احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

تحریرات پر اعتراض, متفرق اعتراضات

حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی کتب تین دفعہ نہ پڑھنے پر ایمان کے خطرہ ہونے پر اعتراض

کتب نہ پڑہنے والے کے ایمان میں شُبہ

راشدعلی لکھتا ہے

Please read the books of your Messiah with a open mind It is all there in black and white. He said: ” Anyone who has not read my books at least three times,his faith (upon me) is in doubt.”(Seerat-ul-Mahdi, No 407 vol2,p.78, by Mirza Bashir Ahmad) I am sure none of you have read his books even once. After all how many of you know Urdu, Arabic and persian?……..”(Ghulam Vs Master)

راشد علی نے کتاب ’’ سیرت المہدی‘‘ کی ایک روایت کا غلط ترجمہ کیا ہے اور پھر اس کے ذریعہ افرادِ جماعت کو متّہم کرنے کی کوشش کی ہے ۔اور پھر اس نے پھپھے کٹنی بن کر انہیں نصیحت بھی کی ہے ۔

حضرت مولوی شیر علی رضی اللہ عنہٗ کی جس روایت کا اس نے ترجمہ پیش کیاہے اس کے اصل الفاظ یہ ہیں ۔کہ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے ۔

’’ ہماری جماعت کے آدمیوں کو چاہئے کہ کم از کم تین دفعہ ہماری کتابوں کا مطالعہ کریں ۔اور فرماتے تھے کہ جو ہماری کتب کا مطالعہ نہیں کرتا اس کے ایمان کے متعلق مجھے شُبہ ہے ۔‘‘(سیرت المہدی ۔جلد ۲ صفحہ۷۸ ۔روایت ۴۰۷)

اس روایت کے سرسری مطالعہ سے ہی یہ واضح ہوتا ہے کہ اس میں دو الگ الگ باتوں کا ذکر ہو رہا ہے ۔

اوّل یہ کہ چونکہ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی تحریریں اور کتب گہرے علم، دقیق مسائل اور لطیف معارف سے پُر ہیں ۔ اس لئے آپ نے پسند فرمایا کہ انہیں سمجھنے کے لئے آپ کے متّبعین کوکم ازکم تین با ران کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے ۔ آپ نے ’’چاہئے ‘‘ کے لفظ سے اپنی اس خواہش کا اظہار فرمایاہے ۔یعنی اس میں ایمان میں شُبہ والے حصہ کا ذکر نہیں ہے ۔

ظاہر ہے کہ آپ کے اس ارشاد اور اس خواہش کے تحت وہ لوگ نہیں آتے جو اختلافِ زبان، کتب کے دستیاب نہ ہوسکنے،اَن پڑھ ہونے یا ایسی ہی کسی مجبوری کی وجہ سے ان کا مطالعہ نہ کر سکتے ہوں ۔ کیونکہ وہ اس کے مکلّف نہیں ہو سکتے ۔اور جو مکلّف نہ ہو اسے شریعت نے معاف رکھا ہے ۔

پس اس روایت کے اس زیرِ بحث فقرہ سے یہ نتیجہ نکالنا قطعی غلط ہے کہ جو آپ ؑ کی کتب کا تین بار مطالعہ نہیں کرتا اس کے ایمان میں آپ ؑ کو شبہ تھا ۔

حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے جو ایمان میں شُبہ کا اظہار فرمایا ہے وہ اس شخص کے متعلق ہے جو باوجود مطالعہ کر سکنے کے، غفلت یا تکبّر وغیرہ کی وجہ سے عمداً آپ کی کتب کا مطالعہ نہیں کرتا ۔ کیونکہ اس روایت کا دوسرا فقرہ یہ ہے کہ

’’ جو ہماری کتب کا مطالعہ نہیں کرتا اس کے ایمان کے متعلق مجھے شُبہ ہے ۔‘‘

اس فقرہ میں ’’ ایمان کے شُبہ ‘‘ کے ساتھ صرف کتب کے مطالعہ کی شرط ہے۔ تین بار کے مطالعہ کی شرط نہیں ہے ۔پس ایسا شخص جو کسی مخفی یا ظاہری تکبّر کی وجہ سے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی کتب کا عمداً مطالعہ نہیں کرتا، اس کے ایمان میں شُبہ لازمی امر ہے ۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔

’’وہ جو خدا کے مأمور اور مرسل کی باتوں کو غور سے نہیں سنتا اور اس کی تحریروں کو غور سے نہیں پڑہتا اس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے۔‘‘(نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ۴۰۳)

لیکن اس کے برعکس وہ جو کسی بھی مجبوری کی وجہ سے آپؑ کی کتب کا مطالعہ کرنے سے قاصر ہے ،اس کے ایمان میں شُبہ کا آپؑ نے بالکل ارشاد نہیں فرمایا ۔ اس پر دلیل آپؑ کا حسبِ ذیل عمومی ارشاد ہے ۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ

’’ سب دوستوں کے واسطے ضروری ہے کہ ہماری کتب کم از کم ایک دفعہ ضرور پڑھ لیا کریں۔ کیونکہ علم ایک طاقت ہے اور طاقت سے شجاعت پیدا ہوتی ہے۔ جس کو علم نہیں ہوتا، مخالف کے سوال کے آگے حیران ہو جاتا ہے۔‘‘( ملفوظات جلد۸ صفحہ ۸)

اس ارشاد میں آپ ؑ نے مطالعہ کی وجہ علم کا حصول بتائی ہے جو ہر احمدی کے لئے ضروری ہے۔ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی خواہش ہوتی تھی کہ آپؑ کی جماعت کے افراد اُن روحانی خزائن سے مالا مال ہوں جو آپ تقسیم فرما رہے تھے۔ اس کے لئے آپ ؑ تاکید بھی فرماتے تھے۔

اس سلسلہ میں آپؑ کے ارشادات کی تعمیل میں آپ ؑ کے پیش فرمودہ علوم اور حقائق و معارف، افرادِ جماعت کوبچپن سے لے کر آخری عمر تک ذہن نشین کرانے کے لئے جماعت میں باقاعدہ نظام موجود ہے۔ پس راشد علی کو پھپھے کٹنی بن کر احمدیوں کے ایمان یا علم کے فکر کی ضرورت نہیں۔

Please follow and like us:
error0

Theme by Anders Norén

%d bloggers like this: