احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

تحریرات پر اعتراض, صداقت مسیح موعودؑ, متفرق اعتراضات

متفرق اعتراضات ۔ آنحضرتﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی تو آپﷺ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آئے گی

متفرق اعتراضات ۔ آنحضرتﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی تو آپﷺ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آئے گی

اعتراض:۔
‘‘ایک اور حدیث بھی مسیح ابن مریم کے فوت ہوجانے پر دلالت کرتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ آنحضرتﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی تو آپﷺ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آئے گی۔’’

(ازالہ اوہام ص252،خزائن، جلد3 227)

مرزا جی کا آپﷺ پر کھلم کھلا جھوٹ ہے کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی۔(ورنہ حوالہ پیش کریں)

جواب :۔
اصل عبارت

‘‘ایک اور حدیث بھی مسیح ابن مریم کے فوت ہوجانے پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرتﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی تو آپ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی اور یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ سو برس کے عرصہ سے کوئی شخص زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔اسی بناء پر اکثر علماء و فقرا اسی طرف گئے ہیں کہ خضر بھی فوت ہوگیا ہے۔کیونکہ مخبر صادق کے کلام میں کذب جائز نہیں مگر افسوس کہ ہمارے علماء نے اس قیامت سے بھی مسیح کوباہررکھ لیا۔’’

(ازالہ اوہام ص252 روحانی خزائن جلد3 ص227)

جواب

اس سوال کے نتیجہ میں معترض نے حضرت عیسیٰ کی وفات تسلیم کرنے کی بجائے حضرت مرزا صاحب پر ہی الزام تراشی نہیں کی ،خود رسول کریم ﷺ کی حدیث پاک کو جھٹلانے کی گستاخی کی ہے:

‘‘وقوله “لا يبقى ممن هو على ظهر الأرض أحد” يعني موجودًا اليوم، وقد ثبت هذا التقدير في رواية شُعيب عن الزُّهري عند المصنف في الصلاة، ولفظه هناك “لا يبقى ممن هو اليوم على ظهر الأرض أحد”، قال ابن عمر: يريد أنها تَخْرمُ ذلك القرن‘‘

(كوثَر المَعَاني الدَّرَارِي في كَشْفِ خَبَايا صَحِيحْ البُخَاري از محمَّد الخَضِر بن سيد عبد الله بن أحمد الجكني الشنقيطي (المتوفى: 1354هـ))

حضرت مرزا صاحب خدا تعالیٰ کے مامور ہیں اور ان کے فصیح و بلیغ کلام میں ہر پیدا ہونے والے اعتراض کا جواب موجود ہوتا ہے۔مگر یہاں پہلی بد دیانتی معترض نے یہ کی کہ اگلا فقرہ جس میں اس کے سوال کا جواب تھا،نقل نہیں کیاکہ اس قیامت سے مراد ایک قوم یا قرن کی قیامت ہے نہ کہ روز محشرکی آخری قیامت۔چنانچہ فرمایا:‘‘یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ سو برس کے عرصہ سے کوئی شخص زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔’’

دوسری بد دیانتی معترض کی یہ ہے کہ اگلا فقرہ جو مزید مفہوم واضح کرتا ہے وہ بھی نقل نہیں کیا گویا‘‘لا تقربوا الصلوة’’ کا معاملہ کیا‘‘وانتم سکاریٰ’’ نہیں پڑھا۔فرمایا:

‘‘اکثر علماء و فقرا اسی طرف گئے ہیں کہ خضر بھی فوت ہوگیا ہے۔کیونکہ مخبر صادق کے کلام میں کذب جائز نہیں مگر افسوس کہ ہمارے علماء نے اس قیامت سے بھی مسیح کوباہررکھ لیا۔’’

گویا اس حدیث پر نہ صرف علماء کا اتفاق ہے بلکہ وہ اس سے حضرت خضر کی وفات مانتے ہیں مگر افسوس کہ نہ جانے کیوں حضرت مسیح کی وفات کیوں نہیں مانتے۔علامہ ثناء اللہ پانی پتی صاحب اپنی ‘‘تفسیرمظہری’’ میں لکھتے ہیں:

‘‘(اکثر)علماءکا خیال ہے کہ خضر وفات پاچکے،اللہ نے فرمایا ہے وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد آپ سے پہلے ہم نے کسی انسان کو بقاء دوامی نہیں دی۔ایک رات عشاء کی نماز کے بعد رسول اللہؐ نے فرمایا مجھے تمہاری یہ رات دکھا دی گئی(یعنی خواب میں شب قدر دکھا دی گئی یا یہ رات جو سامنے ہے اس میں مجھے یہ بات دکھا دی گئی)اب سے (آئندہ) سو برس کی انتہاء تک ہر وہ شخص جو اس وقت روئے زمین پر زندہ ہے(مر جائے گا) زندہ نہیں رہے گا۔’’

(تفسیر مظہری جلد ہفتم ص260)

1۔جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ « تَسْأَلُونِى عَنِ السَّاعَةِ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَأْتِى عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ ».

(صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابة باب قَوْلِهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَأْتِى مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ ».)

ترجمہ: حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو آپ کی وفات سے ایک ماہ پہلے فرماتے ہوئے سنا : تم مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہوتو اس کا (حقیقی) علم اللہ کے پاس ہے۔میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ سوسال نہیں گزرے گا کہ آج کے زندوں میں سے کوئی زندہ جان باقی نہ ہوگی۔

چنانچہ عبد الحق صاحب محدث دہلوی نے شرح مشکوة مظاہر حق میں لکھا ہے کہ ‘‘یہ وسطی قیامت ہے۔جس طرح ہر شخص کی ایک فردی قیامت ہوتی ہے۔یہ قوم یا قرن کی قیامت ہے کہ سو سال بعد اس وقت موجود لوگوں میں سے کوئی روئے زمین پر نہ رہے گا گویا اس کی قیامت آجائے گی۔’’ (مظاہر الحق شرح مشکوة المصابیح جلد 4 ص381 ادارہ نشریات اسلام لاہور بحوالہ مسیح و مہدی رسول اللہ کی نظر میں)

2۔أن عبد الله بن عمر قال صلى النبي صلى الله عليه و سلم صلاة العشاء في آخر حياته فلما سلم قام النبي صلى الله عليه و سلم فقال ( أرأيتكم ليلتكم هذه فإن رأس مائة لا يبقى ممن هو اليوم على ظهر الأرض أحد ) . فوهل الناس في مقالة رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى ما يتحدثون من هذه الأحاديث عن مائة سنة وإنما قال النبي صلى الله عليه و سلم ( لا يبقى ممن هو اليوم على ظهر الأرض ) . يريد بذلك أنها تخرم ذلك القرن

(بخاری کتاب مواقیت الصلوة باب السمر في الفقه والخير بعد العشاء )

علامہ ابن حجر بخاری کی شرح ‘‘فتح الباری’’میں لکھتے ہیں:

في رواية الكشميهني من هذه قوله عن مائة سنة لأن بعضهم كان يقول إن الساعة تقوم عند تقضى مائة سنة كما روى ذلك الطبراني وغيره من حديث أبي مسعود البدري ورد ذلك عليه على بن أبي طالب وقد بين بن عمر في هذا الحديث مراد النبي صلى الله عليه و سلم وأن مراده أن عند انقضاء مائة سنة من مقالته تلك ينخرم ذلك القرن فلا يبقى أحد ممن كان موجودا حال تلك المقالة وكذلك وقع بالاستقراء فكان آخر من ضبط أمره ممن كان موجودا حينئذ أبو الطفيل عامر بن واثلة وقد أجمع أهل الحديث على أنه كان آخر الصحابة موتا وغاية ما قيل فيه إنه بقي إلى سنة عشر ومائة وهي رأس مائة سنة من مقالة النبي صلى الله عليه و سلم والله أعلم قال النووي وغيره احتج البخاري

(فتح الباری لابن حجر جزء 2 ص75)

3۔عن سالم وأبي بكر سليمان بن أبي حثمة أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ صَلَّى بِنَا النبی -صلى الله عليه وسلم- الْعِشَاءِ فِى آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ :أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ

(بخاری کتاب العلم باب السمر فی العلم+صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابة باب قَوْلِهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَأْتِى مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ)

علامہ نووی مسلم کی اس حدیث کی شرح میں ابن عمر کا قول درج کرتے ہیں کہ

(أريتكم لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظهر الارض أحد قال بن عُمَرَ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبْقَىمِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِكَ الْقَرْنُ)

(شرح النووی علی مسلم جزء16 ص89)

ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک رات ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی۔جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: میں تمہاری اس رات کو دیکھتا ہوں۔سو سال گزرنے پر زمین پر موجود لوگوں میں سے کوئی باقی زندہ نہ ہو۔

4۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ « مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ الْيَوْمَ تَأْتِى عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهْىَ حَيَّةٌ يَوْمَئِذٍ(صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابة باب قَوْلِهِ -صلى الله عليه وسلم- لاَ تَأْتِى مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ)

یہی احادیث سنن ترمذی کتاب الفتن، سنن ابو داؤد کتاب الملاحم باب قیام الساعة اور مسند احمد میں بھی آئی ہیں۔ اسی طرح علامہ طبرانی نے بھی اپنی کتاب المعجم الصغیر میں اس حدیث کا ذکر فرمایا ہے۔

اس کے علاوہ مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب لکھتے ہیں:

‘‘آنحضرتﷺ فداہ امی و ابی نے فوت ہوتے وقت فرمایا تھا کہ جو جاندار زمین پر ہیں،آج سے سو سال تک کوئی بھی زندہ نہ رہے گا۔’’

(تفسیر ثنائی جلد دوم ص105)

Please follow and like us:
error0

Theme by Anders Norén

%d bloggers like this: