احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

ذات پر اعتراضات, متفرق اعتراضات

حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام پر زن زر زمین اور نام و نمود سے محبت کا الزم

زن ، زر ، زمین اور نام ونمود

حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر زبانِ طعن دراز کرتے ہوئے راشد علی لکھتا ہے۔

’’ سخت مایوسی کے اس دور نے مرزا صاحب کو مذہب کی طرف دھکیلا اور پھر مذہب کو انہوں نے اپنی دبی ہوئی خواہشات (زن ، ز ر، زمین اور نام ونمود ) کے حصول کا ذریعہ بنا لیا۔‘‘ (بے لگام کتاب)

راشد علی کی ان خرافات کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بچپن اور جوانی کے زمانہ کی پاک سیرت پر مشتمل بیسیوں روایات میں سے صرف تین روایات پیش ہیں۔ ان سے ایک قاری کے لئے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہو گا کہ راشد علی اور اس کے ہم مشرب یقیناًجھوٹے ہیں اوراس دور میں مکذّبینِ انبیاء ؑ کے حقیقی مثیل ہیں۔

’’ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی ؓ نے آپؑ کے بچپن کا ایک عجیب واقعہ یوں بیان کیا ہے کہ آپ چھوٹی عمر میں ہی اپنی ایک ہم عمر سے (جو بعد میں آپ سے بیاہی گئی) فرمایا کرتے تھے کہ

’’ دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے ‘‘(حیاتِ طیّبہ۔ مصنّفہ شیخ عبدالقادرؓ سابق سوداگر مل۔ صفحہ۱۰ مطبوعہ ۱۹۵۹ء)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمدؓ ایک سکھ زمیندار کا بیان درج کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔

’’ ایک دفعہ ایک بڑے افسر یا رئیس نے ہمارے دادا صاحب (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضرت والد صاحب ) سے پوچھا کہ سنتا ہوں کہ آپ کا ایک چھوٹا لڑکا بھی ہے مگر ہم نے اسے کبھی دیکھا نہیں دادا صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ہاں میرا ایک چھوٹا لڑکا تو ہے مگر وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کم ہی نظر آتا ہے۔ اگر اسے دیکھنا ہو تو مسجد کے کسی گوشہ میں جا کر دیکھ لیں۔ وہ تو مسیتڑہے اور اکثر مسجد میں ہی رہتا ہے اور دنیا کے کاموں میں اسے کوئی دلچسپی نہیں۔ ‘‘(سیرتِ طیّبہ ۔ از حضرت مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ ۔صفحہ ۱۱ ۔مطبوعہ نظارت اشاعت ربوہ ۱۹۶۰ء)

حضرت مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں۔

’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جوانی کاعالم تھا جبکہ انسان کے دل میں دنیوی ترقی اور مادی آرام وآسائش کی خواہش اپنے پورے کمال پر ہوتی ہے اور حضور ؑ کے بڑے بھائی صاحب ایک معزّز عہدہ پر فائز ہو چکے تھے اور یہ بات بھی چھوٹے بھائی کے دل میں ایک گونہ رشک یا کم از کم نقل کا رجحان پیدا کر دیتی ہے ۔ ایسے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد صاحب نے علاقہ کے ایک سکھ زمیندار کے ذریعہ جو ہمارے دادا صاحب سے ملنے آیا تھا حضرت مسیح موعود ؑ کو کہلا بھیجا کہ آجکل ایک بڑا افسر برسرِ اقتدار ہے جس کے ساتھ میرے خاص تعلقات ہیں اس لئے اگر تمہیں نوکری کی خواہش ہو تو میں اس افسر کو کہہ کر تمہیں اچھی ملازمت دلا سکتا ہوں۔ یہ سکھ زمیندار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہمارے دادا صاحب کا پیغام پہنچا کر تحریک کی کہ یہ ایک بہت عمدہ موقع ہے اسے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود نے اس کے جواب میں بلا توقّف فرمایا ۔

حضرت والد صاحب سے عرض کر دو کہ میں ان کی محبت اور شفقت کا ممنون ہوں مگر

’’ میری نوکری کی فکر نہ کریں میں نے جہاں نوکر ہونا تھا ہو چکا ہوں۔ ‘‘

یہ سکھ زمیندار حضرت دادا صاحب کی خدمت میں حیران وپریشان ہو کر واپس آیا اور عرض کیا کہ آپ کے بچےّ نے یہ جواب دیا ہے کہ ’’ میں نے جہاں نوکر ہونا تھا ہو چکا ہوں ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ دادا صاحب ۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر خاموش رہ کر فرمانے لگے کہ ’’ اچھا غلام احمد نے یہ کہا ہے کہ میں نوکر ہو چکا ہوں ؟ تو پھر خیر ہے ۔اللہ اسے ضائع نہیں کرے گا۔ ‘‘ اور ا س کے بعد کبھی کبھی حسرت کے ساتھ فرمایا کرتے تھے کہ سچا رستہ تو یہی ہے جو غلام احمد نے اختیار کیا ہے ہم تو دنیا داری میں الجھ کر اپنی عمریں ضائع کر رہے ہیں۔ ‘‘(سیرتِ طیبہّ۔ صفحہ ۷ ، ۸ ۔از حضرت مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ)

ایک معمّر ہندو کی روایت ہے کہ آپؑ کے والد محترم آپ ؑ کے تقویٰ اور تعلق باللہ کو دیکھ کر فرمایا کرتے تھے کہ ۔

’’ جو حال پاکیزہ غلام احمد کا ہے وہ ہمارا کہاں۔ یہ شخص زمینی نہیں ، آسمانی ہے۔ یہ آدمی نہیں فرشتہ ہے۔‘‘(تذکرۃ المہدی۔ جلد ۲ صفحہ۳۰۲۔از پیر سراج الحق نعمانیؓ ۔مطبوعہ قادیان ۱۹۱۵ء)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کا یہ ایک ورق ہے جو آپ کی پاکیزگی طبع اور ذوقِ عبادت کا آئینہ دار ہے۔ نیز دنیاداری زن ، زر ، زمین اور نام ونمود قسم کی اشیاء سے بیزاری اور کنارہ کشی کی تصویر پیش کرتا ہے۔ لیکن جو الزام راشد علی نے مذکورہ بالا سطور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر لگایا ہے۔ دراصل اس کی حقیقی اور اصل تصویرہے اس کا پیر سیّد عبدالحفیظ ۔ چنانچہ ملاحظہ فرمائیں ۔اس کے متعلّق سندھی اخبار ’’پاک‘‘ کی ۳ دسمبر ۱۹۹۹ء کی خبر۔

’’ گجو کے شہر میں ایک غیر سندھی مرشد عوام کے لئے مصیبت بن گیا۔ سالوں سے آباد مقامی باشندوں کو جھوٹے مقدّموں میں پھنسا کر تنگ کرنے لگا۔ خالی ہاتھ آنے والا پیر زمیندار بن گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبدالحفیظ نامی یہ مذہبی ملّاں جو اس وقت ۸۷سال کا بوڑھا ہے ۱۹۶۲ ء میں خالی ہاتھ گجو شہر میں آیا تھا جسے یہاں کے لوگوں نے لاچار سمجھ کر رہنے کی جگہ دی اور کھانا دیتے رہے ۔۔۔۔۔۔ مقامی باشندے جن میں علی اکبر میر ، گل محمد میر نے صحافیوں کے سامنے بیان دیا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ عبدالحفیظ نے آنے کے بعد ہمارے گاؤں کی زمین حاصل کرنے کے لئے کیس پر کیس بنا کر ہمارے لئے جنجال بنا دیا ہے۔ قبضہ کرنے کی خاطر طرح طرح سے تنگ کر رہا ہے۔ ‘‘ (ترجمہ از سندھی عبارت)

یہ ہے کہانی جس پر راشد علی کا پیش کردہ اعتراض بڑے احسن اور خوبصورت عنوان کے طور پر چسپاں ہوتا ہے۔

%d bloggers like this: