احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

متفرق اعتراضات

حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام پر شراب پینے و افیون کھانے کا الزام

حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام پر شراب پینے و افیون کھانے کا الزام

شراب اور افیون وغیرہ کے استعمال کا الزام

مزید تفصیل کے لیے یہاں بھی دیکھیں

Youtube Video

Fb Live Video

اصل کتب کے سکین اور حوالہ جات
بشکریہ طالب دعا نیر احمد بٹ صاحب جرمین

راشد علی نے جھوٹ کی شراب میں مدہوش ہو کر خدا تعالیٰ کے پاک مسیحؑ پر سراسر بہتان اور افتراء کرتے ہوئے اپنی ’’بے لگام کتاب‘‘ میں لکھا ہے۔

’’مرزا صاحب دیگر رئیسوں کی طرح شراب اور افیون کا استعمال کرتے تھے۔ بلکہ افیون کو نصف طب قرار دیتے تھے حتی کہ ’’ خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت تیار کردہ تریاق الہٰی نامی دوا ‘‘ کا ایک بڑا جزو افیون تھا۔ اس دوا کو مرزا صاحب مختلف دوروں کے وقت استعمال کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک تو ذہنی مریض اور سونے پر سہاگہ ، افیون اور شراب !! جو کچھ نہ ہو جاتا کم تھا !! (مضمون میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل جلد ۱۷ نمبر ۶ مورخہ ۱۹ جولائی ۱۹۴۹ء)‘‘

راشد علی اور اس کے پیر کی یہ کھلی کھلی تلبیس ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی عبارت میں اپنی طرف سے فقرات داخل کر کے اسے آپؓ کی عبارت کے طور پر پیش کیا ہے ۔جہاں تک راشد علی کی پیش کردہ ان دو خبیث چیزوں کا تعلق ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

’’ شراب جوامّ الخبائث ہے وہ عیسائیوں میں حلال سمجھی جاتی ہے مگر ہماری شریعت میں اس کو قطعاً منع کیا گیا ہے اور اس کو رِجسٌ مِّن عَمَلِ الشَّیطٰن کہا گیا ہے۔‘‘(ملفوظات ۔جلد۵ صفحہ ۴۵۰)

اور افیون کے بارہ میں لکھا ہے۔

’’ جو لوگ افیون کھاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں موافق آگئی ہے ۔ وہ موافق نہیں آتی۔ دراصل وہ اپنا کام کرتی رہتی ہے اور قویٰ کو نابود کر دیتی ہے۔ ‘‘(ملفوظات ۔جلد ۳ صفحہ ۴۱۶)

پس راشد علی پر یہ لعنتِ خداوندی کی مار ہے کہ وہ جھوٹ کو اس طرح مرغوب سمجھتا ہے جس طرح اس کا پیر عبدالحفیظ مور مارکہ سگریٹ کو۔

حقیقت یہ ہے کہ خالی افیون تو نشہ پیدا کرتی ہے مگر دیگر دوائیوں میں مرکّب کی صورت میں یہ نشہ پیدا نہیں کرتی جس طرح الکحل نشہ پیدا کرتی ہے مگر ایلوپیتھک دوائیوں میں اکثر استعمال ہوتی ہے۔ الکحل کی اتنی تھوڑی مقدار دیگر دوائیوں کے ساتھ مل کر اپنی اصلی حیثیّت کھو دیتی ہے اور پھریہ نشہ آور نہیں رہتی۔ اسی لئے شریعت کے مطابق ایلوپیتھک ادویہ کو منع نہیں سمجھا گیا۔ راشد علی خود بھی تو ایلوپیتھک ادویہ استعمال کرتا ہے اور کثرت سے لوگوں کو بھی دیتا ہے۔پھراس کا اعتراض چہ معنی دارد؟

جہاں تک اس عبارت کا تعلق ہے جو راشد علی نے پیش کی ہے اس میں یہ فقرہ کہ ’’ مرزا صاحب دیگر رئیسوں کی طرح شراب اور افیون کا استعمال کرتے تھے بلکہ افیون کو نصف طب قرار دیتے تھے ‘‘ راشد علی اور اس کے پیر کا اپنا اختراع ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ نے ایسا کوئی فقرہ تحریر نہیں فرمایا۔ آپ نے اتنا فرمایا ہے کہ

’’ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ بعض اطباء کے نزدیک وہ نصف طب ہے۔ ‘‘

اس فقرہ سے یہ مطلب کس طرح اخذ کر لیا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود بھی اسے نصف طب سمجھتے تھے۔ یعنی بعض اطبّاء کے نزدیک تو ایسا ہے ۔ مگرحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بالکل نہیں فرمایا کہ آپ بھی ایسا سمجھتے تھے۔بلکہ اس بیان کو اگر آپؑ کے دوسرے فرمان کے سامنے رکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ آپ ؑ ایسا نہیں سمجھتے تھے یہ صرف بعض اطبّاء کا خیال ہے۔

پس یہ راشد علی کا اختراع ہے اور اس سے بھی بڑھ کر اس نے آخری فقرہ اختراع کیا ہے یعنی ۔

’’ چنانچہ ایک تو ذہنی مریض اور سونے پر سہاگہ ، افیون اور شراب ۔۔۔ ‘‘

پیر ومرید کی یہ جوڑی نہ جانے جھوٹ اور تلبیس کی کون کونسی حدیں پھلانگتی رہے گی اور اپنے اوپر لعنت وارد کرتی رہے گی۔

جہاں تک دوا ’’ تریاق الہٰی‘‘ کا تعلق ہے وہ الہامی نسخہ کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تیار کی تھی ۔ جس میں افیون بھی استعمال ہوتی تھی۔ یہ کوئی ایسا راز نہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو چھپایا تھا مگر ان لوگوں کو معلوم ہو گیا جس پر یہ بغلیں بجانے لگے ہیں ۔اس دوا کے تمام اجزاء کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے علی الاعلان کیا اور اسے شائع بھی کیا۔ کیونکہ جس طرح ایلوپیتھک ادویہ میں ایک مخصوص مقدار الکحل کی استعمال ہوتی ہے اسی طرح بعض دیسی دواؤں کے ساتھ افیون کی معمولی مقدار کا استعمال بطور دوا ،نہ کہ برائے نشّہ، کسی رنگ میں بھی قابلِ اعتراض نہیں ہے۔ ہاں خالی افیون ضرورقابلِ اعتراض ہے۔ جس سے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے واضح طور پرنفرت اور کراہت کا اظہار فرمایا۔

اس مسئلہ پر چونکہ کوئی اعتراض نہیں اٹھ سکتا تھا اس لئے راشد علی اور اس کے پیر نے ایک عبارت میں تحریف و تلبیس کر کے اپنی طرف سے صریح جھوٹ بنا کر پیش کیا ہے۔

Please follow and like us:
error0

Theme by Anders Norén

%d bloggers like this: