متفرق اعتراضات ۔ جہنم کے عارضی ہونے پر قرآن کی آیت الّا ماشاء ربک سے استدلال پر اعتراض

اعتراض 34:۔
ایک دوسرا اعتراض جو اعتراض نمبر 33 کا ہی ما حصل ہے۔جس میں لکھتے ہیں: ‘‘مرزا نے کس قدر قرآن مجید پر جھوٹ بولاہے۔حالانکہ پارہ نمبر12 سورۂ ہود آیت108-109 میں بہشتیوں اور دوزخیوں دونوں کے حق میں الّا ماشاء ربک موجود ہے۔لیکن مرزا جی کہتے ہیں (الا ما شاء ربک)صرف دوزخیوں کے لیے ہے،بہشتیوں کے لیے نہیں۔’’

جواب:۔
اہل حدیث معترض نے اپنے اعتراضوں کے نمبر بڑھانے اور 40 کا عدد پورا کرنے کے لیے پہلے جہنم کے عارضی ہونے کے متعلق ایک حدیث کے حوالہ پر اعتراض کرتے ہوئے اسے بھی جھوٹ قرار دیا ہے اور پھر حضرت مرزا صاحب کی پیش کردہ سورة ہود کی آیت الّا ما شاء ربک ان ربک فعال لما یرید جو جہنم کو عارضی قرار دیتی ہے پر اعتراض کیا ہے۔معترض سوالوں کی ترتیب سے بھی ظاہر ہے۔غیر مقلّد حدیث کو قرآن پر قاضی قرار دیتے ہوئے اسے قرآن پر مقدّم کرتے ہیں۔اس لیے پہلے حدیث پر اعتراض کیا ہے پھر قرآن پر۔

جیسا کہ ذکرہوچکا ان دونوں اعتراضات میں دراصل بنیادی طور پر معترض نے جہنم کےعارضی ہونے پر اعتراض کیا ہے۔

اعتراض نمبر34یہ ہے کہ ‘‘پارہ نمبر12 سورۂ ہود آیت108-109 میں بہشتیوں اور دوزخیوں دونوں کے حق میں الّا ماشاء ربک موجود ہے۔لیکن مرزا جی کہتے ہیں (الا ما شاء ربک) صرف دوزخیوں کے لیے ہے،بہشتیوں کے لیے نہیں۔’’گویا معترض کے نزدیک جنت و جہنم دونوں دائمی ہیں۔

معترض نے دیانت سے کام نہ لیتے ہوئے وہ فرق واضح نہیں کیا جوقرآن شریف میں الا ماشاء ربک کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کر کے واضح کیا گیا ہے۔جہنم کے ذکر میں الّا ما شاء ربک کے ساتھ انّ ربک فعال لما یرید کی صفت آئی ہے یعنی دوزخیوں سے خدا جو سلوک چاہے گا کرے گا۔اور دوسری جگہ خود اللہ تعالیٰ نےوضاحت فرما دی کہ کیا کرے گا۔فرمایا: وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ

(الاعراف:157)

یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت و قدرت تو ہر چیز پر حاوی ہے جیسے انّ اللہ علیٰ کلّ شئی قدیر سےظاہر ہے۔اللہ کی مشیت بھی بعض دوسری صفات الہیہ کے ساتھ مل کر ایک نہایت خوبصورت امتزاج اور Combinationپیدا کرتی ہے۔چنانچہ جہاں جنت و جہنم دونوں کے ساتھ مشیت کی اصولی شرط کےساتھ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ(الاعراف:157) بھی فرمادیا۔کہ میری رحمت ہر شیٔ پروسیع ہے۔

سورة ہود کی آیت108کے چند آیات بعدإِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (ہود:120)فرماکر اپنی مشیئت کا ذکر کردیا۔اس کی مشیت اور رحمت ہی سلوک کرے گی کیونکہ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ اسی رحم کے جلوے دکھانے کے لیے تو پیدا کیا۔نیز فرمایا: كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ(الانعام:55) کہ تمہارے رب نے اپنی ذات پر رحمت فرض کرلی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ علامہ بغوی جہنم کے عارضی ہونے کو اس آیت‘‘الّا ما شاء ربّک’’(سورة ہود108)کے تحت لے کر آئے ہیں۔گویا انہوں نے بھی جہنم کے عارضی ہونے کی حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ کی تفسیر کو دراصل آنحضورﷺ کی تفسیر قرار دیا اور اس کی تائید میں یہ درج تھا۔پھرإِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ میں رب کا لفظ رکھ دیا جوربوبیت اور تربیت کی طرف اشارہ ہے کہ جہنم میٍں ڈالا جانا بطور علاج کے ہوگا اور جس اور جیسے جتنے عرصہ میں علاج ہوگا تو اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے گا اپنی رحمت کا سلوک کرے گا۔چنانچہ ہمارے اہل حدیث معترض کووہ حدیث تو معلوم ہی ہوگی۔جس میں آخری جہنمی کے جہنم سے نکالے جانے اور جنت میں جانے کا ذکر ہے:

‘‘وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ‘‘يَبْقَى رَجُلٌ بَيْنَ الجَنَّةِ وَالنَّارِ، آخِرُ أَهْلِ النَّارِ دُخُولًا الجَنَّةَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ، لاَ وَعِزَّتِكَ لاَ أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا

(صحیح بخاری کتاب التوحید بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَهُوَ العَزِيزُ الحَكِيمُ} [إبراهيم: 4]، {سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ العِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ} [الصافات: 180]، {وَلِلَّهِ العِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ} [المنافقون: 8]، وَمَنْ حَلَفَ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَصِفَاتِهِ)

اور دوسری جگہ جہاں جنت کے ساتھ الّا ماشاء ربّک بھی اللہ کی مشیت کا ذکر آیا ہے۔وہاں اللہ تعالیٰ کی صفت ‘‘عطاء’’کاذکرہے جسے غیر مجذوذ سے مشروط کر دیا یعنی کہ وہ غیر منقطع،نہ ختم ہونیوالی ابدی اور دائمی ہے۔پس اس پہلو سےسوال دونوں آیات میں محض الّا ما شاء ربک کے استثناء ہونے کا نہیں ہے۔بلکہ ان کے ساتھ آیت کے اگلے ٹکڑے میں صفات الٰہیہ سے وضاحت کا ہے۔

حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ بجا طورپرفرماتے ہیں:

‘‘دنیا کی تمام قومیں اس بات پر اتفاق رکھتی ہیں کہ آنے والی بلائیں خواہ وہ پیشگوئی کے رنگ میں ظاہر کی جائیں اور خواہ صرف خدا تعالیٰ کے ارادہ میں مخفی ہوں وہ صدقہ خیرات اور توبہ و استغفار سے ٹل سکتی ہیں تبھی تو لوگ مصیبت کے وقت میں صدقہ خیرات دیا کرتے ہیں ورنہ بے فائدہ کام کون کرتا ہے۔ اور تمام نبیوں کا اس پر اتفاق ہے کہ صدقہ، خیرات اور توبہ و استغفار سے ردّ بلا ہوتا ہے اور میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ بسا اوقات خدا تعالیٰ میری نسبت یا میری اولاد کی نسبت یا میرے کسی دوست کی نسبت ایک آنے والی بلا کی خبر دیتا ہے اور جب اس کے دفع کے لئے دعا کی جاتی ہے تو پھر دوسرا الہام ہوتا ہے کہ ہم نے اس بلا کو دفع کر دیا۔ پس اگر اس طرح پر وعید کی پیشگوئی ضروری الوقوع ہے تو میں بیسیوں دفعہ جھوٹا بن سکتا ہوں اور اگر ہمارے مخالفوں اور بداندیشوں کو اس قسم کی تکذیب کا شوق ہے اگر چاہیں تو میں اس قسم کی کئی پیشگوئیاں اور پھر ان کی منسوخی کی ان کو اطلاع دیدیا کروں۔ ہماری اسلامی تفسیروں میں اور نیز بائیبل میں بھی لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کی نسبت وقتؔ کے نبی نے پیشگوئی کی تھی کہ اُس کی عمر پندرہ دن رہ گئی ہے مگر وہ بادشاہ تمام رات روتا رہا تب اُس نبی کو دوبارہ الہام ہوا کہ ہم نے پندرہ دن کو پندرہ سال کے ساتھ بدل دیا ہے۔ یہ قصہ جیسا کہ میں نے لکھا ہے ہماری کتابوں اور یہود اور نصاریٰ کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب کیا تم یہ کہو گے کہ وہ نبی جس نے بادشاہ کی عمر کے بارے میں صرف پندرہ دن بتلائے تھے اور پندرہ دن کے بعد موت بتلائی تھی وہ اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلا۔ یہ خدا تعالیٰ کی رحمت ہے کہ وعید کی پیشگوئیوں میں منسوخی کا سلسلہ اس کی طرف سے جاری ہے یہاں تک کہ جو جہنم میں ہمیشہ رہنے کا وعید قرآن شریف میں کافروں کے لئے ہے وہاں بھی یہ آیت موجود ہےإِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (ھود:108) یعنی کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے لیکن اگر تیرا رب چاہے کیونکہ جو کچھ وہ چاہتا ہے اُس کے کرنے پر وہ قادر ہے لیکن بہشتیوں کے لئے ایسا نہیں فرمایا کیونکہ وہ وعدہ ہے وعید نہیں ہے۔’’

(حقیقۃالوحی ۔روحانی خزائن جلد22صفحہ196)

پس حضرت مرزا صاحب کا یہ فرمانا کہ جہنم کو دائمی کہنے کے باوجود ‘‘إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ’’کہہ کے عارضی قرار دے دیا ،اس میں سورةہود کی اس پوری آیت کی طرف اشارہ ہے۔جس میں ‘‘إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ’’ کا ٹکڑا بھی موجود ہے۔جس کے معنے و مفہوم کومعترض نے چھوڑ کردیانت سے کام نہیں لیا۔

Please follow and like us:
0