احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

روحانی خزائن جلد 2۔ پرانی تحریری۔ یونی کوڈ

روحانی خزائن جلد 2۔ پرانی تحریری۔ یونی کوڈ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 1
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 1
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/1/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 2
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 2
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/2/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 3
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 3
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/3/mode/1up

پرانی تحریریں۱؂
ابطال تناسخ
ومقابلۂ
وید و فرقان
اعلان متعلقہ مضمون ابطال تناسخ و مقابلہ وید و فرقان مع اشتہار
پانسو ۵۰۰ روپیہ جو پہلے بھی بمباحثہ باوا صاحب مشتہر کیا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناظرین انصاف آئین کی خدمت بابرکت میں واضح ہو کہ باعث مشتہر کرنے اس اعلان کا یہ ہے کہ عرصہ چند روز کا ہوا ہے کہ پنڈت کھڑک سنگھ صاحب ممبر آریہ سماج امرتسر قادیاں میں تشریف لائے اور مستدعی بحث کے ہوئے۔ چنانچہ حسب خواہش ان کے دربارہ تناسخ اور مقابلہ وید اور قرآن کے گفتگو کرنا قرار پایا۔ برطبق اس کے ہم نے ایک مضمون جو اس اعلان کے بعد میں تحریر ہوگا ابطال تناسخ میں اس التزام سے مرتب کیا کہ تمام دلائل اس کے قرآن مجید سے لئے گئے اور کوئی بھی ایسی دلیل نہ لکھی کہ جس کا ماخذ اور منشاء قرآن مجید نہ ہو اور پھر مضمون جلسہ عام میں پنڈت صاحب کی خدمت میں پیش کیا گیا تاکہ پنڈت صاحب بھی حسب قاعدہ ملتزمہ ہمارے کے اثبات تناسخ میں وید کی شرتیاں پیش کریں اور اس طور سے مسئلہ تناسخ کا فیصلہ پا جائے۔ اور وید اور قرآن کی حقیقت بھی ظاہر ہوجائے کہ ان میں سے کون غالب اور کون مغلوب
۱؂ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ تحریریں براہین احمدیہ سے بھی پہلے کی ہیں۔ جن کو پہلی بار حضرت عرفانی کبیر شیخ یعقوب علی نے شائع کیا تھا۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 4
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 4
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/4/mode/1up

ہے۔ اس پر پنڈت صاحب نے بعد سماعت تمام مضمون کے دلائل وید کے پیش کرنے سے عجز مطلق ظاہر کیا اور صرف دو شرتیاں رگ وید سے پیش کیں کہ جن میں ان کے زعم میں تناسخ کا ذکر تھا۔ اور اپنی طاقت سے بھی کوئی دلیل پیش کردہ ہماری کو ردّ نہ کرسکے حالانکہ انؔ پر واجب تھا کہ بمقابلہ دلائل فرقانی کے اپنے وید کا بھی کچھ فلسفہ ہم کو دکھلاتے اور اس دعو ٰے کو جو پنڈت دیانند صاحب مدت دراز سے کررہے ہیں کہ وید سرچشمہ تمام علوم فنون کا ہے ثابت کرتے لیکن افسوس کہ کچھ بھی نہ بول سکے اور دم بخود رہ گئے اور عاجز اور لاچار ہوکر اپنے گاؤں کی طرف سدھار گئے۔ گاؤں میں جاکر پھر ایک مضمون بھیجا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو ابھی بحث کرنے کا شوق باقی ہے اور مسئلہ تناسخ میں مقابلہ وید اور قرآن کا بذریعہ کسی اخبار کے چاہتے ہیں۔ سو بہت خوب ہم پہلے ہی تیار ہیں۔ مضمون ابطال تناسخ جس کو ہم جلسہ عام میں گوش گزار پنڈت صاحب موصوف کرچکے ہیں۔ وہ تمام مضمون دلائل اور براہین قرآن مجید سے لکھا گیا ہے اور جابجا آیات فرقانی کا حوالہ ہے۔ پنڈت صاحب پر لازم ہے کہ مضمون اپنا جو دلائل بید سے بمقابلہ مضمون ہمارے کے مرتب کیا ہو پرچہ سفیر ہند یا برادر ہند یا آریہ درپن میں طبع کراویں۔ پھر آپ ہی دانا لوگ دیکھ لیں گے اور بہتر ہے کہ ثالث اور منصف اس مباحثہ تنقیح فضیلت وید اور قرآن میں دو شریف اور فاضل آدمی مسیحی مذہب اور برہمو سماج سے جو فریقین کے مذہب سے بے تعلق ہیں مقرر کئے جائیں۔ سو میری دانست میں ایک جناب پادری رجب علی صاحب جو خوب محقق مدقق ہیں اور دوسرے جناب پنڈت شیونارائن صاحب جو برہمو سماج مین اہل علم اور صاحب نظر دقیق ہیں۔ فیصلہ اس امر متنازعہ فیہ میں حکم بننے کے لئے بہت اولیٰ اور انسب ہیں۔ اس طور سے بحث کرنے میں حقیقت میں چار فائدے ہیں۔ اوّل یہ کہ بحث تناسخ کی بہ تحقیق تمام فیصلہ پاجائے گی۔ دوم اس موازنہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 5
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 5
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/5/mode/1up

اور مقابلہ سے امتحان وید اور قرآن کا بخوبی ہوجائے گا۔ اور بعد مقابلہ کے جو فرق اہل انصاف کی نظر میں ظاہر ہوگا وہی فرق قول فیصل متصور ہوگا۔ سوم یہ فائدہ کہ اس التزام سے ناواقف لوگوں کو عقائد مندرجہ وید اور قرآن سے بکلی اطلاع ہوجائے گی۔ چہارم یہ فائدہ کہ یہ بحث تناسخ کی کسی ایک شخص کی رائے خیال نہیں کی جائے گی بلکہ محول بکتاب ہوکر اور معتاد طریق سے انجام پکڑ کر قابل تشکیک اور تزئیف نہیں رہے گی۔ اور اس بحث میں یہ کچھ ضرور نہیں کہ صرف پنڈت کھڑک سنگھ صاحب تحریر جواب کی تن تنہا محنت اٹھائیں بلکہ میں عام اعلان دیتا ہوں کہ منجملہ صاحبان مندرجہ عنوان مضمون ابطال تناسخ جو ذیل میں تحریر ہوگا۔ کوئی صاحب ارباب فضل و کمال میں سے متصدی جواب ہوں اور اگر کوئی صاحب بھی باوجود اس قدر تاکید مزید کے اس طرف متوجہ نہیںؔ ہوں گے اور دلائل ثبوت تناسخ کے فلسفہ متدعویہ وید سے پیش نہیں کریں گے یادر صورت عاری ہونے وید کے ان دلائل سے اپنی عقل سے جواب نہیں دیں گے تو ابطال تناسخ کی ہمیشہ کے لئے ان پر ڈگری ہوجائے گی اور نیز دعویٰ وید کا کہ گویا وہ تمام علوم و فنون پر متضمن ہے محض بے دلیل اور باطل ٹھہرے گا اور بالآخر بغرض توجہ دہانی یہ بھی گزارش ہے کہ میں نے جو قبل اس سے فروری ۱۸۷۸ ؁ء میں ایک اشتہار تعدادی پانسو3 روپیہ بابطال مسئلہ تناسخ دیا تھا وہ اشتہار اب اس مضمون سے بھی بعینہٖ متعلق ہے اگر پنڈت کھڑک سنگھ صاحب یا کوئی اور صاحب ہمارے تمام دلائل کونمبروار جواب دلائل مندرجۂ وید سے دے کر اپنی عقل سے توڑ دیں گے تو بلاشبہ رقم اشتہار کے مستحق ٹھہریں گے اور بالخصوص بخدمت کھڑک سنگھ صاحب کہ جن کا یہ دعویٰ ہے کہ ہم پانچ منٹ میں جواب دے سکتے ہیں یہ گزارش ہے کہ اب اپنی اس استعداد علمی کو روبروئے فضلائے نامدار ملت مسیحی اور برہمو سماج کے دکھلاویں۔ اور جو جو

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 6
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 6
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/6/mode/1up

کمالات ان کی ذات سامی میں پوشیدہ ہیں منصہ ظہور میں لاویں ورنہ عوام کالانعام کے سامنے دم زنی کرنا صرف ایک لاف گزاف ہے اس سے زیادہ نہیں۔ اب میں ذیل میں مضمون موعودہ لکھتا ہوں۔
مضمون ابطال تناسخ و مقابلہ وید و قرآن جس کے طلب جواب میں صاحبان فضلاء آریہ سماج یعنی پنڈت کھڑک سنگھ صاحب۔ سوامی پنڈت دیانند صاحب۔ جناب باوا نرائن سنگھ صاحب۔ جناب منشی جیونداس صاحب۔ جناب منشی کنھیالال صاحب۔ جناب منشی بختاور سنگھ صاحب ایڈیٹر آریہ درپن۔ جناب بابو سارد اپرشاد صاحب۔ جناب منشی شرم پت صاحب سکرٹری آریہ سماج قادیاں جناب منشی اندرمن صاحب مخاطب ہیں بوعدہ انعام پانسو روپیہ۔
آریہ صاحبان کا پہلا اصول جو مدار تناسخ ہے یہ ہے جو دنیا کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں اور سب ارواح مثل پرمیشر کے قدیم اور انادی ہیں اور اپنے اپنے وجود کے آپ ہی پرمیشر ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ اصول غلط ہے اور اس پر تناسخ کی پٹڑی جمانا بنیاد فاسد بر فاسد ہے قرآن مجید کہ جس پر تمام تحقیق اسلام کی مبنی ہے اور جس کے دلائل کو پیش کرنا بغرض مطالبہ دلائل وید اور مقابلہ باہمی فلسفہؔ مندرجہ وید اور قرآن کے ہم وعدہ کرچکے ہیں۔ ضرورت خالقیت باری تعالیٰ کو دلائل قطعیہ سے ثابت کرتا ہے چنانچہ وہ دلائل بہ تفصیل ذیل ہیں:۔
دلیل اول جو برہان لِمِّی ہے یعنے علت سے معلول کی طرف دلیل گئی ہے۔ دیکھو سورۂرعد الجزو ۱۳۔ اللّٰهُ خَالِـقُ كُلِّ شَىْءٍ وَّهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ‏؂ ۔ یعنے خدا ہر ایک چیز کا خالق ہے کیونکہ وہ اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے اور واحد بھی ایسا کہ قہار ہے یعنے سب چیزوں کو اپنے ماتحت رکھتا ہے اور ان پر غالب ہے۔ یہ دلیل بذریعہ شکل اول جو بدیہی الانتاج ہے اس طرح پر قائم ہوتی ہے کہ صغریٰ اس کا یہ ہے جو خدا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 7
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 7
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/7/mode/1up

واحداور قہار ہے اور کبریٰ یہ کہ ہر ایک جو واحد اور قہار ہو وہ تمام موجدات ماسوائے اپنے کا خالق ہے۔ نتیجہ یہ ہوا جو خدا تمام مخلوقات کا خالق ہے۔ اثبات قضیۂ اولیٰ یعنے صغریٰ کا اس طور سے ہے کہ واحد اور قہار ہونا خدائے تعالیٰ کا اصول مسئلہ فریق ثانی بلکہ تمام دنیا کا اُصول ہے۔ اور اثبات قضیہ ثانیہ یعنی مفہوم کبریٰ کا اس طرح پر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ باوصف واحد اور قہار ہونے کے وجود ماسوائے اپنے کا خالق نہ ہو بلکہ وجود تمام موجودات کا مثل اس کے قدیم سے چلا آتا ہو تو اس صورت میں وہ واحد اور قہار بھی نہیں ہوسکتا۔ واحد اس باعث سے نہیں ہوسکتا کہ وحدانیت کے معنے سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ شرکت غیر سے بکلی پاک ہو۔ اور جب خدائے تعالیٰ خالق ارواح نہ ہو تو اس سے دو طور کا شرک لازم آیا۔ اول یہ کہ سب ارواح غیر مخلوق ہوکر مثل اس کے قدیم الوجود ہوگئے۔ دوم یہ کہ ان کے لئے بھی مثل پروردگار کے ہستی حقیقی ماننی پڑے جو مستفاض عن الغیر نہیں۔ پس اسی کا نام شرکت بالغیر ہے۔ اور شرک بالغیر ذات باری کا بہ بداہت عقل باطل ہے۔ کیونکہ اس سے شریک الباری پیدا ہوتا ہے اور شریک الباری ممتنع اور محال ہے۔ پس جو امر مستلزم محال ہو وہ بھی محال ہے اور قہار اس باعث سے نہیں ہوسکتا کہ صفت قہاری کے یہ معنے ہیں کہ دوسروں کو اپنے ماتحت میں کرلینا اور ان پر قابض اور متصرف ہوجانا۔ سو غیر مخلوق اور روحوں کو خدا اپنے ماتحت نہیں کرسکتا کیونکہ جو چیزیں اپنی ذات میں قدیم اور غیر مصنوع ہیں وہ بالضرورت اپنی ذات میں واجب الوجود ہیں اس لئے کہ اپنے تحقیق وجود میں دوسری کسی علت کے محتاج نہیں اور اسی کا نام واجب ہے جس کو فارسی میں خدا یعنے خود آئندہ کہتے ہیں۔ پس جب ارواح مثل ذات باری تعالیٰ کے خدا اور واجب الوجود ٹھہرے۔ تو ان کا باریؔ تعالیٰ کے ماتحت رہنا عندالعقل محال اور ممتنع ہوا۔ کیونکہ ایک واجب الوجود دوسرے واجب الوجود

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 8
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 8
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/8/mode/1up

کے ماتحت نہیں ہوسکتا اس سے دور یا تسلسل لازم آتا ہے۔ لیکن حال واقعہ جو مسلم فریقین ہے یہ ہے کہ سب ارواح خدائے تعالیٰ کے ماتحت ہیں کوئی اس کے قبضۂ قدرت سے باہر نہیں۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ وہ سب حادث اور مخلوق ہیں کوئی ان میں سے خدا اور واجب الوجود نہیں اور یہی مطلب تھا۔
دلیل دوم جو اِنِّی ہے یعنی معلول سے علت کی طرف دلیل لی گئی ہے۔ دیکھو سورۂ الفرقان۔لَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِىْ الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا۱؂ یعنے اس کے ملک میں کوئی اس کا شریک نہیں وہ سب کا خالق ہے۔ اور اس کے خالق ہونے پر یہ دلیل واضح ہے کہ ہرایک چیز کو ایک اندازہ مقرری پر پیدا کیا ہے کہ جس سے وہ تجاوز نہیں کرسکتی بلکہ اسی اندازہ میں محصور اور محدود ہے۔ اس کی شکل منطقی اس طرح پر ہے کہ ہر جسم اور روح ایک اندازہ مقرری میں محصور اور محدود ہے اور ہر ایک وہ چیز کہ کسی اندازہ مقرری میں محصور اور محدود ہو اس کا کوئی حاصر اور محدّد ضرور ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہواکہ ہر ایک جسم اور روح کے لئے ایک حاصر اور محدو د ہے۔ اب اثبات قضیہ اولیٰ کا یعنی محدود القدر ہونے اشیاء کا اس طرح پر ہے کہ جمیع اجسام اور ارواح میں جو جو خاصیتیں پائی جاتی ہیں عقل تجویز کرسکتی ہے کہ ان خواص سے زیادہ خواص ان میں پائے جاتے مثلاً انسان کی وہ آنکھیں ہیں اور عندالعقل ممکن تھا کہ اس کی چار آنکھیں ہوتیں۔ دو مونہہ کی طرف اور دو پیچھے کی طرف تاکہ جیسا آگے کی چیزوں کو دیکھتا ہے ویسا ہی پیچھے کی چیزوں کو بھی دیکھ لیتا۔ اور کچھ شک نہیں کہ چار آنکھ کا ہونا بہ نسبت دو آنکھ کے کمال میں زیادہ اور فائدہ میں دوچند ہے۔ اور انسان کے پرنہیں اور ممکن تھا کہ مثل اور پرندوں کے اس کے پر بھی ہوتے۔ اور علیٰ ہذا القیاس نفس ناطقہ انسانی بھی ایک خاص درجہ میں محدود ہے جیسا کہ وہ بغیر تعلیم کسی معلم کے خودبخود مجہولات کو دریافت نہیں کرسکتا قاسر خارجی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 9
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 9
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/9/mode/1up

سے کہ جیسے جنون یا مخموری ہے سالم الحال نہیں رہ سکتا بلکہ فی الفور اس کی قوتوں اور طاقتوں میں تنزل واقع ہوجاتا ہے۔ اسی طرح بذاتہٖ ادراک جزئیات نہیں کرسکتا جیسا کہ اس امر کو شیخ محقق بوعلی سینا نے نمط سابع اشارات میں بتصریح لکھا ہے۔ حالانکہ عندالعقل ممکن تھا کہ ان سب آفات اور عیوب سے بچا ہوا ہوتا۔ پس جنؔ جن مراتب اور فضائل کو انسان اور اس کی روح کے لئے عقل تجویز کرسکتی ہے وہ کس بات سے ان مراتب سے محروم ہے آیا تجویز کسی اور مجوز سے یا خود اپنی رضامندی سے۔ اگر کہو کہ اپنی رضامندی سے تو یہ صریح خلاف ہے کیونکہ کوئی شخص اپنے حق میں نقص روا نہیں رکھتا۔ اور اگر کہو کہ تجویز کسی اور مجوز سے تو مبارک ہو کہ وجود خالق ارواح اور اجسام کا ثابت ہوگیا اور یہی مدعا تھا۔
دلیل سوم قیاس الخلف ہے اور قیاس الخلف اس قیاس کا نام ہے کہ جس میں اثبات مطلوب کا بذریعہ ابطال نقیض اس کے کے کیا جاتا ہے اور اس قیاس کو علم منطق میں خلف اس جہت سے کہتے ہیں کہ خلف لغت میں بمعنی باطل کے ہے اور اسی طرح اس قیاس میں اگر مطلوب کو کہ جس کی حقیقت کا دعویٰ ہے سچا نہ مان لیا جائے تو نتیجہ ایسا نکلے گا جو باطل کو مستلزم ہوگا اور قیاس مذکور یہ ہے دیکھو سورہ الطور الجزو ۲۷۔ اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ اَمْ هُمُ الْخَـالِقُوْنَؕاَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ‌ۚ بَل لَّا يُوْقِنُوْنَؕاَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآٮِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْن۱؂ یعنے کیا یہ لوگ جو خالقیت خدائے تعالیٰ سے منکر ہیں بغیر پیدا کرنے کسی خالق کے یونہی پیدا ہوگئے یا اپنے وجود کو آپ ہی پیدا کرلیا یا خود علت العلل ہیں جنہوں نے زمین و آسمان پیدا کیا یا ان کے پاس غیر متناہی خزانے علم اور عقل کے ہیں جن سے انہوں نے ان سے معلوم کیا کہ ہم قدیم الوجود ہیں یا وہ آزاد ہیں۔ اور کسی کے قبضۂ قدرت میں مقہور نہیں ہیں تا یہ گمان ہو کہ جبکہ ان پر کوئی غالب اور قہار ہی نہیں تو وہ ان کا

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 10
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 10
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/10/mode/1up

خالق کیسے ہو۔ اس آیت شریف میں یہ استدلال لطیف ہے کہ ہرپنج شقوق قدامت ارواح کو اس طرز مدلل سے بیان فرمایا ہے کہ ہر ایک شق کے بیان سے ابطال اس شق کا فی الفور سمجھا جاتا ہے اور تفصیل ان اشارات لطیفہ کی یوں ہے کہ شق اول یعنے ایک شے معدوم کا بغیر فعل کسی فاعل کے خودبخود پیدا ہوجانا اس طرح پر باطل ہے کہ اس سے ترجیح بلا مرجّح لازم آتی ہے کیونکہ عدم سے وجود کا لباس پہننا ایک موثر مرجّحکو چاہتا ہے جو جانب وجود کو جانب عدم پر ترجیح دے لیکن اس جگہ کوئی مؤثر مرجّح موجود نہیں اور بغیر وجود مرجّح کے خودبخود ترجیح پیدا ہوجانا محال ہے۔
اور شق دوم یعنے اپنے وجود کا آپ ہی خالق ہونا اس طرح پر باطل ہے کہ اس سے تقدم شے کا اپنے نفس پر لازم آتا ہے کیونکہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ ہر ایک شے کے وجود کی علت موجبہ اس شےؔ کا نفس ہے تو بالضرورت یہ اقرار اس اقرار کو مستلزم ہوگا کہ وہ سب اشیاء اپنے وجود سے پہلے موجود تھیں اور وجود سے پہلے موجود ہونا محال ہے۔
اور شق سوم یعنے ہر ایک شے کا مثل ذات باری کے علت العلل اور صانع عالم ہونا تعدد خداؤں کو مستلزم ہے اور تعدد خداؤں کا باتفاق محال ہے اور نیز اس سے دور یا تسلسل لازم آتا ہے اور وہ بھی محال ہے۔
اور شق چہارم یعنے محیط ہونا نفس انسان کا علوم غیرمتناہی پر اس دلیل سے محال ہے کہ نفس انسانی باعتبار تعیّن تشخص خارجی کے متناہی ہے اور متناہی میں غیرمتناہی سمانہیں سکتا اس سے تحدید غیر محدود کی لازم آتی ہے۔
اور شق پنجم یعنے خودمختار ہونا اور کسی کے حکم کے ماتحت نہ ہونا ممتنع الوجود ہے۔ کیونکہ نفس انسان کا بضرورت استکمال ذات اپنی کے ایک مکمل کا محتاج ہے اور محتاج کا خودمختار ہونا محال ہے اس سے اجتماع نقیضین لازم آتا ہے پس جبکہ بغیر ذریعہ خالق کے موجود ہونا موجودات کا بہرصورت ممتنع اور محال ہوا تو بالضرور یہی ماننا پڑا کہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 11
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 11
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/11/mode/1up

تمام اشیاء موجود ہ محدودہ کا ایک خالق ہے جو ذات باری تعالیٰ ہے اور شکل اس قیاس کی جو ترتیب مقدمات صغریٰ کبریٰ سے بقاعدہ منطقیہ مرتب ہوتی ہے اس طرح پر ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ یہ قضیہ فی نفسہٖ صادق ہے کہ کوئی شے بجز ذریعہ واجب الوجود کے موجودنہیں ہوسکتی کیونکہ اگر صادق نہیں ہے تو پھر اس کی نقیض صادق ہوگی کہ ہر ایک شے بجز ذریعہ واجب الوجود کے وجود پکڑسکتی ہے اور یہ دوسرا قضیہ ہماری تحقیقات مندرجہ بالا میں ابھی ثابت ہوچکا ہے کہ وجود تمام اشیاء ممکنہ کا بغیر ذریعہ واجب الوجود کے محالات خمسہ کو مستلزم ہے۔ پس اگر یہ قضیہ صحیح نہیں ہے کہ کوئی شے بجز ذریعہ واجب الوجود کے موجود نہیں ہوسکتی تو یہ قضیہ صحیح ہوگا کہ وجود تمام اشیاء کو محالات خمسہ لازم ہیں لیکن وجود اشیاء کا باوصف لزوم محالات خمسہ کے ایک امر محال ہے پس نتیجہ نکلا کہ کسی شے کا بغیر واجب الوجود کے موجود ہونا امر محال ہے اور یہی مطلوب تھا۔
دلیل چہارم:۔ قرآن مجید میں بذریعہ مادہ قیاس اقترانی قائم کی گئی ہے۔ جاننا چاہئے کہ قیاس حجت کی تین قسموں میں سے پہلی قسم ہے۔ اور قیاس اقترانی وہ قیاس ہے کہ جسؔ میں عین نتیجہ کا یا نقیض اس کی بالفعل مذکور نہ ہو بلکہ بالقوہ پائی جائے اور اقترانی اس جہت سے کہتے ہیں کہ حدود اس کے یعنی اصغر اور اوسط اور اکبر مقترن ہوتی ہیں اور بالعموم قیاس حجت کے تمام اقسام سے اعلیٰ اور افضل ہے کیونکہ اس میں کلی کے حال سے جزئیات کے حال پر دلیل پکڑی جاتی ہے کہ جو بباعث استیفا تام کے مفید یقین کامل کے ہے۔ پس وہ قیاس کہ جس کی اتنی تعریف ہے اس آیت شریفہ میں درج ہے اور ثبوت خالقیت باری تعالیٰ میں گواہی دے رہا ہے دیکھو سورہ الحشر جزو ۲۸۔ هُوَ اللّٰهُ الْخَـالِـقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ‌ لَـهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى‌ؕ
۱؂ وہ اللہ خالق ہے یعنی پیدا کنندہ ہے وہ باری ہے یعنے روحوں اور اجسام کو عدم سے وجود بخشنے والا ہے وہ مصور ہے یعنے صورت جسمیہ اور صورت نوعیہ عطا کرنے والا ہے کیونکہ اس کے لئے تمام اسماء حسنہ ثابت ہیں یعنے جمیع صفات کاملہ جو باعتبار کمال قدرت کے عقل تجویز کرسکتی ہے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 12
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 12
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/12/mode/1up

اس کی ذات میں جمع ہیں۔ لہذا نیست سے ہست کرنے پر بھی وہ قادر ہے۔ کیونکہ نیست سے ہست کرنا قدرتی کمالات سے ایک اعلیٰ کمال ہے اور ترتیب مقدمات اس قیاس کی بصورت شکل اول کے اس طرح پر ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ پیدا کرنا اور محض اپنی قدرت سے وجود بخشنا ایک کمال ہے اور سب کمالات ذات کامل واجب الوجود کو حاصل ہیں۔ پس نتیجہ یہ ہوا کہ نیست سے ہست کرنے کا کمال بھی ذات باری کو حاصل ہے۔ ثبوت مفہوم صغریٰ کا یعنی اس بات کا کہ محض اپنی قدرت سے پیدا کرنا ایک کمال ہے اس طرح پر ہوتا ہے کہ نقیض اس کی یعنے یہ امر کہ محض اپنی قدرت سے پیدا کرنے میں عاجز ہونا جب تک باہر سے کوئی مادہ آکر معاو ن اور مددگار نہ ہو ایک بھاری نقصان ہے کیونکہ اگر ہم یہ فرض کریں کہ مادہ موجودہ سب جابجا خرچ ہوگیا تو ساتھ ہی یہ فرض کرنا پڑتا ہے کہ اب خدا پیدا کرنے سے قطعاً عاجز ہے حالانکہ ایسا نقص اس ذات غیر محدود اور قادر مطلق پر عائد کرنا گویا اس کی الوہیت سے انکار کرنا ہے۔
سوائے اس کے علم الٰہیات میں یہ مسئلہ بدلائل ثابت ہوچکا ہے کہ مستجمع الکمالات ہونا واجب الوجود کا تحقق الوہیت کے واسطے شرط ہے یعنی یہ لازم ہے کہ کوئی مرتبہ کمال کا مراتب ممکن التصور سے جو ذہن اور خیال میں گزر سکتا ہے اس ذات کامل سے فوت نہ ہو۔ پس بلاشبہ عقل اس بات کو چاہتی ہے کہ کمال الوہیت باری تعالیٰ کا یہی ہے کہ سب موجودات کا سلسلہ اسی کی قدرؔ ت تک منتہی ہو نہ یہ کہ صفت قدامت اور ہستی حقیقی کے بہت سے شریکوں میں بٹی ہوئی ہو اور قطع نظر ان سب دلائل اور براہین کے ہر ایک سلیم الطبع سمجھ سکتا ہے کہ اعلیٰ کام بہ نسبت ادنیٰ کام کے زیادہ تر کمال پر دلالت کرتا ہے پس جس صورت میں تالیف اجزاء عالم کمال الٰہی میں داخل ہے تو پھر پیدا کرنا عالم کا بغیر احتیاج اسباب کے جو کروڑہا درجہ زیادہ تر قدرت پر دلالت کرتا ہے کس قدر اعلیٰ کمال ہوگا۔ پس صغریٰ اس شکل کا بوجہ کامل ثابت ہوا۔

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 13
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 13
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/13/mode/1up

اور ثبوت کبریٰ کا یعنے اس قضیہ کا کہ ہر ایک کمال ذات باری کو حاصل ہے اس طرح پر ہے کہ اگر بعض کمالات ذات باری کو حاصل نہیں تو اس صورت میں یہ سوال ہوگا کہ محرومی ان کمالات سے بخوشی خاطر ہے یا بہ مجبوری ہے۔ اگر کہو کہ بخوشی خاطر ہے تو یہ جھوٹ ہے کیونکہ کوئی شخص اپنی خوشی سے اپنے کمال میں نقص روا نہیں رکھتا اور نیز جبکہ یہ صفت قدیم سے خدا کی ذات سے قطعاً مفقود ہے تو خوشی خاطر کہاں رہی۔ اور اگر کہو کہ مجبوری سے تو وجود کسی اور قاسر کا ماننا پڑا جس نے خدا کو مجبور کیا اور نفاذ اختیارات خدائی سے اس کو روکا یا یہ فرض کرنا پڑا کہ وہ قاسر اس کا اپنا ہی ضعف اور ناتوانی ہے کوئی خارجی قاسر نہیں۔ بہرحال وہ مجبور ٹھہرا تو اس صورت میں وہ خدائی کے لائق نہ رہا۔ پس بالضرورت اس سے ثابت ہوا کہ خداوند تعالیٰ داغ مجبوری سے کہ بطلانِ الوہیت کو مستلزم ہے پاک اور منزہ ہے اور صفت کاملہ خالقیت اور عدم سے پیدا کرنے کی اس کو حاصل ہے اور یہی مطلب تھا۔
دلیل پنجم۔ فرقان مجید میں خالقیت باری تعالیٰ پر بمادہ قیاس استثنائی قائم کی گئی ہے اور قیاس استثنائی اس قیاس کو کہتے ہیں کہ جس میں عین نتیجہ یا نقیض اس کی بالفعل موجود ہو اور دو مقدموں سے مرکب ہو یعنے ایک شرطیہ اور دوسرے وضعیہ سے چنانچہ آیت شریف جو اس قیاس پر متضمن ہے یہ ہے۔ دیکھو سورہ الزُّمر جزو ۲۳ يَخْلُقُكُمْ فِىْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِىْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ‌ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ؂ یعنی وہ تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین اندھیرے پردوں میں پیدا کرتا ہے اس حکمت کاملہ سے کہ ایک پیدائش اور قسم کی اور ایک اور قسم کی بناتا ہے یعنی ہر عضو کو صورت مختلف اور خاصیتیں اور طاقتیں الگ الگ بخشتا ہے۔ یہاں تک کہ قالب بے جان میں جان ڈال دیتا ہے نہ اس کو اندھیرا کام کرنے سے روکتا ہے اور نہ مختلف قسموں اور خاصیتوں کے اعضا بنانا اس پر مشکل ہوتا ہے اور نہ سلسلہ پیدائش کے ہمیشہ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 14
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 14
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/14/mode/1up

جاری رکھنے میں اس کو کچھ وقت اور حرج واقع ہوتا ہے۔ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ؂ وہیؔ جو ہمیشہ اس سلسلہ قدرت کو برپا اور قائم رکھتا ہے وہی تمہارا رب ہے یعنے اسی قدرت تامہ سے اس کی ربوبیت تامہ جو عدم سے وجود اور وجود سے کمال وجود بخشنے کو کہتے ہیں ثابت ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ رب الاشیاء نہ ہوتا اور اپنی ذات میں ربوبیت تامہ نہ رکھتا اور صرف مثل ایک بڑھئی یا کاریگر کے اِدھر اُدھر سے لے کر گزارہ کرتا تو اس کو قدرت تام ہرگز حاصل نہ ہوتی اور ہمیشہ اور ہروقت کامیاب نہ ہوسکتا بلکہ کبھی نہ کبھی ضرور ٹوٹ آجاتی اور پیدا کرنے سے عاجز رہ جاتا۔ خلاصہ آیت کا یہ کہ جس شخص کا فعل ربوبیت تامہ سے نہ ہو یعنے ازخود پیدا کنندہ نہ ہو اس کو قدرت تامہ بھی حاصل نہیں ہوسکتی لیکن خدا کو قدرت تامہ حاصل ہے کیونکہ قسم قسم کی پیدائش بنانا اور ایک بعد دوسرے کے بلا تخلف ظہور میں لانا اور کام کو ہمیشہ برابر چلانا قدرت تامہ کی کامل نشانی ہے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ خدائے تعالیٰ کو ربوبیت تامہ حاصل ہے اور درحقیقت وہ رب الاشیاء ہے نہ صرف بڑھئی اور معمار اشیاء کا ورنہ ممکن نہ تھا کہ کارخانہ دنیا کا ہمیشہ بلاحرج چلتا رہتا بلکہ دنیا اور اس کے کارخانہ کا کبھی کا خاتمہ ہوجاتا کیونکہ جس کا فعل اختیار تام سے نہیں وہ ہمیشہ اور ہر وقت اور ہر تعداد پر ہرگز قادر نہیں ہوسکتا۔
اور شکل اس قیاس کی جو آیت شریف میں درج ہے بقاعدہ منطقیہ اس طرح پر ہے کہ جس شخص کا فعل کسی وجود کے پیدا کرنے میں بطور قدرت تامہ ضروری ہو۔ اس کے لئے صفت ربوبیت تامہ کی یعنی عدم سے ہست کرنا بھی ضروری ہے لیکن خدا کا فعل مخلوقات کے پیدا کرنے میں بطور قدرت تامہ ضروری ہے۔ پس نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے لئے صفت ربوبیت تامہ کی بھی ضروری ہے۔
ثبوت صغریٰ کا یعنے اس بات کا کہ جس صانع کے لئے قدرت تامہ ضروری ہے اس کے لئے صفت ربوبیت تامہ کی بھی ضروری ہے اس طرح پر ہے کہ عقل اس بات کی

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 15
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 15
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/15/mode/1up

ضرورت کو واجب ٹھہراتی ہے کہ جب کوئی ایسا صانع کہ جس کی نسبت ہم تسلیم کرچکے ہیں کہ اس کو اپنی کسی صنعت کے بنانے میں حرج واقع نہیں ہوتا کسی چیز کا بنانا شروع کرے تو سب اسباب تکمیل صنعت کے اس کے پاس موجود ہونے چاہئیں اور ہر وقت اور ہرتعداد تک میسر کرنا ان چیزوں کا جو وجود مصنوع کے لئے ضروری ہیں اس کے اختیار میں ہونا چاہئے۔ اور ایسا اختیار تام بجز اس صورت کے اور کسی صورت میں مکمل نہیں کہ صانع اس مصنوع کااس کے اجزا پیدا کرنے پر قادر ہو کیونکہ ہر وقت اور ہر تعداد تک ان چیزوں کا میسر ہوجانا کہ جنؔ کا موجود کرنا صانع کے اختیار تام میں نہیں عندالعقل ممکن التخلف ہے اور عدم تخلف پر کوئی برہان فلسفی قائم نہیں ہوتی اور اگر ہوسکتی ہے تو کوئی صاحب پیش کرے۔ وجہ اس کی ظاہر ہے کہ مفہوم اس عبارت کا کہ فلاں امر کا کرنا زید کے اختیار تام میں نہیں اس عبارت کے مفہوم سے مساوی ہے کہ ممکن ہے کہ کسی وقت وہ کام زید سے نہ ہوسکے پس ثابت ہوا کہ صانع تام کا بجز اس کے ہرگز کام نہیں چل سکتا کہ جب تک اس کی قدرت بھی تام نہ ہو اسی واسطے کوئی مخلوق اہل حرفہ میں سے اپنے حرفہ میں صانع تام ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا بلکہ کل اہل صنائع کا دستور ہے کہ جب کوئی بار بار ان کی دکان پر جاکر ان کو دق کرے کہ فلاں چیز ابھی مجھے بنادو تو آخر اس کے تقاضے سے تنگ آکر اکثر بول اٹھتے ہیں کہ ’’میاں میں کچھ خدا نہیں ہوں کہ صرف حکم سے کام کردوں فلاں فلاں چیز ملے گی تو پھر بنادوں گا‘‘۔ غرض سب جانتے ہیں کہ صانع تمام کے لئے قدرت تام اور ربوبیت شرط ہے۔ یہ بات نہیں کہ جب تک زید نہ مرلے بکر کے گھر لڑکا پیدا نہ ہو۔ یا جب تک خالد فوت نہ ہو ولید کے قالب میں جو ابھی پیٹ میں ہے جان نہ پڑسکے پس بالضرورت صغریٰ ثابت ہوا۔
اور کبریٰ شکل کا یعنی یہ کہ خدا مخلوقات کے پیدا کرنے میں بطور قدرت تامہ کے

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 16
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 16
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/16/mode/1up

ضروری ہے خود ثبوت صغریٰ سے ثابت ہوتا ہے اور نیز ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ میں قدرت ضروریہ تامہ نہ ہو تو پھر قدرت اس کی بعض اتفاقی امور کے حصول پر موقوف ہوگی۔ اور جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں عقل تجویز کرسکتی ہے کہ اتفاقی امور وقت پر خدائے تعالیٰ کو میسر نہ ہوسکیں کیونکہ وہ اتفاقی ہیں۔ ضروری نہیں۔ حالانکہ تعلق پکڑنا روح کا جنین کے جسم سے بروقت طیاری جسم اس کے کے لازم ملزوم ہے۔ پس ثابت ہوا کہ فعل خدائے تعالیٰ کا بطور قدرت تامہ کے ضروری ہے اور نیز اس دلیل سے ضرورت قدرت تامہ کی خدائے تعالیٰ کے لئے واجب ٹھہرتی ہے کہ بموجب اصول متقررہ فلسفہ کے ہم کو اختیار ہے کہ یہ فرض کریں کہ مثلاً ایک مدت تک تمام ارواح موجودہ ابدان متناسبہ اپنے سے متعلق ہیں۔ پس جب ہم نے یہ امر فرض کیا تو یہ فرض ہمارا اس دوسرے فرض کو بھی مستلزم ہوگا کہ اب تا انقضائے اس مدت کے ان جنینوں میں جو رحموں میں طیار ہوئے ہیں کوئی روح داخل نہیں ہوگا۔ حالانکہ جنینوں کا بغیر تعلق روح کے معطل پڑے رہنا بہ بداہت عقل باطل ہے۔ پس جو امر مستلزم باطل ہے وہ بھی باطل۔ پس ثبوت متقدمین سے یہ نتیجہ ثابت ہوگیا کہ خدائے تعالیٰ کے لئے صفت ربوؔ بیت تامہ کی ضروری ہے اور یہی مطلب تھا۔
دلیل ششم:۔ قرآن مجید میں بمادہ قیاس مرکب قائم کی گئی ہے اور قیاس مرکب کی یہ تعریف ہے کہ ایسے مقدمات سے مؤلف ہوکہ ان سے ایسا نتیجہ نکلے کہ اگرچہ وہ نتیجہ خود بذاتہٖ مطلب کو ثابت نہ کرتا ہو لیکن مطلب بذریعہ اس کے اس طور سے ثابت ہو کہ اسی نتیجہ کو کسی اور مقدمہ کے ساتھ ملا کر ایک دوسرا قیاس بنایا جائے۔ پھر خواہ نتیجہ مطلوب اسی قیاس دوم کے ذریعہ سے نکل آوے یا اور کسی قدر اسی طور سے قیاسات بناکر مطلوب حاصل ہو۔ دونوں صورتوں میں اس قیاس کو قیاس مرکب کہتے ہیں۔ اور آیت شریف جو اس قیاس پر متضمن ہے یہ ہے دیکھو سورۃالبقرۃ الجزو ۳ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَـىُّ الْقَيُّوْمُ ۚ

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 17
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 17
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/17/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 18
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 18
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/18/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 19
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 19
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/19/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 20
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 20
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/20/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 21
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 21
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/21/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 22
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 22
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/22/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 23
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 23
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/23/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 24
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 24
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/24/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 25
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 25
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/25/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 26
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 26
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/26/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 27
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 27
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/27/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 28
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 28
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/28/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 29
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 29
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/29/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 30
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 30
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/30/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 31
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 31
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/31/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 32
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 32
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/32/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 33
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 33
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/33/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 34
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 34
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/34/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 35
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 35
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/35/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 36
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 36
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/36/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 37
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 37
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/37/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 38
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 38
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/38/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 39
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 39
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/39/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 40
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 40
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/40/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 41
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 41
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/41/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 42
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 42
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/42/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 43
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 43
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/43/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 44
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 44
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/44/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 45
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 45
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/45/mode/1up

Ruhani Khazain Volume 2. Page: 46
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۲- پرانی تحریریں: صفحہ 46
http://www.alislam.org/library/browse/volume/Ruhani_Khazain_Computerised/?l=Urdu&p=2#page/46/mode/1up

Theme by Anders Norén