متفرق اعتراضات ۔ بعض کتب میں زبان فارسی میں یہ حدیث لکھی ہے ایں مشت خاک را گر نہ بخشم چہ کنم

اعتراض 35:۔
‘‘بعض کتب میں زبان فارسی میں یہ حدیث لکھی ہے ایں مشت خاک را گر نہ بخشم چہ کنم۔’’

( حقیقۃ الوحی ۔روحانی خزائن جلد 22صفحہ196)

”کیا فارسی زبان میں بھی کوئی حدیثیں ہیں۔”

جواب:۔
یہ سوال دراصل ملائیت زدہ تنگ نظری کی پیداوارہے۔معترض کے اس تعجب پر حیرت ہے کہ اہل حدیث ہوکر اسے اتنا بھی علم نہیں کہ فارسی زبان میں بھی کوئی حدیث ہے یا نہیں۔حدیث کاعلم نہ سہی ،اگر قرآن کا بھی مطالعہ ہوتا تو وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ(إبراهيم: 5) سےظاہرہے کہ ہر نبی کی حدیثیں اس کی قومی زبان میں تھیں۔اور اگر حضرت آدمؑ وادریسؑ کی احادیث سریانی میں،حضرت موسیٰؑ اور ہارونؑ کی عبرانی میں اورحضرت عیسیٰ ؑکی آرامی میں ہوسکتی ہیں توملک فارس کے نبی حضرت زرتشتؑ کی حدیثیں فارسی میں کیوں نہیں ہوسکتیں۔

بلکہ خود ہمارے آقا ومولا جوكَافَّةً لِلنَّاسِ کے لیے رسول تھے۔ان کو اگر مذکورہ بالا حدیث قدسی فارسی میں الہام ہوئی تو اس میں کیاجائے اعتراض ہے۔وہ علیم و خبیر خدا جواس نبی امی کو قرآن کی علم و حکمت سکھانے پر قادر ہے۔کیاوہ آپ کو فارسی میں الہام نہیں کر سکتاتھا؟جس نے اقرأ کہہ کے قرآن سکھایاوہ توفارسی زبان سکھا نے پر بھی قادر تھا۔اور رسول اللہﷺ جنہوں نے آخری زمانے میں اہل فارس کے ذریعہ اسلام کے احیائے نو خبر دی خودآپ سے فارسی میں کلام ثابت ہے جسےامام بخاری نے اپنی صحیح میں کتاب الجھاد میں‘‘ مَنْ تَكَلَّمَ بِالفَارِسِيَّةِ’’کاباب باندھا جس میں حضرت ابو ہریرةؓ کی یہ روایت بیان کی ہے کہ حضرت حسنؓ نے صدقہ کی کھجور منہ میں ڈال لی تو رسول اللہﷺ نے فارسی میں فرمایا:«كخ كخ»یعنی تھوکر دو،تھوک دو۔

فارسی لغات میں کخِ کے معنےکسی چیز کو پھینک دینے کے لکھے ہیں۔

دوسری حدیث حضرت ابوہریرةؓ نےیہ بیان کی ہے۔جو صحاح ستہ کی ایک اورکتاب ابن ماجہ میں ہے کہ ایک دن رسول اللہﷺظہر کی نماز کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایااشِكَمَتْ دَرْدْ؟راوی کہتے ہیں یعنی فارسی میں فرمایا کہ کیا تمہارے پیٹ میں درد ہے۔عرض کیا:جی حضورﷺ۔فرمایا نماز پڑھو اس میں شفا ہے۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الطب بَابُ الصَّلَاةُ شِفَاءٌ حدیث 3458)

ابو عبد اللہ امام ابن ماجہ کہتے ہیں کہ فارسی کی حدیث جب ایک شخص نے اپنے گھر والوں کو جاکر سنائی تو وہ اسےمارنے کو چڑھ دوڑے کہ کیا فارسی میں بھی کوئی حدیث ہوتی ہے۔یہی حال ہمارےمعترض کا ہے جواپنی تنگ نظری میں فارسی کی یہ حدیث قدسی سن کر تعجب کا اظہار کرکے ایک طرف خدا تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے پرمعترض ہےاور دوسری طرف رسول اللہﷺ کے صاحب علم و فضل ہونے پر اعتراض کرکے اپنی علمی حیثیت کو خودظاہر کرتا ہے۔

اب آئیے رسول اللہﷺ کی بیان فرمودہ اس حدیث قدسی کی طرف جس کا حوالہ حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ نے دیا ہے کہ

ایں مشت خاک را گر نہ بخشم چہ کنم

یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ‘‘اگر میں خاک کے اس پتلے(انسان) کو نہ بخشوں تواور کیا کروں۔’’

اب اس حدیث قدسی کا مضمون تو اللہ تعالٰی کی صفت رحمت و مغفرت کی وہ زبردست شان بیان کرتاہے۔جس پر سب سے پہلے خود قرآن شریف گواہ ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں منافقوں کا ذکرفرماکے کہ ان کا درجہ آگ میں کافروں سے بھی بدتر ہے ان کی بھی توبہ کی قبولیت کا ذکر کرتے ہوئے انہیں مخاطب کرکے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:مَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ (النساء:148)

اللہ تعالیٰ آخر تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔

یہی مضمون اس حدیث قدسی کا ہے اور پھر جیسا کہ اولیائے امت اور متصوفین نے صاحب الہام کی تصحیح حدیث کو قبول فرمارہے ہیں حضرت بانی جماعت احمدیہ مسیح موعود و مہدی سے بڑھ کر اس کی صحت کا اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے۔اور جہاں تک اس حدیث قدسی کے فارسی کےحوالوں کا تعلق ہے وہ ملاحظہ فرمائیں:

1۔حافظ عبد العزیز پرھاڑوی نے اپنی کتاب ‘‘ کوثر النبی فی علم اصول الحدیث’’کے صفحہ 555میں لکھا ہے:

‘‘چکنم بہ ایں گناہ گاران کہ نیامرزم’’

اور اس کے حاشیہ میں ایک بزرگ عالم لکھتے ہیں کہ

‘‘میں نے کہیں یہ بھی پڑھاہے:ایں مشت خاک را گر نہ بخشم چہ کنم’’

2۔ جمال الدین حسین انجوی نے فرہنگ جہانگیری جو 1017ھ میں مکمل ہوئی، میں لکھا ہے کہ

‘‘در تفسیر دیلمی مسطور است کہ سأل رسول اللہ عن میکائیل ھل یقول اللہ شیئا بفارسی قال نعم یقول اللہ تعالیٰ جل جلالہ چون کنم با این مشت ستمگار جزاینکہ بیا مرزم۔’’

(فرہنگ جہانگیری جلد دوم صفحہ10)

3۔ سید محمد علی داعی الاسلام اپنی ‘‘فرہنگ نظام’’(سن اشاعت 1346ھ تا1358ھ) کے صفحہ148 پریہی عبارت لکھتے ہیں:

‘‘در تفسیر دیلمی مسطور است کہ سئل رسول اللہ عن میکائیل ھل یقول اللہ شیئا بالفارسیة قال نعم یقول اللہ تعالیٰ جل جلالہ چون کنم با این مشت ستمگار جزاینکہ بیا مرزم۔’’

(فرہنگ نظام جلد پنجم ص148)

Please follow and like us:
0