متفرق اعتراضات

جماعت احمدیہ مسلمہ کا نام رجسٹر کرانے پر اعتراض کا جواب

نئی امّت رجسٹر کرائی

ان کا ایک اعتراض یہ ہے کہ

’’ ۱۸۹۱ ء میں انہوں نے جماعت احمدیہ کے نام سے اپنی اس امت کو انگریز سرکار میں رجسٹر کرایا۔ ‘‘(بے لگام کتاب)

اس میں اعتراض کا نا معلوم کونسا پہلو ہے جو راشد علی اور اس کے پیر کو سجھائی دیا ہے۔ کسی حکومت میں کسی کا رجسٹر ہونا اگر قابل اعتراض ہے تو ساری دنیا میں مسلمانوں کی سب تنظیمیں اس اعتراض کے نیچے آتی ہیں ۔ خصوصاً سندھ میں بیت المکرم ٹرسٹ بھی اسی اعتراض کے نیچے آتا ہے اگر وہ رجسٹرڈ ہے ۔ اگر نہیں تو غیر قانونی ہونے کی وجہ سے جرائم کی فہرست میں آتا ہے۔

انہیں اس پر دکھ ہے کہ جماعت احمدیہ کو رجسٹرڈ کیوں کرایا گیا ۔ حالانکہ اس زمانہ میں مسلمانوں کا ایک مشہور مذہبی ادارہ ’’ ندوۃ العلماء ‘‘ کا حال یہ تھا کہ ان کا ترجمان رسالہ ’’ النددہ ‘‘ لکھتا ہے ۔

’’یہ مشہور مذہبی درسگاہ ایک انگریز کی مرہون منت ہے۔ ‘‘ (الندوہ ۔ دسمبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۷جلد۵نمبر۱۱)

پھر اسی مذہبی درس گاہ دارالندوہ کے بارہ میں لکھا کہ

’’ اس کا اصلی مقصد روشن خیال علماء پیدا کرنا ہے اور اس قسم کے علماء کا ایک ضروری فرض یہ بھی ہے کہ گورنمنٹ کی برکات حکومت سے واقف ہوں اور ملک میں گورنمنٹ کی وفاداری کے خیالات پھیلائیں ۔ ‘‘(الندوہ ۔ جولائی ۱۹۰۸ء جلد۵صفحہ ۱)

اس اقرار میں رجسٹریشن کی بات تو بہت ہی دور رہ جاتی ہے اصل بات تو ’’برکاتِ حکومت سے واقف ‘‘ ہونا ہے ۔ یہ کام راشد علی اور اس کے پیر کے بڑے کرتے رہے ہیں۔

جہاں تک جماعت کے نام کا تعلق ہے ۔ یہ کوئی الگ امت کے طور پر رجسٹرڈ نہیں کرائی گئی بلکہ اس کا نام ’’ مسلمان فرقہ احمدیہ ‘‘ رکھا گیا ۔ یہ تو جماعتِ احمدیہ پرجھوٹ تراشنے والوں کا شرّ تھا کہ وہ اسے الگ امت قرار دینے پر ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے۔ جماعت احمدیہ تو پہلے دن سے مسلمان ہے اور حقیقی اسلام کی علمبردار ہے اور آخر تک یہی رہے گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

’’ وہ نام جو اس سلسلہ کے لئے موزون ہے جس کو ہم اپنے لئے اور اپنی جماعت کے لئے پسند کرتے ہیں وہ نام مسلمان فرقہ احمدیہ ہے ۔ اور جائز ہے کہ اس کو احمدی مذہب کے مسلمان کے نام سے بھی پکاریں۔ یہی نام ہے جس کے لئے ہم ادب سے اپنی معزز گورنمنٹ میں درخواست کرتے ہیں کہ اسی نام سے اپنے کاغذات اور مخاطبات میں اس فرقہ کو موسوم کرے یعنی مسلمان فرقہ احمدیہ ۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات۔ جلد ۳۔صفحہ۳۶۴ ، ۳۶۵ ۔اشتہار ۴نومبر ۱۹۰۰ء)

اس نام کی وجہ آپ ؑ نے یہ بیان فرمائی۔

’’ اس فرقہ کا نام مسلمان فرقہ احمدیہ اس لئے رکھا گیا کہ ہمارے نبی ﷺ کے دو نام تھے۔ ایک محمد ﷺ دوسرا احمد ﷺ ۔ ‘‘ (حوالہ مذکورہ بالا)

احمدیت ہی حقیقی اسلام ہے جیسا کہ شارح مشکوۃ اور عظیم حنفی امام ملاّ علی القاری ؒ نے کئی سو سال پہلے یہ خبر دی تھی کہ

’’والفرقۃ النّاجیۃ ہم اہل السّنّۃ البیضآء المحمّدیۃ والطریقۃ النقیۃ الاحمدیّۃ ‘‘(مرقاۃ المفاتیح ۔ شرح مشکوۃ المصابیح ۔ جلد اول صفحہ ۲۴۸۔مطبوعہ مکتبہ میمنیہ مصر)

یعنی ناجی فرقہ وہ ہے جو روشن سنت محمدیہ اور پاکیزہ طریقہ احمدیہ پر قائم ہو گا۔

پس احمدیت الگ امّت نہیں بلکہ’’ حقیقی اسلام ‘‘ہے ۔

%d bloggers like this: