احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

جھوٹ بولنے کا اعتراض, متفرق اعتراضات

حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے استاد سے تعلیم حاصل نہ کرنے کا اعتراض

دروغ گوئی

راشد علی ، دروغ گوئی کا الزام لگاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حسبِ ذیل تحریریں پیش کرتا ہے۔

’’ بچپن کے زمانے میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خوان معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الہی تھا۔‘‘(روحانی خزائن جلد ۱۳صفحہ ۱۸۰)

’’ اور جب میری عمر تقریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔ جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا۔ ‘‘ (روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۱۹۰)

اور اب تصویر کا دوسرا رخ :۔

’’ مہدی۔ قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوتا سو میں حلفاً کہتا ہوں کہ میرا حال یہی ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہو۔ ‘‘(روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۳۹۴)

یہ اقتباس پیش کرنے کے بعد بے باک ہو کر راشد علی لکھتا ہے۔

’’سبحان اللہ !! جھوٹ اور وہ بھی حلفیہ !! غالباً مرزا صاحب کو یاد ہی نہ تھا کہ دوسری جگہ کیا لکھ چکے ہیں۔ حکما ء نے سچ کہا ہے کہ جھوٹ کا حافظہ نہیں ہوتا۔‘‘

قارئین کرام! راشد علی نے حسبِ معمول اعتراض کرتے وقت علمائے بنی اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے از راہِ تحریف کتاب ’’ایّام الصلح‘‘ صفحہ ۳۹۴ کی نصف عبارت پیش کی ہے۔ اصل حقیقت کو واضح کرنے کے لئے عبارت زیرِبحث کا مکمل حصّہ درجِ ذیل ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں

’’ سو آنے والے کا نام جو ’’ مہدی ‘‘ رکھا گیا ۔ سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہو گا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا یہی حال ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے انسان سے قرآن ، حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔ پس یہی مہدویّت ہے جو نبوّتِ محمّدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے اور اسرارِ دین بلا واسطہ میرے پر کھولے گئے۔ ‘‘(ایّام الصلح ۔ روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۹۴)

راشد علی کی پیش کردہ عبارت کے سیاق میں ’’ علمِ دین ‘‘ اور سیاق میں ’’اسرارِ دین ‘‘ کے الفاظ صاف طور پر مذکور ہیں۔ جن سے ہر اہل انصاف پر یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اس عبارت میں قرآنِ کریم کے ناظرہ پڑھنے کا سوال نہیں۔ بلکہ اس کے معانی ومطالب ، حقائق ومعارف کے سیکھنے کا سوال ہے اور عبارت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: آنحضرت ﷺ نے آنے والے موعود کا نام جو مہدی رکھا ۔ وہ اس لحاظ سے ہے کہ وہ علوم واسرارِ دین کسی انسان سے نہیں سیکھے گا۔ گویا حقائق ومعارفِ قرآنِ مجید میں اس کا کوئی استاد نہیں ہو گا۔ چنانچہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس لحاظ سے میرا بھی کوئی استاد نہیں۔ جس سے میں نے علمِ دین یا اسرارِ دین کی تعلیم پائی ہو اور ظاہر ہے کہ قرآنِ مجید کے الفاظ کا بلا ترجمہ وتشریح کسی شخص سے پڑھنا، علم واسرارِ دین سیکھنے کے مترادف نہیں ہے ۔کیونکہ ’’ الفاظِ قرآن ‘ اور ’’علمِ قرآن‘‘ میں خود قرآنِ مجید نے فرق کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ھُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الاُمِّیِیِنَ رَسُولاً مِّنھُم یَتلُوا عَلَیھِم اٰیَاتِہ وَیُزَکِّیھِم وَیُعَلِّمُھُمُ الکِتَابَ وَالحِکمَۃَ ‘‘ ( الجمعہ :۳) کہ رسول عربی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے۔ آپ ؐ لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات (یعنی الفاظِ قرآن) پڑھتے ، ان کا تزکیہ نفس کرتے اور ان کو کتاب (یعنی قرآن مجید ) اور حکمت کا ’’ علم ‘‘ بھی دیتے ہیں۔

اس آیت میں یَتلُوا عَلَیھِم اٰیاتِہ کے الفاظ میں ’’ الفاظِ قرآن ‘‘ کا ذکر فرمایا ہے اور یُعَلِّمُھُمُ الکِتَاب فرما کر قرآن مجید کے مطالب ومعانی اور حقائق ومعارف کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ پس مندرجہ بالا آیت صاف طور پر بتا رہی ہے کہ صرف ’’ قرآن کا پڑھنا ‘‘ علمِ قرآن حاصل کرنا نہیں ہے۔ لہٰذا کسی شخص سے کسی کا الفاظِ قرآن پڑھنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس نے علمِ دین بھی اس شخص سے حاصل کیا ہے۔

دوسری عبارت جو راشد علی نے’’ کتاب البریّہ‘‘ صفحہ ۱۸۰ (روحانی خزائن جلد ۱۳)حاشیہ سے پیش کی ہے۔ اس میں صرف اس قدر ذکر ہے کہ چھ برس کی عمر میں ایک استاد سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن مجید پڑھا۔ اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ حضور ؑ نے ’’ علمِ دین ‘‘ یا ’’ اسرارِ دین ‘‘ یا قرآنِ مجید کے حقائق ومعارف یا معانی ومطالب کسی شخص سے پڑھے، تا یہ خیال ہو سکے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی دونوں عبارتوں میں تناقض ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ’’ کتاب البریّہ‘‘ کی عبارت میں چھ برس کی عمر میں ایک استاد سے قرآن مجید ناظرہ پڑھنے کا ذکر ہے اور ایّام الصلح ۔صفحہ ۳۹۴ روحانی خزائن جلد۱۴ کی عبارت میں کسی شخص سے قرآن مجید کے مطالب ومعارف سیکھنے کی نفی کی گئی ہے۔ گویا جس چیز کی نفی ہے وہ اور ہے اور دوسری جگہ جس چیز کا اثبات ہے وہ اور ہے۔

ممکن ہے راشد علی یہ کہے کہ سیاق وسباق دیکھنے کی کیا ضرورت ہے دونوں عبارتوں میں قرآنِ مجید ہی کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ ہم تو دونوں جگہ اس کے ایک ہی معنے لیں گے۔ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک جگہ ایک لفظ بول کر نفی کی ہو۔ اور دوسری جگہ اسی لفظ کا استعمال کر کے اس کا اثبات کیا گیا ہومگر اس کے باوجود مفہوم اس لفظ کا دونوں جگہ مختلف ہو۔ چنانچہ بغرضِ تشریح دو مثالیں پیش ہیں۔

۱۔ قرآن مجید کی رو سے بحالتِ روزہ بیوی سے مباشرت ممنوع ہے۔ مگر بخاری ،مسلم ومشکٰوۃ تینوں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مندرجہ ذیل روایت درج ہے :۔

’’عن عائشۃ رضی اللّٰہ عنھا قالت کان النبی ﷺ یقبّل ویباشر وھو صائم وکان املککم لِاربہ ‘‘ (بخاری ۔کتاب الصوم ۔باب المباشرۃ الصائم ۔و۔مشکوٰۃ ۔کتاب الصّوم باب تنزیہ الصوم )

کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ روزہ میں ازواج کے بوسے لے لیا کرتے تھے۔ اور ان سے’ مباشرت‘ کرتے تھے۔ اس حالت میں کہ آپ کا روزہ ہوتا تھا۔ مگر آپ اپنی خواہش پر تم سب سے زیادہ قابو رکھتے تھے۔

اب کیا قرآن کریم کے حکم لَا تُبَا شِرُو ھُنَّ (البقرۃ : ۱۸۸) کو مندرجہ بالا روایت کے الفاظ ’یباشر وھو صائم‘ کے بالمقابل رکھ کر کوئی ایماندار شخص یہ کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ دونوں جگہ ایک ہی چیز کی نفی اور ایک ہی چیز کا اثبات کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ حدیث مندرجہ بالا میں ’’مباشرت ‘‘ سے مراد مجامعت نہیں۔ بلکہ محض عورت کے قریب ہونا ہے اور اس پر قرینہ اسی روایت کا اگلا جملہ وکان املککم لِاربہ ہے لیکن ان معنوں کے برعکس قرآن مجید میں جو لفظِ مباشرت آیا ہے ، اس سے مراد ’’مجامعت ‘‘ ہے۔ پس گو دونوں جگہ لفظ ایک ہی استعمال ہوا ہے مگر اس کا مفہوم دونوں جگہ مختلف ہے اور سیاق وسباق عبارت سے ہمارے لئے اس فرق کا سمجھنا نہایت آسان ہے۔

قرآن مجید میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَاضَلَّ صَاحِبُکُم وَمَا غَوٰی (النجم :۳) کہ رسول خدا ﷺ ’’ضالّ‘‘ نہیں ہوئے اور نہ راہ راست سے بھٹکے ، لیکن دوسری جگہ فرمایا وَوَجَدَکَ ضَآلاًّ فَھَدٰی (الضحٰی :۸) کہ اے رسول ! ہم نے آپ کو ’’ ضالّ ‘‘ پایا اور آپ کو ہدایت دی۔

دونوں جگہ ’’ ضالّ‘‘ ہی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ایک جگہ اس کی نفی کی گئی ہے مگر دوسری جگہ اس کا اثبات ہے ۔کیا کوئی ایماندار کہہ سکتا ہے کہ ان دونوں عبارتوں میں تناقض ہے۔ ہرگز نہیں۔ کیونکہ ہر اہلِ علم دونوں عبارتوں کے سیاق وسباق سے سمجھ سکتا ہے کہ دونوں جگہ لفظ ’’ضالّ‘‘ ایک معنے میں استعمال نہیں ہوا۔ بلکہ دونوں جگہ اس کا مفہوم مختلف ہے۔ ایک جگہ اگرمراد گمراہ ہونا ہے اور اس کی نفی ہے تو دوسری جگہ تلاش کرنے والا قرار دینا مقصود ہے اوروہاں اس امر کا اثبات ہے۔ پس کسی کا یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کرنا کہ لفظ دونوں جگہ ایک ہی ہے ،سیاق وسباقِ عبارت دیکھنے کی کیا ضرورت ہے؟حد درجہ کی ناانصافی ہے۔

قرآن کریم کا ترجمہ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے کسی سے نہیں پڑھا

ہم راشد علی کی پیش کردہ دونوں عبارتوں پر ان کے سیاق وسباق کے لحاظ سے جب غور کرتے ہیں تو صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ’’ کتاب البریہ‘‘ صفحہ ۱۸۰ کی عبارت میں حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ میری چھ سات سال کی عمر میں میرے والد صاحب نے میرے لئے ایک استاد مقرر کیا۔ جن سے میں نے قرآنِ مجید پڑھا۔ ا یک ادنیٰ سمجھ والا انسان بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ چھ سات سال کے عرصہ میں بچّہ قرآنِ مجید کے معانی ومطالب اور حقائق ومعارف سمجھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا۔ پس یہ امر تسلیم ہی نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے والد بزرگوار نے چھ سات سال کی عمر کے بچہ کو معارفِ قرآنیہ سکھانے کے لئے ایک استاد مقرر کیا ہو ۔ پس اس عبارت میں چھ سات سال کی عمر کا قرینہ ہی اس امر کا کافی ثبوت ہے کہ حضور ؑ نے اس حوالہ میں قرآنِ مجید کے مجرّد الفاظ کا استاد سے پڑھنا تسلیم فرمایا ہے۔ مگر حضورؑ کی کسی تحریر سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قرآن کریم کے معانی و مطالب بھی حضورؑ نے خدا تعالیٰ کے سوا کسی استاد سے پڑھے ہوں۔ اس کے بالمقابل راشد علی کی پیش کردہ عبارت از’’ ایّام الصلح‘‘ (صفحہ ۳۹۴ روحانی خزائن جلد ۱۴ )میں حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے صاف لفظوں میں یہ فرمایا ہے کہ علمِ دین اور ’’اسرار دین ‘‘ کے لحاظ سے قرآن مجید کسی سے نہیں پڑھا۔ اور یہ حقیقت ہے جس کی نفی کسی دوسری عبارت میں نہیں کی گئی۔

اس امر کے ثبوت میں کہ ’’ایّام الصلح ‘‘ کی عبارت میں قرآن مجید کے الفاظ کا ذکر نہیں۔ بلکہ قرآن مجید کے معانی ومطالب کے کسی انسان سے سیکھنے کی نفی ہے۔ ہم ’’ایّام الصلح‘‘ کی عبارت کا سیاق وسباق اور اس کا مضمون دیکھتے ہیں۔ ’’ایّام الصلح‘‘ کو دیکھنے سے یہ معلوم ہو گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس موقع پر اپنے دعویٰ مہدویّت کی صداقت کے دلائل کے ضمن میں ایک دلیل ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔

(ا) ’’آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا ہے سو اس میں یہی اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علمِ دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہو گا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا یہی خیال ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ کسی شخص سے میں نے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے پس یہی مہدویّت ہے جو نبوّتِ محمّدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے اور اسرارِ دین بلا واسطہ مجھ پر کھولے گئے۔ ‘‘ (ایام الصلح ۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۳۹۴)

(ب) اس مضمون پر بحث کرتے ہوئے ذرا آگے چل کر فرماتے ہیں :۔

’’مہدویّت سے مراد وہ بے ا نتہا معارفِ اِلٰہیہ اور علومِ حکمیہ اور علمی برکات ہیں جو آنحضرت ﷺ کو بغیر واسطہ کسی استاد کے علمِ دین کے متعلق سکھائے گئے۔ ‘‘ (ایّام الصلح ۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۳۹۶)

اس عبارت میں بعینہ وہی مضمون ہے جو معترض کی پیش کردہ عبارت میں ہے اور اس کے ساتھ ہی اس میں ان الفاظ کی مکمل تشریح بھی موجود ہے جن کے اجمال سے معترض نے ناجائز فائدہ اٹھانے کی ناکام کوشش کی ہے۔

(ج) اگلے صفحہ پر اسی مضمون کو مندرجہ ذیل الفاظ میں سہ کرر بیان فرمایا ہے۔

’’ روحانی اور غیر فانی برکتیں جو ہدایتِ کاملہ اور قوّتِ ایمانی کے عطا کرنے اور معارف اور لطائف اور اسرارِ الٰہیہ اور علومِ حکمیہ کے سکھانے سے مراد ہے۔ ان کے پانے کے لحاظ سے وہ مہدی کہلائے گا۔‘‘(ایّام الصلح ۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۳۹۷)

اس عبارت میں بھی ’’ مہدویت ‘‘ کی تعریف کو دہرایا گیا ہے۔ ’معارف‘ ’لطائف ‘ اور’ اسرارِ الٰہیہ‘ اور’ علومِ حکمیہ‘ کے الفاظ اس بات کی قطعی دلیل ہیں کہ معترض کی پیش کردہ صفحہ۳۹۴ والی عبارت میں بھی انہی امور کا ذکر ہے۔ قرآنِ مجید کے الفاظ پڑھنے کا ذکر نہیں۔ جیسا کہ اس عبارت میں ’’ علمِ دین اور اسرارِ دین ‘‘ کے الفاظ اس پر گواہی دے رہے ہیں اور جن کے متعلق اوپر لکھا جا چکا ہے۔

(د) اسی دلیل کو اور زیادہ وضاحت سے بیان کرتے ہوئے صفحہ ۴۰۴پر حضرت اقدس ؑ فرماتے ہیں :۔

’’ ہزارہا اسرارِ علمِ دین کھل گئے۔ قرآنی معارف اور حقائق ظاہر ہوئے۔ کیا ان باتوں کا پہلے نشان تھا ؟‘‘

اس عبارت میں بھی حضور نے جن چیزوں کے خدا تعالیٰ سے سیکھنے کا ذکر فرمایا ہے وہ قرآنی معارف وحقائق ہیں نہ کہ الفاظِ قرآنی !

(ہ) آگے چل کر بطور نتیجہ تحریر فرماتے ہیں :۔ ’’ سو میری کتابوں میں ان برکات کا نمونہ بہت کچھ موجود ہے۔ براہینِ احمدیہ سے لے کر آج تک جس قدر متفرّق کتابوں میں اسرار اور نکاتِ دین خدا تعالیٰ نے میری زبان پر باوجود نہ ہونے کسی استاد کے جاری کئے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس کی نظیر اگر موجود ہے تو کوئی صاحب پیش کریں۔ ‘‘(ایّام الصلح۔ روحانی خزائن جلد۱۴ صفحہ ۴۰۶)

(و) پھر فرماتے ہیں :۔

جو دینی اور قرآنی معارف ، حقائق اور اسرار مع لوازم بلاغت وفصاحت کے میں لکھ سکتا ہوں ۔ دوسرا ہرگز نہیں لکھ سکتا۔ اگر ایک دنیا جمع ہو کر میرے اس امتحان کے لئے آئے تو مجھے غالب پائے گی۔ ‘‘(ایضاً صفحہ ۴۰۶)

(ز) اس عبارت پر حاشیہ میں لکھتے ہیں :۔ ’’ مہوتسو کے جلسہ میں بھی اس کا امتحان ہو چکا ہے۔ ‘‘ (ایضاً حاشیہ)

(ح) اسی طرح صفحہ ۴۰۷پر بھی حقائق ومعارف اور نکات اور اسرارِ شریعت کے الفاظ موجود ہیں۔

غرضیکہ ’’ ایّام الصلح ‘‘ کے مندرجہ بالا اقتباسات سے جو سب کے سب راشد علی کی پیش کردہ عبارت کے ساتھ ملحق ہیں ،یہ امر روزِ روشن کی طرح ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی انسان سے جس چیز کے پڑھنے کی نفی فرمائی ہے۔ وہ قرآنی الفاظ نہیں بلکہ حقائق ومعارفِ قرآنیہ ہیں۔ حضرت اقدس ؑ نے ’’ ایّام الصلح ‘‘ یا کسی اور کتاب میں ایک جگہ بھی یہ تحریر نہیں فرمایا کہ میں نے قرآنِ مجید ناظرہ بھی کسی شخص سے نہیں پڑھا۔ نہ یہ چیلنج دیا ہے کہ میں استاد نہ ہونے کے باوجود قرآنِ مجید کے الفاظ اچھی طرح پڑھ سکتا ہوں اور یہ کہ فنّ قرآت میں میرا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ہاں حضور ؑ نے یہ دعویٰ فرمایا ہے کہ قرآنِ مجید کے حقائق ومعارف ، مطالب اور نکات آپ ؑ کے الہام ‘‘ اَلرَّحمٰنُ عَلَّمَ القُرآن ‘‘ (تذکرہ صفحہ ۴۴ ایڈیشن سوم) کے مطابق آ پ ؑ کو براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوئے اور اس لحاظ سے یقیناًآپؑ نے قرآنِ مجید کسی انسان سے نہیں پڑھا۔ اور اسی امر کا دعویٰ آپ ؑ نے ’’ایام الصلح‘‘ صفحہ ۳۹۴ پر بھی کیا ہے۔ جس کو معاندین جماعت احمدیہ انتہائی ناانصافی سے بطور اعتراض پیش کر کے ناواقف لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔

ومن تلبیسھم قد حرّفوا الالفاظ تفسیراً

و قد بانت ضلالتھم ولو القوا معاذیرا (نور الحق جلد اول ۔ روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۱۷۸ )

کہ ان کی ایک تلبیس یہ ہے کہ الفاظ کی تفسیر میں انہوں نے تحریف کر دی ہے اور ان کی گمراہی ظاہر ہو چکی ہے اگرچہ اب عذر بھی پیش کریں۔

Please follow and like us:
%d bloggers like this: