احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

جھوٹ بولنے کا اعتراض, متفرق اعتراضات

براہین احمدیہ کی 50 پچاس کی بجائے 5 کتابیں لکھنے اور دھوکہ دہی کا الزام

وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت

راشد علی نے بڑی تعلّی کے ساتھ عنوان باندھا ہے ۔

’’ مرزا غلام صاحب قادیانی اور وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت ‘‘

اس کے تحت وہ لکھتا ہے ۔

’’۱۸۷۹ء میں مرزا صاحب نے اعلان فرمایا کہ وہ خدا کی طرف سے مامور کئے گئے ہیں کہ اسلام کی حقّانیت ثابت کریں۔ اس مقصد کے لئے وہ پچاس جلدوں میں براہینِ احمدیہ لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ چونکہ مرزا صاحب ایک غریب آدمی ہیں اس لئے مسلمان بھائیوں اور مخیر حضرات سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ مرزا صاحب کی مالی اعانت کریں اور پیشگی کتاب کی قیمت ادا کر دیں تو جیسے جیسے چھپتی جائے گی ان کو روانہ کر دی جائے گی۔(مجموعہ اشتہارات جلد۱صفحہ ۱۸ ، ۱۹)

چاروں اطراف سے مسلمانوں نے پیسہ روانہ کرنا شروع کر دیا۔ اگلے چار سالوں میں چار جلدیں شائع کرنے کے بعد مرزا صاحب کو چکّر آنے لگے۔ پچاس جلدوں کا مطلب تھا کہ بقایاعمر اب صرف کتاب لکھنے ، چھاپنے اور تقسیم کرنے میں ہی صرف ہو گی۔ اکثر حضرات سے قیمت پیشگی وصول ہو چکی تھی گویا کہ کمائی کا دروازہ تو بند ہو گیا۔ اب تو کتابیں چھاپو اور تقسیم کرو۔ چنانچہ چوتھی جلد کے بعد براہین احمدیہ کی تالیف اور چھپائی کا سلسلہ موقوف کر دیا گیا۔ پیشگی خریداروں کے بے پناہ احتجاجات کے باوجوداگلے ۲۳سال میں مرزا صاحب نے ۸۰ دیگر کتابیں لکھ کر فروخت کیں۔ براہینِ احمدیہ کی پانچویں جلد بالآخر ۲۳سال بعد شائع کی گئی (ملاحظہ فرمائیے روحانی خزائن جو مرزا صاحب کی ان کم وبیش ۸۰کتابوں کا مجموعہ ہے جسے جماعت احمدیہ کے صدر دفتر واقع لندن سے شائع کیا گیا ہے۔ )

مگر آیا یہ ڈھٹائی کی انتہا تھی یا مرزا صاحب کی ’’ پیغمبر آنہ ‘‘ شان کہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کے دیباچہ میں فرماتے ہیں :

’’یہ وہی براہین احمدیہ ہے کہ جس کے پہلے چار حصے طبع ہو چکے ہیں۔ بعد اس کے ہر ایک سر صفحہ پر براہین احمدیہ کا حصہ پنجم لکھا گیا۔ پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا۔ اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔ ‘‘(روحانی خزائن جلد ۲۱صفحہ ۹)

سبحان اللہ ! کیا حساب ہے۔ پچاس کا وعدہ بھی پورا ہو گیا اور پیسے بھی ہضم! کیا یہی مرزائی پیغمبر آنہ معیار دیانتداری ہے ؟ نقطوں کا یہ ہیر پھیر قادیانی تحریک کا امتیازی نشان بن چکا ہے۔ کیوں نہ ہو آخر ان کے پیغمبر کی سنّت جو ہوئی۔ غالباً یہ اسی قسم کے نقطوں کی ہیرا پھیری کا کمال ہے کہ مرزا طاہر احمد ہر سال دس سے پچاس لاکھ افراد کی جماعت احمدیہ میں شمولیت کا دعویٰ کر کے اپنے آپ کو جھوٹی تسلیاں اپنے پیروکاروں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ‘‘

اپنی اس تحریر میں راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ’’وعدہ خلافی ‘‘ اور ’’امانت میں خیانت‘‘ کا الزام لگایا ہے نیز ’’پچاس اور پانچ ‘‘ پر بھی زبانِ استہزا دراز کی ہے اور ہر سال جماعتِ احمدیہ میں شامل ہونے والوں کی کثرت پر بھی طعن کیا ہے۔ ذیل میں ان امور کا ردّ ملاحظہ فرمائیں۔

i۔وعدہ خلافی

وعدہ خلافی کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا ارادہ تو فی الواقع تین سو دلائل براہین احمدیہ نامی کتاب ہی میں لکھنے کا تھا۔ مگر ابھی چار حصے لکھنے پائے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مامور فرما دیا۔ اور تالیف و تصنیف سے زیادہ عظیم الشان کام کی طرف متوجہ کر دیا۔ اس لئے حضور کو مجبوراً محض براہین ا حمدیہ کی تالیف کاکام چھوڑنا پڑا۔ اور یہ بات اہلِ اسلام کے ہاں مسلّم ہے کہ حالات کے تبدیل ہونے کے ساتھ وعدہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تبدیلی حالات کاذکر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم کے آخری صفحہ پر بعنوان ’’ ہم اور ہماری کتاب ‘‘ صاف لکھا کہ

’’ ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی پھر بعد اس کے قدرتِ الٰہیہ کی ناگہانی تجلّی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالَم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے اِنِّی اَنَا رَبُّکَ کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی سو اب اس کتاب کا متولّی ا ور مہتمم ظاہراً وباطناً حضرت ربُّ العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس نے جلد چہارم تک انوارِ حقیقتِ اسلام کے ظاہر کئے ہیں یہ بھی اتمام حجت کے لئے کافی ہیں۔ ‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم ۔روحانی خزائن جلد ۱۔ آخری صفحہ)

گویا اب حالات بدل گئے اور مشیّتِ ایزدی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارادہ کو ایک اعلیٰ مقصد کی ادائیگی کی طرف پھیر دیا۔

یہ تو ہر مسلمان کو علم ہے کہ ایک رؤیاکی بنا پرنبی کریم ﷺ حج پر تشریف لے گئے اوراپنے ہمراہ قربانیاں بھی لے گئے۔ لیکن حج کی بجائے عمرہ ہی کر سکے تو فرما یا

’’ لو استقبلت من امری ما استدبرت ما سقت الھدی معی ۔‘‘(مشکٰوۃ ۔کتاب الحج ۔باب قصّۃ حجّۃ الوداع)

کہ اگر مجھے اس معاملہ کی پہلے خبر ہوتی تو میں اپنے ساتھ قربانی کے جانور نہ لاتا۔ ‘‘(یعنی حالات کی تبدیلی کی وجہ سے مجبوراًعمرہ پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔)

پس یہ مسلّمہ سچّائی ہے کہ حالات کے بدلنے سے پروگرام بدل جایا کرتے ہیں۔ خصوصاً اعلیٰ مقاصد کے لئے ادنیٰ وعدے کالعدم قرار پا جاتے ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک اعلیٰ منصب پر مامور فرما کربدل دیئے ۔اس لئے براہینِ احمدیہ بھی اس صورت میں مکمل نہ ہو سکی جس طرح حضور پہلے ارادہ رکھتے تھے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک ادنیٰ وعدہ تھا جو منشائے الٰہی سے حالات بدل جانے کے باعث بہت اعلیٰ رنگ میں پورا ہوا۔اس کا نام خلاف وعدہ رکھنا غلطی ہے۔

تین سو(۳۰۰) دلائل کے متعلق حضور ؑ نے تحریر فرمایا ہے کہ :۔

’’ میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثباتِ حقیقتِ اسلام کے لئے تین سو دلائل براہین احمدیہ میں لکھوں لیکن جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل (اعلیٰ تعلیمات اور زندہ معجزات۔ ناقل) ہزارہا نشانوں کے قائم مقام ہیں۔ پس خدا نے میرے دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا او رمذکورہ بالا دلائل کے لکھنے کے لئے مجھے شرح صدر عنایت کیا۔ ‘‘(دیباچہ براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱)

چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقّانیتِ اسلام کے متعلق بلحاظ اعلیٰ واکمل تعلیمات اور زندہ معجزات اسّی(۸۰) سے زائدکتب تصنیف فرمائیں اور ان تمام دلائل کا بالتفصیل ذکر فرمایا ہے۔ پس وہ ارادہ بہر حال ایک اعلٰی رنگ میں پورا ہو گیا۔

افسوس ہے کہ یہ لوگ جو قرآنِ کریم کی محکم آیات میں بھی نسخ کے قائل ہیں اور مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی بعض آیات کو بعض کے ذریعہ منسوخ کر دیا ہے وہ اتنی سی بات پر معترض ہو رہے ہیں کہ حضرت اقدس ؑ نے براہین احمدیہ کی تکمیل کے متعلق جو ارادہ ظاہر فرمایا تھا وہ مزید وسعت اور جامعیّت کے ساتھ کیوں پورا ہوا، بعینہ اسی طرح ابتدائی رنگ میں کیوں سر انجام نہ پایا؟ روایات میں لکھا ہے

’’ عن مجاھد انّہ قالت الیھود لقریش اسئالوہ عن الرّوح وعن اصحاب الکھف وذی القرنین فسالوہ فقال ائتونی غداً اخبرکم ولم یستثن فابطا عنہ الوحی بضعۃ عشر یوماً حتی شق علیہ وکذبتہ قریش ‘‘( تفسیر کمالین ۔بر حاشیہ تفسیر جلالیں مجتبائی صفحہ ۲۴۱)

کہ قریش نے آنحضرت ﷺ سے ایک سوال کیا۔ آپؐ نے فرمایا کل آؤ میں تم کو اس کا جواب بتاؤں گا۔آپؐ نے انشاء اللہ نہ کہا۔ لیکن دس پندرہ دن گزر گئے اور اس بارہ میں آپ ؐ پر کوئی وحی نازل نہ ہوئی ۔ جس سے قریش نے آپ ؐ کی تکذیب کی (یعنی آپ کو خلافِ وعدہ کا الزام دیا )اور یہ بات آپ ؐ پر بہت شاق گزری ۔

بہت سے مفسّرین اس واقعہ کو نقل کیا ہے اور بتایا ہے کہ چونکہ حضور ﷺ نے اس وعدہ کے وقت انشاء اللہ نہ کہا تھا اس لئے ایساہو ا۔

ہم اس واقعہ کی صحت کے متعلق یہاں بحث کرنا نہیں چاہتے ۔ لیکن کثرت سے غیر احمدی علماء اسے درست مانتے ہیں۔

اب کیا راشد علی اور اس کے ہمنوا کہیں گے کہ (نعوذ باللہ) رسول کریم ﷺ نے خلافِ وعدہ کیا ؟ اگر یہ خلافِ وعدہ نہیں اور یقیناًنہیں کیونکہ اس کا سر انجام پانا اللہ کی مشیّت پر موقوف تھا تو پھر براہینِ احمدیہ کی تکمیل کا ارادہ ظاہر کرنے میں حضرت اقدس ؑ پر وعدہ خلافی کا الزام کیونکر عائد ہو سکتا ہے ؟

اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ

حضرت جبریل علیہ السلام آنحضرت ﷺ سے وعدہ کرتے ہیں کہ میں رات کو ضرور آؤں گا لیکن رات گزر جاتی ہے اور وہ نہیں آتے۔ پھر جب دوسرے وقت آئے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا :۔

’’ لقد کنت وعد تنی ان تلقانی البارحۃ قال اجل ولکنّا لا ندخل بیتا فیہ کلب ولا صورۃ ‘‘ (مشکوٰۃ ۔باب التصاویر ۔ مطبوعہ دینی کتب خانہ لاہور)

کہ آپ نے گذشتہ رات آنے کا وعدہ کیا تھا مگر نہ آئے ؟ اس نے کہا وعدہ تو ٹھیک کیا تھا لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوا کرتے جہاں کتّا یا صورت (بت وغیرہ) ہو۔ ‘‘

پس کیا راشد علی ، اس کا پیر اور ان کے ہمنوا اب حضرت جبریل علیہ السلام پر بھی وعدہ خلافی کا الزام لگائیں گے۔(نعوذ باللہ)

حقیقت یہ ہے کہ مشیّتِ الٰہی کے تحت، نئی صورتِ حال پیدا ہونے سے اور خصوصاًاعلیٰ صورت کی طرف حالات بدل جانے سے اگر پروگرام بدل جائیں اور اعلیٰ مقاصد پیشِ نظر ہوں تو ان پر وعدہ خلافی کا الزام لگانا سخت ناانصافی ہے۔حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے حالات جب خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے اعلیٰ صورت کی طرف بدل دئے تو آپ کو وہ وعدہ بھی اعلیٰ رنگ میں اور بڑھا چڑھا کر پورا کرنے کی توفیق بخشی۔

ii۔امانت میں خیانت

راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اپنے صریح بہتان ’’امانت میں خیانت ‘‘ کی دلیل کے طور پر کتاب ’’براہین احمدیہ ‘‘ کے لئے لوگوں سے رقوم کی وصولی کو پیش کیا ہے۔

راشد علی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بغض وعناد میں ابولہب کی طرح ادھار کھاتے بیٹھا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے دشمنوں کی طرح وہ ہر حال میں نیش زنی کرتا ہے۔ حالانکہ ’’براہینِ احمدیہ ‘‘ کی رقوم کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کوئی بہتان لگایا ہی نہیں جا سکتا۔

آپ ؑ نے حالات بدل جانے کی وجہ سے رقوم کی واپسی کے لئے وہی انتہائی اقدام کئے جو ایک دیانتدار اور امین شخص کر سکتا ہے۔ آپ نے دو مرتبہ سے زائد اشتہار دیا کہ جو جو لوگ اپنی قیمتیں واپس لینا چاہتے ہیں وہ وصول شدہ کتاب واپس بھیج کر قیمت واپس منگوا لیں۔

آپ ؑ نے اپنے اشتہار زیرِ عنوان ’’براہینِ احمدیہ اور اس کے خریدار‘‘ میں صاف طور پر لکھا :۔

’’ ایسے لوگ جو آئندہ کسی وقت جلد یا دیر سے اپنے روپیہ کو یاد کر کے اس عاجز کی نسبت کچھ شکوہ کرنے کو تیار ہیں یا ان کے دل میں بھی بدظنّی پیدا ہو سکتی ہے وہ براہِ مہربانی اپنے ارادہ سے مجھ کو بذریعہ خط مطلع فرما دیں اور میں ان کا روپیہ واپس کرنے کے لئے یہ انتظام کروں گا کہ ایسے شہر میں یا اس کے قریب اپنے دوستوں میں سے کسی کو مقرر کر دوں گا کہ تا چاروں حصّے کتاب کے لے کر روپیہ ان کے حوالے کرے۔ اور میں ایسے صاحبوں کی بدزبانی اور بدگوئی اور دشنام دہی کو بھی محض للہ بخشتا ہوں۔ کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی میرے لئے قیامت میں پکڑا جائے اور اگر ایسی صورت ہو کہ خریدارِ کتاب فوت ہو گیا ہو اور وارثوں کو کتاب بھی نہ ملی ہو تو چاہئے کہ وارث چار معتبر مسلمانوں کی تصدیق خط میں لکھوا کر کہ اصلی وارث وہی ہے وہ خط میری طرف بھیج دے تو بعد اطمینان وہ روپیہ بھی بھیج دیا جائے گا۔ ‘‘(تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحہ ۳۵)

اس کے بعد کیا ہوا ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :۔

۱۔’’ پس جن لوگوں نے قیمتیں دی تھیں اکثر نے گالیاں بھی دیں اور اپنی قیمت بھی واپس لی۔ ‘‘(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۷ طبع اول)

۲۔ ’’ ہم نے ۔۔۔۔۔۔ دو مرتبہ اشتہار دے دیا کہ جو شخص براہین احمدیہ کی قیمت واپس لینا چاہے وہ ہماری کتابیں ہمارے حوالے کرے اور اپنی قیمت لے لے۔ چنانچہ وہ تمام لوگ جو اس قسم کی جہالت اپنے اندر رکھتے تھے انہوں نے کتابیں بھیج دیں اور قیمت واپس لے لی۔ اور بعض نے تو کتابوں کو بہت خراب کر کے بھیجا۔ مگر پھر بھی ہم نے قیمت دے دی۔۔۔۔۔۔ خدا کا شکر ہے کہ ایسے دنی طبع لوگوں سے خدا تعالیٰ نے ہم کو فراغت بخشی۔ ‘‘( ایّام الصلح ۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ۱۹۶)

یہ حتمی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ایک بھی ایسا شخص باقی نہ رہا تھا جس نے قیمت کی واپسی کا مطالبہ کیا ہو اور اسے واپس ادا نہ کی گئی ہو۔اور جو دنی الطبع لو گ تھے وہ بھی سب کے سب فارغ کر دئیے گئے تھے۔ ورنہ ان اشتہارات اور تحریروں کی اشاعت پر وہ ضرور بول اٹھتے کہ ان کی پیشگی رقم واپس نہیں کی گئی۔

راشد علی کوئی ایک ثبوت بھی پیش نہیں کر سکتا کہ کسی نے رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا ہو اور اسے واپس نہ دی گئی ہو۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں تو دنی الطبع لوگ ایسے تھے کہ انہوں نے گالیاں بھی دیں اور قیمتیں بھی واپس لیں لیکن آج کل ایسے ہیں کہ جنہوں نے رقم بھی کوئی نہیں دی اور گالیاں بھی دیتے ہیں اور جھوٹے الزام بھی لگاتے ہیں!!!

بالآخر یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ دنیا کے اکثر لوگ جو تاریکی میں پیدا ہوتے اور اسی میں مر جاتے ہیں خدا کے نبیوں پر مالی معاملات میں بھی زبانِ طعن دراز کیا کرتے ہیں۔رسول اللہﷺ کو بھی غنیمتوں کی تقسیم میں مطعون کیا گیا۔ایسا طعن کرنے والوں کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔

وَمِنہُم مَّن یَّلمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ (التوبہ : ۵۹)

کہ ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ جو تجھ پر صدقات کے سلسلہ میں الزام لگاتے ہیں۔ ع۔ یہ تو ہے سب شکل ان کی ہم تو ہیں آئینہ دار

iii ۔پچاس اور پانچ

جہانتک پچاس اور پانچ کے عدد پر راشد علی کے استہزاء کا تعلق ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جوپانچ کو پچاس کے برابر قرار دیا ہے آپ نے حساب اپنی طرف سے نہیں لگایا۔ بلکہ خدا تعالیٰ کا بتایا ہوا حساب ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں لکھا ہے۔

’’فقال ھی خمس وھی خمسون‘‘ (بخاری ۔کتاب الصلوۃ۔ باب کیف فرضت الصلٰوۃ فی المعراج )

کہ معراج کی رات جب آنحضرت ﷺ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے پچاس نمازوں میں تخفیف کرانے کے لئے آخری مرتبہ اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہوئے تو خدا تعالیٰ نے فرمایا لیجیئے یہ پانچ ! یہ پچاس ہیں ۔‘‘

اور مشکوۃ کتاب الصلوۃ میں حدیث معراج کے یہ الفاظ ہیں :۔

’’قال انھنّ خمس صلوٰت کل یوم و لیلۃ لکلّ صلوٰۃ عشر فذلک خمسون صلٰوۃ‘‘ (مشکوٰۃ ۔باب فی المعراج )

ترجمہ:۔خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر دن اوررات میں یہ پانچ نمازیں ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک دس کے برابر ہے۔ پس یہ پچاس نمازیں ہو گئیں۔

راشد علی کی بڑی ہی جہالت ہے جو اس نے یہ لکھا ہے کہ

’’ نقطوں کا یہ ہیر پھیر قادیانی تحریک کا امتیازی نشان بن چکا ہے۔ کیوں نہ ہو آخر ان کے پیغمبر کی سنّت جو ہوئی۔ ‘‘

یہ نقطوں کا ہیر پھیر نہیں بلکہ پچاس کے فیض اور برکت کو پانچ میں سمونے کا امتیازی نشان ہے جو ہمارے پیغمبر حضرت محمّد مصطفی ﷺ کی پاک سنّت ہے۔

گو راشد علی نے اپنا بغض تو نکالا ہے لیکن جہالت میں بات ٹھیک ہی کرگیا ہے۔ یہ ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سنّت ہے۔ جس کی پیروی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کی ہے۔

iv۔لاکھوں افراد کی جماعتِ احمدیہ میں شمولیت

راشد علی لکھتا ہے

’’نقطوں کا یہ ہیر پھیر قادیانی تحریک کا امتیازی نشان بن چکا ہے۔ کیوں نہ ہو آخر ان کے پیغمبر کی سنّت جو ہوئی۔ غالباً یہ اسی قسم کے نقطوں کی ہیرا پھیری کا کمال ہے کہ مرزا طاہر احمد ہر سال دس سے پچاس لاکھ افراد کی جماعت احمدیہ میں شمولیت کا دعویٰ کر کے اپنے آپ کو جھوٹی تسلیاں اپنے پیروکاروں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ‘‘

اوّل تو راشد علی کی یہ بات جھوٹی ہے کہ

’’مرزا طاہر احمد ہر سال دس سے پچاس لاکھ افراد کی جماعت احمدیہ میں شمولیت کا دعویٰ کر کے اپنے آپ کو جھوٹی تسلیاں اپنے پیروکاروں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ‘‘

کیونکہ ہر سال لاکھوں نہیں اب کروڑوں لوگ جماعت احمدیہ میں داخل ہو رہے ہیں۔ چنانچہ گزشتہ چند سال کی بیعتوں کا ریکارڈ یہ ہے

۱۹۹۶۔۱۹۹۷ ۷۲۱،۶۰۲،۱

۱۹۹۷۔۱۹۹۸ ۵۸۴،۰۰۴،۳

۱۹۹۸۔۱۹۹۹ ۵۹۱،۰۰۴،۵

۱۹۹۹۔۲۰۰۰ ۹۷۵،۳۰۸،۴۱

۲۰۰۰۔۲۰۰۱ ۷۲۱،۰۰۶،۸۱

پس راشد علی اس لحاظ سے بھی جھوٹا ہی ثابت ہوا ۔ باقی جہانتک اس کی جھوٹی تسلّیوں والی بات کا تعلق ہے تو اس کو واقعات ہی جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔ دراصل جماعت کی روز افزوں ترقی دیکھ کر راشد علی کو اس کا شیطان جھوٹی تسلّیاں دیتا ہے کیونکہ یہ اسی کا کام ہے کہ’’ یُمَنِّیْھِمْ‘‘ شیطان اپنے چیلوں کو جھوٹی تسلّیاں دیتا ہے۔ اور راشد علی پر خدا تعالیٰ کا یہ فرمان بالکل سچ بیٹھتا ہے کہ وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّا اَنْفُسَھُمْ وہ محض خود کو ہی دھوکے میں مبتلا کر رہاہے۔

خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعتِ احمدیہ الہٰی وعدوں کے مطابق ایسی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ روزانہ’’ یَدْخُلُوْنَ فِی دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاْجاً‘‘کا نظارہ ہر طرف نظر آتا ہے ۔ اور بادشاہ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈتے ہیں۔ فالحمد للہ ربّ العالمین۔

Please follow and like us:
%d bloggers like this: