احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

تحریرات پر اعتراض, متفرق اعتراضات

افغان، پٹھان اور کشمیری قوم کو یہودی النسل کہنے پر اعتراض کا جواب

ایک غیّور قوم کا حسب ونسب

ایک غیّور قوم کی توہین :۔ کے عنوان کے تحت راشد علی اور اس کے پیر نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں یہ جھوٹ بھی بولا ہے کہ آپ نے بعض قوموں کی توہین کی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں ۔

’’افغان / پٹھان / کشمیری / قندھاری وغیرہ یہودی نسل سے ہیں کیونکہ :۔

۱۔ ’’ وہ اپنے باپ دادا سے سنتے آئے ہیں کہ وہ اسرائیلی ہیں۔ ‘‘

۲۔’’ ان کی شکلیں یہودیوں سے اتنی ملتی ہیں کہ ’’ اگر ساتھ ساتھ کھڑا کیا جائے تو ایک ہی خاندان کے لگیں گے۔‘‘

۳۔’’ ان کا لباس بھی یہودیوں سے ملتا جلتا ہے۔‘‘

۴۔ ان کی رسومات بھی یہودیوں جیسی ہیں۔ ’’ مثلاً ان کی عورتیں شادی سے پہلے اپنے منسوبوں کے ساتھ بلا تکلّف ملتی جلتی اور باتیں کرتی ہیں حتّٰی کہ بعض اوقات اگر عورت حمل سے ہو جاتی ہے تو اس کو ہنسی مذاق میں اڑا دیا جاتا ہے۔ حضرت مریم صدیقہؑ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ گھومنا اس رسم پر پختہ شہادت ہے۔ ‘‘

۵۔ ان کی اخلاقی حالت بھی یہودیوں سے ملتی ہے۔ ’’ سرحدی پٹھانوں / افغانوں کی زُود رنجی ، تلوّن مزاجی ، خود غرضی ، گردن کشی ، کج مزاجی ،، کج روی ، دوسرے جذباتِ نفسانی ، خونی خیالات ، جاہل اور بے شعور ہونا ، یہ تمام صفات وہی ہیں جو توریت اور دوسرے صحیفوں میں اسرائیلی قوم کی لکھی گئی ہیں اور اگر قرآن شریف کھول کر سورہ بقرہ سے بنی اسرائیل کی صفات اور عادات اور اخلاق اور افعال پڑھنا شروع کرو تو ایسا معلوم ہو گا کہ سرحدی افغانوں (پٹھانوں) کی اخلاقی حالتیں بیان ہو رہی ہیں۔ ‘‘(ایّام الصلح ۔ روحانی خزائن جلد ۴ ۱ صفحہ ۲۹۹ تا ۲۰۱)

یہ فہرست بڑی طویل ہے۔ مگر ان چند حوالہ جات سے قارئین کو مرزا غلام احمد قادیانی کی ذہنی پستی اور خباثت کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا۔‘‘(بے لگام کتاب)

یہ تو راشد علی اور اس کے پیر کی ذہنی پستی اور خباثت ہے کہ ایک پوری غیّور قوم کے حسب ونسب کو بدلنے کی کوشش کی ہے ۔ یہودی النسل یعنی حضرت اسحق علیہ السلام کی نسل ہونا قابلِ فخر بات ہے نہ کہ موجبِ توہین۔ یہودی النسل ہونا تو شاید تب اس قوم کے لئے توہین کا موجب ہوتا جب وہ سیّد الانبیاء حضرت محمّد مصطفی ﷺ پر ایمان نہ لاتے۔ یہ تو ان کی غیرت کی بلندی اور ایمان کی عظمت کا نشان ہے کہ جب انہوں نے اس عظیم الشان عالمگیر نبی ؐ کی آمد کا سنا جس کی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خبر دی تھی تو وہ رحمۃٌللعالمین حضرت محمّد ﷺ پر ایمان لے آئے جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہٗ نے یہودی النسل ہوتے ہوئے بھی حضرت محمّد مصطفی ﷺ کو قبول کیا اور ایسا بلند مقام حاصل کیا کہ ہر مسلمان کے لئے قابلِ تقلید ہے۔

یہ تو راشد علی اور اس کے پیر کی اپنی بے غیرتی ہے کہ وہ کسی قوم کے حقیقی حسب ونسب کو تبدیل کر رہے ہیں تاریخی حقائق اور قائم شدہ سچّائیوں کو پرلے درجہ کے جھوٹے اور کذّاب کبھی بھی نہیں بدل سکتے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ’’مسیح ہندوستان میں ‘‘ اور ’’ رازِ حقیقت ‘‘ میں ٹھوس تاریخی ، واقعاتی اور دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ مذکورہ بالا حقیقت کو تحریر فرمایا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔

’’ چونکہ بنی اسرائیل بخت النصر کے حادثہ میں متفرق ہو کر بلا دِہند اور کشمیر اور تبّت اور چین کی طرف چلے آئے تھے اس لئے حضرت مسیح علیہ السلام نے ان ہی ملکوں کی طرف ہجرت کرنا ضروری سمجھا اور تواریخ سے اس بات کا بھی پتہ ملتا ہے کہ بعض یہودی اس ملک میں آکر اپنی قدیم عادت کے موافق بدھ مذہب میں بھی داخل ہو گئے تھے۔ چنانچہ حال میں جو ایک مضمون سول ملٹری گزٹ پرچہ تاریخ ۲۳ نومبر ۱۸۹۸ء میں چھپا ہے اس میں ایک محقق انگریز نے اس بات کا اقرار بھی کیا ہے اور اس بات کو بھی مان لیا ہے کہ بعض جماعتیں یہودیوں کی اس ملک میں آئی تھیں اور اس ملک میں سکونت پذیر ہو گئی تھیں اور اسی پرچہ سول میں لکھا ہے کہ ’’ دراصل افغان بھی بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ ‘‘(رازِ حقیقت۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۱۶۲ حاشیہ)

نیز آپ نے تحریر فرمایا کہ :۔

’’ ڈاکٹر برنیر صاحب فرانسیسی اپنے سفر نامہ میں لکھتے ہیں کہ کئی انگریز محققوں نے اس رائے کو بڑے زور کے ساتھ ظاہر کیا ہے کہ کشمیر کے مسلمان باشندے دراصل اسرائیلی ہیں جو تفرقہ کے وقتوں میں اس ملک میں آئے تھے اور ان کے کتابی چہرے اور لمبے کُرتے اور بعض رسوم اس بات کے گواہ ہیں۔ ‘‘(راز حقیقت۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۱۶۸ حاشیہ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو مزید تفصیلات اس حقیقت کے ثبوت کے لئے بیان فرمائیں ان کے لئے کتاب ’’ مسیح ہندوستان میں ‘‘ ملاحظہ کی جا سکتی ہے پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو ایک سچّی بات تحریر کی ہے جس کو بدلنے کی کوئی طاقت نہیں رکھتا ۔مگر راشد علی اور اس کا پیر افغانوں اور کشمیریوں کے حسب ونسب پر حملہ کر رہے ہیں۔ جس کو کوئی افغانی یا کشمیری ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔

Please follow and like us:
%d bloggers like this: