تحریرات پر اعتراض, متفرق اعتراضات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام اور قبر میں عزاب کی وضاحت

عذاب قبر

راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کر کے یہ بھی لکھاہے کہ

(Beware…) “There is no punishmet in grave”

یہ بات بھی اس کے کذب وافتراء کا شاہکار ہے جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ قبر میں عذاب نہیں ہو گا ہم کہتے ہیں کہ اگر اس نے توبہ نہ کی اور زمانہ کے مامور من اللہ کی تکذیب اور اس کی شان میں گستاخیوں سے باز نہ آیا تو اسے بہر حال قبر میں عذاب ملے گا۔ اس کے لئے خدا تعالیٰ کے پاک مسیحؑ نے پیغام یہ دیا ہے کہ۔

’’ میّتِ خبیث کے لئے روزخ کی طرف قبر میں ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے جس کی راہ سے دوزخ کی ایک جلانے والی بھاپ آتی رہتی ہے اور اس کے شعلوں سے ہر وقت وہ خبیث روح جلتی رہتی ہے لیکن ساتھ اس کے یہ بھی ہے کہ جو لوگ اپنی کثرتِ نافرمانی کی وجہ سے ایسے فنافی الشّیطان ہونے کی حالت میں دنیا سے جدا ہوتے ہیں کہ شیطان کی فرمانبرداری کی وجہ سے بکلّی تعلقات اپنے مولیٰ حقیقی سے توڑ دیتے ہیں ان کے لئے ان کی موت کے بعد صرف دوزخ کی طرف کھڑکی ہی نہیں کھولی جاتی بلکہ وہ اپنے سارے وجود اور تمام قویٰ کے ساتھ خاص دوزخ میں ڈال دئیے جاتے ہیں جیسا کہ اللہ جلّشانہ فرماتا ہے مِمَّا خَطآیءٰتِہِم اُغرِقُوا فَاُدخِلُوا نَارًا (سورہ نوح:۲۶) مگر پھر بھی وہ لوگ قیامت کے دن سے پہلے اکمل اور اتمّ طور پر عقوباتِ جہنّم کا مزہ نہیں چکھتے۔ ‘‘(ازالہ اوہام ۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۲۸۳ ، ۲۸۴)

چونکہ راشد علی کا شیطان کے ساتھ خاص تعلق ہے اس لئے وہ عذابِ قبر کا مشاہدہ تو مرنے کے بعد کر سکتا ہے البتہ جو جھوٹ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کیا ہے اس کا ردّ کرتے ہوئے ، اس کے کھلے کھلے جھوٹ کی وجہ سے اسے’’ لعنۃ اللہ علٰی الکاذبین‘‘ کاسرٹیفکیٹ پیش کرتے ہیں۔

%d bloggers like this: