احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

تحریرات پر اعتراض, جھوٹ بولنے کا اعتراض, صداقت مسیح موعودؑ, متفرق اعتراضات

متفرق اعتراضات ۔ قرآن شریف میں اول سے آخر تک جس جس جگہ توفیٰ کا لفظ آیا ہے ان تمام مقام میں توفی کے معنی موت ہی لیے گئے ہیں

متفرق اعتراضات ۔ قرآن شریف میں اول سے آخر تک جس جس جگہ توفیٰ کا لفظ آیا ہے ان تمام مقام میں توفی کے معنی موت ہی لیے گئے ہیں

جواب حصہ 1

جواب حصہ 2

اعتراض:۔
‘‘قرآن شریف میں اول سے آخر تک جس جس جگہ توفیٰ کا لفظ آیا ہے ان تمام مقام میں توفی کے معنی موت ہی لیے گئے ہیں۔’’

(ازالہ اوہام حصہ اول ص224،خزائن جلد 3 ص224 حاشیہ)

مرزا جی نے قرآن مجید پر جھوٹ بولا ہے کہ ہر جگہ توفی ‘‘موت’’ کے معنوں میں آیا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔

جواب:۔
معترض نے خیانت سے کام لیتے ہوئےآیت فلما توفیتنی پر موجود حاشیہ کاصرف آخری فقرہ لکھ کریہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے قرآن کریم میں ہر جگہ توفّی کے لفظ سے موت ہی کے معنے مراد لیے ہیں۔جبکہ مکمل عبارت یہ ہے:

‘‘قرآن شریف پر نظر غور ڈالو اور ذرا آنکھ کھول کر دیکھو کہ کیونکر وہ صاف اور بین طور پر عیسیٰ بن مریم کے مرجانے کی خبر دے رہا ہے۔جس کی ہم کوئی بھی تاویل نہیں کر سکتے۔مثلاً یہ جو خدا تعالیٰ قرآن کریم مین حضرت عیسیٰ کی طرف سے فرماتا ہے فلمّا توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم۔ کیا ہم اس جگہ توفی سے نیند مراد لے سکتے ہیں؟ کیا یہ معنے اس جگہ موزوں ہوں گے کہ جب تو نے مجھے سلا دیا اور میرے پر نیند غالب کردی تو میرے سونے کے بعد تو ان کا نگہبان تھا؟ ہرگز نہیں بلکہ توفی کے سیدھے اور صاف معنے جو موت ہے،وہی اس جگہ چسپاں ہیں۔’’

اس کے حاشیہ میں حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں:

‘‘قرآن شریف میں اول سے آخر تک جس جس جگہ توفیٰ کا لفظ آیا ہے ان تمام مقامات میں توفی کے معنی موت ہی لیے گئے ہیں۔’’

(ازالہ اوہام حصہ اول ص224،روحانی خزائن جلد 3 ص224 حاشیہ)

پس اس سے مراد یہ ہے کہ لفط توفی جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے آیا ہے اس صورت میں قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی کسی ذی روح کے لیے استعمال ہوا ہے جس میں اللہ فاعل،ذی روح مفعول،باب تفعّل اور لیل یا نوم کا قرینہ ہو تو بلا استثناء ہر جگہ توفی کے معنے موت کے ہی ہیں۔

حضرت مرزا صاحب نے اس بات کا چیلنج بھی سو سال سے زیادہ عرصہ کا دیا ہے کہ ان تمام شرائط کے ہوتے ہوئے کوئی بھی توفی کے معنے قبض روح یاموت کے سوا کر دے تو اسےمبلغ دس ہزار روپیہ نقد دیا جائے گا۔

(ازالہ اوہام ۔ر-ح جلد 3 ص603)

حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی کتاب حمامۃ البشری روحانی خزائن جلد7ص269پر لکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں توفی 25 مرتبہ آیا ہے۔اور 23 جگہ قبض روح کے معنی ہیں:

رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ (الاعراف:127)
أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ (یوسف:102)
وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (یونس:47)
وَلَكِنْ أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ (یونس:105)
فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ (النساء:16)
إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ (الاعراف:38)
إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ (آل عمران:56)
فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ (المائدۃ:118)
إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ (النساء:98)
إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا (الانعام:62)
فَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ (محمد:28)
الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ (النحل:29)
الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ طَيِّبِينَ (النحل:33)
وَإِنْ مَا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (الرعد:41)
فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ (غافر:78)
وَلَوْ تَرَى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا الْمَلَائِكَةُ (الانفال:51)
وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّاكُمْ وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ (النحل:71)
قُلْ يَتَوَفَّاكُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ (السجدہ:12)
وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ (آل عمران:194)
وَمِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفَّى وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ (الحج:6)
وَمِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفَّى مِنْ قَبْلُ وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى (غافر:68)
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا (البقرۃ:235)
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ (البقرۃ:241)

Please follow and like us:
error0

Theme by Anders Norén

%d bloggers like this: