احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

متفرق اعتراضات, نیک لوگوں کی توہین کا اعتراض

حضرت حسن رضی اللہ کی توہین کے الزام کا جواب

حضرت امام حسینؓ کی توہین کے الزام کا جواب

راشد علی اور اس کے پیر نے اپنی ’’بے لگام کتاب‘‘ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی درج ذیل عبارت اور اس شعر کو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی توہین کے الزام کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے ۔ گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ لکھ کر حضرت امام حسینؓ کی توہین کی ہے کہ

’’ اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا صاحب ) ہے کہ حسین سے بڑھ کر ہے۔ ‘‘

کر بلائیست سیر ہر آنم * صد حسین است در گریبانم

(درثمین صفحہ ۲۸۷ مجموعہ کلام مرزا غلام قادیانی ۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۴۷۷)‘‘

قارئین کرام ! راشد علی اور اس کے پیر کی یہ ایسی ہی بدیانتی ہے جیسے کوئی سورۃ النساء کی آیت نمبر۴۴کا یہ پہلا حصہ ۔ لَا تَقرَبُوْا الصَّلٰوۃ تو پڑھ دے کہ نماز کے قریب نہ جاؤ اور اگلے حصہ وَاَنْتُمْ سُکَارٰی کے ذکر کو چھوڑ دے۔

یہ شعر جو راشد علی اور اس کے پیر نے یہاں اعتراض کے طور پر پیش کیا ہے اس سے پہلے اشعار کا مضمون عشقِ الٰہی کی کیفیات پر مشتمل ہے اور حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے بتایا ہے کہ آپ بھی ان کشتگانِ حبِّ خدا میں شامل ہیں اور اس زمانہ میں اس کار زارِ عشق کے قتیل ؑ ہیں۔ چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں

بالخصوص آں سخن کہ از دلدار ۔۔۔خاصیت دارد اندریں اسرار

دلدار کی وہ باتیں جو اسرار کے طور پر عشق پیدا کرنے والی خاصیت اپنے اندر رکھتی ہیں

کشتہ او نہ یک نہ دو نہ ہزار ۔۔۔ایں قتیلان او بروں ز شمار

اس دلدار کے فدائی صرف ایک دو یا ہزار انسان ہی نہیں ہیں بلکہ اس کے کشتے بے شمار ہیں۔

ہر زمانے قتیل تازہ بخواست۔۔۔غازہ روئے او دم شہداست

ہر وقت وہ ایک نیا قتیل چاہتا ہے اس کے چہرہ کا غازہ شہیدوں کا خون ہوتا ہے

ایں سعادت چو بود قسمت ما ۔۔۔رفتہ رفتہ رسید نوبت ما

یہ سعادت چونکہ ہماری قسمت میں تھی رفتہ رفتہ ہماری نوبت بھی آپہنچی۔

ان سے اگلا شعر یہ ہے

کربلائے ست سیر ہر آنم ۔۔۔ صد حسینؓ است در گریبانم

میں ہر وقت گویاکربلا میں پھرتا ہوں اور سینکڑوں حسینؓ میرے دل میں پنہاں ہیں۔

(نزول المسیح ۔ روحانی خزائن جلد ۱۸صفحہ ۴۷۶)

اس آخری شعر میں آپ ؑ نے میدانِ کربلا کے کرب وبلا اور اس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ثبات قدم اور قربانیوں کی کیفیات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس زمانہ میں ان کیفیات میں سے آپ گذر رہے ہیں۔ پس یہاں نہ اس میدانِ کربلا کا ذکر ہے نہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا۔ بلکہ یہ دونوں نام مستعار لے کر بطور استعارہ استعمال کئے ہیں ۔ اور شعر وادب میں استعارہ کو ظاہر پر محمول کرنا جائز نہیں ہے۔

اسی طرح شعر کا قرینہ بتاتا ہے کہ اس میں لفظ ’’ گریبان ‘‘ کا استعارہ دل کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ گریبان سے مراد قمیض وکرتہ کا گلا نہیں بلکہ عشقِ خدا سے معمور وہ دل ہے جس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ جیسے کشتگانِ حبِّ خدا کی محبت سینکڑوں دفعہ نہیں، ہزار ، لاکھ بار بسی ہوئی ہے۔

شعر و ادب کا یہ خاصّہ اور حسن ہے کہ چاہے کسی زبان کے ہوں ان میں مجاز اور استعارے استعمال ہوتے ہیں اور ان میں بقول شاعر

ع ’’ حسن کو چاند ، جوانی کو کنول کہتے ہیں‘‘

حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے ان اشعار میں رہ عشق خدا میں اپنی مشکلات وتکالیف کے بیان کے لئے کربلا اور حسینؓ اور گریبان کے استعارے اسی طرح استعمال فرمائے ہیں جس طرح علاّمہ ملا ّ نوعیؒ نے اپنے اس شعر میں استعمال فرمائے کہ

کربلائے عشقم ولب تشنہ سرتا پائے من ۔۔۔صد حسینؓ کشتہ در ہر گوشہ صحرائے من

(دیوان علاّمہ نوعی)

کہ میں عشق کا کربلا ہوں اور سراپا تشنہ محبت ہوں اور میرے دل کے ہر گوشے میں سینکڑوں حسینؓ قتل ہوتے ہیں۔

اس شعر میں بھی کربلا اور حسینؓ کے استعاروں سے مراد میدانِ کربلاکے کرب وبلا اور حسینؓ سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی استقامت اور قربانیوں کی کیفیات ہی کا اظہارمقصود ہے نہ کہ حضرت حسینؓ پر فضیلت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اور دل کے لئے صحرا کا استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔ ان استعاروں کو ظاہر پر محمول کر کے ان کو ناجائز قرار دینے والا یا ان کی وجہ سے صاحبِ شعر کو ہدفِ اعتراض بنانے والا کوئی جاہل ہی ہو سکتا ہے۔ کہ جس کو شعر وادب کا ادراک ہی نہیں یا پھر ایسا کور باطن ہو سکتا ہے جو دن کو بھی رات ہی سمجھتا ہے۔

جہاں تک ’کتاب دافع البلاء روحانی خزائن جلد ۱۸صفحہ۲۳۳‘کی مذکورہ بالا عبارت کا تعلق ہے جس پر راشد علی اور اس کے پیر نے اپنے اعتراض کی بنیاد رکھی ہے تو اس میں ان دونوں نے بدیانتی سے کام لیا ہے اور ادھوری عبارت پیش کی ہے اور اس عبارت کا پس منظر بھی نہیں بتایا۔ قارئین اگر اس عبارت کا سیاق وسباق پڑھیں تو حقیقت حال واضح ہو جائے گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جگہ غالی شیعوں کے اس رجحان کو بدلنے کی کوشش کی ہے جس کا رخ شرک کی طرف تھا۔ وہ خدا تعالیٰ کی بجائے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو مشکل کشا اور بلاؤں کو ٹالنے والا جانتے تھے۔ آپ ؑ نے ان کو خدائے قادر ومطلق سے وابستہ ہونے کے لئے اپنی طرف متوجہ فرمایا ہے۔ لیکن یہاں اس تفصیل میں جائے بغیر ہم آپ کی خدمت میں صرف یہ عرض کرتے ہیں کہ اس پیر اور مرید نے محض فتنہ اور فساد کی غرض سے اسے جذباتی مسئلہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ بحث حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی نہیں۔ بحث اس موعود مسیح ومہدی کے مقام کی ہے جس کے بارہ میں یہ پیر اور مرید اور ان کے بزرگ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ سید الانبیاء ﷺ کا خلیفہ ہو گا اور نبی ہو گا۔ جیسا کہ اس کتاب میں ہم یہ دوسری جگہ درج کر آئے ہیں ۔ پس خلیفۃ الرسول ؐ اور نبی اللہ سے کسی دوسرے کے مقام کا موازنہ کرنا اور اسے جذباتی مسئلہ بنانا ، فتنہ پیدا کرنا نہیں تو اور کیا ہے ؟

اہل حدیث کے مشہور نامور عالم نواب صدیق حسن خان صاحب نے اپنی کتاب پر حضرت امام محمّد ابن سیرین ؒ کی یہ روایت درج کی ہے۔

’’ تکون فی ھذہ الامۃ خلیفۃ خیر من ابی بکر وعمر ‘‘ (حجج الکرامہ فی آثار القیامہ۔صفحہ ۳۸۶۔مطبع شاہ جہان بھوپال)

کہ اس امّت میں ایک خلیفہ ایسا ہو گا جو حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سے بھی افضل ہو گا۔

جہاں تک بزرگانِ سلف کا تعلق ہے آنے والے مہدی کے بارہ میں یہ بیان ان کے عقیدہ کی پوری عکّاسی کرتا ہے ۔ چنانچہ حضرت امام عبدالرزّاق قاشانی ؒ کی شرح میں حضرت پیرانِ پیر سیّد عبدالقادر جیلانی ؒ کا یہ قول درج ہے ۔ آپ ؒ بیان فرماتے ہیں ۔

’’ المہدی الّذی یجئی فی آخر الزّمان فانّہ یکون فی الاحکام الشّرعیّۃ تابعاً لمحمّد صلعم وفی المعارف والعلوم والحقیقۃ تکون جمیع الانبیاء والاولیاء تابعین لہ کلّھم لانّ باطنہ باطن محمّد صلعم ‘‘ (شرح فصوص الحکم صفحہ ۴۲،۴۳مطبع مصطفی البابی الحلبی مصر )

کہ امام مہدی علیہ السلام جو آخری زمانہ میں ہوں گے چونکہ وہ احکام شرعی میں آنحضرت ﷺ کے تابع ہوں گے۔ اس لئے معارف اور علوم اور حقیقت میں تمام کے تمام ولی اور نبی اس کے تابع ہوں گے کیونکہ ان کا باطن آنحضرت ﷺ کا باطن ہو گا۔

پس ہمارے نزدیک حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام وہی مہدی برحق ہیں جن کی آمد کی پیشگوئی آنحضرت ﷺ نے فرمائی تھی اس لئے ان کا وہی مقام ہے جو انہیں آنحضرت ﷺ نے عطا فرمایا اور اس کی تشریح بزرگانِ امّت نے کی۔

اب آخر میں ہم ان پیر ومرید سے یہ پوچھتے ہیں کہ اگر آپ نے یہ مسئلہ محض چالاکی اور شرارت کی غرض سے نہیں اٹھایا اور اسے جذباتی مسئلہ بنانا مدنظر نہیں تھا تو بتائیں کہ

۱۔ آپ کے پاس کونسی آیتِ قرآنیہ ہے جس میں اللہ جلّ شانہٗ نے فرمایا ہو کہ حضرت امام حسین علیہ السلام افضل ہیں تمام انبیاء سے۔

۲۔ کسی حدیث صحیح میں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہو کہ امام حسین ؑ افضل ہیں تمام انبیاء سے ۔

۳۔ امام حسین ؑ نے کبھی خود فرمایا ہو کہ وہ افضل ہیں تمام انبیاء سے سوائے آنحضرت ﷺ کے۔

۴۔ یا باقی آئمہ اہل بیت میں سے کسی امام نے فرمایا ہو کہ امام حسین ؑ افضل ہیں تمام انبیائے سابقہ سے سوائے رسول اکرم ﷺ کے۔

اگر راشد علی اور اس کے پیر کے پاس مذکورہ بالا مطلوبہ ثبوت موجود ہوں تو پیش کریں۔وان لّم تفعلوا ولن تفعلوا…..نہ وہ ایسے ثبوت پیش کرسکتے ہیں نہ کریں گے۔ تو ایک غلط اور جھوٹا دعوٰی اعتراض کیوں کرتے ہیں؟

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کی شان

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

’’ حسین رضی اللہ عنہ طاہر ومطہّر تھا اور بلاشبہ ان برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے اور اپنی محبت سے معمور کرتا ہے ۔ اور بلاشبہ وہ سرداران بہشت میں سے ہے اور ایک ذرّہ کینہ رکھنا اس سے ، موجبِ سلبِ ایمان ہے اور اس امام کا تقویٰ اور محبت اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کی اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔ تباہ ہوگیا وہ دل جو اس شخص کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتاہے اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبتِ الٰہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے جیسا کہ ایک صاف آئینہ ایک خوبصورت انسان کا نقش ۔ یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں، کون جانتا ہے ان کی قدر مگر وہی جو انہی میں سے ہے ۔ دنیا کی آنکھ ان کو شناخت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں۔ یہی وجہ حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا ۔ دنیا نے کس پاک اور برگزیدہ سے اس کے زمانہ میں محبت کی تا حسین رضی اللہ عنہ سے بھی محبت کی جاتی۔ ‘‘(فتاویٰ احمدیہ ۔ حصہ دوم صفحہ ۴۲)

پھر فرمایا :۔

’’ حضرت امام حسین اور امام حسن رضی اللہ عنہما خدا کے برگزیدہ اور صاحبِ کمال اور صاحبِ عفت اور عصمت اور ائمّۃ الہدٰی تھے اور وہ بلاشبہ دونوں معنوں کے رو سے آنحضرت ﷺ کے آل تھے۔ ‘‘(تریاق القلوب ۔ روحانی خزائن جلد ۱۵صفحہ ۳۶۴ ، ۳۶۵ حاشیہ )

اللٰہمّ صلِّ علیٰ محمّدٍ و علیٰ آلِ محمّدٍ

Please follow and like us:
error0

Theme by Anders Norén

%d bloggers like this: