احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

تحریرات پر اعتراض, صداقت مسیح موعودؑ, متفرق اعتراضات

متفرق اعتراضات ۔ مسیح موعود علیہ السلام کے وقت کی پیشگوئی بہت سے نبیوں نے کی اور دیکھنے کی خواہش کی

متفرق اعتراضات ۔ مسیح موعود علیہ السلام کے وقت کی پیشگوئی بہت سے نبیوں نے کی اور دیکھنے کی خواہش کی

اعتراض:۔
‘‘اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی۔ اور اس شخص (مرزا قادیانی) کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کے لیے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔ اس لیے اب ایمانوں کو خوب مضبوط کر لو۔ اور اپنی راہیں درست کرو۔’’

(اربعین نمبر 2 ص16 خزائن جلد 17 ص442)

جن پیغمبروں نے مرزا جی کی زیارت کا شوق ظاہر کیا،ان کا ذکر کہاں آیا ہے؟ ان کے نام ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ہے کوئی جو بتاسکے؟

جواب:۔
لیجئے ان ناموں میں سب سے بڑا نام نامی ہمارے آقا و مولاخاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ہے۔جو سب نبیوں کے مصدق ہیں اور برکات نبوت کا ایسا سمندر ہیں جس میں سب نبوتوں کے دریا آکر گرتے ہیں۔

اگر ایک حوالہ ہی مل جائے تو کسی اور کی ضرورت نہیں رہتی مگر بطور نمونہ حضرت موسیٰؑ اورحضرت دانیال نبی کے حوالے بھی پیش ہوں گے مگر ہر نبی نے ہی میثاق النبیین کی تعمیل میں اپنی امت کو جہاں بعد میں آنیوالے مصدق نبی کی تائید و نصرت کی تلقین کی وہاں مسیح موعود کے عہد کے دجالی فتنہ سے ہوشیار کیا کہ اپنی نسلوں کو اس سے ہوشیار کرنا!

لیکن جواب کی تفصیل میں جانے سے پہلے معترض کی تحریف لفظی اور بد دیانتی کا ذکر ضروری ہے:

حضرت مرزا صاحب کے اقتباس میں ‘‘اس شخص یعنی مسیح موعود’’کے الفاظ میں معترض نے تحریف کرتے ہوئے ‘‘مسیح موعود’’ کے الفاظ کی بجائےبریکٹ میں‘‘مرزا قادیانی’’ لکھ کرفریب اور دھوکہ کا ارتکاب کیا ہے۔اس تحریف کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان کا عقیدہ بھی یہی ہے کہ مسیح موعود کی بشارت نبیوں نے دی مگر چونکہ وہ مرزا صاحب کو مسیح موعود نہیں مانتے اس لیے ان کے حق میں اس علامت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔گویا اعتراض کی وجہ تعصب ہے،تحقیق نہیں۔

اب ملاحظہ فرمائیےنبیوں کی بشارت کا حوالہ:

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: «إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ

(صحیح بخاری کتاب الفتن باب ذکر الدجال)

دوسری روایت میں ہے کہ نوح نے بھی اپنی امت کو اس (دجال )کے فتنہ سے ہوشیار کیا اور بعد کے نبیوں نے بھی۔ جس طرح ہر نبی نے دجال سے اپنی قوم کو ہوشیا ر کیا۔حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے اپنی امت کو ہوشیار کرتے ہوئے فرمایا کہ

« إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ، فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ، فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ

(مسلم کتاب الفتن و اشراط الساعة – بَابُ ذِكْرِ الدَّجَّالِ وَصِفَتِهِ وَمَا مَعَهُ)

اگر تو دجال کے ظہور کے وقت میں تمہارے اندر موجود ہوا تو میں خود تمہاری طرف سے اس سے بحث کرکے حجت قائم کروں گا اور میں موجود نہ ہوا تو ہر شخص کو اپنی حجت اور دلیل دینی ہوگی اور حضرت عمرؓ نے جب ابن صیاد کو دجال خیال کر کے قتل کرنا چاہا تو رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ اگر تو یہ دجال معہود ہے تو تم اس پر غالب نہیں آسکتے۔اور اگر یہ وہ دجال معہود نہیں تو اس کے قتل کرنے میں تمہارا کوئی فائدہ نہیں۔(بخاری کتاب الجنائز بَابُ إِذَا أَسْلَمَ الصَّبِيُّ فَمَاتَ، هَلْ يُصَلَّى عَلَيْهِ، وَهَلْ يُعْرَضُ عَلَى الصَّبِيِّ الإِسْلاَمُ )کیوں کہ مسیح موعود نے اسے قتل کرنا ہےاور وہ اسے باب لدّ میں قتل کرے گا۔(ترمذی کتاب الفتن باب ما جاء فی قتل عیسیٰ ابن مریم الدجالَ)

چنانچہ حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ نے 23 مارچ 1889ء میں لدھیانہ میں جہاں دجال(عیسائی پادریوں)نے پہلا سکاٹش مشن قائم کیا تھا،احمدیت کی بنیاد رکھ کر عیسائیت کی شکست کے سامان کر دئیےاور یوں باب لدّ کی تعبیر ایک تو اس رنگ میں ظاہر ہوئی۔دوسرے لدّ کے معنے بحث کرنے کے ہیں۔چنانچہ حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ نے عیسائیوں کو بحث و مناظرہ کے میدان میں بھی شکست دی۔

پھران کے ساتھ جنگ مقدس کے مناظرہ میں علمی شکست۔۔۔۔۔

عیسائی پادری عبد اللہ آتھم اور ڈاکٹر ڈوئی کی ہلاکت سے قتل دجّال کا منظر نامہ واضح ہو کر سامنے آیا۔

اب مسیح موعود کی زیارت کی خواہش کرنے والے انبیاء کا ذکر:۔

حضرت محمد مصطفیٰﷺ:

رسول اللہﷺ نے امت کے دو افراد کو محبت و اشتیاق سے سلام بھیجا۔ایک حضرت اویس قرنیؒ اور دوسرےمسیح موعود۔اور فرمایا:‘‘جب وہ مسیح آئے تو اس کی بیعت کرنا خواہ برف کے تودوں سے گھٹنوں کے بل جانا پڑے اور فرمایا ہر مومن پر اس کی نصرت واجب ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:۔۔۔قَالَ: وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا ‘‘ قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَسْنَا بِإِخْوَانِكَ قَالَ: بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ

(مسند احمدجزء13 ص373)

ترجمہ:حضرت ابو ہریرةؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک دفعہ فرمایا:

‘‘میری دلی تمنا ہے کہ کیا ہی خوب ہوتا جو ہم اپنے بھائیوں کو ان آنکھوں سے دیکھ لیتے۔صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہﷺ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں۔آپ نے فرمایا تم تو میرے صحابہؓ ہو اور میرے بھائی وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے اور میں حوض کوثر پر ان کا پیش رو ہوں گا۔’’

حضرت موسیٰؑ:

مجدد دسویں صدی امام علامہ حافظ جلال الدین سیوطی (متوفی 911ھ)نے اپنی کتاب ‘‘الخصائص الکبریٰ’’میں یہ حدیث درج کی ہے۔جس کا ترجمہ مولوی اشرف علی تھانوی صاحب کی کتاب ‘‘نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب’’ سے پیش ہے جس میں آنحضرتﷺ کی امت کےاس دور اور وقت کو دیکھنے کی حضرت موسیٰ نے بھی خواہش کی جب ضلالت کی صدیوں کو چاک کیا جائے گا اور دجال( جس کے فتنہ سے حدیث رسولﷺ کے مطابق ہر نبی نے ڈرایا تھا) قتل ہوگا۔تو ارشاد ہوا یہ فخرحضرت محمد مصطفےٰ کی امت کو ہی حاصل ہے۔انہوں نے اس امت کا نبی بننے کی خواہش کی تو ارشاد ہوا ‘‘نبیّھا منھا’’اس کا نبی اسی میں سے ہوگا۔

(الخصائص الکبریٰ جزء اول صفحہ 12)

مولوی اشرف علی تھانوی اپنی کتاب ‘‘نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب’’میں اس حدیث کا ذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں:

‘‘موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا اے رب مجھ کو اس امت کا نبی بنا دیجیے۔ارشاد ہوا اس امت کا نبی اسی میں سے ہوگا۔عرض کیا کہ تو مجھ کو ان(محمدؐ) کی امت میں سے بنا دیجیے ارشاد ہوا کہ تم پہلے ہو گئے وہ پیچھے ہونگے۔البتہ تم کو اور ان کو دارالجلال (جنت) میں جمع کر دوں گا۔’’

(نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب صفحہ262)

حضرت دانیال نبی (جن کا زمانہ 622 قبل مسیح ہے)نےتو واضح طور پر اس آنے والے کا سن ظہور تک بتلا دیا جب کہا:

‘‘اور جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور وہ اجاڑنے والی مکروہ چیز نصب کی جائے گی ایک ہزار دو سو نوے دن ہونگے۔مبارک ہے وہ جو ایک ہزار تین سو پینتیس روز تک انتظار کرتا ہے۔’’

(دانی ایل باب 12 آیات11-12)

حضرت دانیال کی پیشگوئی میں دن سے مراد سال ہے اور وہ ہجری سال کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ 1290ھ کا سال اسلامی فتح اور غلبہ کا سال ہوگا۔اور یہ عجیب بات ہے کہ اسی سال حضرت مرزا صاحب کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔جب یہود سوختنی قربانی ظاہری و باطنی لحاظ سے ترک کر چکے تھے پھر دانیال نبی نے کس اشتیاق سے ان لوگوں کو مبارک قرار دیا جو 1335 تک انتظار کریں۔اس سے مراد مسیح موعود کی وفات اور اس کے بعد آپ کے موعود بیٹے کی خلافت تھی۔چنانچہ 1326ھ میں آپ فوت ہوئے اور 1335ھ میں آپ کا موعود بیٹا حضرت مصلح موعودؓ خلافت پر متمکن ہوچکا تھا۔

Please follow and like us:
error0

Theme by Anders Norén

%d bloggers like this: