احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

تحریرات پر اعتراض, متفرق اعتراضات

حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام پر مولویوں پر 1000 ہزار لعنت کا الزام

گستاخِ رسول ؐ و قرآن ، متنصّر مولویوں کا غیرت مند ہم مشرب

راشد علی، متنصّر(یعنی عیسائیّت قبول کرنے والے) مولویوں کا دفاع کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں لکھتا ہے۔

’’ اسی طرح ایک دفعہ کتاب ’’ نور الحق ‘‘ (روحانی خزائن جلد۸) میں لعنت لکھنے بیٹھے تو افیون کی پینک میں ایک ہزار بار لعنت لعنت لعنت لکھتے رہے (جیسے گراموفون کی سوئی اٹک جاتی ہے )۔ وہ کس قسم کی ذہنیت کا انسان ہو سکتا ہے کہ کتاب کے ساڑھے چار صفحات کو باقاعدہ نمبر ڈال کر لعنت لعنت لعنت لعنت لعنت لعنت لعنت لعنت سیاہ کرتا رہے ؟(بے لگام کتاب)

بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ’’ نورالحق ‘‘ کے جو صفحات اس نے پیش کئے ہیں اور ان میں مذکور جس لعنت کو اس نے ہرزہ سرائی کانشانہ اور ہدفِ اعتراض بنایا ہے وہ صرف اور صرف ان بدبخت ملعون مولویوں کے لئے مخصوص تھی جو اسلام ترک کر کے عیسائی ہو چکے تھے ، وہ قرآن کریم پر حملے کرتے تھے ،اور آنحضرت ﷺ کی شان میں صرف گستاخیاں ہی نہیں کرتے تھے بلکہ (نعوذ باللہ) آپ کو گالیاں بھی دیتے تھے۔ ان ملعونوں کو دعوتِ مقابلہ دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ۔

’’واوّل مخاطبنا فی ھذہ الدعوۃ ومدعونا لھذہ المعرکۃ صاحب التوزین عماد الدین فانہ ینکر بلاغۃ القرآن وفصاحتہ ویری فی کل کتاب وقاحتہ ویقول انی عالم جلیل ذہین وان القرآن لیس بفصیح بل لیس بصحیح وما اری فیہ بلاغۃ ولا اجد براعۃ کما ھوزعم الزاعمین۔ ویقول انی ساکتب تفسیرہ وکذلک نسمع تقاریرہ فھو یدعی کمالہ فی العربیۃ ویسبّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بکمال الوقاحۃ والفریۃ ویتزرّی علی کتاب اللّٰہ وعلی فصاحتہ کانہ عمّ امرء القیس او ابن خالتہ ویسمّی نفسہ مولویاً ویمشی کالمستکبرین ‘‘

ترجمہ :۔ اور اس دعوت میں ہمارا اوّل مخاطب اور اس معرکہ میں ہمارا اوّل مدعو پادری عماد الدین ہے کیونکہ وہ قرآن شریف کی فصاحت اور بلاغت سے انکاری ہے اور اپنی ہر ایک کتاب میں بے حیائی دکھلاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ایک عالم بزرگ ہوں اور قرآن فصیح نہیں ہے بلکہ صحیح بھی نہیں ہے اور میں اس میں کوئی بلاغت نہیں دیکھتا اور نہ فصاحت جیسا کہ خیال کیا گیا ہے۔ اور کہتا ہے کہ میں عنقریب تفسیر شائع کروں گا اور ایسی ہی اور باتیں ہم اس کی سنتے ہیں اور وہ کمال عربی دانی کا دعویٰ کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو بباعث بے شرمی اور دروغگوئی کے گالیاں نکالتا ہے اور قرآن شریف کی فصاحت کے ایسے دعویٰ اور غرور سے عیب جوئی کرتا ہے کہ گویا وہ امرء القیس کا چچا یا خالہ زاد بھائی ہے اور اپنا نام مولوی رکھتا ہے اور متکبروں کی طرح چلتا ہے۔

’’ثم بعد ذلک نخاطب کل متنصّر ملقب بالمولوی الذی کتبنا اسمہ فی الھامش*وندعوا کلھم للمقابلۃ ولھم خمسۃ آلاف انعاما منا اذا اتوا بکتاب کمثل ھذا الکتاب کما کتبنا من قبل فی ھذا الباب والمھلۃ منا ثلاثۃ اشھر للمعارضین فان لم یبارزوا ولن یبارزوا فاعلموا انھم کانوا من الکاذبین ‘‘ * مولوی کرم الدین ، مولوی نظام دین ، مولوی الہی بخش ، مولوی حمید اللہ خان ، مولوی نور الدین ، مولوی سید علی ، مولوی عبداللہ بیگ ، مولوی حسام الدین بمبئی ، مولوی حسام الدین ، مولوی نظام الدین ، مولوی قاضی صفدر علی ، مولوی عبدالرحمن ، مولوی حسن علی وغیرہ وغیرہ

ترجمہ :۔ پھر اس کے بعد ہم ہر ایک کرشٹان کو جو اپنے تئیں مولوی کے نام سے موسوم کرتا ہے مخاطب کرتے ہیں اور ان سب کے نام ہم نے حاشیہ میں لکھ دئیے ہیں اور ہم ان سب کو مقابلہ کے لئے بلاتے ہیں اگر وہ ایسی کتاب بنا دیں تو ہماری طرف سے ان کو پانچ ہزار روپیہ انعام ہے جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں اور بالمقابل کتاب تالیف کرنیوالوں کے لئے ہماری طرف سے تین مہینہ مہلت ہے اور اگر مقابل پر نہ آویں اور ہرگز نہ آویں گے پس یقیناًجانو کہ وہ جھوٹے ہیں۔

’’واعلموا ان ھذا الانعام فی صورۃ اذا اتوا برسالۃ کمثل رسالتنا وعجالۃ کمثل عجالتنا واثبتوا انفسہم کمماثلین ومشابھین واما اذا ابو و ولّوا الدبر کالثعالب وما استطاعوا علی ھذہ المطالب وما ترکوا عادۃ توہین القران وما امتنعوا من قدح کتاب اللّٰہ الفرقان وما تابوا من ان یسمّوا نفسہم مولویین وما ازدجروا من سبّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خاتم النبیّین وما ازدجروا من قولھم ان القرآن لیس بفصیح وما ترکوا سبیل التحقیر والتوہین فعلیھم من اللّٰہ الف لعنۃ فلیقل القوم کلّھم آمین ‘‘

ترجمہ :۔ اور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ انعام اس صورت میں ہے کہ جب بالمقابل رسالہ بنائیں،جو بعینہ ہمارے اس رسالہ کے مشابہ ہو اور مماثلت اور مشابہت کو ثابت کریں۔ لیکن اگر بنانے سے نکار کریں اور لو نبڑیوں کی طرح پیٹھیں دکھلاویں اور ان مطالب پر قدرت نہ پا سکیں اور نہ توہینِ قرآن شریف کی عادت کو چھوڑیں اور کتاب اللہ کی جرح وقدح سے باز نہ آویں۔ اور نہ رسول اللہ ﷺ کی دشنام دہی سے رکیں اور نہ اس بیہودگی سے اپنے تئیں روکیں کہ قرآن فصیح نہیں ہے اور نہ توہین اور تحقیر کے طریق کو چھوڑیں پس ان پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہزار لعنت ہے پس چاہئے کہ تمام قوم کہے کہ آمین۔

۱ لعنت ۲لعنت ۳لعنت ۴لعنت ۵لعنت ۶لعنت ۷لعنت ۸لعنت ۹لعنت ۱۰لعنت ۱۱لعنت ۱۲لعنت ۱۳لعنت ۱۴لعنت ۱۵لعنت ۱۶لعنت ۱۷لعنت ۱۸لعنت ۱۹لعنت ۲۰لعنت ۲۱لعنت ۲۲لعنت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۹۷۹ اللعنۃ ۹۸۰اللعنۃ ۹۸۱اللعنۃ۹۸۲ اللعنۃ۹۸۳ اللعنۃ ۹۸۴اللعنۃ ۹۸۵اللعنۃ ۹۸۶اللعنۃ ۹۸۷اللعنۃ ۹۸۸اللعنۃ ۹۸۹اللعنۃ ۹۹۰اللعنۃ ۹۹۱ اللعنۃ ۹۹۲اللعنۃ ۹۹۳اللعنۃ ۹۹۴اللعنۃ ۹۹۵اللعنۃ ۹۹۶اللعنۃ ۹۹۷ اللعنۃ ۹۹۸ اللعنۃ ۹۹۹ اللعنۃ ۱۰۰۰ اللعنۃ ‘‘ (نور الحق حصہ اول ۔ روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۱۵۶ تا ۱۵۸)

اس مذکورہ بالا عبارت میں حضرت بانی جماعت احمدیہ مسیح موعود ومہدی معہود علیہ السلام نے اسلام کا دفاع کرتے ہوئے قرآنِ کریم کے حسن واعجاز کو چیلنج کے طور پر ان مولویوں کے سامنے رکھا تھا جو مسلمانوں کی ذریّت ہو کر عیسائیت کے آغوش میں جا اترے تھے۔ اور قرآنِ کریم کی تکذیب وتخفیف اور سیّد المرسلین خاتم النبیین حضرت محمّد مصطفی ﷺ پر سبّ وشتم کے لئے صف آراء ہو کر کتابیں لکھنے لگے تھے ۔آپ ؑ نے واضح طور پر صرف ان بدبخت مولویوں کے نام لکھ لکھ کر اور انہیں مخصوص کرتے ہوئے ،انہیں کو چیلنج دئیے ہیں کہ وہ قرآنِ کریم کے حسن وجمال کی نظیر تو لا کر دکھائیں ، اس کے اعجاز کا مقابلہ تو کریں۔بالآخر اس چیلنج کو قبول نہ کرتے ہوئے، اور اس مقابلہ سے پیٹھ دکھاتے ہوئے، اپنی بد زبانیوں پر قائم رہنے والوں پر آپ ؑ نے ہزار بار لعنت کی ہے۔

کتاب ’’نور الحق ‘‘ کی تحریر ثابت کرتی ہے کہ راشد علی نے یا تو حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام سے بغض کی بناء پر آپ کے خلاف محض جیبھ بڑھائی ہے یا حقیقۃً وہ اس فہرست میں شامل ہے جو کتاب ’’ نور الحق ‘‘ کے صفحہ۱۵۷ پر حاشیہ میں درج ہے ۔گوبعد میں پیدا ہونے کی وجہ سے اس کا نام اس فہرست میں نہیں آسکا۔ ان ملعون متنصّر مولویوں کے لئے اس کی ایسی غیرت کا اظہار اور ان کا دفاع تو یہی ثابت کرتا ہے کہ وہ انہیں کا ہم مشرب وہم پیالہ ہے ،جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنے آقا ومولیٰ آنحضرت ﷺ اور کلام اللہ کے لئے غیرت اور ان کا دفاع یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ ؑ انہیں کے فیض کے چشمہ سے سیراب ہیں۔

راشد علی کی اس تعلّی سے یہ توقطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اسے یہ ہرگز منظور نہیں کہ کوئی سیّد الاتقیاء والاصفیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ اور آپ ؐ کی ازواجِ مطہّرات کے ناموس کی حفاظت کرتے ہوئے اور کلام اللہ پر طعن اور اس پر حملوں کا دفاع کرتے ہوئے ایسا کرنے والے دشمنان اسلام پر لعنت بھیجے۔ البتہ اسے یہ بہت ہی مرغوب اور پسند ہے کہ وہ ان دریدہ دہن اور بد زبان گستاخ متنصّر مولویوں کی نہ صرف یہ کہ صف میں کھڑا ہو بلکہ ان کا دفاع اور ان کی وکالت بھی کرے پس یہ ایسی اعلیٰ درجہ کی لعنت ہے جو راشد علی پر ہی سجتی ہے۔

ایک ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی اس سچائی کو اپنا ایمان سمجھتا ہے کہ تکذیبِ قرآن اور سبّ وشتمِ رسول ﷺ کرنے والوں پر خدا تعالیٰ بھی یقیناًہزار ہزار لعنت بھیجتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کے ساتھ اس کے فرشتے اور تمام وہ مسلمان بھی جو سیّدِ کونین حضرت محمد مصطفی ﷺ کے غلام اور قرآن پاک کے پیروکار ہیں، لعنت بھیجتے ہیں۔ لیکن تف ہے راشد علی پر کہ وہ حضرت بانی جماعت احمدیہ کے بغض میں اندھا ہو کر ، قرآن کریم کی تحقیر وتکذیب کرنے والوں اور سرکارِدو عالم حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کو گالیاں دینے والے ملعونوں کی صف میں بڑی تیزی اور طراری کے ساتھ آ کھڑا ہوا ہے۔ اس نے اپنے اس عمل سے واقعۃً ثابت کر دیاہے کہ اس کی اصل جگہ بھی یہی ہے۔

اس ثابت شدہ حقیقت کے باوجود ہم راشد علی کو ایک دفعہ یہ اختیار دیتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ اس کے سامنے صرف اور صرف دو ہی راستے ہیں ۔ وہ یا تو خود یہ اقرار کر لے کہ اس نے محض جھوٹ کی لعنت میں ڈوب کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر زبانِ طعن دراز کی تھی۔ یا پھر یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب ’’ نورالحق ‘‘ میں جن ملعونوں پر ہزار لعنت کی ہے ان میں اس کا نام یعنی ’ڈاکٹر راشد علی‘ بھی بطور ملعون شامل ہے۔ گو اس کا نام ، تاخیر پیدائش کی وجہ سے ضبطِ تحریر میں آنے سے رہ گیا ہے۔ وہ یہ دونوں راستے بیک وقت بھی اختیار کر سکتا ہے۔ اب فیصلہ اس کے اپنے ہاتھ میں ہے کیونکہ ان کے علاوہ کوئی اور راہ اس نے اپنے لئے باقی نہیں چھوڑی۔

اب دیکھتے ہیں کہ وہ کونسی راہ اختیار کرتا ہے۔

%d bloggers like this: