تحریرات پر اعتراض, متفرق اعتراضات

حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام پر عقیدہ تناسخ ماننے کے الزام کا جواب

کیا عقیدہ تناسخ برحق ہے ؟

راشد علی نے اپنا یہ جھوٹ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کیا ہے

“Tanasukh (Transmigration of soul, a Hindu belief) is true” (Beware….)

یہ بات لکھتے ہوئے بھی اس نے جھوٹ کے گند پر منہ مارا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس زور سے ہندوؤں کے اس عقیدہ ’’تناسخ‘‘ کا عقلی ونقلی طور پر ردّ فرمایا ہے اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ پھر ایسی بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کرنا ،کسی ایسے انتہائی بددیانت اور جھوٹے شخص کا ہی کام ہو سکتا ہے جو عملاًشیطان کی گود میں بس رہا ہو اور اس کے ہاتھ میں کھیل رہا ہو۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تناسخ کے ہر پہلو کو ر دّ فرمایا ہے۔ حتّٰی کہ وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایسی آمد کے قائل ہیں کہ جسکا تصوّر تناسخ کے اوہام میں الجھ کر رہ جاتا ہے ، ان کے خیالات کا ردّ کرتے ہوئے بھی آپ ؑ فرماتے ہیں۔

’’ اور یہ خیال کہ تناسخ کے طور پر حضرت مسیح ابن مریمؑ دنیا میں آئیں گے سب سے زیادہ ردّی اور شرم کے لائق ہے۔ تناسخ کے ماننے والے تو ایسے شخص کا دنیا میں دوبارہ آنا تجویز کرتے ہیں جس کے تزکیہ نفس میں کچھ کسر رہ گئی ہو لیکن جو لوگ بکلّی مراحلِ کمالات طے کر کے اس دنیا سے سفر کرتے ہیں وہ بزعم ان کے ایک مدّتِ دراز کے لئے مکتی خانہ میں داخل کئے جاتے ہیں ۔ماسوائے اس کے ہمارے عقیدہ کے موافق خدائے تعالیٰ کا بہشتیوں کے لئے یہ وعدہ ہے کہ وہ کبھی اس سے نکالے نہیں جائیں گے۔ پھر تعجب ہے کہ ہمارے علماء کیوں حضرت مسیحؑ کو اس فردوسِ بریں سے نکالنا چاہتے ہیں۔‘‘(ازالہ اوہام ۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۴۷ ، ۱۴۸)

جہاں تک ہندوؤں کے عقیدہ تناسخ کا تعلق ہے تو اس کے مطابق روحیں اپنے اعمال کے نتیجہ میں مختلف جنم لیتی رہتی ہیں اور اس جنم کے چکّر سے پوری طرح آزاد نہیں ہوتیں۔ اگر کوئی شخص اچھے عمل کرتا ہے تو اسے اچھا جنم دیا جاتا ہے اور بد اعمال شخص برے جنم میں ڈالا جاتا ہے اور جب سے کائنات ہے یہ دور جاری چلا آیا ہے اور اسی طرح جاری چلا جائے گا اور اگر کسی کو مکتی یعنی نجات ملتی بھی ہے تو محض عارضی طور پر ملتی ہے اور پھر وہ روح اواگوان یعنی تناسخ کے چکر میں ڈال دی جاتی ہے کیونکہ ان کے زعم میں محدود عمل کی غیر محدود جزا نہیں مل سکتی۔ ہندوؤں کے اس عقیدہ تناسخ کو باطل قرار دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا کلّیۃً ر دّ فرمایا ہے۔ آپ ؑ ہندوؤں کے عقائد کی اس شاخ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

’’ ۔۔۔۔۔۔ وہ بھی خدا کے رحم اور فضل پر سخت دھبّہ لگاتی ہے کیونکہ جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دو تین بالشت جگہ میں مثلاً چیونٹئیں اتنی ہوتی ہیں کہ کئی ارب سے زائد ہو جاتی ہیں اور ہر ایک قطرہ پانی میں کئی ہزار کیڑا ہوتا ہے اور دریا اور سمندر اور جنگل طرح طرح کے حیوانات اور کیڑوں سے بھرے ہوئے ہیں جن کی طرف ہم انسانی تعداد کو کچھ بھی نسبت نہیں دے سکتے۔ اس صورت میں خیال آتا ہے کہ اگر بفرضِ محال تناسخ صحیح ہے تو اب تک پرمیشر نے بنایا کیا ؟ اور کس کو مکتی دی اور آئندہ کیا امید رکھی جائے ؟

ماسوا اس کے یہ قانون بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ سزا تو دی جائے مگر سزا یافتہ شخص کو جرم پر اطلاع نہ دی جائے اور پھر ایک نہایت مصیبت کی جگہ یہ ہے کہ مکتی تو گیان پر موقوف ہے اور گیان (یعنی علم ۔ ناقل) ساتھ ساتھ برباد ہوتا رہتا ہے اور کوئی کسی جون میں آنے والا خواہ کیسا ہی پنڈت کیوں نہ ہو کوئی حصہ وید کا یاد نہیں رکھتا۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ جونوں کے ذریعہ مکتی پانا محال ہے اور جو جونوں میں پڑ کر مرد اور عورتیں دنیا میں آتی ہیں ان کے ساتھ کوئی ایسی فہرست نہیں آتی جس سے ان کے رشتوں کا حال معلوم ہو تا کوئی بیچارہ کسی ایسی نوزاد کو اپنی شادی میں نہ لائے جو دراصل اس کی ہمشیرہ یا ماں ہے۔‘‘(لیکچر سیالکوٹ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۳۱ ، ۲۳۲)

حیرت ہے کہ راشد علی اور اس کا پیر اس طرح بے باکی سے جھوٹ بولتے ہیں کہ گویا ان کی جان خدا تعالیٰ کے قبضہء قدرت میں نہیں۔ وہ شخص جس نے ہندوؤں کے عقائد کو کلّیۃً باطل ثابت کر کے اسلام کی سچائی کو دنیا پر ثابت کر کے دکھایا اس کی طرف جھوٹ منسوب کر کے در اصل خودانہوں نے اپنے جھوٹ کا ہی ثبوت مہیا کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ، خصوصاً چشمہ معرفت ، قادیان کے آریہ اور ہم ، براہین احمدیہ ، سرمہ چشم آریہ اور شحنہ حق وغیر ہ ، تناسخ اور ہندوؤں کے دیگر عقائد کے ردّ میں ایسی لاجواب کتب ہیں کہ ان کی نظیر مسلمانوں کے لٹریچر میں مفقود ہے۔ ان کتب کے بارہ میں مسلمان لیڈروں نے جو تبصرے اور ریویو تحریر کئے ان کے نمونے آئندہ صفحات میں ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں۔

%d bloggers like this: