احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

الہامات و پیشگوئیوں پر اعتراض, متفرق اعتراضات

بکر و صیب. دو عورتوں بیوہ ور کنواری سے شادی کے الہام پر اعتراض کا جواب

دو عورتوں (بیوہ اور باکرہ) سے شادی کا الہام

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جس الہام کا راشد علی کے پیر عبدالحفیظ نے ذکر کیا ہے اور اس کے الفاظ کی ترتیب کو بدل کر دھوکا دینا چاہا ہے، وہ ہے ’’ بِکرٌ وَّثَیِّبٌ ‘‘ جس کا ترجمہ ہے ’’ کنواری اور بیوہ‘‘ اس الہام کی توجیہہ شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی سمجھی کہ یہ الہام ایک کنواری سے اور ایک بیوہ سے شادی کے بارہ میں ہے ۔ اس کا ذکر آپ ؑ نے اپنی کتاب ’’ تریاق القلوب ‘‘ میں فرمایا ہے۔ اس الہام سے بیوہ سے شادی کا اجتہاد اس وجہ سے تھا کہ توبہ توڑ دینے کی وجہ سے محمدی بیگم کے شوہر سلطان محمد صاحب کی موت ہو گی اور وہ بیوہ ہو جائے گی ۔ ایسی صورت میں اس سے شادی ہو گی۔ چونکہ سلطان محمد صاحب نے حقیقی توبہ کی اور مخالفین کے بار بارانگیخت کرنے پر بھی توبہ نہ توڑی تو وہ اس موت سے بچ گئے جو ان کے لئے عدمِ توبہ کے ساتھ مشروط تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی سنّتِ مستمرہ کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اس اجتہاد پر قائم نہ رہنے دیا جو عدمِ توبہ کی وجہ سے سلطان محمد صاحب کی موت ، اور اس کی موت کے بعد اس کی بیوہ سے شادی کے بارہ میں تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ۱۶ فروری ۱۹۰۶ء کو آپ پر یہ الہام نازل فرمایا ’’ تکفیک ھذہ الامراۃ ‘‘ کہ تمہارے لئے یہ عورت (جو تمہارے نکاح میں ہے ) کافی ہے۔ اس الہام کے نازل ہونے پر آپ نے اپنے پہلے اجتہاد میں اصلاح فرمالی۔ اس جدید اجتہاد سے جو الہام جدید کی روشنی میں کیا گیا آپ ؑ کا پہلا اجتہاد جس میں آپ محمدی بیگم کے خاوند کے توبہ توڑنے کو اور اس کے بعد نکاح کو ضروری قرار دیتے تھے قابل حجت نہ رہا۔ پس یہ پیشگوئی اپنی الہامی شرط کے مطابق ظہور پذیر ہو گئی۔

مذکورہ بالا الہام ’’ بکرو ثیّب ‘‘ کا اطلاق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب ’’نزول المسیح‘‘ ( روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۲۴ ، ۵۲۵) میں حضرت امّ المومنین نصرت جہاں بیگم ؓ پر کیا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں جب آئیں گی کنواری ہوں گی ،مگر بیوہ رہ جائیں گی ۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ علاوہ ازیں اس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پہلے ہو گی اور آپ حضور علیہ السلام کی زندگی میں فوت نہ ہوں گی۔ پس یہ پیشگوئی خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق اور بعینہ الہام میں بیان شدہ الفاظ کی ترتیب ’’ بکرٌ وّ ثیّبٌ‘‘ پوری ہوئی۔

Please follow and like us:
error0

Theme by Anders Norén