متفرق اعتراضات

حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام پر آریاؤں سے سخت زبانی کا الزام

گستا خانِ رسول ﷺ ، یعنی پنڈت دیانند وغیر ہم پرلعنت اور راشدعلی کا غیظ وغضب

راشد علی کی تلبیس ودجل کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارتوں کو اپنی تحریفی کاروائیوں کا نشانہ اس طرح بناتا ہے کہ کسی ایک کتاب کی عبارت کا جوڑ کسی دوسری کتاب کی ایسی عبارت کے ساتھ ملاتا ہے کہ جس کا اس سے کوئی تعلق بھی نہیں ہوتا۔ ایسا کر کے وہ اپنے بغض اور عناد کی آگ کو ہوا تودیتا ہے لیکن عملًا خود ہی اس میں بھسم ہوتا چلا جاتا ہے۔

ایسی ہی کوشش میں وہ اسی قدر اندھا ہو گیا کہ ان آریوں کا بھی وکیل بن گیا جو آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرنے والے تھے۔ مثلاً پنڈت دیانند کی زہر آشام تحریریں کس سے مخفی ہیں جو اس نے آنحضرت ﷺ اور اسلام اور قرآن کریم کے خلاف لکھیں۔

ان تحریروں کا ردّ اور پنڈت دیانند کے ہر حملے کا علمی ، معقولی اور منقولی جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسے رنگ میں دیا کہ آریوں کے نہ صرف دانت ہی کھٹے کئے بلکہ ہمیشہ کے لئے ان کی کچلیاں بھی توڑ دیں۔ چنانچہ دہلی کے اخبار ’’کرزن گزٹ ‘‘ کے ایڈیٹر نامور صحافی وادیب مرزا حیرت دہلوی نے آپ ؑ کی وفات پر لکھا۔

’’ مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں ۔۔۔ نہ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ محقق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کی یہ مجال نہ تھی وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا ۔۔۔ آج سارے پنجاب بلکہ بلندی ہند میں بھی اس قوّت کا کوئی لکھنے والا نہیں ۔۔۔۔۔۔ ‘‘(کرزن گزٹ ۔ دہلی ۔ مورخہ یکم جون ۱۹۰۸ء)

ہندوستان کے عظیم مذہبی لیڈر مولانا ابو الکلام آزاد نے لکھا :

’’ مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیّت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اس لٹریچر کی قدرو عظمت آج جبکہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے ۔۔۔۔۔۔ آئندہ امید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو۔ ‘‘ (وکیل ۔ امرتسر ۔ جون ۱۹۰۸ء)

اخبار ’’ صادق الاخبار ‘‘ ریواڑی نے لکھا

’’مرزا صاحب نے اپنی پر زور تقاریر اور شاندار تصانیف سے مخالفین اسلام کو ان کے لچّر اعتراضات کے دندان شکن جواب دے کر ہمیشہ کے لئے ساکت کر دیا اور ثابت کر دکھایا ہے کہ حق حق ہی ہے۔ اور واقعی مرزا صاحب نے حق ، حمایتِ اسلام کا کماحقّہٗ ، ادا کر کے خدمتِ اسلام میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ انصاف متقاضی ہے کہ ایسے اولوالعزم حامی اسلام اور معینُ المسلمین ، فاضل اجل ، عالم بے بدل کی ناگہانی موت اور بے وقت موت پر افسوس کیا جائے۔‘‘ (صادق الاخبار۔ ریواڑی جون ۱۹۰۸ء)

اور شمالی ہند کے مشہور صحافی ، مدیر ’’سیاست ‘‘ مولانا سید حبیب صاحب نے اپنی کتاب تحریک ِ قادیان میں لکھا۔

’’ اس وقت کہ آریہ اور مسیحی مبلغ اسلام پر بے پناہ حملے کر رہے تھے۔ اِکّے دُکّے جو عالم دین بھی کہیں موجود تھے وہ ناموسِ شریعتِ حقّہ کے تحفّظ میں مصروف ہو گئے مگر کوئی زیادہ کامیاب نہ ہوا۔ اس وقت مرزا غلام احمد صاحب میدان میں اترے اور انہوں نے مسیحی پادریوں اور آریہ اپدیشکوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے سینہ سپر ہونے کا تہیّہ کر لیا ۔۔۔۔۔۔مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ مرزا صاحب نے اس فرض کو نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیا اور مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دئیے۔ ‘‘(تحریک قادیان ۔صفحہ ۲۰۷ تا۲۱۰ ۔مصنفہ سید حبیب)

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے غیر مسلموں کے حملوں کے جواب میں جو کچھ لکھا اور اسلام کا جس شان اور قوّت سے دفاع کیا اس کو عالمِ اسلام خراجِ تحسین پیش کرتا ہے ، سوائے چند حاسدوں اور بغض میں اندھوں کے کہ انہیں سوائے جھوٹے اور لغو اعتراضات کے اور کچھ سجھائی ہی نہیں دیتا۔ مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ایک نظم ،شانِ اسلام میں اسلام کی حقانیت اور دیگر مذاہب پر اس کی فوقیت کو ثابت کیا نیز اسلام پر آریوں کے حملوں کا ذکر کر کے اپنے درد اور کرب کا اظہار فرمایا اور لکھا۔

اسلام سے نہ بھاگو راہ ھدیٰ یہی ہے۔ ۔۔اے سونے والو جاگو شمس الضحیٰ یہی ہے

مجھ کو قسم خدا کی جس نے ہمیں بنایا ۔۔۔اب آسماں کے نیچے دین خدا یہی ہے

اک دیں کی آفتوں کا غم کھا گیا ہے مجھ کو۔۔۔ سینہ پہ دشمنوں کے پتھر پڑا یہی ہے

کیونکر تبہ وہ ہووے کیونکر فنا وہ ہووے ۔۔۔ظالم جو حق کا دشمن وہ سوچتا یہی ہے

آنکھیں ہر ایک دیں کی بے نور ہم نے پائیں۔۔۔ سرمہ سے معرفت کے اک سرمہ سا یہی ہے

پر آریوں کی آنکھیں اندھی ہوئی ہیں ایسی۔۔۔ وہ گالیوں پر اترے دل میں پڑا یہی ہے

بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بد زباں ہے۔۔۔ جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے

اس دیں کی شان وشوکت یا رب مجھے دکھا دے۔۔۔سب جھوٹے دیں مٹا دے میری دعا یہی ہے

( درثمین صفحہ ۷۱ تا ۸۸ مطبوعہ لندن ۱۹۹۶ء)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آریوں کے لچّر اور گالیوں سے بھرے گندے اعتراضات کے بارہ میں جو یہ لکھا ہے کہ

بد تر ہرایک بد سے وہ ہے جو بد زباں ہے

جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے

یہ راشد علی کے نزدیک سخت قابلِ اعتراض ہے وہ اس پر تلملا اٹھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ،اسلام اور قرآن کریم پر بد زبانی کرنے والوں کی بد زبانی اور دلی نجاست کو ’بیت الخلا‘ کیوں کہاگیا ہے۔ شاید اس کو اس شعر کے آئینہ میں اپنے دل کی نجاست کا نقشہ نظر آگیا ہو لیکن ہمیں اس سے غرض نہیں۔ ہمیں تردّد اس بات پر ہے کہ آریوں اور رسولِ خدا ﷺ کی شان میں دشنام طرازی کرنے والوں سے اسے اتنی ہمدردی کیوں ہے ؟

علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب پنڈت دیانند کی بد زبانیوں اور گالی گلوچ کو مدنظر رکھ کر یہ لکھا کہ۔

’’ صرف گالیاں دینے سے کام نہیں نکلتا۔ ہر یک حقیقت مقابلہ کے وقت معلوم ہوتی ہے اور ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔ ‘‘(ست بچن۔ روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۱۳۳)

تو اس پر بھی راشد علی کو طیش آگیا کہ پنڈت دیانند کو آخر یہ کیوں لکھا کہ ’’گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔ ‘‘ راشد علی کے خیال میں پنڈت دیانند جیسے شاتمِ رسول ﷺ کو شاباش دینی چاہئے تھی !! اور اسے اعلیٰ اوصاف کا مالک قرار دینا چاہئے تھا !!! (نعوذباللہ)

حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ بوجود مسلمان ہو نے کے یہ شخص رسول اللہ ﷺ کے لئے ایک ذرّہ بھر غیرت بھی نہیں رکھتا۔کیا حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے بغض میں بالکل ہی اندھا ہو چکا ہے کہ اسے آنحضرت ﷺ کا بھی خیال نہیں آیا؟

%d bloggers like this: