احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

ذات پر اعتراضات, متفرق اعتراضات

حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام پر بیماریوں میں مبتلا ہونے کا اعتراض

مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کا اعتراض

راشد علی از راہِ تلبیس لکھتا ہے۔

’’ جیسا کہ مرزا صاحب نے خود اعتراف کیا ہے وہ ایک ایسے ذہنی مریض تھے جو مالیخولیا ، مراق اور پیرانائے جیسے امراض میں مبتلا تھا۔ ان امراض کی خا ص نشانی خبط عظمت کے وسوے ((Delusions of Grandeur ہیں۔(بے لگام کتاب)

راشد علی کا یہ لکھنا کہ ’’ جیسا کہ مرزا صاحب نے خود اعتراف کیا ہے وہ ایک ایسے ذہنی مریض تھے ‘‘ بالکل جھوٹ ہے اور راشد علی کی تلبیس کا ایک شاہکار ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کبھی بھی یہ نہیں فرمایا کہ آپ ایک ذہنی مریض تھے۔ پس ہمارا مختصر جواب تو یہ ہے کہ ’’ لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔ ‘‘ اور اس کا تفصیلی جواب یہ ہے کہ :۔

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام جس انہماک اور توجّہ کے ساتھ فرضِ منصبی کی ادائیگی میں مصروف تھے اس کی تفصیل کسی سے مخفی نہیں۔

تزکیہ نفوس ، تلاوتِ آیات ، تعلیمِ کتاب وحکمت کے ساتھ ساتھ تصنیف وتالیف ، اشاعتِ کتب ، پیروی مقدّمات ، بے شمار خط وکتابت ، مہمانوازی وغیرہ نیز عبادات وذکرِ الہی اور اس کے ساتھ ساتھ خوراک اور آرام سے بے فکری اور اوپر سے مہمّاتِ اسلام کا فکر اور دفاعِ اسلام کی تڑپ ایسی تھی کہ آپ کو قدم قدم پر بے قرار کئے جاتی تھی ۔

چنانچہ ایک چھوٹا سا واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ شیخ غلام حسین صاحب لدھیانوی کی روایت بیان کرتے ہیں کہ ان سے مولوی فتح دین صاحب دھرم کوٹی نے بیان کیا۔ کہ

’’ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور اکثر حاضر ہوا کرتا تھا اور کئی مرتبہ حضور ؑ کے پاس ہی رات کو بھی قیام کیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ آدھی رات کے قریب حضرت صاحب بہت بیقراری سے تڑپ رہے ہیں اور ایک کونہ سے دوسرے کونہ کی طرف تڑپتے ہوئے چلے جاتے ہیں ، جیسے کہ ماہی بے آب تڑپتی ہے یا کوئی مریض شدّتِ درد کی وجہ سے تڑپ رہا ہوتا ہے میں اس حالت کو دیکھ کر سخت ڈر گیا اور بہت فکر مند ہوا اور دل میں کچھ ایسا خوف طاری ہوا کہ اس وقت میں پریشانی میں ہی مبہوت لیٹا رہا۔ یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ حالت جاتی رہی ۔ صبح میں نے اس واقعہ کا حضور علیہ السلام سے ذکر کیا کہ رات کو میری آنکھوں نے اس قسم کا نظارہ دیکھاہے۔ کیا حضور کو کوئی تکلیف تھی یا درد گردہ وغیرہ کا دورہ تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ۔ ’’میاں فتح دین کیا تم اس وقت جاگتے تھے ؟‘‘ اصل بات یہ ہے کہ جس وقت ہمیں اسلام کی مہم یاد آتی ہے او رجو جو مصیبتیں اس وقت اسلام پر آرہی ہیں ان کا خیال آتا ہے تو ہماری طبیعت سخت بے چین ہو جاتی ہے اور یہ اسلام ہی کا درد ہے جو ہمیں اس طرح بے قرار کر دیتا ہے۔‘‘ (سیرت المہدی ؑ ۔ حصہ سوم ۔صفحہ ۲۹ روایت ۵۱۶ )

اسی طرح اگر کوئی اسلام یا بانی اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ کے خلاف یاوہ گوئی کرتا تو آپ ؑ کی روح تڑپ اٹھتی تھی چنانچہ حضرت مولوی عبدالکریم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔

جن دنوں میں وہ موذی اور خبیث کتاب ’’ امّہات المومنین ‘‘ جس میں بجز دلآزاری کے اور کوئی معقول بات نہیں ، چھپ کر آئی ہے ، اس قدر صدمہ اس کے دیکھنے سے آپؑ کو ہوا کہ زبانی فرمایا کہ ہمارا آرام تلخ ہو گیا ہے۔ ‘‘(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ صفحہ ۱۱۳۔ مرتبہ حضرت مولانا عبدالکریم سیالکوٹی رضی اللہ عنہ)

یہ درد اور یہ زخم تھے جو آپ کو اسلام اور حضرت بانی اسلام ﷺ پر اٹھنے والے ہر اعتراض پر پہنچتے تھے اور اس کی جوابی کاروائی کے لئے آپ کو بے چین کر دیتے تھے۔ لہٰذا دن رات علمی کام اور دماغی محنت میں مصروف رہتے تھے چنانچہ سالہا سال کی مسلسل اور انتھک محنت نے آپ کو سر درد اور دورانِ سر کی امراض میں مبتلا کر دیا تھا چنانچہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل رضی اللہ عنہ والی روایت، جس کو بعض لوگوں نے ہدفِ اعتراض بنایا ہے، میں بھی واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ امراض، دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقّت کی وجہ سے تھیں۔ چونکہ یہ دفاعِ اسلام اور ناموسِ رسول ؐ کی حفاظت کی وجہ سے تھیں اس لئے یہ بیماریاں ہرگزعیب کا موجب نہیں ہو سکتیں ۔ یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایسی خوبیوں کو روشن کرتی ہیں جن کی نظیر امّت میں نہیں ملتی۔ جہاد کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملنے والی یہ بیماریاں اسی طرح قابلِ تعریف ہیں جس طرح آنحضرت ﷺ کے صحابہؓ جنگوں میں پہنچے ہوئے زخموں کو قابلِ تعریف سمجھتے تھے اور ان پر ناز کرتے تھے اور امّت کے لئے بھی وہ ناز کا موجب تھے۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ محنت اور جہاد جو ایک انسان کی ہستی کو گو بظاہر مٹا کر رکھ دے لیکن اس کے نتیجہ میں ایسی فتوحات عطا کر دے کہ طغیانیوں میں امّت کی ڈوبتی کشی نہ صرف دوبارہ اپنی پوری جولانیوں کے ساتھ آگے بڑھنے لگے بلکہ اسلام کو ہر مذہب پر غالب کر کے دکھا دے ،کسی طرح بھی قابل اعتراض نہیں۔ ایسی محنت اور ایسے جہاد کی توفیق تو صرف اور صرف ’’ فتح نصیب جرنیل ‘‘ کا نصیب ہے۔ اسلام کا ایسا فتح نصیب جرنیل جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی رحمت وتائید ایسی غیر معمولی ہے کہ وہ اس کی بیماریوں کو اِذن نہیں دیتا کہ اسے مغلوب کر سکیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ فتح نصیب جرنیل حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام ، اعصاب وجوارح ، عقل ودانش اور روحانیت ونورِ بصیرت کے لحاظ سے ہر روز مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وفات والی رات سے منسلکہ سارا دن بھی وہ مسلسل خدمت وتائید دین میں ہی بسر کرتا ہے۔

ہمارا دل تو نہیں چاہتا کہ محبوبِ خدا ، ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تکالیف کا ذکر کریں مگر تکذیب واستہزاء پر کمر بستہ لوگ چونکہ انبیاء کی صفات اور ان کے حواس اور خواص کے بنیادی عرفان سے ہی عاری ہیں اس لئے ان کو یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ بھی بحیثیتِ بشر عام انسان ہی ہوتے ہیں۔ ان پر بھی محنت ومشقّت اور غم واَلم اگراسی طرح اثر کرتے ہیں جس طرح ایک عام انسان پر، تو وہ ان کی سیرت کا ایک روشن پہلو شمار ہوتا ہے نہ کہ عیب۔ چنانچہ حضرت رسولِ کریم ﷺ کی کتابِ زندگی کو کھولیں تو اس کا ایک روشن باب یہ بھی نظر آتا ہے کہ آپ کو ہر طرف سے مہمّات در پیش ہیں اور آپ ہر مہم کو ایک فاتح اور غالب جرنیل کی طرح سر کر رہے ہیں لیکن ایسے عالم میں کہ نہ آپ کو اپنے آرام کا فکر تھا نہ طعام کا۔ مسلسل اور یکے بعد دیگرے جنگیں مسلّط ہیں جبکہ مسلمان بالکل نہتّے اور بے کسی کے عالم میں ہیں۔ ذرا جنگِ خندق کے حالات ملاحظہ کریں کہ آپ ؐ خود پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے ہیں لیکن اپنی بھوک کا کسی کو احساس تک نہیں ہونے دیتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارے گھر میں کئی کئی روز چولہا نہیں جلتا تھا۔ دن کا یہ عالم تھا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّ لَـکَ فِىْ النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلاًؕ‏ (المزّمّل: ۸) کہ تیرا سارا دن کاموں میں انتہائی مصروف گذرتا ہے۔ رات کو چند لمحات آرام کے میسّر آئے بھی تو فوراً اٹھے اور خدا تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری میں ہی ساری رات گذار دی۔ رات کو نماز میں بعض اوقات اتنا طویل قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے۔ بنی نوع انسان کے لئے دعائیں کرتے اور ان کے غم میں حالت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے۔

لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّـفْسَکَ اَلَّا يَکُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ‏ (الشعراء : ۴)

ترجمہ :۔ کہ تو کہیں اس غم میں اپنی جان ہلاک نہ کر دے کہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔

مہمّات اسلامیہ کا یہ حال تھا کہ ایک دستہ مشرق کی جانب بھجوایا ہوا ہے اور دوسرا مغرب کی طرف ، تیسرا شمال کی جہت تو چوتھا جنوب کی سمت۔ مسلمان فدائیوں کی تعداد اتنی تھوڑی تھی کہ اکثر اوقات ہزاروں دشمنوں کی طرف محض گنتی کے چند فدائی بھجوائے جا سکتے تھے جن میں سے ایک ایک کی جان کا اور پیچھے ان کے ورثاء کا فکر بھی بشدّت دامنگیر ہے۔ ادھر مدینہ پر قریش اور دیگر قبائل کے حملوں کا خدشہ ہر وقت ہے۔ اردگرد کے قبائل حملوں کی گھر کیاں دے رہے ہیں اور بار بار جنگیں مسلّط کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ کسرٰی جیسے پر شکوہ بادشاہ بھی دھمکا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ نیز انہی حالات میں کئی بادشاہوں اور سرداروں کے سفیر بھی آرہے ہیں مہمان نوازیاں بھی ہو رہی ہیں۔ قرآنِ کریم کا بھی نزول ہو رہا ہے۔ احکام بھی اتر رہے ہیں جن کی تعمیل کے لئے عملی نمونہ بھی دکھایا جا رہا ہے۔ تدوینِ قرآن اور حفظِ قرآن کا کام بھی ساتھ ساتھ ہو رہا ہے۔ تلاوتِ آیات ،تزکیہ نفس ، تعلیمِ کتاب وحکمت بھی مسلسل جاری ہے۔ گھر کے کاموں میں بھی مسلسل حصہ لے رہے ہیں اور باہر بیکسوں کے بوجھ بھی اٹھا رہے ہیں۔ الغرض ہزاروں ایسے کام اورمعاملات ہیں جن کا بوجھ صرف اور صرف ایک جان پر ہے ۔یہ جان ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی جان ہے جو ہر لمحہ بنی نوع انسان کی بہبود اور ان کی بھلائی کے لئے ہلکان ہو رہی ہے۔

بالآخر ان افکار ومصروفیات کہ نتیجہ میں آنحضرت ﷺ دردِ سر کی تکلیف میں مبتلا ہو گئے۔ جس کے علاج کے لئے آپ ؐ نے سر میں پچھنے لگوائے۔ چنانچہ لکھا ہے۔

عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما انّ رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلم احتجم فی راسہ (بخاری ۔ کتاب الطب ۔ بالحجامۃ من الراس)

ترجمہ:۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے سر پر پچھنے لگوائے۔

ابتدائے رسالت کی بات ہے کہ جب پہلی وحی کے بعد کچھ عرصہ کے لئے اس میں وقفہ پڑا اور وحی کا نزول نہ ہوا تو آپ بیتاب ہو گئے ۔یہ ایّام آپ ؐ نے سخت گھبراہٹ اور بے چینی میں گزارے۔عشقِ خدا کا یہ عالم تھاکہ ایک تھوڑے سے وقفہ سے آپ کی حالت غیر ہو گئی ۔حدیث میں آتا ہے کہ ان ایّام میں آپ کو اتنی گھبراہٹ تھی کہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ آپ کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اور ارادہ کیا کہ وہاں سے اپنے آپ کو گرا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیں مگر ہر ایسے موقع پر الہٰی فرشتہ آواز دیتا کہ اے محمّد ! ایسا نہ کریں۔ آپ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ یہ آواز سن کر آپ ؐ رک جاتے مگر بے چینی اور اضطراب کی حالت پیدا ہوتی تو بے اختیار ہو کر پھر اپنے آپ کو ہلاک کر دینے کے لئے تیار ہو جاتے۔(بخاری ۔ باب بدء الوحی ۔ مطبوعہ ۱۹۸۲ ء۔حامد اینڈ کمپنی اردو بازار لاہور)

پھر ایک زمانہ وہ بھیآیا کہ ہجومِ مہمّات وافکارِ نوعِ انسانی کے باعث آپ کی حالت ایسی بھی ہوئی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔

انّہ لیخیّل الیہ انہ یفعل الشّی وما فعلہ (بخاری ۔کتاب بدء الخلق۔باب فی ذکرِابلیس وجنودہ)

کہ آپ کو خیال گذرتا تھا کہ آپ نے گویا کوئی کام کیا ہے حالانکہ آپ ؐ نے کیا نہ ہوتا تھا۔

پس انبیاء علیہم السلام کے ہمّ وغم اور ان کے درد والم کی وجوہات ہی اور ہیں جن کی بناء پر ان کی بیماری کی نوعیت الگ ہی ہوتی ہے۔ جسے دنیادار لوگ ہمیشہ طعن کا نشانہ بنا کر انہیں مسحور ومجنون قرار دیتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

کَذٰلِکَ مَاۤ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ‌ۚ‏ ۔(الذّٰریٰت :۵۳)

ترجمہ ۔ اسی طرح ان سے پہلے جو رسول آتے رہے ہیں ان کو لوگوں نے یہی کہا کہ وہ سحر زدہ ہیں یا مجنون ہیں۔

چنانچہ انبیاء علیہم السلام کو سحر زدہ اور مجنون قرار دینے والوں نے سب سے بڑے صاحبِ عقل و بصیرت اور حکمت ودانش کے بادشاہ حضرت محمّد مصطفٰی ﷺکو بھی نہیں چھوڑا۔ صحیح بخاری ،کتابُ الطبّ باب السحّرمیں ایک روایت مذکور ہے۔ جس کی بناء پر مستشرقین آج تک یہ کہتے ہیں کہ آپ ؐ پر جادو کا اثر ہو گیا تھا (نعوذ باللہ) حالانکہ خدا تعالیٰ نے اس بارہ میں آپ ؐ کو وحی کے ذریعہ اطلاع بھی دے دی تھی کہ جس جادو کے بارہ میں مشہور کیا گیا ہے اس کی ذرّہ برابر بھی حیثیت نہیں۔

واقعہ یہ تھا ایک یہودی نے اپنے زعم میں آپ پر جادو کرنے کے لئے کنگھی پر بال لپیٹ کر اس پر اپنا مزعومہ جادو پھونک کر مدینہ کے ذروان نامی ایک کنویں میں پھینکی۔ جب اس کی خبر آنحضرت ﷺ کو خدا تعالیٰ نے دی تو لوگوں نے دیکھ لیا کہ اس یہودی کے جادو کی کوئی حقیقت ہی نہیں تھی۔ ان دنوں آنحضرت ﷺ علیل بھی تھے۔ یہ مرض محض قدرتی طور پر ایک انسان کو لاحق ہونے والے عوارض میں سے ایک تھا جو آپؐ کو بھی ایک بشرہونے کی وجہ سے لاحق ہوا اور جس سے خدا تعالیٰ نے آپ ؐ کو محض اپنے فضل سے محفوظ فرمایا۔ لیکن بدبخت منکرین ومکفّرین آپ ؐ پر اس مذکورہ بالا روایت اور بعض دیگر روایات کی بناء پر آج تک زبانِ طعن دراز کرتے ہیں ۔چنانچہ سب سے پہلے ایک باز نطینی مورخ (Died 817 AD) Theophanes نے بڑی بے باکی سے یہ جھوٹ تراشا تھا کہ جب آنحضرت ﷺ کی زبان سے غارِ حرا میں پیش آنے والے واقعہ کا ذکر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے سنا تو (نعوذ باللہ نعوذ باللہ) انہیں سخت دکھ ہو اکہ ایک معزز خاندان کی ہوتے ہوئے بھی وہ ایک ایسے شخص کے ساتھ منسلک کر دی گئی ہیں جو نہ صرف یہ کہ غریب آدمی ہے بلکہ مرگی کا مریض بھی ہے۔ (نعوذ باللہ من ذالک)

اس بات کا پھر دسمبر ۱۹۷۶ء کے Journal Epilepsia میں Frank R .Freemason نے بھی حوالہ دیا ہے۔

اس کے بعد پادری فانڈر نے احادیث کی کتب میں مذکور روایات کا حوالہ دیتے ہوئے آنحضرت ﷺ پر بالکل اسی طرح بہتان باندھے ہیں جس طرح راشد علی اور اس کے پیر نے بعض روایات کے حوالے دے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مجنون اور مالیخولیا وغیرہ کا مریض ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔ چنانچہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پادری فنڈر کی قلم ’’ کذٰلک ‘‘ زہر اگلتی ہے۔وہ لکھتا ہے

’’ قرآن اور عربی کی کتابوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ محمد نے اوائل حال میں گمان کیا کہ فی الحقیقت خدا نے اسے بھیجا ہے کہ عربستان میں سچا دین مقرر کرے اور ان خواب وخیالات سے جو کبھی کبھی اسے دکھائی دئیے اپنے اس گمان کی تائید پائی۔ غالباً بے خواب وخیالات صرع کی بیماری سے تھے جو عہدِ جوانی سے محمد کو لاحق تھی۔ بعض مورخین نے اسے اغمٰی کی بیماری کہا ہے چنانچہ کتاب ’’ انسان العیون ‘‘ میں مرقوم ہے کہ ابنِ اسحاق نے اپنے مشائخوں سے نقل کی ہے کہ نزولِ قرآن سے پہلے جن ایّام میں کہ محمد کا مکّہ میں نظرِ بد کے رفع ہونے کا علاج کیا گیا اور جبکہ قرآن نازل ہوا تو پھر اس کی وہی حالت ہوئی یعنی کبھی کبھی ایک قسم کی بے ہوشی مثل اغمٰی ایک خوف ولرزہ کے ساتھ اس کو ہوئی ایسا کہ انکھیں بند ہو گئیں اور منہ سے کف نکلی اور جوان اونٹ کی سی آواز دی ۔۔۔۔۔۔ پس ان حدیثوں کے مضمون کے مطابق شک نہیں کہ محمد کو صرع کی بیماری تھی۔‘‘ (میزان الحق۔ باب ۳ فصل ۴ صفحہ ۳۲۶ ، ۳۲۷)مصنفہ : پادری سی جی فانڈردر مطبع : امریکن مشن باہتمام پادری روڈ الف۔ لدھیانہ۔ ۱۸۶۱ء)

اسی قسم کے گندے جھوٹ اور طعن مستشرقین نے کثرت سے باندھے ہیں اور آنحضرت ﷺ سے اپنے اندرونی بغض کا اظہار کیا ہے۔ ہم ہر ایک کا بیان درج کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ ہمارے لئے یہ امر تکلیف دہ ہے کہ ہم اپنے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے بارہ میں ایسی باتیں بار بار لکھیں۔ محض مجبوری کے تحت ایک دو حوالے پیش کئے ہیں تا کہ سنّتِ مکفّرین پر عمل کرنے والے آج کے انسان ان آئینوں میں اپنی شکل دیکھ سکیں اور شاید وہ اس سے کچھ سبق بھی حاصل کر سکیں۔ یہ لوگ مذکورہ بالا اقتباس کے علاوہ اور بھی کئی کتب مثلاً پادری ٹھاکر داس کی کتاب ’’ سیرت المسیح والمحمد ‘‘ اور پادری اورنگ واشنگٹن کی کتاب ’’ سوانح عمری محمد صاحب ‘‘ وغیرہ میں بھی اپنی شکلیں دیکھ سکتے ہیں۔

مذکورہ بالا آیت قرآنی کو سامنے رکھ کر ایک طرف پادریوں اور مستشرقین کے بیانات کو رکھیں اور دوسری طرف راشد علی اور اس کے پیر کے اعتراضات کو تو صاف نظر آتا ہے کہ اعتراض کرنے والے بھی ایک ہیں اور ان کی شکلیں بھی ایک۔ اعتراض بھی وہی ہیں اور ان کے الفاظ بھی وہی۔ وہ بھی ہر زہ سرائی اور یہ بھی بے باکی اور جھوٹ کی پوٹ۔ ہاں صرف نام مختلف ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ بَل قَالُوا مِثلَ مَاقَالَ الاَوَّلُونَ (المومنون :۸۲) کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ وہی بات کہتے ہیں جو ان سے پہلوں نے کہی تھی ۔

یہ خدا تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ انبیاء ؑ کے مخالفین ہمیشہ ایک ہی طرز اور ایک ہی طریق پر کاربند ہوتے ہیں اور دوسری طرف انبیاء ؑ کے ساتھ خدا تعالیٰ کا سلوک بھی ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ کی یہ سنّت جس طرح حضرت محمّد مصطفی ﷺ کے ساتھ کام کر رہی تھی ویسے ہی آپ ؐ کے غلام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود ومہدی معہود علیہ السلام کے ساتھ بھی کام کر رہی تھی۔ چنانچہ

  • جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی ﷺ کو بیماریوں کے بد اثرات سے محفوظ رکھا اسی طرح آپ کے غلام کو بھی محفوظ رکھا۔

  • جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت رسول کریم ﷺ کی امراض کو آپ کے فرائضِ منصبی کی ادائیگی میں حائل نہ ہونے دیا اسی طرح آپ ؐ کے غلام کے فرائض کی ادائیگی میں عوارض حائل نہ ہو سکے۔

  • جس طرح اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ حضرت نبی اکرم ﷺ کو بیماری کی بے حقیقتی سے خبر دی ویسے ہی آپ ؑ کے غلام کو الہاماً بتایا کہ بیماری بے حقیقت بنادی جائے گی اور پھر آپ کو اس سے محفوظ فرما دیا۔

  • جس طرح آنحضرت ﷺ کی امراض کا ذکر گھر کے ایک فرد کی روایت میں مذکور ہے اسی طرح آپ ؐ کے غلام کی امراض کے بارہ میں روایات بھی گھر کے افراد سے مذکور ہیں۔

  • جس طرح رسولِ خدا ﷺ کے دعوئے نبوّت سے قبل ہر شخص آپ کے اخلاق سے متاثّر تھا اور آپ کی حکمت ودانش کے بارہ میں رطب اللسان تھا اسی طرح لوگ آپؐ کے غلام کے دعوئے ماموریت سے پہلے اس کی سیرت اور اس کے علم ودانش کے مداح تھے۔

  • جس طرح دعوئے نبوّت کے بعد نبی کریم ﷺ کو سحر زدہ ، مجنون اور مرگی کا مریض قرار دیا گیا اسی طرح آپ ؐ کے غلام کو بھی دعوئے ماموریت کے بعد مجنون ، ہسڑیا اور مالیخولیا وغیرہ کا مریض قرار دیا گیا۔

جس طرح آقا ﷺپر لگائے گئے الزامات جھوٹے تھے اسی طرح آپ کے غلام علیہ السّلام پر لگائے گئے الزامات بھی کلّیۃً جھوٹے ہیں۔

%d bloggers like this: