متفرق اعتراضات ۔ یہ کس قدر عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ دار قطنی میں آج سے گیارہ سو برس پہلے مندرج ہو کر تمام دنیا میں شائع ہو گئی تھی

اعتراض 32:۔
‘‘یہ کس قدر عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ دار قطنی میں آج سے گیارہ سو برس پہلے مندرج ہو کر تمام دنیا میں شائع ہو گئی تھی ۔’’

(ایام الصلح۔ جلد 14صفحہ280)

بالکل غلط جھوٹ ہے،ورنہ بات ثابت کریں۔

جواب:۔
ناظرین! ہمارے آقا ومولیٰ حضرت خاتم الانبیاء مخبر صادقﷺ کی بیان فرمودہ عظیم بشارت کو معترض نے جھوٹ قرار دینے کی جسارت کی ہے۔کاش وہ اپنے اہلحدیث ہونے کا ہی کچھ بھرم رکھ لیتے اور فرمودۂ رسولﷺ پر اعتراض نہ کرتے جسے نبیرۂ رسول اللہﷺ حضرت امام محمد باقرنے روایت کیا ہے اور علمائے حدیث کا یہ متفقہ اصول ہے کہ ایسی حدیث جس میں آئندہ زمانے کی کوئی خبر بیان ہوئی ہو اور اسے کوئی صحابی یا تابعی بیان کرےوہ مرفوع کے حکم میں ہوتی ہے کیونکہ کوئی تابعی یا صحابی اپنی طرف سے مستقبل کی کوئی جھوٹی خبر نہیں بنا سکتا۔خاص طور پرمہدی کے وقت میں رمضان کی خاص تاریخوں میں چاند سورج گرہن کی وہ پیشگوئی جو 13 سو سال بعد ایک منفرددعویدار مہدویت کی موجودگی میں 1311ھ کو پوری بھی ہوگئی اور خدا کی فعلی شہادت نے اسے سچا ثابت کردیا ہے۔

یہ پیشگوئی جسے معترض جھوٹ کہہ رہا ہے۔قرآن کریم کی سورة قیامۃمیں اس کا ذکر تھا کہ فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ۔ وَخَسَفَ الْقَمَرُ۔وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۔يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ(القیامة:8تا11)پھر اس آیت بیان فرمودہ نشان چاند سورج کی رمضان کی معین تاریخوں کو بیان کرنے والے حضرت امام محمد باقر ہیں۔جو رسول اللہﷺ کے پڑنواسے اور اہل بیت رسولﷺ ہیں اور اہل تشیع کے مسلّمہ امام ہیں۔حضرت مرزا صاحب کے ساتھ ان پر بھی جھوٹ کی تہمت ایک ظالمانہ فعل ہے۔

ایک اہل حدیث عالم ہونے کے ناطے سے معترض کو کم ازکم اتنامعلوم ہونا چاہیےکہ اہل بیت رسول صداقت و دیانت،عدالت و ثقاہت اور تقویٰ کی وجہ سے ایسے بلند مقام پر فائز تھے کہان پر جھوٹ کے الزام کا تو کیا سوال خیر القرون کی پہلی صدی کے زمانہ میں کوئی شخص نہ تو ان سے سند طلب کرتا تھا اور نہ اس کی ضرورت سمجھی جاتی تھی۔چنانچہ علامہ عقیلی نے کتاب الضعفاء للکبیر میں لکھا ہے کہ چاندسورج گرہن کی پیشگوئی والی اس حدیث کے ایک راوی جابر جعفی کے بیان کے مطابق اس نے امام محمدباقرسے ستّر ہزار احادیث اخذ کیں جو نبی کریمﷺ تک مرفوع تھیں۔

اور خودحضرت امام محمد باقر سے جب ان کی بلا سند حدیث کے بارہ میں استفسار کیا گیاتو انہوں نے ہمیشہ کے لیے اپنی روایات کے متعلق یہ پختہ اصول بیان فرما دیا کہ میں جب کوئی حدیث بیان کرتا ہوں اور ساتھ اس کی سند بیان نہیں کرتا تو اس کی سند اس طرح ہوتی ہے کہ بیان کیامجھ سے میرے پدر بزرگوار(علی زین العابدین) نے اور ان سے میرے جدّ نامدار امام حسین علیہ السلام نے اور ان سے ان کے جدّ امجد جناب رسالت مآب ﷺ نے فرمایا اور آپﷺ سے حضرت جبرائیلؑ نے بیان کیا اور ان سے خداوند عالم نے ارشاد فرمایا۔

(کتاب الارشاد بحوالہ بحار الانوار از علامہ محمد باقر مجلسی مترجم جلد4 ص71)

علامہ ذہبی نےامام محمد باقر کے حالات میں لکھا ہے کہ آپ اپنے باپ اور دونوں دادا حضرت حسن اور حضرت حسین اور حضرت علیؓ سے مرسل روایات کرتے ہیں۔یعنی درمیانی واسطہ بیان کیے بغیر روایت کے عادی ہیں۔بایں ہمہ علامہ ذہبی نے حضرت امام باقرکو ثقہ،کثیر الحدیث تابعی کہا ہے۔’’

(تہذیب التہذیب جزء9 ص311)

علاوہ ازیں اس حدیث کو مشہور محدث حضرت امام دارقطنی نے بیان کیا جو ایسے اعلیٰ پایہ کے صاحب فن حدیث تھے جواہل بغداد کو اعلانیہ کہتے تھے: یا اھل بغداد لا تظنوا ان احدا یقدر ان یکذب علیٰ رسول اللہ وانا حی۔یاد رکھو جب تک دارقطنی تم میں زندہ موجود ہے اس وقت تک رسول اللہﷺ پر جھوٹ باندھنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔

(نخبۃ الفکر شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی ص56 حاشیہ)

حضرت امام محمد باقر کازمانہ کی وفات114ھ ہے۔گویاانہوں نے پہلی سے دوسری صدی تک کو بیان کیاپھر تیسری صدی کے آغاز میں امام دارقطنی ہوئے۔اس لیےحضرت مسیح موعودؑ نےعمومی طور پراپنے زمانہ چودہویں صدی میں یہ ذکر فرمایا کہ دیکھو یہ حدیث دیگر احادیث کے ساتھ دوسری صدی کےزمانہ تک سینہ بسینہ محفوظ چلی آئی اور تیسری صدی میں امام دارقطنی کے ذریعہ تحریری طور پر مدوّن بھی ہوگئی۔ان میں سے یہ حدیث دارقطنی ہے جس پر موٹے حساب کے لحاظ سے دوسری صدی سے چودہویں صدی تک 11 سو سال کا زمانہ کہاجاسکتاہے۔

زبانی اور صدری طور پر تیرہ سو سال اور اب تک ملنے والی تحریری شہادت دارقطنی کے مطابق ایک ہزار سے گیارہ سو سال قبل تک کنواری اور محفوظ چلی آئی اس وقت تک کہ مسیح موعودؑ کے وقت میں پوری ہو کر نشان بن گئی۔جسے ہر صدی میں محدثین مفسرین بیان کر کے مسیح موعود کا انتظار کرتے رہے۔

محدثین ومفسرین
1۔رئیس المحدثین یعقوب کلینی(متوفی:329ھ) الفروع من الجامع الکافی

2۔محدث اکبر ابو جعفر بابویہ القمّی(متوفیٰ:381ھ) اکمال الدین و اتمام النعمة فی اثبات الرجعہ

3۔مشہور محدث شیخ الاسلام حضرت امام علی بن عمر دارقطنی(متوفی:385ھ) سنن دارقطنی

4۔ مشہور مفسرعلامہ قرطبی(متوفیٰ:671ھ) التذکرہ فی احوال الموتیٰ و امور الآخرة

5۔ الامام العلامہ والبحرالفہامہ علی بن محمد بن احمد ابن صبّاغ(855ھ) الفصول المہمہ فی معرفة احوال الائمہ

6۔علامہ جلال الدین سیوطی(متوفیٰ:911ھ) الحاویٰ للفتاویٰ فی الفقہ و علم التفسیر والحدیث

7۔خاتمة الفقہاء والمحدثین علامہ ابن حجر(،توفی:974ھ) القول المختصر فی علامات المہدی المنتظر

8۔ مشہور شیعہ مفسر علامہ محمد بن المرتضیٰ فیض کاشانی(متوفیٰ:1100ھ) کتاب الصافی فی تفسیر القرآن

9۔علامہ المحقق الشریف محمد بن رسول الحسینی (متوفی:1103ھ) الاشاعہ لاشراط الساعہ

10۔شیعہ مجتہد علامہ باقرمجلسی (متوفی:1111ھ) بحار الانوار(فارسی) جلد 13

11۔ علامہ شیخ اسماعیل حقی(متوفیٰ:1137ھ) تفسیر روح البیان

12۔ علامہ شیخ محمد بن احمد انصار بنی الاثری الحنبلی(متوفیٰ:1188ھ) کتاب لوامع الانوار البہیّہ

13۔ علامہ شیخ محمد الصبان الشافعی(متوفیٰ:1206ھ) اسعاف الراغبین

14۔ مفتیٔ بغدادعلامہ سید محمود آلوسی(متوفیٰ:1270ھ) تفسیر روح المعانی

15۔الشیخ حسن العدوی الحمزاوی المصری(متوفیٰ:1303ھ) مشارق الانوار فی فوز اھل الاعتبار

16۔علامہ محمد صدیق حسن خان صاحب(متوفیٰ:1307ھ) الاذاعہ لماکان ومایکون بین یدی الساعہ

17۔علامہ شہاب الدین حمد بن احمد اسماعیل حلوانی(متوفیٰ:1308ھ) القطر الشہدی فی اوصاف المہدی

18۔حافظ محمد بن بارک اللہ لکھوکھے والے(متوفیٰ:1311ھ) احوال الآخرت مطبوعہ 1277ھ

19۔علامہ خیر الدین نعمان بن محمودبن عبد اللہ ابو البرکات الالوسی الحنفی(متوفیٰ:1317ھ)

غالیہ المواعظ ص77مطبوعہ مطبع امیریہ بولاق 1301ھ

20۔ابوالخیر نور الحسن خان اقتراب الساعة مطبوعہ1301ھ

21۔شاہ رفیع الدین محدث دہلوی قیامت نامہ

22۔حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی(متوفیٰ:1624ء) مکتوبات جلد2ص132

23۔علامہ عبد الحق حقانی دہلوی عقائد اسلام مطبوعہ 1292ھ

24۔شاہ نعمت اللہ ولی کا قصیدہ اربعین فی احوال المھدیین از شاہ اسماعیل شہید

یہ کل 24 محدثین و مفسرین کی کتب ہیں جو دستیاب ہیں جو ہمیں نہیں ملی اور ہزار سال میں ناپید ہوگئیں وہ اس کےعلاوہ ہیں۔

چند اور کتب یہ ہیں:

1۔ آخری گت مصنفہ مولوی محمد رمضان حنفی ، مجتبائی مطبوعہ 1278ھ

2۔حجج الکرامہ صفحہ 344 ، مولفہ نواب صدیق حسن خان صاحب۔

3۔عقائد الاسلام مصنفہ مولانا عبد الحق صاحب محدث دہلوی صفحہ 182 و 183 مطبوعہ 1292ھ۔

حافظ عبد العزیز پرہاڑوی لکھتے ہیں:

درسن غاشی ہجری دو قران خواہد بود

از پئے مہدی و دجال نشان خواہد بود

ایک بزرگ مفتی غلام رسول (متوفی 1307ھ) کا یہ شعر پنجاب میں زبان زدوعام رہا ہے۔

بہت قریب ظہور مہدی وی سمجھو نال یقینے

چن سورج دونو گرہ جاسن وچہ رمضان مہینے

چنانچہ پیشگوئیوں کے مطابق چاند گرہن کا یہ نشان 1894ء میں 21 مارچ کو بمطابق 13 رمضان المبارک اور 6 اپریل بمطابق 28 رمضان المبارک ہندوستان و عرب ممالک میں ظاہر ہوا۔اور اگلے سال 1895ء میں انہی تاریخوں میں امریکہ میں ظاہر ہوکر حجت بنا۔

پس بلاشبہ یہ حیرت انگیز نشان تیرہ صدیوں میں کبھی کسی مدعیٔ مہدویت کے حق میں ظاہر نہیں ہوا اور نہ کسی دعویدار نے اسے پیش کیا۔مگر حضرت مرزا صاحب کس شان اور تحدّی سے فرماتے ہیں:

‘‘ان تیرہ سو برسوں میں بہتیرے لوگوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا مگر کسی کے لیے یہ آسمانی نشان ظاہر نہ ہوا۔۔۔مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے میری تصدیق کے لیے آسمان پر یہ نشان ظاہر کیا ہے۔’’ (تحفہ گولڑویہ ص33 روحانی خزائن جلد17 ص142-143)

؂

آسماں میرے لیے تو نے بنایا اک گواہ

چاند سورج ہوئے میرے لیے تاریک و تار

خود ہمارا اہلحدیث خاندان اس پیشگوئی کا مرہون منت ہے کہ ہمارے آباء و اجداد علمائے اہلحدیث کو یہ سعادت ملی کہ اس نشان کو دیکھ کر مسیح وقت و مہدی دوراں کو قبول کرنے والوں میں ہوئے۔معترض کی طرح سوءظن کے نتیجہ میں منکر ہونے سے بچ گئے۔

Please follow and like us:
0