متفرق اعتراضات ۔ مدینہ اور مکہ کے درمیان ریل قرآن کی پیشگوئی وَلَیُتْرَکَنَّ الْقِلَاصُ کا پورا ہونا ہے

اعتراض 31:۔
‘‘آسمان نےبھی میرے لیے گواہی دی اور زمین نے بھی، مگر دنیا کے اکثر لوگوں نے مجھے قبول نہ کیا۔ میں وہی ہوں جس کے وقت میں اونٹ بے کار ہوگئے اور‘‘پیشگوئی آیت کریمہ ‘‘وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ’’ پوری ہوئی۔ اور پیشگوئی ‘‘وَلَیُتْرَکَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا یُسْعٰی عَلَیْھَا’’نے پوری پوری چمک دکھلا دی۔ یہاں تک کہ عرب وعجم کے ایڈیٹران اخبار اور جرائد والے بھی اپنے پرچوں میں بول اٹھے کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل تیار ہو رہی ہے یہی اس کی ‘‘پیشگوئی کااظہارہے، جو قرآن اور حدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔’’

(اعجاز احمدی ۔خزائن جلد 19 صفحہ 108)

مرزائیو! تمہارے مرزا جی کرشن نے مکہ اور مدینہ کے درمیان ریل تیار ہونے کو اپنے مسیح موعود ہونے کا نشان بتایاتھا۔اور اس ریل کے تیار ہونے کی مدت تین سال بتائی تھی۔لیکن ایک سو سال ہونے کو ہیں کہ مرزا جی فوت ہو گئے۔لیکن ابھی تک مکہ اور مدینہ کے درمیان ریل تیار نہیں ہو سکی۔

مرزا جی نے جھوٹ بولا تھا کہ یہ میرا نشان مسیح موعود ہے۔کیا مکہ اور مدینہ کے درمیان ریل تیار ہوگئی ہے؟ کیا مرزا جی کا یہ نشان پورا ہوگیا ہے؟نہیں اور یقیناً نہیں۔اس لیے کہ کرشن مرزا جی جھوٹے اور کذّاب ہیں۔

جواب:۔
معترض نے یہاں حضرت مرزا صاحب کی ایک پیشگوئی کو غلط ثابت کرنے کی خاطر قرآن شریف اور حدیث کی عظیم الشان پیشگوئی کا انکار کیا ہے۔ایک ایسی پیشگوئی جو تاریخ انسانی اور اس کے ارتقاء پر زبردست روشنی اور گہرے اثرات مرتب کرنے والی ہے۔

امر واقعہ یہ ہے کہ انسان کی ضرورت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اونٹ،گھوڑے اور گدھے سواری اور زینت کی خاطر پیدا کیے جس کا ذکرسورة نحل آیت9 میں ہے:وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (نحل:9) اور اس میں1400سال قبل پیشگوئی فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ابھی ایسی سواریاں پیدا فرمائیگاجن کا اس وقت تمہیں علم نہیں۔قرآن کریم میں تصریف آیات کے ساتھ اس کے بعض حصے بعض کی تفسیرکرتے ہیں۔

‘‘وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ’’میں بھی اسی پیشگوئی کی تفصیل ہے کہ نئی تیز رفتار سواریوں اور ایجادات کے بعد اونتنیاں بےکار ہوکر رہ جائیں گی۔اونٹ جو صحرائےعرب کا جہاز سمجھا جاتا ہے اس کامتروک ہونا ایک بڑی خبر تھی جو پوری ہوئی اور زمانہ میں Animal Transport سےMechanical Transportکی طرف ایک انقلاب عظیم رونما ہوا۔موٹر کار،ٹرین،جہازوغیرہ کی ایجادسےیہ پیشگوئی بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی۔

مگراس میں اہم ترین بات یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے اس پیشگوئی کو مسیح موعود کے ظہور کے ساتھ باندھ دیا تھا۔چنانچہ صحیح مسلم کے مطابق جہاں آپﷺ نے مسیح موعود کی جزوی علامات اور اس کے کام بتائے۔ وہاں اس کے زمانہ کی یہ علامت بیان فرمائی:

وَلَیُتْرَکَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا یُسْعٰی عَلَیْھَا

جو دراصل سورة تکویرکی آیت وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ کی تفسیر رسول ہےکہ جب اونٹ کی پسندیدہ سواری بھی متروک ہوجائے گی جو مسیح موعود کے زمانہ میں پوری ہوئی۔؂

اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہو خوف کردگار

مگر اس پیشگوئی کے پورا ہونے کی شان اور عظمت ملاحظہ کرنے کے لیے سورہ تکویر میں 1400سال قبل بیان فرمودہ باقی نشانیوں کے چودہویں صدی میں پورا ہوجانے کا حیرت ناک منظر دیکھ کر انسان بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ روشن نشانات کا ایک سورج طلوع ہوگیا ہے۔سورة تکویر میں إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ میں مسیح موعود کے زمانہ میں سورج و چاند گرہن کی طرف اشارہ تھا اور یہ پیشگوئی 1311ھ میں پوری ہوگئی۔

پھر سورة تکویر میں دوسری نشانی وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ میں بیان کی گئی تھی کہ جانوروں کو اکٹھا کر کے ان کے چڑیا گھر بنائے جائیں گے جو پوری ہوئی۔

تیسری نشانی وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ یعنی کثرت سے نہروں کے جاری ہونےسےظاہر ہوتا ہے پس اس میں کیا شک ہے کہ اس زمانہ میں دریا خشک ہونےلگے۔( نہر پانامہ نےبحر اوقیانوس اوربحر الکاہل کوملایاتو نہر سویز نےبحیرہ روم کوبحیرہ قلزم سے ملایا۔)

چوتھی علامت وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ قوموں اور ملکوں کے باہمی تعلقات کا بڑھنا اوررسل و رسائل سے ملاقاتوں کاآسان ہو جانا ہےجیسا کہ آیت سے ظاہر ہے۔(ذرائع مواصلات اور رسل و رسائل اور تیزرفتار سواریوں کی ایجاد سےتمام دنیا کے آپس میں میل ملاپ کی پیشگوئی اس زمانہ میں پوری ہوئی۔)

پانچویں علامت وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ عورتوں کے حقوق کے لیے آوازیں اور تحریکیں اٹھنے کی پیشگوئی بھی پوری ہوگئی۔

چھٹی علامت وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ کتابوں اور نوشتوں کا بکثرت شائع ہونا جیسا کہ پریس اور چھاپہ خانوں کے نتیجہ میں کتب و رسائل کی اشاعت کے ذریعہ بھی نشانی پوری ہوئی۔

ساتویں علامت وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ علم ہیئت کی غیر معمولی ترقی کے نتیجہ میں یہ نشانی بھی پوری ہوئی۔

آٹھویں علامت وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ مسیح موعود کے ضلالت و گمراہی کے زمانے کی یہ وہ جھلک ہے جو دراصل مسیح موعود کی ضرورتکی دلیل ہے۔

نویں علامت وَإِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ جب جنت قریب کردی جائے گی کیونکہ مسیح موعود نے آکر مسلم کی حدیث کے مطابق یحدثھم بدرجاتھم فی الجنة کے مطابق ایک جنتی نظام،نظام وصیت کی طرف دعوت دینی تھی،سو ایسا ہی ظہور میں آیا۔

حضرت مرزا صاحب مدعی مسیح و مہدی کے زمانہ میں یہ پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی۔جس کا ذکر آپ نے اپنی کتب میں فرمایا ہے۔اعجاز احمدی کی اشاعت1906ءکے وقت بھی یہ سواریاں خصوصاً ٹرین اور موٹرکار وغیرہ ایجاد ہوچکی تھیں۔اور اونٹ متروک ہوچکے تھے جسے آپؑ نے نشان کے طورپر پیش فرمایا اور ضمناً یہ بھی ذکر کیا کہ اب تو اسلام کے مراکز مکہ و مدینہ میں بھی ریل آنیوالی ہے۔یہ بات کسی پیشگوئی یا الہام کی بناء پر نہ تھی بلکہ اخبارات میں شائع ہونیوالی خبروں کی روشنی میں تھی ۔اور جزوی طور پر مدینہ کی حد تک تو پوری ہوہی چکی ہے۔تاریخ مدینہ میں لکھا ہے: ترکوں نے (عبد الحمید ثانی کے دور میں )دمشق سے مدینہ منورہ تک ریلوے لائن بچھائی جس کا باہر کی دنیا خصوصاً استنبول سے رابطہ تھا۔ریلوے لائن تعمیر 1908ء میں مکمل ہوئی۔ منصوبہ کے مطابق ریلوے لائن کو مکہ،مدینہ اور پھر یمن سے ملایا جانا تھا۔نو سال تک اس ریلوے لائن پر دمشق سے حجاج کرام آتے رہے۔جن میں شام، اردن، فلسطین، عراق اور ترکی کے حجاج کرام شامل تھے۔ترکی کے راستے یورپ سے رابطہ تھا۔مدینہ شریف میں اس وقت تجارت عروج پر تھی۔1917ء کا تحریک بیداریٔ عرب کا انقلاب آیا جوکہ پہلی جنگ عظیم کے حصہ کے طور پر نمودار ہوا۔جس میں شریف مکہ حسین بن علی نے لارنس آف عربیہ کے ساتھ مل کر سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کی اوراس میں عنبریہ ریلوے سٹیشن مدینہ منورہ بھی تباہ کردیا گیا۔یہ ریلوے لائن دمشق سے مدینہ شریف تک تیرہ سو تیرہ کلومیٹر لمبی تھی۔

باقی اگر اس وقت مکہ تک ٹرین کی لائن میں جنگ عظیم کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوگئی تو کیا ہوا۔ اس سے اونٹوں کے متروک ہونے کی قرآنی پیشگوئی پورا ہونے میں کوئی فرق نہیں آیا۔اس کی شان اسی طرح قائم رہی۔

اگر پیشگوئی یہ ہوتی کہ مسیح موعود کے وقت مکہ و مدینہ میں ٹرین آئیگی تو معترض کاسوال بجا تھا۔مگر پیشگوئی تو اونٹوں کے بےکار ہونے کی تھی جو عمومی رنگ میں پوری ہوگئی۔مکہ کی خصوصیت ایک زائد بات تھی۔تاہم اگر معترض کے آباء و اجداد نے اس وجہ سے مرزا صاحب کا انکار کیا تھا تو آج اسےتو ماننا ہی پڑے گا کیونکہ اب واقعی ٹرین مکہ و مدینہ میں بھی آرہی ہے۔

سو سال ہوگئےمسیح و مہدی کے بعد اسکی خلافت کا نظام موجودہے۔دوسری طرفپیشگوئی کے مطابق سو سال سے ساری دنیا میں کیاآسٹریلیا، کیاامریکہ،کیا ایشیاو افریقہ اورکیاعرب، اونٹ متروک ہوگئے اور نئی سواریاں ایجادہوگئیں۔تو مکہ میں ٹرین نہ آنے کے اعتراض کی کوئی حقیقت نہیں رہتی لیکن اگرواقعی معترض کو مکہ اور مدینہ میں ٹرین کے آنے کاہی انتظار تھا تب اس نے مسیح موعود کو ماننا تھا تو اب وہ وقت آچکا ہے اور مکہ و مدینہ کے درمیان ہائی سپیڈٹرین کی پٹڑی بچھ چکی ہے،کرائے نامے شائع ہوچکے ہیں۔(قدرت اخبار 19 اکتوبر2015ء) ریلوے آرگنائزیشن کے صدر محمد السوائکت کے مطابق ریل منصوبوں کو آگے بڑھانے اور مسافروں کو زیادہ سے زیادہ سہولت دینے کے لیےسعودی عرب کی حکومت نے مکہ معظمہ اور ساحلی و اہم تجارتی شہر جدہ کے درمیان سات تیز رفتار ریل گاڑیاں چلانے کا منصوبہ بنایا ہے اور یہ ریل گاڑیاں ایک گھنٹے میں مکہ سے جدہ تک کا سفر طے کریں گی۔

سعودی عرب کی میڈیا کے مطابق مکہ کو مدینہ منورہ اور دوسرے شہروں کے ساتھ بھی ریلوے کے تیز رفتار نظام سے منسلک کر دیا جائے گا۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان دو ریل گاڑیاں چلانے کا منصوبہ ہے جب کہ مکہ اور ربیغ کے درمیان چار ریل گاڑیاں چلائی جائیں گی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سچ ہی تو فرمایا تھا:

‘‘اور اونٹوں کے چھوڑے جانےاور نئی سواری کا استعمال اگرچہ بلاداسلامیہ میں قریباً سو برس سے عمل میں آرہا ہے لیکن یہ پیشگوئی اب خاص طور پر مکّہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی ریل طیار ہونے سے پوری ہو جائے گی کیونکہ وہ ریل جو دمشق سے شروع ہو کر مدینہ میں آئے گی وہی مکّہ معظمہ میں آئے گی اور اُمید ہے کہ بہت جلد اور صرف چند سال تک یہ کام تمام ہو جائے گا۔ تب وہ اونٹ جو تیرہ سو برس سے حاجیوں کو لے کر مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے تھے یکدفعہ بے کار ہو جائیں گے اور ایک انقلاب عظیم عرب اور بلا د شام کے سفروں میں آجائے گا۔ ’’

(تحفہ گولڑویہ ،روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 194-197)

Please follow and like us:
0