اور حقارت کے لفظوں میں جوڑنا جاڑنا تحریر فرماتے ہیں اتنا بڑا اور عالی شان کام ہے کہ اس کو سوائے اس سچدانند سربگہ اور دانائی کامل کے کوئی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 197
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 197
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/197/mode/1up

نہیںؔ بناسکتا بنانا تو درکنار اس کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کی بابت کہ یہ کس طرح بنی لاکھ کاریگروں میں سے ایک لاکھواں حصہ بھی نہیں سمجھ سکتا اگر یہ ایسا حقیر کام ہے جس کو صرف جوڑنا جاڑنا کہا ہے تو مرزا صاحب یا کوئی اور شخص جو دعویٰ رکھتا ہو یا مرزا صاحب کی سمجھ میں بڑا طاقت والا ہو تو بڑی چیزوں سیارات وغیرہ کو تو کیا بناوے گا ایک دانہ گندم یا باجرہ کا ہی بناکر دکھلاوے یا کچھ تھوڑے بہت اس کی کاریگری کے اصول ہی سمجھاوے۔
اقول۔ ہائے اے ماسٹر صاحب آپ کدھر کو کھسک گئے ذرا اول غور کرکے میرے سوال کو تو سمجھا ہوتا سخن فہمی بھی تو آپ ہی پر ختم ہے میں نے آپ کو کب اور کس وقت کہا تھا کہ خدائے قادر مطلق کی مانند کوئی دوسرا شخص بھی کوئی صنعت بناسکتا ہے یا بجز اس کے کوئی صنعت کا کام اس کے کاموں سے مشابہ ہوسکتا ہے یہ اعتقاد تو آپ لوگوں کا ہی ہے جس پر میں نے اعتراض کیا تھا یعنی آپ لوگ ہی تو یہ بات کہتے ہیں کہ جو جو صنعتیں عالم غیب سے ظہور پذیر ہورہی ہیں جن کو دانشمند لوگ کسی ناقص کی طاقت سے برتر سمجھ کر ایک صانع کامل اور قادر اور حکیم اور حیّ قیوم کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ تمام صنعت کے کام بزعم آپ لوگوں کے اس خداوند کامل اور قادر کے ہاتھ سے نہیں نکلے بلکہ ان میں سے صرف جوڑنا جاڑنا اس کا کام ہے اور باقی سب حکمت اور صنعت کے کام اور طرح طرح کے خواص عجیبہ جو ارواح اور اجسام کی ذات میں پائے جاتے ہیں وہ سب بقول آپ کے قدیم سے خودبخود چلے آتے ہیں جن کا کوئی موجد اور خالق نہیں اور نہ خالق کی ان کو کچھ حاجت و ضرورت ہے سو آپ کے اسی عقیدہ پر میں معترض ہوا تھا اور اسی وجہ سے میں نے آپ کو جواب لکھنے کی تکلیف دی تھی کہ جس حالت میں آپ نے روحوں کے وجود کو جن میں ایسی عجیب صنعتیں اور خاصیتیں پائی جاتی ہیں جو اجمالی طور پر تمام دنیا کے عجائبات پر مشتمل ہیں خودبخود بغیر حاجت پرمیشر کے مان لیا ہے ایسا ہی آپ نے اجسام کو اور ان کے تمام خواص کو جو ان میں پائے جاتے ہیں خودبخود تسلیم کرلیا ہے تو پھر صرف جوڑنے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 198
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 198
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/198/mode/1up

جاڑؔ نے کے لئے جو ایک ادنیٰ کام ہے کیوں پرمیشرکے وجود کی ضرورت ٹھہری سو آپ سوچیں کہ کیا اس سوال کے جواب میں یہی لکھنا مناسب تھا جو آپ نے لکھا میں متعجب ہوں کہ آپ اس سوال کے جواب پر کس غرض اور کس خیال سے یہ بحث لے بیٹھے کہ ایک دانہ گندم یا باجرہ بھی کوئی دوسرا شخص بغیر پرمیشر کے نہیں بنا سکتا۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر کوئی دوسرا شخص گندم یا باجرہ کے دانہ بنانے سے عاجز ہے تو کیا ایسا شخص ان عجائب حکمت و صنعت کے کام کرنے پر قادر ہوسکتا ہے جو روحوں میں پائے جاتے ہیں پھر جس حالت میں کوئی شخص ان عجائب حکمت و غرائب صنعت کے کاموں پر جو روحوں یا اجسام میں پائے جاتے ہیں مقابلہ کرنے کی قدرت و طاقت نہیں رکھتا تو پھر اگر آپ تالیف اجسام یعنی خدائے تعالیٰ کے جوڑنے جاڑنے کو بوجہ بے نظیر ہونے اس فعل کے صانع کے وجود کی دلیل ٹھہراتے ہیں اور اسی دلیل سے یعنی تالیف اجسام سے ایک مؤلف کی ضرورت سمجھتے ہیں تو پھر روحوں میں بھی بوجہ اولیٰ آپ کو ماننا پڑے گا کہ اس جگہ بھی ایک موجد کی ضرورت ہے کیونکہ جب دو چیزیں ایک ہی صورت اور شکل کی ہوں تو جو احکام ایک پر صادر ہوں وہی احکام دوسرے پر بھی صادر کرنے پڑیں گے ورنہ ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی اور جب ایک جگہ آپ اس بات کو روا رکھ لیں گے کہ اگرچہ یہ کام بے نظیر اور انسانی طاقتوں سے بالاتر ہے مگر پھربھی خودبخود ہے اور پرمیشر کے بنانے کی اس میں ضرورت نہیں پڑی تو پھر اسی صورت اور شکل کے کام کی نسبت دوسری جگہ آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ اس میں پرمیشر کی خواہ نخواہ ضرورت پڑگئی ہے۔ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اگر پرمیشر کے وجود کی ضرورت ہے تو دونوں طور کے کاموں میں ہوگی نہیں تو ان میں سے کسی کام کے لئے بھی اس کی ضرورت ماننی نہیں چاہئے یہ کیسا مکابرہ ہے اور کس قسم کی منطق ہے کہ آپ تالیف اجسام میں تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جو کچھ خدائے تعالیٰ سے جوڑنا جاڑنا ظہور میں آیا ہے وہ بے نظیر ہے اور انسان اس کی مثل بنانے پر قادر نہیں اس لئے اس تالیف سے ایک مؤلف

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 199
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 199
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/199/mode/1up

کیؔ ضرورت ثابت ہوتی ہے لیکن جب آپ کی خدمت میں یہ عرض کیا جاتا ہے کہ وہی بے نظیری اور انسانی طاقتوں سے بالاتر ہونا ان عجائبات قدرت میں بھی پایا جاتا ہے جو روحوں میں ہیں تو تب آپ اس طرف سے منہ پھیر لیتے ہیں اب کوئی آپ کی اس سمجھ پر رووے یا ہنسے کہ آپ دو چیزوں کے مشترک استحقاق کو دیکھ کر ایک چیز کو پرمیشر کی مصنوعیت سے باہر رکھ لیتے ہیں اور دوسری چیز کو جو ایک ادنیٰ اور عارضی کام ہے اپنے پرمیشر پر تھاپتے ہیں مگر ایسا کبھی نہیں ہوسکتا اور کسی طور کی حجت آپ کے اس مطلب کی تائید نہیں کرسکتی کہ تمام عالم میں سے آدھا دھڑ خودبخود اور آدھا پرمیشر کا محتاج ہے۔ اور یہ جو میں نے ابھی لکھا ہے کہ اجسام کو جوڑنا جاڑنا ایک ادنیٰ کام ہے یہ میں نے اس لئے لکھا کہ درحقیقت جوڑنے جاڑنے سے کوئی نئی خوبی حاصل نہیں ہوتی بلکہ وہی خواص ارواح و اجسام جو روحوں اور جسموں میں چھپے ہوئے تھے کھلے کھلے طور پر نظر آجاتے ہیں جیسے ایک تصویر کو جب ایک مصفا شیشہ کے اندر رکھا جائے تو نہایت صفائی اور خوبی سے نقوش اس تصویر کے ظاہر ہوجاتے ہیں سو یہ بات ہرگز نہیں ہے کہ تصویر کو آئینہ میں رکھنے سے خود آئینہ کوئی ایسا نقش اس میں زیادہ کردیتا ہے جو پہلے اس میں موجود نہ تھا بلکہ وہی نقوش جو پہلی تصویر میں موجود تھے اور مصور کے ہاتھ سے نکلے تھے انہیں کو آئینہ نہایت عمدگی اور صفائی سے نمایاں کردیتا ہے سو میں کہتا ہوں کہ اگر اجزاءِ صغار اجسام میں بطور خود وہ کشش اتصال کی خاصیت نہ ہوتی جس سے وہ اکٹھے رہ سکتے ہیں تو آپ کا پرمیشر جو خالق اشیاء و خواص اشیاء نہیں ہے کیا کرسکتا تھا اور اگر آفتاب کے باریک ٹکڑوں میں جو بقول آپ کے خودبخود ہیں اپنی ذات میں ہی روشن ہونے کی خاصیت نہ پائی جاتی تو کیونکر اور کس قوت سے پرمیشر ان سب کو اکٹھا کرکے نیراعظم بنالیتا۔ سو جاننا چاہئے کہ اگر خدائے تعالیٰ میں ایجادی قدرت نہیں یعنی اس نے تمام چیزوں اور ان کے خواص کو عدم محض سے پیدا نہیں کیا تو صرف بعض بعض ترکیبیں نکال کر خواص موجودہ سابقہ سے کام

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 200
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 200
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/200/mode/1up

لیناؔ کوئی بڑی بات نہیں انسانوں میں سے بھی توصناع لوگ اپنے علم خواص کے مطابق طرح طرح کی ترکیبیں اور صنعتیں نکالتے رہتے ہیں۔* ہاں صرف اتنا فرق ہے کہ جس کو علم خواص اشیاء زیادہ ہوا اس نے زیادہ ترکیبیں نکالیں اور جس کو کم ہوا اس نے کم نکالیں بہرحال بنی آدم نے بھی بلاشبہ حیرت ناک کام کر دکھائے ہیں اور جہاں کہیں ان کو کوئی خاصہ جدیدہ اشیاء مادی اور ان کی اشکال و اوضاع یا ان کے باہم اختلاط و امتزاج کامل گیا ہے وہیں انہوں نے اسی ذریعہ سے کوئیَ کل یا آلہ بنا ڈالا ہے چنانچہ سارا جہان انسان کی عجیب عجیب دستکاریوں سے بھرا ہوا نظر آتا ہے اگر تم گھر میں بیٹھے ہوئے اپنے گھر کی تمام ضروریات و اسباب خانہ داری پر نظر ڈالو اور جائیداد غیر منقولہ سے لے کر ایک ایک چیز منقولہ پر نظر اٹھا کر دیکھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ سب چیزیں جو تمہارے امور معیشت میں کام آتی ہیں انسان کی دستکاریاں ہیں۔ ایسا ہی بری و بحری سفروں میں جو کچھ انسان نے اپنی فکر و غور سے
اب تک دانشمند لوگوں نے کچھ کچھ خواص ارواح و خواص اجسام و اوضاع پر اطلاع پاکر اور علوم طبعی و ہندسہ سے مدد لے کر صدہا عمدہ عمدہ شکلیں و ترکیبیں نکالی ہیں اور جیسے جیسے انسان کا علم وسیع ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے وہ صنعت سازی میں یدطولیٰ حاصل کرتا جاتا ہے۔ ریل کا بخاری طاقت سے چلانا تار کا بنانا چھاپہ کی ترکیبیں ایجاد کرنا کیسی کیسی مفید صنعتیں ہیں جن سے گویا تمام بنی آدم کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ایسا ہی انسان نے دوسرے چھوٹے چھوٹے کاموں میں صدہا طور کی کلیں ایجاد کرلی ہیں ہر قسم کی عمدہ عمدہ گھڑیاں جو خودبخود وقت بتلاتی ہیں۔ سینے کی مشین۔ آٹا پیسنے کی کل۔ کپڑا بننے کیَ کلیں۔ برف بنانے کی کل۔ دودھ میں پانی کی آمیزش شناخت کرنے کا آلہ۔ بجلی کا صندوقچہ۔ خودبخود چلنے والا پنکھا۔ طاؤس جو چابی دینے سے مثل زندوں کے چلتا اور پھرتا اور ناچتا ہے۔ مرغی کرک جو کنجی دینے سے چلتی ہے۔ بکرا و کتا جو کنجی دینے سے چلتا ہے۔ باجہ دار کرسیاں جن کو کنجی دینے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 201
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 201
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/201/mode/1up

صنعتیںؔ ایجاد کی ہیں وہ سیاحوں اور واقف کاروں سے پوشیدہ نہیں ہے اب ہمارا مطلب یہ ہے کہ اگر ہندوؤں کے پرمیشر میں بھی صرف اتنی ہی خوبی ہے کہ مادی و غیرمادی اشیاء کے خواص جو اسے معلوم ہیں انہیں میں دست اندازی کرکے اور بعض اشیاء کو بعض سے جوڑ کر صنعتیں نکالتا ہے تو یہ کچھ بڑی بات نہیں اور اس صورت میں تو ہمیں اس کی ساری خدائی کی حقیقت معلوم ہوگئی اور ظاہر ہوگیا کہ اس میں اور انسان میں صرف علم کی کمی بیشی کا کچھ فرق ہے اور ممکن ہوگا کہ انسان بھی اپنے معلومات میں ترقی کرتا کرتا کسی وقت پرمیشر ہی بن جاوے۔ جس حالت میں شہد کی مکھی میں بھی یہ ہنر پایا جاتا ہے کہ وہ ایسی عقل مندی سے شہد بناتی ہے کہ کوئی انسان اس کی نظیر بنانے پر قادر نہیں پھر اگر
سےؔ چند عرصہ تک باجا بجتا رہتا ہے ایسا ہی صدہا اور کلیں چھوٹی بڑی ہیں جو حال کے صناعوں نے طیار کری ہیں اور بمبئی اور کلکتہ اور اکثر دیگر مقامات میں سوداگروں کی دکان پر مل سکتی ہیں اور یورپ کے اکثر کاریگر دانتوں کی جگہ دانت اور آنکھ کی پتلی کی جگہ آنکھ کی پتلی اور ٹانگوں کی جگہ ٹانگ اور بالوں کی جگہ مصنوعی بال لگا کر گزارہ چلا دیتے ہیں۔ بعض حکیموں نے چاند بناکر اور چڑھا کر محدود حد تک اس کی روشنی سے کام لیا ہے بعض نے پرند بناکر کنجی دینے سے ایک حد تک انہیں اڑا کر دکھلا دیا ہے اور بعض نے مینہہ برسنے کی ترکیب نکالی اور کسی حد کے اندر اندر مینہہ برسا دیا ایسا ہی قسم قسم کے پھول اور پھل اور موتی و دیگر جواہرات ایسے بنائے گئے ہیں جو دیکھنے والوں کو حیران کردیا ہے اور ابھی انسان کی صانعیت کی کچھ انتہا نہیں کیونکہ وہ ترقیات غیر محدود کے لئے پیدا کیا گیا ہے جن کی تحصیل کے لئے وہ فطرتاً مشغول ہے۔ منہ۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 202
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 202
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/202/mode/1up

ہندوؔ ؤں کے پرمیشر میں ایجادی قدرت نہیں تو اگر اس شہد کی مکھی کی طرح صرف جوڑنا جاڑنا اس کا بے نظیر بھی ہوا تو بھلا یہ کیا کمال ہوا۔ اس جگہ کوئی انجان یہ دھوکا نہ کھائے کہ آریہ سماج والے تو اس بات کو مانتے ہیں کہ گو پرمیشر پیدا کرنے پر قادر نہیں لیکن وہ اجسام اور ارواح کے جوڑنے جاڑنے سے طرح طرح کی مفید چیزیں تو بناتا ہے جیسے اس نے چاند بنایا سورج بنایا زمین کو عمدگی سے بچھایا انسان کو آنکھیں دیں کان دیئے قوت ناطقہ شامہ بخشی سوکیا ایسے ایسے عجائب کاموں سے اس کی قدرت ثابت نہیں ہوتی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب کچھ علمی وسعت پر موقوف ہے ایجادی قدرت جو کسی شے اور اس کے خاصہ کو عدم سے پیدا کرنے کو کہتے ہیں وہ اسی قدر فعل سے ہرگز ثابت نہیں ہوسکتی بلکہ وہ تب ہی ثابت ہوتی ہے کہ جب ساتھ اس کے یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ خدائے تعالیٰ صرف اشیاء کا جوڑنے جاڑنے والا نہیں بلکہ وہ ان تمام اشیاء اور ان کے جمیع خواص کو پیدا کرنے والا بھی ہے کیونکہ اگر ایسا تسلیم نہ کیا جائے اور خدائے تعالیٰ کا صرف اسی قدر اختیار و اقتدار سمجھا جائے کہ وہ بعض اشیاء کو بعض سے پیوند کرکے ان کے اصلی خواص کو متجلی کرکے دکھا دیتا ہے تو اس سے صرف اس کے معلومات کی فراخی ثابت ہوتی ہے نہ قادریت کاملہ۔ وجہ یہ کہ جب جمیع اشیاء خودبخود قدیم سے موجود مان لی جائیں تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ان اشیاء کے خواص بھی جو بحالت بساطت مخفی طور پر ان میں پائے جاتے ہیں یا بحالت ترکیب کھلے کھلے طور پر ان سے ظہور میں آتے ہیں وہ بھی سب قدیم ہی ہیں گو ہم ان پر اطلاع پائیں یا نہ پائیں۔ مثلاً خدائے تعالیٰ نے جو آنکھوں کو نہایت عجیب طور سے بنایا ہے سو اس میں یہ خیال نہیں ہوسکتا کہ آنکھوں کی صرف مجموعی ترکیب کے پیدا ہونے کے بعد خاصہ رؤیت اس میں پیدا ہوگیا ہے بلکہ صحیح فلاسفی اس میں یہ ہے کہ جو کچھ مجموعی ترکیب میں رؤیت پیدا ہونے کا نتیجہ نکلا ہے وہ نتیجہ مخفی طور پر ان تمام اجزا میں پایا جاتا تھا۔ جو پیچھے سے رطوبات و طبقات اور

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 203
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 203
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/203/mode/1up

عصبہؔ مجوفہ وغیرہ کی شکل پر متشکل ہوگئے جن کو آریہ لوگ قدیم اور انادی اور پرمیشر کے دست قدرت سے بالاتر خیال کرتے ہیں چنانچہ اس بات کو پنڈت دیانند صاحب بھی اپنے وید بھاش میں مانتے ہیں اور اپنا اعتقاد یہی ظاہر کرتے ہیں کہ نیستی سے ہستی کبھی نہیں ہوتی جو ہے وہی ظہور میں آتا ہے اور جو نہیں وہ کبھی ظہور میں نہیں آسکتا۔ پس اس جگہ انہوں نے آپ ہی تسلیم کرلیا ہے کہ ترکیب اشیاء یعنے جوڑنے جاڑنے میں کوئی ایسی نئی بات پیدا نہیں ہوتی جو پہلے نیست محض ہو اور پھر نیستی سے اس کی ہستی ہوگئی ہو بلکہ وہی خواص قدیمہ ظہور میں آتے ہیں کہ جو اول میں سے ہی الگ الگ جزوں میں مخفی طور پر موجود تھے اب جب کہ یہ ثابت ہوگیا کہ ترکیب اشیاء میں انہیں خواص کا ظہور و بروز ہوتا ہے جو پہلے ہی سے الگ الگ ہونے کی حالت میں ان اشیاء میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں تو اس صورت میں ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اگر مثلاً پرمیشر نے انسان کے جسم کی آنکھ بنائی اور جو اجزاء کارآمد آنکھ کے الگ الگ موجود تھے انہیں ایک جگہ اکٹھا کرکے کام لیا تو ایسے بنانے میں اس کی کون سی بڑی بھاری خوبی ثابت ہوگئی کیونکہ دراصل سب اجزاء جن سے آنکھ بن سکتی تھی پہلے ہی سے موجود تھے۔ ہاں ظہور اس خاصیت کا اس خاص ترکیب اور وضع پر موقوف تھا سو پرمیشر نے اپنی علمی وسعت سے اس خاص وضع وشکل پر اطلاع پاکر اس خاصۂ قدیم کو جو بغیر حاجت پرمیشر کے پایا جاتا تھا ظاہر کرکے دکھلا دیا پس اگر پرمیشر کا اتنا ہی منصب اور اسی قدر اس میں لیاقت ہے کہ وہ خواص اشیاء پر وسیع اطلاع ہونے کی وجہ سے تراکیب مختلفہ میں ان خواص کو ظاہر کرتا رہتا ہے تو اس میں اور دوسرے صناعوں میں کون سا بڑا فرق رہا صرف اتنا ہوا کہ وہ کچھ ہنر میں زیادہ اور دوسرے اس کے چھوٹے بھائی ہوئے۔
قولہ۔ رہا مادہ سو وہ چیز ہے جس کو ہندی میں جڑپدارتھ کہتے ہیں جس میں ارادہ یا طاقت ہلنے جلنے کی نہیں غرض دونوں چیزیں (روح و مادہ) جو دنیا میں موجودہ ہیں جن کو

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 204
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 204
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/204/mode/1up

مرزا صاحب کے جوڑنے جاڑنے سے بالکل عاجز و بے خبر ہیں اور انادی ہونے کی صورت میں خودبخود ان کا جوڑ جاڑ نہیں ہوسکتا سو اس سے کسی تیسرے بڑی شان والے اور جوڑنے والے کی ضرورت ثابت ہوتی ہے۔ وہ وہی ہے جس کو میں سچدانند سروپ اور مرزا صاحب خدائے تعالیٰ کہہ رہے ہیں۔
اقول۔ اے ماسٹر صاحب آپ کی سمجھ اور فہم کی نسبت کیا کہوں اور کیا لکھوں۔ کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر۔ صاحب من میرا سوال تو یہ تھا کہ جس حالت روح اور جسمی مادہ جن کے ذاتی خواص سے فلسفہ میں کتابیں بھری پڑی ہیں بقول آپ لوگوں کے خودبخود ہیں تو پھر دوسری چیزیں جو اپنی مصنوعیت میں روح اور مادہ کے عجائب اور پرحکمت وجود سے کچھ زیادہ نہیں ہیں کیوں محتاج صانع سمجھی جائیں آپ اس کا جواب دیتے ہیں کہ جوڑنا جاڑنا بجز پرمیشر کے خودبخود نہیں ہوسکتا تو گویا آپ کا یہ مذہب ہوا کہ پیدا ہونا بجز خدا کے خودبخود ہوسکتا ہے مگر جوڑنا جاڑنا بغیر اس کے ممکن نہیں سو اسی مذہب پر میں اعتراض کررہا ہوں۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا بڑا بھارا کام پیدا کرنا ہے یا جوڑنا۔ ظاہر ہے کہ پیدا کرنا ہی بڑا بھارا کام ہے سو جب آپ لوگوں کی عقل عجیب نے اس بات کو روا رکھ لیا کہ تمام ارواح و مواد معہ جمیع خواص و عجائبات اپنے کے بغیر پیدا کرنے کسی پیدا کنندہ کے خودبخود قدیم سے ہیں تو آپ پر لازم آتا ہے کہ آپ بعض اشیاء کا بعض سے خودبخود جوڑے جانا بھی روا رکھ لیں کیونکہ جوڑنا جاڑنا اصل ایجاد اشیاء کی نسبت ایک ناکارہ کام ہے سو وہ بوجہ اولیٰ خودبخود ہونا چاہئے۔ میرا تو یہ مذہب نہیں ہے کہ جوڑے جانا یا پیدا ہونا خودبخود ہوسکتا ہے تا مجھے آپ بار بار کہیں کہ کوئی دانۂ گندم یا دانۂ باجرہ ہی بنا کر دکھلاؤ میں تو آپ کے ہی مذہب پر رورہا ہوں کہ جس حالت میں ایک دانہ گندم یا ایک دانہ باجرہ نہ خودبخود بن سکتا ہے نہ اس کو

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 205
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 205
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/205/mode/1up

کوؔ ئی دوسرا بناسکتا ہے تو کروڑہا اور بے شمار روحیں اور بے شمار جسم کے ٹکڑے کیونکر خودبخود سمجھے جائیں آپ سوچ کر دیکھ لیں کہ آپ نے اتنے ورق تو سیاہ کئے مگر ان چیزوں کے خودبخود ہونے پر دلیل کون سی پیش کی اور جب کہ آپ نے کل پُرحکمت وجودوں کا جو عالم میں پائے جاتے ہیں خودبخود بغیر ایجاد پرمیشر کے ہونا بغیر دلیل کے مان لیا ہے تو پھر یہی فتویٰ تالیف اجسام یعنے جوڑنے جاڑنے پر کیوں نہیں لگایا۔ بے شک واقعی امر تو یہی ہے اور کسی عقل مند کا دل اس بات سے انکار کرنے کی طرف مائل نہیں کہ خدائے تعالیٰ کے کام بے نظیر ہیں مگر آپ لوگ کب انہیں بے نظیر سمجھتے ہیں۔ آپ لوگوں کے وید پر یہ بات سیاہ سے سیاہ دھبہ سے بڑھ کر ہے کہ جو ذات کل فیضوں کا مبدء ہونا چاہیئے اس کو ایسا گھٹاتے گھٹاتے نکما کردیا ہے کہ بس خاک میں ملا دیا۔ سوچو اے آریہ صاحبو سوچو! کیا آپ لوگوں میں سے کوئی بھی ایسی روح نہیں کہ جو ذرّہ دل کو آلائش تعصب سے پاک کرکے سوچے۔ اس سوال پر غور کرو کہ وہ چیز جسے ربوبیت کہتے ہیں وہ کیا ہے؟ اس بات کو ذرہ دل لگا کر جانچو کہ خدا کس بات کا نام ہے؟ قوم کیا ہے برادری کیا چیز ہے کوئی کسی کا نہیں آؤ خدا سے ڈرو اور ایسی باتیں ُ منہ پر مت لاؤ جن میں اس بے انتہا طاقتوں والے کی توہین ہے کیا تمہیں یہ بات کہتے کچھ بھی شرم نہیں آتی کہ ہماری روحیں بھی بلکہ ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ پرمیشر کی طرح خودبخود ہی حق ظاہر ہوگیا اور مخلوق ہونے کی تم پر ڈگری ہوچکی اب خدا کا بندہ ہونے سے مت بھاگو۔
قولہ۔ کوئی دہریہ یہ عذر پیش کرسکتا ہے کہ جوڑنا جاڑنا پرمیشر کی طرف سے نہیں بلکہ اتفاقی طور سے ہوگیا ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ اتفاقی طور پر خودبخود باہم مل جانا پر کرتی کا سبھاؤ نہیں ہے کیونکہ اس میں حرکت کرنے کی طاقت نہیں۔ رہا جیو یہ اگر اتفاقی طور پر مل سکے تو کہیں اس کا نمونہ ظاہر ہونا واجب ہے اور اگر لوگ موجودہ طریقہ ہی اپنا ثبوت پیش کریں (یعنی یہ کہیں کہ پرمیشر کو جوڑتے جاڑتے کس نے دیکھا ہے جو کچھ ہورہا ہے طبعی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 206
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 206
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/206/mode/1up

طور ؔ پر خودبخود ہورہا ہے سو یہی نمونہ کے لئے کافی ہے) اس کا جواب یہ ہے کہ گو پرمیشر کو جوڑتے جاڑتے کسی نے نہیں دیکھا مگر اتفاقی طور پر ملنے والی چیزوں میں انتظام اور کاریگری اور تعلقات ضروریہ نہیں ہوا کرتے جو اب موجود ہیں لہذا ثابت ہے کہ ان چیزوں کا جوڑے جانا خودبخود نہیں بلکہ ان کا جوڑنے جاڑنے والا بڑا منتظم کامل قدرت والا ہے۔
اقول۔ ماسٹر صاحب آپ دہریہ یعنی خدائے تعالیٰ کے منکروں سے کیوں جھگڑا لے بیٹھے درحقیقت آپ لوگ تو تمام ارواح اور اجسام کے ذرّہ ذرّہ کی نسبت یہی مانتے ہیں کہ ان کا وجود اتفاقی طور سے ہے یہ نہیں کہ کسی وقت پرمیشر نے ان کو پیدا کیا ہے سو جبکہ آپ نے روحوں اور اجسام کے ذرّہ ذرّہ کا ہونا خود ہی اتفاقی طور سے مان لیا تو پھر آپ تو دہریوں کے ایسے مددگار ہوئے جن کا انہیں شکر کرنا چاہئے تو پھر ان سے جھگڑا کرنے کا کیا موجب اور بحث مباحثہ کی کیا وجہ؟ یار صادق اور دوست موافق سے بھی کوئی لڑتا جھگڑتا ہے؟
کسی کتاب میں لکھا ہے کہ ایک شخص ایک جگہ سے زنا کرکے یا شراب پی کر نکلا اور نکلتے ہی اس نے شیطان پر لعنت بھیجی شیطان بھی اس وقت پاس کھڑا تھا اس نے بہت محبت اور نرمی کی راہ سے کہا کہ اے بھائی تو درپردہ بکلّی میرے موافق اور میرا مددگار اور فرمانبردار اور میری مرضی کے موافق کام کرنے والا ہے تو پھر کیا وجہ کہ بظاہر میرے پر لعنت بھیجتا ہے اور مجھ سے ناراض ہوتا ہے۔ اسی طرح آریہ سماج والوں کی حالت ہے کہ درحقیقت وہ لوگ دہریہ مذہب پھیلانے کے لئے بڑی کوشش کررہے ہیں اور ان کوششوں کے لحاظ سے دہریوں کے بڑے لائق خدمت گزار انہیں سمجھنا چاہئے۔ لیکن بظاہر دہریوں سے ناراض ہیں یہ ناراضگی اس قسم کی ہے جو ہم نے مثال مذکورہ بالا میں بیان کی ہے بھلا جس حالت میں جو بات دہریوں کے عین مدعا اور مراد تھی یعنی کوئی چیز خدا کی پیدا کردہ نہیں سب چیزیں خدا کی طرح قدیم اور غیر مخلوق ہیں وہ بات تو ان لوگوں نے آپ ہی مان لی اور اپنے مذہب کی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 207
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 207
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/207/mode/1up

بنیاد ؔ قرار دی تو پھر باقی کیا رہ گیا اونٹ تو نکلا گیا اب اگر دم باقی رہ گئی ہے تو اس کے اندر جانے میں کون سی مشکلات ہیں ہاں آپ کو اپنے دہریوں بھائیوں سے مل کر موجد حقیقی کے ماننے والوں کے ساتھ بحث کرنی چاہئے اور ان کو بطور مددگار لانا چاہئے اور دیکھا بھی گیا ہے کہ بعض آریہ ناچار ہوکر دہریوں سے مشورہ لیتے ہیں تا کسی طرح خودبخود اور غیر مخلوق ہونے پر کوئی دلیل نکل آوے مگر اے ماسٹر صاحب آپ لوگ ہزار مخلوق ہونے سے کنارہ کش ہوں ہم تو آپ کو بندہ خدا بنا کر چھوڑیں گے آپ کب تک بھاگیں گے اور کدھر بھاگیں گے اور کہاں جائیں گے بھلا اس تقریر سے جو مقولہ متذکرہ بالا میں آپ نے کی ہے کونسا اثر ہمارے اعتراض پر پڑا بجز اس کے کہ آپ اپنے ہی قول سے آپ ہی قائل ہوگئے کہ جن چیزوں میں انتظام اور کاریگری اور تعلقات ضروریہ پائے جاتے ہیں وہ خودبخود نہیں ہوسکتیں پس دیکھو اجزاء لا یتجزی میں جن کو ہندی میں پر کرتی کہتے ہیں خاصیت کشش اتصال پائی جاتی ہے تب ہی تو بجز قسر قاسر کسی جسم کے اجزائے متفرق نہیں ہوسکتے اور کشش اتصال تعلقات ضروریہ کی جڑ ہے۔ کیونکہ اگر جز لا یتجزی یعنی پر کرتی میں قوتِ کششِ اتصال نہ پائی جاتی تو پھر جسم کے اجزاء میں باہمی تعلقات پیدا ہونا اور بعض جزوں کا بعض سے مل جانا اور ملے رہنا ممتنع اور محال ہوتا۔ اور روحوں کے وجود میں جس قدر صنعت صانع اور کاری گری پائی جاتی ہے وہ تو ہم کسی قدر بیان کرچکے ہیں اور آئندہ بھی انشاء اللہ کسی موقع پر بیان کریں گے اور جیسے خدائے تعالیٰ نے اجزاء لا یتجزی میں کشش اتصال رکھی ہے ایسا ہی روحوں میں قبولیت تعلق جسم کے لئے ایک قوت اور استعداد رکھی ہے یعنی روحوں میں بھی اجسام کی کشش اتصال کی طرح قبولیت تعلق جسم کی ایک قوت پائی جاتی ہے جس سے وہ بلانفرت و کراہت جسم سے ایسے طبعی طور پر تعلق پکڑلیتے ہیں جیسے ایک محب اپنے محبوب سے یا ایک عاشق اپنے معشوق سے تعلق پکڑلیتا ہے جس تعلق کا صدمہ موت سے چھوڑنا اور مفارقت اختیار کرنا ان پر

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 208
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 208
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/208/mode/1up

بالطبعؔ شاق اور ناگوار گزرتا ہے سو یہ انتظامی امر ہے جو حکیم مطلق نے روح اور جسم کے باہم ملانے کے لئے پہلے سے قائم کردیا ہے اگر روحیں اتفاقی ہوتیں اور کوئی ان کا پیدا کرنے والا نہ ہوتا تو پھر کوئی وجہ نہیں تھی کہ بے شمار اور کروڑہا روحوں میں سے کوئی بھی ایسی روح نہ پائی جاتی جو مناسبت تعلق بالجسم سے خالی اور اس کے برخلاف ہوتی پھر اگر اتفاق سے یہ مصیبت پیش آجاتی کہ پرمیشر کو سب روحیں ایسی ہی ملتیں جن میں قوت قبولیت تعلق جسم پائی نہ جاتی تو اس صورت میں پرمیشر کیا کرسکتا کس کاریگر کو کہتا کہ ان تمام روحوں کو توڑ کر نئے سرے مجھے ایسی روحیں بنادے جن میں تعلق بالاجسام کی قوت پیدا ہوجائے سو اب لیجئے وہ سب باتیں کاریگری و انتظام وغیرہ کی جو آپ نے ابھی بیان کی تھیں وہ روحوں اور جسم کے ٹکڑوں میں پائی گئیں جس سے بقول آپ کے واجب ہوا کہ ان کا کوئی موجد ضرور ہو۔ سو لو صاحب اب تو آپ پر اقبالی ڈگری ہوگئی۔
اخیر پر ہم آپ کو یہ بھی اطلاع دے دینا مناسب سمجھتے ہیں کہ آپ کا یہ دعویٰ جو آپ کہتے ہیں کہ اگر تمام ارواح اور جسمی مادوں کو معہ جمیع عجائب و غرائب خواص ان کے کے خودبخود بغیر پیدا کرنے کسی پیدا کنندہ کے سمجھ لیں جیسے اصول آریہ سماج کا ہے یعنی یہ خیال کرلیں کہ ارواح و مواد اجسام معہ جمیع خواص اپنے کے خودبخود ہیں تو اس سے اثبات صانع میں کوئی حرج عائد نہیں ہوسکتا بلکہ جوڑنا جاڑنا جس کے آریہ سماج والے قائل ہیں اثبات صانع کے لئے کافی ہے یہ تقریر آپ کی صاف ثابت کررہی ہے کہ آپ میں فطرتی طور پر مادہ ثبوت غیر ثبوت کی شناخت کرنے کا نہایت ہی کم ہے میں نے آپ کی غلطی اقوال متذکرہ بالا میں کھول دی ہے دانشمند کے لئے تو اسی قدر کافی ہے لیکن میں محض خیرخواہی کے رو سے آپ کو ایک نصیحت کرتا ہوں کہ اگر آپ کو بحث مباحثہ کا شوق ہے تو کسی سے ایک رسالہ منطق کا ضرور پڑھ لیجئے۔ یہ کام مباحثات مناظرات کا بڑا نازک کام ہے اس کے اِنصرام کے لئے صرف جوش مذہبی کافی نہیں ہے اتنا تو ہو کہ انسان دعویٰ اور دلیل میں فرق معلوم کرسکے اور بیہودہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 209
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 209
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/209/mode/1up

دعووؔ ں کو دلیل کے محل پر استعمال نہ کرے۔ بھلا خیال فرماویں کہ میرے اعتراض کے جواب میں جو آپ نے لکھا ہے کہ گو ارواح و اجزاء صغار اجسام یعنی جیو اور پرکرتی اور ان کے تمام خواص اور تمام کاریگری کی باتیں جو ان میں پائی جاتی ہیں وید کے رو سے سب غیر مخلوق اور انادی ہیں جن کو پرمیشر کا ہاتھ بھی نہیں لگا مگر تاہم فقط جوڑنے جاڑنے سے پرمیشر کا پرمیشر پن ثابت ہوتا ہے یہ کس قسم کی تقریر ہے اگر اس کو قوانین استدلال کی طرف رد کیا جائے تو کون سی شکل صحیح منطقی اس سے پیدا ہوسکتی ہے اگر کچھ یاد ہے تو بھلا پیش تو کریں۔ ماسٹر صاحب آپ کو یہ بات ُ بری نہ لگے آپ مدلل غیر مدلل کی شناخت سے بکلّی بے خبر ہیں آپ کے ُ منہ سے کوئی معقول بات کیا خاک امید رکھیں آپ تو خواہ نخواہ اپنی قوم کو شرمندہ کررہے ہیں لو ہم ہی روحوں کے مخلوق ہونے پر شکل اول جو بدیہی الانتاج ہے بنا کر سناتے ہیں اس پر غور کرو اور اپنے بے جا دعووں سے باز آؤ اور وہ شکل یہ ہے۔ موجودات عالم میں سے روحیں ایسی چیزیں ہیں جن میں ہزارہا عجائب قدرت و حکمت پائے جاتے ہیں اور کل ایسی چیزیں عالم کی چیزوں میں سے جن میں عجائب قدرت و حکمت پائے جائیں ان کا ایک موجد قادر و کامل و حکیم ہونا ضروری ہے نتیجہ یہ نکلا کہ روحوں کا ایک موجد قادر و کامل و حکیم ہونا ضروری ہے۔ ثبوت مفہوم صغریٰ کا یعنی اس بات کا کہ موجودات عالم میں سے روحیں ایسی چیزیں ہیں جن میں ہزارہا عجائب قدرت و حکمت پائے جاتے ہیں اس طرح پر ہوتا ہے کہ نقیض اس کی یعنی یہ کہ روحوں میں کوئی اُعجوبہ حکمت و قدرت کا نہیں پایا جاتا بدیہی البطلان ہے اور دنیا کی ذِی علم قوموں میں سے کوئی قوم بھی اس بات کی قائل نہیں کہ ارواح عجائبات قدرت و صنعت الٰہی سے خالی ہیں بلکہ علم الٰہیات کے جاننے والے اس باریک صداقت تک پہنچ گئے ہیں کہ دنیا کی تمام مخلوقات میں جو خواص متفرقہ ہیں وہ سب روحوں کے وجود

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 210
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 210
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/210/mode/1up

میں ؔ یکجائی طور پر پائے جاتے ہیں پس صغریٰ اس شکل کا نہایت بین الثبوت ہے۔ ثبوت کبریٰ کا یعنی اس قضیہ کا جو کل ایسی چیزیں عالم کی چیزوں میں سے جن میں عجائب قدرت و حکمت پائے جائیں ان کا ایک موجد قادر و کامل و حکیم ہونا ضروری ہے اس طرح پر ہے کہ اگر بعض چیزیں عالم کی چیزوں میں سے جو عجائب قدرت و حکمت سے بھری ہوئی ہیں ایسی بھی ہوں جن کا کوئی موجد ہونا ضروری نہیں تو پھر کسی چیز کو کسی موجد کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ اس بات کی صحت پر کوئی دلیل قائم نہیں ہوسکتی کہ ہم ایسی چند چیزوں میں سے کہ اپنی وجوہ احتیاج موجد میں بکلّی ہم رنگ اور مساوی ہیں بعض چیزوں کو بلا دلیل مستغنی عن الموجد قرار دے دیں اور دوسری بعض چیزوں کو بلا دلیل اپنے وجود میں موجد کی محتاج سمجھ لیں بلکہ ہم پر لازم ہوگا کہ اگر عالم کی چیزوں میں سے کسی ایک چیز کی نسبت بھی یہ حکم دیں کہ وہ بوجہ پرحکمت کاموں کے جو اس کے وجود میں پائے جاتے ہیں کسی موجد کی محتاج ہے تو یہی حکم اس کی باقی ہم شکل چیزوں کی نسبت بھی جو عالم میں پائی جاتی ہیں صادر کریں ورنہ ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی پس بالضرورت شکل ہذا کے کبریٰ کا مفہوم بھی سچا ماننا پڑا جس سے صداقت اس نتیجہ کی کھل گئی کہ روحوں کا ایک موجد کامل وقادر و حکیم ہونا ضروری ہے اور یہی مطلب تھا۔ جاننا چاہئے کہ یہ دلیل مخلوقیت ارواح دہریہ کے مقابل پر نہیں بلکہ آریہ سماج والوں کے ملزم اور لاجواب کرنے کے لئے ہے کہ جو عالم کے ہم رنگ وہم خاصیت چیزوں میں سے بعض کو جو صرف جوڑنا جاڑنا ہی ایک صانع قادر و حکیم کا فعل خیال کرتے ہیں اور بعض دیگر کو جو اس فعل سے بڑھ کر قدرت و حکمت الٰہی پر دال ہے مصنوع اور مخلوق ہونے سے باہر سمجھتے ہیں لیکن دہرؔ یہ کے مقابل پر الگ دلائل ہیں جو ہماری کتاب براہین میں اپنے موقع پر مندرج ہیں اس جگہ تو صرف آریہ سماج والوں کو ان کی مونہہ زوری پر متنبہ کرنا ہے۔* کہ وہ کیسے طریقہ مستقیمہ
* حاشیہ اس جگہ اگر کوئی آریہ بطور نقض کے یہ عذر پیش کرے کہ خود خدائے تعالیٰ کی ذات

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 211
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 211
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/211/mode/1up

دلائل ؔ منطقیہ سے بے راہ چل رہے ہیں اور وید کی محبت میں ایسے مست و مدہوش ہوگئے کہ خداداد عقل اور فہم کو یک لخت کھو بیٹھے مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اب وید پر چلنے چلانے کا زمانہ نہیں ہے اب ان باتوں پر زور دینے سے کہ ہم قدیم سے خودبخود ہیں ہمارے روحوں اور ہمارے جسمی مادہ کا کوئی ربّ نہیں جلد تر وید پر وبال آئے گا۔ حال کی ذریت ایسی موٹی عقل کی نہیں کہ ان کو ان تعلیموں پر طفل تسلی دے سکیں
بھی ؔ عجائب قدرت و حکمت پر مشتمل ہے تو کیا اس کے لئے بھی کسی موجد کی ضرورت ہے اس کا جواب یہی ہے کہ ہم ابھی شکل اوّل کے دونوں مقدمات میں جن سے مخلوقیت روحوں کی ثابت ہوتی ہے موجودات کے لفظ کو اسی لحاظ سے عالم کے لفظ سے مشروط اور مقیّد کرچکے ہیں یعنی موجودات عالم کا لفظ لکھ کر اس بات کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ دلیل فقط موجودات عالم کے متعلق ہے یعنی ان چیزوں کے متعلق ہے جو عالم میں داخل ہیں لیکن خدائے تعالیٰ عالم سے باہر ہے اور خدائے تعالیٰ کی نسبت ایسا خیال کرنا کہ اس کی ذات میں بھی طرح طرح کی طاقتیں اور قوتیں اور عجائب صفتیں پائی جاتی ہیں اس لئے اس کا بھی کوئی موجد چاہئے۔ یہ خیال انہیں لوگوں کے دلوں میں اٹھتا ہے جن کو معرفتِ الٰہی سے ایک ذرہ بھی حصہ نہیں کیونکہ خدائے تعالیٰ کے وجود کی نسبت یہ تو پہلے ہی سے ماننا پڑتا ہے کہ وہ ایک ایسا وجود ہے کہ جس کی ذات اور ذاتی طاقتیں اور قوتیں اور کامل صفتیں غیر محدود اور غیر متناہی ہیں جو کسی تحدید اور کسی دائرہ عقل یا قیاسی یا وہمی میں نہیں آسکتیں اور یہ بھی ابتداء ہی سے قبول کیا جاتا ہے کہ اس کا وجود سب وجودوں پر غالب اور سب وجودوں سے افضل اور سب وجودوں سے اول اور اس کی طاقتیں سب طاقتوں سے بڑھ کر ہیں اور اس کی قوتیں سب قوتوں سے زیادہ تر اور اس کی کامل

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 212
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 212
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/212/mode/1up

کہؔ بغیر دخل مالک الملک کے تمام روحیں اور ذرّہ ذرّہ اجسام کا خودبخود قدیم سے چلا آتا ہے بلکہ وہ تو پورا پورا فیصلہ کرلیں گے یا تو اپنے باپ دادوں کے خیالات کو کسی ٹھکانہ لگا کر ٹھیک ٹھیک دہریہ بن جائیں گے اور یا اگر سعادت مند ہوئے تو ربّ العٰلمین پر ایمان لائیں گے اور اپنی مخلوقیت کا اقرار کرلیں گے مگر دونوں صورتوں میں وید کے پنجہ سے نکل جائیں گے وہ وقت گزر گئے جب لوگ وید کے کہے کہائے سے چاند سورج کی
صفتیںؔ سب صفتوں سے اکمل اور اتم ہیں اور یہ بجائے خود ثابت کیا گیا ہے کہ تمام ایسے وجودوں کے لئے جو محدود اور مقید اور ناقص اور ناتمام ہیں ایک ایسے وجود کی ضرورت ہے جس کو من کل الوجوہ کمالِ تام ہو اور حدود و قیود سے پاک اور برتر ہو۔ پس جبکہ اس کو کامل تام اور غیر متناہی اور غیر محدود اور سب برتروں سے برتر مان لیا گیا اور تمام ناقصوں کا مبدء فیوض اس کو ٹھہرایا گیا تو پھر اُس کی نسبت یہ خیال کرناکہ اس کا بھی کوئی موجد ہونا چاہئے یہ غایت درجہ کی وحشیانہ جہالت اور ُ برے طور کی نادانی ہے کیونکہ اگر وہ کسی اور موجد کا محتاج ہے تو پھر وہ اس صور ت میں نہ کامل رہ سکتا ہے نہ غیر محدود حالانکہ اس کی خدائی کے لئے یہ شرط ضروری ہے کہ اس کو کمال تام حاصل ہو اور اس کی ذات حدود اور قیود سے منزہ اور پاک ہو غرض اس بات کا قائل ہوکر کہ وہ غیر متناہی اور سب طاقتوں سے بڑھ کر اور کامل تام ہے پھر یہ خیال کرنا کہ باایں ہمہ اس کو کسی موجد کی بھی ضرورت ہے گویا نقیضینکو جمع کرلینا ہے کیونکہ جب پہلے ہی اس کی ذات پر ایمان لانے کے وقت صحت ایمان اسی بات پر موقوف ہے کہ اس کو اکمل و اتم اور بے انتہا اور ہریک ضعف اور نقصان سے خالی سمجھا جائے تو پھر یہ خیال کہ اس کا کوئی موجد ہونا چاہئے اس صفت ایمان سے بکلّی انکار اور کنارہ کشی ہے اور نیز یہ بھی ظاہر ہے کہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 213
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 213
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/213/mode/1up

پوجا ؔ کرتے تھے اور اگنی کے آگے ہاتھ جوڑتے تھے اور ہندوستان کے تمام عجائبات کو معبود بنا رکھا تھا اب وید کا نیک وقت شاید اس زمانہ میں آوے کہ جب پھر لوگ ویسی ہی موٹی عقل کے ہوجائیں کہ جیسے وہ وید کے زمانہ میں تھے مگر پھر اس تنگ و تاریک حالت کی طرف زمانہ کا پلٹا کھانا قرین قیاس نہیں معلوم ہوتا اس زمانہ میں بڑے بڑے بوڑھے پنڈت یہ خیال کرتے تھے کہ کوہ ہمالیہ کے پرے اور کوئی ملک ہی نہیں
مخلوق ؔ کی نسبت خالق کا اعلیٰ ہونا لازم ہے اور جب کہ ہم اُسی ذاتِ اکمل و اتم کو خدا کہتے ہیں جس سے اعلیٰ کوئی نہیں تو اس کو خودبخود ماننا پڑا غرض انتہائی درجہ کا کامل خیال کرنا تحقق خدائی کے لئے واجب ہے اور انتہائی درجہ کے کمال کو خودبخود ہونا لازم پڑا ہوا ہے۔ یہ قاعدہ کہ ہم پرحکمت چیز کو دیکھ کر جس میں طرح طرح کی عجائب صفتیں پائی جاتی ہیں ایک صانع حکیم کا ایجاد اس کو سمجھتے ہیں یہ تو ان اشیاء عالم سے متعلق ہے جن کا ناقص ہونا اول ہم ثابت کرلیتے ہیں اور جن کا محدود اور مقید ہونا اور اپنی تکمیل ذات کے لئے غیر کی طرف محتاج ہونا دلائل کاشفہ سے ہم پر کھل جاتا ہے تب جو جو کاریگری کے کام ایسے ناقص وجودوں میں پائے جاتے ہیں ان کی نسبت بطور یقین اور قطع کے ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ ان عجائب کاموں کا کرنے والا ضرور در پردہ موجود ہے جو قادر و حکیم و کامل ہے اور یہ بھی ہریک پر واضح ہے کہ ہم عالم کی چیزوں میں سے جتنی چیزوں کے وجود پر نظر ڈال کر ایک موجد کامل وقادر کا انہیں محتاج پاتے ہیں یا ان کی نسبت حکم صادر کرتے ہیں کہ ان موجودات کا کوئی موجد چاہئے وہ سب ایسی چیزیں ہیں جو کسی نہ کسی طور سے بلاواسطہ وسائل دیگر ہماری نظر اور فکر کے آگے محسوس اور معلوم الوجود ہوتے ہیں بجز ایک ذات پروردگار جل شانہٗ کے جو ہم اس کے وجود کو بغیر ذریعہ وحی یا مصنوعات کے جو اپنے صانع پر دلالت کرتے ہیں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 214
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 214
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/214/mode/1up

اور ؔ یہ اعتقاد کیا گیا تھا کہ چونکہ ہمگی و تمامی جائیداد پرمیشر کی یہی آریہ دیس ہے اس لئے پرمیشر کو اس اپنی جاگیر سے بڑی محبت ہے اور اس نے ہمیشہ کے لئے آریوں کو ٹھیکہ دے رکھا ہے کہ ہمیشہ میرا کلام تم میں ہی اترے گا سنسکرت میری زبان ہوگی آریہ دیس میرا دیس ہوگا اور وید میرا ہمیشہ کلام ہوگا اَوروں سے مجھے کیا غرض اور کیا واسطہ لیکن اس زمانہ میں ایک دس برس کا بچہ بھی کچھ تھوڑا سا جغرافیہ پڑھ کر معلوم کرسکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ
اورؔ کسی طرح شناخت ہی نہیں کرسکتے سو درحقیقت اس کا وجود اور چیزوں کے وجود کی طرح معلوم التعین نہیں تا اس کے موجد اور تعین کنندہ کا خیال دل میں گزر سکے بلکہ وہ تمام مصنوعات پر غور کرنے کا ایک ضروری نتیجہ ہے جو اپنی ذات میں خیال اور قیاس اور گمان اور وہم سے بلند تر وبرتر ہے۔ غرض اس کا وجود اور چیزوں کی طرح نہیں بلکہ اس کے وجود سے مراد وہ آخری وجود ہے جو تمام چیزوں پر نظر ڈالنے کے بعد اس کی ضرورت ثابت ہوتی ہے سو جس خاص طور سے اس کا وجود تمام عالم کے اطوار شناخت سے الگ پڑا ہوا ہے وہی طور خاص اس بات کو سمجھا دیتا ہے کہ اس کے لئے موجد کا ہونا ممتنع اور خلاف عقل ہے اور بجز اسی کی ذات کامل اور غنی مطلق و غیر محدود کے اور کسی چیز کو ہم ایسی نہیں دیکھتے جو داغ نقصان اور احتیاج الیٰ الغیر سے خالی ہو اور دوسری طرف ہم اس کی غیر میں یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کیا ارواح اور کیا اجسام اپنی ذات اور صفات میں طرح طرح کے پُرحکمت خواص اپنے وجود کے اندر رکھتے ہیں اس لئے ہم کو ایسے مصنوعات پر نظر ڈال کر بضرورت ماننا پڑتا ہے کہ کسی صانع قدیم و حکیم و قادر کامل کے ہاتھ سے یہ سب چیزیں نکلی ہیں لیکن خدائے تعالیٰ کی نسبت جو اپنی ذات میں کامل اور احتیاج غیر سے منزہ اور غیر محدود اور غیر متناہی طاقتوں والا ہے یہ خیال پیدا نہیں ہوتے کیونکہ غیر متناہی سے بڑھ کر اور کون ہوگا جو

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 215
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 215
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/215/mode/1up

کیؔ زمین کیسی کیسی آبادیوں پر مشتمل ہے اور کیونکر کروڑہا رنگا رنگ کی مخلوقات پردۂ زمین پر آباد ہورہی ہے اور خدائے تعالیٰ نے کیسی ان کو عقل میں فہم میں دنیا میں دین میں آریوں کی نسبت بہت زیادہ ترقیات بخشی ہیں کیا اتنے بڑے جہان کا مالک ایک خسیس اور بخیل آدمی کی طرح ہمیشہ کے لئے ایک خاص ملک تک اپنے فیوض الہامی محدود رکھ سکتا ہے پھر وہ الہام جس پر اس قدر ناز ہے یعنی وید عجیب قسم کا الہام ہے کہ اول سے
اُسے ؔ پیدا کرنے والا ہوگا اس لئے عالم کی چیزوں کے ساتھ اس کا قیاس نہیں کیا جاتا بلکہ وہ تو لایدرک ذات ہے جو تمام عالم کی چیزوں پر نظر ڈالنے کے بعد ضروری طور پر ماننا پڑتا ہے نہ احاطہ عقلی یا رؤیت کے طور پر سو جو اس طرح لایدرک طور پر مانا گیا ہے اسے کامل برتر از عقل و فہم کا نام خدا ہے سوائے اس کے تمام موجودات کی ایجاد کی نسبت تو وہ اپنے الہام کے ذریعہ سے آپ دعویدار ہوگیا اور پاک ملہموں کی روح میں ہوکر اس نے کلام کیا کہ جو کچھ نظر آتا ہے جو خالی نقصان سے نہیں اُس سب کا موجد میں ہی ہوں جو کامل ہوں اور یہ ملہم لوگ ایسے نادر الوجود نہیں جو صرف چار ہی ہوں اور کوئی پانچواں نہ ہو بلکہ بے شمار ہوئے ہیں اور آئندہ بھی ہمیشہ الہامات کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور ہریک شخص صراط مستقیم پر قدم مارنے سے جو قانون تحصیل مرضیات الٰہی ہے حسب دائرہ حوصلہ و استعداد اپنے کے الہامات کو پا سکتاہے اور مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مستفیض ہوسکتا ہے غرض جس حالت میں خدائے تعالیٰ بذریعہ اپنے الہام کے قدیم سے انا الخالق کا دعویٰ کرتا چلا آیا ہے اور ہریک روح بوجہ اپنے نقصان ذاتی اور احتیاج ایک ربّ کے جو تدارک اس نقصان کا کرے اپنے نفس میں اس کی ضرورت بھی پاتی ہے۔ تو اس صورت میں اس ذات کامل الصفات کا خالق ہونا بدیہی الثبوت ہے لیکن اس خالق حقیقی کے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 216
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 216
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/216/mode/1up

آخرؔ تک بجز مخلوق پرستی کے بات نہیں کرتا پنڈت دیانند نے تاویلات میں بہت کوشش کی مگر کوئی کج کو سیدھا ظاہر کرنے میں کہاں تک ٹکریں مارے آخر کچھ بھی نہ ہوسکا وید ؔ کی تعلیم مخلوق پرستی کے ایک آدھ مقام میں تو نہیں کہ چھپ سکے وہ تو سارا انہی خیالات سے بھرا ہوا ہے۔ تمام دنیا کے پردے میں گھوم آؤ تمام قوموں کو پوچھ کر دیکھ لو کوئی قوم ایسی نہ پاؤ گے کہ جو وید کو پڑھے اور اس کو موحدانہ تعلیم سمجھے ہم سچ سچ کہتے ہیں اور زیادہ باتوں میں وقت کھونا نہیں چاہتے کہ جو کچھ قرآن شریف کے دس ورق سے توحید کے معارف آفتاب عالمتاب کی طرح ظاہر ہوتے ہیں اگر کوئی شخص وید کے ہزار ورق سے بھی نکال کر دکھلاوے تو ہم پھر بھی مان جائیں کہ ہاں وید میں توحید ہے اور جو چاہے حسب استطاعت ہم سے شرط کے طور پر مقرر بھی کرالے ہم قسمیہ بیان کرتے ہیں اور خدائے واحد لاشریک کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم بہرحال ادائے شرط مقررہ پر جس طور سے فیصلہ کرنا چاہیں حاضر ہیں لیکن ناظرین خوب یاد رکھیں اور اے آریہ کے نو عمرو نو گرفتارو! تم بھی یاد رکھو کہ وید میں ہرگز توحید محض نہیں ہے وہ جابجا مشرکانہ تعلیم سے مخلوط ہے ضرور مخلوط ہے کوئی اس کو بری نہیں کرسکتا اور زمانہ آتا جاتا ہے کہ اُس کے سارے پردے کھل جائیں سو تم لوگ اس خدا سے ڈرو جس کی عدالت سے کسی ڈھب روپوش نہیں ہوسکتے۔
آریہ سماج والوں میں نانک صاحب کے چیلے بھی کچھ کچھ داخل ہیں انہیں ہم بطور
لئےؔ کوئی اور خالق تب تجویز کیا جائے جب اول کوئی اس کے سر پر دعویدار اٹھے کہ اس کا میں خالق ہوں اور اُس کو مغلوب اور محکوم کرکے دکھلاوے مگر جب کہ ان تمام باتوں میں سے کوئی بات بھی ثابت نہیں اور من کل الوجوہ خدائے تعالیٰ کامل الذات والصفات اور اپنی ذات میں واحد لاشریک اور درحقیقت سب برتروں سے برتر ہے تو پھر ایسا خیال سراسر دیوانگی اور حماقت ہے۔ منہ۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 217
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 217
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/217/mode/1up

خاصؔ نصیحت کرتے ہیں کہ تمہارے گرو صاحب نے جابجا وید سے مخالفت کی ہے اور جہاں تک ان کی علمی حیثیت تھی انہوں نے دین اسلام کے عقائد کو پسند کیا ہے بلکہ ایک صاحب نرائن سنگھ نام گرنتھ خوان واعظ نے ایک سوسے زیادہ آدمیوں کے مجمع میں ہمارے روبرو بیان کیا کہ وہ بعض اوقات اعمال عبادت بھی اسلام کے طور پر بجالاتے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ درپردہ حق کے قبول کرنے کے لئے بہت کچھ تیار ہوگئے تھے۔ وہ اپنے گرنتھ میں فرماتے ہیں کہ جو ہمیشہ خودبخود بغیر کسی کے پیدا کرنے کے چلا آیا ہے وہی پرمیشر ہے جیسے ان کا یہ شبد ہے۔ ’’تہا پیا نہ جا کیتا نہ ہو۔ آپے آپ نرنجن سو‘‘۔ یعنی جو بغیر کسی کے پیدا کرنے کے خودبخود قدیم سے چلا آیا ہے وہی خدا ہے۔ اب دیکھو کہ اگر روحوں کو قدیم اور خودبخود مانا جائے تو اس تعریف کے رو سے ان سب روحوں کا خدا ہونا لازم آتا ہے تو پھر یہ پرمیشر کی کیا تعریف ہوئی جس میں سارا جہان داخل ہے۔ اور اگر ہم اس تعریف کو غلط اور خلاف عقائد ہنود سمجھیں اور یہ خیال کریں کہ نانک صاحب نے بوجہ نہ ہونے علم وید کے اپنے پرمیشر کی ایسی تعریف کردی ہے جو صریح وید کے اصولوں کے برخلاف ہے تو اس میں نانک صاحب کی کسر شان ہے کیونکہ وہ اپنے گرنتھ کے کئی مقامات میں صاف صاف لکھتے ہیں کہ میں نے وید پڑھا ہوا ہے اور چاروں ویدوں کی تعلیمیں مجھ سے پوشیدہ نہیں اور میں خوب جانتا ہوں کہ وید تناسخ کو مانتا ہے جس کی بنیاد روحوں کا غیر مخلوق ہونا ہے پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ وید کی تعلیم کو اس جگہ نانک صاحب نے قبول نہیں کیا اور جابجا یہ بھی جتلا دیا کہ میں ویدوں کی تعلیم سے ناواقف نہیں اور نہ بے علم ہوں بلکہ چاروں ویدوں کو میں نے پڑھا اور خوب کنٹھ کیا ہوا ہے سو اتنے بڑے دعویٰ سے نانک صاحب کا وید کے اس اصل الاصول سے دست بردار ہوجانا صاف دلالت کرتا ہے کہ نانک صاحب ویدوں کے اس بھاری عقیدہ سے جو مدار تناسخ ہے اپنی زندگی میں بیزار ہوچکے تھے اور ہادی مطلق نے ان کے دل کو یہ ہدایت کردی تھی کہ یہ تحریر ویدوں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 218
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 218
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/218/mode/1up

کیؔ بالکل جھوٹی اور غلط ہے پس جب کہ نانک صاحب حسب تعلیم قرآن شریف خدائے تعالیٰ کے خالق اور ربّ العالمین ہونے پر ایمان لے آئے تھے اور ویدوں کی ایسی ایسی تعلیموں کو انہوں نے یک لخت چھوڑ دیا تھا اس لئے ان صاحبوں کی خدمت میں جو نانک صاحب کے سکھ ہوکر اور کشن سنگھ بشن سنگھ نارائن سنگھ بھگوان سنگھ وغیرہ نام رکھوا کر پھر اپنے گورو کے گرنتھ سے باہر چلے جاتے ہیں بادب تمام عرض کیا جاتا ہے کہ وہ بھی وید کی ایسی ایسی تعلیموں سے دست کش ہوجائیں ورنہ اگر نانک صاحب سے روحانی موافقت نہیں تو پھر خواہ نخواہ ایک ٹوکرا کیسوں کا سر پر اٹھائے رکھنا اور حرارت اور عفونت کی تکلیفیں اٹھانا ضرورت ہی کیا ہے۔ نانک صاحب روحوں کے مخلوق ہونے کے بارے میں اپنے گرنتھ میں کافی شہادت دے گئے ہیں چنانچہ وہ ایک جگہ فرماتے ہیں۔ ایتی کیتی ہور کرے۔ تا آکھ نہ سکے کئی کے۔ یعنی اگر اس قدر ارواح اور اجسام جو پہلے خدائے تعالیٰ پیدا کر چکا ہے اور پیدا کرے تو وہ کرسکتا ہے اور اس کی قدرتوں کے مقابل اور ہم قدم تعریفیں چل نہیں سکتیں۔ یہ مقولہ نانک صاحب کا بالکل قرآن شریف کی ایک آیت کا گویا ترجمہ ہے اور سراسر اس کے مطابق ہے چونکہ نانک صاحب اکثر دلی اخلاص سے علماء اسلام کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے اور دینی باتیں سنتے تھے اس لئے کسی مولوی صاحب کی زبانی انہوں نے یہ مضمون آیت کا سن لیا ہوگا کیونکہ مسلمانوں سے اکثر ان کی صحبت رہتی تھی۔ چنانچہ لکھا ہے کہ بعض اوقات وہ نماز بھی پڑھ لیا کرتے تھے اور پھر اس کے بعد ان کا یہ شبد ہے جو نیچے لکھا جاتا ہے۔ جے وڈ بھاوے تے وڈہو۔ نانک جانے ساچا سو۔ آفرین اے نانک آفرین یہ شبد بھی قرآن شریف کی اس آیت کے سراسر مطابق زبان سے نکل گیا ہے اور آیت یہ ہے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یعنی تمام محامد اور تمام کمالات اور تمام تعریفیں اور تمام بزرگیاں اور خوبیاں جو مرتبہ جلیلہ خدائی کے لئے ضروری ہیں وہ سب اللہ جل شانہٗ کو حاصل اور اس کی ذات میں جمع

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 219
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 219
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/219/mode/1up

ہیں ؔ جس کی ایجاد کے بغیر کوئی چیز موجود نہیں ہوئی اور وہ تمام عالمین کا رب اور پیدا کنندہ ہے پس اسی آیت شریفہ کے مطابق نانک صاحب کا شبد ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ جو بزرگی اور عظمت اور قدرت خدائے تعالیٰ کو چاہئے وہ سب اسے حاصل ہے۔ اے نانک جو اس بات کو جانتا ہے وہی صادق ہے۔ افسوس اس بات کو وید کیوں نہیں جانتا آریہ لوگ کیوں نہیں جانتے دیانند صاحب کیوں جانے بغیر کوچ کرگئے۔ یہ ظاہر ہے کہ پیدا کرنا اور محض اپنی قدرت سے وجود بخشنا ایک کمال ہے جو بڑی تعریف کے لائق ہے اور خدا وہ ہونا چاہئے جس میں سب کمالات اور سب تعریف کی باتیں پائی جائیں مگر وید کے پرمیشر پر یہ کیا مصیبت نازل ہوئی کہ وہ اس بھاری درجہ کے کمال سے کہ جو تمام کارخانہ خدائی کی کنجی ہے بے نصیب رہ گیا۔ دیکھو اے کیسوں والے آریو! جو نانک صاحب کے چیلہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہو کہ نانک صاحب قرآنی آیت کی تصدیق کرکے کہتے ہیں کہ صادق وہی ہے کہ جو ان سب بزرگیوں اور تعریفوں کا قائل ہے کہ جو خدائے تعالیٰ کو اپنے کمال تام کے لئے مطلوب ہیں ورنہ جھوٹا اور دروغگو ہے۔ سو تم اب تو وید کا پیچھا چھوڑو کہ تمہارے گورو صاحب پکار پکار کر کہہ رہے ہیں اور اپنے شبد تمہیں سنارہے ہیں اور پھر دیکھو کہ وہ مخالفوں پر ناراض ہوکر آگے کیا فرماتے ہیں۔ جے کو آکھے بول بگاڑ۔ تا لکھی سر گواراں گوار۔ یعنی اگر کوئی یہ بات تسلیم نہ کرے اور اس کا مخالف کچھُ منہ پر لاوے تو اس کو جاہلوں کا سردار لکھنا چاہئے۔ اے نانک صاحب آپ کہاں اور کدھر ہو اب تو آپ ہی کے چیلے آریہ سماج میں بیٹھ کر بول بگاڑ رہے ہیں اور صاف کہہ رہے ہیں کہ دنیا کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں بلکہ وہ تو وید کی شرتیوں کو سچ مچ درست سمجھ کر خدائے تعالیٰ کا خالق اور ربّ العالمین ہونا غیرممکن سمجھتے ہیں اور اگر کسی کے منہ سے بھولے سے یہ نکل بھی جائے کہ میری روح کا رب اور پیدا کنندہ پرمیشر ہے تو اس کو مہان پاپی خیال کرتے ہیں اور اپنے پرمیشر کو صرف اس قدر

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 220
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 220
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/220/mode/1up

طاقتؔ والا جانتے ہیں کہ اس کو فقط جوڑنا جاڑنا آتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔ آپ نے تو قرآن شریف کے مطابق انہیں یہ سبق پڑھایا تھا کہ وہ تمام انتہائی درجہ کی قدرتیں اور عظمتیں اور تعریفیں جو ذہن میں آسکتی ہیں اور وہ سب کمالات اعلیٰ سے اعلیٰ جو خدا ہونے کے لئے زیبا و شایان ہیں وہ سب پرمیشر کو حاصل ہیں مگر آپ کے چیلے تو چار دن آریہ سماج میں بیٹھ کر اور ویدوں کی ملحدانہ شرتیوں کو سن کر آپ کے اس گورمنتر کو چھوڑ بیٹھے اور وہ پٹڑی ہی بھول گئے جس پر آپ نے انہیں جمایا تھا اب اور تعریفیں پرمیشر کی تو طاق پر رہیں انہوں نے تو وہ پہلا حرف ہی جس سے نام پرمیشر کا دنیا میں ظاہر ہوتا ہے یعنی پیدا کرنا اپنے لوح دل سے ایسا مٹا دیا ہے کہ گویا کبھی سنا ہی نہیں تھا۔
ان کو سودا ہوا ہے ویدوں کا
ان کا دل مبتلا ہے ویدوں کا
آریو اس قدر کرو کیوں جوش
کیا نظر آگیا ہے ویدوں کا
نہ کیا ہے نہ کرسکے پیدا
سوچ لو یہ خدا ہے ویدوں کا
عقل رکھتے ہو آپ بھی سوچو
کیوں بھروسا کیا ہے ویدوں کا
بے خدا کوئی چیز کیونکر ہو
یہ سراسر خطا ہے ویدوں کا
ناستک مت کے وید ہیں حامی
بس یہی مدعا ہے ویدوں کا
ایسے مذہب کبھی نہیں چلتے
کال سر پر کھڑا ہے ویدوں کا
اور واضح رہے کہ یہ تعلیم ویدوں کی کہ دنیا خودبخود چلی آتی ہے کوئی اس کے سر پر پیدا کنندہ و مالک نہیں ہے صرف ایک ادھورا سا جوڑنے جاڑنے والا ہے یہ ایک ایسا ناقص اعتقاد ہے جس کے ماننے سے بہ مجبوری یہ ماننا پڑتا ہے کہ اس جوڑنے جاڑنے والے کو یا تو اپنے ممالک مقبوضہ کا کچھ بھی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 221
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 221
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/221/mode/1up

علم ؔ نہیں اور یا شاید کچھ ہے تو ایک ناقص اور ناتمام سا علم ہے جیسے ایک موتیا بند والے کو جس کی آنکھوں پر نزول الماء اتر آیا ہو کچھ کچھ اوّل دھندلا سا نظر آتا ہے۔*اور پھر آخرکار پورا پورا اندھا ہوجاتا ہے پس صاف ظاہر ہے کہ ایسی خراب تعلیم کو جس کے ایسے ایسے خراب نتائج ہیں کسی صاف دل ہندو کی روح بھی قبول نہیں کرسکتی بلکہ پنڈت دیانند کے دل نے بھی اس کو قبول نہیں کیا لالہ شرم پت ایک آریہ اسی جگہ قادیان کے
یہ اؔ یک نہایت باریک صداقت ہے کہ علم باری تعالیٰ جس کی کاملیت کی وجہ سے وہ ذرہ ذرہ کے ظاہر و باطن پر اطلاع رکھتا ہے کیونکر اور کس طور سے ہے اگرچہ اس کی اصل کیفیت پر کوئی عقل محیط نہیں ہوسکتی مگر پھر بھی اتنا کہنا سراسر سچائی پر مبنی ہے کہ وہ تمام علم کے قسموں میں سے جو ذہن میں آسکتے ہیں اشدوا قویٰ واتم و اکمل قسم ہے۔ جب ہم اپنے حصول علم کے طریقوں کو دیکھتے ہیں اور اس کے اقسام پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اپنے سب معمولی علموں میں سے بڑا یقینی اور قطعی وہی علم معلوم ہوتا ہے جو ہم کو اپنی ہستی کی نسبت ہے کیونکہ ہم اور ایسا ہی ہر ایک انسان کسی حالت میں اپنی ہستی کو فراموش نہیں کرسکتا اور نہ اس میں کوئی شک کرسکتا ہے سو جہاں تک ہماری عقل کی رسائی ہے ہم اس قسم کے علم کو اشد و اقویٰ و اتم و اکمل پاتے ہیں اور یہ بات ہم سراسر خدائے تعالیٰ کی ذات کامل سے بعید دیکھتے ہیں کہ جو اس درجہ اور اس قسم کے علم سے اس کا علم اپنے بندوں کے بارہ میں کمتر ہو کیونکہ یہ بڑے نقص کی بات ہے کہ جو اعلیٰ قسم علم کی ذہن میں آسکتی ہے وہ خدائے تعالیٰ میں نہ پائی جائے اور اعتراض ہوسکتا ہے کہ کس وجہ سے خدائے تعالیٰ کا علم اعلیٰ درجہ کے علم سے متنزل رہا آیا اس کے اپنے ہی ارادہ سے یا کسی قاسر کے قسر سے اگر کہو کہ اس کے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 222
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 222
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/222/mode/1up

رہنےؔ والے نے میرے پاس بیان کیا کہ میں نے روحوں کی پیدائش کے بارے میں دیانند جی سے دریافت کیا تو لگے باتیں بنانے اور فرمایا کہ پہلے جو ہوچکا سو ہوچکا آئندہ اگر پرمیشر پیدا کرتا ہی چلا جائے تو اتنا بڑا وسیع مکان کہاں سے لائے جن میں روحیں رہا کریں اب دیکھو کہ اس تقریر میں ناچار ہوکر دیانند نے اس قدر مان لیا کہ اول پرمیشر نے ضرور روحوں کو پیدا کیا تھا لیکن آئندہ اس خوف سے پیدا کرنے سے دست کش ہے کہ کوئی
اپنے ؔ ہی ارادہ سے تو یہ جائز نہیں کیونکہ کوئی شخص اپنے لئے بالارادہ نقصان روا نہیں رکھتا تو پھر کیونکر خدائے تعالیٰ جو بذات خود کمالات کو دوست رکھتا ہے ایسے ایسے نقصان اپنی نسبت روا رکھے اور اگر کہو کہ کسی قاسر کی قسر سے یہ نقصان اس کو پیش آیا تو چاہئے کہ ایسا قاسر اپنی طاقتوں اور قوتوں میں خدائے تعالیٰ پر غالب ہو‘تا وہ زیادت قوت کی وجہ سے اس کے ارادوں سے روک سکے اور یہ خود ممتنع اور محال ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ پر اور کوئی قاسر نہیں جس کی مزاحمت سے اس کو کوئی مجبوری پیش آوے پس ثابت ہوا کہ ضرور خدائے تعالیٰ کا علم کامل تام ہے اور پہلے ہم ابھی ثابت کرچکے ہیں کہ علم کی تمام قسموں میں سے کامل و تام وہ علم ہے کہ جو ایسا ہو جیسے ایک انسان کو اپنی ہستی کی نسبت علم ہوتا ہے سو ماننا پڑا کہ خدائے تعالیٰ کا علم اپنی مخلوقات کے بارہ میں اسی علم کی مانند اور اسی کے مشابہ ہے گو ہم اس کی اصل کیفیت پر محیط نہیں ہوسکتے لیکن ہم اپنی عقل سے جس کی رو سے ہم مکلف ہیں یہ سمجھ سکتے ہیں کہ بڑا قطعی اور یقینی علم یہی ہے جو عالم اور معلوم میں کسی نوع کا ُ بعد اور حجاب نہ ہو سو وہ قسم علم کی یہی ہے اور جس طرح ایک انسان کو اپنی ہستی پر مطلع ہونے کے لئے دوسرے وسائل کی ضرورت نہیں بلکہ جاندار ہونا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 223
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 223
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/223/mode/1up

ایسا ؔ بڑا مکان اسے نہیں ملتا۔ اس تقریر سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پنڈت دیانند کو اپنی عمر کے آخری حصہ میں وید کی ایسی ایسی تعلیموں کی نسبت بہت کچھ شکوک اور شبہات پڑگئے تھے بلکہ رسالہ دھرم جیون پندرھویں جولائی ۱۸۸۶ ؁ء میں لکھا ہے کہ پنڈت دیانندصاحب جاتے وقت اشاروں کنایوں سے بعض معزز برہمو صاحبوں کو سمجھا گئے کہ اب میرا ایمان ویدوں پر نہیں رہا۔ میں کہتا ہوں کہ پنڈت صاحب تو پنڈت صاحب ہی تھے
اورؔ اپنے تئیں جاندار سمجھنا دونوں باتیں ایسی باہم قریب واقع ہیں کہ ان میں ایک بال کا فرق نہیں سو ایسا ہی جمیع موجودات کے بارہ میں خدا تعالیٰ کا علم ہونا ضروری ہے یعنی اس جگہ بھی عالم اور معلوم میں ایک ذرّہ فرق اور فاصلہ نہیں چاہیئے اور یہ اعلیٰ درجہ علم کا جو باری تعالیٰ کو اپنے تحقق الوہیت کے لئے اس کی ضرورت ہے اسی حالت میں اس کے لئے مسلم ہو سکتا ہے کہ جب پہلے اس کی نسبت یہ مان لیا جائے کہ اس میں اور اس کے معلومات میں اس قدر قرب اور تعلق واقع ہے جس سے بڑھ کر تجویز کرنا ممکن ہی نہیں اور یہ کامل تعلق معلومات سے اسی صورت میں اس کو ہوسکتا ہے کہ جب عالم کی سب چیزیں جو اس کی معلومات ہیں اس کے دستِ قدرت سے نکلی ہوں اور اس کی پیدا کردہ اور مخلوق ہوں اور اس کی ہستی سے ان کی ہستی ہو یعنی جب ایسی صورت ہو کہ موجود حقیقی وہی ایک ہو اور دوسرے سب وجود اس سے پیدا ہوئے ہوں اور اس کے ساتھ قائم ہوں یعنی پیدا ہوکر بھی اپنے وجود میں اس سے بے نیاز اور اس سے الگ نہ ہوں بلکہ درحقیقت سب چیزوں کے پیدا ہونے کے بعد بھی زندہ حقیقی وہی ہو اور دوسری ہر ایک زندگی اسی سے پیدا ہوئی ہو اور اس کے ساتھ قائم ہو اور بے قید حقیقی وہی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 224
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 224
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/224/mode/1up

ایسےؔ ویدوں پر کسی منصف مزاج کا ایمان نہیں رہ سکتا بلکہ کون آدمی ایسا دل کا اندھا ہے جس کو یہ موٹی بات بھی سمجھ میں نہ آسکے کہ جس پرمیشر کو پیدا کرنا بھی نہیں آتا اور یوں ہی جائیداد مستعار سے کام چلارہا ہے وہ کس بات کا پرمیشر ہے اور جس کی کمزوری کا یہ حال ہے کہ اگر روحیں اور مواد نہ ہوں تو پھر اس کا سب پرمیشر پن طاق پر رکھا رہ جائے ایسے نالائق کو کون پرمیشر کہہ سکتا ہے۔ یہ بات ایسی صاف صاف اور انسان کے فطرتی تقاضا
ایک ؔ ہو اور دوسری سب چیزیں کیا ارواح اور کیا اجسام اس کی لگائی ہوئی قیدوں میں مقید اور اس کے ہاتھ کے بندوں سے بندھے ہوئے اور اس کی مقرر کردہ حدوں میں محدود ہوں اور وہ ہرچیز پر محیط ہو اور دوسری سب چیزیں اس کی ربوبیت کے نیچے احاطہ کی گئی ہوں اور کوئی ایسی چیز نہ ہو جو اس کے ہاتھ سے نہ نکلی ہو اور اس کی ربوبیت کا اس پر احاطہ نہ ہو یا اس کے سہارے سے وہ چیز قائم نہ ہو غرض اگر ایسی صورت ہو تب خدائے تعالیٰ کا تعلق تام جو علم تام کے لئے شرط ہے اپنے معلومات سے ہوگا اسی تعلق تام کی طرف اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ قرآن شریف میں ارشاد فرمایا جیسے وہ فرماتا ہے
وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ‏
یعنی ہم انسان کی جان سے اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ تر نزدیک ہیں اور ایسا ہی اس نے قرآن شریف میں ایک دوسری جگہ فرمایا ہے ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ یعنی حقیقی حیات اسی کو ہے اور دوسری سب چیزیں اس سے پیدا اور اس کے ساتھ زندہ ہیں یعنی درحقیقت سب جانوں کی جان اور سب طاقتوں کی طاقت وہی ہے لیکن اگر یہ خیال کیا جائے کہ وہ قدیم سے الگ کا الگ چلا آتا ہے اور اس کی ربوبیت کا کسی چیز پر احاطہ نہیں اور کوئی چیز اس سے ظہور پذیر نہیں ہوئی تو اس صورت میں علم کائنات

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 225
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 225
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/225/mode/1up

کےؔ موافق ہے کہ ہریک پاک دل آدمی بلا تردّد اس کے شہادت اپنے دل میں پاتا ہے اور خود ہندو لوگ بھی ہرگز پسند نہیں کرتے کہ ان کا پرمیشر ایسے نقصانوں میں مبتلا ہو مجھے یاد ہے کہ ہوشیارپور کے بحث میں جب میں نے لوگوں کو سنایا کہ آریہ سماج والوں کا یہ اعتقاد ہے کہ ان کا پرمیشر روحوں کے پیدا کرنے سے عاجز ہے تو کئی معزز ہندو جو میرے پاس بیٹھے تھے وہ یہ سن کر توبہ توبہ کرنے لگ گئے کہ یہ کیسا خراب
تو اؔ سے کیا ہوگا بلکہ محدود چیزوں میں سے وہ بھی ایک چیز ہوگی جس کا کوئی اور محدد تلاش کرنا پڑے گا۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ جو چیز غیر مخلوق فرض کی جائے اس کی نسبت یہ تو ہم پہلے ہی بیان کرچکے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کو اس چیز کا علم تام جو اس سے الگ اور غیر مخلوق اور قدیم ہے کسی طور سے نہیں ہوسکتا اور باایں ہمہ اس چیز کے نفس وجود پر نظر ڈالنے سے اس قدر بھی لازم نہیں آتا کہ خواہ نخواہ کسی درجہ کا ناقص علم بھی اس کے بارہ میں خدائے تعالیٰ کو حاصل ہو اور کوئی دلیل اس بات پر قائم نہیں ہوسکتی کہ کیوں حاصل ہو ہاں جو چیز ممکن اور حادث اور مسبوق بعدم ذاتی ہے وہ ضرور ہے کہ خدائے تعالیٰ کو معلوم ہو اور علم الٰہی سے باہر نہ ہو کیونکہ جو چیز نامعلوم ہے عطائے وجود اس کے لئے ممکن نہیں پس علم ممکنات قبل وجود ممکنات خدائے تعالیٰ کے لئے ہونا ضروری ہے اور اس سے بالضرور ثابت ہے کہ ممکنات باسرہا معلومات الٰہیہ میں داخل ہیں لیکن جس چیز کو ممکن اور حادث اور مسبوق بعدم ذاتی تسلیم نہ کیا جائے اور ذات علت العلل کا اس کو معلول اور محاط نہ ٹھہرایا جائے، اس پر کوئی برہان عقلی قائم نہیں ہوسکتی کہ کیوں وہ علم الٰہی سے باہر نہیں۔ مثلاً اگر روح کو مخلوق اور حادث تسلیم نہ کیا جائے تو اس بات کے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 226
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 226
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/226/mode/1up

اعتقادؔ ہے اور جب لالہ مرلی دھر صاحب اس اعتراض کا جواب لکھنے بیٹھے تو وہ چند ہندو صاحب اٹھ کر چلے گئے کہ ہم ہرگز ایسا بیہودہ جواب جس میں پرمیشر کی نندیا یعنی توہین ہے سننا نہیں چاہتے۔ ایسا ہی ایک صاحب نے میرے پاس بیان کیا کہ امرتسر کے مقام میں کوئی آریہ صاحب کسی جگہ بازار میں بکھیان کے طور پر یہ ذکر کررہے تھے کہ پرمیشر کا پرمیشر پن صرف جوڑنے جاڑنے تک ختم ہے اور اس سے آگے اسے کچھ طاقت نہیں اس پر کسی دوسرے ہندو نے کچھ بحث کرنا شروع کیا تب وہ لالہ صاحب بات کرتے کرتے گرم ہوکر کہنے لگے کہ ویدوں میں صاف لکھا ہے کہ جیو پرکرتی انادی یعنی روح و مادہ خودبخود قدیم سے چلے آتے ہیں جن کو کسی نے پیدا نہیں کیا یہ بات سنتے ہی اس
تسلیمؔ کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ ایک بے تعلق شخص جو فرضی طور پر پرمیشر کے نام سے موسوم ہے روح کی حقیقت سے کچھ اطلاع رکھتا ہے اور اس کا علم اس کی تہ تک پہنچا ہوا ہے کیونکہ جو شخص کسی چیز کی نسبت پورا پورا علم رکھتا ہے تو البتہ اس کے بنانے پر بھی قادر ہوتا ہے اور اگر قادر نہیں ہوسکتا تو اس کے علم میں ضرور کوئی نہ کوئی نقص ہوتا ہے اور اگر پورا علم نہ ہو تو قطع نظر بنانے سے متشابہ چیزوں میں باہم امتیاز کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ سو اگر خدائے تعالیٰ خالق الاشیاء نہیں تو اس میں صرف یہی نقص نہیں ہے کہ اس صورت میں وہ ناقص العلم ٹھہرا بلکہ اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ کروڑہا روحوں کے امتیاز اور تمیز اور شناخت میں روزبروز دھوکے بھی کھایا کرے اور بسا اوقات زید کی روح کو بکر کی روح سمجھ بیٹھے کیونکہ ادھورے علم کو ایسے دھوکے ضرور لگ جایا کرتے ہیں اور اگر کہو کہ نہیں لگتے تو اس پر کوئی دلیل پیش کرنی چاہیئے۔ منہ۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 227
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 227
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/227/mode/1up

ہندؔ و کو بھی جو بمقابل اس آریہ کے بات کررہا تھا ایسا جوش آگیا کہ بے اختیار اس کے منہ سے نکل گیا کہ اگر پرمیشر ایسا ہی عاجز ہے تو وہ پھر تیری ایسی تیسی کا پرمیشر ہے چنانچہ اس بات پر ان دونوں میں ہاتھا پائی اور دست بگریباں ہونے کی نوبت پہنچ چلی تھی مگر لوگوں نے درمیان میں ہوکر ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کردیا پس ان عام نفرتوں سے ظاہر ہے کہ دنیا میں کوئی بھی ایسا انسان نہیں ہے کہ اگر وہ اپنے تعصبات کو الگ کرکے سوچے تو وہ اس صاف اور بدیہی اور کھلی کھلی سچائی تک نہ پہنچ سکے کہ خدائے تعالیٰ کو اگر اس کی خوبیوں اور قدرتوں سے الگ کیا جائے تو پھر خود اس کو اپنی خدائی سے الگ ہونا پڑتا ہے کیا بجز اس کے کہ خدائے تعالیٰ ہر ایک وجود کا موجد ہے کوئی اور بھی بات چھپی ہوئی ہے جس کے رو سے خدا کو خدا کہا جاتا ہے۔
قولہ۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ ارواح کے غیر مخلوق اور خودبخود ماننے میں دوسری قباحت یہ ہے کہ ایسا اعتقاد خدائے تعالیٰ کو خدائی سے جواب دے رہا ہے۔ کیونکہ جو لوگ علم نفس اور خواص ارواح سے واقف ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں کہ جس قدر روحوں میں عجائب و غرائب خواص بھرے ہوئے ہیں وہ صرف جوڑنے جاڑنے سے پیدا نہیں ہوسکتے۔ مثلاً روحوں میں ایک کشفی قوت ہے جس سے وہ پوشیدہ باتوں کو بعد مجاہدات باذنہ ٖ تعالیٰ دریافت کرسکتے ہیں اور ایک قوت ان میں عقلی ہے جس سے وہ امور عقلیہ کو معلوم کرلیتے ہیں ایسا ہی ایک قوت محبت بھی ان میں ہے جس سے وہ خدائے تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں اگر ان تمام قوتوں کو خودبخود بلا ایجاد کسی موجد کے مان لیا جائے تو پرمیشر کی اس میں بڑی ہتک عزت ہے گویا یہ کہنا پڑے گا کہ جو عمدہ اور اعلیٰ کام تھے وہ تو خودبخود ہیں اور جو ادنیٰ اور ناقص کام تھا وہ پرمیشر کے ہاتھ سے ہوا اور اس بات کا اقرار کرنا ہوگا کہ جو خودبخود عجائب کام پائے جاتے ہیں وہ پرمیشر کے کاموں سے کہیں بڑھ کر ہیں یہاں تک کہ پرمیشر بھی ان سے حیران ہے غرض اس اعتقاد سے آریہ صاحبوں کے خدا کی خدائی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 228
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 228
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/228/mode/1up

پر بڑؔ ا صدمہ پہنچے گا۔ یاں تک کہ اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہوگا اور نیز اس کے وجود پر بھی کوئی عقلی دلیل قائم نہیں ہوسکے گی۔ میں اس کا یہ جواب دیتا ہوں کہ مرزا صاحب خدا کی خدائی قائم رکھنے کے لئے ان لوگوں کو شاہد مقرر کرتے ہیں جو خواص روح سے واقفیت رکھتے ہوں مگر اسلام میں تو روح کے خواص خدا نے ظاہر ہی نہیں کئے جیسا کہ میں اوپر بیان کرچکا ہوں پھر ان کو اس کی کیا خبر ہے۔
اقول۔ اے لالہ صاحب اگر قرآن شریف نے روح کے خواص بیان نہیں کئے تو پھر کس نے کئے۔ وید تو صرف اتنا ہی بول کرچپ ہوگیا کہ میرے مصنف کا روحوں پر کچھ دعویٰ نہیں اور روح غیر مخلوق اور خودبخود ہونے میں اس سے کچھ کم نہیں ہیں لیکن قرآن شریف کے نازل کرنیو الے نے روحوں کو اپنی ملکیت ٹھہرائی اور ان کی مخلوق اور بندہ ہونے کی نسبت دعویٰ کیا اور پچاس سے زیادہ عقلی دلیلوں کے ساتھ آپ ثابت کیا کہ تمام بنی آدم اور دوسرے حیوانوں کی روحیں مخلوق اور بندہ خدا ہیں اور پھر کھول کر مفصل طور پر سنایا کہ کیا کیا طاقتیں اور استعدادیں اور خاصیتیں ان میں رکھی گئی ہیں۔ یہ قرآن شریف ہی نے نہایت باریک صداقت بیان کی ہے کہ جو کچھ متفرق طور پر عالم علوی و سفلی میں خواص عجیبہ پائے جاتے ہیں وہ سب انسانی روح کے وجود میں جمع ہیں لیکن وید کے رو سے تو روح کچھ چیز ہی نہیں اور اس کے خواص بھی ایسے ناکارہ ہیں کہ جن کا عدم وجود مساوی ہے چنانچہ اس بات کا خود آپ کو اقرار ہے اور آگے چل کر ابھی وہ عبارت ناظرین پڑھ لیں گے۔ اب فرمائیے کہ جس حالت میں آپ وید ہی اقرار کرتا ہے کہ ارواح غیر مخلوق ہیں تو پھر وید کے مصنف کو جو اُن سے بالکل بے تعلق ہے ان کی اندرونی حقیقت کیا معلوم ہوگی یہ بات تو ہریک شخص سمجھ سکتا ہے کہ بنانے والے کو جیسی اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی چیز کی خبر ہوتی ہے دوسرے کو جو اس کے بنانے والا نہیں اور بالکل بے تعلق ہے ہرگز ایسی خبر نہیں ہوسکتی یہ صداقت نہایت ہی صاف اور روشن ہے اور جب تک کوئی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 229
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 229
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/229/mode/1up

شخصؔ نرا جاہل اور عقل سے بیگانہ نہ ہو تب تک اس صداقت میں کچھ شک نہیں کرسکتا۔ اس جگہ کم سے کم آریہ صاحبوں کو اس قدر اقرار تو ضرور کرنا پڑے گا کہ جس قدر ان کے پرمیشر کو اپنے ہاتھ کے کام کی جو جوڑنا جاڑنا ہے اندرونی حقیقت معلوم ہے یہ حقیقت روحوں کی کیفیت وجود کی نسبت جن سے وہ بالکل بے تعلق ہے ہرگز اس کو حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ جو کام اپنے ہاتھ سے کیا جاتا ہے اس کے جزئیات دقیقہ ہرگز مخفی نہیں رہ سکتے لیکن جو کام اپنے ہاتھ سے نہ کیا جائے اس کو اگرچہ دوسرے کے ہاتھ سے ہوتے بھی دیکھ لیں تب بھی اس کا کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن وید کے مصنف کو روحوں کی حقیقت اور ان کے خواص کیونکر معلوم ہوسکیں اس نے نہ تو آپ کوئی روح بنائی اور نہ کسی اور کاریگر کو بناتے دیکھا پس ہندوؤں کے پرمیشر کا یہ اقرار کہ میں روح بنانے پر قادر نہیں صاف اس دوسرے اقرار پر بھی مشتمل ہے کہ روحوں کی اندرونی حقیقت بھی مجھے معلوم نہیں کیونکہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ کسی چیز کی نسبت علم کامل اور وسیع اس چیز کے بنانے پر قادر ہونے کا موجب ہے یعنے جب کسی چیز کی حقیقت پر علم اکمل و اتم حاصل ہوجائے اور جن امور سے ایک چیز کا وجود ظہور پذیر ہے ان امور مخفیہ پر اطلاع کلی ہوجائے تو ساتھ ہی اس چیز کے بنانے پر بھی قدرت حاصل ہوتی ہے چنانچہ خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں روحوں کی مخلوقیت پر منجملہ اور دلائل کے یہ دلیل بھی پیش کی ہے اور یہ بات بالکل صاف اور ظاہر ہے کہ کسی چیز کے بنانے سے عاجز ہونا ہمیشہ بوجہ نقصان علم ہوا کرتا ہے جب تم ایک چیز کی نسبت پورا پورا علم حاصل کرلو گے اور اس کیُ کنہہ تک پہنچ جاؤ گے اور کوئی حجاب درمیان باقی نہیں رہے گا تو فی الفور تم اس کو بنانے پر قادر ہوجاؤ گے اور اگر وہ اسباب تمہیں میسر آجائیں گے جو بنانے کے لئے ضروری ہیں تو بلاشبہ وہ چیز تم اپنے ہاتھ سے بنا سکو گے ہاں جب تک تمہارے علم میں کچھ نقصان ہے اور ہنوز ایسے امور بھی باقی ہیں جو تمہاری

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 230
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 230
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/230/mode/1up

نظرؔ سے چھپے ہوئے ہیں تب تک تم اس چیز کے بنانے پر قادر نہیں ہوسکتے سو ہندوؤں کا پرمیشر جو روحوں کو بنا نہیں سکتا تو اس عجز اور ناتوانی کی درحقیقت یہی وجہ ہے کہ وہ علم کیفیت ارواح اور ان کے خواص سے بالکل بے بہرہ ہے۔ * سو جبکہ ہندوؤں کا پرمیشر علم روح سے آپ ہی بے بہرہ ہے تو پھر وہ دوسروں کو روح کا علم کیا سکھائے گا۔ اوخویشتن گم است کرا رہبری کند۔ پس اس سے صاف ثابت ہوگیا کہ وہ الزام عدم علم روح جو محض عناد کی راہ سے ماسٹر صاحب اسلام پر اور قرآن شریف پر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے ہیں وہ درحقیقت ہندوؤں کے پرمیشر اور اس کے وید پر عائد حال ہوتا ہے بلکہ خود وید نے ضمنی طور پر اس الزام کو اپنے مصنف کے ذمہ مان لیا ہے۔ کیونکہ وید میں صاف اس بات کا اقرار پایا جاتا ہے کہ اس کا فرضی پرمیشر روحوں کے پیدا کرنے سے بکلّی عاجز اور مجبور ہے پس جبکہ خود وید کے اقرار سے روح غیر مخلوق ہوئی
شاید کسی دل کو اس جگہ یہ وسوسہ پکڑے کہ اگر کسی شے پر پورا پورا علمی احاطہ ہونے سے وہ شے مخلوق ہوجاتی ہے تو علم حق سبحانہ تعالیٰ جو اپنی ذات سے متعلق ہے وہ بھی بہرحال کامل ہے تو کیا خدائے تعالیٰ اپنی ذات کا آپ خالق ہے یا اپنی مثل بنانے پر قادر ہے اس میں اعتراض کے پہلے ٹکڑے کا تو یہ جواب ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ اپنے وجود کا آپ خالق ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ اپنے وجود سے پہلے موجود ہو اور ظاہر ہے کہ کوئی شے اپنے وجود سے پہلے موجود نہیں ہوسکتی ورنہ تقدّم الشئے علٰی نفسہٖ لازم آتا ہے بلکہ خدائے تعالیٰ جو اپنی ذات کا علم کامل رکھتا ہے تو اس جگہ عالم اور علم اور معلوم ایک ہی شے ہے جس میں علیحدگی اور دوئی کی گنجائش نہیں تو پھر اس جگہ وہ الگ چیز کون سی ہے جس کو مخلوق ٹھہرایا جائے سو ذاتی علم خدائے تعالیٰ کا جو اس کی ذات سے تعلق رکھتا ہے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 231
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 231
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/231/mode/1up

اور ؔ پرمیشر کی ان میں کسی نوع سے مداخلت نہ ہوئی اور روحوں کے پیدا کرنے سے پرمیشر قطعاً عاجز ہوا تو اسی سے دانشمند سمجھ سکتا ہے کہ جس کو روحوں کے پیدا کرنے کا علم یاد نہیں اس کو روحوں کی نسبت اور دوسرا علم کیا یاد ہوگا۔ ایک چیز کا پیدا کرلینا اور اس چیز کی حقیقت کامل طور پر جان لینا درحقیقت لازم ملزوم پڑا ہوا ہے بلکہ اگر زیادہ تر غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ انتہائی درجہ کا کامل علم اور پیدا کرلینا درحقیقت ایک ہی بات ہے۔ اس صداقت سے شائد وہ ابلہ مزاج انکار کرے جو ایک ناقص علم کو کامل سمجھ بیٹھے لیکن ایک دانا جس کا خیال اس باریک دقیقہ تک پہنچ جائے کہ کامل علم کسے کہتے ہیں اور کس حالت میں کسی علم کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ کامل ہے وہ ضرور انشراحِ قلب سے یقین کرلے گا کہ ضرور علم تام اور عمل میں تلازم بلکہ اتحاد واقعہ ہے غرض یہ بات ہندوؤں کے پرمیشر کے لئے بالکل غیرممکن ہے کہ وہ یہ دعویٰ کرے کہ مجھے کامل طور پر علم روح
دوسری ؔ چیزوں پر اس کا قیاس نہیں کرسکتے۔ غرض علم ذاتی باری تعالیٰ میں جو اس کی ذات سے متعلق ہے عالم اپنے معلوم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے تا ایک خالق اور ایک مخلوق قرار دیا جاوے ہاں اس کے وجود میں بجائے مخلوق کہنے کے یہ کہنا چاہیئے کہ وہ وجود کسی دوسرے کی طرف سے مخلوق نہیں بلکہ ازلی ابدی طور پر اپنی طرف سے آپ ہی ظہور پذیر ہے اور خدا ہونے کے بھی یہی معنے ہیں کہ خود آئندہ ہے۔ دوسرا ٹکڑا اعتراض کا کہ تقریر مذکورہ بالا سے خدائے تعالیٰ کا اپنی مثل بنانے پر قادر ہونا لازم آتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ قدرتِ الٰہی صرف ان چیزوں کی طرف رجوع کرتی ہے جو اس کی صفات ازلیہ ابدیہ کی منافی اور مخالف نہ ہوں بے شک یہ بات تو صحیح اور ہر طرح سے مدلل اور معقول ہے کہ جس چیز کا علم خدائے تعالیٰ کو کامل ہو اس چیز کو اگر چاہے تو پیدا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 232
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 232
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/232/mode/1up

حاصل ؔ ہے اور یا کامل طور پر روح کے خواص کی مجھے خبر ہے بلکہ یہ دعویٰ تو سراسر قرآن شریف کے اتارنے والے کو (جو ربّ العٰلمین ہے) پہنچتاہے اور اسی کو زیبا ہے کیونکہ وہ خالق ارواح ہے اور اس کو اپنے پیدا کردہ کی اندرونی حقیقت بخوبی معلوم ہے۔ جس نے پیدا کیا وہی جانے۔ دوسرا کیونکر اس کو پہچانے۔ غیر کو غیر کی خبر کیا ہو۔ نظرِ دور کارگر کیا ہو۔
چونکہ درحقیقت وہ روحوں کا خالق ہے اس لئے اس نے اپنے علم ذاتی اور تعلق خالقیت کی وجہ سے روحوں کی حقیقت اور ان کے خواص اس قدر بیان کئے ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی ایسی کتاب نہیں کہ اس بارہ میں اس کا مقابلہ کرسکے اور وید تو خود کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ ناظرین انصافاًشہادت دے سکتے ہیں کہ آیا روحوں کے علم سے بے خبر ہونا کس کے مناسب حال ہے کیا فی الحقیقت جیسا کہ میں خیال کرتا ہوں ایسے پرمیشر کے مناسب حال ہے جس نے آپ اقرار کردیا ہے کہ میں روحوں کے بنانے سے عاجز
بھیؔ کرسکتا ہے لیکن یہ بات ہرگز صحیح اور ضروری نہیں ہے کہ جن باتوں کے کرنے پر وہ قادر ہو ان سب باتوں کو بلا لحاظ اپنی صفات کمالیہ کے کرکے بھی دکھاوے بلکہ وہ اپنی ہر ایک قدرت کے اجرا اور نفاذ میں اپنی صفات کمالیہ کا ضرور لحاظ رکھتا ہے کہ آیا وہ امر جس کو وہ اپنی قدرت سے کرنا چاہتا ہے اس کی صفات کاملہ سے منافی و مبائن تو نہیں مثلاً وہ قادر ہے کہ ایک بڑے پرہیزگار صالح کو دوزخ کی آگ میں جلاوے لیکن اس کے رحم اور عدل اور مجازات کی صفت اس بات کی منافی پڑی ہوئی ہے کہ وہ ایسا کرے۔ اس لئے وہ ایسا کام کبھی نہیں کرتا۔ ایسا ہی اس کی قدرت اس طرف میں رجوع نہیں کرتی کہ وہ اپنے تئیں ہلاک کرے۔ کیونکہ یہ فعل اس کی صفت حیات ازلی ابدی کی منافی ہے۔ پس اسی طرح سے سمجھ لینا چاہیئے کہ وہ اپنے جیسا خدا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 233
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 233
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/233/mode/1up

اورؔ ان کے طریق پیدا کرنے سے محض بے خبر ہوں یا اس قادر مطلق ربّ العٰلمین کے مناسب حال ہوسکتا ہے جو ذرّہ ذرّہ کے پیدا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور ہریک روح کا وجود اور ہریک جان کی ہستی اپنی قدرتِ کاملہ کا نقش قرار دیتا ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ سب دانشمند یہی شہادت دیں گے کہ جس کو پیدا کرنے کی طاقت نہیں اس کو غیر مخلوق چیزوں کی اندرونی حقیقت کا بھی کچھ علم نہیں بلکہ یہ علم کامل اور تام طور پر اسی کامل القدرت کو حاصل ہے جس کو روحوں کے پیدا کرنے کی طاقت و قدرت ہے پس اس بیان سے تو ہندوؤں کے پرمیشر اور ان کے وید کی ساری حقیقت کھل گئی اور جو کچھ وید کے مصنف کی نسبت آریہ لوگ علم روح کا دعویٰ کرتے ہیں وہ بھانڈا بیک بارگی پھوٹ گیا۔ اب بھی اگر ماسٹر صاحب کو وید کے زیادہ تر پردہ ظاہر کرانے کا شوق ہے اور نہیں چاہتے کہ اس کے عیوب عام لوگوں سے چھپے رہیں تو جیسا کہ میں پہلے بیان کرچکا ہوں یہی طریق عمدہ ہے کہ اس نہایت دقیق اور لطیف بحث کے بارہ میں الگ الگ رسالے لکھے جائیں یعنی میں الگ ایک رسالہ مستقلہ علم روح کے بارہ میں لکھوں اور ماسٹر صاحب الگ لکھیں اور ہم دونوں فریق جیسا کہ بیان ہوچکا ہے اپنی اپنی الہامی کتابوں کی ہریک دلیل اور دعویٰ کے بیان کرنے میں پابند رہیں اور میں قسمیہ بیان کرتا ہوں کہ میں ماسٹر صاحب کی تحریک پر رسالۃ الروح لکھنے کو طیار اور مستعد ہوں مگر انہیں
بھیؔ نہیں بناتا کیونکہ اس کی صفت احدیت اور بے مثل اور مانند ہونے کی جو ازلی ابدی طور پر اس میں پائی جاتی ہے اس طرف توجہ کرنے سے اس کو روکتی ہے۔ پس ذرّہ آنکھ کھول کر سمجھ لینا چاہیئے کہ ایک کام کے کرنے سے عاجز ہونا اور بات ہے لیکن باوجود قدرت کے بلحاظ صفات کمالیہ امر منافی صفات کی طرف توجہ نہ کرنا یہ اور بات ہے۔ ہاں اس طرح پروہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 234
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 234
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/234/mode/1up

شرائط ؔ سے جو اس رسالہ میں اندراج پاچکی ہیں ماسٹر صاحب برا نہ مانیں میں سچ سچ کہتا ہوں بالکل سچ جس میں ذرا مبالغہ کی آمیزش نہیں کہ قرآن شریف نے جس قدر خوبی اور عمدگی اور صفائی اور سچائی سے روحوں کے خواص اور ان کی قوتیں اور طاقتیں اور استعدادیں اور انکے دیگر کوائف عجیبہ بیان کئے ہیں اور پھر ان سب بیانات کا ثبوت دیا ہے وہ ایسا عالی اور باریک اور ُ پرحکمت بیان ہے اور ایسے کامل درجہ کی وہ صداقتیں ہیں کہ اگر وید کے چاروں رشی دوبارہ جنم لے کر بھی دنیا میں آویں اور جہاں تک ممکن ہو خوض اور فکر سے زور لگاویں تب بھی یہ مقام وسعتِ علمی اور یہ معارف عالیہ انہیں میسر نہیں آسکتے اگرچہ فکر کرتے کرتے مرہی جاویں۔ غصہ منانے کی کیا بات ہے اور ناراض ہونے کا کونسا محل۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے۔ آؤ وید اور قرآن کا مقابلہ کرکے دیکھ لیں۔ ان دونوں کتابوں کی طاقت علمی آزمالیں۔ دیکھو ہم محض سچائی کی راہ سے دونوں فریق میں سے اس فریق پر لعنت کرتے ہیں کہ جو اب حق پوشی کی راہ سے اس بحث سے گریز کرجائے اور اِدھر اُدھر کے بہانوں سے یا بے جاعذروں سے بات کو ٹال دے۔ مگر یاد رہے کہ اس بحث میں کسی دلیل یا دعویٰ میں وید کی شرتی سے باہر نہ جانا ہوگا۔ جیساکہ ہم بھی آیات قرآن شریف سے باہر نہ جائیں گے اور یہ بھی آپ پر لازم ہوگا کہ ہریک شرتی ٹھیک ٹھیک سنسکرت کی زبان میں مگر فارسی خط میں معہ اسکے لفظی
اپنی ؔ ذات بے مثل و مانند کا نمونہ پیدا کرتا ہے کہ اپنی ذاتی خوبیاں جن پر اس کا علم محیط ہے عکسی طور پر بعض اپنی مخلوقات میں رکھ دیتا ہے اور کمالات کا انتہائی درجہ جو حقیقی طور پر اس کو حاصل ہے ظلّی طور پر اس مخلوق کو بھی بخش دیتا ہے جیسا کہ اسی کی طرف قرآن شریف میں اشارہ بھی ہے
وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ
اس جگہ صاحب درجات رفیعہ سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مراد ہیں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 235
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 235
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/235/mode/1up

ترجمہؔ و پتہ و نشان کے تحریر کریں اور انہیں باتوں کا التزام آیات قرآنی کے بیان کرنے میں ہم پر بھی واجب ہوگا۔
قولہ۔ ایک دو خواص مرزا صاحب نے روحوں کے لکھے ہیں مثلاً پوشیدہ باتوں کے دریافت کرنے کی طاقت پیدا کرلینا جس کا مرزا صاحب خود بھی دعویٰ کرتے ہیں اور آج تک کوئی نہیں دکھلایا۔
اقول۔ یہ برکات مکاشفات و مکالمہ و مخاطبہ الٰہی وغیرہ خوارق صراط مستقیم پر چلنے سے بے شک خدائے تعالیٰ کی طرف سے فرمانبردار روحوں کو اصفٰی اور اجلٰی طور پر عطا کی جاتی ہیں اور جو کچھ راقم رسالہ ہذا پر پیشگوئیاں منجانب اللہ ظاہر ہوئی ہیں ان میں سے قریب ستر پیشگوئیوں کے گواہ تو خود آریہ سماج والے ہیں جو آپ کے بھائی بند قادیان میں رہتے ہیں بلکہ آپ بھی تو انہیں میں داخل ہیں دلیپ سنگھ کے ابتلا کا حال جو آپ نے پیش از وقوع اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء ؁میں پڑھ لیا تھا اور پھر میری زبانی بھی ایک مجمع عام میں جس میں کئی ہندو صاحب آپ کے رفیق بھی شامل تھے سن لیا تھا۔ یہ تازہ ماجرا امید نہیں کہ اس قدر جلد تر عرصہ میں آپ کو بھول گیا ہو اب آپ ذرا بیدار ہوکر دیکھیں کہ یہ پیشگوئی کیسی ہوبہو پوری ہوگئی اور دلیپ سنگھ کو قصد سفر پنجاب میں کیا کچھ غم و غصہ و تلخی و رنج اٹھانا پڑا اور کیسے وہ ناکامی سے خفیف کرکے واپس لٹایا گیا۔ کیا آپ حلف
جنؔ کو ظلّی طور پر انتہائی درجہ کے کمالات جو کمالات الوہیت کے اظلال و آثار ہیں بخشے گئے اور وہ خلافت حقہ جس کے وجود کامل کے تحقق کے لئے سلسلہ بنی آدم کا قیام بلکہ ایجاد کل کائنات کا ہوا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وجود باجود سے اپنے مرتبہ اتم و اکمل میں ظہور پذیر ہوکر آئینہ خدانما ہوئے۔ یہ بحث معارف الٰہیہ میں سے نہایت باریک بحث ہے اور ہمارے مخالفین جو اِن

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 236
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 236
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/236/mode/1up

اٹھا ؔ کر کہہ سکتے ہیں کہ آپ کو پیش از وقوع دلیپ سنگھ کے ابتلا کی خبر نہیں دی گئی۔ کیا آپ قسم کھا کر بیان کرسکتے ہیں کہ آپ کو جلسہ عام میں یہ نہیں بتلایا گیاکہ وہ فقرہ اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ؁ء جس میں لکھا ہے کہ ایک امیر نووارد پنجابی الاصل کی نسبت متوحش خبریں اس سے مراد دلیپ سنگھ ہے ایسا ہی یہ خبر جابجا صدہا ہندوؤں اور مسلمانوں کو جو پانچ سو سے کسی قدر زیادہ ہی ہوں گے کئی شہروں میں پیش از وقوع بتلائی گئی تھی اور اشتہارات ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ؁ء بھی دور دور ملکوں تک تقسیم کئے گئے تھے پھر آخرکار جیسا کہ پیش از وقوع بیان کیا گیا اور لکھا گیا تھا وہ سب باتیں دلیپ سنگھ کی نسبت پوری ہوگئیں اور یہ پیش گوئی ایسے وقت میں یعنے ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ؁ء میں لکھی گئی اور شہرت دی گئی کہ جب دلیپ سنگھ کی پنجاب میں بالضرور آجانے کی ایک دھوم مچی ہوئی تھی اور بعض دوست اور بھائی بند اس کی اسی خیالی خوشی میں پیشوائی کے لئے بمبئی تک بھی جاپہنچے تھے۔ سو یہ پیشگوئی کروڑہا شخصوں کے خیالات کے مخالف اور حالات موجودہ کے برعکس کی گئی اور سب نے دیکھ لیا کہ کیسی ٹھیک ٹھیک ظہور میں آئی۔ اب فرمائیے آپ کا یہ کہنا کہ آج تک کوئی پیشگوئی ہم نے نہیں دیکھی جھوٹ ہے یا نہیں۔ اسی طرح صاحب اخبار عام لاہور کی خدمت میں بھی عرض کیا جاتا ہے کہ جو کچھ انہوں نے اپنے پرچہ ۲۱؍ جولائی ۱۸۸۶ ؁ء میں اس پیشگوئی کے انکار میں لکھا ہے اس کے پڑھنے سے ہمیں ان کے تعصب اور نافہمی پر بہت ہی افسوس آتا ہے وہ
نازکؔ نکات عرفانی سے بیگانہ اور اس کو چہ اسرارِ الوہیت سے ناآشنا محض ہیں وہ تعجب کریں گے کہ کیونکر کروڑہا اور بے شمار مخلوقات میں سے صرف ایک ہی شخص کو مرتبہ کاملہ خلافت تامہ حقہ کا جو ظل مرتبہ الوہیت ہے حاصل ہوسکتا ہے سو اگرچہ اس بحث کے طول دینے کا یہ موقع نہیں ہے لیکن تاہم اس قدر بیان کردینا طالب حق کے سمجھانے کے لئے ضروری ہے کہ عادت اللہ یا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 237
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 237
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/237/mode/1up

فرماؔ تے ہیں کہ ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ؁ء سے بہت عرصہ پہلے دلیپ سنگھ صاحب کا عزم ہندوستان کے خاص و عام میں مشہور ہوچکا تھا مگر افسوس کہ انہوں نے نہیں سمجھا کہ اس مشہوری سے پیشگوئی کے مضمون کو کیا تعلق ہے بلکہ پیش گوئی کا مضمون تو صرف اس بات سے مخصوص ہے کہ دلیپ سنگھ صاحب کو قصد پنجاب میں ناکامی ہے اور ان کی عزت یا جان یا آسائش پر اس سفر میں صدمہ پہنچے گا۔ اب منصفین خیال کریں کہ اخبار عام لاہور کی یہ نکتہ چینی پیشگوئی پر کیا اثر پہنچا سکتی ہے اور ان کا انصاف اور فہم جو منصب اخبار نویسی کے لئے ایک ضروری شرط ہے کس درجہ کا ہے افسوس کہ بہت لوگ حسد اور عناد کے اشتعال میں پڑ کر حقیقت حال کو نہیں سوچتے جیسا کہ انہیں پیشگوئیوں کے متعلق ایک صاحب پنڈت لیکھرام نے ناحق اپنا اندرونی بخل اور ناانصافی اور ہٹ دھرمی ظاہر کرنے کے لئے جابجا اشتہارات شائع کئے اور ایں جانب پر یہ الزام رکھا کہ گویا ہم نے کسی اشتہار میں یہ پیشگوئی کی تھی کہ وہ لڑکا موصوف بصفات جس کا اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ؁ء میں ذکر ہے ضرور حمل موجودہ میں ہی پیدا ہوجائے گا ہرگز اس سے تخلف نہیں کرے گا وہ ظہور میں نہیں آئی حالانکہ ایسا اور ان شرائط سے کوئی اشتہار اس طرف سے شائع نہیں ہوا اور اگر ہے تو کیوں پیش نہیں کیا ۔حقیقت حال تو یہ ہے کہ آنکھوں کی نابینائی کچھ ضرر نہیں کرسکتی بلکہ دلوں کی نابینائی جو تعصب کے بخارات سے پیدا ہوتی ہے وہی ضرر کرتی ہے یہ شخص
تم ؔ یوں ہی سمجھ لو کہ اس کا قانون قدرت جو اس کی صفت وحدت کے مناسب حال ہے یہی ہے کہ وہ بوجہ واحد ہونے کے اپنے افعال خالقیت میں رعایت وحدت کو دوست رکھتا ہے۔ جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے اگر ہم اس سب کی طرف نظر غور سے دیکھیں تو اس ساری مخلوقات کو جو اس دست قدرت سے صادر ہوئی ہے ایک ایسے سلسلہ وحدانی اور باترتیب رشتہ میں منسلک پائیں گے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 238
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 238
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/238/mode/1up

جسؔ کا نام ہم نے ابھی بیان کیا ہے اس نے چالیس دن تک بھی ہماری آزمائش کے لئے ہماری صحبت میں رہنا منظور نہیں کیا حالانکہ ان پنڈت صاحب کو تنخواہ دینا بھی قبول کیا گیا تھا۔ ان صاحبوں کو بجز دشنام دہی اور بدزبانی اور آلائش کی باتوں کے جو ان کے اندر بھری ہوئی ہیں اور کوئی حرف صلاحیت و معقولیت یاد نہیں۔ اگر اب بھی یہ صاحب چالیس دن تک ہمارے پاس رہنا منظور کریں اور ہم الہامی پیشگوئیوں میں جھوٹے نکلیں تو جو ذلیل تر سزا تجویز کی جائے اسی کی ہم لائق ہیں ورنہ چوٹی کٹانا اور مسلمان ہونا ان پر واجب ہوگا۔ ماسوا اس کے جو کچھ ہمارا دعویٰ پیشگوئیوں کی نسبت ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ صرف ایک دو پیش گوئیوں سے اس کا ثبوت دیا جاتا ہے بلکہ اس دعویٰ کے اثبات کے بارے میں عنقریب رسالہ سراج منیر بفضل خداوند قدیر چھپ کر شائع ہونے والا ہے اور وہ تمام رسالہ الہامی پیش گوئیوں پر مشتمل ہے تب سب لوگ دیکھ لیں گے کہ جو کچھ ہمارے مخالفین ہماری نسبت طرح طرح کی رائیں لگاتے ہیں ان کی کیا اصلیت و حقیقت ہے۔ ہم اس رسالہ میں مرزا امام الدین جو ہماری برادری میں سے ہے اور دین اسلام سے مرتد ہے اور اب آریہ سماج میں داخل ہوگیا ہے اس کی نسبت بھی کئی پیشگوئیاں لکھیں گے۔ ہم پر آج بھی جو تیسری اگست ۱۸۸۶ ؁ء ہے منجانب اللہ اس کی نسبت معلوم ہوا ہے کہ اگر وہ توبہ نہ کرے تو اُس کی بے راہیوں
ہؔ گویا وہ ایک خط مستقیم ممتد محدود ہے جس کی دونوں طرفوں میں سے ایک طرف ارتفاع اور دوسری طرف انخفاض ہے اس طرح پر
اس قدر بیان میں تو ایک موٹی سمجھ کا آدمی بھی میرے ساتھ اتفاق رائے کرسکتا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور دائرۂانسانیت میں بہت سی متفاوت اور کم و بیش استعدادیں پائی جاتی ہیں کہ اگر کمی بیشی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 239
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 239
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/239/mode/1up

کا ؔ وبال جلد تر اسے درپیش ہے اور اگر یہ معمولی رنجوں میں سے کوئی رنج ہو تو اس کو پیشگوئی کا مصداق مت سمجھو لیکن اگر ایسا رنج پیش آیا جو کسی کے خیال گمان میں نہیں تھا تو پھر سمجھنا چاہیئے کہ یہ مصداق پیشگوئی ہے لیکن اگر وہ باز آنے والا ہے تو پھر بھی انجام بخیر ہوگا یا تنبیہ کے بعد راحت پیدا ہوجائے گی۔ اور یہ دعویٰ ہمارا بالکل صحیح اور نہایت صفائی سے ثابت ہے کہ صراط مستقیم پر چلنے سے طالب صادق الہام الٰہی پاسکتا ہے کیونکہ اول تو اس پر تجربہ ذاتی شاہد ہے ماسوائے اس کے ہریک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اور کوئی معرفت الٰہی کا اعلیٰ رتبہ نہیں ہے کہ انسان اپنے ربّ کریم جل شانہٗ سے ہم کلام ہوجائے۔ یہی درجہ ہے جس سے روحیں تسلی پاتی ہیں اور سب شکوک و شبہات دور ہوجاتے ہیں اور اسی درجہ صافیہ پر پہنچ کر انسان اس دقیقۂ معرفت کو پالیتا ہے جس کی تحصیل کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے اور دراصل نجات کی کنجی اور ہستی موہوم کا عقدہ کشا یہی درجہ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے اور کھل جاتا ہے کہ خالق حقیقی کو اپنی مخلوق ضعیف سے کس قدر قرب واقعہ ہے۔ اس درجہ تک پہنچنے کی خبر ہمیں اسی نور نے دی ہے۔ جس کا نام قرآن ہے وہ نور صاف عام طور پر بشارت دیتا ہے کہ الہام کا چشمہ کبھی بند نہیں ہوسکتا۔ جب کوئی مشرق کا رہنے والا یا مغرب کا باشندہ دلی صفائی سے خدائے تعالیٰ کو ڈھونڈھے گا اور اس سے پوری پوری صلح کرلے گا
کےؔ لحاظ سے ان کو ایک باترتیب سلسلہ میں مرتب کریں تو بلاشبہ اس سے ایک اسی خط مستقیم ممتد محدود کی صورت نکل آئے گی جو اوپر ثبت کیا گیا ہے۔ طرف ارتفاع کے اخیر نکتہ پر اس استعداد کا انسان ہوگا جو اپنی استعداد انسانی میں سب نوع انسان سے بڑھ کر ہے اور طرف انخفاض میں وہ ناقص الاستعداد روح ہوگی جو اپنے غایت درجہ کے نقصان کی وجہ سے حیوانات لایعقل کے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 240
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 240
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/240/mode/1up

اور ؔ درمیان کے حجاب اٹھائے گا تو ضرور اسے پائے گا اور جب واقعی اور سچے اور کامل طور پر پائے گا تو ضرور خدا اس سے ہم کلام ہوگا۔ مگر ویدوں نے انسان کے اس درجہ تک پہنچنے سے انکار کیا ہے اور صرف چار رشیوں تک جو ویدوں کے مصنف ہیں (بقول آریہ سماج والوں کے) اس درجہ کو محدود رکھا ہے یہ ویدوں کی ایسی ہی غلطی ہے جیسے اور بڑی بڑی غلطیوں سے وہ ُ پر ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ سب بنی آدم متحد الفطرت ہیں اور جو بات ایک آدمی کے لئے ممکن ہے وہ سب کے لئے ممکن ہے اور جو قرب و معرفت ایک فرد بشر کے لئے جائز ہے وہ سب کے لئے جائز ہے کیونکہ وہ سب اصل طینت میں ایک ہی جوہر سے ہیں ہاں کمالات میں کمی بیشی ہے مگر جنس کمالات میں سرے سے جواب تو نہیں۔ اور اگر کوئی ایسا شخص ہو کہ اس میں تحصیل کمالات انسانی کی ایک ذرّہ بھی استعداد نہ ہو تو وہ خود انسان ہی نہیں ہوسکتا۔ غرض تھوڑے بہت کا تو انسانی استعدادوں میں فرق ضرور ہوتا ہے مگر انسان ہوکر یکلخت فقدان استعداد نہیں ہوسکتا۔ بھلا ہم پوچھتے ہیں کہ ہندوؤں کے ایشر کو ویدوں کے اتارنے سے مقصد اور علت غائی کیا ہے اگر یہ مقصد ہے کہ تا لوگ ویدوں کو پڑھ کر اور ان کے ٹھیک ٹھیک پابند ہوکر اپنے کمال مطلوب تک پہنچ جائیں تو پھر اس کمال تک پہنچنے کا راہ کیوں آپ ہی بند کرتا ہے۔ اگر اُن رشیوں کا وجود جن پر وید نازل ہوئے تھے بطور نمونہ کے نہیں تھا کہ تا لوگ اُسی نمونہ
قریبؔ قریب ہے اور اگر سلسلہ جمادی کی طرف نظر ڈال کر دیکھیں تو اس قاعدہ کو اور بھی اس سے تائید پہنچتی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے چھوٹے سے چھوٹے جسم سے جو ایک ذرّہ ہے لے کر ایک بڑے سے بڑے جسم تک جو آفتاب ہے اپنی صفت خالقیت کو تمام کیا ہے اور بلاشبہ خدائے تعالیٰ نے اس جمادی سلسلہ میں آفتاب کو ایک ایسا عظیم الشان اور نافع اور ذی برکت وجود

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 241
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 241
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/241/mode/1up

کےؔ موافق ویدوں پر چلنے سے اپنے وجودوں کو بنالیں تو ایسے رشیوں کے بھیجنے کی ضرورت ہی کیا تھی یہ بات ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ کی کتابیں اور خدائے تعالیٰ کے نبی اسی غرض اور مدعا سے آیا کرتے ہیں کہ تا وہ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے نمونہ کی طرح ہوکر ان کو یہ ترغیب و تحریک دیں کہ جو شخص ان کے نقش قدم پر چلے اور ان کے طریق میں محو ہوجائے وہ آخر انہیں کا روپ ہوجائے گا اور انہیں کے رنگ میں آجائے گا لیکن اگر ہندوؤں کے پرمیشر نے ایسا ارادہ ہی نہیں کیا کہ ان چار رشیوں کے رنگ سے جو نمونہ کے طور پر بھیجے گئے تھے کوئی طالب حق رنگین ہوجائے تو پھر یہ کام ان کے پرمیشر کا سراسر بیہودہ اور فضول ہوگا۔ اس جگہ اس سوال کے کرنے کی کچھ ضرورت نہیں کہ اگر ہندوؤں کے پرمیشر نے ویدوں کو تکمیل نفوس ناقصہ کے لئے بھیجا تھا تو ویدوں نے نازل ہوکر کس قدر خلقت کو کمال کے درجہ تک پہنچایا ہے کیونکہ اس بارے میں ہندو لوگ آپ ہی قائل ہیں کہ کسی شخص کو ویدوں نے مرتبہ کمال تک نہیں پہنچایا۔ ظاہر ہے کہ کیفیت و حقیقت کمال کی ہندوؤں کے پرمیشر کے نزدیک بھی وہی ہے جس کا نمونہ اس نے ویدوں کے رشیوں میں قائم کیا تھا اور وہ یہی ہے کہ بزعم آریہ لوگوں کے ان رشیوں کو الہام الٰہی سے سرفراز فرمایا گیا اب جب کہ کمال معرفت کی حقیقت یہ ٹھہری اور دوسری طرف ان کے پرمیشر نے یہ بھی صاف صاف سنا دیا کہ کوئی شخص ابدالا باد تک بجزچار رشیوں کے
پیدا ؔ کیا ہے کہ طرف ارتفاع میں اس کے برابر کوئی دوسرا ایسا وجود نہیں ہے سو اس سلسلہ کے ارتفاع اور انخفاض پر نظر ڈال کر جو ہروقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے روحانی سلسلہ جو اسی ہاتھ سے نکلا ہے اور اسی عادت اللہ سے ظہور پذیر ہوا ہے خود بلاتامل سمجھ میں آتا ہے کہ وہ بھی بلا تفاوت اسی طرح واقعہ ہے اور یہی ارتفاع اور انخفاض اس میں بھی موجود ہے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 242
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 242
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/242/mode/1up

الہامؔ نہیں پاسکتا تو یہ عجیب اوباشانہ کاروائی ہے بھلا اگر کوئی ان چار رشیوں کی پیروّی سے ان کا رنگ وبوئے حاصل نہیں کرسکتا تو پھر ایک عقلمند ویدوں کے ماننے اور ان پر عمل کرنے میں کیوں ناحق کی ٹکریں مارے یہ کس قسم کی رندانہ حرکت ہے جو ہندوؤں کے پرمیشر سے ظہور میں آئی کہ اول چار رشیوں کو نمونہ کے طور پر بھیجا تا لوگ اس نمونہ کے موافق چل کر ان رشیوں کے ہمرنگ ہوجائیں اور وہی نعمت حاصل کرلیں جو ان کو دی گئی تھی اور پھر دوسری طرف یہ بھی سنا دیا کہ یہ بات ہرگز ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص ان رشیوں کے رنگ میں آکر الہام پانے کا لائق ٹھہرجائے۔ ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اگر وید کمال مطلوب تک کسی کو نہیں پہنچا سکتے تو پھر ان کا بھیجا جانا بالکل عبث اور بیہودہ ہوا اور بجز اس بداثر کے کہ کروڑہا آدمیوں کو ان کی ُ پرشرک تعلیم نے مشرک بنادیا اور کون سا نیک ثمرہ ہے جو ان کے آنے سے مترتب ہوا اور وہ چار آدمی جن پر آریوں کے خیال میں وید نازل ہوئے وہ بھی درحقیقت ویدوں کے ممنون احسان نہیں ہوسکتے بلکہ وہ بقول آریہ لوگوں کے کسی پہلے جنم کے اعمال کے باعث الہام پانے کے لائق ٹھہر گئے تھے۔
قولہ۔ رہا باقی دوسری صفات کا ذکر بے شک وہ جیو میں بیج کی طرح موجود ہیں جو بغیر خدائے تعالیٰ کی کاریگریوں کے (جن کا مرزا صاحب جوڑنا جاڑنا نام رکھتے ہیں)
کیونکہؔ خدائے تعالیٰ کے کام یک رنگ اور یکساں ہیں اس لئے کہ وہ واحد ہے اور اپنے اصدار افعال میں وحدت کو دوست رکھتا ہے پریشانی اور اختلاف اس کے کاموں میں راہ نہیں پاسکتا اور خود یہ کیا ہی پیارا اور موزوں طریق معلوم ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کے کام باقاعدہ اور ایک ترتیب سے مرتب اور ایک سلک میں منسلک ہوں۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 243
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 243
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/243/mode/1up

بالکلؔ نہ ہونے کے برابر ہیں۔
اقول۔ میں کہتا ہوں کہ جو خاصیتیں اور قوتیں باقرار ماسٹر صاحب روحوں میں ضرور موجود ہیں گو بزعم ان کے بیج کی طرح ہی سہی مگر وہ موجود ہوکر معدوم کے برابر کیوں ہیں اس کی وجہ بھی تو کوئی بیان کی ہوتی کیا وہ قوتیں اور خاصیتیں روحوں میں بے فائدہ طور پر ہیں جن کے وجود سے پرمیشر کو جوڑنے جاڑنے کے وقت کچھ مدد نہیں ملی۔ ظاہر ہے کہ پرمیشر کو ان خاصیتوں اور عجیب قوتوں سے جوڑنے جاڑنے کے وقت بڑی بھاری مدد ملی جس نے پرمیشر کا نام رکھ لیا اور اس کا پرمیشر َ پن ثابت کر دکھایا اور اگر وہ خاصیتیں روحوں میں نہ ہوتیں تو بتلاؤ کہ پرمیشر کر کیاسکتا تھا کون سی روحانی خاصیت اپنے گھر سے لاتا اور کیونکر ایک بے جان جسم کو ایک زندہ انسان بنا کر دکھلاتا بھلا ننگی نہاتی کیا اور نچوڑتی کیا۔ یہ تو روحوں کا اس پر سراسر احسان ہے جو بنے بنائے اور گھڑے گھڑائے معہ تمام اپنی عجیب خاصیتوں اور قوتوں کے اس کے ہاتھ آگئے قسمت اچھی تھی مفت کا نام ہوگیا پرمیشر بن بیٹھا ورنہ غور کرنے والی عقلوں پر ظاہر ہے کہ جوڑنا جاڑنا بغیر ان عجیب خواص اور طاقتوں کے جو روحوں اور مادوں میں پائی جاتی ہیں کچھ چیز نہیں ہیں بلکہ اگر وہ خواص روحوں اور مادوں میں پائے نہ جاویں تو ممکن ہی نہیں کہ ہندوؤں کے پرمیشر سے جوڑنے جاڑنے کا کام بھی انجام پذیر ہوسکے مثلاً اگر جسموں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں ایک
اب ؔ جب کہ ہم نے ہر طرح سے ثبوت پاکر بلکہ بہ بداہت دیکھ کر خدائے تعالیٰ کے اس قانون قدرت کو مان لیا کہ اس کے تمام کام کیا روحانی اور کیا جسمانی پریشان اور مختلف طور پر نہیں ہیں جن میں یوں ہی گڑبڑ پڑا ہو بلکہ ایک حکیمانہ ترتیب سے مرتب اور ایک ایسے باقاعدہ سلسلہ میں بندھے ہوئے ہیں جو ایک ادنیٰ درجہ سے شروع ہوکر انتہائی درجہ تک پہنچتا ہے اور یہی طریق

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 244
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 244
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/244/mode/1up

اتصالیؔ قوت نہ پائی جائے جس کو قوت کشش اتصال کہتے ہیں تو ہندوؤں کے پرمیشر کو ہرگز یہ طاقت نہیں ہے کہ کم سے کم دو ذرّوں میں بھی پیوند کرکے دکھلاوے اسی طرح جو جوڑنے جاڑنے میں روحانی خواص نمایاں ہوتے ہیں ان میں بھی ہندوؤں کے پرمیشر کی ہرگز مجال نہیں ہے کہ بغیر حمایت و مدد روحوں اور ان کی عجیب خاصیتوں اور صفتوں کے جن کو ماسٹر صاحب بیج کی طرح خیال کرتے ہیں کوئی صنعت بناکر دکھلا سکے۔ یہ بات تو نہایت درجہ پر ظاہر ہے کہ ایسے پرمیشر کی جس نے نہ روحوں اور نہ ان کے خواص کو پیدا کیا اور نہ ذرّاتِ اجسام اور ان کی خاصیتوں کو خلعت وجود بخشا صرف جوڑنے جاڑنے میں کچھ بھی ہنگ پھٹکری خرچ نہیں آتی بلکہ خواص پہلے ہی جدا جدا چیزوں میں کچھ پوشیدہ تھے وہ باہم روح اور جسم کے ملنے سے خودبخود نمایاں طور پر نظر آجاتے ہیں کیونکہ ان میں پہلے ہی سے یہ خاصیت چھپی ہوئی ہوتی ہے کہ باہم ملنے سے خواہ نخواہ ان کا ظہور ہوجاتا ہے جیسے دنیا کی لاکھوں چیزوں میں یہی خاصہ پایا جاتا ہے کہ ان کے باہمی امتزاج اور اختلاط سے ایک عجیب قسم کا خاصہ پیدا ہوجاتا ہے کہ جو الگ الگ ہونے کی حالت میں مخفی و محجوب ہوتا ہے۔ سو یہ بات ہرگز نہیں کہ جو شخص ان دو چیزوں کو باہم ملاتا ہے وہ اپنے گھر سے ایک خاصہ لاکر ان میں ڈال دیتا ہے بلکہ جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے وہ دونوں چیزیں الگ الگ طور پر وہ خاصہ اپنے اندر رکھتی ہیں جو ان کے اکٹھے ہوجانے
وحدتؔ اسے محبوب بھی ہے تو اس قانون قدرت کے ماننے سے ہمیں یہ بھی ماننا پڑا کہ جیسے خدائے تعالیٰ نے جمادی سلسلہ میں ایک ذرّہ سے لے کر اس وجود اعظم تک یعنی آفتاب تک نوبت پہنچائی ہے جو ظاہری کمالات کا جامع ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی جسم جمادی نہیں ایسا ہی روحانی آفتاب بھی کوئی ہوگا جس کا وجود خط مستقیم مثالی میں ارتفاع کے اخیر نقطہ پر واقع ہو اب

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 245
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 245
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/245/mode/1up

سےؔ وہ ظاہر ہوجاتا ہے مثلاً گھی اور شہد اور سوہاگہ میں یہ خاصیت ہے کہ ان تینوں کے ملانے سے یہ خاصہ پیدا ہوجاتا ہے کہ اگر کسی کشتہ زَر یا ُ نقرہ وغیرہ کو جو بالکل خاکستر و خاک ہوگیا ہو اس میں رکھ کر بوتہ میں آگ دی جائے تو وہ زندہ ہوجاتا ہے یعنی اپنی اصلی صورت سونا چاندی یا جو کچھ ہو قبول کرلیتا ہے پس یہ خاصیت جو ان تینوں جزوں کی ترکیب سے کشتہ کے زندہ کرنے کے لئے پیدا ہوجاتی ہے یہ ایسی خاصیت ہے کہ خواہ ہندوؤں کا پرمیشر ان تینوں چیزوں کو باہم ملاوے اور خواہ ایک دس برس کا بچہ ان کو باہم مخلوط کرے دونوں کے ہاتھوں سے یہ خاصیت پیدا ہوگی یہ نہیں کہ ضرور پرمیشر کے ہاتھ سے ہی پیدا ہو اور دوسرے کسی شخص کے ہاتھ سے پیدا نہ ہوسکے۔ روحوں میں بہت سے خواص اور عجیب طاقتیں اور استعدادیں پائی جاتی ہیں جن کو قرآن شریف نے استیفا سے ذکر کیا ہے مثلاً ان میں چند قوتیں اور استعدادیں یہ ہیں جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔
۱۔ علوم اور معارف کی طرف شائق ہونے کی ایک قوت۔
۲۔ علوم کو حاصل کرنے کی ایک قوت۔
تفتیشؔ اس بات کی کہ وہ انسان کامل جس کو روحانی آفتاب سے تعبیر کیا گیا ہے وہ کون ہے اور اس کا کیا نام ہے یہ ایسا کام نہیں ہے جس کا تصفیہ مجرد عقل سے ہوسکے کیونکہ بجز خدائے تعالیٰ کے یہ امتیاز کس کو حاصل ہے اور کون مجرد عقل سے ایسا کام کرسکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کے کروڑہا اور بے شمار بندوں کو نظرکے سامنے رکھ کر اور ان کی روحانی طاقتوں اور قوتوں کا موازنہ کرکے سب سے بڑے کو الگ کرکے دکھلاوے بلاشبہ عقلی طور پر کسی کو اس جگہ دم مارنے کی جگہ نہیں ہاں ایسے بلند اور عمیق دریافت کے لئے کتب الہامی ذریعہ ہیں جن میں خود

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 246
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 246
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/246/mode/1up

۳۔ ؔ علوم حاصل کردہ کے محفوظ رکھنے کی ایک قوت۔
۴۔ محبت الٰہی کی ایک قوت۔
۵۔ لذت وصال الٰہی اٹھانے کی ایک قوت۔
۶۔ مکاشفات کی ایک قوت۔
۷۔ مؤثر اور متأثر ہونے کی یا یوں کہو کہ باہم عامل اور معمول ہونے کی ایک قوت۔
۸۔ تعلق اجسام قبول کرنے کی ایک قوت۔
۹۔ تخلق باخلاق اللہ کی ایک قوت۔
۱۰۔ مورد الہام الٰہی ہونے کی ایک قوت۔
۱۱۔ بسطی و قبضی حالت پیدا ہونے کی ایک قوت۔
۱۲۔ معارف غیر متناہیہ کے قبول کرنے کی ایک قوت۔
۱۳۔ رنگین برنگ تجلی الوہیت ہونے کی ایک قوت۔
۱۴۔ عقلی قوت جس سے امتیاز حسن و قبح ان پر ظاہر ہوتا ہے۔
۱۵۔ القائے اثر و قبول اثر کی ایک قوت بمقابلہ اپنے اجسام متعلقہ کے۔
خداؔ ئے تعالیٰ نے پیش از ظہور بلکہ ہزارہا برس پہلے اس انسان کامل کا پتہ و نشان بیان کردیا ہے پس جس شخص کے دل کو خدائے تعالیٰ اپنی توفیق خاص سے اس طرف ہدایت دے گا کہ وہ الہام اور وحی پر ایمان لاوے اور ان پیش گوئیوں پر غور کرے کہ بائبل میں درج ہیں تو اسے ضرور ماننا پڑے گا کہ وہ انسان کامل جو آفتاب روحانی ہے جس سے نقطہ ارتفاع کا پورا ہوا ہے اور جو دیوار نبوت کی آخری اینٹ ہے وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں اب بھی مکرر ظاہر کرتے ہیں کہ انسان کامل

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 247
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 247
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/247/mode/1up

۱۶۔ ؔ اقرار بوجود خالق حقیقی کی ایک قوت۔
۱۷۔ اجسام کے ساتھ اور ان کے اشکال خاصہ کے ساتھ مل کر بعض نئے خواص کے ظاہر کرنے کی قوت۔
۱۸۔ ایک قوت کشش باہمی جس کو مقناطیسی قوت کہنا چاہیئے۔
۱۹۔ ابدی طور پر قائم رہنے کی ایک قوت۔
۲۰۔ جسم مفارق کی خاک سے ایک خاص تعلق رکھنے کی قوت جو کشفی طور پر ارباب کشف قبور پر ظاہر ہوتی ہے۔
ایسا ہی اور بھی بہت سی ایسی قوتیں ہیں جن کا مفصل بیان نہایت لطافت اور خوبی سے قرآن شریف میں مندرج ہے اور ہم کو اگر شرطی رسالہ کے لکھنے کا موقع ملا تو ہم ان سب قوتوں اور روحانی خواص کو بحوالہ آیات بینات قرآنی معقول اور مفصل اور مدلل طور پر اسی رسالہ میں جو وید اور قرآن کے موازنہ کی غرض سے ہوگا درج کریں گے اب اس جگہ ہم مکرر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ماسٹر صاحب کا یہ بیان کہ یہ سب قوتیں روحوں میں بیج کی طرح موجود ہیں اور جب تک جسم کا روح کے ساتھ تعلق نہ ہو تب تک
خداؔ ئے تعالیٰ کی ذات کا نمونہ ہے۔ خدائے تعالیٰ دوسرا خدا ہرگز نہیں پیدا کرتا کہ یہ بات اس کی صفت احدیت کے مخالف ہے ہاں اپنی صفات کمالیہ کا نمونہ پیدا کرتا ہے اور جس طرح ایک مصفا اور وسیع شیشہ میں صاحب رؤیت کی تمام و کمال شکل منعکس ہوجاتی ہے ایسا ہی انسان کامل کے نمونہ میں الٰہی صفات عکسی طور پر آجاتے ہیں سو خدائے تعالیٰ کا اس طرح پر اپنی مثل قائم کرنا معترض کی تسلی کے لئے کافی ہے۔ اس جگہ واضح رہے کہ اس انتہائی کمال کے وجود باجود کو خدائے تعالیٰ کی کتابوں میں مظہر تام الوہیت قرار دیا گیا ہے اور

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 248
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 248
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/248/mode/1up

انؔ کا عدم و وجود برابر ہے اس بیان میں ماسٹر صاحب نے بڑا دھوکا کھایا ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ جو کچھ روحوں اور جسموں کے ملنے کے بعد روحانی اور جسمانی خاصیتیں وجود انسان میں چمکتی ہیں وہ گویا ان کے پرمیشر کی کاری گری سے ظہور پذیر ہوتی ہیں حالانکہ یہ خیال بالکل غلط اور نامعقول ہے جو موٹی سمجھ سے پیدا ہوا ہے بلکہ اصل بات تو وہی ہے جس کو ہم پہلے تحریر کرچکے ہیں کہ جو مخفی طور پر روحوں اور جسموں میں الگ الگ خواص پائے جاتے ہیں وہی باہم ترکیب اور امتزاج سے نمایاں ہوجاتے ہیں اور حالت تعلق جسم و روح تک قائم رہتی ہے۔ یہ بات فی الحقیقت سچ اور راست راست ہے جس کو میں بھی تسلیم کرتا ہوں کہ جو خواص بعد ترکیب اور تعلق ارواح و اجسام ظہور پذیر ہوتے ہیں وہ سب خواص نہ مجرد اجسام سے کھلے کھلے طور پر مترتب ہوسکتے ہیں نہ مجرد ارواح سے بلکہ ان کا ظہور و بروز کامل طور پر اجسام اور ارواح کے باہمی تعلق پر موقوف ہوتا ہے اور اسی وجہ سے میں اس رسالہ میں اس سے پہلے تحریر کر آیا ہوں کہ ارواح کو اپنی سعادت تامہ تک پہنچنے کے لئے عالمِ آخرت میں کوئی ابدی جسم ملنا ضروری ہے تا اس تعلق جسم کی وجہ سے وہ خواص کامل طور پر ظاہر ہوجائیں کہ جو مجرد روحوں میں بدیں صفائی و کمال ظاہر
چونکہؔ اس مطلب کو کچھ زیادہ تفصیل سے لکھنا موجب افادہ طالبین ہے اس لئے ہم کسی قدر اور تحریر کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔
اوّل ہم بیان کرچکے ہیں کہ صاحب انتہائی کمال کا جس کا وجود سلسلہ خط خالقیت میں انتہائی نقطہ ارتفاع پر واقعہ ہے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور ان کے مقابل پر وہ خسیس وجود جو انتہائی نقطہ انخفاض پر واقعہ ہے اسی کو ہم لوگ شیطان سے تعبیر کرتے ہیں اگرچہ بظاہر شیطان کا وجود مشہود و محسوس نہیں لیکن اس سلسلہ خط خالقیت پر نظر ڈال کر اس قدر تو

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 249
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 249
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/249/mode/1up

نہیںؔ ہوسکتی مگر افسوس کہ اس ابدی تعلق جسم و روح کو وید نہیں مانتا اور صرف روح کو جس میں بقول ماسٹر صاحب بجز تعلق جسم کوئی روحی خاصہ نمایاں طور پر جلوہ پذیر نہیں ہوسکتا لذات کاملہ نجات ووصال الٰہی کے اٹھانے کے لئے کافی سمجھتا ہے۔ حالانکہ ابھی بیچارہ ماسٹر صاحب اقرار کرچکا ہے کہ روحانی صفات بجز تعلق موجودہ جسم کے کسی قسم کی کمالیت ظاہر نہیں کرسکتیں اب وید کو کون سمجھا وے اور دیانند کی روح تک اس خبر کو کون پہنچاوے تا وہ ماسٹر صاحب سے سبق لے کر اپنے وید بھاش کی غلطیوں کو درست کردیں۔
میں نے پہلے سے اسی رسالہ میں درج کردیا ہے کہ جو جو صفات خداوندکریم جل شانہٗ نے ارواح میں رکھے ہیں یا جو جو خاصیتیں ذرّات اجسام میں مودع کی ہیں وہ اگرچہ بجائے خود الگ الگ بھی ثابت و متحقق ہیں مگر ان کا ظہور بین اس وقت ہوتا ہے اور ان کے فوائد اس وقت بطور اتم و اکمل کھلتے ہیں جس وقت جسم اور روح کا باہم تعلق ہوتا ہے اس کی مثال بھی اسی پہلے موقع میں َ میں نے یہ دی تھی کہ جیسے تصویر کو آئینہ میں رکھنے میں تصویر کا رنگ و روپ زیادہ تر نظر آجاتا ہے یہ بات ہرگز نہیں ہے
عقلیؔ طور پر ضرور ماننا پڑتا ہے کہ جیسے سلسلہ ارتفاع کے انتہائی نقطہ میں ایک وجود خیر مجسم ہے جو دنیا میں خیر کی طرف ہادی ہوکر آیا اسی طرح اس کے مقابل پر ذوالعقول میں انتہائی نقطہ انخفاض میں ایک وجود شر انگیز بھی جو شر کی طرف جاذب ہو ضرور چاہیئے اسی وجہ سے ہریک انسان کے دل میں باطنی طور پر بھی دونوں وجودوں کا اثر عام طور پر پایا جاتا ہے پاک وجود جو روح الحق اور نور بھی کہلاتا ہے یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا پاک اثر بجذباتِ قدسیہ و توجہات باطنیہ ہر ایک دل کو خیر اور نیکی کی طرف بلاتا ہے۔ جس قدر کوئی اُس سے محبت اورؔ مناسبت

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 250
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 250
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/250/mode/1up

کہؔ آئینہ تصویر میں کوئی نقش بڑھا کر دکھا دیتا ہے بلکہ نقوش تو وہی ہوتے ہیں جو ہیں ہاں البتہ آئینہ میں وہ سب نقوش صاف طور پر نظر آجاتے ہیں ایسا ہی جو خواص ارواح میں ہیں ان کا آئینہ جسم اور جسمی شکلیں ہیں اور جو خواص ذرّات اجسام میں ہیں ان کا آئینہ ترکیب جسمی اور وہ روحیں ہیں جو ان کے ساتھ تعلق پکڑتی ہیں اور درحقیقت ان چیزوں کا باہم آئینہ کا کام دینا یہ بھی ایک فطرتی خاصہ ہے اور اگر خدائے تعالیٰ ارواح اور ذرات اور اجسام کا خالق نہیں تو اس کو اس خاصہ کے پیدا کرنے میں ذرا دخل نہیں کیونکہ خواص اشیاء کے تو خواہ نخواہ اپنے موقع پر ظہور میں آجاتے ہیں اور درحقیقت یہ خاصہ بھی انہیں خواص ارواح و اجسام میں سے ہے جن کو آریہ لوگ غیر مخلوق اور انادی کہتے ہیں۔ لیکن اب ماسٹر صاحب اپنے پرمیشر کی پردہ پوشی کے لئے اس پر یہ احسان کرنا چاہتے ہیں کہ تا اس خاصہ کی پیدائش اس کی طرف منسوب کی جائے سو یہ کسی طرح منسوب نہیں ہوسکتی پنڈت دیانند صاحب اپنے وید بھاش اور ستیارتھ پرکاش میں صاف اقرار کرچکے ہیں کہ نیستی سے ہستی نہیں ہوسکتی جو ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں وہ پیچھے سے کبھی نہیں ہوسکتا۔ سو اگر یہ خاصہ پہلے الگ الگ دو چیزوں میں مخفی طور پر موجود نہیں تھا تو پھر
پیدا کرتا ہے اسی قدر وہ ایمانی قوت پاتا ہے اور نورانیت اس کے دل میں پھیلتی ہے یاں تک کہ وہ اُسی کے رنگ میں آجاتا ہے اور ظلی طور پر ان سب کمالات کو پالیتا ہے جو اس کو حاصل ہیں اور جو وجود شر انگیز ہے یعنی وجود شیطان جس کا مقام ذوالعقول کے قسم میں انتہائی نقطہ انخفاض میں واقع ہے اس کا اثر ہریک دل کو جو اس سے کچھ نسبت رکھتا ہے شرک کی طرف کھینچتا ہے جس قدر کوئی اس سے مناسبت پیدا کرتا ہے اسی قدر بے ایمانی اور خباثت کے خیال اس کو سوجھتے ہیں یاں تک کہ جس کو مناسبت تام ہوجاتی ہے وہ اسی کے رنگ اور روپ میں آکر پورا پورا شیطان ہوجاتا ہے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 251
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 251
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/251/mode/1up

بعدؔ میں کہاں سے آگیا دنیا میں صدہا صورتیں ایسی پائی جاتی ہیں کہ اول دو چیزوں میں کوئی خاصیت چھپی ہوئی موجود ہوتی ہے اور پھر ان دو چیزوں کے باہم ملا دینے سے وہی خاصیت بڑی تیزی اور شوخی سے ظاہر ہوجاتی ہے۔ دو دواؤں کی ترکیب سے ایک نئے مزاج اور خاصہ کی دو انکل آتی ہے مگر درحقیقت وہ مزاج اور خاصہ کچھ نیا نہیں ہوتا بلکہ ان دونوں دواؤں میں الگ الگ طور پر مخفی ہوتا ہے۔ اور ایسا ہی دو رنگوں کے ملانے سے ایک نیا رنگ نکل آتا ہے مگر وہ درحقیقت نیا نہیں ہوتا بلکہ ان دونوں رنگوں میں اس حالت علیحدگی میں چھپا ہوا ہوتا ہے ایسا ہی دو مختلف مزہ کے طعام کو ملا کر تیسرا مزہ جو نیا دکھائی دیتا ہے نکل آتا ہے مگر وہ بھی درحقیقت نیا نہیں ہوتا۔ سو میں کہتا ہوں کہ اگر انہیں اجزاءِ متفرقہ و خواص متفرقہ کو ملا کر کوئی مشترک خاصہ پیدا کرنا جو حقیقت میں پہلے ہی مخفی تھا پرمیشر ہونے کی نشانی ہے تو پھر آریہ لوگ انگریزوں اور دوسرے یورپ کے صناع لوگوں کو کیوں سجدہ نہیں کرتے اور ان کو اپنا ایشر کیوں نہیں سمجھتے کیا ان لوگوں کے کام ایسے پرمیشر کے مشابہ نہیں ہیں۔ کیا ان لوگوں نے بھی ہندوؤں کے پرمیشر کی طرح خواص متفرقہ اشیاءِ عالم پر اطلاع پاکر صدہا صنعتیں
اور ؔ ظلّی طور پر ان سب کمالات خباثت کو حاصل کرلیتا ہے جو اصلی شیطان کو حاصل ہیں اسی طرح اولیاء الرحمن اور اولیاء الشیطان اپنی اپنی مناسبت کی وجہ سے الگ الگ طرف کھینچے چلے جاتے ہیں اور وجود خیر مجسم جس کا نفسی نقطہ انتہائی درجہ کمال ارتفاع پر واقع ہے یعنی حضرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مقام معراج خارجی جو منتہائے مقام عروج (یعنی عرش ربّ العالمین ہے) بتلایا گیا ہے یہ درحقیقت اسی انتہائی درجہ کمال ارتفاع کی طرف اشارہ ہے جو اُس وجود باجود کو حاصل ہے گویا جو کچھ اس وجود خیر مجسم کو عالم قضاء وقدر

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 252
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 252
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/252/mode/1up

قولہ۔ او نہیںؔ نکالیں بلاشبہ نکالی ہیں اور اب تک ہریک پیشہ اور کارخانہ کے متعلق ہزارہا جدید صنعتیں نکالتے جاتے ہیں سو اگر ہندوؤں کے پرمیشر کا بھی اتنا ہی کام ہے کہ علم خواص اشیاء حاصل کرکے طرح طرح کی صنعتیں بمنصہ ظہور لاوے تو پھر ان لوگوں اور ایسے پرمیشر میں صرف کمی بیشی علم کا فرق ہوگا اگر ان لوگوں کو وہ اعلیٰ قسم کا علم معلوم ہو جائے تو یہ بھی ایک طور کے پرمیشر بن جائیں گے۔
ر یہ جو کہا جاتا ہے کہ خودبخود ہونے والا کام پرمیشر کے کاموں سے بڑھ کر ہے تو اگر ایسا ہوا تو پرمیشر کی اس میں کون سی ہتک ہوئی۔
اقول۔ سچ ہے آپ کے پرمیشر کی عزت بڑی پکی ہے کسی قسم کی ہتک سے دور نہیں ہوسکتی۔ یہ ہمیں آج ہی معلوم ہوا کہ آپ کا پرمیشر اس قسم کی درویشانہ سیرت رکھتا ہے کہ اگرچہ کروڑہا چیزیں اس کے کاموں اور صنعتوں سے بڑھ چڑھ کر ہوں تب بھی اس کو اپنی کسرِ شان کی کچھ پرواہ نہیں یہ خوب پرمیشر ہے اور آپ لوگوں کا وید بھی خوب اور وید ودیا اور اس کا گیان بھی جس پر اتنا ناز تھا خوب ہی نکلا ہزارہاتھ کنواں کھودا آخر چشمہ آب کی جگہ ایک مری ہوئی مینڈک نکلی اگر پرمیشر اسی حیثیت اور کرتوت کا مالک ہے تو پھر
میں حاصل تھا وہ عالم مثال میں مشہود و محسوس طور پر دکھایا گیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ اس نبی کریم کی شان رفیع کے بارہ میں فرماتا ہے
وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ
پس اس رفع درجات سے وہی انتہائی درجہ کا ارتفاع مراد ہے جو ظاہری اور باطنی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے اور یہ وجود باجود جو خیر مجسم ہے مقربین کے تین قسموں سے اعلیٰ و اکمل ہے جو الوہیت کا مظہر اتم کہلاتا ہے۔
جاننا چاہئے کہ قرب الٰہی کی تین قسمیں تین قسم کی تشبیہ پر موقوف ہیں جن کی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 253
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 253
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/253/mode/1up

کسیؔ کو کیا مصیبت پڑی ہے کہ خواہ نخواہ اس کے لئے تکلیفیں اٹھاوے۔ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ہتک ایک ایسا لفظ ہے جس کا اثر اس کے دل پر ضرور ہوتا ہے جس کو کچھ شرم و غیرت بھی ہو سو اگر آپ کے پرمیشر میں کچھ شرم اور غیرت ہوتی تو اس سے زیادہ ہتک ہونے کی اور کیا بات تھی کہ جن کاموں کے کرنے پر وہ فخر کرتا ہے اور اپنے پرمیشر ہونے کی انہیں دلیل ٹھہراتا ہے یعنی جوڑنا جاڑنا ان کاموں کی نسبت دوسرے کام جو خودبخود بغیر دست اندازی پرمیشر کے تسلیم کئے گئے ہیں ایسے اعلیٰ درجہ کے نکلے کہ پرمیشر کے کاموں کو ان سے کچھ بھی نسبت نہیں پس اس صورت میں اگر پرمیشر کی ہتک نہیں ہوتی تو کیا اس سے عزت ہوگئی اور اگر یہ باتیں پرمیشر کی کسر شان کا موجب نہیں ہیں تو کیا اس کی عظمت اور جلال ظاہر ہونے کا باعث ہے سوچنا چاہیئے کہ جس حالت میں تمام عجیب کام اور بے نظیر قدرتیں اور رنگا رنگ کے خواص خودبخود ہوئے تو کیا مجرد جوڑنے جاڑنے سے ایک بڑا درجہ پرمیشر ہونے کا ایسے ضعیف اور کمزور کو مل سکتا ہے بلکہ اگر غور کرو اور کچھ خداداد عقل کو کام میں لاؤ تو تمہیں معلوم ہوگا کہ جوڑنا جاڑنا درحقیقت ارواح اور اجسام کے پیدا کرنے کی فرع ہے یعنی جوڑنا جاڑنا بھی اسی قادر مطلق کے ہاتھ سے
تفصیلؔ سے مراتب ثلاثہ قرب کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اوّل قسم قرب کی خادم اور مخدوم کے تشبہ سے مناسبت رکھتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِؕ
یعنی مومن جن کو دوسرے لفظوں میں بندہ فرماں بردار کہہ سکتے ہیں سب چیزوں سے زیادہ اپنے مولیٰ سے محبت رکھتے ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جیسے ایک نوکر بااخلاص و باصفا باوفا بوجہ مشاہدہ احسانات متواترہ و انعامات متکاثرہ و کمالات ذاتیہ اپنے آقا کی اس قدر محبت و اخلاص ویک رنگی میں ترقی کرجاتا ہے جو بوجہ ذاتی محبت کے جو اس کے دل میں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 254
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 254
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/254/mode/1up

انجاؔ م پذیر ہوسکتا ہے جو عدم سے وجود بخشنے پر قادر ہو اور اگر بفرض محال یہ تسلیم بھی کرلیں کہ ایک ایسے کمزور اور نکمے کے ہاتھ سے جوڑنا جاڑنا ممکن ہے جس نے نہ کسی روح کو پیدا کیا اور نہ کسی مادہ کو اور نہ وہ صدہا خواص اور طاقتیں اور استعدادیں جو روحوں اور مادوں میں پائی جاتی ہیں اس کی پیدا کردہ ہیں تو پھر مجرد جوڑنا جاڑنا اس کو قابل تعریف بنا نہیں سکتا بلکہ یہ سب تعریفیں روحوں اور ذرّات اجسام کی طرف عائد ہوں گی۔ اور اس صورت میں پرمیشر پر لازم و واجب ہوگا کہ روحوں اور مادوں کا شکرگزار اور ثناخواں ہو جنہوں نے مفت میں اس کو نیک نامی دلائی۔ گھی سنوارے سالنا بڑی بہو کا نانو۔
قولہ۔ پرمیشر کی اس صورت میں ہتک ہوئی کہ جب اس سے زیادہ تر کاریگر پیش کیا جاتا۔
اقول۔ لو صاحب اب تو آپ کے پرمیشر کی آپ ہی کے منہ سے ہتک ثابت ہوگئی کیونکہ آپ کے خیالی اور وہمی اور فرضی پرمیشر سے اور زیادہ ترکاریگر نکل آیا جس کے وجود کے
پیدا ؔ ہوجاتی ہے اپنے آقا سے ہم طبیعت وہم طریق ہوجاتا ہے اور اس کی مرادات کا ایسا ہی طالب اور خواہاں ہوتا ہے جیسے آقا خود اپنی مرادات کا خواہاں ہے اسی طرح بندہ وفادار کی حالت اپنے مولیٰ کریم کے ساتھ ہوتی ہے یعنی وہ بھی اپنے خلوص اور صدق و صفا میں ترقی کرتا کرتا اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنے وجود سے بکلی محو وفنا ہوکر اپنے مولیٰ کریم کے رنگ میں مل جاتا ہے۔
آنجا کہ محبتے نمک میریزد
ہر پردہ کہ بود از میان برخیزد
ایں نفس دنی کہ صد ہزارش دہن است
خاموش شود چو عشق شور انگیزد
چوں رنگ خودی رود کسی را از عشق
یارش زِ کرم برنگ خویش آمیزد
سو ایسا خادم جو ہم رنگ اور ہم طبیعت مخدوم ہورہا ہے طبعی طور پر اُن سب

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 255
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 255
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/255/mode/1up

سامنےؔ آپ کے وہمی پرمیشر کا وجود حقیقت میں معدوم اور بے نشان ہے کیونکہ آپ کا پرمیشر تو بوجہ اپنی کمزوری اور ناطاقتی اور ناداری اور لاچاری کے آریہ دیس میں چھپا ہوا بیٹھا تھا اور انہیں لوگوں سے اپنے کلام کا ٹھیکہ دے رکھا تھا اور باہر قدم رکھنے سے ڈرتا تھا اور اپنے ُ منہ سے قائل تھا کہ میں اپنی ذات سے کچھ نہیں کرسکتا دوسروں کے سہارے سے میرا کام چل رہا ہے سو آریہ لوگ اسی فرضی پرمیشر پر کہ دراصل ایک چور تھا نہ پرمیشر خوش ہورہے تھے اتنے میں آفتاب صداقت ان پر چمکا اور اس سچے کامل خدا کا کلام جس سے آریہ لوگ ناواقف تھے یعنی قرآن شریف آریہ دیس میں جلوہ گر ہوا اور کروڑہا آریوں کو سچائی کی طرف کھینچ لایا سو اس طرح پر اس نے اپنے قادر اور کامل وجود سے ان کو اطلاع دے دی اور اپنی خدائی ا ن پر ظاہر کردی اور اپنے قوی ہاتھ سے اپنا قادر مطلق ہونا ثابت کردیا اور سب روحوں اور مادوں کی نسبت بیان کیا کہ یہ سب میرے ہی پیدا کردہ ہیں سو جن چیزوں کی نسبت آریہ لوگ اور ان کا ناکارہ پرمیشر حیران ہورہے تھے کہ یہ چیزیں کس نے پیدا کی ہیں پیدا کرنے والے نے اپنا کلام ان تک پہنچا کر اور اپنے روشن نشان دکھلا کر
باتوںؔ سے متنفر ہوجاتا ہے جو اس کے مخدوم کو بری معلوم ہوتی ہیں وہ نافرمانی کو اس جہت سے نہیں چھوڑتا کہ اس پر سزا مترتب ہوگی اور تعمیل حکم اس وجہ سے نہیں کرتا کہ اس سے انعام ملے گا اور کوئی قول یا فعل اس کا اپنے اخلاق کاملہ کے تقاضا سے صادر نہیں ہوتا بلکہ محض اپنے مخدوم حقیقی کی اطاعت کی وجہ سے جو اس کی سرشت میں رَچ گئی ہے صادر ہوتا ہے اور بے اختیار اسی کی طرف اور اس کی مرضیات کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے وہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری گال کا پھیرنا خواہ نخواہ واجب نہیں جانتا اور نہ طمانچہ کی جگہ طمانچہ مارنا اس کو لا بدًّا ضروری معلوم ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے یک رنگ دل سے فتویٰ پوچھتا ہے جو اس وقت خاص میں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 256
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 256
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/256/mode/1up

صافؔ بتلا دیا کہ ان کا پیدا کنندہ میں ہی ہوں۔ وہ کون ہے وہ وہی کامل اور قادر خدا منزّل الفرقان ہے جس نے اپنے بے مثل الہام اور بے نظیر کام کے ذریعہ سے اپنی خدائی کو ثابت کر دکھایا ہے جس کی ایجاد کے بغیر کوئی چیز موجود نہیں ہوئی جس کی تعریف میں قرآن شریف میں جو اس کا کلام ہے یہ پاک حمد درج ہے کہ وہ مبدا ہے تمام فیضوں کا اور مستجمع ہے تمام صفات کاملہ کا اور جامع ہے تمام خوبیوں کا اور مرجع ہے ہریک چیز کا اور واحد لاشریک ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور معبودیت میں سو سچا اور کامل خدا یہی خدا ہے جس نے ہزاروں مقدس نبیوں کی روحوں میں اس تعلیم کا القا کیا۔ جس کا قول اور فعل دونوں برابر شہادت دے رہے ہیں کہ وہ ہریک قسم کی ناطاقتی اور نقصان اور ادھورپن سے پاک ہے غرض جس حالت میں ایک ذات کامل الصفات نے جس کے ماننے والے دنیا میں کروڑہا لوگ پائے جاتے ہیں اور جس کی برکات تعلیم اور آسمانی نشان تمام روئے زمین پر پھیل چکے ہیں اس نے اپنے پاک اور مقدس صحیفوں میں صاف دعویٰ کردیا ہے کہ میں کامل اور قادر خدا ہوں اور روحوں اور ذرّہ ذرّہ جسم کا میں ہی خالق ہوں تو کیا اس صورت میں آپ لوگ
اسؔ کے محبوب حقیقی کی مرضی کیا ہے اور اس بات کے لئے کوئی معقول وجہ تلاش کرتا ہے کہ کس طریق کے اختیار کرنے میں زیادہ تر خیر ہے جو موجب خوشنودی حضرت باری جل شانہٗ ہے آیا عفو میں یا انتقام میں سو جو عمل موجودہ حالت کے لئے قرین بصواب ہو اسی کو بروئے کار لاتا ہے اسی طرح اس کی بخشش اور عطا بھی سخاوت جمیلہ کے تقاضا سے نہیں ہوتی بلکہ اطاعت کامل کی وجہ سے ہوتی ہے اور اسی اطاعت کے جوش سے وقت موجودہ میں خوب سوچ لیتا ہے کہ کیا اس وقت اس طرز کی سخاوت یا ایسے شخص پر احسان و مروّت مقرون بہ مرضی مولیٰ ہوسکتی ہے اور اگر نامناسب دیکھتا ہے تو ایکَ حبہ خرچ نہیں کرتا اور کسی ملامت کنندہ کی ملامت سے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 257
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 257
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/257/mode/1up

یہ ؔ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پرمیشر سے زیادہ تر کاریگر پیش نہیں کیا گیا۔ جس نے خالق الارواح والاجسام ہونے کا دعویٰ کیا ہو سو اب اے ماسٹر صاحب آنکھ کھول کر دیکھیں کہ وہ زیادہ تر کاریگر پیش تو کیا گیا اور اسی کی طرف تو ہم آپ کو دعوت کررہے ہیں کہ آؤ فرضی پرمیشر سے زیادہ تر کاریگر اور اس سے زیادہ تر جاننے والا اپنے کامل نشانوں کے ساتھ جلوہ گر ہوا ہے اس زیادہ تر عزت و حکمت و قدرت والے پر ایمان لاؤ جس نے اپنی عام قادریت ظاہر کی ہے جن چیزوں کو آپ لاوارث اور غیر مخلوق سمجھتے تھے ان کا وارث ظاہر ہوگیا ہے سو ادھورے اور وہمی پرمیشر کو چھوڑ دو اور سچے اور کامل اور پورے پورے قادر کی فرمانبرداری اختیار کرو جس کی سچائی اس کی قدرتوں سے ثابت ہورہی ہے۔ آپ لوگوں کا پہلا پرمیشر حقیقت میں پرمیشر نہیں ہے اور جوڑنے جاڑنے کی بھی دراصل اس کو طاقت نہیں ہے بلکہ وہ کچھ بھی نہیں سچا پرمیشر یہی ہے جو تمام دنیا کا مالک ہے کسی خاص ملک سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ہر ایک ملک کے ڈھونڈنے والے اس کو پاتے ہیں سو آؤ دلی صدق سے اس کی طرف رجوع کرو تاتم بھی ان برکات سے حصہ یاب ہوجاؤ جن سے صادق لوگ
ہرگزؔ نہیں ڈرتا غرض احمقانہ تقلید سے وہ کوئی کام بھی نہیں کرتا بلکہ سچی اور کامل محبت کی وجہ سے اپنے آقا کا مزاج دان ہوجاتا ہے اور یکرنگی اور اتحاد کی روشنی جو اس کے دل میں ہے وہ ہر ایک تازہ وقت میں تازہ طور پر اس کو سمجھا دیتی ہے جو اس خاص وقت میں کیونکر اور کس طرز سے کوئی کام کرنا چاہیئے جو مخدوم حقیقی کے منشاء کے مطابق ہو اور چونکہ اس کو اپنے منعم حقیقی سے ایک تعلق ذاتی پیدا ہوجاتا ہے اس لئے اطاعت اور فرمانبرداری اس کے سر پر کوئی آزار رساں بوجھ نہیں ہوتا بلکہ وہ فرمانبرداری اس کے ایک امر طبعی کے حکم میں ہوجاتی ہے جو بالطبع مرغوب اور بلا تصنع و تکلف اس سے صادر ہوتی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 258
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 258
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/258/mode/1up

عؔ ہوتے ہیں۔
قولہ۔ خدائے تعالیٰ جو خود بخود ہونے والی چیز ہے خدا کے اپنے کاموں سے بہت بڑھ کر ہے اور اس سے خدا کی کوئی ہتک نہیں ہوتی۔
اقول۔ بجز اس کے کیا کہوں کہ۔ بریں عقل و دانش ہزار آفرین۔ ہماری طرف سے تو اعتراض یہ تھا کہ جس حالت میں بقول آریہ صاحبان اصل پیدائشِ اشیاء خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔ بلکہ جمیع اشیاء مادی و غیر مادی معہ تمام خواص و عجائبات اپنے کے خودبخود ہیں تو اس میں پرمیشر کی بڑی ہتک عزت ہے یعنی یہ امر اس کی بزرگی اور جلال اور حیثیت خدائی کے کسر شان کرتا ہے کہ جو چیزیں اس کے زیر حکم اور ماتحت ہیں وہ سب اپنے وجود اور اپنے جمیع خواص میں جو اعلیٰ درجہ کے عجائبات قدرت سے بھرے ہوئے ہیں خودبخود ہوں اور جو ادنیٰ درجہ کا کام ہے جو پہلے کام کے سہارے سے چلتا ہے فقط وہی کام پرمیشر کے ہاتھ سے نکلا ہو اس کا جواب ماسٹر صاحب یہ دیتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ جو خودبخود ہونے والی چیز ہے
رہتی ہے اور جیسی اللہ جل شانہٗ کو اپنی خوبی اور عظمت محبوب بالطبع ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا جلال ظاہر کرنا اس کے لئے محبوب بالطبع ہوجاتا ہے اور اپنے مخدوم حقیقی کی ہر ایک عادت و سیرت اس کی نظر میں ایسی پیاری ہوجاتی ہے کہ جیسی خود اس کو پیاری ہے۔ سو یہ مقام ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔ جن کے سینے محبت غیر سے بالکل منزہ وصاف ہوجاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ کی رضامندی کو ڈھونڈنے کے لئے ہر ایک وقت جان قربان کرنے کو طیار رہتے ہیں۔ سینہ می باید تہی از غیر یار۔ دل ہمی باید ُ پر از یاد نگار۔ جاں ہمی باید براہ او فدا۔ سرہمی باید بہ پائے اونثار۔ ہیچ دانی چیست دین عاشقاں۔ گویمت گر بشنوی عشاق دار۔ ازہمہ عالم فردیستن نظر۔ لوح دل شستن زغیر دوستدار۔ قرب کی دوسری قسم ولداور والد کی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 259
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 259
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/259/mode/1up

خدا ؔ کے اپنے کاموں سے بڑھ کر ہے اور اس سے خدا کی کوئی ہتک عزت نہیں ہوتی۔ سو ایسا ہی دوسری خودبخود ہونے والی چیزوں سے اس کی کوئی ہتک عزت نہیں۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ اس جواب کو ہمارے اعتراض سے کیا تعلق ہے۔ یہ بات نہایت ظاہر و بدیہی ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ کی ذات و صفات اس کے کاموں سے جو اس کی مخلوقات ہے بڑھ کر نہ ہوتی تو مخلوق اپنے خالق سے اور مملوک اپنے مالک سے مساوی ہوجاتا تو اس طرح پر ضرور خدائے تعالیٰ کی ہتک عزت ہوتی کیونکہ مخلوق کو اپنے خالق سے برابر ہوجانا اور مملوک کا اپنے مالک سے ہم درجہ ہونا صریح موجب ہتک عزت مالک ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے جیسا خدا پیدا نہیں کرتا کہ یہ اس کی عزت ابدی و جلال ازلی اور وحدت قدیمی کے برخلاف ہے اب جب کہ یہ ثابت ہے کہ خدائے تعالیٰ کی ہتک عزت اس بات میں ہے کہ کوئی مخلوق و مملوک ہوکر اس کی ذات و صفات کے برابر ہو تو ظاہر ہے کہ جو امر اس کا نقیض ہے یعنی یہ کہ مخلوق اپنی ذات و صفات میں اپنے خالق سے کم ہو یہ امر موجب
تشبّہؔ سے مناسبت رکھتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے
فَاذْکُرُوْا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَکُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًاؕ
یعنی اپنے اللہ جل شانہ کو ایسے دلی جوش محبت سے یاد کرو جیسا باپوں کو یاد کیا جاتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیئے کہ مخدوم اس وقت باپ سے مشابہ ہوجاتا ہے جب محبت میں غائت درجہ شدت واقع ہوجاتی ہے اور ُ حب جو ہریک کدورت اور غرض سے مصفا ہے دل کے تمام پردے چیر کر دل کی جڑھ میں اس طرح سے بیٹھ جاتی ہے کہ گویا اس کی جز ہے تب جس قدر جوش محبت اور پیوند شدید اپنے محبوب سے ہے وہ سب حقیقت میں مادر زاد معلوم ہوتا ہے اور ایسا طبیعت سے ہمرنگ اور اس کی جز ہوجاتا ہے کہ سعی اور کوشش کا ذریعہ ہرگز یاد نہیں رہتا اور جیسے بیٹے کو اپنے باپ کا وجود تصور کرنے سے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 260
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 260
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/260/mode/1up

ہتک ؔ عزت نہیں ہوسکتا کیونکہ اجتماع نقیضین محال و ممتنع ہے برخلاف اس کے جو چیزیں خدا تعالیٰ کے ماتحت وزیر حکم ہیں ان کو اس کے ماتحت قبول کرکے پھر اس کی حدود قدرت سے انہیں باہر رکھ لینا اور باوصف صدہا عجائب و غرائب خواص کے جو ان چیزوں کے اندر بھرے ہوئے ہیں جو ایک ناکارہ کام جوڑنے جاڑنے سے ہزارہا مراتب بہتر ہیں پھر بھی ان چیزوں کو خدائے تعالیٰ کی پیدائش اور ان کے ہاتھ کی صنعت ہونے سے الگ کا الگ رہنے دینا اور پرمیشر کو صرف جوڑنے جاڑنے والا جو اس کے پہلے کاموں سے قطع تعلق کی حالت میں ادنیٰ سا کام ہے خیال کرنا اگر ایسے خیال ُ پر اختلال سے بھی آپ کے پرمیشر کی عزت دور نہیں ہوتی تو یہ عزت بھی عجیب عزت ہے غرض یہ قیاس آپ کا بالکل قیاس مع الفارق ہے جو خدائے تعالیٰ کی ماتحت چیزوں کا اس کی ذات و صفات پر آپ کررہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ اس صاف صاف فرق کو سمجھ کر بہت شرمندہ ہوں گے اور دل میں پچھتائیں گے کہ ایسی فضول باتیں منہ سے کیوں نکالیں۔ بالآخر میں آپ کو یہ بھی یاد دلاتا ہوں کہ آپ
ایکؔ روحانی نسبت محسوس ہوتی ہے ایسا ہی اس کو بھی ہر وقت باطنی طور پر اس نسبت کا احساس ہوتا رہتا ہے اور جیسے بیٹا اپنے باپ کا ُ حلیہ اور نقوش نمایاں طور پر اپنے چہرہ پر ظاہر رکھتا ہے اور اس کی رفتار اور کردار اور خواور بوبصفائی تام اس میں پائی جاتی ہے علیٰ ہذا القیاس یہی حال اس میں ہوتا ہے اور اس درجہ اور قرب اول کے درجہ میں فرق یہ ہے کہ قرب اول کا درجہ جو خادم اور مخدوم سے تشبیہہ رکھتا ہے وہ بھی اگرچہ اپنے کمال کے رو سے اس درجہ ثانیہ سے نہایت مشابہ ہے لیکن یہ درجہ اپنی نہایت صفائی کی وجہ سے تعلق مادر زاد کے قائم مقام ہوگیا ہے اور جیسا باعتبار نفس انسانیت کے دو انسان مساوی ہوتے ہیں لیکن بلحاظ شدت و ضعف خواص انسانی کے ظہور آثار میں متفاوت واقع ہوتی ہیں ایسا ہی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 261
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 261
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/261/mode/1up

اِس ؔ موقع کے پڑھنے کے وقت اس رسالہ کا وہ حاشیہ بھی پڑھ لیں کہ جو حاشیہ ملحقہ اس متن سے پہلے تحریر پاچکا ہے۔
قولہ۔ اس کے آگے مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ اگر سب روحیں غیرمخلوق اور خودبخود ہیں تو پھر خدا کسی روح سے بندگی کرانے کا مستحق نہیں رہے گا۔ کیونکہ سب روحیں اسے کہہ سکتی ہیں کہ جب کہ تو نے ہمیں پیدا ہی نہیں کیا اور نہ ہماری طاقتوں اور قوتوں اور استعدادوں کو تو نے بنایا تو پھر کس استحقاق سے ہم سے اپنی پرستش چاہتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے پہلے قباحتوں کے جواب میں ثابت کردیا ہے کہ بغیر پرمیشر کے جوڑنے جاڑنے کے تمام روحیں اور ان کی طاقتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پس جس نے جوڑنے جاڑنے سے آرام اور سکھ میں ترقی کرنے کا سامان بخشا کیا وہ شکر گزاری اور عبادت کے لائق نہیں۔
اقول۔ افسوس کہ ہرچند اس ادھورے اور نکمّے پرمیشر کی وکالت میں آپ نے جہاں تک
اِنؔ دونوں درجوں میں تفاوت درمیان ہے غرض اس درجہ میں محبت کمال لطافت تک پہنچ جاتی ہے اور مناسبت اور مشابہت بال بال میں ظاہر ہوجاتی ہے۔ خیال کرنا چاہئے کہ اگرچہ ایک شخص کمال عشق کی حالت میں اپنے معشوق سے ہمرنگ ہوجاتا ہے۔ مگر جو شخص اپنے باپ سے جس سے وہ نکلا ہے مشابہت رکھتا ہے اس کی مشابہت اور ہی آب و تاب رکھتی ہے۔
تیسری قسم کا قرب ایک ہی شخص کی صورت اور اس کے عکس سے مشابہت رکھتا ہے یعنی جیسے ایک شخص آئینہ صاف و وسیع میں اپنی شکل دیکھتا ہے تو تمام شکل اس کی معہ اپنے تمام نقوش کے جو اس میں موجود ہیں عکسی طور پر اس آئینہ میں دکھائی دیتی ہے ایسا ہی اس قسم ثالث قرب میں تمام صفات الٰہیہ صاحب قرب کے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 262
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 262
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/262/mode/1up

بنؔ پڑا بڑا زور مارا بہت کچھ کوشش کی مگر چونکہ اس کا ادھور پن ایسا نہیں ہے جو کسی کے چھپانے سے چھپ سکے اس لئے بجز بار بار کی خجالت کے اور کچھ اس قیل وقال سے آپ کو حاصل نہیں ہوا۔ بھلا آپ ہی فرمائیں کہ آپ نے پہلی قباحتوں کے جواب میں کیا خاک ثابت کیا ہے۔ جس حالت میں آپ لوگ اپنے ہی ُ منہ سے قائل ہیں کہ تمام روحیں خودبخود ہیں اور ان کے تمام خواص بھی خودبخود۔ ان کی تمام قوتیں بھی خودبخود ایسا ہی پرکرتی بھی خودبخود۔ جسم کا ہر ایک ذرّہ بھی خودبخود اور ان کے تمام خواص اور قوتیں خودبخود۔ ان کا ازلی و ابدی ہونا بھی خودبخود۔ پرمیشر ہو یا نہ ہو وہ سب بذات خود قائم بذات خود واجب الوجود غرض سارا جہان اپنے دونوں ٹکڑوں کے ساتھ خودبخود ہے تو ان خواص اور قوتوں اور دائمی بقا میں جو روحوں کو خودبخود حاصل ہیں کون سی شکر گزاری کا پرمیشر مستحق ٹھہرسکتا ہے۔ کیا ان چیزوں میں سے پرمیشر نے بھی اپنے گھر سے کچھ دیا ہے اور اس کی گرہ سے بھی کچھ خرچ آیا ہے۔ رہا یہ بار بار کا رونا جو پرمیشر نے
وجوؔ د میں بہ تمامتر صفائی منعکس ہوجاتی ہیں۔ اور یہ انعکاس ہریک قسم کی تشبہ سے جو پہلے اس سے بیان کیا گیا ہے اتم و اکمل ہے کیونکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ جیسے ایک شخص آئینہ صاف میں اپنا منہ دیکھ کر اس شکل کو اپنی شکل کے مطابق پاتا ہے وہ مطابقت اور مشابہت اس کی شکل سے نہ کسی غیر کو کسی حیلہ یا تکلّف سے حاصل ہوسکتی ہے اور نہ کسی فرزند میں ایسی ہوبہو مطابقت پائی جاتی ہے اور یہ مرتبہ کس کے لئے میسر ہے اور کون اس کامل درجہ قرب سے موسوم ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اسی کو میسر آتا ہے کہ جو الوہیت و عبودیت کے دونوں قوسوں کے بیچ میں کامل طور پر ہوکر دونوں قوسوں سے ایسا شدید تعلق پکڑتا ہے کہ گویا ان دونوں کا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 263
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 263
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/263/mode/1up

روحوںؔ اور جسموں کو باہم جوڑا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ایسا نالائق پرمیشر ہرگز جوڑنے پر بھی قادر نہیں ہوسکتا اگر روحوں کی حقیقت کا اس کو پورا پورا علم ہوتا تو وہ بے شک ان کو بناسکتا کیونکہ ایک چیز کا پورا پورا علم ہونا اس کے بنانے کو مستلزم ہے اور جب کہ وہ روحوں کے بنانے پر قادر نہیں تو اس سے صاف ثابت ہے کہ اس کو روحوں کے خواص اور باطنی قوتوں اور کیفیتوں کا پورا پورا علم بھی نہیں اور جبکہ علم کامل نہیں تو ایسے ادھورے اور ناقص علم سے وہ جوڑنے جاڑنے پر کیونکر قادر ہوسکتا ہے اگر کوئی ثبوت ہے تو پیش کرنا چاہئے اور اگر بفرض محال یہ ثابت بھی ہوجائے کہ ایسا ادھورا اور نکما پرمیشر ارواح اور اجسام کو جوڑسکتا ہے تو البتہ ایک ناقص جیسی شکرگزاری کے لائق ٹھہرے گا جس کا عدم وجود برابر ہے۔ مگر یہ تو کبھی نہ ہوگا کہ ارواح جو بکلّی آزاد اور غیر مخلوق اور قدیم ہونے میں اس کے ہمسر اور انادی ہونے میں اس کے ہم پہلو اور واجب الوجود ہونے میں اس کے ہم رتبہ ہیں اس کو اپنا رب سمجھ لیں اور جو اپنے رب اور پیدا کنندہ کی پرستش اور عبادت کرنی چاہئے اس عالی شان عبادت کا اس کو مستحق ٹھہراویں سو یہی مطلب تھا جس کو ہم نے اعتراض میں لکھا اور آپ نے نہ اس کو غور کرکے سمجھا اور نہ اس کا کچھ جواب دیا۔
قولہ۔ سوائے اس کے خداوند کریم نہایت دیالو کرپالو ہے اس کی یہ ہدایت کہ پرستش کرنی چاہئے انسان کی بہتری کے لئے ہے نہ کہ خود خدا کی اس میں کوئی عزت بڑھتی ہے۔
عینؔ ہوجاتا ہے اور اپنے نفس کو بکلی درمیان سے اٹھا کر آئینہ صاف کا حکم پیدا کرلیتا ہے اور وہ آئینہ ذوجہتین ہونے کی وجہ سے ایک جہت سے صورت الٰہیہ بطور ظلّی حاصل کرتا ہے اور دوسری جہت سے وہ تمام فیض حسبِ استعداد و طبائع مختلفہ اپنے مقابلین کو پہنچاتا ہے اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 264
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 264
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/264/mode/1up

اقولؔ ۔ میں کہتا ہوں کہ گو بندگی و عبادت کرنے سے انسان کی اپنی ہی بہتری متصور ہے۔ مگر پھر بھی خدا تعالیٰ کی ربوبیت تقاضا کرتی ہے اور جوش مارتی ہے کہ لوگ اس کی سیدھی راہ پر قدم مار کر اور ناکردی کاموں سے بچ کر اور اس کی پرستش و اطاعت میں محو ہوکر اپنی سعادت مطلوبہ کو پالیں اور اگر اس راہ پر چلنا نہ چاہیں تو پھر نہ اپنے لئے بلکہ انہیں کے لئے اس کا غضب بھڑکتا ہے اور طرح طرح کی تنبیہوں میں انہیں مبتلا کرتا ہے اور جو لوگ پھر بھی نہ سمجھیں وہ بُعد اور حرمان کی آگ میں جلتے ہیں۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص اس کو یہ کہہ سکے کہ تجھے میرے نفع یا نقصان کی کیا فکر پڑی ہے اور کیوں بار بار ہم کو نصیحتیں کرتا ہے اور الہامی کتابیں بھیجتا ہے اور سزائیں دیتا ہے اگر ہم عبادت کریں گے تو اپنے لئے اور اگر نہیں کریں گے تو آپ نقصان اٹھائیں گے۔ تجھے کیوں ناحق کا جوش و خروش ہے۔ اور اگر کوئی شخص ایسا کہے بھی بلکہ اگر سب دنیا اور تمام آدم زاد متفق ہوکر اس کی خدمت میں یہ گزارش کریں کہ ہم کو آپ اپنی نصیحتوں اور حکموں اور الہامی کتابوں سے معاف رکھیں ہم آپ کا بہشت یا یوں کہو کہ مکتی خانہ لینا نہیں چاہتے ہم اسی دنیا میں گزارہ کرلیں گے آپ مہربانی فرما کر اسی جگہ ہمیشہ کے لئے ہمیں رہنے دیں آخرت کی ہم بڑی بڑی نعمتوں سے باز آئے آپ ہمارے اعمال میں ذرا دخل نہ دیا کریں اور جزا و سزا وغیرہ تجویزیں جو ہمارے واسطے آپ کرتے رہتے ہیں ان سب سے آپ دست بردار رہیں
فرمایاؔ ہے
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ‏
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى‌ۚ‏
پھر نزدیک ہوا (یعنی اللہ تعالیٰ سے) پھر نیچے کی طرف اُترا (یعنی مخلوق کی طرف تبلیغ احکام کے لئے نزول کیا) پس اسی جہت سے کہ وہ اوپر کی طرف صعود کرکے انتہائی درجہ قرب تام کو پہنچا اور اس میں اور حق میں کوئی حجاب نہ رہا اور پھر نیچے کی طرف اس نے نزول کیا اور اس میں اور خلق میں کوئی حجاب نہ رہا یعنی چونکہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 265
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 265
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/265/mode/1up

ہمارؔ ے نفع یا نقصان سے آپ کچھ تعلق نہ رکھیں تو یہ عرض ان کی ہرگز قبول نہیں ہوسکتی اگرچہ اس کے قبول کرانے کے لئے تمام عمر روتے پیٹتے رہیں پس اس سے صاف ثابت ہے کہ صرف یہی بات نہیں کہ بندہ اپنی حالت میں آزاد ہے اور اپنے لئے بندگی کرتا ہے اور پرمیشر کو اس سے کچھ تعلق نہیں بلکہ جلال اور عظمت الٰہی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ بندہ شرط بندگی بجالاوے اور نیک راہوں کو اختیار کرے اور اس کی الوہیت بالطبع تقاضا کرتی ہے کہ اس کے آگے عبودیت کے آثار ظاہر ہوں اور اس کی کاملیت ذاتی جوش سے یہ چاہتی ہے کہ جو نقصان سے خالی نہیں ہے اس کے آگے تذلل کرے یہی وجہ ہے کہ نافرمانوں اور سرکشوں اور ان سب کو جو شرارتوں پر ضد کرتے ہیں انجام کار اس کا عذاب پکڑتا ہے ورنہ اس بات پر کوئی وجہ قابل اطمینان پیدا نہیں ہوتی کہ بغیر پائے جانے کے کسی ذاتی قوت کے جو سزا جزا دینے کے لئے اس کی ذات بابرکات ازل سے رکھتی ہو کیوں خواہ نخواہ وہ اس فکر میں لگا رہتا ہے کہ نیکی کرنے والوں کو نیک پاداش اور بدی کرنے والوں کو بدپاداش پہنچاوے بلکہ اگر کوئی قوت ذاتی جو جزا سزا دینے کے لئے محرک ہو اس میں نہ پائی جاوے تو یہ چاہئے تھا کہ خاموشی اختیار رکھتا اور جزا سزا کی چھیڑ چھاڑ سے بکلّی دست کش رہتا سو اگرچہ یہ بات تو صحیح ہے کہ انسان کے اعمال کا
وہ ؔ اپنے صعود اور نزول میں اتم و اکمل ہوا اور کمالات انتہائیہ تک پہنچ گیا اس لئے دو قوسوں کے بیچ میں یعنی وتر کی جگہ میں جو قُطر دائرہ ہے اتم و اکمل طور پر اس کا مقام ہوا بلکہ وہ قوس الوہیت اور قوس عبودیت کی طرف اس سے بھی زیادہ تر جو خیال و گمان و قیاس میں نہیں آسکتا نزدیک ہوا مثلاً صُورت اُن دو قوسوں کی یہ ہے۔ اس شکل میں جو خط مرکز دائرہ کو قطع کرتا ہے یعنی جو قطر دائرہ ہے وہی قَاب قوسَین یعنی دونوں قوسوں کا وتر ہے۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 266
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 266
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/266/mode/1up

نفع ؔ نقصان اسی کی طرف عائد ہوتا ہے جو خدائے تعالیٰ کی عظمت و سلطنت نہ اس سے کچھ بڑھتی ہے نہ گھٹتی ہے مگر یہ بات بھی نہایت صحیح اور محکم صداقت ہے کہ ربوبیت کا تقاضا بندوں کو ان کی حیثیت بندگی پر قائم رکھنا چاہتا ہے اور جو شخص ذرا تکبر سے سراونچا کرے تو اس کا سر فی الفور کچلا جاتا ہے غرض خدائے تعالیٰ کی ذات میں اپنی عظمت اپنی خدائی اپنی کبریائی اپنا جلال اپنی بادشاہی ظاہر کرنے کا ایک تقاضا پایا جاتا ہے اور سزا و جزا اور مطالبہ اطاعت و عبودیت و پرستش اسی تقاضا کی فرع پڑا ہوا ہے اسی اظہار ربوبیت اور خدائی کی غرض سے یہ انواع اقسام کا عالم اس نے پیدا کررکھا ہے ورنہ اگر اس کی ذات میں یہ جوش اظہار نہ پایا جاتا تو پھر وہ کیوں پیدا کرنے کی طرف ناحق متوجہ ہوتا اور کس نے اس کے سر پر بوجھ ڈالا تھا کہ ضرور یہ عالم پیدا کرے اور ارواح کو اجسام کے ساتھ تعلق دے کر اس مسافر خانہ کو جو دنیا کے نام سے موسوم ہے اپنی عجائب قدرتوں کی جگہ بنادے آخر اس میں کوئی قوت اقتضائے تھی جو اس بنا ڈالنے کی محرک ہوئی۔ اسی کی طرف اس کے پاک کلام میں جو قرآن شریف ہے اشارات پائے جاتے ہیں۔ جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے کل عالم کو اس غرض سے پیدا کیا کہ تا وہ اپنی خالقیت کی صفت سے شناخت کیا جائے اور پھر پیدا کرنے کے بعد اپنی مخلوقات پر رحم اور کرم کی بارشیں کیں تا وہ رحیمی اور کریمی کی صفت سے شناخت کیا جائے ایسا ہی اس نے سزا اور جزا دی تا اس کا
جانناؔ چاہئے کہ دونوں قسم وجود واجب اور ممکن کے ایک ایسے دائرہ کی طرح ہیں کہ جو خط گذرندہ برمرکز سے دو قوسوں پر منقسم ہو۔ وہی خط جو قطر دائرہ ہے جس کو قرآن شریف میں قَاب قوسَین سے تعبیر کیا ہے اور عام بول چال علم ہندسہ میں اس کو وتر قوسین کہتے ہیں وہ ذات مفیض اور مستفیض میں بطور برزخ واقع ہے کہ جو اپنے اخص کمال میں جو انتہائی درجہ کمالات کا ہے نقطہ مرکز دائرہ سے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 267
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 267
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/267/mode/1up

منتقمؔ اور منعم ہونا شناخت کیا جائے اسی طرح وہ مرنے کے بعد پھر اٹھائے گا تا اس کا قادر ہونا شناخت کیا جائے غرض وہ اپنے سب عجیب کاموں سے یہی مدعا رکھتا ہے کہ تا وہ پہچانا جائے اور شناخت کیا جائے سو جب کہ دنیا کے پیدا کرنے اور جزا سزا وغیرہ سے اصلی غرض معرفت الٰہی ہے جو لب لباب پرستش و عبادت ہے تو اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ خود تقاضا فرماتا ہے کہ تا اس کی معرفت جس کی حقیقت کاملہ پرستش و عبادت کے ذریعہ سے کھلتی ہے اس کے بندوں سے حاصل ہوجائے جیسا کہ ایک خوبصورت اپنے کمال خوبصورتی کی وجہ سے اپنے حسن کو ظاہر کرنا چاہتا ہے سو خدائے تعالیٰ جس پر حسن حقیقی کے کمالات ختم ہیں وہ بھی اپنے ذاتی جوش سے چاہتا ہے کہ وہ کمالات لوگوں پر کھل جائیں پس اس تحقیق سے ثابت ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنی عبادت جو مدار و ذریعہ شناخت ہے ضرور اپنے بندوں سے چاہتا ہے اور جو شخص اس کی اس خواہش کا مقابلہ کرے اور اس کی پرستش سے منکر اور منحرف ہو تو ایسے شخص کو نابود کرنے کے لئے اس کی کبریائی متوجہ ہوتی ہے اگر تم صفحہ دنیا پر غور کرکے دیکھو اور جو کچھ خدائے تعالیٰ نے اب تک سرکشوں اور بے ایمانوں سے کیا ہے اور جو کچھ وہ قدیم سے جفا کاروں اور ستم کاروں سے کرتا چلا آیا ہے اس پر عمیق نگاہ سے نظر ڈالو تو تم پر نہایت صفائی سے کھل جائے گا کہ بلاشبہ یہ ثابت شدہ صداقت ہے کہ بالضرور خدائے تعالیٰ اپنے ذاتی تقاضا سے نیکی سے دوستی اور بدی سے نفرت اور
جوؔ وتر قوس کا درمیانی نقطہ ہے مشابہت رکھتا ہے یہی نقطہ تمام کمالات انسانِ کامل کا دل ہے جو قوس الوہیت و عبودیت کی طرف بخطوط مساویہ نسبت رکھتا ہے اور یہی نقطہ ارفع نقاط ان خطوط عمودیہ کا ہے جو محیط سے قطر دائرہ تک کھینچے جائیں۔ اگرچہ وتر قوسین اور بہت سے ایسے نقاط سے تالیف یافتہ ہے جو درحقیقت کمالات روحانیہ صاحب وتر کے صور محسوسہ ہیں لیکن بجز ایک

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 268
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 268
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/268/mode/1up

عداوؔ ت رکھتا ہے اور یہی چاہتا ہے کہ لوگ بدی کو چھوڑ دیں اور نیکی کو اختیار کریں گو نیکی اور بدی کو جو انسان سے ظہور میں آتی ہے اس کے کارخانۂ سلطنت میں کوئی مفید یا مضر دخل نہیں ہے لیکن ذاتی تقاضا اس کا یہی ہے اب ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ نے روحوں کو پیدا نہیں کیا تو وہ کسی روح سے اس مطالبہ کرنے کا مستحق نہیں ہے کہ وہ کمال درجہ کی پرستش جو اپنے پیدا کنندہ کے لئے چاہیئے کیوں اس سے صادر نہیں ہوئی۔
قولہ۔ اب رہی یہ بات کہ خداوند تعالیٰ اگر بنانے والا نہیں تو محیط بھی نہیں ہوسکتا یہ تو وہ شاید کہتا جو خدا کا بھی بنانے والا ہوتا کیونکہ خدا کی سب صفات اور طاقتیں اس سبب سے نہیں کہ وہ روحوں کے بنانے والا ہے بلکہ حقیقت میں وہ سب صفات اس میں موجود ہیں۔
اقول۔ آج ہمیں ماسٹر صاحب کے کمالات علمی پر نظر ڈالنے سے بڑا ہی سرور حاصل ہوا ہمیں تعجب ہے کہ آریہ لوگ صاحب موصوف کو دیانند کا کیوں قائم مقام نہیں بناتے۔ ماسٹر صاحب کی نظر میں جو شخص یہ بات کہے کہ خدائے تعالیٰ کا ہریک چیز پر محیط ہونا اس کے خالق ہونے کو مستلزم ہے وہ اس قول سے خدا کے بنانے والا بن جاتا ہے۔ اب
نقطہ ؔ مرکز کے اور جس قدر نقاط وتر ہیں ان میں دوسرے انبیاء و رسل و اربابِ صدق و صفا بھی شریک ہیں اور ُ نقطہ مرکز اس کمال کی صورت ہے کہ جو صاحب وتر کو بہ نسبت جمیع دوسرے کمالات کے اعلیٰ و ارفع و اخص و ممتاز طور پر حاصل ہے جس میں حقیقی طور پر مخلوق میں سے کوئی اس کا شریک نہیں ہاں اتباع و پیروی سے ظلی طور پر شریک ہوسکتا ہے۔ اب جاننا چاہئے کہ دراصل اسی نقطہ وسطی کا نام حقیقت محمدیہ ہے جو اجمالی طور پر جمیع حقائق عالم کا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 269
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 269
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/269/mode/1up

ماسٹرؔ صاحب کے اس قول کو اسی جگہ بطور امانت رکھ کر اصل مطلب پر نظر ثانی کرنی چاہئے کہ یہ بات نہایت بدیہی اور ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ کسی چیز پر محیط ہے تو اس کا علم بھی اس پر محیط ہوگا اور اس کی قدرت کاملہ بھی اس پر محیط ہوگی کیونکہ خدائے تعالیٰ کی ذات اس کی صفات سے الگ نہیں ہے تا یہ کہا جائے کہ وہ محیط ہونے کے وقت اپنی صفات کو کسی طاق پر جدا رکھ آتا ہے۔ اب جبکہ قدرت کاملہ اور علم کامل خدائے تعالیٰ کا ہریک چیز پر محیط ہوا تو یہی حقیقت خالقیت ہے کیونکہ ہم کئی مقام میں پہلے بھی تحریر کرچکے ہیں کہ علم کامل کو بشرط قدرت عمل مستلزم ہے اگر انسان کسی چیز کی نسبت علم کامل رکھتا ہو اور باایں ہمہ ایسے اسباب بھی اسے میسر ہوں جن سے اس کو قدرت و طاقت عمل پیدا ہوجائے تو اس چیز کو وہ بناسکتا ہے بلکہ ہزارہا صنعتیں جو انسان بنارہا ہے اور ابتدائی پیدائش سے بناتا چلا آیا ہے ان کے بنائے جانے کی ضروری شرطیں یہ دو ہی ہیں اور اگر کسی چیز کا علم کامل ہو اور پھر اس پر تصرف کرنے کی قدرت کامل بھی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ چیز بنانے سے رہ جائے پس جب کہ انسان کا یہ حال ہے تو پرمیشر پروہ نامعلوم پتھر کون سے پڑگئے کہ ایک طرف تو اس کی نسبت یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ہریک چیز کے بارے میں اس کا علم کامل ہے اور وہ اپنے علم کامل اور قدرت کامل کے ساتھ ہریک چیز اور ذرّہ ذرّہ پر محیط ہے اور ایک طرف اُس کو خالق اور پیدا کنندہ ہونے سے صاف جواب دیا جاتا ہے
منبع ؔ و اصل ہے اور درحقیقت اسی ایک نقطہ سے خط وتر انبساط و امتداد پذیر ہوا ہے اور اسی نقطہ کی روحانیت تمام خط و تر میں ایک ہویت ساریہ ہے جس کا فیضِ اقدس اس سارے خط کو تعین بخش ہوگیا ہے۔ عالم جس کو متصوفین اسماء اللہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کا اوّل و اعلیٰ مظہر جس سے وہ علیٰ وجہ التفصیل صدور پذیر ہوا ہے یہی ُ نقطہ درمیانی ہے جس کو اصطلاحات

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 270
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 270
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/270/mode/1up

جبؔ کہ یہ بات بدیہی ثبوت ہے کہ خالق ہونا محیط ہونے کی فرع ہے تو پھر اصل صفت کو جو محیط ہونا ہے ذات باری جل شانہٗ میں تسلیم کرکے اس کی فرع کے ماننے سے کیوں انکار کیا جاتا ہے۔ یہ بات اجلٰی بدیہات ہے کہ اصل کے ثبوت کو فرع کا ثبوت لازم پڑا ہوا ہے مثلاً جو شخص طلوع آفتاب کا اقرار کرکے پھر رات ہونے پر ضد کررہا ہے وہ اپنی بات کو اپنے ہی قول سے ردّکرتا ہے اسی طرح جب تم نے اپنے منہ سے مان لیا کہ خدائے تعالیٰ اپنی ذات اور علم کامل اور قدرت کامل سے ذرّہ ذرّہ عالم پر ایسا محیط ہے کہ ہریک چیز اس کے احاطہ تام میں معہ اپنی تمام کنہ اور کیفیت کے مستغرق ہے تو تمہیں اس کی یہ فرع بھی ماننی پڑے گی کہ وہ ان چیزوں کا خالق بھی ہے کیونکہ علم تام کو عمل جوجو اس کی فرع ہے لازم پڑا ہوا ہے اور جس طرح یہ بات ظاہر ہے کہ کسی چیز کے بنانے سے پہلے اول اس چیز کا علم ضروری ہے کہ وہ چیز اس طور اور اس طریق سے بنانی چاہئے اسی طرح یہ بھی ظاہر ہے کہ کسی عمل پر قادر ہونے کے لئے یہی ایک طریق ہے کہ اس عمل کے متعلق علم تام حاصل ہوجائے۔ سو اگر خدائے تعالیٰ اعیانِ موجودات کی حقیقت سے جیسا کہ چاہئے واقف ہے تو بے شک وہ ان کے بنانے پر بھی قادر ہے وجہ یہ کہ علم تام اسی علم کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے وجود اشیاء کی اصل حقیقت کماحقہٗ منکشف ہوجائے اور کوئی جز وجود کی غیر مکشوف نہ رہے۔ انسان کا علم جو ناقص ہے وہ اسی وجہ سے ناقص ہے
اہلؔ اللہ میں نفسی نقطہ احمد مجتبیٰ و محمد مصطفیٰ نام رکھتے ہیں اور فلاسفہ کی اصطلاحات میں عقل اول کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ اور اس ُ نقطہ کو دوسرے وتری نقاط کی طرف وہی نسبت ہے جو اسم اعظم کو دوسرے اسماء الٰہیہ کی طرف نسبت واقعہ ہے۔ غرض سرچشمہ ر موزِغیبی و مفتاح کنوزِ لاَرَیبی اور انسان کامل دکھلانے کا آئینہ یہی نقطہ ہے اور تمام اسرار مبدء و معاد کی علت غائی اور ہریک زیرو

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 271
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 271
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/271/mode/1up

کہؔ کنہ اشیاء تک نہیں پہنچتا بلکہ وہ کچھ تھوڑا ہی چل کر پھر آگے چلنے سے رہ جاتا ہے مثلاً انسان ایک حجری مومیائی کو دیکھ کر اس قدر تو کہہ سکتا ہے کہ یہ مومیائی بخارات لطیفہ پتھر میں سے نکلی ہے اور پھر پتھر پر غور کرکے کہہ سکتا ہے کہ یہ پتھر بالویعنی ریت کی دہنیت دار اجزاء سے وجود پذیر ہوا ہے اور پھر بالو کی نسبت رائے ظاہر کرسکتا ہے کہ وہ خاک کے بعض تغیرات سے پیدا ہوئی ہے لیکن اگر اس کے بعد یہ آخری سوال کیا جائے کہ خاک کہاں سے اور کیونکر پیدا ہوگئی ہے۔ اور اس کے کنہ دریافت کرنے کی کیا فلاسفی ہے تو اس سوال کے حل کرنے سے عاجز رہ جاتا ہے اور اپنے جہل اور عجز کا اقرار کرتا ہے ایسا ہی ہریک چیز کے انتہائی سوال پر اس کو اپنی نادانی کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔ اب ہم لکھتے ہیں کہ اگر پرمیشر کا بھی یہی حال ہے کہ اس کا علم بھی انسان کے علم کی طرح کسی حد پر آکر ٹھہرجاتا ہے اور اس حد مقررہ پر آکر اس کو اپنے جہل و نادانی و ناتوانی کا اقرار کرنا پڑتا ہے تو بس پھر ہندوؤں کے پرمیشر کی ساری کیفیت معلوم ہوگئی اور ثابت ہوگیا کہ ہندوؤں کا فرضی پرمیشر علاوہ اور نقصانوں کے جاہل اور عاجز بھی ہے۔ لیکن اگر اس کا علم غیر محدود اور غیر منقطع ہے اور اس درجہ کاملہ کنہ اشیاء تک پہنچا ہوا ہے جس درجہ پر کسی علم کا پہنچنا عامل ہونے کو
بالا ؔ کی پیدائش کی لمیت یہی ہے جس کے تصوّر بالکنہ و تصور بکنہ سے تمام عقول و افہام بشریہ عاجز ہیں اور جس طرح ہریک حیات خدائے تعالیٰ کی حیات سے مستفاض اور ہریک وجود اس کے وجود سے ظہور پذیر اور ہریک تعین اس کے تعین سے خلعت پوش ہے ایسا ہی نقطہ محمدیہ جمیع مراتب اکو ان اور خطائر امکان میں باذنہ ٖ تعالیٰ حسب استعدادات مختلفہ و طبائع متفاوتہ مؤثر ہے اور چونکہ یہ نقطہ جمیع مراتب الٰہیہ کا ظلّی طور پر اور جمیع مراتب کونیہ کا منبعی و اصلی طور پر جامع بلکہ انہیں دونوں کا مجموعہ ہے اس لئے یہ ہریک مرتبہ کونیہ پر جو عقول و نفوسُ کلیہ و جزئیہ و مراتب طبعیہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 272
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 272
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/272/mode/1up

زؔ م ہے تو خالقیت اس کی خود ثابت ہے۔
پھر بعد اس کے ماسٹر صاحب اپنی ایک اور دانائی دکھلاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب کہ پرمیشر نے دنیا کا کل جوڑنا جاڑنا کیا تو کیا وہ محیط نہ ہوا۔ اے ناظرین کیا تم اب بھی نہیں سمجھ سکتے کہ ماسٹر صاحب کس قدر عالم و فاضل ہیں۔ اے صاحب اگر آپ کا پرمیشر معہ اپنے علم تام و قدرت کاملہ کے جس سے وہ کسی حالت میں الگ نہیں ہوسکتا دنیا کی چیزوں پر احاطہ تام رکھتا اور ان کی کنہ تک اس کا علم پہنچا ہوا ہوتا اور ان کے خواص کی کیفیت اور ان کی قوتوں کی اصل ماہیت انتہائی درجہ پر اس کو معلوم ہوتی تو اس کی قدرت پر یہ پتھر کیوں پڑتے کہ صرف جوڑنے جاڑنے تک محدود رہتی۔ کیا انتہائی درجہ کا علم انتہائی درجہ کے عمل کو نہیں چاہتا؟ کیا دنیا میں کبھی کسی نے دیکھا یا سنا کہ جس درجہ پر علم ہے عمل اس درجہ تک نہیں پہنچ سکتا اب واضح رہے کہ ماسٹر صاحب کے اقوال فاسدہ کا خاتمہ بد اسی قول پر ہوگیا ہے جس کو ابھی ہم رد کرچکے ہیں۔ والحمدللّٰہ علی مانصرنا واخزی اعدائنا وظھر الحق وھم کارھون۔
مختصر تقریر بطور خلاصہ مباحثہ
ناظرین اس رسالہ کو پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں کہ ماسٹر مرلیدھر صاحب کا اعتراض شق القمر
الیٰؔ آخرتنزّلات وجود سے مراد ہے اجمالی طور پر احاطہ رکھتا ہے۔ ایسا ہی ظل الوہیت ہونے کی وجہ سے مرتبہ الٰہیہ سے اس کو ایسی مشابہت ہے جیسے آئینہ کے عکس کو اپنے اصل سے ہوتی ہے۔ اور امہات صفات الٰہیہ یعنی حیواۃ علم ارادہ قدرت سمع بصر کلام مع اپنے جمیع فروع کے اتم و اکمل طور پر اس میں انعکاس پذیر ہیں۔ اس نقطہ مرکز کو جو برزخ بین اللہ و بین الخلق ہے یعنی نفسی نقطہ حضرت سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجرد کلمۃ اللہ کے مفہوم تک محدود نہیں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 273
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 273
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/273/mode/1up

پر ؔ کس قدر فضول اور دوراز حق ہے کیونکہ اول تو یہ اعتراض اگر فرضی طور پر صحیح بھی تسلیم کرلیا جائے اور یہ قرار دیا جائے کہ اس آیت قرآنی کے دوسرے طور پر معنے ہیں تو ایسا قرار دینے سے کوئی بداثر اسلام پر نہیں پہنچ سکتا اگر کچھ اثر ہوگا تو صرف یہی کہ ہزارہا معجزات میں سے ایک معجزہ بہ پایۂ ثبوت نہ پہنچ سکا لیکن جس حالت میں صدہا شواہد قاطعہ حقیت اسلام پر موجود ہیں اور خود قرآن شریف اپنی ذات میں مجموعہ براہین و دلائل ہے تو پھر اگر عدم ثبوت شق القمر فرض بھی کرلیا جائے تو اس سے حرج یا نقصان کیا ہوا۔ کیا ان قرآنی معجزات کا کوئی کتاب جو الہامی کہلاتی ہے مقابلہ کرسکتی ہے جن سے ذاتی اعجاز قرآن شریف کا ثابت ہوتا ہے اور اس کے روحانی خواص بپایہ ثبوت پہنچتے ہیں۔ قرآن شریف توحید کے کامل اور پرزور بیان میں۔ اپنے اصول کو معقول اور مدلل طور پر ثابت کرنے میں۔ اخلاق فاضلہ کے تمام جزئیات کے لکھنے میں۔ اخلاق ذمیمہ کے معالجات لطیفہ میں۔ وصول الی اللہ کے تمام طریقوں کی توضیح میں۔ نجات کی سچی فلاسفی ظاہر کرنے میں۔ صفات کاملہ الٰہیہ کے اکمل و اتم ذکر میں۔ مبدء و معاد کے ُ پرحکمت بیان میں روح کی خاصیتوں اور قوتوں اور طاقتوں اور استعدادوں کے بیان میں حکمت بالغہ الٰہیہ کے تمام وسائل پر احاطہ کرنے میں۔ تمام اقسام
کرؔ سکتے جیسا کہ مسیح کو اس نام سے محدود کیا گیا ہے کیونکہ یہ نقطہ محمدیہ ظلّی طور پر مستجمع جمیع مراتب الوہیت ہے اسی وجہ سے تمثیلی بیان میں حضرت مسیح کو ابن سے تشبیہہ دی گئی ہے بباعث اس نقصان کے جو ان میں باقی رہ گیا ہے کیونکہ حقیقت عیسویہ مظہر اتم صفاتِ الوہیت نہیں ہے بلکہ اس کی شاخوں سے ایک شاخ ہے برخلاف حقیقت محمدیہ کے کہ وہ جمیع صفات الٰہیہ کا اتم و اکمل مظہر ہے جس کا ثبوت عقلی و نقلی طور پر کمال درجہ پر پہنچ گیا ہے سو اسی وجہ سے تمثیلی بیان میں ظلّی طور پر خدائے قادر و ذوالجلال سے آنحضرتؐ کو آسمانی کتابوں میں تشبیہ دی گئی ہے جو

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 274
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 274
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/274/mode/1up

یؔ صداقتوں پر مشتمل ہونے میں۔ تمام مذاہب باطلہ کو عقلی طور پر رد کرنے میں۔ حقوق عباداللہ کے قائم کرنے میں۔ تأثیرات و تنویرات روحانیہ میں اور پھر باایں ہمہ فصیح اور بلیغ اور رنگین عبارت میں۔ اس کمال کے درجہ تک پہنچا ہوا ہے کہ ہریک حصہ اس کے بیان کا ان بیانات میں سے درحقیقت معجزہ عظیمہ ہے جس کا مقابلہ نہ کوئی آریہ کرسکتا ہے نہ کوئی عیسائی اور نہ کوئی یہودی اور نہ کوئی اور شخص جو کسی مذہب کا پابند ہے۔ اس جگہ بیدسراسر بے ثمر ہے اور توریت و انجیل سراسر بے اثر۔ یہی وجہ ہے کہ کسی کتاب نے یہ دعویٰ نہیں کیا جو قرآن شریف نے کیا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے
قُل لَّٮِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا‏
یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر سب جن و انس اس بات پر متفق ہوجائیں کہ قرآن کی کوئی نظیر پیش کرنی چاہئے تو ممکن نہیں کہ کرسکیں اگرچہ بعض بعضوں
ابن ؔ کے لئے بجائے اَبْ ہے۔ اور حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم کا اضافی طور پر ناقص ہونا اور قرآنی تعلیم کا سب الہامی تعلیموں سے اکمل و اتم ہونا وہ بھی درحقیقت اسی بناء پر ہے کیونکہ ناقص پر ناقص فیضان ہوتا ہے اور اکمل پر اکمل۔
اور جو تشبیہات قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ظلّی طور پر خداوند قادر و مطلق سے دی گئی ہیں ان میں سے ایک یہی آیت ہے۔ جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ‏
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى‌ۚ‏
یعنی وہ (حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی ترقیات کاملہ قرب کی وجہ سے دو قوسوں میں بطور وتر کے واقع ہے بلکہ اس سے نزدیک تر۔ اب ظاہر ہے کہ وتر کی طرف اعلیٰ میں قوس الوہیت ہے سو جب کہ نفس پاک محمدی اپنے شدتِ قرب اور نہایت درجہ کی صفائی کی وجہ سے وتر کی حد سے آگے بڑھا اور دریائے الوہیت سے نزدیک تر ہوا تو اس

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 275
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 275
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/275/mode/1up

کیؔ مدد بھی کریں۔ اور جو کچھ قرآن شریف کے ذاتی معجزات اس جگہ ہم نے تحریر کئے ہیں۔ اگر کسی آریہ وغیرہ کو اپنے دل میں کچھ گھمنڈ یا سر میں کچھ غرور ہو اور خیال ہو کہ یہ معجزہ نہیں ہے بلکہ وید یا اس کی کوئی اور کتاب جس کو وہ الہامی سمجھتا ہے اس کا مقابلہ کر سکتی ہے تو اسے اختیار ہے کہ آزما کر دیکھ لے اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر کوئی مخالف ممتاز اور ذی علم لوگوں میں سے ان معجزات قرآنیہ میں سے کسی معجزہ کا انکاری ہو اور اپنی کتاب الہامی میں زور مقابلہ خیال کرتا ہو تو ہم حسب فرمائش اس کے کوئی قسم اقسام معجزات ذاتیہ قرآن شریف میں سے تحریر کرکے کوئی مستقل رسالہ شائع کردیں گے پھر اگر اس کی الہامی کتاب قرآن شریف کا مقابلہ کرسکے تو اسے حق پہنچتا ہے کہ تمام معجزات قرآنی سے منکر ہوجائے اور جو شرط قرار دی جائے ہم سے پوری کرلے ورنہ صرف عناد اور کور باطنی
ناپیدؔ اکنار دریا میں جاپڑا اور الوہیت کے بحرِ اعظم میں ذرّہ بشریت گم ہوگیا۔ اور یہ بڑھنا نہ مستحدث اور جدید طور پر بلکہ وہ ازل سے بڑھا ہوا تھا اور ظلّی اور مستعار طور پر اس بات کے لائق تھا کہ آسمانی صحیفے اور الہامی تحریریں اس کو مظہر اتم الوہیت قرار دیں اور آئینہ حق نما اس کو ٹھہراویں پھر دوسری آیت قرآن شریف کی جس میں یہی تشبیہ نہایت اصفیٰ و اجلیٰ طور پر دی گئی ہے یہ ہے
اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ ؕ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ‌
یعنی جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ واضح ہو کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کیا کرتے تھے اور مردوں کے لئے یہی طریق بیعت کا ہے سو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے بطریق مجاز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کو اپنی ذات اقدس ہی قرار دے دیا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 276
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 276
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/276/mode/1up

کیؔ وجہ سے معجزہ شق القمر سے انکار کرنا ایسا امر نہیں ہے کہ جس سے اسلام کے ایک بال کو بھی ضرر پہنچ سکے جب معجزات موجودہ قرآنیہ کا مخالفین سے رد نہیں ہوسکتا تو موجود کو چھوڑ کر ان معجزات کی بحث چھیڑنا جواب آنکھوں کے سامنے نہیں ہیں سراسر بے راہی ہے۔ ماسوا اس کے جس قدر ہم نے مقدمہ میں قانون قدرت کی تحقیقات میں لکھا ہے اس کے پڑھنے سے ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ شق قمر کا استبعاد عقلی درحقیقت ایسا نہیں ہے جیسا کہ نادان نیم حکیم خیال کرتے ہیں ابھی تک کسی عقل نے خواص قمری و شمسی پر احاطہ نہیں کیا اور نہ یہ ثابت کیا کہ خدائے تعالیٰ ان چیزوں کو بنا کر بکلی بے تعلق ہوگیا ہے اور اب یہ چیزیں اس سے باغی ہیں بلکہ خدائے تعالیٰ کے دونوں ہاتھ محو اور اثبات کے ابدی طور پر کھلے ہیں اور اپنی بے انتہا اور ناپیدا کنار قدرتوں سے جو چاہتا ہے کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ عدم علم سے
اور ؔ ان کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا۔ یہ کلمہ مقام جمع میں ہے جو بوجہ نہایت قرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بولا گیا ہے اور اسی مرتبہ جمع کی طرف جو محبت تامہ دو طرفہ پر موقوف ہے اس آیت میں بھی اشارہ ہے۔
وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى‌ۚ
تو نے نہیں چلایا خدا نے ہی چلایا جب کہ تو نے چلایا ایسا ہی یہ اشارہ اس دوسری آیت میں پایا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
قُلْ يٰعِبَادِىَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا‌ؕ
یعنے ان کو کہہ دے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر اسراف کیا (یعنی ارتکاب کبائر کیا) تم خدا کی رحمت سے نومید مت ہو وہ تمہارے سب گناہ بخش دے گا۔ اب ظاہر ہے کہ بنی آدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تو بندے نہیں ہیں بلکہ سب نبی و غیرنبی خدائے تعالیٰ کے بندے ہیں لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مولیٰ کریم سے قرب اتم یعنی تیسرے درجہ کا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 277
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 277
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/277/mode/1up

عدم شےؔ لازم نہیں آتا جس حالت میں کرۂ ارض میں خاصیت زلازل و انشقاق و اتصال پائی جاتی ہے چنانچہ بعض گذشتہ زمانوں میں صدہا میل تک زمین منشق ہوکر تہ و بالا ہوگئی ہے اور اب بھی ایسے حوادث ظہور میں آتے رہتے ہیں اور ان حوادث سے اس کی گردش میں کچھ بھی فرق نہیں آتا تو پھر حوادث قمری پر کیوں تعجب کیا جائے کیا ممکن نہیں کہ اس میں حکیم مطلق نے انشقاق و اتصال کی دونوں خاصیتیں رکھی ہوں جن کا ظہور اوقات مقررہ سے وابستہ ہو اور ازلی ارادہ سے وہی وقت ظہور مقرر ہو جب کہ ایک نبی سے ایسا ہی معجزہ مانگا گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نبی کی قوت قدسیہ کے اثر سے دیکھنے والوں کو کشفی آنکھیں عطا کی گئی ہوں اور جو انشقاق قرب قیامت میں پیش آنے والا ہے اس کی صورت ان کی آنکھوں کے سامنے لائی گئی ہو کیونکہ یہ بات محقق ہے کہ مقربین کی کشفی قوتیں اپنی شدت حدت کی وجہ سےؔ دوسروں پر بھی اثر ڈال دیتے ہیں اس کے نمونے ارباب مکاشفات کے قصوں میں بہت پائے جاتے ہیں بعض اکابر نے اپنے وجود کو ایک وقت اور ایک آن میں مختلف ملکوں اور مکانوں میں دکھلا دیا ہے باذن اللہ تعالیٰ اور اس جگہ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ حال کی فلسفی تحقیقاتیں شہادت دے رہی ہیں کہ شق قمر نہ صرف ایک مرتبہ بلکہ مخفی طور پر یہ انشقاق و اتصال ہمیشہ شمس و قمر میں جاری ہے کیونکہ اس زمانہ کی فلاسفی اپنی مستحکم رائے ظاہر کرتی ہے کہ شمس و قمر میں ایسی ہی آبادی حیوانات و نباتات وغیرہ ہے جیسی زمین پر ہے اور یہ امر انشقاق و اتصال قمری کو ثابت کرنے والا ہے کیونکہ یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ جس کرہ میں حیوانات و نباتات وغیرہ پیدا ہوتے ہیں وہ اسی کرہ کا مادہ لے کر جسم پکڑتے ہیں یہ نہیں کہ کسی دوسرے کرہ سے گاڑیوں اور چھکڑوں پر وہ مادہ جاتا ہے اب جبکہ یہ ماننا پڑا کہ کرہ قمری میں جس قدر حیوانات اپنے حرکت ارادے سے چلنے والے موجود ہیں اور ہمیشہ پیدا ہوتے رہتے ہیں ان کا جسمی مادہ وہی ہے جو کسی وقت جرم قمر سے اتصال رکھتاتھا تو اس سے یہ بھی ماننا پڑا کہ جرم قمر کو ہمیشہ انشقاق لازم ہے اور پھر ان حیوانات کے مرجانے سے انشقاق کے بعد اتصال بھی لازم پڑا ہوا ہے تو اب اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ اصل صورت انشقاق و اتصال کی ہروقت قمر میں بلکہ شمس میں بھی موجود ہے ہاں ایک
قربؔ حاصل تھا سو یہ سخن بھی مقام جمع سے سرزد ہوا اور مقام جمع قاب قوسین کا مقام ہے جس کی تفاصیل کتب تصوف میں موجود ہے ایسا ہی اللہ تعالیٰ نے مقام جمع کے لحاظ سے کئی نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے رکھ دیئے ہیں جو خاص اس کی صفتیں ہیں جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمدؐ رکھا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ نہایت تعریف کیا گیا سو یہ غایت درجہ کی تعریف حقیقی طور پر خدائے تعالیٰ کی شان کے لائق ہے مگر ظلّی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی ایسا ہی قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور جو دنیا کو روشن کرتا ہے اور رحمت جس نے عالم کو زوال سے بچایا ہوا ہے آیا ہے اور رؤف اور رحیم جو خدائے تعالیٰ کے نام ہیں ان ناموں سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پکارے گئے ہیں اور کئی مقام قرآن شریف میں اشارات و تصریحات سے بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مظہر اتمّ الوہیت ہیں اور ان کا کلام خدا کاکلام ا ور ان کا ظہور خدا کا ظہور اور ان کا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 278
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 278
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/278/mode/1up

عدم شےؔ لازم نہیں آتا جس حالت میں کرۂ ارض میں خاصیت زلازل و انشقاق و اتصال پائی جاتی ہے چنانچہ بعض گذشتہ زمانوں میں صدہا میل تک زمین منشق ہوکر تہ و بالا ہوگئی ہے اور اب بھی ایسے حوادث ظہور میں آتے رہتے ہیں اور ان حوادث سے اس کی گردش میں کچھ بھی فرق نہیں آتا تو پھر حوادث قمری پر کیوں تعجب کیا جائے کیا ممکن نہیں کہ اس میں حکیم مطلق نے انشقاق و اتصال کی دونوں خاصیتیں رکھی ہوں جن کا ظہور اوقات مقررہ سے وابستہ ہو اور ازلی ارادہ سے وہی وقت ظہور مقرر ہو جب کہ ایک نبی سے ایسا ہی معجزہ مانگا گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نبی کی قوت قدسیہ کے اثر سے دیکھنے والوں کو کشفی آنکھیں عطا کی گئی ہوں اور جو انشقاق قرب قیامت میں پیش آنے والا ہے اس کی صورت ان کی آنکھوں کے سامنے لائی گئی ہو کیونکہ یہ بات محقق ہے کہ مقربین کی کشفی قوتیں اپنی شدت حدت کی وجہ سےؔ دوسروں پر بھی اثر ڈال دیتے ہیں اس کے نمونے ارباب مکاشفات کے قصوں میں بہت پائے جاتے ہیں بعض اکابر نے اپنے وجود کو ایک وقت اور ایک آن میں مختلف ملکوں اور مکانوں میں دکھلا دیا ہے باذن اللہ تعالیٰ اور اس جگہ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ حال کی فلسفی تحقیقاتیں شہادت دے رہی ہیں کہ شق قمر نہ صرف ایک مرتبہ بلکہ مخفی طور پر یہ انشقاق و اتصال ہمیشہ شمس و قمر میں جاری ہے کیونکہ اس زمانہ کی فلاسفی اپنی مستحکم رائے ظاہر کرتی ہے کہ شمس و قمر میں ایسی ہی آبادی حیوانات و نباتات وغیرہ ہے جیسی زمین پر ہے اور یہ امر انشقاق و اتصال قمری کو ثابت کرنے والا ہے کیونکہ یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ جس کرہ میں حیوانات و نباتات وغیرہ پیدا ہوتے ہیں وہ اسی کرہ کا مادہ لے کر جسم پکڑتے ہیں یہ نہیں کہ کسی دوسرے کرہ سے گاڑیوں اور چھکڑوں پر وہ مادہ جاتا ہے اب جبکہ یہ ماننا پڑا کہ کرہ قمری میں جس قدر حیوانات اپنے حرکت ارادے سے چلنے والے موجود ہیں اور ہمیشہ پیدا ہوتے رہتے ہیں ان کا جسمی مادہ وہی ہے جو کسی وقت جرم قمر سے اتصال رکھتاتھا تو اس سے یہ بھی ماننا پڑا کہ جرم قمر کو ہمیشہ انشقاق لازم ہے اور پھر ان حیوانات کے مرجانے سے انشقاق کے بعد اتصال بھی لازم پڑا ہوا ہے تو اب اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ اصل صورت انشقاق و اتصال کی ہروقت قمر میں بلکہ شمس میں بھی موجود ہے ہاں ایک
آنا ؔ خدا کا آنا ہے چنانچہ قرآن شریف میں اس بارے میں ایک یہ آیت بھی ہے
وَقُلْ جَآءَ الْحَـقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ‌ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا‏
کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل نے بھاگنا ہی تھا۔ حق سے مراد اس جگہ اللہ جل شانہٗ اور قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور باطل سے مراد شیطان اور شیطان کا گروہ اور شیطانی تعلیمیں ہیں سو دیکھو اپنے نام میں خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیونکر شامل کرلیا اور آنحضرت ؐ کا ظہور فرمانا خدا تعالیٰ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 279
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 279
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/279/mode/1up

بزرگؔ نمونہ اس انشقاق و اتصال کا وہ واقعہ شق قمر ہے جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے سو جب کہ خورد نمونہ کو فلسفی لوگ خود مانتے ہیں تو بزرگ سے انکار کرنے کی کیا وجہ ہے اصل بات تو فلسفیوں کے طریق پر بھی ثابت ہے کہ قمر اور شمس کی جرم میں انشقاق اور اتصال دونوں ہوتے رہتے ہیں اسی بنا پر تو ان دونوں کرہ میں حیوانات کی آبادی تسلیم کی گئی ہے تو پھر یہ کیسا جاہلانہ سیاپا ہے کہ پرمیشر شق قمر پر قادر نہیں۔ علاوہ اس کے ہم نے تاریخی طور پر مضبوط ثبوت دے دیا ہے کہ ضرور شق القمر وقوع میں آیا۔ یہ بھی بیان کردیا گیا کہ اگر قرآن شریف میں یہ معجزہ خلاف واقع لکھا جاتا اور خلاف واقعہ اس کی اشاعت ہوتی تو ہرگز ممکن نہ تھا کہ مخالفین جن کی نسبت گواہ رؤیت ہونے کا الزام لگایا گیا چپ رہتے۔ ہم نے اس بحث میں یہ بھی لکھ دیا ہے کہ کتاب مہابھارت جس کی تالیف بیاس کی طرف منسوب کی جاتی ہے اس بات پر گواہی دیتی ہے کہ ایک زمانہ میں شق قمر ضرور ہوا تھا۔ اب ناظرین اپنی عقل و انصاف سے سوچ لیں کہ کیا یہ ثبوت جو ہم نے دیئے ہیں کچھ کم ہیں کیا تاریخی واقعات کے ثابت کرنے والے اس سے بڑھ کر ثبوت دیا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے آریوں کے اصول و عقائد پر اعتراض کیا ہے وہ بھی ناظرین کے آگے ہے۔ وید کی یہ تعلیم کہ خدائے تعالیٰ روحوں اور مواد کا خالق نہیں
کا ؔ ظہور فرمانا ہوا ایسا جلالی ظہور جس سے شیطان معہ اپنے تمام لشکروں کے بھاگ گیا اور اس کی تعلیمیں ذلیل اور حقیر ہوگئیں اور اس کے گروہ کو بڑی بھاری شکست آئی۔ اسی جامعیت تامہ کی وجہ سے سورۃ اٰل عمران جزو تیسری میںُ مفصل یہ بیان ہے کہ تمام نبیوں سے عہد و اقرار لیا گیا کہ تم پر واجب و لازم ہے کہ عظمت و جلالیت شان خاتم الرسل پر جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ایمان لاؤ اور ان کی اس عظمت اور جلالیت کی اشاعت کرنے میں بدل و جان مدد

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 280
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 280
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/280/mode/1up

اورؔ اس کی طرح ہریک چیز خودبخود اور قدیم اور واجب ہے اور ہمیشہ کے لئے کسی کو نجات نہیں اس کے سب مفاسد ہم نے اس رسالہ میں بیان کردیئے ہیں اور اس کی رد کے دلائل اپنے ہاتھ سے لکھ دیئے ہیں اور ہم ہریک پر ظاہر کرتے ہیں کہ یہ نہایت بری تعلیم ہے کہ جو انسان کو اپنے خالق سے اصلی پیوند ہے اس کو بھی دور کرنا چاہتی ہے چہ جائیکہ اس کو دوسرے پیوند کی خوشخبری دے۔ ایسا ہی یہ لوگ وید کے بعد دنیا کے انتہا تک الہامات الٰہیہ کے منکر ہیں یہ کس قدر مفسدانہ خیال ہے۔ نبی کا وجود اس لئے ہوتا ہے کہ تا وہ اپنے ظہور سے نقطہ آخری ترقیات انسانیہ کا ظاہر کرے اور اپنے وجود سے دو طرفہ نمونہ صدق عبودیت وفضل ربوبیت قائم کرکے سالکین و مجاہدین کی کمر ہمت مضبوط کرے اور ان کو اسی انتہائی کمال تک اپنے تعطف سے پہنچانا چاہے جس پر عنایت ایزدی نے اس کو قائم کیا ہے لیکن یہ لوگ الہام کو جو کمالیت کی حقیقی علامت ہے ویدوں تک محدود رکھتے ہیں اور اگر کوئی آریہ ہمارے اس تمام رسالہ کو پڑھ کر پھر بھی اپنی ضد کو چھوڑنا نہ چاہے اور اپنے کفریات سے باز نہ آوے تو ہم خدائے تعالیٰ کی طرف سے اشارہ پاکر اس کو مباہلہ کی طرف
کروؔ ۔ اسی وجہ سے حضرت آدم صفی اللہ سے لے کرتا حضرت مسیح کلمۃ اللہ جس قدر نبی و رسول گزرے ہیں وہ سب کے سب عظمت و جلالیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اقرار کرتے آئے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے توریت میں یہ بات کہہ کر کہ خدا سینا سے آیا اور سعیر سے طلوع ہوا اور فاران کے پہاڑ سے ان پر چمکا صاف جتلادیا کہ جلالیت الٰہی کا ظہور فاران پر آکر اپنے کمال کو پہنچ گیا۔ اور آفتاب صداقت کی پوری پوری شعاعیں فاران پر ہی آخر ظہور پذیر ہوئیں اور وہی توریت ہم کو یہ بتلاتی ہے کہ فاران مکہ معظمہ کا پہاڑ ہے جس میں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام جدا مجدآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سکونت پذیر ہوئے۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 281
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 281
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/281/mode/1up

بلاتےؔ ہیں۔ مذہب کی جڑھ خداشناسی اور معرفت نعماء الٰہی ہے اور اس کی شاخیں اعمال صالحہ اور اس کے پھول اخلاق فاضلہ ہیں اور اُس کا پھل برکات روحانیہ اور نہایت لطیف محبت ہے جو ربّ اور اس کے بندہ میں پیدا ہوجاتی ہے۔ اور اُس پھل سے متمتع ہونا روحانی تقدس و پاکیزگی کا مثمر ہے۔
ترکِ خوبی مے کناند خوبتر
عشق را درماں بود عشق دگر
شیر باشیرے نماید زورتن
می تواں آہن بآہن کوفتن
گرغریق اندر نجاست ہا ست تن
رو بدریائے در آر و غوطہ زن
کمالیت محبت کمالیت معرفت سے پیدا ہوتی ہے اور عشقِ الٰہی بقدر معرفت جوش مارتا ہے اور جب محبت ذاتیہ پیدا ہوجاتی ہے تو وہی دن نئی پیدائش کا پہلا دن ہوتا ہے اور وہی ساعت نئے عالم کی پہلی ساعت ہوتی ہے لیکن وید خداشناسی کے بارے میں نہایت درجہ کا ناقص اور رہزن ہے اور نعماء الٰہی کے بیان کرنے میں بغایت درجہ قاصر ہے کیونکہ وہ خدائے تعالیٰ کے اصل رحم اور فضل سے بکلّی منکر ہے اور بجز ثمرۂ اعمال
اور ؔ یہی بات جغرافیہ کے نقشوں سے بپایۂ ثبوت پہنچتی ہے اور ہمارے مخالف بھی جانتے ہیں کہ مکہ معظمہ میں سے بجزآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی رسول نہیں اٹھا سو دیکھو حضرت موسیٰ سے کیسی صاف صاف شہادت دی گئی ہے کہ وہ آفتاب صداقت جو فاران کے پہاڑ سے ظہور پذیر ہوگا اس کی شعاعیں سب سے زیادہ تیز ہیں اور سلسلہ ترقیات نور صداقت اس کی ذات جامع برکات پر ختم ہے۔
اِسی طرح حضرت داؤد علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالیت و عظمت کا اقرار کرکے زبور پینتالیس میں یوں بیان کیا ہے (۲) تو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے۔ تیرے لبوں میں نعمت بتائی گئی ہے اسی لئے خدا نے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 282
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 282
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/282/mode/1up

اسؔ کی کسی نعمت و رحمت کا قائل نہیں یاں تک کہ چاند اور سورج اور زمین وغیرہ اجزاء ضروریہ اولیہ عالم کی ویدکے رو سے خدا تعالیٰ کی ذاتی و اصلی رحمت نہیں بلکہ یہ بھی کسی آریہ کے نیک عمل کی وجہ سے ہریک نئی دنیا میں خواہ نخواہ پرمیشر کو پیدا کرنی پڑتی ہیں غرض ویدکے رو سے پرمیشر میں اپنی ذاتی رحمت کا نام و نشان نہیں جو کچھ آسمان و زمین میں نظر آتا ہے وہ آریوں کے نیک عملوں کی وجہ سے پیدا ہوگیا مگر پرمیشر کی اس میں بڑی بھاری غلطی یہ ہے کہ وہ زمین اور چاند و سورج وغیرہ کو پیدا تو کرے صرف آریوں کے نیک عملوں کی وجہ سے اور پھر دوسرے ملکوں کے لوگوں کو بھی اس ہندوؤں کے حق خاص میں شریک کردے کیسا ظلم ہے؟ ایسا ہی وید نے اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ کے بیان سے فراغت کررکھی ہے آریہ لوگوں کے شتر بے مہار رہنے کی یہی وجہ ہے کہ عبودیت اور پرستش کے
تجھؔ کو ابد تک مبارک کیا (۳) اے پہلوان تو جاہ و جلال سے اپنی تلوار حمائل کرکے اپنی ران پر لٹکا (۴) امانت اور حلم اور عدالت پر اپنی بزرگواری اور اقبال مندی سے سوار ہوکہ تیرا داہنا ہاتھ تجھے ہیبت ناک کام دکھائے گا (۵) بادشاہ کے دلوں میں تیرے تیر تیزی کرتے ہیں لوگ تیرے سامنے گر جاتے ہیں (۶) اے خدا تیرا تخت ابدالآباد ہے (یہ فقرہ اسی مقام جمع سے ہے جو قرآن شریف میں کئی مقام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بولا گیا ہے) تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے (۷) تو نے صدق سے دوستی اور شر سے دشمنی کی اسی لئے خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تر تجھے معطر کیا۔ بادشاہوں کی بیٹیاں تیری عزت والی عورتوں میں ہیں۔
اسی طرح حضرت یسعیا نبی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالیت و عظمت و مظہر تام الوہیت ہونے کے بارے میں اپنے صحیفہ کے باب بیالیس میں بطور

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 283
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 283
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/283/mode/1up

پاکؔ طریقے اور تزکیہ نفس کی خالص تدبیریں وید میں ہرگز نہیں ہیں پرستش کی جڑھ تلاوت کلام الٰہی ہے کیونکہ محبوب کا کلام اگر پڑھا جائے یا سنا جائے تو ضرور سچے محب کے لئے محبت انگیز ہوتا ہے اور شورش عشق پیدا کرتا ہے۔ مگر آریہ لوگ اس سے کوسوں دور ہیں۔ اگر وید کو پڑھیں تو انہیں اس کی حقیقت بھی معلوم ہو۔ اب تو ان کی پرستش یہی ہے کہ وہ ناحق گھی وغیرہ چیزوں کو ہوم کے خیال سے آگ پر برباد کرتے ہیں اگر یہ چیزیں کسی کو کھانے کو دے دیں تب بھی کچھ بات ہو۔ برکات روحانیہ و محبت دو طرفہ کا تو کیا ذکر کریں اس نعمت سے متمتع ہونا تو وید کے رشیوں کی نسبت بھی ثابت نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ وہ کون تھے کیا نام تھا کس شہر میں رہا کرتے تھے اور کس عمر میں الہام پایا تھا اور ان کے ملہم ہونے کے کیا کیا ثبوت ہیں۔ یہ جو سنا یاجاتا ہے کہ ان کا نام اگنی ووایو یعنے
پیشگوؔ ئی وحی پاکر یوں بیان کیا ہے۔ دیکھو میرا بندہ جسے میں سنبھالوں گا میرا برگزیدہ جس سے میرا جی راضی ہے۔ میں نے اپنی روح اس پر رکھی وہ قوموں پر راستی ظاہر کرے گا۔ وہ نہ گھٹے گا اور نہ تھکے گا جب تک راستی کو زمین پر قائم نہ کرے۔ بیابان اور اس کی بستیاں کیدار (یعنی عرب) کے آباد دیہات (جس سے مکہ معظمہ وغیرہ مراد ہیں) اپنی آواز بلند کریں۔ خداوند ایک بہادر کی مانند نکلے گا (خداوند سے مراد ظلّی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کیونکہ وہ مظہر اتم الوہیت اور درجہ سوم ُ قرب پر ہیں جیسا کہ کئی دفعہ ہم بیان کرچکے ہیں) وہ اپنے تئیں اپنے دشمنوں پر قوی دکھلائے گا۔ قدیم سے میں خاموش رہا ہوں اور ستایا اور آپ کو روکے گیا پر اب میں اس عورت کی طرح جو دردِ زِہ میں ہو چلاؤں گا میں پہاڑوں اور ٹیلوں کو ویران کر ڈالوں گا۔ اور اندھوں کو اس راہ سے جسے وے نہیں جانتے لے جاؤں گا۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 284
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 284
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/284/mode/1up

آگؔ وہوا وغیرہ تھا یہ سب بناوٹی باتیں ہیں جیسا کہ منشی اندرمن صاحب مراد آبادی بھی اپنے رسالہ آریو پرکاش میں اس کے قائل ہیں۔ ہندوؤں کو آگ وغیرہ اپنے دیوتاؤں سے بہت پیار رہا ہے اور رگوید کی پہلی شرتی اگنی سے ہی شروع ہوتی ہے سو جن چیزوں سے وہ پیار کرتے تھے انہیں چیزوں پر ویدوں کا نازل ہونا تھاپ دیا ورنہ ویدوں میں تو کہیں نہیں لکھا کہ حقیقت میں ایسے چار آدمی کسی ابتدائی زمانہ میں گزرے ہیں اور انہیں پر ویدؔ نازل ہوئے ہیں اور اگر لکھا ہے تو پھر آریوں پر واجب ہے کہ ویدوں کے رو سے ان کا ملہم ہونا اور ان کا سوانح عمری کسی رسالہ میں چھپوا دیں۔ آریوں کا یہ اعتقادی مسئلہ ہے کہ ابتدائے دنیا میں نہ صرف ایک دو آدمی بلکہ کروڑہا آدمی مختلف ملکوں میں مینڈکوں کی طرح زمین کے بخار سے پیدا ہوگئے تھے ان میں سے آریہ دیس کے چار رشی ملہم اور باقی سب مخلوقات الہام سے بے نصیب اور ان ملہموں کے حوالے کردی گئی تھی۔ اس
ایسا ہی یوحنا نبی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالیت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے بطور پیشگوئی گواہی دی جو انجیل متی باب سوم میں اس طرح پر درج ہے۔ (۱۱) میں تو تمہیں توبہ کے لئے پانی سے بپتسما دیتا ہوں لیکن وہ جو میرے بعد آتا ہے مجھ سے قوی ترہے کہ میں اس کی جوتیاں اٹھانے کے لائق نہیں وہ تمہیں روح ُ قدس اور آگ سے بپتسما دے گا۔ اس پیشگوئی پر محض نادانی کی راہ سے عیسائی لوگ خصومت کرتے ہیں کہ یہ حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں ہے مگر یہ دعویٰ سراسر باطل و بے بنیاد ہے اوّل تو حضرت مسیح حضرت یوحنا کے ہم عصر تھے نہ کہ بعد میں آنے والے یا بعد میں ابنیت کا منصب پانے والے۔ ماسوا اس کے ہریک شخص آزما سکتا ہے کہ دائمی طور پر سچے طالبوں کو روح ُ قدس اور آتش محبت سے بپتسما دینے والا آسمان کے نیچے صرف ایک ہی ہے یعنی جناب سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جس کے جلالِ تام کا حضرت مسیح اپنی پیش گوئیوں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 285
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 285
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/285/mode/1up

صورتؔ میں ضرور لازم آتا ہے کہ اپنے ملہوں کی تمیز و شناخت کیلئے پرمیشر نے ان رشیوں کو کوئی ایسے نشان دیئے ہوں جن سے دوسرے لوگ جو اسی زمانہ میں پیدا ہوئے تھے ان کو شناخت کرسکیں اور اگر ایسے نشان دیئے تھے تو وید میں سے ثابت کرنی چاہیئے اور یقیناً سمجھنا چاہیئے کہ یہ بھی نری لاف ہے کہ وید کے رشی تمام ممالک کی اصلاح کیلئے مامور ہوئے تھے اگر ایسا ہوتا تو وید میں ضرور یہ لکھا ہوتا کہ کبھی وہ رشی اپنی چار دیوار آریہ دیس سے نکل کر کسی دور دراز ملک میں وعظ کرنے کیلئے گئے تھے وید میں امریکہ کا کہاں ذکر ہے افریقہ کا نشان کہاں پایا جاتا ہے یوروپ کے مختلف ملکوں اور حصوں سے وید کو کب خبر ہے بلکہ ایشیائی ملکوں کی اطلاع سے بھی وید غافل ہے اور اس کے پڑھنے سے جابجا صاف معلوم ہوتا ہے کہ پرمیشر کی ہمگی تمامی جائیداد ہندوستان یعنی
میںؔ آپ اقرار کرتے ہیں اور اسی روح کے بپتسما کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں اشارہ بھی فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے
وَاَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ‌ؕ
یعنی خدائے تعالیٰ مومنوں کو روح قدس سے تائید کرتا ہے اور پھر فرماتا ہے۔
صِبْغَةَ اللّٰهِ‌ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً
یعنی یہ خدا کا بپتسما ہے اور کون سا بپتسما اس سے بڑھ کر خوبصورت ہے۔
اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جو قوم روح القدس سے کسی وقت تائید دی گئی ہے وہ اب بھی دی جاتی ہے کیونکہ اب بھی وہی خدا ہے جو پہلے تھا اور قوم بھی وہی ہے جو پہلے تھی سو اگر حضرات عیساؔ ئیوں کو اس بات میں کچھ شک ہو کہ اس پیشگوئی کا مصداق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں حضرت مسیح نہیں ہیں تو نہایت صاف اور سہل طریق فیصلہ کرنے کا یہ ہے کہ چالیس دن تک کوئی ایسے پادری صاحب جو اپنی قوم میں نہایت بزرگ اور روح قدس کا بپتسما

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 286
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 286
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/286/mode/1up

آریہ ؔ دیس ہی ہے بھلا اگر ہم ان تمام باتوں میں سچے نہیں ہیں تو ویدوں کے رو سے یہ ثابت کرنا چاہیئے کہ کسی وید کے رشیوں نے آریہ دیس سے باہر قدم رکھ کر اور ویدوں کو اپنی بغل میں لے کر غیر ممالک کا بھی سفر کیا تھا یہ بات ہرگز ثابت نہیں ہوسکتی پنڈت دیانند بھی ثابت نہ کرسکا اب عجیب طور پر وید کے پرمیشر کا ظلم ثابت ہوتا ہے کہ ایک طرف تو وید صاف اقراری ہے کہ دنیا کی ابتدا میں متفرق طور پر متفرق ممالک میں نوع انسان زمین سے پیدا ہوگئے تھے اور ان سب کی اصلاح کے لئے وید آئے تھے اور پھر دوسری طرف یہ عجیب وید کچھ ثبوت ہاتھ میں نہیں پکڑاتا کہ کب اور کس وقت ویدوں کے رشی دوسرے ملکوں میں سمجھانے کے لئے گئے تھے یا اپنے خط بھیجے تھے یا پیغام پہنچانے سے شرط تبلیغ پوری کی تھی یا وید میں وصیت کرگئے تھے کہ فلاں فلاں ملک اور بھی ہیں ان میں
پانےؔ کے لائق خیال کئے جاتے ہیں اور ان کی بزرگواری اور خدا رسیدہ ہونے پر اکثر عیسائیوں کو اتفاق ہو وہ اس امر کی آزمائش و مقابلہ کے لئے کہ روح قدس کی تائیدات سے کون سی قوم عیسائیوں اور مسلمانوں میں سے فیض یاب ہے کم سے کم چالیس دن تک اس عاجز کی رفاقت اور مصاحبت اختیار کریں پھر اگر کسی کرشمہ روح القدس کے دکھلانے میں وہ غالب آجائیں تو ہم اقرار کرلیں گے کہ یہ پیش گوئی حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں ہے اور نہ صرف اقرار بلکہ اس کو چند اخباروں میں چھپوا بھی دیں گے لیکن اگر ہم غالب آگئے تو پادری صاحب کو بھی ایسا ہی اقرار کرنا پڑے گا اور چند اخباروں میں چھپوا بھی دینا ہوگا کہ وہ پیشگوئی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کے حق میں نکلی مسیح کو اس سے کچھ علاقہ نہیں بلکہ اس تصفیہ کے لئے ہماری صحبت میں بھی رہنا کچھ ضروری نہیں۔ یہ عاجز عنقریب اس رسالہ کے بعد رسالہ سراج منیر کو انشاء اللہ القدیر چھپوانے والا ہے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 287
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 287
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/287/mode/1up

جاؤؔ اور ویدؔ کی تعلیم کو ان ملکوں میں پھیلاؤ سو جب کہ ثابت ہے کہ ویدوں نے دوسرے ملکوں سے کبھی کچھ غرض نہیں رکھی سو اس سے آریوں کی زبان درازی کا اندازہ کرلینا چاہیئے کہ وہ وید کے چار نامعلوم رشیوں کے مقابل خدائے تعالیٰ کے ہزارہا پاک نبیوں کو جو مختلف ممالک میں ہوئے ہیں جن کی روشنی زمین پر آفتاب کی شعاع کی طرح پھیل گئی مکار
وہ ؔ سب مضمون روح القدس کی تائید سے ہی بہم پہنچا ہے سو اب کوئی ایسا عیسائی جو قوم میں بزرگ وار اور واقعی نیک بخت ہو اس کا مقابلہ کرکے دکھاوے ورنہ کون دانا ہے جو بے امتحان ان کی روح القدس کے بپتسما کا قائل ہوگا۔
چوں گمانے کنم اینجا مددِ روح ُ قدس
کہ مر ا در دلِ شاں دیو نظرمے آید
ایں مدد ہاست در اسلام چہ خورشید عیان
کہ بہر عصر مسیحائی دِگرمے آید
اب ہم پھر اصل کلام کی طرف رجوع کرکے کہتے ہیں کہ شانِ جلیل و عظیم آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم جو مظہر اتم الوہیت ہے جیسے تمام نبی ابتدا سے بیان کرتے آئے ہیں ایسا ہی حضرت مسیح علیہ السلام نے اس شا نِ عالی کا اقرار کیا ہے یہ اقرار جابجا انجیلوں میں موجود ہے بلکہ اسی اقرار کے ضمن میں حضرت مسیح علیہ السلام اقرار کرتے ہیں کہ میری تعلیم ناقص ہے کیونکہ ہنوز لوگوں کو کامل تعلیم کی برداشت نہیں مگر وہ روح راستی جو نقصان سے خالی ہے (یعنی سیدنا حضرت محمدصلی اللہ علیہ و سلم جس کا قرآن شریف میں بھی نام حق آیا ہے) وہ کامل تعلیم لائے گا اور لوگوں کو نئی باتوں کی خبر دے گا۔ انجیل برنباس میں تو صریح نام آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم جو محمد ہے درج ہے اور اس کے ٹالنے کے لئے یہ ناکارہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے کسی زمانہ میں یہ نام نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا کتاب برنباس میں درج کردیا ہوگا یا خود کتاب تالیف کردی ہوگی گویا مسلمان لوگ کسی رات کو

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 288
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 288
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/288/mode/1up

اورؔ فریبی اور ٹھگ کے نام سے موسوم کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھلا مانس یہ خیال نہیں کرتا کہ اول تو حکمت اور رحمت عامہ خدائے تعالیٰ سے یہ بہت بعید ہے کہ قدیم سے اور ازل سے ابد تک ایک خاص اور محدود جگہ سے بے وجہ تعلق پیدا کرکے ہزارہا ممالک وسیعہ کو اپنے الہام اور کلام سے اور براہ راست فیض یاب ہونے سے ہمیشہ کے لئے محروم رکھے ماسوا اس کے
اتفاقؔ کرکے مسیحی کتب خانوں میں جاگھسے اور اپنی طرف سے بربناس کی انجیلوں میں جابجا محمد ؐ نبی نام درج کردیا یا خود یونانی یا عبرانی زبانوں میں اپنی طرف سے انجیل برنباس بنا کر اور کئی ہزار نسخے اس کے لکھ کر پوشیدہ طور پر جبکہ عیسائی سوتے تھے وہ کتابیں ان کے کتب خانوں میں رکھ آئے لیکن ایک انگریز فاضل عیسائی جس نے کچھ تھوڑا عرصہ ہوا قرآن شریف کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے اس نے اپنے دیباچہ میں اس تقریب کے بیان میں کہ انجیل برنباس میں پیش گوئی حضرت محمدصلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں موجود ہے یہ قصہ تحریر کیا ہے کہ برنباس کی انجیل پوپ پنجم کے کتب خانہ میں تھی اور ایک راہب جو اس پوپ کا دوست تھا اور مدت سے اس انجیل کی تلاش میں تھا۔ وہ پوپ کی الماری میں جبکہ پوپ سویا ہوا تھا اس انجیل کو پاکر بہت خوش ہوا اور کہا کہ یہ میری وہ مراد ہے جو مدت کے بعد پوری ہوئی اور اس انجیل کو اپنے دوست پوپ کی اجازت سے لے گیا اور نام آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا یعنی محمد رسول اللہ ٰصلی اللہ علیہ و سلم کھلا کھلا انجیل میں لکھا ہوا دیکھ کر مسلمان ہوگیا پس اس فاضل انگریز* کی اس تحریر سے جو ہمارے پاس موجود ہے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ یہ کتاب پوپوں کے کتب خانوں میں چاروں انجیلوں میں شامل کرکے عزت کے ساتھ رکھی جاتی تھی تب ہی تو ایسے ایسے بزرگ اور فاضل راہب اس انجیل کو پڑھ کر مسلمانؔ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 289
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 289
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/289/mode/1up

اس انگریز کا نام جارج سیل صاحب ہے جو اکابر علماء عیسائیوں سے ہے ان کا ترجمہ قرآن شریف جو ان کی طرف سے شائع ہوکر مطبع لنڈن فریڈرک وارن اینڈ کمپنی میں چھپا ہے اس کے پہلے دیباچہ میں مؤلف موصوف نے یہ عجیب تذکرہ کہ ایک بزرگ راہب انجیل بربناس پڑھ کر اور اس میں پیشگوئی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں کھلے کھلے طور پر پاکر مسلمان ہوگیا تھا اس طور سے (جو نیچے لکھا جاتا ہے) بیان کیا ہے۔
فرامیرینو جو ایک عیسائی مانک یعنی ایک بزرگ راہب تھا وہ بیان کرتا ہے کہ اتفاقیہ مجھ کو ایک تحریر آبرنس صاحب کی (جو ایک فاضل مسیحیوں سے ہے)منجملہ اس کی اور تحریروں کے جن میں وہ پولوس کے برخلاف ہے نظر سے گزری اس تحریر میں آبرنس صاحب (جو پولوس عیسائی کے مخالف ہیں) اپنے بیان کی صداقت کی بابت انجیل برنباس کا حوالہ دیتے ہیں۔ تب میں اس بات کا نہایت شائق ہوا کہ انجیل برنباس کو میں بھی دیکھوں اور اتفاقاً تقریب یہ نکل آئی کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم نے پوپ پنجم کا مجھ سے اتحاد و دوستانہ کرادیا۔ ایک روز جبکہ پوپ موصوف کے کتب خانہ میں ہم دونوں اکٹھے تھے اور پوپ صاحب سوگئے تھے میں نے دل بہلانے کو ان کی کتابوں کاملاحظہ کرنا شروع کیا سو سب سے پہلے جس کتاب پر میرا ہاتھ پڑا وہ وہی انجیل برنباس تھی جس کا میں متلاشی تھا۔ اس کے مل جانے سے مجھے نہایت درجہ کی خوشی پہنچی اور میں نے یہ نہ چاہا کہ ایسی نعمت کو آستین کے نیچے چھپا رکھوں۔ تب میں پوپ صاحب کے جاگنے پر ان سے رخصت ہوکر وہ آسمانی خزانہ اپنے ساتھ لے گیا جس کے پڑھنے سے مجھے دین اسلام نصیب ہوا۔ دیکھو صفحہ دہم۱۰ سطر چہار۴م ترجمہ قرآن شریف جارج سیل صاحب۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 290
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 290
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/290/mode/1up

پھر صفحہ ۵۸ سطر ۲۴۔ اسی ترجمہ میں جارج سیل صاحب اپنے عیسائی تعصب کے جوش سے یہ بے دلیل اور مہمل رائے لکھتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ انجیل برنباس میں لفظ پیری قلیط (جس کا ترجمہ محمدؐ ہے) مسلمانوں نے داخل کردیا ہوگا مگر یقین کیا جاتا ہے کہ یہ کتاب اصلی جعل مسلمانوں کا نہیں۔ یعنی مسلمانوں نے اس میں صرف اس قدر جعل کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے آنے کی پیش گوئی بتصریح نام اس میں لکھ دی ہے اور جعل یہ اس لئے ٹھہرا کر یہ پیشگوئی صریح صریح اس میں موجود ہے جس کا ماننا حضرات عیسائیوں کو کسی طور سے منظور ہی نہیں اور لطف یہ کہ آپ ہی اقراری ہیں کہ اس پیش گوئی کو پڑھ کر بڑے بڑے نیک بخت اور فاضل راہب مسلمان ہوتے رہے ہیں فتدبر۔ منہ ۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 291
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 291
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/291/mode/1up

یہ کسؔ قدر سکھا شاہی ظلم ہے کہ اس عجیب العقل پرمیشر نے تمام ہدایتوں کو وید میں محدود رکھ کر اور اپنے کلام اور الہام کو وید ؔ پر ختم کرکے پھر منہ کھول کر ان رشیوں کو یہ ہدایت نہ دی کہ دنیا میں میرے اور بندے بھی ہیں جن میں کوئی اور نبی میری طرف سے پیدا نہیں ہوسکتا کیونکہ خاص تم چاروں سے ہی ہمیشہ کے لئے میرا یارانہ ہے۔ سو تم ان ملکوں میں
ہوؔ تے تھے۔ پادری صاحبوں نے مدت تک اپنی کتابوں میں جو ہندوستان میں آ کر اردو میں تالیف کیں اس انجیل کا کسی کتاب میں تذکرہ نہیں کیا اور مسلمانوں اور ہندوؤں میں سے ایسے لوگ بہت کم ہوں گے جن کو یہ معلوم ہو گا کہ عیسائیوں کے پاس ان چارانجیلوں کے علاوہ پانچویں انجیل بھی ہے جس کو پڑھ کر بڑے بڑے فاضل اور خدا ترس راہب مسلمان ہوتے رہے ہیں لیکن اب پادری صاحبوں نے اس قدر اپنے ُ منہ سے اقرار کرنا شروع کر دیا ہے کہ محمد صاحب کا نام ہماری انجیلؔ برنباسؔ میں لکھا ہوا تو ضرور ہے مگر خیال کیا جاتا ہے کہ کسی مسلمان نے لکھ دیا ہو گا چنانچہ پادری ٹھاکرداس نے بھی اپنی اظہارِ عیسوی کے صفحہ ۳۳۲ میں کسی قدر عبارت انجیل برنباس کی جس میں نام آں حضرت صلی اللہ یعنی محمدؐ رسول اللہ ایک پیش گوئی حضرت مسیحؔ میں لکھا ہوا ہے نقل کر کے آخر میں یہی ناکارہ اور فضول ُ عذر پیش کر دیا ہے کہ یہ یاتو کسی عیسائی کا اور یا کسی مسلمان کا جعل ہے لیکن اب تک عیسائی لوگ مسلمانوں کے ان سوالات کے مدیون ہیں کہ وہ جعل کس مسلمان نے کیااور کب کیا اور کس کس کے رُوبرو کیا اور کیوں وہ جعلی کتابیں پوپوں کے متبرک کتب خانوں میں الہامی کتابوں کے ساتھ بعزّت تمام تر رکھی گئیں اور کیوں بڑے بڑے راہب اور فاضل پادری ان کتابوں کو پڑھ کر اور فی الحقیقت

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 292
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 292
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/292/mode/1up

بھیؔ جاؤ اور وید کو ساتھ لے جاؤ سو نہ تو اس پرمیشر نے اپنے رشیوں کو یہ ہدایت دی اور نہ دوسرے ملکوں پر کبھی مستقل طور پر رحمت کی۔ ہزاروں اور لاکھوں ان میں مکار اور فریبی تو آئے مگر صادق منجانب اللہ ملہم ہوکر ایک بھی نہ آیا۔ کیا یہ ایسا خیال ہے کہ کسی راست باز کا نور قلب اس کو قبول کرسکتا ہے؟ کیا خدائے تعالیٰ جو رب العالمین ہے اس کی یہی
سچؔ سمجھ کر دین اسلام قبول کرتے رہے۔ اگر درخانہ کس است حرفے بس است۔
ایک بڑی پیش گوئی حضرت مسیح علیہ السلام کی جو انجیل متی باب ۲۱ میں لکھی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی جلالیت تامہ اور مظہر تام الوہیت ہونے میں ان لوگوں کے لئے بڑا قوی ثبوت ہے جو ذرہ آنکھیں کھول کر اس پیشگوئی کو پڑھیں کیونکہ اس پیشگوئی میں جو آیت ۳۳ سے شروع ہوتی ہے ان تینوں قسموں کے قرب کی خوب ہی تصریح کی گئی ہے جن کا ثابت کرنا اس حاشیہ کا اصلی مدعا ہے۔ سو حضرت مسیح علیہ السلام نے ان نبیوں کو جو شریعت موسوی کی حمایت کے لئے ان سے پہلے آئے تمثیلی طور پر قرب کے درجہ میں بطور نوکروں کے بیان کیا ہے جو پہلا درجہ ہے۔ اور پھر اپنے لئے قرب کے دوئم درجہ کا اشارہ کرکے بیٹے کے لفظ سے اپنے اس مقام قرب کو ظاہر فرمایا ہے اور پھر تیسرا درجہ قرب کا جو مظہر اتم الوہیت ہے وہ شخص قرار دیا جو بیٹے کے مارے جانے کے بعد آئے گا جو باغ کا مالک اور نوکروں کا آقا اور اس بیٹے کا باپ مجازی طور پر ہے*
بعض آثار میں آیا ہے کہ حضرت مریم صدیقہ والدہ حضرت مسیح علیہ السلام عالم آخرت میں زوجہ مطہرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ہوگی یہ قول غالباً اسی مناسبت بیٹے اور باپ سے پیدا ہوا ہے کہ جب عالم تمثیل میں حضرت مسیح آنحضرت ؐکے بطور بیٹے کے ٹھہرے تو ان کی والدہ بطور زوجہ کے ہوئی۔ منہ۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 293
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 293
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/293/mode/1up

سیرت ؔ و صفت ہونی چاہیئے؟ دیکھو اس کے مقابل پر کیا ہی سچا اور ُ پر صداقت و انصاف قول ہے جو قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ‏
یعنی کوئی ملک آباد نہیں جس میں پیغمبر اور مصلح نہیں گزرا۔ اور نیز فرماتا ہے
اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يُحْىِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا‌ؕ
یعنی عادت اللہ قدیم سے یہی جاری ہے کہ جب زمین مرجاتی
یہ باؔ ت نہایت صاف طور پر ظاہر ہے کہ جس طرح نوکروں کے آنے اور بیٹے کے آنے سے مراد وہ نبی تھے۔ جو وقتاً فوقتاً آتے گئے اسی طرح اس تمثیل میں مالک باغ کے آنے سے بھی مراد ایک بڑا نبی ہے جو نوکروں اور بیٹے سے بڑھ کر ہے جس پر تیسرا درجہ قرب کا ختم ہوتا ہے وہ کون ہے؟ وہی نبی ہے جس کا اسی انجیل متی میں فار قلیط کے لفظ سے وعدہ دیا گیا ہے اور جس کا صاف اور صریح نام محمدؐ رسول اللہ انجیل برنباس میں موجود ہے، یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ مسیح جیسا ایک نبی قرب کے تینوں درجوں کے بیان کرنے میں صرف دو ٹکڑے اس میں سے بیان کرکے رہ جائے اور تیسرے ٹکڑہ کے مصداق کی طرف کچھ بھی اشارہ نہ کرے۔ بے شک ہریک عاقل اس پیشگوئی پر غور کرکے بہ یقین کامل سمجھ لے گا کہ یہ تین تمثیلیں تینوں قسم کے نبیوں کی طرف اشارات ہیں اور خود تین قسم کا قرب ایک ایسی ضروری اور شان دار صداقت ہے کہ بجز اس خاص شخص کے جس کی عقل کو طوفان تعصب بکلّی تحت الثرا میں لے گیا ہو ہریک فرقہ اور قوم کا آدمی معارف یقینیہ سے سمجھتا ہے۔
اور یہ بات کہ کیونکر اور کس طرح معلوم ہوا کہ انسان کامل جو سب کاملین سے اکمل اور مظہر اتم مراتب الوہیت اور حقیقی طور پر درجہ سوم قرب سے ممتاز ہے وہ درحقیقت تمام بنی آدم میں سے ایک ہی ہے جو حضرت سیدنا و مولانا محمد صلی اللہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 294
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 294
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/294/mode/1up

ہےؔ تو اسے نئے سرے زندہ کرتا ہے یہ نہیں کہ ایک ہی بارش پر ہمیشہ کے لئے کفایت کرے۔ خیال کرنا چاہیئے کہ یہ کیسی اعلیٰ درجہ کی صداقت ہے جو الہامات تازہ بتازہ کا کبھی دروازہ بند نہیں ہوتا لیکن وید کے رو سے تو کروڑہا برس ہوئے کہ وہ بند ہوگیا اور اب اس کے پرانے کاغذات پنڈتوں کے چرکیں اور پرآلائش بستوں میں دبے پڑے ہیں
علیہؔ و سلم ہیں اور باقی سب رسل و غیر رسل اس سے مراتب میں کم ہیں ہاں بعض طبائع ظلّی طور پر حسب اندازہ دائرہ استعداد اپنے کے اس کمال کو پاتے ہیں۔ مگر حقیقی و اتم و اکمل و اشد و اجلٰی و اصفٰی و ارفع و اعلیٰ طور پر کمال مرتبہ ثالثہ اسی کو حاصل ہے اس سوال کے جواب میں ہم پہلے بھی کسی قدر تحریر کرآئے ہیں کہ وجدان صحیح اور دلائل معقولہ اس بات کو چاہتے ہیں کہ خداتعالیٰ جو واحد لاشریک ہے اور وحدت کو دوست رکھتا ہے وہ مصدر وحدت ہو یعنی اس کا طرز پیدائش متفرق اور پریشان طور پر نہ ہو بلکہ اس نے مخلوقات کے تمام افراد کو ایک احسن انتظام وحدت سے ظہور پذیر کیا ہو اور اسی پر ہمارا ذاتی مشاہدہ بھی شہادت دے رہا ہے جب ہم چھوٹے چھوٹے کیڑوں سے لے کر انسان تک نظر پہنچاتے ہیں یا ہم ایک ایسے آدمی سے جس کی علمی و عملی قوتیں نہایت ہی ضعیف یا ُ پرظلمت ہیں ایک اعلیٰ درجہ کی فطرت پر نگاہ ڈالتے ہیں تو تمام سلسلہ مخلوقات کا ہمیں یوں نظر آتا ہے کہ گویا وہ ایک خط مستقیم عمودی ہے جس کی ایک طرف ارتفاع اور دوسری طرف انخفاض ہے۔ سو ہمیں اس خط پر نظر ڈالنے سے بناچاری ماننا پڑتا ہے کہ یہ سلسلہ مخلوقات ادنیٰ مخلوق سے لے کر ایک اعلیٰ مخلوق تک پہنچتا ہے اور ایسی عمدہ ترتیب سے یہ سلسلہ اوپر کو چڑھتا جاتا ہے کہ بعض حیوان درمیان میں ایسے آگئے ہیں کہ ان پر نظر ڈالنے سے معلوم

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 295
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 295
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/295/mode/1up

جن ؔ کو کچھ تو نفسانی تحریفوں کے کیڑے نے کھالیا اور کچھ وہ پہلے ہی سے بودی اور سورا خ دار اور فطرتی عفونتوں کو ساتھ رکھتے ہیں۔
اب ہم اپنی پہلی کلام کی طرف رجوع کرکے کہتے ہیں کہ وید برکات روحانیہ اور محبت الٰہیہ تک پہنچانے سے قاصر اور عاجز ہے اور کیونکر قاصر و عاجز نہ ہو وہ وسائل جن سے یہ نعمتیں حاصل
ہوتا ؔ ہے کہ گویا وہ انسان اور حیوان میں برزخ ہیں۔ مثلاً بندر۔
اور یہ دقیقہ کہ تمام کامل انسانوں میں سے ایک ہی اکمل و اتم انسان پر اختتام سلسلہ کائنات ہوتا ہے یہ ایک ایسے دائرہ کے کھینچنے سے جو دو قوسوں پر مشتمل ہو سمجھ میں آسکتا ہے۔ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ وجود واجب وممکن جس تناسب سے روحانی طور پر واقع ہے اگر اس امر معقول کو ایک صورت محسوسیہ میں دکھلایا جائے تو ایک ایسے دائرہ کی شکل نکل آئے گی جس کا انقسا م دو قوسوں پر ہوگا جن میں سے ایک قوس اعلیٰ اور دوسرا قوس ادنیٰ ہوگا اس طرح پر قوس اعلیٰ تقسیم و انقسام سے بکلّی منزہ اور درک عقل و فہم و قیاس و گمان سے بالاتر ہے لیکن قوس ادنیٰ جو موجودات ممکن الوجود کا قوس ہے وہ باعتبار شدت و ضعف و زیادت نقصان مراتب متفاوتہ و مختلفہ پر مشتمل ہے ۔کیونکہ یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ انسانی ترقیات کا سارا سلسلہ وتر کے کسی ایک ہی نقطہ پر ختم نہیں ہوسکتا وجہ یہ کہ جس نقطہ فطرتیہ سے کوئی نفس اوپر کو ترقی کرنا شروع کرے گا اس کی سیدھی رفتار اسی نقطہ انتہائی تک ہوگی جو اس کی جبلت اور استعداد کے پیش رو پڑا ہوا ہے۔ اب فرض کرو کہ مثلاً نقاط ج د ب ک جو استعدادات مختلفہ انسانیہ کے فطرتی نقطے ہیں نقاط ع ص ط م تک جو ان کے پیش رو نقاط پڑے ہیں جن کی طرف

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 296
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 296
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/296/mode/1up

ہوتیؔ ہیں یعنی طریقہ حقہ خداشناسی و معرفت نعماء الٰہی و بجاآوری اعمال صالحہ و تحصیل اخلاق مرضیہ و تزکیہ نفس عن رذائل نفسیہ ان سب معارف کے صحیح اور حق طور پر بیان کرنے سے وید بکلی محروم ہے۔ کیا کوئی آریہ صفحہ زمین پر ہے کہ ہمارے مقابل پر ان امور میں وید کا قرآن شریف سے مقابلہ کرکے دکھلاوے؟ اگر کوئی زندہ ہو تو ہمیں اطلاع دے
وہ ؔ بخط مستقیم قدم بڑھا سکتے ہیں۔ ترقی کریں تو یہ خطوط مستقیمہ ترقی کی اپنی عمودی حالت میں وتر کے اُن اُن نقاط کو جاملیں گے جو ٹھیک ٹھیک ان کے محاذات میں پڑے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس سفلی قوس میں ایک نقطہ ایسا بھی ضرور ہے کہ جو ٹھیک ٹھیک نقطہ مرکز کے محاذ ہے اب فرض کرو کہ وہ نقطہ ج ہے جو مرکز ع کے محاذ ہے اسی طرح نقطہ د کا خط ص اور نقطہ ب کا خط ط اور نقطہ ک کا خط م کا محاذ ہے جب کہ یہ امر بہ بداہت ظاہر ہے تو اب ہم کہتے ہیں کہ ثبوت ہندسے سے باستعانت انیسویں شکل مقالہ اول اقلیدس و سینتالیسو۴۷یں شکل مقالہ مذکور بپایہ صداقت پہنچ سکتا ہے کہ اگر کسی طرف محیط کے کئی نقاط فرض کرکے قطر دائرہ تک خطوط مستقیمہ عمودی حالت میں کھینچے جائیں تو سب سے بڑا وہ خط مستقیم ہوگا جو نقطہ مرکز تک پہنچے گا۔* اور یہ امر
فرض کرو کہ دائرہ ا ؔ بؔ سؔ ج ؔ کے قوس بؔ ج ؔ لؔ میں نقاط و ؔ ‘ رؔ ‘ ا ؔ ‘لؔ ‘ؔ م ؔ ‘ نؔ سیخطوط مستقیم و سؔ اور ر کؔ ‘ اؔ ع ‘ لؔ ق ‘ م ط ‘ ن ص ‘ ج ب قطر کے نقاط س ‘ ک ‘ ع ‘ق ‘ ط ‘ص تک عمودی حالت میں کھینچے ہوئے ہیں اور ان میں ا ؔ ع وہ خط مستقیم ہے جوکہ مرکز ع ؔ تک کہ نقطہ ا ؔ کا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 297
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 297
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/297/mode/1up

اور ؔ جس امر میں امور دینیہ میں سے چاہے اطلاع دے تو ہم ایک رسالہ بالتزام آیات بینات و دلائل عقلیہ قرآنی تالیف کرکے اس غرض سے شائع کردیں گے کہ تا اسی التزام سے وید کے معارف اور اس کی فلاسفی دکھلائی جائے اور اس تکلیف کشی کے عوض میں ایسے وید خوان کے لئے ہم کسی قدر انعام بھی کسی ثالث کے پاس جمع کرادیں گے جو غالب ہونے کی
اسؔ بات کو ثابت کرنے والا ہے کہ نقطہ مرکز تمام نقاط وتر قوسین کی نسبت جو ترقیات انسانیہ کے انتہائی نشان ہیں ارفع و اعلیٰ ہے پس اس سے بالضرورت ماننا پڑتا ہے کہ جس قدر مختلف استعدادیں قوس بشریت میں داخل ہیں ان میں سے صرف ایک ہی ایسی استعداد ہے جو سب استعدادات کی نسبت بلند تر و کامل تر ہے۔
اور ثبوت اس بات کو جو صاحب اس استعداد کامل کا اصلی و حقیقی طور پر جناب سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں ان پیشگوئیوں سے ہوسکتا ہے جن میں سے بعض کو ہم نے اسی حاشیہ میں لکھ دیا ہے اور نیز ایک عمدہ ثبوت اس بات کا قرآن شریف سے بھی مل سکتا ہے کیونکہ کمالیت وحی حسب کمالیت مورد وحی ہوا کرتی ہے جس قدر کسی مورد وحی کی استعداد بلند ہوتی ہے۔ جو ہر فطرت ُ مصفا ہوتا ہے۔ جذبات محبت نمایاں
محاذہی کھینچا ہوا ہے اب ہم ثابت کریں گے کہ ان خطوط میں سب سے بڑا ا ع ہوگا جو مرکز تک کھینچا ہوا ہے۔ ملاؤ عؔ ل و ع م و ع ن بموجب فرض کے زاویہ قؔ قائمہ ہے تو (بحکم ۳۲ ش م ا) زاویہ ل ع ؔ ق حادہ ہوا اس لئے (بحکم ۱۹ ش م ا) کے ضلع لؔ ع بڑا ہوا ضلع لؔ ق سے اور بموجب فرض

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 298
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 298
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/298/mode/1up

حالت ؔ میں اس کو ملے گا۔ شرط یہی ہے کہ وہ ویدوں کو پڑھ سکتا ہو تا ہمارے وقت کو ناحق ضائع نہ کرے۔
جاننا چاہئے کہ جو شخص حق سے اپنے تئیں آپ دور لے جاوے اس کوملعون کہتے ہیں اور جو حق کے حاصل کرنے میں اپنے نفس کی آپ مدد کرے اس کو مقرون کہتے ہیں۔ اب
ہوتےؔ ہیں اور حرکت شوقیہ میں تیزی اور گرمی ہوتی ہے اور وفا اور صدق میں قیام اور استحکام ہوتا ہے اسی قدر اس کی وحی میں کمال ہوتا ہے۔ اب ہماری طرف سے یہ دعویٰ ہے جس کو ہم بمقابل ہریک فریق کے ثابت کرنے کو طیار ہیں کہ وحی قرآنی اپنی تعلیم اور اپنے معارف اور برکات اور علوم میں ہریک وحی سے اقویٰ و اعلیٰ ہے اور اس کے اثبات میں کسی قدر ہم کتاب براہین میں لکھ بھی چکے ہیں اور اکثر حصہ اس کتاب کا جو انشاء اللہ رسالہ سراج منیر کے بعد چھپنا شروع ہوگا انہیں ثبوتوں سے بھرا ہوا ہے۔ اور ہم نے اپنی کتاب براہین میں جس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کا اشتہار ہے نہایت معقول اور مدلل طور پر ثابت کردیا ہے کہ فی الحقیقت قرآن شریف اپنے معارف اور حکمتوں اور ُ پربرکت تأثیروں اور بلاغتوں میں اس حد تک پہنچا ہوا ہے جس تک پہنچنے سے انسانی طاقتیں عاجز ہیں اور جس کا مقابلہ کوئی بشر نہیں کرسکتا اور نہ کوئی دوسری کتاب

کے زاویہ قؔ و ط ؔ ہر ایک قائمہ ہے۔ اس لئے (بحکم ۴۷ ش م ا) مربع ع لؔ برابر ہوا مربع ل قؔ اور ق ع کے اور مربع ع م کا برابر ہے مربع ع ؔ ط اور ط ؔ م کے۔
چونکہ (بحکم ۱۵ حد م ا) خط مستقیم ع لؔ برابر ہے ع مؔ کے اس لئے مربع

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 299
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 299
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/299/mode/1up

ہمارےؔ مقابل پر مقرون یا ملعون بننا آریوں کے ہاتھ میں ہے اگر کوئی باتمیز آریہ جو ویدوں کی حقیقت سے خبر رکھتا ہو موازنہ و مقابلہ وید و قرآن کے نیت سے تین ماہ کے عرصہ تک میدان میں آگیا اور ہماری طرف سے جو رسالہ بحوالہ آیات و دلائل قرآنی تالیف ہو وید کی شرتیوں کے رو سے اس نے ردّ کرکے دکھلا دیا تو اس نے وید اور وید کے پیروؤں
رؔ سکتی ہے اور حقیقی اور کامل معجزہ اپنے نبی کریم کی رسالت ثابت کرنے کے لئے یہی بڑا بھاری معجزہ اہل اسلام کے ہاتھ میں ہمیشہ کے لئے قیامت تک ہے جواب بھی ایسا ہی تازہ بتازہ موجود ہے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت میں موجود تھا اور اب بھی مخالفوں کو ایسا ہی لاجواب اور رسوا کررہا ہے جیسے وہ پہلے کرتا تھا اب اس تمام تقریر کا مدعا و خلاصہ یہ ہے کہ عندالعقل قرب الٰہی کے مراتب تین قسم پر منقسم ہیں اور تیسرا مرتبہ قرب کا جو مظہر اتم الوہیت اور آئینہ خدا نما ہے حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے مسلم ہے جس کی شعاعیں ہزارہا دلوں کو منور کررہی ہیں۔ اور بے شمار سینوں کو اندرونی ظلمتوں سے پاک کرکے نور قدیم تک پہنچارہی ہیں۔ ولِلّٰہ درُّ القائل۔
محمدِؐ عربی بادشاہِ ہر دو سرا
کرے ہے روحِ قدس جس کے درکی دَربانی
ع قؔ اور قؔ ل کا برابر ہوا مربع ع ؔ ط اور ط ؔ م کے اور ظاہر ہے کہ خط ع ؔ ق چھوٹا ہے ع ؔ ط سے اس لئے مربع ل ؔ ق بڑا ہوا مربع م ط سے پس خط مستقیم ل ق بڑا ہوا خط مستقیم م ط ؔ سے۔ اسی طرح ثابت ہوسکتا ہے کہ م طؔ بڑا ہے ن صؔ سے علیٰ ہذا ثابت ہوسکتا ہے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 300
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 300
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/300/mode/1up

کی عزتؔ رکھ لی اور مقرون کے معزز خطاب سے ملقب ہوگیا لیکن اگر اس عرصہ میں کسی ویددان نے تحریک نہ کی تو وہ خطاب جو مقرون کے مقابل پر ہے سب نے اپنے لئے قبول کرلیا اور اگر پھر باز نہ آویں تو آخر الحیل مباہلہ ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارت کرآئے ہیں۔ مباہلہ کے لئے وید خوان ہونا ضروری نہیں ہاں باتمیز اور ایک باعزت اور نامور آریہ ضرور چاہیئے جس کا اثر دوسروں پر بھی پڑسکے سو سب سے پہلے لالہ مرلیدھرؔ صاحب اور پھر لالہ جیونداس صاحب سیکرٹری آریہ سماج لاہور اور پھر منشی اندرمن صاحب مراد آبادی اور پھر کوئی اور دوسرے صاحب آریوں میں سے جو معزز اور ذی علم تسلیم کئے گئے ہوں مخاطب کئے جاتے ہیں کہ اگر وہ وید کی ان تعلیموں کو جن کو کسی قدر ہم اس رسالہ میں تحریر کرچکے ہیں۔ فی الحقیقت صحیح اور سچے سمجھتے ہیں اور ان کے مقابل جو قرآن شریف کے اصول و تعلیمیں اسی رسالہ
اُسے خدا تو نہیں کہہ سکوں پہ کہتا ہوں
کہ اُس کے مرتبہ دانی میں ہے خدا دانی
کیا ہی خوش نصیب وہ آدمی ہے جس نے محمد مصطفی ٰ صلی اللہ علیہ و سلم کو پیشوائی کے لئے قبول کیا اور قرآنِ شریف کو رہنمائی کے لئے اختیار کرلیا۔ اللّٰھم صلّ علی سیّدنا و مولانا محمدٍ واٰلہِ واصحابہٖ اجمعین۔ الحمدللّٰہِ الّذی ھدٰی قلبنا لِحُبّہٖ ولحب رسولہ و جمیع عبادہِ المُقرّبین۔
تا بردلم نظر شد از مہر ماہ مارا کر دست سیم خالص قلبِ سیاہِ مارا
کہ ا عؔ بڑا ہے رکؔ سے اور رک ؔ بڑا ہے وس ؔ سے۔ پس ثابت ہوا کہ ا ع ؔ جو مرکز تک کھنچا ہے سب خطوط سے بڑا ہے یہی ہمارا دعویٰ تھا فقط۔ منہ۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 301
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 301
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/301/mode/1up

میںؔ بیان کی گئی ہیں ان کو باطل اور دروغ خیال کرتے ہیں تو اس بارہ میں ہم سے مباہلہ کرلیں اور کوئی مقام مباہلہ کا برضامندی فریقین قرار پاکر ہم دونوں فریق تاریخ مقررہ پر اس جگہ حاضر ہوجائیں اور ہریک فریق مجمع عام میں اٹھ کر اس مضمون مباہلہ کی نسبت جو اس رسالہ کے خاتمہ میں بطور نمونہ اقرار فریقین قلم جلی سے لکھا گیا ہے تین مرتبہ قسم کھا کر تصدیق کریں کہ ہم فی الحقیقت اس کو سچ سمجھتے ہیں اور اگر ہمارا بیان راستی پر نہیں تو ہم پر اسی دنیا میں وبال اور عذاب نازل ہو۔ غرض جو جو عبارتیں ہر دو کاغذ مباہلہ میں مندرج ہیں جو جانبین کے اعتقاد ہیں بحالت دروغ گوئی عذاب مترتب ہونے کے شرط پر ان کی تصدیق کرنی چاہیئے اور پھر فیصلہ آسمانی کے انتظار کے لئے ایک برس کی مہلت ہوگی پھر اگر برس گزرنے کے بعد مؤلف رسالہ ہذا پر کوئی عذاب اور وبال نازل ہوا یا حریف مقابل پر نازل نہ ہوا تو ان دونوں صورتوں میں یہ عاجز قابل تاوان پانسو روپیہ ٹھہرے گا جس کو برضامندی فریقین خزانہ سرکاری میں یا جس جگہ بآسانی وہ روپیہ مخالف کو مل سکے داخل کردیا جائے گا اور درحالت غلبہ خودبخود اس روپیہ کے وصول کرنے کا فریق مخالف مستحق ہوگا اور اگر ہم غالب آئے تو کچھ بھی شرط نہیں کرتے کیونکہ شرط کے عوض میں وہی دعا کے آثار کا ظاہر ہونا کافی ہے۔ اب ہم ذیل میں مضمون ہر دو کاغذ مباہلہ کو لکھ کر رسالہ ہذا کو ختم کرتے ہیں وباللہ التوفیق۔
لطف عمیم دلبر ہر دم مرا بخواند

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 302
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 302
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/302/mode/1up

نموؔ نہ مضمون مباہلہ از جانب مؤلف رسالہ ھذا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
بعد حمد و صلٰوۃ میں عبداللہ الاحد الصمد احمد ولد میرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم (جو مؤلف کتاب َ براھین احمدیہ ہوں) حضرت خداوند کریم جل شانہٗ و عزاسمہٗ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے اکثر حصہ اپنی عمر عزیز کا تحقیق دین میں خرچ کرکے ثابت کرلیا ہے کہ دنیا میں سچا اور منجانب اللہ مذہب دین اسلام ہے اور حضرت سیدنا و مولیٰنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خدائے تعالیٰ کے رسول اور افضل الرسل ہیں اور قرآن شریف اللہ جل شانہٗ کا پاک و کامل کلام ہے جو تمام پاک صداقتوں اور سچائیوں پرُ مشتمل ہے اور جو کچھ اس کلام مقدس میں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 303
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 303
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/303/mode/1up

ذکرؔ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وجوبِ ذاتی اور قدامت ہستی اور قدرت کاملہ اور اپنے دوسرے جمیع صفات میں واحد لاشریک ہے اور سب مخلوقات کا خالق اور سب ارواح اور اجسام کا پیدا کنندہ ہے اور صادق اور وفادار ایمانداروں کو ہمیشہ کے لئے نجات دے گا اور وہ رحمان اور رحیم اور توبہ قبول کرنے والا ہے ایسا ہی دوسری صفاتِ الٰہیہ و دیگر تعلیمات جو ُ قرآن شریف میں لکھی ہیں یہ سب صحیح اور درست ہیں اور میں دلی یقین سے ان سب امور کو سچ جانتا ہوں اور دل و جان سے ان پر یقین رکھتا ہوں اور اگرچہ ان کی سچائی پر صدہا عقلی دلائل جو قطعی اور یقینی ہیں اللہ جل شانہ‘ نے مجھ کو عطا کی ہیں لیکن ایک اور فضل اُس کا مجھ پر یہ بھی ہوا ہے جو اس نے براہِ راست مجھ کو اپنے کلام اور الہام سے مشرف کرکے دوہرا ثبوت ان سچائیوں کا مجھ کو دے دیا ہے اب میری یہ حالت ہے کہ جیسے ایک شیشہ عطرِ خالص سے بھرا ہوا ہوتا ہے ایسا ہی میرا دل اس یقین سے بھرا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام ُ قرآنِ شریف تمام برکات دینیہ کا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 304
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 304
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/304/mode/1up

مجموعہ ؔ ہے اور فی الحقیقت خدائے تعالیٰ سب موجودات کا موجد اور تمام ارواح اور اجسام کا پیدا کنندہ اور ہرقسم کی خیر اور نیکی اور فیض کا مبدء ہے اور اس کا پاک رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم سچا و صادق و کامل نبی ہے جس کی پیروی پر فلاح آخرت موقوف ہے لیکن میرا فلاں مخالف (اِس جگہ اس مخالف کا نام جو مباہلہ کے لئے بالمقابل آئے گا لکھا جائے گا) جو اس وقت میرے مقابلہ کے لئے حاضر ہے یہ دعویٰ کرتا ہے کہ نعوذ باللہ جناب سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم سچے نبی نہیں ہیں اور جعل سازی سےُ قرآنِ شریف کو بنا لیا ہے اور وہ یہ بھی کہتا ہے کہ خدائے تعالیٰ ارواح اور اجسام کا پیدا کنندہ نہیں اور کسی پرستار اور سچے ایماندار کو نجاتِ ابدی کبھی نہیں ملے گی اور جو کچھ ویدوں میں بھرا ہوا ہے وہ حقیقت میں سب سچ ہے اور اس کے برخلاف جوُ قرآن شریف میں ہے وہ سب جھوٹ ہے سو اے خدائے قادر مطلق تو ہم دونوں فریقوں میں سچا فیصلہ کر اور ہم دونوں میں سے جو شخص اپنے بیانات میں اور اپنے عقائد میں جھوٹا ہے اور بصیرت کی راہ سے نہیں بلکہ تعصب اور ضد کی راہ سے ایسی باتیں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 305
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 305
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/305/mode/1up

منہؔ پر لاتا ہے جن پر یقین کرنے کے لئے کوئی قطعی دلیل اس کے ہاتھ میں نہیں اور نہ اس کا دل نور یقین سے بھرا ہوا ہے بلکہ سراسر ضد اور طرفداری اور ناخداترسی سے ایسی باتیں بناتا ہے جن پر اس کا دل قائم نہیں اس پر تو اے قادر کبیر ایک سال تک کوئی اپنا عذاب نازل کر اور اس کی پردہ دری کرکے جو شخص حق پر ہے اس کی مدد فرما اور لعنت سے بھرے ہوئے دکھ کی مار ایسے شخص کو پہنچا کہ جو دانستہ سچائی سے دور اور راستی کا دشمن اور راست باز کا مخالف ہے کیونکہ سب قدرت اور انصاف اور عدالت تیرے ہی ہاتھ میں ہے آمین یا ربّ العٰلمین فقط۔
نمونہ مضمون مباہلہ از طرف آریہ صاحب فریق مخالف
میں ُ فلاں ابنِ ُ فلاں قسم کھا کر اور حلف اٹھا کر کہتا ہوں کہ میں نے اوّل سے آخر تک رسالہ سُرمہ چشم آریہ کو پڑھ لیا اور اس کے دلائل کو بخوبی سمجھ لیا میرے دل پر اُن دلیلوں نے کچھ اثر نہیں کیا اور نہ میں ان کو سچ سمجھتا ہوں اور میں اپنے پرمیشر کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ ویدوں میں لکھا ہے کہ میں اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ میری روح اور

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 306
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 306
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/306/mode/1up

جیوؔ کا کوئی ربّ یعنے پیدا کنندہ نہیں ایسا ہی میرا جسمی مادہ بھی پیدا کرنے والے سے بکلّی بے نیاز ہے۔ میں پرمیشر کی طرح خودبخود ہوں اور واجب الوجود اور قدیم اور انادی ہوں۔ میری روح اور میرا جسمی مادہ کسی دوسرے کے سہارے سے نہیں بلکہ قدیم سے یہ دونوں ٹکڑے میرے وجود کے قائم بالذّات ہیں۔ ایسا ہی وید کی اس تعلیم پر بھی میرا کامل یقین ہے کہ مکتی یعنے نجات ہمیشہ کے لئے کسی کو نہیں مل سکتی اور ہمیشہ عزت کے بعد ذلت کا دورہ لگا ہوا ہے۔ میں وید کی ان سب تعلیموں کو دلی یقین سے مانتا ہوں کہ پرمیشر ایک ذرّہ کے پیدا کرنے پر بھی قادر نہیں اور نہ بغیر عمل کسی عامل کے ایک ذرہ کسی پر رحمت کرسکتا ہے اور نہ بغیر ہزاروں جونوں میں ڈالنے کے ایک ذرہ گناہ توبہ یا استغفار یا سچی پرستش اور محبت سے بخش سکتا ہے اور میں وید کے رو سے اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ چاروں وید ضرور ایشر کا کلام ہے جو ہمیشہ اور قدیم سے ہر نئی دنیا میں ہمارے ہی آریہ دیس میں چار رشیوں پر جو اگنی اور وایو وغیرہ ہی اترتا رہا ہے کبھی اس سے باہر نہیں اترا اور نہ کبھی ہماری زبان سنسکرت کے سوا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 307
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 307
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/307/mode/1up

کسیؔ دوسری زبان میں آیا اور ہمارے دیس سے باہر جو ہزاروں پیغمبر آئے ہیں اور کئی کتابیں لائے ہیں میں دلی یقین سے ان سب کو جعلساز اور ان کی کتابوں کو جعلی تحریریں خیال کرتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ ان غیر ملکوں میں سب جھوٹے آتے رہے کبھی ایک ملہم بھی سچا نہیں آیا اور یہ سچائی ہمارے آریہ دیس سے ہی خاص رہی اور اسی سے پرمیشر کا دائمی تعلق اور پیوند رہا ہے اور ہمیشہ آئندہ بھی اسی سے رہے گا ایسا ہی میں قرآن اور اس کے اصولوں اور تعلیموں کو جو وید ؔ کے اصولوں اور تعلیموں سے برخلاف ہے جھوٹ اور جعل جانتا ہوں لیکن میرا فریق مخالف جو مؤلف رسالہ سرمہ چشم آریہ ہے وہ قرآن کو خدا کا کلام جانتا ہے اور اس کی سب تعلیموں کو درست اور صحیح سمجھتا ہے اور وید اور اس کے ان اصولوں اور دوسری تعلیموں کو جو قرآن کے مخالف ہیں سراسر غلط اور جھوٹ خیال کرتا ہے سو اب اے ایشر تو ہم دونوں فریقوں میں سچا فیصلہ کر اور جس فریق کے اصول اور اعتقاد جھوٹے اور ناپاک ہیں جن کو وہ کسی ناپاک کتاب کی رو سے مانتا ہے اس کو ذلیل اور رسوا کر اور ہم دونوں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 308
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 308
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/308/mode/1up

میں ؔ سے وہ شخص جو تیری نظر میں کاذب اور دروغ گو ہے اور اس کے عقاید اور اصول تیری توہین اور ہتکِ عزت کا موجب ہیں اور دانستہ ان کا پابند ہورہا ہے اس کو اے ایشر ایسے دکھ کی مار پہنچا اور ایسی لعنت سے بھری ہوئی اس کی رسوائی کر کہ ایک سال کے عرصہ تک وہ لعنت کا اثر جو عذاب مولم ہے ظاہر ظاہر اس کو پہنچ جائے۔ اے ایشر تو ایسا ہی کر کیونکہ کاذب صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزت نہیں پاسکتا۔ آمین فقط۔
تمّت

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 309
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 309
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/309/mode/1up

بٍٍسمؔ اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
اشتہار صداقت انوار
بغرض دعوت مقابلہ چہل روزہ
گرچہ ہر کس زِرہِ لاف بیانی دارد
صادق آنست کہ از صدق نشانی دارد
ہمارے اشتہارات گزشتہ کے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ ہم نے اس سے پہلے یہ اشتہار دیا تھا کہ جو معزز آریہ صاحب یا پادری صاحب یا کوئی اور صاحب مخالف اسلام ہیں اگر ان میں سے کوئی صاحب ایک سال تک قادیان میں ہمارے پاس آکر ٹھہرے تو درصورت نہ دیکھنے کسی آسمانی نشان کے چوبیس3 سو روپیہ انعام پانے کا مستحق ہوگا۔ سو ہر چند ہم نے تمام ہندوستان و پنجاب کے پادری صاحبان و آریہ صاحبان کی خدمت میں اسی مضمون کے خط رجسٹری کراکر بھیجے مگر کوئی صاحب قادیان میں تشریف نہ لائے۔ بلکہ منشی اندرمن صاحب کیلئے تو مبلغ چوبیس 3سو روپیہ نقد لاہور میں بھیجا گیا تو وہ کنارہ کرکے فرید کوٹ کی طرف چلے گئے ہاں ایک صاحب پنڈت لیکھرام نام پشاوری قادیان میں ضرور آئے تھے اور ان کو بار بار کہا گیا کہ اپنی حیثیت کے موافق بلکہ اس تنخواہ سے دو چند جو پشاور میں نوکری کی حالت میں پاتے تھے ہم سے بحساب ماہواری لینا کرکے ایک سال تک ٹھہرو اور اخیر پر یہ بھی کہا گیا کہ اگر ایک سال تک منظور نہیں تو چالیس دن تک ہی ٹھہرو تو انہوں نے ان دونوں صورتوں میں سے کسی صورت کو منظور نہیں کیا اور خلاف واقعہ سراسر دروغ بیفروغ اشتہارات چھپوائے سو ان کیلئے تو رسالہُ سرمہ چشم آریہ میں دوبارہ یہی چالیس دن تک اس جگہ رہنے کا پیغام تحریر کیا گیا ہے ناظرین اس کو پڑھ لیں لیکن یہ اشتہار اتمام حجت کی غرض سے بمقابل منشی جیونداس صاحب جو سب آریوں

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 310
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 310
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/310/mode/1up

یؔ نسبت شریف اور سلیم الطبع معلوم ہوتے ہیں اور لالہ مرلیدھر صاحب ڈرائینگ ماسٹر ہوشیارپور جو وہ بھی میری دانست میں آریوں میں سے غنیمت ہیں اور منشی اندرمن صاحب مراد آبادی جو گویا دوسرا مصرعہ سورستی صاحب کا ہیں اور مسٹر عبداللہ آتھم صاحب سابق اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر رئیس امرتسر جو حضرات عیسائیوں میں سے شریف اور سلیم المزاج آدمی ہیں اور پادری عماد الدین لاہز صاحب امرتسری اور پادری ٹھاکر داس صاحب مؤلف کتاب اظہار عیسوی شائع کیا جاتا ہے کہ اب ہم بجائے ایک سال کے صرف چالیس روز اس شرط سے مقرر کرتے ہیں کہ جو صاحب آزمائش و مقابلہ کرنا چاہیں وہ برابر چالیس دن تک ہمارے پاس قادیان میں یا جس جگہ اپنی مرضی سے ہمیں رہنے کا اتفاق ہو رہیں اور برابر حاضر رہیں پس اس عرصہ میں اگر ہم کوئی امر پیشگوئی جو خارق عادت ہو پیش نہ کریں یا پیش تو کریں مگر بوقت ظہور وہ جھوٹا نکلے یا وہ جھوٹا تو نہ ہو مگر اسی طرح صاحب ممتحن اس کا مقابلہ کرکے دکھلادیں تو مبلغ پانسو3 رو پیہ نقد بحالت مغلوب ہونے کے اسی وقت بلاتوقف ان کو دیا جائے گا لیکن اگر وہ پیشگوئی وغیرہ بہ پایۂ صداقت پہنچ گئی تو صاحب مقابل کو بشرف اسلام مشرف ہونا پڑے گا۔ اور یہ بات نہایت ضروری قابل یادداشت ہے کہ پیشگوئیوں میں صرف زبانی طور پر نکتہ چینی کرنا یا اپنی طرف سے شرائط لگانا ناجائز اور غیر مسلم ہوگا بلکہ سیدھا راہ شناخت پیشگوئی کا یہی قرار دیا جائے گا کہ اگر وہ پیشگوئی صاحب مقابل کی رائے میں کچھ ضعف یا شک رکھتی ہے یا ان کی نظر میں قیافہ وغیرہ سے مشابہ ہے تو اسی عرصہ چالیس روز میں وہ بھی ایسی پیشگوئی ایسے ہی ثبوت سے ظاہر کرکے دکھلاویں اور اگر مقابلہ سے عاجز رہیں تو پھر حجت ان پر تمام ہوگی اور بحالت سچے نکلنے پیشگوئی کے بہرحال انہیں مسلمان ہونا پڑے گا اور یہ تحریریں پہلے سے جانبیَن میں تحریر ہوکر انعقاد پاجائیں گی چنانچہ اس رسالہ کے شائع ہونے کے وقت سے یعنے ۲۰؍ ستمبر ۱۸۸۶ ؁ء سے ٹھیک تین ماہ کی مہلت صاحبان موصوف کو دی جاتی ہے اگر اس عرصہ میں ان کی طرف سے اس مقابلہ کے لئے کوئی منصفانہ تحریک نہ ہوئی تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ گریز کرگئے۔ والسلام علیٰ من اتّبع الہدیٰ۔
المشتہر
خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 311
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 311
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/311/mode/1up

اشتہاؔ ر مفید الاخیار
جاگو جاگو آریو نیند نہ کرو پیار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چونکہ آج کل اکثر ہندوؤں اور آریوں کی یہ عادت ہورہی ہے کہ وہ کچھ کچھ کتابیں عیسائیوں کی جو اسلام کی نکتہ چینی میں لکھی گئی ہیں دیکھ کر اور ان پر پورا پورا اطمینان کرکے اپنے دلوں میں خیال کرلیتے ہیں کہ حقیقت میں یہ اعتراضات درست اور واقعی ہیں۔ اس لئے قرین مصلحت سمجھ کر اس عام اشتہار کے ذریعہ سے اطلاع دی جاتی ہے کہ اول تو عیسائیوں کی کتابوں پر اعتماد کرلینا اور براہِ راست کسی فاضل اہل اسلام سے اپنی عقدہ کشائی نہ کرانا اور اپنے اوہام فاسدہ کا محققین اسلام سے علاج طلب نہ کرنا اور خائنین عناد پیشہ کو امین سمجھ بیٹھنا سراسر بے راہی ہے جس سے طالب حق کو پرہیز کرنا چاہیئے۔ دانشمند لوگ خوب جانتے ہیں کہ یہ جو پادری صاحبان پنجاب اور ہندوستان میں آکر اپنے مذہب کی تائید میں دن رات ہزارہا منصوبے باندھ رہے ہیں یہ ان کے ایمانی جوش کا تقاضا نہیں بلکہ انواع اقسام کے اغراض نفسانی ان کو ایسے کاموں پر آمادہ کرتے ہیں اگر وہ انتظام مذہبی جس کے باعث سے یہ لوگ ہزارہا روپیہ تنخواہیں پاتے ہیں درمیان سے اٹھایا جاوے تو

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 312
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 312
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/312/mode/1up

پھرؔ دیکھنا چاہیئے کہ ان کا جوش و خروش کہاں ہے۔ ماسوا اس کے ان لوگوں کی ذاتی علمیت اور دماغی روشنی بھی بہت کم ہوتی ہے اور یورپ کے ملکوں میں جو واقعی دانا اور فلاسفر اور دقیق النظر ہیں وہ پادری کہلانے سے کراہت اور عار رکھتے ہیں اور ان کو ان کے بیہودہ خیالات پر اعتقاد بھی نہیں بلکہ یورپ کے عالی دماغ حکما کی نگاہوں میں پادری کا لفظ ایسا خفیف اور دوراز فضیلت سمجھا جاتا ہے کہ گویا اس لفظ سے یہ مفہوم لازم پڑا ہوا ہے کہ جب کسی کو پادری کرکے پکارا جاوے تو ساتھ ہی دل میں یہ بھی گزر جاتا ہے کہ یہ شخص اعلیٰ درجہ کی علمی تحصیلوں اور لیاقتوں اور باریک خیالات سے بے نصیب ہے اور جس قدر ان پادری صاحبان نے اہل اسلام پر مختلف قسم کے اعتراضات کرکے اور بار بار ٹھوکریں کھا کر اپنے خیالات میں پلٹے کھائے ہیں اور طرح طرح کی ندامتیں اٹھا کر پھر اپنے اقوال سے رجوع کیا ہے۔ یہ بات اس شخص کو بخوبی معلوم ہوگی کہ جو ان کے اور فضلاء اسلام کے باہمی مباحثات کی کتابوں پر ایک محیط نظر ڈالے۔ ان کے اعتراضات تین قسم سے باہر نہیں۔ یا تو ایسے ہیں کہ جو سراسر افترا اور بہتان ہے جن کی اصلیت کسی جگہ پائی نہیں جاتی اور یا ایسے ہیں کہ فی الحقیقۃ وہ باتیں ثابت تو ہیں لیکن محل اعتراض نہیں محض سادہ لوحی اور کورباطنی اور قلتِ تدبر کی وجہ سے ان کو جائے اعتراض سمجھ لیا ہے اور یا بعض ایسے امور ہیں کہ کسی قدر تو سچ ہیں جو ایک ذرہ جائے اعتراضات نہیں ہوسکتے اور باقی سب بہتان اور افترا ہیں جو ان کے ساتھ ملائے گئے ہیں۔ اب افسوس تو یہ ہے کہ آریوں نے اپنے گھر کی عقل کو بالکل استعفا دے کر ان کی ان تمام دور از صداقت کارروائیوں کو سچ مچ صحیح اور درست سمجھ لیا ہے اور بعض آریہ ایسے بھی ہیں کہ وہ قرآن شریف کا ترجمہ کسی جگہ سے ادھوراسا دیکھ کر یا کوئی قصہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 313
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 313
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/313/mode/1up

بےؔ سروپا کسی جاہل یا مخالف سے سن کر جھٹ پٹ اس کو بناء اعتراض قرار دے دیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جس شخص کے دل میں خدائے تعالیٰ کا خوف نہیں ہوتا اس کی عقل بھی بباعث تعصب اور عناد کی زہروں کے نہایت ضعیف اور مردہ کی طرح ہوجاتی ہے اور جو بات عین حکمت اور معرفت کی ہو وہ اس کی نظر سقیم میں سراسر عیب دکھائی دیتی ہے سو اسی خیال سے یہ اشتہار جاری کیا جاتا ہے اور ظاہر کیا جاتا ہے کہ جس قدر اصول اور تعلیمیں قرآن شریف کی ہیں وہ سراسر حکمت اور معرفت اور سچائی سے بھری ہوئی ہیں اور کوئی بات ان میں ایک ذرّہ مؤاخذہ کے لائق نہیں اور چونکہ ہر ایک مذہب کے اصولوں اور تعلیموں میں صدہا جزئیات ہوتی ہیں اور ان سب کی کیفیت کا معرض بحث میں لانا ایک بڑ ی مہلت کو چاہتا ہے اس لئے ہم اس بارہ میں قرآن شریف کے اصولوں کے منکرین کو ایک نیک صلاح دیتے ہیں کہ اگر ان کو اصول اور تعلیمات قرآنی پر اعتراض ہو تو مناسب ہے کہ وہ اول بطور خود خوب سوچ کر دو تین ایسے بڑے سے بڑے اعتراض بحوالہ آیاتِ قرآنی پیش کریں جو ان کی دانست میں سب اعتراضات سے ایسی نسبت رکھتے ہوں جو ایک پہاڑ کو ذرّہ سے نسبت ہوتی ہے یعنی ان کے سب اعتراضوں سے ان کی نظر میں اقویٰ و اشد اور انتہائی درجہ کے ہوں جن پر ان کی نکتہ چینی کی ُ پرزور نگاہیں ختم ہوگئی ہوں اور نہایت شدت سے دوڑ دوڑ کر انہیں پر جاٹھہری ہوں سو ایسے دو یا تین اعتراض بطور نمونہ پیش کرکے حقیقت حال کو آزما لینا چاہیئے کہ اس سے تمام اعتراضات کا بآسانی فیصلہ ہوجائے گا۔ کیونکہ اگر بڑے اعتراض بعد تحقیق ناچیز نکلے تو پھر چھوٹے اعتراض ساتھ ہی نابود ہوجائیں گے اور اگر ہم ان کو کافی و شافی جواب دینے سے قاصر رہے اور کم سے کم یہ ثابت نہ کر دکھایا کہ جن اصولوں اور تعلیموں کو فریق مخالف نے بمقابلہ ان اصولوں اور تعلیموں کے اختیار کررکھا ہے وہ ان کے مقابل پر نہایت درجہ رذیل اور ناقص اور دور از صداقت خیالات ہیں تو ایسی حالت میں فریق مخالف کو در حالت مغلوب ہونے کے فی اعتراض 3پچاس روپیہ بطور تاوان دیا جائے گا۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 314
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 314
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/314/mode/1up

لیکنؔ اگر فریق مخالف انجام کار جھوٹا نکلا اور وہ تمام خوبیاں جو ہم اپنے ان اصولوں یا تعلیموں میں ثابت کرکے دکھلا دیں بمقابل ان کے وہ اپنے اصولوں میں ثابت نہ کرسکا تو پھر یاد رکھنا چاہیئے کہ اسے بلاتوقف مسلمان ہونا پڑے گا اور اسلام لانے کے لئے اول حلف اٹھا کر اسی عہد کا اقرار کرنا ہوگا اور پھر بعد میں ہم اس کے اعتراضات کا جواب ایک رسالہ مستقلہ میں شائع کرادیں گے۔ اور جو اس کے بالمقابل اصولوں پر ہماری طرف سے حملہ ہوگا اس حملہ کی مدافعت میں اس پر لازم ہوگا کہ وہ بھی ایک مستقل رسالہ شائع کرے اور پھر دونوں رسالوں کے چھپنے کے بعد کسی ثالث کی رائے پر یا خود فریق مخالف کے حلف اٹھانے پر فیصلہ ہوگا جس طرح وہ راضی ہوجائے لیکن شرط یہ ہے کہ فرق مخالف نامی علماء میں سے ہو اور اپنے مذہب کی کتاب میں مادہ علمی بھی رکھتا ہو اور بمقابل ہمارے حوالہ اور بیان کے اپنا بیان بھی بحوالہ اپنی کتاب کے تحریر کرسکتا ہو۔ تاناحق ہمارے اوقات کو ضائع نہ کرے۔ اور اگر اب بھی کوئی نامنصف ہمارے اس صاف صاف منصفانہ طریق سے گریز اور کنارہ کرجائے اور بدگوئی اور دشنام دہی اور توہین اسلام سے بھی باز نہ آوے تو اس سے صاف ظاہر ہوگا کہ وہ کسی حالت میں اس لعنت کے طوق کو اپنے گلے سے اتارنا نہیں چاہتا کہ جو خدائے تعالیٰ کی عدالت اور انصاف نے جھوٹوں اور بے ایمانوں اور بدزبانوں اور بخیلوں اور متعصبوں کے گردن کا ہار کررکھا ہے۔ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔
بالآخر واضح رہے کہ اس اشتہار کے جواب میں ۲۰؍ ستمبر ۱۸۸۶ ؁ء سے تین ماہ تک کسی پنڈت یا پادری جواب دہندہ کا انتظار کیا جائے گا اور اگر اس عرصہ میں علماء آریہ وغیرہ خاموش رہے تو انہیں کی خاموشی ان پر حجت ہوگی۔
المشتھر
خاکسار غلام احمد مؤلف رسالہ سرمہ چشم آریہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 315
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 315
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/315/mode/1up

بسمؔ اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم
اشتہار محک اخیار و اشرار
ہم نے الفت میں تری بار اٹھایا کیا کیا
تجھ کو دکھلا کے فلک نے ہے دکھایا کیا کیا
ہر ایک مومن اور پاک باطن اپنے ذاتی تجربہ سے اس بات کا گواہ ہے کہ جو لوگ صدق دل سے اپنے مولیٰ کریم جل شانہٗ سے کامل وفاداری اختیار کرتے ہیں وہ اپنے ایمان اور صبر کے اندازہ پر مصیبتوں میں ڈالے جاتے ہیں اور سخت سخت آزمائشوں میں مبتلا ہوتے ہیں ان کو بدباطن لوگوں سے بہت کچھ رنجدہ باتیں سننی پڑتی ہیں اور انواع اقسام کے مصائب و شدائد کو اٹھانا پڑتا ہے اور نااہل لوگ طرح طرح کے منصوبے اور رنگا رنگ کے بہتان ان کے حق میں باندھتے ہیں اور ان کے نابود کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں یہی عادت اللہ ان لوگوں سے جاری ہے جن پر اس کی نظر عنایت ہے غرض جو اس کی نگاہ میں راست باز اور صادق ہیں وہ ہمیشہ جاہلوں کی زبان اور ہاتھ سے تکلیفیں اٹھاتے چلے آئے ہیں سو چونکہ سنت اللہ قدیم سے یہی ہے اس لئے
اگر ہم بھی خویش و بیگانہ سے کچھ آزار اٹھائیں تو ہمیں شکر بجالانا چاہیئے اور خوش ہونا چاہیئے کہ ہم اس محبوب حقیقی کی نظر میں اس لائق تو ٹھہرے کہ اس کی راہ میں دکھ دیئے جائیں اور ستائے جائیں سو اس طرح پر دکھ اٹھانا تو ہماری عین سعادت ہے لیکن جب ہم دوسری طرف دیکھتے ہیں کہ بعض دشمنان دین اپنی افترا پردازی سے صرف ہماری ایذا رسانی پر کفایت نہیں کرتے بلکہ بے تمیز اور بے خبر لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہیں تو اس صورت میں ہم اپنے نفس پر واجب سمجھتے ہیں کہ حتی الوسع ان ناواقف لوگوں کو فتنہ سے بچاویں۔
سو واضح ہو کہ بعض مخالف ناخداترس جن کے دلوں کو زنگ تعصب و بخل نے سیاہ کر رکھا ہے ہمارے اشتہار مطبوعہ ۸؍ اپریل ۱۸۸۶ ؁ء کو یہودیوں کی طرح محرف و مبدل کرکے اور کچھ کے کچھ معنے بنا ؔ کر

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 316
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 316
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/316/mode/1up

سادہ لوح لوگوں کو سناتے ہیں اور نیز اپنی طرف سے اشتہارات شائع کرتے ہیں تا دھوکا دے کر ان کے یہ ذہن نشین کریں کہ جو لڑکا پیدا ہونے کی پیشگوئی تھی اس کا وقت گزر گیا اور وہ غلط نکلی۔ ہم اس کے جواب میں صرف لعنت اللہ علی الکاذبین کہنا کافی سمجھتے ہیں لیکن ساتھ ہی ہم افسوس بھی کرتے ہیں کہ ان بے عزتوں اور دیوثوں کو بباعث سخت درجہ کے کینہ اور بخل اور تعصب کے اب کسی کی لعنت ملامت کا بھی کچھ خوف اور اندیشہ نہیں رہا اور جو شرم اور حیا اور خدا ترسی لازمہ انسانیت ہے وہ سب نیک خصلتیں ایسی ان کی سرشت سے اٹھ گئی ہیں کہ گویا خدائے تعالیٰ نے ان میں وہ پیدا ہی نہیں کیں اور جیسے ایک بیمار اپنی صحت یابی سے نوامید ہوکر اور صرف چند روز زندگی سمجھ کر سب پرہیزیں توڑ دیتا ہے اور جو چاہتا ہے کھاپی لیتا ہے اسی طرح انہوں نے بھی اپنی مرض کینہ اور تعصب اور دشمنی کو ایک آزار لاعلاج خیال کرکے دل کھول کر بدپرہیزیاں اور بے راہیاں شروع کی ہیں جن کا انجام بخیر نہیں۔ تعصب اور کینہ کے سخت جنون نے کیسی ان کی عقل مار دی ہے نہیں دیکھتے کہ اشتہار ۲۲؍ مارچ ۱۸۸۶ ؁ء میں صاف صاف تولّدِ فرزند موصوف
کے لئے نو برس کی میعاد لکھی گئی ہے اور اشتہار ۸؍ اپریل ۱۸۸۶ ؁ء میں کسی برس یا مہینے کا ذکر نہیں اور نہ اس میں یہ ذکر ہے جو نو برس کی میعاد رکھی گئی تھی اب وہ منسوخ ہوگئی ہے ہاں اس اشتہار میں ایک یہ فقرہ ذوالوجوہ درج ہے کہ مدتِ حمل سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ مگر کیا اسی قدر فقرہ سے یہ ثابت ہوگیا کہ مدتِ حمل سے ایام باقی ماندہ حمل موجودہ مراد ہیں کوئی اور مدت مراد نہیں اگر اس فقرہ کے سرپر اس کا لفظ ہوتا تو بھی اعتراض کرنے کے لئے کچھ گنجائش نکل سکتی مگر جب الہامی عبارت کے سر پر اس کا لفظ (جو مخصص وقت ہوسکتا ہے) وارد نہیں تو پھر خواہ نخواہ اس فقرہ سے وہ معنی نکالنا جو اس صورت میں نکالے جاتے جو اس کا لفظ فقرہ مذکور کے سر پر ہوتا اگر بے ایمانی اور بددیانتی نہیں تو اور کیا ہے۔ دانشمند آدمی جس کی عقل اور فہم میں کچھ آفت نہیں اور جس کے دل پر کسی تعصب یا شرارت کا حجاب نہیں وہ سمجھ سکتا ہے کہ کسی ذوالوجوہ فقرہ کے معنی کرنے کے وقت وہ سب احتمالات مدّنظر رکھنی چاہیئے جو اس فقرہ سے پیدا ہوسکتے ہیں۔ سو فقرۂ مذکورہ بالا یعنی یہ کہ مدتؔ حمل سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ ایک ذوالوجوہ فقرہ ہے جس کی ٹھیک ٹھیک وہی تشریح ہے جو میر عباس علی شاہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 317
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 317
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/317/mode/1up

صاحب لدھانوی نے اپنے اشتہار آٹھ جون ۱۸۸۶ ؁ء میں کی ہے یعنے یہ کہ مدت موعودہ حمل سے (جو نو برس ہے) یا مدت معہودہ حمل سے (جو طبیبوں کے نزدیک اڑھائی برس یا کچھ زیادہ ہے) تجاوز نہیں کرسکتا۔ اگر حمل موجودہ میں حصر رکھنا مخصوص ہوتا تو عبارت یوں چاہئے تھی کہ اس باقی ماندہ ایامِ حمل سے ہرگز تجاوز نہیں کرے گا اور اسی وجہ سے ہم نے اس اشتہار میں اشارہ بھی کردیا تھا کہ وہ فقرہ مذکورہ بالا حمل موجودہ سے مخصوص نہیں ہے مگر جو دل کے اندھے ہیں وہ آنکھوں کے اندھے بھی ہوجاتے ہیں۔
بالآخر ہم یہ بھی لکھنا چاہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک بڑی حکمت اور مصلحت ہے کہ اس نے اب کی دفعہ لڑکا عطا نہیں کیا کیونکہ اگر وہ اب کی دفعہ ہی پیدا ہوتا تو ایسے لوگوں پر کیا اثر پڑسکتا جو پہلے ہی سے یہ کہتے تھے کہ قواعد طبی کے رو سے حمل موجودہ کی علامات سے ایک حکیم آدمی بتلا سکتا ہے کہ کیا پیدا ہوگا اور پنڈت لیکھرام پشاوری اور بعض دیگر مخالف اس عاجز پر یہی الزام رکھتے تھے کہ ان کو فن طبابت میں مہارت ہے انہوں نے طب کے ذریعہ سے معلوم کرلیا ہوگا کہ لڑکا پیدا ہونے والا ہے اسی طرح ایک صاحب محمد رمضان نام نے پنجابی اخبار ۲۰؍ مارچ ۱۸۸۶ ؁ء میں چھپوایا کہ لڑکا پیدا ہونے
کی بشارت دینا منجانب اللہ ہونے کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ جس نے ارسطو کا ورکس دیکھا ہوگا حاملہ عورت کا قارورہ دیکھ کر لڑکا یا لڑکی پیدا ہونا ٹھیک ٹھیک بتلا سکتا ہے اور بعض مخالف مسلمان یہ بھی کہتے تھے کہ اصل میں ڈیڑھ ماہ سے یعنی پیشگوئی بیان کرنے سے پہلے لڑکا پیدا ہوچکا ہے جس کو فریب کے طور پر چھپا رکھا ہے اور عنقریب مشہور کیا جائے گا کہ پیدا ہوگیا۔ سویہ اچھا ہوا کہ خدا تعالیٰ نے تولد فرزند مسعود موعود کو دوسرے وقت پر ڈال دیا ورنہ اگر اب کی دفعہ ہی پیدا ہوجاتا تو ان مضریاتِ مذکورہ بالا کا کون فیصلہ کرتا۔ لیکن اب تولد فرزند موصوف کی بشارت غیب محض ہے نہ کوئی حمل موجود ہے تا ارسطو کے ورکس یا جالینوس کے قواعد حمل دانی بالمعارضہ پیش ہوسکیں اور نہ اب کوئی بچہ چھپا ہوا ہے تا وہ مدت کے بعد نکالا جائے بلکہ نو برس کے عرصہ تک تو خود اپنے زندہ رہنے کا ہی حال معلوم نہیں اور نہ یہ معلوم کہ اس عرصہ تک کسی قسم کی اولاؔ د خواہ نخواہ پیدا ہوگی چہ جائیکہ لڑکا پیدا ہونے پر کسی اٹکل سے قطع اور یقین کیا جائے اخیر پر ہم یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اخبار مذکورہ بالا میں منشی محمد رمضان صاحب نے تہذیب سے گفتگو نہیں کی بلکہ دینی مخالفوں کی طرح جابجا مشہور افترا پردازوں سے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 318
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 318
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/318/mode/1up

اس عاجز کو نسبت دی ہے اور ایک جگہ پر جہاں اس عاجز نے ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ؁ء کے اشتہار میں یہ پیشگوئی خدائے تعالیٰ کی طرف سے بیان کی تھی کہ اس نے مجھے بشارت دی ہے کہ بعض بابرکت عورتیں اس اشتہار کے بعد بھی تیرے نکاح میں آئیں گی اور ان سے اولاد پیدا ہوگی اس پیشگوئی پر منشی صاحب فرماتے ہیں کہ الہام کئی قسم کا ہوتا ہے نیکوں کو نیک باتوں کا اور زانیوں کو عورتوں کا۔ ہم اس جگہ کچھ لکھنا نہیں چاہتے ناظرین منشی صاحب کی تہذیب کا آپ اندازہ کرلیں۔ پھر ایک اور صاحب ملازم دفتر ایگریمر صاحب ریلوے لاہور کے جو اپنا نام نبی بخش ظاہر کرتے ہیں اپنے خط مرسلہ ۱۳؍ جون ۱۸۸۶ ؁ء میں اس عاجز کو لکھتے ہیں کہ تمہاری پیشگوئی جھوٹی نکلی اور دختر پیدا ہوئی اور تم حقیقت میں بڑے فریبی اور مکار اور دروغگو آدمی ہو۔ ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ اے خدائے قادر مطلق یہ لوگ اندھے ہیں۔ ان کو آنکھیں بخش یہ نادان ہیں ان کو سمجھ عطا کر یہ شرارتوں سے بھرے ہوئے ہیں ان کو نیکی کی توفیق دے۔ بھلا کوئی اس بزرگ سے پوچھے کہ وہ فقرہ یا لفظ کہاں ہے جو کسی اشتہار میں اس عاجز کے قلم سے نکلا ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ لڑکا اسی حمل میں پیدا ہوگا اس سے ہرگز تخلف نہیں کرے گا۔ اگر میں نے کسی جگہ ایسا لکھا ہے تو میاں نبی بخش صاحب پر واجب ہے کہ اس کو کسی اخبار میں چھپادیں۔اس عاجز کے اشتہارات پر اگر کوئی منصف آنکھ کھول کر نظر ڈالے تو اسے معلوم ہوگا کہ ان میں
کوئی بھی ایسی پیشگوئی درج نہیں جس میں ایک ذرہ غلطی کی بھی گرفت ہوسکے بلکہ وہ سب سچی ہیں اور عنقریب اپنے وقت پر ظہور پکڑ کر مخالفین کی ذلت اور رسوائی کا موجب ہوں گی۔ دیکھو ہم نے ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ؁ء میں جو یہ پیشگوئی اجمالی طور پر لکھی تھی کہ ایک امیر نووارد پنجابی الاصل کو کچھ ابتلا درپیش ہے کیسی وہ سچی نکلی۔ ہم نے صدہا ہندوؤں اور مسلمانوں کو مختلف شہروں میں بتلا دیا تھا کہ اس شخص پنجابی الاصل سے مراد دلیپ سنگھ ہے جس کی پنجاب میں آنے کی خبر مشہور ہورہی ہے لیکن اس ارادہ سکونت پنجاب میں وہ ناکام رہے گا بلکہ اس سفر میں اس کی عزت و آسائش یا جان کا خطرہ ہے اور یہ پیشگوئی ایسے وقت میں لکھی گئی اور عام طور پر بتلائی گئی تھی یعنی ۲؍ فروری ۱۸۸۶ ؁ء کو جبکہ اس ابتلا کا کوئی اثر و نشان ظاہر نہ تھا۔ بالآخر اس کو مطابق اسی پیشگوئی کے بہت حرج اور تکلیف اور سُبکی اور خجالت اٹھانی پڑی اور اپنے مدعا سے محروم رہا سو دیکھو اس پیشگوئی کی صداقت کیسی کھل گئی اسی طرح سے اپنے اپنے وقت پر سب پیشگوئیوں کی سچائی ظاہر ہوگی اور دشمن روسیاہ نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ رسوا ہوں گے۔ یہ خدائے تعالیٰ کا فعل ہے جو ابھی تک انہیں اندھا کررکھا ہے ان کے دلوں کو سخت کردیا اور ہمارے دل میں درد اور خیر خواہی کا طوفان مچا دیا سو اس مشکل کے حل کے لئے اسی کی جناب میں تضرع کرتے ہیں۔ اے خدا نور دہ ایں تیرہ درد نانے را۔یامدہ درد دگر ہیچ خدادا نے را۔
والسلام علی من اتبع الہدی۔
المشتھر خاکسار غلام احمد مؤلف براہین احمدیہ از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 319
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 319
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/319/mode/1up

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ اَفْضَلُ الرُّسُلِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنِ
اشتہار
کتاب براہین احمدیہ جس کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم و مامورہوکر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے جس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کا اشتہار ہے جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں منجانب اللہ وسچا مذہب جس کے ذریعہ انسان خدا تعالیٰ کو ہریک عیب اور نقص سے بری سمجھ کر اس کی تمام پاک اور کامل صفتوں پر دلی یقین سے ایمان لاتا ہے وہ فقط اسلام ہے جس میں سچائی کی برکتیں آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں اور صداقت کی روشنی دن کی طرح ظاہر ہورہی ہے اور دوسرے تمام مذہب ایسے بدیہی البطلان ہیں کہ نہ عقلی تحقیقات سے ان کے اصول صحیح اور درست ثابت ہوتے ہیں اورنہ ان پر چلنے سے ایک ذرہ روحانی برکت و قبولیتِ الٰہی مل سکتی ہے بلکہ ان کی پابندی سے انسان نہایت درجہ کا کور باطن اور سیہ دل ہوجاتا ہے جس کی شقاوت پر اسی جہان میں نشانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔
اس کتاب میں دین اسلام کی سچائی کو دو طرح پر ثابت کیا گیا ہے (۱) اوّل تین سو مضبوط اور قوی دلائل عقلیہ سے جن کی شان و شوکت وقدر ومنزلت اس سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی مخالف اسلام ان دلائل کو توڑ دے تو اس کو دس ہزار روپیہ دینے کا اشتہار دیا ہوا ہے اگر کوئی چاہے تو اپنی تسلی کے لئے عدالت میں رجسٹری بھی کرالے۔ (۲) دوم ان آسمانی نشانوں سے کہ جو سچے دین کی کامل سچائی ثابت ہونے کے لئے ازبس ضروری ہیں۔ اس امر دوئم میں مؤلف نے اس غرض سے کہ سچائی دین اسلام کی آفتاب کی طرح روشن ہوجائے تین قسم کے نشان ثابت کرکے دکھائے ہیں اول وہ نشان کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مخالفین نے خود حضرت ممدوح کے ہاتھ سے اور آنجناب کی دعا اور توجہ ا ور برکت سے ظاہر ہوتے دیکھے جن کو مؤلف یعنی اس خاکسار نے تاریخی طور پر ایک اعلیٰ درجہ کے ثبوت سے مخصوص و ممتاز کرکے درج کتاب کیا ہے۔ دوم وہ نشان کہ جو خود قرآن شریف کی ذات بابرکات میں دائمی اور ابدی اور بے مثل طور پر پائے جاتے ہیں جن کو راقم نے بیان شافی اور کافی سے ہریک عام و خاص پر کھول دیا ہے اور کسی نوع کا عذر کسی کے لئے باقی نہیں رکھا سوم وہ نشان کہ جو کتاب اللہ کی پیروی اور متابعت رسول برحق سے کسی شخص تابع کو بطور وراثت ملتے ہیں جن کے اثبات میں اس بندہ درگاہ نے بفضل خداوند حضرت قادر مطلق یہ بدیہی ثبوت دکھلایا ہے کہ بہت سے سچے الہامات اور خوارق اور کرامات اور اخبار غیبیہ اور اسرار لدنیہ اور کشوف صادقہ اور دعائیں قبول شدہ کہ جو خود اس خادم دین سے صادر ہوئی ہیں اور جن کی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 320
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 320
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/320/mode/1up

صداقت پر بہت سے مخالفین مذہب( آریوں وغیرہ سے) بشہادت و رؤیت گواہ ہیں کتاب موصوف میں درج کئے ہیں اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدّد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بشدت مناسبت اور مشابہت ہے اوراس کو خواص انبیاء و ر سل کے نمونہ پر محض بہ برکت متابعت حضرت خیر البشرو افضل الرسل صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم ان بہتوں پر اکابر اولیا سے فضیلت دی گئی ہے کہ جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں اور اس کے قدم پر چلنا موجب نجات وسعادت و برکت اوراس کے برخلاف چلنا موجب ُ بعد و حرمان ہے یہ سب ثبوت کتاب براہین احمدیہ کے پڑھنے سے کہ جو منجملہ تین سو جزو کے قریب ۳۷ جزو کے چھپ چکی ہے ظاہر ہوتے ہیں اور طالب حق کے لئے خود مصنف پوری پوری تسلی و تشفی کرنے کو ہر وقت مستعد اور حاضر ہے۔ وذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء ولا فخر والسلام علی من اتبع الھدی ۔ اور اگر اس اشتہار کے بعد بھی کوئی شخص سچا طالب بن کر اپنی عقدہ کشائی نہ چاہے اور دلی صدق سے حاضر نہ ہو تو ہماری طرف سے اس پر اتمام حجت ہے جس کا خدا تعالیٰ کے روبرو اس کو جواب دینا پڑے گا۔ بالآخر اس اشتہار کو اس دعا پر ختم کیا جاتا ہے کہ اے خداوند کریم تمام قوموں کے مستعد دلوں کو ہدایت بخش کہ تا تیرے رسول مقبول افضل الرسل محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور تیرے کامل و مقدس کلام قرآن شریف پر ایمان لاویں اور اس کے حکموں پر چلیں تا ان تمام برکتوں اور سعادتوں اور حقیقی خوش حالیوں سے متمتع ہوجاویں کہ جو سچے مسلمان کو دونوں جہانوں میں ملتی ہیں اور اس جاودانی نجات اور حیات سے بہرہ ور ہوں کہ جو نہ صرفُ عقبیٰ میں حاصل ہوسکتی ہے بلکہ سچے راست باز اسی دنیا میں اس کو پاتے ہیں بالخصوص قوم انگریز جنہوں نے ابھی تک اس آفتاب صداقت سے کچھ روشنی حاصل نہیں کی اور جن کی شائستہ اور مہذب اور بارحم گورنمنٹ نے ہم کو اپنے احسانات اور دوستانہ معاملات سے ممنون کرکے اس بات کے لئے دلی جوش بخشا ہے کہ ہم ان کے دنیا و دین کے لئے دلی جوش سے بہبودی و سلامتی چاہیں تا ان کے گورے و سپید ُ منہ جس طرح دنیا میں خوبصورت ہیں آخرت میں بھی نورانی و منور ہوں۔فنسئل اللہ تعالٰی خیرھم فی الدنیا و الآخرۃ اللھم اھدھم و ایدھم بروح منک و اجعل لھم حظًا کثیرًا فی دینک و اجذبھم بحولک و قوتک لیومنوا بکتابک و رسولک و یدخلوا فی دین اللہ افواجًا آمین ثم آمین و الحمد للہ ربّ العالمین۔
المشتھر
خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ملک پنجاب
(بیس ہزار اشتہار چھاپے گئے)

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 321
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 321
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/321/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 322
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- سرمہ چشم آ ریہ: صفحہ 322
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/322/mode/1up

Theme by Anders Norén