احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

تحریرات پر اعتراض, متفرق اعتراضات

رسول اللہ صلعم کے روضہ مبارک کی توہین کے الزام کا جواب

آنحضرت ﷺ کے روضہ مبارک کی توہین کا جھوٹا اور ناپاک الزام

راشد علی نے بہت ہی کمینی حرکت کی ہے۔ وہ لکھتا ہے۔

’’ رسول اللہ ﷺ کی قبر ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے ایک مقدّس مقام کی حیثیت رکھتی ہے لیکن مرزا نے اپنی دلیل کو ثابت کرنے کے لئے اسے بھی نظر انداز نہیں کیا۔ چنانچہ وہ اس طرح بے ادبی کرتا ہے (اللہ تعالیٰ مجھے ایسی بے حرمتی کا حوالہ دینے سے معاف فرمائے) ‘‘

یہ لکھنے کے بعد وہ لکھتا ہے۔

“And God chose such a despicable place to bury the Holy prophet (P.B.O.H) Which is extremely stiking and dark and cramped and was the placeace of the excreta of insects….”

(Roohani Khazain vol.17.p.205)”

جس عبارت کا حوالہ راشد علی نے دیا ہے اس جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حیاتِ مسیح علیہ السلام کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کی جو توہین اور آپ ؐ کے مقام میں جو تخفیف لازم آتی ہے اس سے مسلمانوں کو آگاہ کیا ہے اور ان کو جھنجھوڑا ہے کہ اگر وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانتے ہیں تو پھر وہ کئی اعتبار سے سیّد الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے بہتر ثابت ہوتے ہیں۔ اس دلیل کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ مذکورہ بالا حوالہ میں اور نہ ہی کسی اور جگہ کوئی ایسی بات تحریر کی ہے جس میں آنحضرت ﷺ کی تدفین یا آپؐ کے روضہ اطہر کی توہین کا شائبہ تک بھی ہو ۔یہ راشد علی کی انتہائی ظالمانہ اختراع ہے جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ’’ حیاتِ مسیح ‘‘ کا عقیدہ ایک ایسا زہر ناک عقیدہ ہے کہ جس کی آڑ میں عیسائی منّاد ہمارے آنحضرت ﷺ کی شان میں ایسی گستاخیاں کرتے تھے کہ جو ایک سچیّ مسلمان کو خون کے آنسو رلاتی تھیں مگر وہ اپنے اس عقیدہ کی وجہ سے بے بس تھا۔

عیسائی پادری اپنے دلائل میں یہ بھی بیان کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت ﷺ سے افضل تر اور خدا تعالیٰ کے زیادہ محبوب ہیں اس کی دلیل وہ یہ دیتے تھے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر مصیبت کا وقت آیا تو خدا تعالیٰ نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور اپنے قرب میں جگہ دی مگر محمّد ﷺ پر جب مشکل کا وقت آیا تو خدا تعالیٰ نے کوئی پرواہ نہ کی چنانچہ آپ کو حشراتُ الارض کی آماجگاہ غارِثور میں پناہ لینی پڑی۔ وغیرہ وغیرہ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیوں کی ایسی گستاخیوں پر اپنے آقاومولیٰ حضرت محمّد مصطفی ﷺکے لئے اپنی طبعی غیرت سے معمور ہو کر ان منہ پھٹ پادریوں کا منہ توڑ جواب دیا ہے مگر مسلمانوں کی حالت پر افسوس کرتے ہوئے ان کی غیرت کو جھنجھوڑا اور کہا مسلمان ہوتے ہوئے بھی تمہارا یہ حال ہے کہ۔

’’مسیحِ ناصری را تا قیامت زندہ مے فہمند

مگر مدفونِ یثرب را نہ دادند ایں فضیلت را‘‘

کہ تم مسیحِ ناصری علیہ السلام کو قیامت تک زندہ سمجھتے ہو مگر مدفونِ یثرب، محبوبِ کبریا حضرت محمّد مصطفٰی ﷺ کو یہ فضیلت نہیں دیتے۔ تم رسولِ خدا ﷺ سے کس محبت کا دعویٰ کرتے ہو؟ چنانچہ اسی تسلسل میں آپؑ نے یہ بھی فرمایا کہ ۔

’’ ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ حضرت مسیحؑ کو اتنی بڑی خصوصیّت، آسمان پر زندہ چڑھنے اور اتنی مدّت تک زندہ رہنے اور پھر دوبارہ اترنے کی جو دی گئی ہے اس کے ہر ایک پہلو سے ہمارے نبی ﷺ کی توہین ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک بڑا تعلق جس کا کچھ عدد حساب نہیں حضرت مسیح سے ہی ثابت ہوتا ہے مثلاًآنحضرت ﷺ کی سو برس تک بھی عمر نہ پہنچی مگر حضرت مسیح اب قریباً دو ہزار برس سے زندہ موجود ہیں۔ اور خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے چھپانے کے لئے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفّن اور تنگ اور تاریک اور حشراتُ الارض کی نجاست کی جگہ تھی مگر حضرت مسیح کو آسمان پر جو بہشت کی جگہ اور فرشتوں کی ہمسائیگی کا مکان ہے بلا لیا۔ اب بتلاؤ محبت کس سے زیادہ کی ؟ عزت کس کی زیادہ کی ؟ قرب کا مکان کس کو دیا اور پھر دوبارہ آنے کا شرف کس کو بخشا ؟‘‘(تحفہ گولڑویہ ۔ روحانی خزائن جلد۱۷صفحہ ۲۰۵ حاشیہ در حاشیہ)

یہ عبارت خود بول رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے لئے جس غیرت کا اظہار فرمایا ہے اور اس مضمون کو راشد علی نے نہ صرف ازراہِ دجل چھپایا ہے بلکہ بڑی بے غیرتی سے عبارت کا ترجمہ بدل کر پیش کیا ہے اور اس بہانے ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمّد مصطفی ﷺ کی واضح توہین اور صریح گستاخی کی جسارت کی ہے۔ اس عبارت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ توقبر کا ذکر فرمایا ہے اور نہ ہی وہاں تدفین کا کوئی ذکرکیا ہے۔ لیکن یہاں ’’چھپانے‘‘ کا ترجمہ راشد علی نے ازراہِ فسق ودجل ’’Bury‘‘ کیا ہے۔ ہم تو یہ تصوّر بھی نہیں کر سکتے کہ کوئی شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بغض میں اس قدر بھی گندا اور گستاخ ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے روضہ مبارک پر گند اچھالنے لگے۔ نعوذ باللّٰہ من ھذا المفتری الکذّاب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مذکورہ بالا عبارت میں ہجرت کے وقت آنحضرت ﷺ کے غارِ ثور میں چھپنے کا ذکر فرمایا ہے۔ غارِ ثور کی حالت کو روضہءِ اطہر سے ملانا ایک ایسا فسق اور دجل ہے اور آنحضرت ﷺ کی شان میں ایسی گستاخی ہے کہ جو ایک متعفّن اور مسخ شدہ لعنتی دماغ شخص راشد علی ہی کر سکتا ہے ۔ رسولِ اکرم ﷺ سے ذرّہ بھر محبّت کرنے والا شخص روضہءِ مبارک کے بارہ میں ایسا تصوّر بھی ذہن میں نہیں آنے دیتا۔ پس لعنت ہے ایسے شخص پر جس نے ایسی بات کی۔ اسے کچھ تو حیا کرنی چاہئے تھی ۔ اسے بغض اگرحضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہے تو اس کا بدلہ رسول اللہ ﷺ کے روضہءِ مبارک پر گند اچھال کر کیوں لے رہا ہے؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں روضہءِ مبارک کا تقدّس اور اس کی فضیلت ایسی عظیم تھی کہ اس کی مثال ممکن نہیں۔ آپ ؑ فرماتے ہیں۔

انّ قبر نبیِّنا صلّی اللّٰہ علیہ والہ وسلّم روضۃٌ عظیمۃٌ من روضات الجنۃ وتبوء کلّ ذروۃ الفضل والعظمۃ واحاط کل مراتب السعادۃ والعزّۃ (سرّ الخلافہ ۔ روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۳۴۴)

ترجمہ۔ ہمارے نبی ﷺ کی قبر یقیناًجنت کے باغات میں سے ایک عظیم باغ ہے وہ ہر فضل اور عظمت کی چوٹی کا مقام ہے اور اس نے سعادت اور عزت کے ہر مرتبہ کا احاطہ کیا ہوا ہے۔

آنحضرت ﷺ کے وطن کی یاد اور آپؐ کے روضہ مبارک کا ذکر، حضرت مسیحِ موعود علیہ ا لسلام کے دل کو غم بھری یادسے اور آنکھوں کوہجر کے آنسوؤں سے بھر دیتی تھی۔ چنانچہ آپ ؐ کی نظم و نثر ایسی مثالوں سے لبریز ہے۔ صرف ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔آپؑ کی بیٹی،حضرت نواب مبارکہ بیگم رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں۔

بالکل گھریلو ماحول کی بات ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کی طبیعت کچھ ناساز تھی اور آپ ؐ گھر میں چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور حضرت اماں جان نوّر اللّٰہ مرقدَھا اور ہمارے نانا جان یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم بھی پاس بیٹھے تھے کہ حج کا ذکر شروع ہو گیا۔ حضرت نانا جان نے کوئی ایسی بات کہی کہ اب تو حج کے لئے سفر اور رستے وغیرہ کی سہولت پیدا ہو رہی ہے حج کو چلنا چاہئے اس وقت زیارتِ حرمین شریفین کے تصوّر میں حضرت مسیح موعود ؑ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں اور آپ ؑ اپنے ہاتھ کی انگلی سے اپنے آنسو پونچھتے جاتے تھے ۔حضرت نانا جان کی بات سن کر فرمایا :۔

’’ یہ تو ٹھیک ہے اور ہماری بھی دلی خواہش ہے مگر میں سوچا کرتا ہوں کہ کیا میں آنحضرت ﷺ کے مزار کو دیکھ بھی سکوں گا۔ ‘‘(سیرتِ طیّبہ۔ از حضرت مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہٗ۔ مطبوعہ نظارت اشاعت ربوہ ۱۹۶۰ء)

یہ ایک خالصۃً گھریلو ماحول کی بظاہر چھوٹی سی بات ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو اس میں اُس اتھاہ سمندر کی طغیانی لہریں کھیلتی ہوئی نظر آتی ہیں جو عشقِ رسول ؐ سے حضرت مسیح موعود ؑ کے قلبِ صافی میں موجزن تھیں۔ حج کی کس سچے مسلمان کو خواہش نہیں مگر ذرا اس شخص کی بے پایاں محبّت کا اندازہ لگاؤ جس کی روح حج کے تصوّر میں پروانہ وار رسولِ پاک ﷺ(فداہ نفسی) کے مزار پرپہنچ جاتی ہے اور وہاں اس کی آنکھیں اس نظارہ کی تاب نہ لا کر بند ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔اور ان سے تڑپتے ہوئے آنسو اچھل اچھل پڑتے ہیں۔

ایسے عاشق صادق کی طرف ایسی گستاخی کی بات منسوب کرنا راشد علی کا فسق اور افتراء ہے اور رسول اللہ ﷺ کی شان میں حد درجہ کی گستاخی ہے۔ خدا تعالیٰ خود ہی ایسے لعنتی شیطان سے نپٹے۔

Please follow and like us:
error0

Theme by Anders Norén

%d bloggers like this: