متفرق اعتراضات ۔ احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود چھٹے ہزار سال میں پیدا ہو گا

اعتراض:۔
”اور احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود چھٹے ہزار سال میں پیدا ہو گا۔”

(حقیقۃ الوحی صفحہ201جلد 22صفحہ209)

کون سی احادیث صحیحہ؟’نبی پاکﷺ پر مرزا کا جھوٹ ہے۔

جواب:۔
یہاں بھی معترض نے ناشائستہ رویے کا اظہار کرتے ہوئے جھوٹ کا الزام لگاکر سوال کیا ہےاورمحض سوالوں کا نمبر بڑھانے کے لیے یہ سوال کیاہے۔اعتراض نمبر 26 دنیا کی عمر سات ہزار سال کے تحت اس کا تفصیلی جواب آچکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں آکر پہلی دفعہ جھوٹ کا الزام لگانے کے ساتھ تجاہل عارفانہ کے طور پر یہ بھی کہا کہ کونسی احادیث صحیحہ؟

اس کا سادہ سا جواب تویہی ہے کہ اعتراض نمبر26 میں بیان کی گئی وہ تمام احادیث جن کی صحت ایک صاحب الہام حضرت مسیح موعود اور مہدی معہود کے کلام سے ظاہر ہے،اور جن کا ماحصل یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کا ذکر ہے:

1۔ ‘‘من قضى حاجة المسلم في الله كتب الله له عمر الدنيا سبعة آلاف سنة صيام نهاره وقيام ليله’’ابن عساكر عن أنس

(کنزالعمال جزء6 ص444)

دنیا کی عمر سات ہزار سال والی روایت کوعلامہسیوطی (المتوفى: 911ھ)نے اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعةجزء2ص369میں اور ابن عراق الكناني (المتوفى: 963ھ)نے تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعةجزء2ص379میں اور حضرت ملا علی قاری ؒ (المتوفى: 1014ھ)نے الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة المعروف بالموضوعات الكبرى جزء1ص199 میں اورعلامہ محمود آلوسی نےتفسیرروح المعانی میں اورعلامہ اسماعیل حقی نے تفسیر روح البیان اورمشہور محدث علامہ عبد الرؤوف المناوي القاهري(المتوفى: 1031ھ)نے اپنی کتاب فیض القدیر میں بیان کیا ہے۔

2۔عن أنس مرفوعا: الدنيا كلها سبعة أيام من أيام الآخرة وذلك قول اللَّه عز وجل ‘‘وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ(الحج:47)’’

اس روایت کو‘‘کشف الخفاء’’ میں علامہ عجلونی نے ‘‘مقاصد الحسنة’’ میں علامہ سخاوی نے

‘‘تاریخ جرجان’’ میں علامہ جرجانی نے ‘‘حاوی للفتاویٰ’’ میں علامہ سیوطی نے بیان کی ہے۔

3۔ایک اور اہم حدیث حضرت ابن عمرؓ کی صحیح بخاری میں ہے جس میں رسول اللہﷺ نے فرمایا:

‘‘ إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلاَ مِنَ الأُمَمِ، كَمَا بَيْنَ صَلاَةِ العَصْرِ، وَمَغْرِبِ الشَّمْسِ’’

(صحیح بخاری کتاب فضائل القرآن بَابُ فَضْلِ القُرْآنِ عَلَى سَائِرِ الكَلاَمِ)

اور دیگر انبیاء آدم سے لے کر آنحضرت ﷺ کے کل زمانہ قریباً پانچ ہزار سال کے مقابل پر حضرت محمد مصطفیٰﷺ کا عرصہ زمانہ دو ہزار سال بنتا ہے۔پانچویں ہزار سال کے آخر میں آپ کی بعثت ہوئی۔جس کے تین سو سال خیر القرون کا زمانہ اور ایک ہزار فیج اعوج کا دور ملاکر مسیح موعود کا زمانہ چھٹے ہزار سال کا آخر بنتا ہے۔

آپؑ فرماتے ہیں:

‘‘اِن سات ہزار برس کی قرآن شریف اور دوسری خدا کی کتابوں کے رو سے تقسیم یہ ہے کہ پہلا ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا زمانہ ہے اور دوسرا ہزار شیطان کے تسلّط کا زمانہ ہے اور پھر تیسرا ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا اور چوتھا ہزار شیطان کے تسلّط کا اور پھر پانچواں ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا(یہی وہ ہزار ہے جس میں ہمارے سیّد و مولیٰ ختمی پناہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے اور شیطان قید کیا گیاہے) اور پھر چھٹا ہزار شیطان کے کھلنے اور مسلّط ہونے کا زمانہ ہے جو قرونِ ثلاثہ کے بعد شروع ہوتا اور چودھویں صدی کے سر پرختم ہو جاتا ہے۔ اور پھر ساتواں ہزار خدا اور اس کے مسیح کا اور ہر ایک خیر وبرکت اور ایمان اور صلاح اور تقویٰ اور توحید اور خدا پرستی اور ہر ایک قسم کی نیکی اور ہدایت کا زمانہ ہے۔ اب ہم ساتویں ہزار کے سر پر ہیں۔ اِس کے بعد کسی دوسرے مسیح کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ زمانے سات ہی ہیں جو نیکی اور بدی میں تقسیم کئے گئے ہیں۔ اس تقسیم کو تمام انبیاء نے بیان کیا ہے۔ کسی نے اجمال کے طور پر اور کسی نے مفصّل طور پر۔’’ (لیکچر لاہور روحانی خذائن جلد 20 صفحہ 38-40)

حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ فرماتے ہیں:

”کتب سابقہ اور احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے کہ عمر دنیا کی حضرت آدم علیہ السلام سے سات ہزار برس تک ہے اِسی کی طرف قرآن شریف اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے کہ إِنَّ يَوْماً عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ(الحج:48) یعنی خدا کا ایک دن تمہارے ہزار برس کے برابر ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے میرے دل پر یہ الہام کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ تک حضرت آدمؑ سے اسی قدر مدت بحساب قمری گذری تھی جو اِس سورۃ کے حروف کی تعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتی ہے۔ اور اس کے رو سے حضرت آدمؑ سے اب ساتواں ہزار بحساب قمری ہے جو دنیا کے خاتمہ پر دلالت کرتا ہے اور یہ حساب جو سورۃوالعصر کے حروف کے اعداد کے نکالنے سے معلوم ہوتا ہے۔ یہود و نصاریٰ کے حساب سے قریباً تمام و کمال ملتا ہے صرف قمری اور شمسی حساب کو ملحوظ رکھ لینا چاہےے۔ اور ان کی کتابوں سے پایا جاتا ہے جو مسیح موعود کا چھٹے ہزار میں آنا ضروری ہے اور کئی برس ہو گئے کہ چھٹا ہزار گزر گیا۔”

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 146، 147)

آپؑ مزیدفرماتے ہیں:

‘‘خدا تعالیٰ نے مجھے ایک کشف کے ذریعہ سے اطلاع دی ہے کہ سورۃ العصر کے اعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عصر تک جو عہد نبوت ہے یعنی تیئیس23 برس کا تمام وکامل زمانہ یہ کل مدت گذشتہ زما ؔنہ کے ساتھ ملاکر 4739 برس ابتدائے دنیا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روز وفات تک قمری حساب سےؔ ہیں۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم الف خامس میں جو مریخ کی طرف منسوب ہے مبعوث ہوئے ہیں اور شمسی حساب سے یہ مدت 4598 ہوتی ہے اور عیسائیوں کے حساب سے جس پر تمام مدار بائبل کا رکھا گیا ہے 4636 برس ہیں۔ یعنی حضرت آدم سے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اخیر زمانہ تک 4636 برس ہوتے ہیں اس سے ظاہرہوا کہ قرآنی حساب جو سورۃ العصر کے اعداد سے معلوم ہوتا ہے اور عیسائیوں کی بائبل کے حساب میں جس کے رُو سے بائبل کےحاشیہ پر جا بجا تاریخیں لکھتے ہیں صرف اٹھتیس٣٨ برس کافرق ہے ۔اور یہ قرآن شریف کے علمی معجزات میں سے ایک عظیم الشان معجزہ ہے جس پر تمام افرادِ امت محمدیہ میں سے خاص مجھ کو جو میں مہدیئ آخر الزمان ہوں اطلاع دی گئی ہے تا قرآن کا یہ علمی معجزہ اور نیز اس سے اپنے دعوے کا ثبوت لوگوں پر ظاہر کروں۔ اور اِن دونوں حسابوں کے رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہؔ وسلم کا زمانہ جس کی خدا تعالیٰ نے سورۃ والعصر میں قسم کھائی الف خامس ہے یعنی ہزار پنجم جومریخ کے اثر کے ماتحت ہے۔ اور یہی سرّ ہے جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو اُن مفسدین کے قتل اور خونریزی کے لئے حکم فرمایا گیا جنہوں نے مسلمانوں کو قتل کیا اور قتل کرنا چاہا اور اُن کے استیصال کے درپے ہوئے اور یہی خدا تعالیٰ کے حکم اور اذن سے مریخ کا اثر ہے۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعث اوّل کا زمانہ ہزار پنجم تھا جو اسم محمد کا مظہر تجلّی تھا یعنی یہ بعث اوّل جلالی نشان ظاہر کرنے کے لئے تھا ۔’’ (تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد17 صفحہ91-92)

حضرت مرزا صاحب نےفرمایا کہ:

سو دانیال نبی کی کتاب میں جو ظہور مسیح موعود کے لئے بارہ سو نوے برس لکھے ہیں۔ اِس کتاب براہین احمدیہ میں میری طرف سے مامور اور منجانب اللہ ہونے کا اعلان ہے صرف سات برس اِس تاریخ سے زیادہ ہیں جن کی نسبت میں ابھی بیان کر چکا ہوں کہ مکالمات الٰہیہ کا سلسلہ اِن سات برس سے پہلے کا ہے یعنی بارہ سو نوے کا۔ پھر آخری زمانہ اس مسیح موعود کا دانیال تیرہ سو پینتیس برس لکھتا ہے۔ جو خدا تعالیٰ کے اس الہام سے مشابہ ہے جو میری عمر کی نسبت بیان فرمایا ہے اور یہ پیشگوئی ظنی نہیں ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ کی پیشگوئی جس مسیح موعود کے بارہ میں انجیل میں ہے اُس کا اِس سے توارد ہو گیا ہے۔ اور وہ بھی یہی زمانہ مسیح موعود کا قرار دیتی ہے چنانچہ اس میں مسیح موعود کے زمانہ کی یہ علامتیں لکھی ہیں کہ اُن دنوں میں طاعون پڑے گی زلزلے آئیں گے لڑائیاں ہوں گی اور چاند اور سورج کا کسوف خسوف ہوگا۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ جس زمانہ کے آثار انجیل ظاہر کرتی ہے اُسی زمانہ کی دانیال بھی خبر دیتا ہے اور انجیل کی پیشگوئی دانیال کی پیشگوئی کو قوت دیتی ہے کیونکہ وہ سب باتیں اس زمانہ میں وقوع میں آگئیں ہیں اور ساتھ ہی یہود و نصاریٰ کی وہ پیشگوئی جو بائیبل میں سے استنباط کی گئی ہے اس کی مؤید ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود آدم کی تاریخ پیدائش سے چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہوگا چنانچہ قمری حساب کے رُو سے جو اصل حساب اہل کتاب کا ہے میری ولادت چھٹے ہزار کے آخر میں تھی اور چھٹے ہزار کے آخر میں مسیح موعود کا پیدا ہونا ابتدا سے ارادہئِ الٰہی میں مقرر تھا۔ کیونکہ مسیح موعود خاتم الخلفاء ہے اور آخر کو اوّل سے مناسبت چاہئے۔ اور چونکہ حضرت آدم بھی چھٹے دن کے آخر میں پیدا کئے گئے ہیں اِس لئے بلحاظ مناسبت ضروری تھا کہ آخری خلیفہ جو آخری آدم ہے وہ بھی چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو۔ وجہ یہ کہ خدا کے سات دنوں میں سے ہر ایک دن ہزار برس کے برابر ہے جیسا کہ خود وہ فرماتا ہے۔ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ۔اور احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود چھٹے ہزار میں پیدا ہوگا۔ اِسی لئے تمام اہل کشف مسیح موعود کا زمانہ قرار دینے میں چھٹے ہزار برس سے باہر نہیں گئے اور زیادہ سے زیادہ اسکے ظہور کا وقت چودھویں صدی ہجری لکھا ہے۔”

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد22صفحہ207تا 209)

نیز فرمایا:

”خدا نے آدم کو چھٹے دن بروز جمعہ بوقت عصر پیدا کیا۔ توریت اور قرآن اور احادیث سے یہی ثابت ہے اور خدانے انسانوں کے لئے سات دن مقرر کئے ہیں۔ اور اِن دنوں کے مقابل پر خدا کا ہر ایک دن ہزار سال کا ہے اور اس کی رو سے استنباط کیا گیا ہے کہ آدم سے عمردنیا کی سات ہزار سال ہے اور چھٹا ہزار جو چھٹے دن کے مقابل پر ہے وہ آدمِ ثانی کے ظہور کا دن ہے۔ یعنی مقدریوں ہے کہ چھٹے ہزار کے اندر دینداری کی روح دنیا سے مفقود ہو جائے گی اور لوگ سخت غافل اور بے دین ہو جائیں گے۔ تب انسان کے روحانی سلسلہ کو قائم کرنے کے لئے مسیح موعود آئے گا۔ اور وہ پہلے آدم کی طرح ہزار ششم کے اخیر میں جو خدا کا چھٹا دن ہے ظاہر ہو گا۔ چنانچہ وہ ظاہر ہو چکا ۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ259)

؂

سر کو پیٹو آسماں سے اب کوئی آتا نہیں

عمر دنیا کو بھی اب تو آگیا ہفتم ہزار

Please follow and like us:
0