متفرق اعتراضات ۔ نبنیوں کی کتابوں اور احادیث میں لکھا ہے مسیح موعودؑ کے وقت نور کا انتشار ہو گا عورتوں کو الہام نابالغ بچے نبوت کریں گے

اعتراض:۔
”پہلے نبیوں کی کتابوں اور احادیث نبویہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت یہ انتشار نورانیت اس حد تک ہو گا کہ عورتوں کو بھی الہام شروع ہو جائے گا۔ اور نابالغ بچے نبوت کریں گے۔ اور عوام الناس روح القدس سے بولیں گے۔”

(ضرورۃ الامام ۔روحانی خزائن جلد13صفحہ475)

“صریح بہتان ہے،جھوٹ،افتراء ہے۔حوالہ پیش کرو۔”

جواب:۔

اگر واقعی یہ جھوٹ اور افتراء ہے تو حوالہ پیش کرنے کا مطالبہ نہیں ہونا چاہیے تھا اور اگر حوالہ پیش ہوجائے تو پھر جھوٹ اور افتراء کس کا ثابت ہوگا یہ بھی طے ہوجانا چاہیے۔اب ملاحظہ ہو پہلے نبیوں کی کتابوں میں یوایل نبی کی کتاب کا حوالہ لکھا ہے:

”اس کے بعد مَیں ہر فرد بشر پر اپنی روح نازل کروں گا اور تمہارے بیٹے بیٹیاں نبوت کریں گے۔ تمہارے بوڑھے خواب اور جوان رؤیا دیکھیں گے بلکہ میں ان ایام میں غلاموں اور لَونڈیوں پر اپنی روح نازل کروں گا اور میں زمین و آسمان میں عجائب ظاہر کروں گا۔”

(یوایل باب2 آیات 28 تا31)

پھر اعمال میں لکھا ہے:

”خدا فرماتا ہے کہ آخری دنوں میں ایسا ہو گا کہ میں اپنے روح میں سے ہر بشر پر ڈالوں گا اور تمہارے بیٹے اور تمہاری بیٹیاں نبوت کریں گی اور تمہارے جوان رؤیا اور تمہارے بڈھے خواب دیکھیں گے بلکہ میں اپنے بندوں اور اپنی بندیوں پر بھی ان دنوں میں اپنے روح میں سے ڈالوں گا اور وہ نبوت کریں گی۔”

(اعمال باب 2 آیات 17-18)

جہاں تک احادیث کا تعلق ہے۔نبی کریمﷺ نے جہاں اپنی امت کو عمومی رنگ میں مبشرات اور رؤیائے صالحہ کی خبر دی۔وہاں یہ بھی فرمایا کہ

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَکَدْ رُؤْیَا الْمُسْلِمِ تَکْذِبُ وَأَصْدَقُکُمْ رُؤْیَا أَصْدَقُکُمْ حَدِیثًا وَرُؤْیَا الْمُسْلِمِ جُزْء ٌ مِنْ خَمْسٍ وَأَرْبَعِینَ جُزْء ًا مِنَ النُّبُوَّۃِ۔

(مسلم، کتاب الرؤیا، روایت نمبر6043)

ایک خاص زمانہ کے قرب کے وقت مومن کی رویا جھوٹی نہیں ہو گی۔ اور جو تم میں سے زیادہ سچ بولنے والا ہے اس کی خوابیں زیادہ سچی ہوں گی۔ اور مسلمان کی رؤیا نبوت کا پینتالیسواں حصہ ہے۔اور فرمایا: من لم یؤمن بالرؤیا الصادقۃ فإنہ لم یؤمن باللہ ورسولہ۔ (الدیلمی-عن عبد الرحمن بن عائذ،کنز العمال، حرف المیم، فرع فی الرویا، جزء 15 صفحہ371)

اسی طرح حضرت علیؓ کی روایت کے مطابق نبی کریمﷺ نے آخری زمانہ میں جب اسلام اور قرآن کے اٹھ جانے کا ذکر کیا تو علماء کے ایک گروہ کے بارہ میں فرمایا عُلَمَاؤُهُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ(شعب الایمان للبیھقی جزء3ص317)لیکن مسیح موعودؑ کے ظہور کے وقت اپنی امت کے علماء کی نسبت سے فرمایا: عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ

(المقاصد الحسنۃ۔از علامہ سخاوی جزء 1ص757)

نیز فرمایا:

«فُقَهَاءُ عُلَمَاءُ كَادُوا مِنَ الْفِقْهِ أَنْ يَكُونُوا أَنْبِيَاءَ»

(حلیة الاولیاء و طبقات الاصفیاء از ابو نعیم الاصبھانی (متوفی:430ھ) جزء10 ص192)

Please follow and like us:
0