احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

اعتراضات کے جوابات

خلافت احمدیہ پر اعتراض کا جواب۔ اسلامی خلافت کے لیے حکومت و ریاست ضروری ہے ۔ جاوید احمد غامدی

خلافت احمدیہ پر اعتراض کا جواب۔ اسلامی خلافت کے لیے حکومت و ریاست ضروری ہے ۔ جاوید احمد غامدی

خلافت احمدی پر اعتراض کا جواب۔ اسلامی خلافت کے لیے حکومت و ریاست ضروری ہے ۔ جاوید احمد غامدی

Khilafate ahmadiyya par aitraz ka jawab. Islami khilafat k lye hukumato riasat zaroori hai. Javed Ahmad Ghamidi

تمام اصل کتب کے حوالہ جات آخر میں دیے گئے لنک سے ڈاؤنلوڈ کیے جا سکتے ہیں۔ ۔ والسلام

 

جاوید غامدی کے اعتراض کا جواب

ناظرین کرام!علامہ جاوید غامدی صاحب نے سوشل میڈیا پر خلافت احمدیہ کے بارہ میں ایک سوال کے جواب میں یہ نظریہ پیش کیا کہ خلافت سے مراد محض ریاست و حکومت ہے،اس کا کوئی دینی تصورنہیں ہے۔لہذا ان کے نزدیک حکومت کے بغیر خلافت احمدیہ کی کوئی حیثیت نہیں۔

وعد اللہ الذین امنوا منکم۔۔۔

حضرات! نعمت خلافت سے محروم اہل اسلام کا خلافت احمدیہ کے بارہ میں حسرت و یاس کاایسا ردّعمل طبعی ہے۔مگر غامدی صاحب جیسے روشن خیال عالم کی ایسی رائے اس لیے خلاف توقع ہے کہ وہ اقوال صوفیاء علامہ ابن عربی وغیرہ کی روشنی میں  امت محمدیہ میں غیر تشریعی وحئی نبوت جاری ہونے کے حق میں پہلے ہی اپنی رائے دے چکے ہیں۔ مگر نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہےکہ غامدی صاحب کا یہ کہناکہ خلافت کوئی دینی اصطلاح نہیں بلکہ یہ ریاست کا ہی دوسرا نام ہے،نہ صرف عربی زبان بلکہ قرآن و حدیث کے مطابق بھی درست نہیں۔کیونکہ خلیفہ عربی زبان کا لفظ ہے اورتمام مشہورعربی لغات لسان العرب،تاج العروس، اقرب المواردکے مطابق اس کے بنیادی حقیقی معنیٰ جانشین کےہیں۔اور نبی کے جانشین کو خلیفہ کہنا خالصةً دینی اصطلاح ہے۔بےشک دنیوی بادشاہوں کے جانشین بھی ظاہری عظمت و شوکت کی خاطریہ اصطلاح استعمال کرتے آئے ہیں۔مگر خلافت کے حقیقی معنی امارت و ریاست  کےنہیں ہیں بلکہ یہ محض خلیفہ کامجازی مفہوم ہے۔

بلکہ مشہورعربی لغت اقرب الموارد کے مطابق توخلافت شرعی اصطلاح ہے جس سے مراد امامت ہوتی ہے۔         (اقرب الموارد صفحہ296)

item image #3

خلافت کےمذہبی اصطلاح ہونےکی بڑی دلیل خود اللہ تعالیٰ کا اپنے پہلے نبی حضرت آدمؑ کو خلیفہ قراردیتے ہوئے یہ فرمایاہے کہ

إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (البقرة 31) کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں اور حضرت آدمؑ کی یہ خلافت بغیر کسی حکومت کے تھی!

چنانچہ علامہ صدیق حسن خان صاحب(متوفی:1307ھ) حضرت آدمؑ کے‘‘خلیفہ’’کی وجہ تسمیہ یہ بیان کرتے ہیں کہ

حضرت آدمؑ کی خلافت روئے زمین میں احکام الہٰی قائم کرنے کے لحاظ سے تھی  یعنی کوئی ظاہری بادشاہت نہ تھی۔

انما سمی خلیفۃ لانہ خلیفۃ اللہ فی ارضہ لاقامۃ حدودہ                     

(فتح البيان في مقاصد القرآن جزء1صفحہ126)


چنانچہ حضرت موسیٰؑ نے بھی کوہ طور پر جاتے ہوئے حضرت ہارونؑ کوتربیتی و دینی اغراض کےلیے بنی اسرائیل میں اپنا خلیفہ مقرر کیاتھا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:

وَقَالَ مُوسَى لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ     (الأَعراف 143)۔

رسول کریمﷺ نے فرمایاکہ

مَا كَانَتْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَبِعَتْهَا خِلَافَةٌ  وَلَا كَانَتْ خِلَافَةٌ قَطُّ إِلَّا تَبِعَهَا مُلْكٌ

(کنزالعمال،مشیخة ابن طھمان،تاریخ دمشق ابن عساکر )


اگراب بھی غامدی صاحب خلافت کامطلب ریاست لیں تو پہلےانہیں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کی حکومت ثابت کرنی ہوگی کیونکہ قرآن وحدیث سے توصرف چار انبیاء حضرت موسیٰؑ،حضرت داؤدؑ،حضرت سلیمانؑ اور حضرت محمد مصطفیٰﷺ کونبوت کے ساتھ حکومت ملناثابت ہے۔

ایک اور حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ بنی اسرائیل میں انبیاء کرام کی خلافت کا سلسلہ جاری رہا۔  بخاری میں ہے:                        کَانَتْ بَنُوْاِسْرَآئِیلَ تَسُوْسُھُمُ الْاَنْبِیَآءُ کُلَّمَا ھَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَہ نَبِیٌّ

                                                          (بخاری کتاب الانبیاء باب ماذکر عن بنی اسرائیل و مسلم)

کہ بنی اسرائیل کی اصلاح احوال کےلیے انبیاء آتےرہے،جب ایک نبی فوت ہوا تو اس کا خلیفہ بھی نبی ہوا ۔

چنانچہ تاریخ انبیاء میں حضرت ہارونؑ کے علاوہ حضرت  ملاکی،یسعیاہ،حزقیل،حجی،یرمیاہ،زکریا علیھم السلام کی مثالیں موجود ہیں جو بغیر کسی ریاست و حکومت اپنے سے پہلےنبی کے خلیفہ ہوئے۔

ہمارے آقا و مولیٰ محمد مصطفیٰﷺ کو اللہ تعالیٰ نے نفاذشریعت کے لیے حکومت بھی دی۔ آپ کے خلفاء حاکم وقت بھی تھے۔مگر رسول اللہﷺ نے انہیں خلفاء راشدین المہدیین کاخطاب دےکر منصب خلافت کو ایک دینی و روحانی تقدس عطا کیا اور فرمایا:

فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ  

(سنن ابن ماجہ بَابُ اتِّبَاعِ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ)


یعنی اے میرے امتیو!صرف میری اورمیرےہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت تم پر واجب ہے۔

جبکہ ظالم حکام سے بچنے کی یہ دعاآپؐ نے امت کو سکھائی:

اللَّهُمَّ وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا               

کہ اے اللہ! ایسے لوگ ہم پر مسلّط نہ کرنا جو ہم پر رحم نہ کریں۔                               (ترمذی ابواب الدعوات)۔

تاریخ اسلام گواہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی پیشگوئی کے مطابق آپؐ کی وفات کے30 سال بعد خلافت راشدہ ختم ہوگئی اورامیرمعاویہ کے ذریعہ  ملوکیت کا دورشروع ہوگیا۔مگریہ اموی حکمران بھی بشمول یزید بن معاویہ شان و شوکت کے لیے خلیفہ کا لقب استعمال کرتے رہے،حالانکہ تاریخ اسلام میں شہادت امام حسینؑ کاالمناک سانحہ ہی خلافت راشدہ اور ملوکیت کے راستے الگ کرنے کےلیے کافی تھا۔

جیسا کہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نےفرمایا: خلیفہ وہ ہے جو نبی کی شریعت لوگوں میں جاری کرے اور اس کے ہاتھ پر خدا کے وہ وعدے جو اس کے نبی کے ساتھ تھے پورے ہوں

(ازالة الخفاء عن خلافة الخلفاء جلد اول صفحہ198)


اسی طرح حضرت سید احمد بریلویؒ کے دست راست حضرت شاہ محمد اسماعیل شیدؒ(متوفی:1246ھ)اپنی کتاب منصب امامت میں لکھا:‘‘خلیفہ راشد سایۂ رب العالمین،ہمسایہ انبیاء و مرسلین،سرمایۂ ترقیٔ دین اور ہم پایۂ ملائکہ مقربین ہے۔’’

(منصب امامت صفحہ 121)


پس امت کے تمام گروہ کیااہل سنت اور کیااہل شیعہ کم ازکم اس بات پر متفق ہیں کہ خلافت و امامت صرف دینی و روحانی اصطلاح ہے۔خود رسول اللہﷺنے امت میں آنیوالے موعودمسیح کے بارہ میں فرمایاتھا:

إلا أنہ خلیفتی فی أمتی من بعدی

(مجمع الزوائد )

کہ یقینا وہ آنیوالا موعود میرے بعدامت میں میرا خلیفہ ہوگا۔


قرآن و سنت کی روشنی میں خلافت کی حقیقت حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ نے یوں بیان فرمائی!

‘‘خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہوسکتا ہے جو ظلی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو اس واسطے رسول کریم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق ہوکیونکہ خلیفہ درحقیقت رسول کاظلّ ہوتا ہے اور چونکہ کسیؔ انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہٰذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اولیٰ ہیں ظلی طور پر ہمیشہ کےلئے تاقیامت قائم رکھے سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تادنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے’’                                                                 (شہادت القرآن،روحانی خزائن جلد353-354)۔


رسول کریمﷺنے امت کو تاکیدی ہدایت فرمائی کہ

فَاِذَارَأَیْتُمُوْہُ فَبَایِعُوْہُ وَلَوْحَبْوًا عَلَی الثَّلْجِ فَاِنَّہ خَلِیْفَۃُ اﷲِ الْمَھْدِیُّ

(سنن ابن ماجه  کتاب الفتن بَابُ خُرُوجِ الْمَهْدِيِّ)

کہ جب تم اس مہدی کو دیکھو تو اس کی بیعت کرنا خواہ گھٹنوں کے بل برف پر چل کر جانا پڑے کیونکہ وہ خدا کا خلیفہ مہدی ہے۔


اسی طرح رسول اللہﷺنے اپنے دور خلافت راشدہ کے بعد دور ملوکیت اور آخری زمانہ میں خلافت کی خبر دیتے ہوئے علی منہاج الحکومہ نہیں کہا بلکہ فرمایا: ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْھَاجِ النُّبُوَّۃِ                         (مسند احمد)۔


شارح مشکوة علامہ عبد الحق محدث دہلوی نےاس حدیث کی تشریح میں  لکھا ہے :

الظَّاھِرُ اَنَّ الْمُرَادَ بِہٖ زَمَنُ عِیْسٰی وَالْمَھْدِیْ

یعنی ظاہر ہے کہ منہاج نبوت پر دوبارہ خلافت قائم ہونے کا زمانہ مسیح موعود اور مہدی کا زمانہ ہے۔

(لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ کتاب الرقاق جلد 8صفحہ578)


ناظرین کرام!تیرہ صدیوں کے مجددین کے بعد چودہویں صدی کے سر پر جس شخص نے اللہ تعالیٰ سے علم پاکر مجدد وقت اور مسیح و مہدی اور امتی نبی ہونے کا دعویٰ کیا ان کا نام نامی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی صاحب ہے۔جنہوں نے23مارچ 1889ء کو بیعت لے کر جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی۔اور1908ء میں آپؑ کی وفات کے بعد خلافت احمدیہ کے قیام سے رسول اللہﷺ کی یہ پیشگوئی بھی پوری ہوگئی۔ جماعت احمدیہ میں خلافت کایہ دینی و روحانی نظام گزشتہ 111سال سے جاری و ساری ہے۔ اور اسلام کے دفاع کے محاذ پر ڈٹا ہوا ہے۔

خلافت سے ہی وابستہ ترقی ہے جماعت کی

یہی تو کاروان دین دین کی اصلی قیادت ہے

تمام حوالہ جات ڈاؤنلود کریں۔

خلافت مسلمہ احمدیہ کے بارے میں مزید معلومات یہاں حاصل کریں

Please follow and like us:
0

Theme by Anders Norén