احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

تحریرات پر اعتراض, جھوٹ بولنے کا اعتراض, صداقت مسیح موعودؑ, متفرق اعتراضات

متفرق اعتراضات ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شہر میں وبا پھیل جائے اس کے شہری فوراً اس شہر کو چھوڑ دیں

متفرق اعتراضات ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شہر میں وبا پھیل جائے اس کے شہری فوراً اس شہر کو چھوڑ دیں

اعتراض:۔
‘‘آنحضرتﷺ نے فرمایا جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہیے کہ بلاتوقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ ورنہ وہ خدا تعالیٰ سے لڑائی کرنے والے ٹھہریں گے۔’’

(اشتہار تمام مریدوں کے لیے عام ہدایت مندرجہ الحکم 24 اگست 1907ء،مجموعہ اشتہارات جلد 2 ص813)

یہ بات آپﷺ پر بہت بڑا افتراء ،جھوٹ اور بہتان ہے جسے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

جواب:۔
معترض نے لا تقربوا الصلوة کی طرح صرف دو سطروں کا حوالہ پیش کیا ہے،پوری عبارت پیش نہیں کی جس میں مکمل وضاحت مع حوالہ موجود ہے۔

اب اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے:

اصل عبارت

‘‘جب کسی گاؤں یا شہر کے کسی محلہ میں طاعون پیدا ہو تو یہ بہترین علاج ہے کہ اس گاؤں یا اس شہر کے اس محلہ کے لوگ جن کا محلہ طاعون سے آلودہ ہے فی الفور بلا توقف اپنے اپنے مقام کو چھوڑ دیں اور باہر جنگل میں کسی ایسی زمین میں جو اس تاثیر سے پاک ہے رہائش اختیار کریں سو میں دلی یقین سے جانتا ہوں کہ یہ تجویز نہایت عمدہ ہے اور مجھے معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہیے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں ورنہ وہ خدا تعالیٰ سے لڑائی کرنے والے ٹھہریں گے۔ عذاب کی جگہ سے بھاگنا انسان کی عقلمندی میں داخل ہے۔ کتب تاریخ میں لکھا ہے کہ جب خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ فتوحات ملک شام کے بعد اس ملک کو دیکھنے کے لیے گئے تو کسی قدر مسافرت طے کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس ملک میں سخت طاعون کا زور ہے تب حضرت عمرؓ نے یہ بات سنتے ہی واپس جانے کا قصد کیا اور آگے جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا تب بعض لوگوں نے عرض کی کہ یا خلیفۃ اللہ کیوں آپ ارادہ کو ملتوی کرتے ہیں۔ کیا آپ خدا کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں میں ایک تقدیر سے بھاگ کر دوسری تقدیر کی طرف جاتا ہوں۔ سو انسان کو نہیں چاہیے کہ دانستہ ہلاکت کی راہ اختیار کرے’’

(الحکم 24اگست 1907ء زیر عنوان تمام مریدوں کے لیے عام ہدایت ومجموعہ اشتہارات جلد 2 ص813)

معترض نے جان بوجھ کر یہاں پر ادھوری عبارت لکھی ہے۔ اور تحریر کا وہ حصہ جو اس بات کی وضاحت کرتا ہے، جان بوجھ کر چھوڑ دیا ہے۔ دھوکہ، فریب یا جھوٹ بولنا معترض کے ہر اعتراض میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”فی الفور بلا توقف اپنے اپنے مقام کو چھوڑ دیں اور باہر جنگل میں کسی ایسی زمین میں جو اس تاثیر سے پاک ہے رہائش اختیار کریں” حضور نے یہاں کہیں پر بھی شہر چھوڑ کر کسی دوسرے شہر یا گاؤں میں جانے کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ شہر یا گاؤں کی ملحقہ اراضیات میں جانے کا فرمایا ہے جس کی تاثیر پاک ہو اور یہ بات واضح طور پر احادیث میں پائی جاتی ہے۔

تائیدی حوالہ جات

1۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، قَالَ: لَمَّا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِالشَّامِ، خَطَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ النَّاسَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْسٌ، فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَفِي هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ شُرَحْبِيلَ بْنَ حَسَنَةَ قَالَ: فَغَضِبَ فَجَاءَ وَهُوَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ مُعَلِّقٌ نَعْلَهُ بِيَدِهِ، فَقَالَ: ‘‘صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِهِ، وَلَكِنَّهُ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ، وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ، وَوَفَاةُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ ’’

(مسند احمد جزء29 ص288)

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ: وَقَعَ الطَّاعُونُ بِالشَّامِ فَخَطَبَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْسٌ فَفِرُّوا مِنْهُ فِي الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ شُرَحْبِيلَ ابْنَ حَسَنَةَ فَقَالَ: «كَذَبَ عَمْرٌو، صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ جَمَلِ أَهْلِهِ، وَلَكِنَّهُ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَفَاةُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ»

(مستدرک حاکم جزء3 ص311)

جب شام میں طاعون ہوئی تو حضرت عمر بن العاص نے اہل شام سے کہا کہ کہ یہ طاعون خبیث ہے۔پس تم گھاٹیوں اور میدانوں میں پھیل جاؤ۔

2۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، خَرَجَ إِلَى الشَّأْمِ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ لَقِيَهُ أُمَرَاءُ الأَجْنَادِ، أَبُوعُبَيْدَةَ بْنُ الجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِأَرْضِ الشَّأْمِ. ۔۔۔ فَقَالُوا: نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلاَ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الوَبَاءِ، فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ: إِنِّي مُصَبِّحٌ عَلَى ظَهْرٍ فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ. قَالَ أَبُوعُبَيْدَةَ بْنُ الجَرَّاحِ: أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ إِبِلٌ هَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ، إِحْدَاهُمَا خَصِبَةٌ، وَالأُخْرَى جَدْبَةٌ، أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الخَصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ، وَإِنْ رَعَيْتَ الجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ؟

(بخاری کتاب الطب بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي الطَّاعُونِ)

3۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِى وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الطَّاعُونِ فَقَالَ أُسَامَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الطَّاعُونُ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ أُرْسِلَ عَلَى بَنِى إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ ». وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ « لاَ يُخْرِجُكُمْ إِلاَّ فِرَارٌ مِنْهُ ».

(صحیح مسلم کتاب السلام باب الطَّاعُونِ وَالطِّيَرَةِ وَالْكَهَانَةِ وَنَحْوِهَا)

4۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ عَامَ تَبُوكَ نَزَلَ بِهِمُ الْحِجْرَ عِنْدَ بُيُوتِ ثَمُودَ، فَاسْتَسْقَى النَّاسُ مِنَ الْآبَارِ الَّتِي كَانَ يَشْرَبُ مِنْهَا ثَمُودُ، فَعَجَنُوا مِنْهَا، وَنَصَبُوا الْقُدُورَ بِاللَّحْمِ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَرَاقُواالْقُدُورَ، وَعَلَفُوا الْعَجِينَ الْإِبِلَ، ثُمَّ ارْتَحَلَ بِهِمْ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ عَلَى الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا النَّاقَةُ، وَنَهَاهُمْ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا قَالَ :إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ، فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ

(مسند احمد جزء10ص191)

5۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہے:

وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (البقرة:196)

6۔ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (النساء:30)

ابو زكريا محي الدين يحيى بن شرف النووي (المتوفى: 676ھ) اپنی کتاب‘‘المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج’’ میں اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

‘‘فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ مَنْعُ الْقُدُومِ عَلَى بَلَدِ الطَّاعُونِ وَمَنْعُ الْخُرُوجِ مِنْهُ فِرَارًا مِنْ ذَلِكَ أما الخروج لعارض فلابأس بِهِ وَهَذَا الَّذِي ذَكَرْنَاهُ هُوَ مَذْهَبُنَا وَمَذْهَبُ الْجُمْهُورِ قَالَ الْقَاضِي هُوَ قَوْلُ الْأَكْثَرِينَ قَالَ حتى قالت عائشةالفرار مِنْهُ كَالْفِرَارِ مِنَ الزَّحْفِ قَالَ وَمِنْهُمْ مَنْ جَوَّزَ الْقُدُومَ عَلَيْهِ وَالْخُرُوجَ مِنْهُ فِرَارًا قَالَ وروى هَذَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَّهُ نَدِمَ عَلَى رُجُوعِهِ مِنْ سَرْغٍ وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَمَسْرُوقٍ وَالْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ أَنَّهُمْ فَرُّوا مِنَ الطَّاعُونِ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فِرُّوا عَنْ هَذَا الرِّجْزِ فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ وَرُءُوسِ الْجِبَالِ فَقَالَ مَعَاذٌ بَلْ هُوَ شَهَادَةٌ وَرَحْمَةٌ وَيَتَأَوَّلُ هَؤُلَاءِ النَّهْيَ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَنْهَ عَنِ الدُّخُولِ عَلَيْهِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَهُ غَيْرُ الْمُقَدَّرِ لَكِنْ مَخَافَةَ الْفِتْنَةِ عَلَى النَّاسِ لِئَلَّا يَظُنُّوا أَنَّ هَلَاكَ الْقَادِمِ إِنَّمَا حَصَلَ بِقُدُومِهِ وَسَلَامَةِ الْفَارِّ انما كانت بِفِرَارِهِ قَالُوا وَهُوَ مِنْ نَحْوِ النَّهْيِ عَنِ الطِّيَرَةِ وَالْقُرْبِ مِنَ الْمَجْذُومِ وَقَدْ جَاءَ عَنِ بن مَسْعُودٍ قَالَ الطَّاعُونُ فِتْنَةٌ عَلَى الْمُقِيمِ وَالْفَارِّ أَمَّا الْفَارُّ فَيَقُولُ فَرَرْتُ فَنَجَوْتُ وَأَمَّا الْمُقِيمُ فيقول أقمت فمت وانما فر من لميأت أَجَلُهُ وَأَقَامَ مَنْ حَضَرَ أَجَلُهُ وَالصَّحِيحُ مَا قَدَّمْنَاهُ مِنَ النَّهْيِ عَنِ الْقُدُومِ عَلَيْهِ وَالْفِرَارِ مِنْهُ لِظَاهِرِ الْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ قَالَ الْعُلَمَاءُ وَهُوَ قَرِيبُ الْمَعْنَى مِنْ قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم لاتتمنوا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ الِاحْتِرَازُ مِنَ الْمَكَارِهِ وَأَسْبَابِهَا وَفِيهِ التَّسْلِيمُ لِقَضَاءِ اللَّهِ عِنْدَ حُلُولِ الْآفَاتِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَاتَّفَقُوا عَلَى جَوَازِ الْخُرُوجِ بِشُغْلٍ وَغَرَضٍ غَيْرِ الْفِرَارِ وَدَلِيلُهُ صَرِيحُ الْأَحَادِيثِ قَوْلُهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي النَّضْرِ (لَا يُخْرِجُكُمْ إِلَّا فِرَارٌ مِنْهُ) وَقَعَ فِي بَعْضِ النُّسَخِ فِرَارٌ بِالرَّفْعِ وَفِي بَعْضِهَا فِرَارًا بِالنَّصْبِ وَكِلَاهُمَا مُشْكِلٌ مِنْ حَيْثُ الْعَرَبِيَّةِ وَالْمَعْنَى قَالَ الْقَاضِي وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ ضَعِيفَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعَرَبِيَّةِ مُفْسِدَةٌ للمعنى

(شرح نووی جزء14 ص204تا207)

1۔قال أبو يزيد البسطاميّ رضي الله عنه في هذا المقام وصحته يخاطب علماء الرسوم أخذتم علمكم ميتاً عن ميت وأخذنا علمنا عن الحيّ الذي لا يموت يقول أمثالنا حدثني قلبي عن ربي وأنتم تقولون حدثني فلان وأين هو قالوا مات عن فلان وأين هو قالوا مات وكان الشيخ أبو مدين رحمه الله إذا قيل له قال فلان عن فلان عن فلان ۔۔۔قلت أنت ما خصك الله به من عطاياه من علمه اللدني أي حدثوا عن ربكم واتركوا فلاناً وفلاناً فإن أولئك أكلوه لحماً طرياً والواهب لم يمت وهو أقرب إليكم من حبل الوريد والفيض الإلهيّ والمبشرات ما سد بابها وهي من أجزاء النبوّة والطريق واضحة والباب مفتوح والعمل مشروع والله يهرول لتلقي من أتى إليه يسعى وما يكون من نجوى ثلاثة إلا هو رابعهم وهو معهم أينما كانوا فمن كان معك بهذه المثابة من القرب مع دعواك العلم بذلك والإيمان به لم تترك الأخذ عنه والحديث معه وتأخذ عن غيره ولا تأخذ عنه فتكون حديث عهد بربك يكون المطر فوق رتبتك حيث برز إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم بنفسه حين نزل وحسر عن رأسه حتى أصابه الماء فقيل له في ذلك فقال إنه حديث عهد بربه تعلمياً لنا وتنبيهاً ثم لتعلم إن أصحابنا ما اصطلحوا على ما جاؤا به في شرح كتاب الله بالإشارة دون غيرها من الألفاظ إلا بتعليم إلهيّ

(فتوحات مکیہ از ابن عربی جلد1ص318)

2۔‘‘عن الشيخ ابى المواهب الشاذلى قدس الله سرهما انه كان يقول في انكار بعضهم على من قال حدثنى قلبى عن ربى لا انكار عليه لان المراد أخبرني قلبى عن ربى بطريق الإلهام الّذي هو وحي الأولياء- وهو دون وحي الأنبياء عليهم السلام’’

(تفسیر مظہری جزء6ص138)

مندرجہ ذیل 2 حوالہ جات انٹرنیٹ سے لیے گئے ہیں۔ان کی اصل کتب فی الحال نہیں مل سکیں۔

1۔ابن الہمامؒ نے اپنی التحریر میں لکھا ہے:

الْمُجْتَھِدُ إِذَا اسْتَدَلَّ بِحَدِیثٍ کَانَ تَصْحِیحًا لَہُ کمَا فِی التَّحْرِیرِ لِابْنِ الْھَمَّامِ وَغَیرِہِ (إنھاء السکن من یطالع إعلاء السنن:16)جب کسی حدیث سے مجتہد استدلال لے تو وہ اس حدیث کا صحیح ہونا ہوتا ہے۔

2۔أَصْحَابِی کَالنُّجُومِ بِأَیِّھِمْ اقْتَدَیْتُم اھْتَدَیْتُمْ۔ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کی اقتداء کروگے ہدایت پالوگے۔

شیخ شعرانی (المیزان الکبری جزء۱ صفحہ۳۰) میں لکھتے ہیں: وھَذَا الْحَدیثُ وَإِنْ کَانَ فِیہِ مَقَالٌ عِندَ الْمُحَدِّثیِنَ فَھُوَ صَحیحٌ عِندَ أَھْلِ الْکَشْفِ۔

Please follow and like us:
0

Theme by Anders Norén