احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

تحریرات پر اعتراض, صداقت مسیح موعودؑ, متفرق اعتراضات

متفرق اعتراضات ۔ تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ(آنحضرتﷺ) کے گھر گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہوگئے تھے

متفرق اعتراضات ۔ تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ(آنحضرتﷺ) کے گھر گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہوگئے تھے

اعتراض:۔
“تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ(آنحضرتﷺ) کے گھر گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہوگئے تھے۔”

(چشمۂ معرفت۔خزائن جلد23 ص299)

لعنة اللہ علی الکٰذبین۔حوالہ پیش کرو،ورنہ اعلان کرو کہ مرزا قادیانی دنیا کا جھوٹا ترین انسان ہے۔

جواب:۔
اب سنیئےاسکا حوالہ یہ ہے‘‘السیرة الحلبیة’’ازعلامہ علی بن برہان الدین الحلبی (المتوفی:1044ھ)کی ایک روایت کے مطابق رسول اللہﷺ کے گیارہ بیٹوں کی تفصیل یہ ہے:

1۔قاسم 2۔عبد اللہ(قبل از بعثت) 3۔طیب 4۔طاہر 5،6۔طاہرومطھر(جڑواں)

7،8۔طیب ومطیب(جڑواں) 9۔عبد مناف 10۔عبد اللہ(بعد از بعثت) 11۔ابراہیم بن ماریہ

(السیرة الحلبیہ اردو جلد سوم نصف آخر ص404-407مرتب و مترجم اردواز مولوی محمد اسلم قاسمی)

اب بتاؤ یہ لعنت کس پر پڑی اور جھوٹا ترین کون ہے؟اگر ذرا بھر بھی انصاف کی رمق ہے تو خود فیصلہ کریں کہ دجالون کاذبون کی فہرست میں جھوٹا اعتراض کرنے والا شامل ہے یا جس معصوم پر یہ الزام تراشی کی جارہی ہے۔

مگر تفصیلی جواب سے پہلے چشمۂ معرفت پر اس اعتراض کا نہایت دلچسپ پس منظربھی ملاحظہ فرمائیے:

‘‘یہ1907ءکاواقعہ ہے ، آریہ سماج کا مذہبی جلسہ لاہور میں ہوا جس میں آریوں نے اسلام،قرآن اور سیّد المعصومین حضرت محمد مصطفیٰ پر ناروا حملے کیے۔اس وقت اور کوئی مسلمان لیڈر تو پورے برصغیر میں آریوں کے مقابل پر جواب دینے کے لیے کھڑا نہ ہوا۔ایک حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ اپنے رسول کی غیرت و محبت میں آگے آئے اوریہ کتاب چشمۂ معرفت لکھی جس میں آریوں کے اعتراضوں کے جواب دئیے۔ایک اعتراض انہوں نے یہ کیا تھا کہ آنحضرتﷺ کی زندگی معاذ اللہ ناپاک تھی اور آپﷺ کو نفسانی خواہشات کی طرف مائل ٹھہرایا۔

حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ نے کس شان سے اس اعتراض کا جواب دیا اور فرمایا:

‘‘دنیا میں کروڑ ہا ایسے پاک فطرت گزرے ہیں اور آگے بھی ہوں گے لیکن ہم نے سب سے بہتر ،سب سے اعلیٰ اور سب سے خوب تر اس مردِ خدا کو پایا ہے جس کا نام ہے محمدﷺ’’

آپؑ نے ہمارے آقا و مولیٰ خاتم الانبیاءفداہ نفسی و ابی پرنفسانی خواہشات کی خاطر متعدد شادیاں کرنے کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے یہ پہلو بھی بیان فرمایا:

‘‘ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیویاں نہ کرتے توہمیں کیونکر سمجھ آسکتا کہ خدا کی راہ میں جاں فشانی کے موقع پر آپ ایسے بے تعلق تھے کہ گویا آپ کی کوئی بھی بیوی نہیں تھی مگر آپ نے بہت سی بیویاں اپنے نکاح میں لاکر صدہا امتحانوں کے موقعہ پر یہ ثابت کردیا کہ آپ کو جسمانی لذات سے کچھ بھی غرض نہیں اور آپ کی ایسی مجردانہ زندگی ہے کہ ؔ کوئی چیز آپ کو خدا سے روک نہیں سکتی۔ تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے گھر میں گیارہ11لڑکےپیداہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہوگئے تھے اور آپ نے ہر ایک لڑکے کی وفات کے وقت یہی کہا کہ مجھے اس سے کچھ تعلق نہیں میں خدا کا ہوں اورخدا کی طرف جاؤں گا۔ ہر ایک دفعہ اولاد کے مرنے میں جو لخت جگر ہوتے ہیں یہی منہ سے نکلتا تھا کہ اے خدا ہر ایک چیز پر میں تجھے مقدّم رکھتا ہوں مجھے اس اولاد سے کچھ تعلق نہیں کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ آپ بالکل دُنیا کی خواہشوں اور شہوات سے بے تعلق تھے اور خدا کی راہ میں ہر ایک وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے تھے۔’’

(چشمۂ معرفت ص286 روحانی خزائن جلد23 ص299)

اس تناظر میں حضرت مرزا صاحب نے محمد مصطفیٰﷺ کی جو شان بیان کی وہ ‘‘ضیائے حدیث’’کے معترض کو نہ جانے کیوں ناگوار لگی اور اس کی غیرت کہاں سو گئی کہ اپنے آقا کی بجائے آریوں کی ہمنوائی کرتے ہوئے یہ اعتراض کر دیاکہ 11 لڑکے تو تاریخی لحاظ سے ثابت ہی نہیں ہیں تو مرزا صاحب کی یہ دلیل کہ آنحضورﷺ شہوات نفسانی سے بے تعلق تھے کس طرح درست ہو سکتی ہے؟اب آپ ہی بتائیے کہ محمد مصطفیٰﷺ کا کلمہ پڑھتے ہوئے پھر آریوں کی ہاں میں ہاں ملانا کہاں تک غیرت دینی روا رکھتی ہے۔اب ہم معترض کو آریوں کا ساتھی نہ سمجھیں تو اور کیا سمجھیں۔

مشہورشارح حدیث،سیرت نگار علامہ قسطلانی کی کتاب‘‘ مواہب اللدنیہ’’ کی شرح میں علامہ زرقانی (المتوفى: 1122ھ) رسول اللہﷺ کا اولاد کے بارہ میں مختلف اقوال کا خلاصہ کلام یہ ہے:

‘‘رسول اللہ ﷺ کی اولاد میں کل نو9 بیٹے اور چار4 بیٹیاں ملا کر 13 بنتے ہیں۔جن میں سے سات7 بچوں یعنی قاسم،عبد اللہ اور ابراہیم اور زینب،رقیہ،ام کلثوم اور فاطمہ پر سب اہل سنت کا اتفاق ہے اور یہ ان کے نزدیک صحیح ترین رائے ہے۔۔۔۔جبکہ دیگرجن 6 بیٹوں میں اختلاف ہے وہ طاہر،طیب کے علاوہ طیب اور مطیب جڑواں اور دوسرے حمل سے طیب و طاہر جڑواں تھے۔’’

پھر کل اولاد 13 کے بارہ میں زرقانی لکھتے ہیں:

‘‘وکلھم من خدیجة الّا ابراھیم’’ کہ ساری اولاد 13 کے 13 سوائے ابراہیم کے حضرت خدیجہؓ کے بطن سے تھے۔

اس پر علامہ قسطلانی کے 13لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ‘‘کلھم’’کی مذکر ضمیر استعمال کرنے سے کہیں سارے لڑکے مراد نہ لیے جائیں۔علامہ زرقانی نے لکھا ہے کہ دوسری رایت میں‘‘کلّھن’’کی ضمیر مؤنث ساری اولاد کے لیے آتی ہے جو خواتین مبارکہ کی فضیلت کے لیے یا اولاد کی جمع کثرت کی وجہ سے بیٹوں کی طرف بھی راجع ہونے میں کوئی مانع نہیں۔

یہی بات تاریخ الخمیس فی احوال انفس نفیس از امام شیخ حسین بن محمد بن الحسن الدیا بکری (المتوفیٰ: 966ھ)اور مدارج النبوة از علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی(المتوفٰی:1052ھ) میں لکھی ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسوں کو بھی اپنے بیٹے قرار دیا ہے۔ مثلا حضرت حسن کے متعلق فرمایا: اِبْنِیْ ھَذَا سَیِّدٌ یعنی یہ میرا بیٹا سردار ہے۔ اسی طرح فرمایا: ھَذَان اِبْنَایَ وأبنا بنتی۔ یعنی یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ نواسوں کو بھی آپ نے اپنے بیٹے قرار دیا ہے۔ نواسوں میں سے تین آپ کی زندگی میں فوت ہوئے۔ حضرت زینبؓ کے ایک صاحبزادے علی1 بچپن میں فوت ہوئے۔(سیر الصحابہ اردو جلد دہم صفحہ97)حضرت رقیہؓ کے ایک صاحبزادے عبد اللہ2 چھ سال کی عمر میں فوت ہوئے۔(سیر الصحابہ اردو جلد دہم صفحہ99) اورحضرت فاطمہ کے ایک صاحبزادے محسن3 بچپن میں فوت ہوئے۔

(سیر الصحابہ اردو جلد دہم صفحہ106)

اس طرح آپﷺ کے آٹھ حقیقی بیٹے اور تین نواسے جن کو آپ نے اپنے بیٹے قرار دیا ، آپ کی زندگی میں فوت ہوئے۔ اس طرح کل گیارہ لڑکے آپ کے سامنے فوت ہوئےاور آپؐ نے کمال صبر کا نمونہ دکھایا۔

مدیر ‘‘ المنبر’’ مکرم عبد الرحیم صاحب اشرف لائل پور لکھتے ہیں:

‘‘ہم بلا خوف لومة لائم یہ اظہار ضروری سمجھتے ہیں کہ حضورخاتم النبیین ﷺ کے والد کی وفات(اور حضورﷺ کے گیارہ لڑکوں)کے سلسلے میں ہم نے جو اعتراض مرزا غلام احمد پر کیا تھا اس کی وہ اہمیت اب ہمارے سامنے نہیں ہے جو ان کی عبارات پیش کرتے وقت تھی۔ہمیں اس اعتراف میں کوئی جھجھک نہیں کہ بعض کتب سیرة و تواریخ میں یہ موجود ہے کہ حضور ﷺ چند ماہ کے تھے کہ حضورؐ کے والد فوت ہوگئے۔ہر چند کہ یہ روایت موجود ہے تاہم جب ہم نے اس نقطہ نظر سے ان کتابوں کو کھنگالا تو روایت ہمیں اور جب یہ روایت موجود ہے تو خواہ صحیح نہ ہو تب بھی اعتراض اتنا اہم نہیں رہتا۔’’

(المنبر لائل پور جلد 11 شمارہ43 مورخہ 17 فروری 1967ء بحوالہ تحدیث نعمت باری تعالیٰ)

ملاحظہ فرمائیں! یہ ہے ایک منصف محقّق کے دل سے اٹھنے والی آواز۔۔۔اور وہ بھی ‘‘ضیائے حدیث’’ والوں کے بابائے قوم!

کاش معترض میں بھی خدا خوفی ہوتی تو وہ اس تحدّی اور جرأت ظالمانہ سے اس حوالہ کا مطالبہ کرتے ہوئے ‘‘لعنة اللہ علی الکاذبین’’ کہنے کی جسارت نہ کرتا۔

اس نے حضرت مرزا صاحب کو‘‘دنیا کا جھوٹا ترین انسان’’ کہنے کی جسارت کی تھی۔۔۔۔اب نہ صرف یہ سب الزام معترض پر لوٹ گئے بلکہ اس کے باقی سارے جھوٹوں کی حقیقت بھی روشن ہوگئی۔جاء الحق و زھق الباطل کا نظارہ ظاہر ہوگیا۔؂

آخر مرزا سچّا نکلا آخر ملاں نکلا جھوٹا

جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا

حضرت مرزا صاحب کی صداقت بھی روز روشن کی طرح ثابت ہوگئی اور انّی مھین من اراد اھانتک کی پیشگوئی مرزا صاحب کی صداقت کا اعلان کرنے لگی کہ جو تیری رسوائی کا ارادہ بھی کرے گا میں اسے ذلیل و رسوا کرکے رکھ دوں گا۔

Please follow and like us:
0

Theme by Anders Norén