احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

تحریرات پر اعتراض, جھوٹ بولنے کا اعتراض, صداقت مسیح موعودؑ, متفرق اعتراضات

متفرق اعتراضات ۔ تفسیر ثنائی میں لکھا ہے کہ ابو ہریرة(رضی اللہ عنہ) فہم قرآن میں ناقص تھا

متفرق اعتراضات ۔ تفسیر ثنائی میں لکھا ہے کہ ابو ہریرة(رضی اللہ عنہ) فہم قرآن میں ناقص تھا

اعتراض:۔
‘‘تفسیر ثنائی میں لکھا ہے کہ ابو ہریرة(رضی اللہ عنہ) فہم قرآن میں ناقص تھا۔’’

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ،خزائن جلد 21 ص410)

مرزا جی نے جھوٹ بولا ہے۔تفسیر ثنائی میں یہ بالکل نہیں لکھا۔حوالہ پیش کریں۔

جواب:۔
یہ اعتراض بھی معترض کی لاعلمی کا شاہکار ہے۔ان کے محدود علم میں صرف اپنے بزرگ اہلحدیث عالم مولوی ثناء اللہ امرتسری کی تفسیر ثنائی ہی ہے۔ بے چاروں کویا یہ علم ہی نہیں یا تجاہل عارفانہ ہےکہ مولوی ثناء اللہ پانی پتی صاحب نے بھی ایک تفسیر قرآن لکھی ہے،جسے تفسیر مظہری بھی کہتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے اس جگہ اس کاتفسیر ثنائی کے نام سے حوالہ دیا۔یہ ایسےہی ہےجیسے امام بخاری کی جامع الصحیح المسندکو ان کے نام پر بخاری اور امام رازی کی تفسیر کبیر کو تفسیر رازی کہہ دیا جائے تو کوئی صاحب علم و عقل اسے جھوٹ قرار نہیں دے گا۔

اب اس جگہ تفسیر مظہری میں موجود اس حوالہ کو اس لیے جھوٹا قرار دینا کہ اس کا نام مصنف کے نام پر تفسیر ثنائی کیوں لیا ایک ظالمانہ تہمت ہے۔اور ان کے باقی جھوٹوں کا پول بھی کھل گیا ہے۔

معترض حوالہ کا انکار کرنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیتا کہ تفسیر مظہری کا نام تفسیر ثنائی معروف نہیں اس لیے سہو ہوگیا۔جو قابل اعتراض نہیں۔مگر جھوٹ کا الزام لگا کر خود شرمسار ہوئے۔

اب آئیے اصل حوالہ کی طرف جس کا تعلق سورة نساء کی آیت 160 وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ سے ہے۔ کو مولوی ثناء اللہ پانی پتی صاحب نے حضرت ابوہریرةؓ کی بیان کردہ تفسیر میں لکھا ہے کہ اس آیت سے حضرت عیسیٰ کی زندگی مراد لینا ابو ہریرةؓ کا ذاتی خیال ہے۔کسی حدیث مرفوع میں اس کا ذکر نہیں اس لحاظ سے یہ تفسیر درست نہیں۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

‘‘اور (اس آیت میں)دوسری ضمیر(یعنی قبل موتہ) کو حضرت عیسیٰ کی طرف راجع کر کے آیت کی وہ تفسیر کی جا سکتی ہے جس سے مضمون مذکور کا استفادہ ہوسکے۔یہ بات قابل تسلیم نہیں۔صرف حضرت ابو ہریرةؓ کا خیال اور رائےہے۔کسی صحیح مرفوع حدیث میں مذکور نہیں۔اور نہ یہ تشریح درست ہے۔کیونکہ اس تفسیر پر توصرف ان اہل کتاب کے مومن ہو جانے کی پیشنگوئی ہوگی جو نزول کے بعد حضرت عیسیٰ کے زمانہ میں ہونگے۔۔۔’’

(تفسیر مظہری جلد سوم ص 326ترجمہ اردو از مولوی سید عبد الدائم الجلالی رفیق ندوة المصنفین۔ناشر دارالاشاعت اردو بازار کراچی)

اس آیت کی نہایت اعلیٰ درجہ کی لطیف تفسیر کرتے ہوئے حضرت مرزا صاحب نے وفات عیسیٰ کا لاجواب مضمون جس خوبصورت رنگ میں بیان فرمایا ہے،معترض نے پورا حوالہ درج نہ کر کے اس نہایت عالی شان مضمون کا خون کردیا ہے یہ مضمون جو پڑھنے اور سننے کے لائق ہے۔حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں:

‘‘بعض لوگ محض نادانی سے یا نہایت درجہ کے تعصّب اور دھوکا دینے کی غرض سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی پر اس آیت کو بطور دلیل لاتے ہیں کہ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِااور اس سے یہ معنے نکالنا چاہتے ہیں کہ اس وقت تک حضرت عیسیٰ فوت نہیں ہوں گے جب تک کل اہل کتاب اُن پر ایمان نہ لے آویں ۔ لیکن ایسے معنے وہی کرے گا جس کو فہم قرآن سے پورا حصہ نہیں ہے ۔ یاجودیانت کے طریق سے دور ہے ۔ کیونکہ ایسے معنے کرنے سے قرآن شریف کی ایک پیشگوئی باطل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہےفَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ(المائدة:15)دوسری جگہ فرماتا ہے ۔ وَأَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ(المائدة:65)اورپھر ۔ان آیتوں کے یہ معنے ہیں کہ ہم نے قیامت تک یہود اور نصاریٰ میں دشمنی اور عداوت ڈال دی ہے پس اگرؔ آیت ممدوحہ بالا کے یہ معنے ہیں کہ قیامت سے پہلے تمام یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پرایمان لے آئیں گے تو اس سے لازم آتا ہے کہ کسی وقت یہودونصاریٰ کا بغض باہمی دور بھی ہوجائے گا اور یہودی مذہب کا تخم زمین پر نہیں رہے گاحالانکہ قرآن شریف کی اِن آیات سے اور کئی اور آیات سے ثابت ہوتاہے کہ یہودی مذہب قیامت تک رہے گا ۔ ہاں ذلت اور مَسکنت ان کے شامل حال ہوگی اور وہ دوسری طاقتوں کی پناہ میں زندگی بسر کریں گے ۔ پس آیت ممدوحہ بالا کاصحیح ترجمہ یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اہل کتاب میں سے ہے وہ اپنی موت سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یا حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آویں گے۔ غرض موتہٖ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے نہ حضرت عیسیٰ کی طرف اسی وجہ سے اس آیت کی دوسری قراء ت میںمَوتھم واقع ہے۔اگر حضرت عیسیٰ کی طرف یہ ضمیر پھرتی تو دوسری قراء ت میں موتھم کیوں ہوتا ؟ دیکھو تفسیر ثنائی کہ اس میں بڑے زور سے ہمارے اس بیان کی تصدیق موجود ہے اور اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہی معنے ہیں مگر صاحب تفسیر لکھتا ہے کہ ’’ابوہریرہ فہم قرآن میں ناقص ہے اور اس کی درایت پر محدثین کو اعتراض ہے۔۔۔۔الخ’’

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ،روحانی خزائن جلد 21 ص410رقم فرمودہ 1905ءمطبوعہ1908ء)

اگر معترض کو بلا تحقیق اعتراض کی عادت نہ ہوتی تو وہ حضرت مرزا صاحب کی کتاب ‘‘حمامۃ البشریٰ’’روحانی خزائن جلد 7 ص240 کو ہی دیکھ لیتے جہاں حضرت مرزا صاحب نے براہین احمدیہ حصہ پنجم کی اشاعت سےقریباً12سال قبل یہی حوالہ تفسیر مظہری کے نام سے دیا ہے۔اگر بعد کی کسی کتاب میں یہ حوالہ مصنف کے نام کی مناسبت سےتفسیر ثنائی کے طور پر آگیا تو اس سے کون سی قیامت ٹوٹ پڑی۔ اگرکوئی قیامت ٹوٹی ہے تو وہ معترض کے جھوٹ اور تہمت باندھنے کی قیامت ضرور ہے جس سے الامان والحفیظ اور خدا کی پناہ!!!

Please follow and like us:
0

Theme by Anders Norén