متفرق الزامات ۔ بعض پیشگوئیوں کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے ان کی اصلیت سمجھنے میں غلطی کھائی

اعتراض 39:۔
”بعض پیشگوئیوں کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے ان کی اصلیت سمجھنے میں غلطی کھائی۔”

(ازالہ اوہام صفحہ400جلد3صفحہ307)

قادیانیو! پڑھو ‘‘انّا للہ وانّا الیہ راجعون’’ جس نبی کی یہ شان اللہ نے بیان فرمائی ‘‘وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى۔ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (النجم3-4)’’ وہ پیشگوئیوں کو نہ سمجھ سکیں؟ عجیب ہی بات ہے۔یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے۔اس مضمون کی کوئی حدیث دکھا دو۔

جواب:۔
معترض نے اس جگہ نزول مسیح ابن مریم کے پُر معارف مضمون سے توجہ ہٹانے کے لیے اس کےایک ٹکڑے کولے کراعتراض کر ڈالا۔

1۔عَنْ أَبِی مُوسَی عَنِ النَّبِیِّ -صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ رَأَیْتُ فِی الْمَنَامِ أَنِّی أُھَاجِرُ مِنْ مَکَّۃَ إِلَی أَرْضٍ بِھَا نَخْلٌ فَذَھَبَ وَھْلِی إِلَی أَنَّھَا الْیَمَامَۃُ أَوْ ھَجَرُ فَإِذَا ھِیَ الْمَدِینَۃُ یَثْرِبُ۔ (مسلم، کتاب الرؤیا، باب رؤیا النبیؐ)

ترجمہ:حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف جا رہا ہوں جہاں کھجوریں ہیں میرے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ جگہ یمامہ یا ہجر ہے مگر وہ شہر یثرب تھا۔

2۔ صلح حدیبیہ کا واقعہ6ھ میں رسول اللہﷺ ایک رؤیا کی بنا پر 1400 صحابہ کو لے کر مدینہ عمرہ کے لیے نکلے۔جس کے بارہ میں قرآن میں ہے:

لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ فَتْحًا قَرِيبًا (الفتح:28)

مقام حدیبیہ پر روک لیے گئے اور اگلے سال عمرہ کا معاہدہ ہوا۔ کتنا بڑا دھچکہ حضرت عمرؓ جیسے صحابی کو لگا۔انہوں نےپوچھا:أَلَسْتَ نَبِيَّ اللَّهِ حَقًّا؟ کیا ہم حق پر نہیں؟ قَالَ: «بَلَى»پھر پوچھا: أَلَسْنَا عَلَى الحَقِّ، وَعَدُوُّنَا عَلَى البَاطِلِ؟ قَالَ: «بَلَى» ،پھر پوچھا: فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا إِذًا؟ قَالَ: «إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَلَسْتُ أَعْصِيهِ، وَهُوَ نَاصِرِي» پھر پوچھا: أَوَلَيْسَ كُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي البَيْتَ فَنَطُوفُ بِهِ؟قَالَ: «بَلَى، فَأَخْبَرْتُكَ أَنَّا نَأْتِيهِ العَامَ»، آپؓ نے فرمایا: لاَ، قَالَ: «فَإِنَّكَ آتِيهِ وَمُطَّوِّفٌ بِهِ»کیا آپ سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ نہ تھا کہ ہم طواف کریں گے؟ فرمایا: یہ کب کہا تھا کہ اس سال۔

(صحیح بخاری کتاب الشروط بَابُ الشُّرُوطِ فِي الجِهَادِ وَالمُصَالَحَةِ مَعَ أَهْلِ الحَرْبِ وَكِتَابَةِ الشُّرُوطِ)

حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ فرماتے ہیں:

اگر فرض کے طور پر یہ بھی مانؔ لیں کہ کوئی صحابہ میں سے یہی سمجھ بیٹھا تھا کہ ابن مریم سے ابن مریم ہی مراد ہے تو تب بھی کوئی نقص پیدانہیں ہوتا۔ کیونکہ پیشگوئیوں کے سمجھنے میں قبل اس کے جوپیشگوئی ظہور میں آوے بعض اوقات نبیوں نے بھی غلطی کھائی ہے پھر اگر کسی صحابی نے غلطی کھائی تو کون سے بڑے تعجب کی بات ہے۔ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فراست اورفہم تمام اُمت کی مجموعی فراست اور فہم سے زیادہ ہے بلکہ اگر ہمارے بھائی جلدی سے جوش میں نہ آجائیں تو میرا تو یہی مذہب ہے جس کو دلیل کے ساتھ پیش کرسکتا ہوں کہ تمام نبیوں کی فراست اور فہم آپ کی فہم اور فراست کے برابر نہیں۔مگر پھر بھی بعض پیشگوئیوں کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اقرار کیا ہے کہ میں نے اُن کی اصل حقیقت سمجھنے میں غلطی کھائی میں پہلے اس سے چند دفعہ لکھ چکا ہوں کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف طورپر فرما دیاتھا کہ میری وفات کے بعد میری بیبیوں میں سے پہلے وہ مجھ سے ملے گی جس کے ہاتھ لمبے ہوں گے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رُوبرو ہی بیبیوں نے باہم ہاتھ ناپنے شروع کردئے چونکہ آنحضرت صلیؔ اللہ علیہ وسلم کو بھی اس پیشگوئی کی اصل حقیقت سے خبر نہ تھی اس لئے منع نہ کیا کہ یہ خیال تمہارا غلط ہے۔ آخر اس غلطی کو پیشگوئی کے ظہور کے وقت نے نکالا۔ اگر زمانہ اُن بیبیوں امّہات المؤمنین کو مہلت دیتا اور وہ سب کی سب ہمارے اِس زمانہ تک زندہ رہتیں تو صاف ظاہر ہے کہ صحابہ کے عہد سے لے کر آج تک تمام اُمت کا اِسی بات پر اتفاق ہوجاتا کہ پہلے لمبے ہاتھ والی بی بی فوت ہوگی اورپھرظہور کے وقت جب کوئی اَور ہی بیوی پہلے فوت ہوجاتی جس کے اَوروں کی نسبت لمبے ہاتھ نہ ہوتے تو اس تمام اجماع کو کیسی خجالتیں اُٹھانی پڑتیں اورکس طرح ناحق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کراتے اوراپنے ایمان کو شبہات میں ڈالتے۔’’

(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ306-307)

Please follow and like us:
0