احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

تحریرات پر اعتراض, متفرق اعتراضات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی مسجد اقصی کی تشریح پر الزام کا جواب

مسجد اقصیٰ

راشد علی لکھتا ہے Verse of Holy Quran ”

سُبحٰنَ الَّذِی اَسرٰی بِعَبدِہ لَیلاً مِّنَ المَسجِدِ الحَرَامِ اِلَی المَسجِدِ الاَقصٰی ۔۔۔۔۔۔ (سورۃ ۱۷آیت ۱)

“Its literal and real application is the Mosque built by Mirza Ghulam Ahmad Qadian`s father.”

یہ بات لکھتے ہوئے راشد علی نے لفظ Literal اور real لکھ کر پھر بدیانتی کا ارتکاب کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسجد اقصیٰ کی ایک ایسی توجیہہ کی ہے جس کی سچّائی سے کوئی صاحبِ بصیرت مسلمان انکار نہیں کر سکتا کیونکہ یہ توجیہہ، حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کے معراج کی ایک الگ شان پیش کرتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالفین تو ویسے ہی سچّائی کے دشمن بن کر آپ ؑ کی تحریرات پر حملے کرتے ہیں اس لئے ان کے سامنے یہ سچّائی بھی قابلِ اعتراض ہے۔ ان کا جب عرفان ومعارف کے کوچے سے گذر ہی نہیں تو انہیں آنحضرت ﷺ کے معراج کی راہوں کی سمجھ کس طرح آسکتی ہے۔

مزید برآں یہ بات بھی غلط ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صرف اپنی ہی تشریح کو قائم فرمایا ہے اور باقی تشریحات کالعدم کر دی ہیں۔ ایسا بالکل نہیں بلکہ آپ ؑ نے دیگر توجیہات کے ساتھ ایک اور حقیقت افروز توجیہہ پیش فرمائی ہے و بس۔ پس یہ معترضین کی بدیانتی ہے جو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو یہ فرماتے ہیں کہ۔

’’ سُبحٰنَ الَّذِی اَسرٰی بِعَبدِہ لَیلاً مِّنَ المَسجِدِ الحَرَامِ اِلَی المَسجِدِ الاَقصٰی الَّذِی بَارَکنَا حَولَہٗ اس آیت کے ایک تو وہی معنے ہیں جو علماء میں مشہور ہیں یعنی یہ کہ آنحضرت ﷺ کے مکانی معراج کا یہ بیان ہے مگر کچھ شک نہیں کہ اس کے سوا آنحضرت ﷺ کا ایک زمانی معراج بھی تھا جس سے یہ غرض تھی کہ تا آپ ؐ کی نظرِ کشفی کا کمال ظاہر ہو اور نیز ثابت ہو کہ مسیحی زمانہ کے برکات بھی درحقیقت آپ ہی کے برکات ہیں جو آپ کی توجّہ اور ہمّت سے پیدا ہوئی ہیں۔ اسی وجہ سے مسیحؑ ایک طور سے آپ ہی کا روپ ہے۔ اور وہ معراج یعنی بلوغِ نظرِ کشفی دنیا کی انتہا تک تھا جو مسیحؑ کے زمانہ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس معراج میں جو آنحضرت ﷺ مسجد الحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک سیر فرما ہوئے وہ مسجدِ اقصیٰ یہی ہے جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے جس کا نام خدا کے کلام نے مبارک رکھا ہے یہ مسجد جسمانی طور پر مسیح موعود کے حکم سے بنائی گئی ہے اور روحانی طور پر مسیح موعود کے برکات اور کمالات کی تصویر ہے جو آنحضرت ﷺ کی طرف سے بطور موہبت ہے۔ ‘‘(خطبہ الہامیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۲۱ ، ۲۲حاشیہ)

اس عبارت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلے علماء کے معنوں کی بھی تصدیق کی ہے اور خود جو معانی پراز معارف بیان فرمائے ہیں وہ آنحضرت ﷺ کی نظرِ کشفی کے کمال اور آپ ؐ کے زمانی معراج کو ظاہر کرنے والے بیان فرمائے ہیں۔ پس کسی مسلمان کو ایسے معانی جو آنحضرت ﷺ کے کمال اورمرتبہ کو ظاہر کرنے والے ہوں، اعتراض نہیں کرنا چاہئے کجا یہ کہ وہ ان کو ردّ کرے۔ جب مسیحِ موعودؑ کے زمانہ کی برکات بھی آنحضرت ﷺ کی ہی برکات ہیں تو پھر مسیحِ موعود ؑ کی مسجدِ اقصیٰ بھی دراصل آنحضرت ﷺ کی ہی برکتوں سے معمور ہے۔برکتیں سب آنحضرت ﷺ کی ہی ہیں جو ہمیشہ اورہر زمانہ میں کسی نہ کسی وجود سے ظاہر ہوتی ہیں۔ کلّ برکۃٍ من محمّدٍ ﷺ فتبارک من علّم و تعلّم

Please follow and like us:
%d bloggers like this: