احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

تحریرات پر اعتراض, صداقت مسیح موعودؑ, متفرق اعتراضات

متفق اعتراضات ۔ گویا خدازمین پر خود اُتر آئے گا جیسا کہ وہ فرماتا ہے(یوم یأتی ربک فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ)۔ یہ آیت قرآن میں نہیں

متفق اعتراضات ۔ گویا خدازمین پر خود اُتر آئے گا جیسا کہ وہ فرماتا ہے(یوم یأتی ربک فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ)۔ یہ آیت قرآن میں نہیں

اعتراض:۔
‘‘اور میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے اور خدا اس وقت وہ نشان دکھائے گا جو اُس نے کبھی نہیں دکھائے۔گویا خدازمین پر خود اُتر آئے گا جیسا کہ وہ فرماتا ہے((یوم یأتی ربک فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ))یعنی اُس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا،یعنی انسانی مظہرکےذریعہ سےاپناجلال ظاہرکرےگااوراپناچہرہ دکھلائےگا۔’’

(حقیقۃ الوحی ۔خزائن ،جلد22 ص158)

مرزا جی نے اللہ تعالیٰ پر بہتان اور جھوٹ باندھا ہے۔یہ آیت کون سے پارے کی ہے؟ ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔حوالہ پیش کریں۔

جواب :۔
اصل عبارت

‘‘جیسا کہ دانیال نبی نے بھی لکھا ہے میرا آنا خدا کے کامل جلال کے ظہور کا وقت ہے اور میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے۔ اور خدا اس وقت وہ نشان دکھائے گا جو اُس نے کبھی دکھائے نہیں گویا خدا زمین پر خود اُتر آئے گا جیسا کہ وہ فرماتا ہےهَلْ يَنْظُرُونَ إِلا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ (البقرة:211)یعنی اُس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا یعنی انسانی مظہر کے ذریعہ سےاپناجلال ظاہرکرےگااوراپناچہرہ دکھلائےگا۔’’

(حقیقة الوحی ص154،روحانی خزائن جلد22 ص158)

جواب

اس جگہ بھی معترض نے تحقیق میں دیانت سے کام نہیں لیا، کیونکہ پہلے ایڈیشن میں اگر ایک آیت میں سہواً لفظی غلطی ہوگئی تو دوسرے ایڈیشن میں اسے درست کر دیا گیا۔چاہیے تو یہ تھا کہ معترض دوسرےایڈیشن کا بھی حوالہ دیتے کہ درستی ہوگئی۔یہ تو تراویح میں حافظ کی غلطی کی طرح ہے۔

الانسان مرکب السھو والنسیان۔

انسان سہو اور بھول چوک کا مرکب ہے۔انبیاء بھی بشر ہوتے ہیں۔جیسا کہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:

إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِى

(صحیح بخاری ابواب القبلة باب التوجه نحو القبلة حيث كان،صحیح مسلم)

یقیناً میں بھی تمہاری طرح کا بشر ہوں، میں بھی بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو۔پس جب میں کچھ بھول جاؤں تو مجھے یاد کروا دیا کرو۔

پس سہو کو لے کر اعتراض کرنا نہایت نادانی ہے۔اگر نبی کریمﷺ سے سہو و نسیان ہو سکتا ہے تو کسی اور پر یہ اعتراض کرنا درست نہیں۔

Please follow and like us:
error0

Theme by Anders Norén