احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

تحریرات پر اعتراض, جھوٹ بولنے کا اعتراض, صداقت مسیح موعودؑ, متفرق اعتراضات

متفق اعتراضات ۔ مسیح موعودؑ کے بارے اولیا کے کشوف کہ وہ چودھویں صدی میں پنجاب میں پیدا ہو گا

متفق اعتراضات ۔ مسیح موعودؑ کے بارے اولیا کے کشوف کہ وہ چودھویں صدی میں پنجاب میں پیدا ہو گا

جواب حصہ 1

 
جواب حصہ 2

اعتراض 25:۔
‘‘اولیاء گذشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگا دی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہو گا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہو گا’’

(اربعین نمبر 2خزائن جلد 17صفحہ 371)

اس عبارت میں لفظ‘‘قطعی مہر’’غور طلب ہے۔یہ انبیاء کرام ہیں جن کی بات قطعی درجےکی ہوتی ہے۔ اولیاءکی بات کہیں قطعی شکل اختیار نہیں کرتی،نہ ہی ان کاالہام شرعی حجت ہوتاہے۔ان کے کشوف ظنی ہوتے ہیں۔ یہ لفظ قطعی بتا رہا ہے کہ پیچھے اولیاء کا لفظ نہ تھا۔ اربعین کے پہلے ایڈیشن میں اس جگہ انبیاء کا لفظ تھا۔ دوسرے ایڈیشن میں لکھا کہ اصل لفظ اولیاء تھا۔پہلے ایڈیشن میں غلطی سے اولیاء کی جگہ انبیاء کا لفظ لکھا گیا ہے اور اب‘‘ روحانی خزائن’’ سے یہ نوٹ بھی اڑا دیا گیا ہے۔ یہ خیانت در خیانت ہے۔چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہونے اورپنجاب والے اولیاء کے کشوف ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔

جواب:۔
جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے جب معترض کو حضرت مرزا صاحب کے خلاف کوئی حقیقی اعتراض نہیں ملتا تو وہ سہو کاتب تلاش کرتا ہے۔اب حضرت مرزا صاحب کی85 کتابوں کے ہزاروں صفحات میں کہیں نہ کہیں کوئی سہو کاتب تو مل ہی جاتا ہے۔جس پر یہ بغلیں بجاتے اوراسے جھوٹ یا خیانت قرار دیتے ہیں حالانکہ اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہوسکتا ہے۔

اب اگر روحانی خزائن کے کسی ایڈیشن میں غلطی سے ‘‘انبیاء’’ گزشتہ کے کشوف کے مطابق چودہویں صدی پر مسیح موعودو مہدی کے ظہور کا ذکر چھپ گیا اور بعد درستی کر کے انبیاء کی بجائے اولیاء لکھا گیا اور بقول معترض یہ وضاحت بھی کر دی گئی کہ اصل لفظ اولیاء تھا غلطی سے انبیاء لکھا گیا تو اس میں کونسی قیامت آگئی۔ہاں اس پر خیانت کا اعتراض بڑا ظلم ہے۔

اور پھرمعترض کا یہ اصرار کہ اصل لفظ انبیاء ہی ہے حالانکہ اس کا فیصلہ مصنف اور اس کے اشاعت کے ذمّہ دار نے کرنا ہے۔خصوصا جبکہ سیاق و سباق اور اندرونی شہادت یہ ثابت کرے کہ اس مقام اور محل پر اولیاء کا لفظ ہی درست ہے تو اعتراض بالکل ختم ہو جاتا ہے۔جیسا کہ حوالہ میں اولیاء کے کشوف کا ذکر ہے کیونکہ ولیوں کے ساتھ رؤیا و کشوف کا معاملہ زیادہ ہوتا ہے جو نبوت کا 46واں درجہ ہے۔جبکہ انبیاء کو وحی ہوتی ہے جیسے فرمایا: فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ

(الجن:27-28)

معترض کا اولیاء کے کشف و الہام شرعی حجت کی بجائے ظنّی قرار دینا قرآن شریف سے لاعلمی اور جہالت کی بات ہے۔اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے: إِذْ أَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّكَ مَا يُوحَى ۔أَنِ اقْذِفِيهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِّ (طہ:39-40)کہ حضرت موسیٰ کی والدہ کو ہم نے وحی کی کہ حضرت موسیٰ کو صندوق نما کشتی میں رکھ کر سمندر میں ڈال دوپھر فرمایا: وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ (قصص:8) اور خوف و غم نہ کرنا ہم خود اسے تمہاری طرف لوٹا کر لے آئیں گے اور اسے رسول بنائیں گے۔

اب اگر معترض کی طرح موسیٰ کی والدہ بھی اس وحی کو حجت شرعی نہ سمجھتیں تو حضرت موسیٰ کی ہلاکت یقینی تھی۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ میں نے بعض حواریوں کو وحی کی وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُوا بِي وَبِرَسُولِي قَالُوا آمَنَّا(المائدة:112)کہ میرے رسولوں پر ایمان لاؤ۔اگر وہ بھی معترض کی طرح حجت نہ سمجھتے توہمیشہ کافر رہتے۔

اولیاء کے کشف و الہام پر ظنّی ہونے کا اعتراض کودراصل خدا کی ذات پر اعتراض ہے جو خودالہام کرنے والا ہے اور وحی و الہام کو مشتبہ کرنے والی بات ہے۔دیکھا خدا کے پیاروں پر اعتراض اور بدظنی سے نوبت کہاں جا پہنچی ہے کہ خدا پر اعتراض،نبیوں پر اعتراض اور ان کو جھوٹا۔۔۔۔

مولوی صاحب کی تسلی کے لئے بزرگان و اولیاء امت کی گواہیاں درج ذیل ہیں:

1۔سورة جمعہ کی آیت وآخرین منھم لمّا یلحقوا بھم کی تفسیر نبی کریمﷺ نے یہ فرمائی کہ ‘‘ایک رجل فارس آکر ایمان کو قائم کرے گا۔اس آیت کے اعداد بحساب جمل 1274ھ بنتے ہیں۔جس میں مسیح موعود کی بعثت کے زمانہ کی طرف اشارہ ہے۔’’

2۔ھل ینظرون الّا الساعہ ان تأتیھم بغتةّ(الزخرف:67) کہ جس گھڑی کا وہ انتظار کرتے ہیں اچانک آئے گی۔علامہ ابن عربی نے اس سے مراد مہدی لیا ہے اور اقتراب الساعة میں ‘‘بغتة’’ کے اعداد 1407 نکال کر مہدی کا زمانہ مراد لیا گیا ہے۔

3۔حضرت ملّا علی قاری نے حدیث‘‘الآیات بعد المائتین میں ‘‘المائتین’’ سے ایک ہزار سال لیکر مسیح و مہدی کو تیرہویں صدی کا نشان قرار دیا ہے۔

4۔الیواقیت والجواہر میں علامہ عبد الوہاب شعرانی نے مہدی کی پیدائش کا زمانہ 1255ھ لکھا ہے۔

5۔حافط عبد العزیز پرہاڑوی لکھتے ہیں:

درسن غاشی ہجری دو قران خواہد بود

از پئے مہدی و دجال نشان خواہد بود

6۔صاحب کشف حضرت نعمت اللہ شاہ ولی صاحب (834ھ) فرماتے ہیں

غین ری سال چوں گزشت از سال

بو العجب کاروبار می بینم

مہدی وقت و عیسی دوراں

ہر دو شاہسوار می بینم

ترجمہ: جب غین رے ( حروف ابجد کے مطابق اعداد) 1200 سال گزرجائیں گے اس وقت مجھے عجیب و غریب واقعات ظاہر ہوتے نظر آتے ہیں۔ مہدی وقت اور عیسیٰ دوران ہردوکو میں شاہسوار ہوتے دیکھتا ہوں۔

(اربعین فی احوال المھدیین مرتبہ محمد اسماعیل شہید : 2 و 4 )

نویں صدی کے صاحب کشف بزرگ نے فرمایا ہے کہ مجھے یہ دکھائی دے رہاہے گویا اپنا کوئی کشف بیان کر رہے ہیں اور عین ان کے کشف کے مطابق حضرت مرزا صاحب کی پیدائش 1250ھ میں ہوئی ۔یہی حضرت نعمت اللہ ولی اللہ نے فرمایا تھا کہ بارہ سو کے بعد وہ آئیں گے۔اور صدی کے سر پر انکا بطور مجدد ظہور ہونا تھا ۔جیسے کہ اگلے حوالے سے ظاہر ہے ۔

7۔اہلحدیث کے بزرگ عالم نواب صدیق حسن خانصاحب (1307ء) جو کہ اہل حدیث کے معروف عالم اور بزرگ ہیں بلکہ اہل حدیث انہیں اپنے وقت کا مجدد سمجھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

‘‘اب مدت دس ماہ کی ختم تیرھویں صدی کوباقی ہے پھر 1301ھ اور 1884ء سے چودھویں صدی شروع ہوگی اور نزول عیسیٰ و ظہور مہدی و خروج دجال اوّل صدی میں ہوگا۔’’ (ترجمان وہابیہ صفحہ 42-41۔ از نواب صدیق حسن خانصاحب)

8۔ اہلحدیث کے ایک اوربزرگ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1175ء) نے امام مہدی علیہ السلام کی تاریخ ظہور لفظ چراغ دین میں بیان فرمائی ہے جو کہ حروف ابجد کے لحاظ سے 1268 ہے۔(حجج الکرامہ:394)نیز آپ فرماتے ہیں اللہ تعالی نے مجھے خبر دی ہے کہ قیامت قریب ہے اور امام مہدی خروج کرنے کے لئے تیار ہیں۔ (تفہیمات الٰہیہ جلد 2 صفحہ 160۔ تفہیم نمبر 146 )

9۔ الشیخ علی اصغر ابرو جروی مشہور شیعہ عالم (پیدائش 1231ء) فرماتے ہیں کہ

‘‘سال ”صرغی” میں اگر زندہ رہا تو ملک و ملک و دین میں ایک انقلاب آجائے گا۔ صرغی کے اعداد بحساب ابجد 1300 بنتے ہیں ۔’’

(نورالانوار از شیخ علی اصغر صفحہ 215 )

10۔حضرت حافظ برخوردار صاحب (1093ء) اپنے قلمی نسخہ ”انواع” صفحہ 14میں فرماتے ہیں

پچھے ہک ہزار دے گزرے ترے سو سال

حضرت مہدی ظاہر ہوسی کرسی عدل کمال

11۔ ایک اور اہلحدیث بزرگ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی(1239ء) فرماتے ہیں”بعد بارہ سو ہجری کے حضرت مہدی کا انتظار چاہیے اور شروع صدی میں حضرت کی پیدائش ہے”

(اربعین فی احوال المہدیین مرتبہ محمد اسماعیل شہید آخری صفحہ)

حضرت مرزا صاحب کیا ہی سچ فرماتے ہیں کہ

وقت تھا وقت مسیحا نہ کسی اور کا وقت

میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا

1

Please follow and like us:
0

Theme by Anders Norén