تحریرات پر اعتراض, متفرق اعتراضات

حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام پر قیامت اور روز جزا و سزا نہ ماننے کا الزام

قیامت ، روزِ جزا و سزا اور تقدیر کوئی چیز نہیں

راشد علی نے از راہِ کذب وافتراء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف یہ بات بھی منسوب کی ہے کہ گویا آپ ؑ نے فرمایا ہے۔

“Qiyamah or the day of judgment is nothing and there is no such things as destiny.”(Beware….)

یہ بھی اس بدبخت معترض کا ایسا جھوٹ ہے جس پر دنیا بھر کی سینکڑوں اقوام کے کروڑوں احمدی لعنت بھیجتے ہیں۔ ہر احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حسبِ ذیل فرمان پر پوری طرح ایمان رکھتا ہے اور آپ کے ساتھ ساتھ یہ اقرار کرتا ہے کہ

’’ ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیّدنا حضرت محمّد ﷺ اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ ملائک حق اور حشرِ اجساد حق اور روزِ حساب حق اورجنّت حق ہے اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو کچھ اللہ جلّ شانہٗ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور جو کچھ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا ہے وہ سب بلحاظ بیانِ مذکورہ بالا حق ہے۔ ‘‘ (ایام الصلح ۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۳۲۳)

جہاں تک تقدیر کا تعلق ہے تو اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس قدر قوی ایمان تھا کہ راشد علی اور اس کے پیر جیسے منکرین کے ایمان لانے پر بھی یقین رکھتے تھے چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں۔

قبضہ ءِ تقدیر میں دل ہیں اگر چاہے خدا

پھیردے میری طرف آجائیں پھر بے اختیار

گر کرے معجز نمائی ایک دم میں نرم ہو

وہ دلِ سنگیں جو ہووے مثلِ سنگِ کوہسار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔ روحانی خزائن جلد۲۱ صفحہ۱۲۸)

اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔

’’ ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی خاص الخاص تقدیر کو دنیا میں جاری کرتا رہتا ہے ۔ صرف یہی قانونِ قدرت اس کی طرف سے جاری نہیں جو طبعی قانون کہلاتا ہے بلکہ اس کے علاوہ اس کی ایک خاص تقدیر بھی جاری ہے جس کے ذریعہ سے وہ اپنی قوّت اور شوکت کا اظہار کرتا ہے اور اپنی قدرت کا پتہ دیتا ہے ۔یہ وہی قدرت ہے جس کا بعض نادان اپنی کم علمی کی وجہ سے انکار کر دیتے ہیں اور سوائے طبعی قانون کے اور کسی قانون کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے قانونِ قدرت کہتے ہیں۔ حالانکہ وہ طبعی قانون تو کہلا سکتا ہے مگر قانون قدرت نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ اس کے سوا اس کے اور بھی قانون ہیں جن کے ذریعے سے وہ اپنے پیاروں کی مدد کرتا ہے اور ان کے دشمنوں کو تباہ کرتا ہے ۔بھلا اگر ایسے کوئی قانون موجود نہ ہوتے تو کس طرح ممکن تھا کہ ضعیف وکمزور موسیٰ فرعون جیسے جابر بادشاہ پر غالب آجاتا۔ یہ اپنے ضعف کے باوجود عروج پا جاتا اور وہ اپنی طاقت کے باوجود برباد ہو جاتا ، پھر اگر کوئی اور قانون نہیں تو کس طرح ہو سکتا تھا کہ سارا عرب مل کر محمّد رسول اللہ ﷺ کی تباہی کے در پے ہوتا مگر اللہ تعالیٰ آپ کو ہر میدان میں غالب کرتا اور ہر حملہءِ دشمن سے محفوظ رکھتا اور آخر دس ہزار قدّوسیوں سمیت اس سر زمین پر آپ ؐ چڑھ آتے جس میں سے صرف ایک جان نثار کی معیّت میں آپ ؐ کو نکلنا پڑا تھا۔ کیا قانونِ طبعی ایسے واقعات پیش کر سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں ۔ وہ قانون تو ہمیں یہی بتاتا ہے کہ ہر ادنیٰ طاقت اعلیٰ طاقت کے مقابل پر توڑ دی جاتی ہے اور ہر کمزور طاقتور کے ہاتھوں ہلاک ہوتا ہے۔ ‘‘(دعوۃ الامیر ۔ صفحہ ۷ ، ۸ مطبوعہ الشرکۃ الاسلامیہ ۔ لندن ۱۹۹۳ء)

پس راشد علی اور اس کے پیر کا جھوٹ اظہر من الشمس ہے۔ انہوں نے از راہِ کذب وافتراء ایسی بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کی ہے جو آپ نے کہی نہیں۔

%d bloggers like this: