احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

تحریرات پر اعتراض, جھوٹ بولنے کا اعتراض, صداقت مسیح موعودؑ, متفرق اعتراضات

متفق اعتراضات ۔ عبد اللہ آتھم کی پیشگوئی میں تھا کہ جو اپنے عقیدہ میں جھوٹا ہے پہلے مرے گا

متفق اعتراضات ۔ عبد اللہ آتھم کی پیشگوئی میں تھا کہ جو اپنے عقیدہ میں جھوٹا ہے پہلے مرے گا

اعتراض 21:۔
‘‘پیشگوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدہ کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو وہ مجھ سے پہلے مر گیا۔’’

(کشتی نوح ۔رخ جلد19ص6)

حالانکہ آتھم کی پیشگوئی میں تھا کہ جو شخص غلط عقیدہ پر ہے وہ پندرہ ماہ میں ہاویہ میں گرایا جائے گا۔اس جگہ جھوٹ بولا ہے اور پندرہ ماہ کی قیداڑا کر پیشگوئی کو وسیع کر رہے ہیں۔

جواب:۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہود پر لعنت کا ایک سبب اور ان کی یہ خیانت بیان فرمائی ہے یحرّفون الکلم عن مواضعہ کہ وہ کلام کو اپنی جگہ سے بدل کر دوسرے مفہوم میں پیش کرتے تھے۔اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ میری امت یہود کی ہو بہو تصویر بن کر ان کی پیروی کرے گی۔اب دیکھ لیں، اب معترض کہہ رہا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے 15 ماہ کی قید کو پیشگوئی سے اڑا دیا حالانکہ خود اس نے لا تقربوا الصلوة کی طرح ادھورا حوالہ پیش کیا۔

کشتیٔ نوح کے اسی صفحہ 6پرحضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

‘‘کیا یہ عظیم الشان نشان نہیں کہ میں بار بار کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس پیشگوئی کو ایسے طور سے ظاہر کرے گا کہ ہر ایک طالب حق کو کوئی شک نہیں رہے گا اور وہ سمجھ جائے گا کہ معجزہ کے طور پر خدا نے اس جماعت سے معاملہ کیا ہے بلکہ بطورنشان الٰہی کے نتیجہ یہ ہوگا کہ طاعون کے ذریعہ سے یہ جماعت بہت بڑھے گی اور خارق عادت ترقی کرے گی اور ان کی یہ ترقی تعجب سے دیکھی جائے گی اور مخالف جو ہر ایک موقعہ پر شکست پاتے رہے ہیں جیسا کہ کتاب نزول المسیح میں میں نے لکھا ہے اگر اس پیشگوئی کے مطابق خدا نے اس جماعت اور دوسری جماعتوں میں کچھ فرق نہ دکھلایا تو ان کا حق ہوگا کہ میری تکذیب کریں اب تک جو انہوں نے تکذیب کی ہے اس میں تو صرف ایک لعنت کو خریدا ہے مثلاً بار بار شور مچایا کہ آتھم پندرہ مہینہ کے اندر نہیں مرا۔ حالانکہ پیشگوئی نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ اگر وہ حق کی طرف رجوعؔ کرے گا تو پندرہ مہینہ میں نہیں مرے گا سو اس نے عین جلسہ مباحثہ پر سترمعزز آدمیوں کے روبرو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو دجّال کہنے سے رجوع کیا اور نہ صرف یہی بلکہ اس نے پندرہ مہینہ تک اپنی خاموشی اور خوف سے اپنا رجوع ثابت کر دیا۔ اور پیشگوئی کی بناء یہی تھی کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو دجال کہا تھا لہٰذا اس نے رجوع سے صرف اس قدر فائدہ اُٹھایا کہ پندرہ مہینے کے بعد مرا مگر مر گیا۔ یہ اس لئے ہوا کہ پیشگوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدہ کے رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا سو وہ مجھ سے پہلے مر گیا۔”

(کشتی نوح- روحانی خزائن جلد19صفحہ6)

خلاصہ کلام یہ کہ گویا یہ مشروط پیشگوئی بالآخر جس رنگ میں خدا کی تقدیر نے ظاہر کی وہ جھوٹے کی سچے کی زندگی میں ہلاکت ہے۔

یہ ہے اصل عبارت۔مگر اس سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ آتھم جو عیسائی پادری تھا جس سے کوئی مسلمان مناظرہ کے لیے تیار نہ ہوا تو جنڈیالہ امرتسر کے مسلمانوں کی درخواست پر حضرت مرزا صاحب اسلام کے فتح نصیب جرنیل اور مرد میدان کر سامنے آگئے۔اور اس سے 1893ء میں وہ تاریخی مباحثہ کیا جو جنگ مقدس کے نام سے شائع ہوا ہے۔ جس میں قاضی امیر حسین جیسے عالم اور کرنل الطاف جیسے رئیس عیسائی مسلمان ہوئے۔

اس 15 روزہ مناظرہ کےاختتام پر 5 جون 1893ء کو حضرت مرزا صاحب نے اللہ تعالیٰ سے علم کی روشنی میں یہ نشان پا کر دنیا کو مطلع کیا کہ اس بحث میں دونوں فریق یعنی اہل اسلام و عیسائی صاحب میں سے جو عمداً جھوٹ اختیار کر رہا ہے وہ 15 ماہ میں ہاویہ میں گرایا جائے گا بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔

1۔یہ پیشگوئی سنتے ہی آتھم کے چہرے پر خوفناک اثر ہوا ،اس کی پریشانی اسی وقت دکھائی دینے لگی۔ اور اخبار ‘‘نور افشاں’’ کے مطابق بقول آتھم اسے ڈرانیوالےتمثلات کا نظارہ شروع ہو گیا۔

2۔اور عیسائیوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اسے تو ڈاکٹر نے پہلے ہی کہہ رکھا ہے کہ 6 ماہ میں مر جائیگا۔

3۔آتھم کے بقول اس عرصہ میں اس پر تین جان لیوا حملے ہوئے۔پہلے حملے میں خونی سانپ سے ڈر کر بیوی بچوں کو چھوڑ کر امرتسر سے لدھیانہ داماد کے پاس گیا تو مسلح آدمی نیزوں کے ساتھ قتل کے لیے مستعد نظر آئے تب لدھیانہ سے بھاگ کر فیروز پور کے داماد کے پاس۔وہاں بھی تلواروں اور نیزوں کے ساتھ لوگ حملہ آور نظر آئے جو پولیس پہرہ کے باوجود آئے۔اور سوائے آتھم کے کسی اور کو نظر نہ آئے۔

4۔حضرت مرزا صاحب کو اللہ تعالیٰ نے الہام سے بتا دیا کہ آتھم پیشگوئی کی شرط کے مطابق رجوع الی الحق کر کے کامل ہاویہ کی موت سے بچ گیا ہے۔ اور عظمت اسلام کے رعب کی پیشگوئی اس کے حق میں پوری ہوئی تاکہ پیشگوئی مشتبہ نہ رہے کہ مرنا تو چھ ماہ میں تھا ہی۔

5۔آتھم نے رجوع الی الحق سے انکار نہیں کیا بلکہ 1894ء میں اشتہار دیا کہ وہ تین دفعہ قسم کھا کر رجوع سے انکار کرے۔چار ہزار تک انعام اگر وہ قسم کھا لے تو ایک سال کے اند ہلاک:

‘‘اب اگر آتھم صاحب قسم کھا لیں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے اور اگر قسم نہ کھائیں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا جس نے حق کا اخفا کرکے دنیا کو دھوکا دینا چاہا۔۔۔۔۔۔ اور وہ دن نزدیک ہیں دور نہیں۔’’ (اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ صفحہ11،27اکتوبر1894ء)

مگر فرمایا کہ لوگ اس کے ٹکڑے بھی کردیں تو قسم نہ کھائے گا۔ کیونکہ اس سے زیادہ اس بات کو کوئی نہیں جانتا کہ اس نے فی الحقیقت حق کی طرف رجوع کیا۔ لیکن اب آتھم عیسائیوں کے اس قول کی تردید نہ کرے اور نہ قسم کھائے تو بھی وہ عذاب سے بچ نہیں سکے گا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:

”اس ہماری تحریر سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ جو ہونا تھا وہ ہو چکا اور آگے کچھ نہیں۔”

(انوار الاسلام صفحہ15ایڈیشن اول)

چنانچہ ایساہی ہوا ‘‘وہ دن ’’جو عبداللہ آتھم کی سزا دہی کے لیے مقرر کیا گیا تھا ۔ وہ بہت ‘‘نزدیک ’’ تھا ۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کےاشتہارپرابھی سات ماہ نہیں گذرےتھےکہ آتھم 27جولائی 1897ء کو پیشگوئی کے صرف چار سال کے عرصہ بمقام فیروز پور راہی ملک عدم ہو گیا۔

حضرت مرزا صاحب نے یہ پیشگوئی 5 جون 1893ء کو فرمائی۔جو 5 ستمبر 1894ء کو 15 ماہ گزرنے پر عبد اللہ آتھم کے رجوع الی الحق ،اسلام کی فتح اور بانیٔ اسلام کی عظمت کا ایک نشان ہے۔جسے معترض عیسائیت کی بانیٔ اسلام کے خلاف وکالت کرکے داغدار کرنا چاہتا ہے۔

خدا تعالیٰ نے آتھم کے ذریعہ سے درحقیقت اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر ‘‘زندگی’’اور ‘‘موت’’کے دو نشان ظاہر فرمائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنے سے آتھم نے پندرہ ماہ کے عرضہ میں ‘‘زندگی’’پائی اور اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے نشان کو چھپانے کے نتیجہ میں اسے ‘‘موت’’حاصل ہوئی۔ اور اس نشان میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت حقیقی زندگی بخشتی ہے اور آپ کی مخالفت ایک موت کا پیالہ ہے جس کا پینے والا روحانی موت سے بچ نہیں سکتا۔

غیرت مند مسلمانوں نے تو اس پیشگوئی کے پورا ہونے پر برملا حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا اعتراف کیا جیسے خواجہ غلام فرید صاحب ۔لیکن معترض نہ جانے کس وجہ سے آتھم کو سچا ثابت کرنے پر مصر ہے ۔

Please follow and like us:
error0

Theme by Anders Norén

%d bloggers like this: