متفرق اعتراضات

حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام پر گالیاں دینے ک الزام

سخت کلامی کی حقیقت و وضاحت

راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض تحریریں پیش کی ہیں جن میں مسلمان مخالف علماء کے لئے سخت الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان تحریرات کے مخاطب وہ چند گنتی کے مولوی تھے۔ جو آپ ؑ کو نہایت فحش اور ننگی گالیاں دیتے تھے چنانچہ ان بدباطن مولویوں نے راشد علی اور عبد الحفیظ کی طرح، آپ ؑ کے اہلِ بیت کے گندے اور توہین آمیز کارٹون بھی بنا کر شائع کئے اور سفلوں اور کمینوں کی زبان بھی استعمال کی۔ راشد علی جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دیگر کتب کو چھان چھان کر دیکھتا ہے ، اس کی کسی قدر تفصیل ،کتاب ’’ کتاب البریہ ‘‘ اور ’’ کشف الغطاء ‘‘ میں دیکھ سکتا تھا۔ لیکن یہ ان کتابوں کے ان ابواب کو اس لئے نہیں دیکھتا کہ ان میں اسے اپنا چہرہ نظر آتا ہے۔

بہر حال مذکورہ بالا چند گنتی کے مولویوں میں محمد بخش جعفر زٹلی ، شیخ محمد حسین بٹالوی ، سعد اللہ لدھیانوی ، عبدالحق امرتسری خاص طور پر گالیاں دینے میں پیش پیش تھے۔ اسی طرح چند پادری، چند متنصّر مولوی اور چند آریہ تھے جو دشنام دہی میں ظلم کی حدیں پاٹ چکے تھے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سخت الفاظ اس قسم کے بد زبان لوگوں کی نسبت بطور جواب تھے ۔یعنی جو گند انہوں نے آپ ؑ کی طرف پھینکا آپ نے وہ انہیں کی طرف لوٹا دیا۔ ابتدائی طور پر سخت الفاظ کا استعمال مخالفوں کی طرف سے ہوا جس کا جواب حکمت کے تقاضوں کے تحت ضروری تھا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس صورت حال کا ذکر کر کے فرمایا۔

’’ مخالفوں کے مقابل پر تحریری مباحثات میں کسی قدر میرے الفاظ میں سختی استعمال میں آئی تھی لیکن وہ ابتدائی طور پر سختی نہیں ہے۔ بلکہ وہ تمام تحریریں نہایت سخت حملوں کے جواب میں لکھی گئی ہیں مخالفوں کے الفاظ ایسے سخت اور دشنام دہی کے رنگ میں تھے ۔ جن کے مقابل پر کسی قدر سختی مصلحت تھی۔ اس کا ثبوت اس مقابلہ سے ہوتا ہے جو میں نے اپنی کتابوں اور مخالفوں کی کتابوں کے سخت الفاظ اکٹھے کر کے کتاب مسل مقدمہ مطبوعہ کے ساتھ شامل کئے ہیں جن کا نام میں نے ’’کتاب البریّہ ‘‘ رکھا ہے اور بایں ہمہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ میرے سخت الفاظ جوابی طور پر ہیں۔ ابتداء سختی کی مخالفوں کی طرف سے ہے اور میں مخالفوں کے سخت الفاظ پر بھی صبر کر سکتا تھا۔ لیکن دو مصلحت کے سبب سے میں نے جواب دینا مناسب سمجھا تھا۔ اول یہ کہ تا کہ مخالف لوگ اپنے سخت الفاظ کا سختی میں جواب پا کر اپنی روش بدلا لیں۔ اور آئندہ تہذیب سے گفتگو کریں۔ دوم یہ کہ مخالفوں کی نہایت ہتک آمیز اور غصّہ دلانے والی تحریروں سے عام مسلمان جوش میں نہ آئیں اور سخت الفاظ کا جواب بھی کسی قدر سخت پا کر اپنی پر جوش طبیعتوں کو اس طرح سمجھا لیں کہ اس طرف سے سخت الفاظ استعمال ہوئے تو ہماری طرف سے بھی کسی قدر سختی کے ساتھ ان کو جواب مل گیا۔ اور اس طرح وہ وحشیانہ انتقاموں سے دست کش رہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ بات بالکل سچ ہے کہ اگر سخت الفاظ کے مقابل پر دوسری قوم کی طرف سے کچھ سخت الفاظ استعمال نہ ہوں تو ممکن ہے اس قوم کے جاہلوں کا غیظ وغضب کوئی اور راہ اختیار کر لے۔ مظلوموں کے بخارات نکلنے کے لئے یہ ایک حکمت عملی ہے کہ وہ بھی مباحثات میں سخت حملوں کا سخت جواب دیں۔ ‘(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ۱۱ ، ۱۲ )

بہرحال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سخت کلام ان چند محدود اور مخصوص افراد کے لئے تھا جن کا ذکر کسی حد تک اوپر گذر چکا ہے۔ یہ لوگ ایک زمانہ ہوا کہ اس دنیا سے کوچ کر گئے مگرتعجّب ہے کہ آج ان مُردوں کو اکھیڑنے اور ان پر انہیں کا لوٹایا ہوا گند دوبارہ اچھالنے کا کام راشد علی نے کیوں شروع کر رکھا ہے؟

ان مخالفین کی طرف سے ایذا رساں سخت الفاظ اور دشنام دہی کی مسلسل اور موسلا دھار بارش جب ظلم کی حدود کے دوسرے کنارے بھی پاٹ گئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآنِ کریم کے حسبِ ذیل حکم کے تحت ان کو جواب دیا۔

لَا یُحِبُّ اللّٰہُ الجَھرَ بِالسُّوءِ مِنَ القَولِ اِلَّامَن ظُلِمَ(النساء : ۱۴۹)

ترجمہ :۔ اللہ تعالیٰ بری بات کے اظہار کو پسند نہیں کرتا سوائے اس کے کہ جس پر ظلم کیا گیا ہو۔

پس اس صورتحال میں اگر راشد علی کو کوئی اعتراض ہے تو اس کا ہدف اس کے اپنے پیش رَو مسلمان مولوی،متنصّر مولوی، پادری اورآریہ لیڈر ہیں۔ بہرحال یہ اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نہیں اٹھ سکتا۔

(i) جوابی گالی

راشد علی ایک اور تحریف کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے

’’میں نے جوابی طور پر بھی کسی کو گالی نہیں دی‘‘

یہ ایک معنوی تحریف ہے جو راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت سے کی ہے۔ آپ ؑ کی اصل عبارت یہ ہے۔

’’اعلم ان موضوع امرنا ھذا ھوالدعوی الذی عرضت علی الناس وقلت انی انا المسیح الموعود والامام المنتظر المعہود حکمنی اللّٰہ لرفع اختلاف الامۃ وعلمنی من لدنہ لادعوالناس علی البصیرۃ فما کان جوابہم الا السبّ والشتم والفحشاء ، والتکفیر والتکذیب والایذاء وقد سبّونی بکل سبٍّ فمارددت علیھم جوابہم وما عبات بمقالہم وخطابہم ولم یزل امرشتمھم یزداد ویشتعل الفساد وراوا ایات فکذبوھا ۔۔۔ ودعوا النصاری لتائیدھم و غیرھم من اعداء الدین وافتی علماؤھم لتکفیرنا۔۔۔ وفسقونی وجھلونی بالکذب والافتراء وبالغوا فی السبّ الی الانتھاء وانی لاجبتہم بقول حق لولا صیانۃ النفس من الفحشاء ‘‘ (مواہب الرحمان۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۳۶ تا ۲۳۸)

ترجمہ :۔ ہمارا موضوع یہاں وہ دعویٰ ہے جو میں نے لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ میں نے بتایا کہ میں ہی مسیحِ موعود اور معہود امام منتظر ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے امت کے اختلافات دور کرنے کے لئے حکم بنایا ہے اور مجھے اپنی جناب سے علم عطا کیا ہے تا کہ لوگوں کو بصیرت کی طرف بلاؤں۔ تو ان کاجواب سوائے گالی گلوچ ، فحش کلامی ، تکفیر ، تکذیب اور ایذا رسانی کے اور کچھ نہ تھا۔ انہوں نے مجھے ہر طرح کی گالی دی لیکن میں نے انہیں کوئی جواب نہ دیا اور ان کی باتوں کی کوئی پرواہ نہ کی۔ پھر ان کا سبّ وشتم بڑھتا ہی گیا اور فساد بھڑکتا ہی گیا ۔انہوں نے نشانات دیکھے مگر انہیں جھٹلایا ۔۔۔۔۔۔ انہوں نے عیسائیوں کو بھی اپنی مدد کے لئے بلایا اور دین کے دوسرے دشمنوں کو بھی۔ ان کے علماء نے ہماری تکفیر کے فتوے دئیے ۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے مجھے محض ازراہِ کذب وافتراء فاسق اور جاہل قرار دیا۔ اور اگر میرا نفس فحش کلامی سے محفوظ نہ ہوتا تو میں بھی انہیں صحیح صحیح جواب دیتا۔

اس عربی عبارت کا وہ ترجمہ ہرگز نہیں ہے جو راشد علی نے کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو فرمایا ہے۔ وقد سبّونی بکلّ سبّ فمارددت علیھم جوابہم کہ انہوں نے مجھے ہر طرح کی گالی دی مگر میں نے ان کی گالیوں کا جواب نہیں دیا۔

یہ مکمل عبارت خود ظاہر کر رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابتدائی زمانہ یعنی اپنے دعوی مسیحیت کے اعلان کے زمانہ کی بات کر رہے ہیں۔ اس زمانہ میں جب تکفیر اور سبّ وشتم کا بازارآپ کے خلاف گرم ہوا تو آپ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا حتّٰی کہ یہ ظلم کی حدوں کو پار کر چکا تو جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے ،تب آپ نے قرآنی حکم کی تعمیل میں ظلم کرنے والوں کو ان کی قلم اور زبان کی مرارت اور تلخی کا مزہ چکھانے کے لئے سختی کے ساتھ ٹھوس علمی دلائل کی ساتھ جواب دئیے۔

پس راشد علی نے انتہائی عیّاری سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کو ایسے معنے دینے کی کوشش کی ہے جو نہ اس تحریر کا مطلوب ہے نہ منطوق ’’گالیوں کا جواب نہ دینا ‘‘ اور ’’ جوابی طور پر گالی نہ دینا ‘‘ میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ جو راشد علی کے فریب کا پول کھولتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کبھی بھی کسی کو گالی نہیں دی۔ ہاں مخالفوں ہی کی گالیاں ان کو واپس لوٹائی ہیں یا ان کی گالیوں کا جواب اس لئے سخت الفاظ میں دیا ہے کہ وہ جو زبان آپ ؑ کے خلاف استعمال کرتے تھے اس کی مرارت کا کسی قدر مزہ چکھ سکیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ۔

’’ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے۔ بڑے دھوکہ کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ دشنام دہی اور بیانِ واقعہ کو ایک ہی صورت میں سمجھ لیتے ہیں اور ان دونوں مختلف مفہوموں میں فرق کرنا نہیں جانتے بلکہ ایسی ہر ایک بات کو جو دراصل ایک واقعی امر کا اظہار ہو اور اپنے محل پر چسپاں ہو محض اس کی کسی قدر مرارت کی وجہ سے جو حق گوئی کے لازم حال ہوا کرتی ہے دشنام ہی تصوّر کر لیتے ہیں حالانکہ دشنام اور سبّ وشتم فقط اس مفہوم کا نام ہے جو خلافِ واقعہ اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے۔ ‘‘(ازالہ اوہام ۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۰۹)

ii۔ مولوی جھوٹے ہیں

راشد علی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک اور عبارت میں تحریف کر کے اسے اور معنے پہنانے کی کوشش کی ہے۔ راشد علی کی پیش کردہ وہ عبارت یہ ہے۔

’’مولوی جھوٹے ہیں اور کتّوں کی طرح مردار کھاتے ہیں۔ ‘‘(روحانی خزائن جلد ۱۱صفحہ ۳۰۹ )

قارئین کرام ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مکمل اور اصل عبارت حسبِ ذیل ہے۔ آپ پادری عبداللہ آتھم والی پیشگوئی کی تکذیب کرنے والے بعض مخصوص مولویوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

’’ اب ڈھونڈو آتھم کہاں ہے۔ کیا پیشگوئی کے الفاظ کے مطابق وہ قبر میں داخل نہیں ہوا۔ کیا وہ ہاویہ میں نہیں گرایا گیا۔

اے اندھو ! میں کب تک تمہیں بار بار بتلاؤں گا کیا ضرور نہ تھا کہ خدا اپنی شرط کے موافق اپنے پاک الہام کو پورا کرتا۔ آتھم تو اسی وقت مر گیا تھا۔ جب کہ میری طرف سے چار ہزار کے انعام کے ساتھ متواتر اس پر حجّت پوری ہوئی اور وہ سر نہ اٹھا سکا۔ پھر خدا نے اس کو نہ چھوڑا جب تک قابضِ ارواح کے اس کو سپرد نہ کردیا۔

پیشگوئی ہر ایک پہلو سے کھل گئی۔ اب بھی اگر جہنم کو اختیار کرنا ہے تو میں عمداگرنے والے کو پکڑ نہیں سکتا ۔ یہ تمام واقعات ایسے ہیں کہ ان سب پر پوری اطلاع پا کر ایک متّقی کا بدن کانپ جاتا ہے اور پھر وہ خدا سے شرم کرتا ہے۔ کہ ایسی کھلی کھلی پیشگوئی سے انکار کرے ۔ میں یقیناًجانتا ہوں کہ اگر کوئی میرے سامنے خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر اس پیشگوئی کے صدق سے انکار کرے تو خدا تعالیٰ اس کو بغیر سزا نہیں چھوڑے گا۔ اوّل چاہئے کہ وہ ان تمام واقعات سے اطلاع پاوے تا اس کی بے خبری اس کی شفیع نہ ہو ۔پھر بعد اس کے قسم کھاوے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور جھوٹی ہے۔ پھر اگر وہ ایک سال تک اس قسم کے وبال سے تباہ نہ ہو جائے اور کوئی فوق العادت مصیبت اس پر نہ پڑے تو دیکھو کہ میں سب کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ اس صورت میں میں اقرار کروں گا کہ ہاں میں جھوٹا ہوں۔ اگر عبدالحق اس بات پر اصرار کرتا ہے تو وہی قسم کھاوے اور اگر محمد حسین بطالوی اس خیال پر زور دے رہا ہے تو وہی میدان میں آوے۔ اور اگر مولوی احمد اللہ امرتسری یا ثناء اللہ امرتسری ایسا ہی سمجھ رہا ہے۔ تو انہیں پر فرض ہے کہ قسم کھانے سے اپنا تقویٰ دکھلاویں اور یقیناًیاد رکھو کہ اگر ان میں سے کسی نے قسم کھائی کہ آتھم کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور عیسائیوں کی فتح ہوئی۔تو خدا اس کو ذلیل کرے گا۔ رو سیاہ کرے گا۔ اور لعنت کی موت سے اس کو ہلاک کرے گا کیونکہ اس نے سچائی کو چھپانا چاہا۔ جو دین اسلام کے لئے خدا کے حکم اور ارادہ سے زمین پر ظاہر ہوئی۔

مگر کیا یہ لوگ قسم کھا لیں گے ؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ یہ جھوٹے ہیں اور کتّوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔ ‘‘(انجام آتھم ۔ جلد ۱۱صفحہ ۳۰۸ تا ۳۱۰حاشیہ)

اس عبارت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چار مولویوں کا نام لے کر اور انہیں مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ اگر ان کی دانست میں پادری عبداللہ آتھم کو خدا تعالیٰ نے پیشگوئی کے مطابق اپنی قہری تجلی کا نشانہ نہیں بنایا تو وہ قسم کھاویں اور قسم کھا کر یہ اعلان کر دیں کہ یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ چونکہ مذکورہ بالا مولوی پیشگوئی کی تکذیب میں قطعی جھوٹے تھے اور انہیں علم تھا کہ وہ یقیناًجھوٹے ہیں اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا کہ۔

’’ مگر کیا یہ لوگ قسم کھالیں گے؟ ہرگز نہیں ۔ کیونکہ یہ جھوٹے ہیں اور کتّوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔ ‘‘

ظاہر ہے کہ یہ فقرہ عام نہیں جیسا کہ راشد علی نے تلبیسی کارروائی کر کے اسے عام بنا کر سارے مولویوں کو اس کا مصداق کر دیا ہے۔ یہ راشد علی کا اپنا کوئی انتقام ہے جو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کی آڑ میں سب مولویوں سے لے رہا ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر تو صاف طور پر چند مذکور مولویوں تک محدود ہے۔

جہاں تک ان مولویوں یعنی مولوی محمد حسین بٹالوی ، عبدالحق ، احمد اللہ امرتسری اور ثناء اللہ امرتسری کا تعلق ہے انہوں نے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بار با رچیلنج پر بھی قسم نہیں کھائی اور اپنی فعلی شہادت سے یہ ثابت کر دیا کہ پادری عبداللہ آتھم والی پیشگوئی سچی تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے اس طریق سے یہ بھی ثابت کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے بارہ میں بھی جو لکھا تھا وہ سچ تھااور وہ جھوٹ کا مردار ہی کھا رہے تھے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارتوں سے قطعاً یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ آپ نے نیک عوام اور صالح علماء کے خلاف کبھی سخت الفاظ استعمال فرمائے۔ اس مسئلہ کو آپ ؑ نے خود بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں۔

’’ لیس کلا منا ھذا فی اخیارھم بل فی اشرارھم ‘‘(الہدیٰ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۳۱۴)

کہ ہم نے یہ جو کچھ لکھا ہے ، صرف شریر علماء کی نسبت لکھا ہے ،جو علماء شریر نہیں بلکہ اخیار میں سے ہیں،ہم نے ان کی نسبت یہ نہیں لکھا۔

پھر فرماتے ہیں :۔

’’ نعوذ باللہ من ھتک العلماء الصالحین وقدح الشرفاء المھذبین سواء کانوا من المسلمین او المسیحین اوالآریۃ ‘‘ (لجّۃ النو ر۔ روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۴۰۹)

ہم نیک علماء کی ہتک اور شرفاء کی توہین سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔ خواہ ایسے لوگ مسلمان ہوں یا عیسائی یا آریہ ۔ نیز فرمایا

’’ صرف وہی لوگ ہمارے مخاطب ہیں خواہ وہ بگفتن مسلمان کہلاتے یا عیسائی ہیں جو حد اعتدال سے بڑھ گئے ہیں اور ہماری ذاتیات پر گالی اور بدگوئی سے حملہ کرتے یا ہمارے نبی کریم ﷺکی شان بزرگ میں توہین اور ہتک آمیز باتیں منہ پر لاتے اور اپنی کتابوں میں شائع کرتے ہیں۔ سو ہماری اس کتاب اور دوسری کتابوں میں کوئی لفظ یا کوئی اشارہ ایسے معزز لوگوں کی طرف نہیں ہے جو بد زبانی اور کمینگی کے طریق کو اختیار نہیں کرتے۔‘‘(اشتہار مشمولہ ایام الصلح ۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۲۲۸ )

پس دجل اور ظلم راشد علی کا ہے کہ وہ اندھا دھند سب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان عبارتوں کا ہدف بناتا ہے۔

iii ۔ سخت الفاظ : اناجیل وقرآن کے آئینہ میں

ہم اناجیل وقرآن کریم کے بعض بظاہر سخت الفاظ ذیل میں نقل کرتے ہیں۔ تا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض کرنے والے یہ سوچ سکیں کہ ان کے جھوٹے فتووں کی زد گذشتہ انبیاء علیہم السلام پر بھی پڑتی ہے ۔

اناجیل میں حضرت مسیحؑ نے اپنے مخاطبین کو جن ناموں سے یاد فرمایا ہے ان میں سے بعض یہ ہیں :۔

(۱) تم بڑے گمراہ ہو۔ مرقس ۲۷/۱۲(۲) اے بدکارو ! لوقا ۲۷/۱۳ (۳) اے نادانو ! لوقا ۲۵/۲۴(۴) اے ریا کار فقیہو ! اور فریسیو ! متی ۱۳/۲۳(۵) اے اندھے راہ بتانے والو ! متی ۱۶/۲۳(۶) اے احمقو ! اور اندھو ! متی ۱۷/۲۳(۷) اے ملعونو ! متی ۴۱/۲۵(۸) اے شیطان۔ متی ۲۳/۱۲(۹) اے سانپ کے بچو۔ متی ۳۴/۱۲(۱۰) برے اور زنا کار لوگ۔ متی ۳۹/۱۲ (۱۱) اے سانپو! اے افعی کے بچو! متی ۳۳/۲۳(۱۲) تم اپنے باپ ابلیس سے ہو۔ یوحنا ۴۴/۸(۱۳) جا کر اس لومڑی (ہیرو دیس) سے کہدو۔ لوقا ۳۲/۱۳(۱۴) کتے اور سؤر۔ متی ۱۶/۱۵ ، ۶/۷

قرآن مجید میں مکذّبین ،مکفّرین اور منافقین وغیرہ کے لئے حسبِ ذیل الفاظ بھی مذکور ہیں :۔

(۱) القردۃ ۔بندر (المائدہ :۶۱) (۲) الخنازیر ۔ سؤر (المائدہ :۶۱) (۳) حمر ۔گدھے (المدثر :۵۱) (۴) شرّالدواب ۔ حیونات سے بدتر (انفال :۵۶) (۵) صمٌ بکمٌ عمیٌ ۔ بہرے ، گونگے ،اندھے (البقرہ:۱۹) (۶) مھین ۔ ذلیل (القلم :۱ ۱) (۷) ھمّاز ۔ نکتہ چین (القلم :۲ ۱) (۸) مشّاءٍ بنمیم ۔ چغلخور (القلم :۲ ۱) (۹) منّاعٍ للخیر ۔ بھلائی سے روکنے والے (القلم :۱۳) (۱۰) معتد ۔ حد سے بڑھنے والا (القلم :۱۳) (۱۱) اثیم ۔ فاسق وفاجر (القلم :۱۳) (۱۲) عتلّ ۔ سرکش (القلم :۱۴) (۱۳) زنیم ۔ ولدالزنا (القلم :۱۴) (۱۴) نجس ۔ ناپاک (التوبہ :۲۸) (۱۵) رجس ۔مجسم گند (التوبہ : ۱۲۵) (۱۶) شرالبریۃ ۔ سب مخلوق سے بدتر (البینہ:۷) (۱۷) الکلب ۔ کتّا (الاعراف ۱۷۷)

ہمارے مخالفین کا فرض ہے کہ ان برمحل نازل شدہ الفاظ کو پڑھ کر قرآن مجید کا صحیح اخلاقی معیار سمجھ لیں۔ اور سوچیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بعض برمحل الفاظ استعمال کرنا کیونکر قابل اعتراض ہو سکتا ہے ؟

iv۔ علماء کی دو قسمیں

آنحضرت ﷺ نے علماء کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں۔

۱۔ وہ علماء جو ربّانی ہیں ۔ ان کے بارہ میں فرمایا

’’علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ (کشّاف الخفاء ومزیل الالباس از اسماعیل بن محمد العجلونی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱۹۸۸)

کہ میری امتّ کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کے مشابہ ہیں ۔

ایسے علماء کی قرآن کریم نے تعریف بیان فرمائی۔

اِنَّمَا یَخشَی اللّٰہَ مِن عِبَادِہ العُلَمآوءُ (فاطر:۲۹)

ترجمہ :۔ یقیناًاللہ کے بندوں میں سے علماء اس سے ڈرتے ہیں۔

۲۔ دوسرے علماء وہ ہیں جن کے بارہ میںآانحضرت ﷺ نے فرمایا

’’علماء ھم شرّ من تحت ادیم السماء ‘‘(مشکٰوۃ ۔ کتاب العلم ۔ مطبع احمدی صفحہ ۳۸)

کہ اُن کے علماء آسمان کے نیچے بد ترین مخلوق ہوں گے۔

جہاں تک لوگوں کے اُن علماء کا تعلق ہے۔ ان میں سے جو چند ایک حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مقابلہ کے لئے آپ کے سامنے آئے انہوں نے علمی شکست کے بعد سبّ وشتم کی پٹاری ہی کھول دی تو ان کے ظلم سے تنگ آکر محض مجبوری کی بناء پر آپ ؑ نے صرف انہی کو سخت الفاظ سے مخاطب کیا۔ علماء ھم کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کچھ کہنے کی چنداں ضرورت نہ تھی کیونکہ ان کے بارہ میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ مجدد بارہویں صدی ،کا یہ قول ہی کافی تھا کہ

’’ اگر تم مسلمانوں میں یہود کا نمونہ دیکھنا چا ہو تو علماء سوء کو دیکھ جو دنیا کے طالب ہیں، …. کتاب و سنّت سے منہ پھیر چکے ہیں،…. اور معصوم شارعؑ کے کلام سے منحرف ہیں۔ ‘‘(الفوز الکبیر۔ اردو ترجمہ ۔ صفحہ ۵۲ ۔ ناشر اردو اکیڈمی سندھ کراچی)

لیکن اصل فتویٰ تو بانی اسلام سیّد الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ہے۔آپؐ فرماتے ہیں۔

’’تکون فی امتی فزعۃ فیصیر الناس الی علماءھم فاذا ھم قردۃ وخنازیر ‘‘ (منتخب کنزالعمّال۔ بر حاشیہ مسند احمد بن حنبل۔ جلد ۶صفحہ ۲۸۔ دار الذکر للطباعۃ و النشر مصر)

کہ میری امت پر ایک ایسا گھبراہٹ کا زمانہ آئے گا کہ لوگ اپنے علماء کے پاس رہنمائی کی امید سے جائیں گے تو دیکھیں گے کہ وہ تو بندر اور سؤر ہیں۔

پس سارا معاملہ ہم نے کھول کر رکھ دیا ہے۔ راشد علی اب جو فتویٰ بھی لگانا چاہتا ہے ، لگائے ۔ ایسے علماء جن کو آنحضرت ﷺ نے بندر ،سؤر اور ردائے فلک کے نیچے بدترین مخلوق قرار دیا ہے ۔ راشد علی ہزار بار بھی ان کی وکالت کرتا ہوا انہیں انسان ثابت کرنا چاہے وہ ہرگز ایسا نہیں کر سکتااورآنحضرت ﷺ کی بات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرنے والا یقیناًابلیس لعین کا غلام ہی ہو سکتا ہے۔

%d bloggers like this: