تحریرات پر اعتراض, متفرق اعتراضات

سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کی تشریح پر الزام کا جواب

سورج کا مغرب سے طلوع کرنا

راشد علی نے یہ بات بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کی ہے کہ

(Beware….) “Sun will not rise from the west”

اس نے اس کا حوالہ آپ کی کتاب ’’ ازالہ اوہام ‘‘ کا دیا ہے اور حسبِ معمول اس نے یہ بھی جھوٹ ہی لکھا ہے۔ کیونکہ اسی کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا ذکر فرمایا ہے ۔ چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں۔

’’ ایسا ہی طلوع شمس کا جو مغرب کی طرف سے ہو گااس پر بہر حال ایمان لاتے ہیں لیکن اس عاجز پر جو ایک رویا میں ظاہر کیا گیا وہ یہ ہے جو مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنے رکھتا ہے کہ ممالک مغربی جو قدیم سے ظلمتِ کفر وضلالت میں ہیں آفتابِ صداقت سے منوّر کئے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصّہ ملے گا۔ ‘‘(ازالہ اوہام ۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۳۷۷)

یعنی سراجِ منیر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی صداقت اور آپؐ کے نور سے مغرب بھی منوّر ہو گا۔ پس راشد علی اور اس کے پیر کا قطعی جھوٹ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے کہ سورج مغرب سے طلوع نہیں کرے گا۔

اگر آنحضرت ﷺ کی اس عظیم الشان پیشگوئی کے ظاہری اور بدیہی معنے لئے جائیں تو قرآن کریم کی نصِّ صریح کے خلاف ٹھہرتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورج کے طلوع کے متعلق اپنی سنّت یہ بیان فرمائی ہے کہ فَاِنَّ اللّٰہَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ (البقرہ :۲۵۹) کہ اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق سے لاتا ہے۔ پس اس کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ استعارہ پر مشتمل آنحضرت ﷺ کی اس پیشگوئی کے توجیہی معنے ہی کئے جائیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ہر فرمان پر کامل ایمان اور آپ ؐ کی ہرپیشگوئی کے پورا ہونے پر مکمل یقین رکھتے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے قربِ قیامت کی جو نشانیاں بیان فرمائیں آپ ؑ نے ان کی وہ توجیہہ پیش فرمائی جو حقیقی ہے اور خدا تعالیٰ کے طبعی قوانینِ قدرت کے عین مطابق ہے۔ چنانچہ آپ ؑ نے اپنی عربی کتاب ’’ حمامۃ البشریٰ‘‘ میں اپنی پیش کردہ توجیہات کے جو دلائل پیش فرمائے ان کا ترجمہ قارئین کے استفادہ کے لئے پیش ہے۔ آپ ؑ فرماتے ہیں۔

’’ اس ضمن میں تفصیلی کلام یہ ہے کہ قیامت کی علامات کی دو قسمیں ہیں۔ علاماتِ صغریٰ اور علاماتِ کبریٰ۔علاماتِ صغریٰ یا تو اپنی ظاہری صورت میں ہی ظاہر ہوں گی یا پھر ان کا وجود استعارات کے پیرایہ میں منکشف ہو گا۔ لیکن علاماتِ کبریٰ اپنی ظاہری صورت میں ہرگز ظاہر نہ ہوں گی بلکہ لازمی طور پر استعارات اور مجازات کے پیرایہ میں ہی ظاہر ہوں گی۔ اس میں راز یہ ہے کہ وہ گھڑی یقیناًاچانک آئے گی جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

یَسئَلُونَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرسٰھَا ۔ قُل اِنَّمَا عِلمُھَا عِندَ رَبِّی لَا یُجَلِّیھَا لِوَقتِھَا اِلَّا ھُوَ۔ ثَقُلَت فِی السَّمٰوٰتِ وَالاَرضِ لَا تَاتِیکُمِ الَّا بَغتَۃً یَسئَلُونَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنھَا۔ قُل اِنَّمَا عِلمُھَا عِندَ اللّٰہِ وَلٰکِنَّ اَکثَرَ النَّاسِ لَا یَعلَمُونَ O (الاعراف : ۱۸۸)

ترجمہ :۔ (اے رسول) تیرے مخالف تجھ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ وہ کب آئے گی۔ تو کہہ دے کہ اس کا علم صرف میرے رب کو ہے اس کو اپنے وقت پر صرف وہی ظاہر کرے گا۔ وہ بھاری ہو گی آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔ وہ تمہارے پاس صرف اچانک آئے گی وہ تجھ سے قیامت کے متعلق اس طرح سوال کرتے ہیں گویا تجھے بھی اس کے وقت کی دریافت کی لو لگی ہوئی ہے۔ تو کہہ دے کہ اس کا علم صرف اللہ کو ہے لیکن اکثر لوگ اسے جانتے نہیں۔

اور ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔

اَفَاَمِنُوا اَن تَاتِیَھُم غَاشِیَۃٌ مِّن عَذَابِ اللّٰہِ اَو تَاتِیَھُم السَّاعَۃُ بَغتَۃًَ وَّھُم لَا یَشعُرُونَ O قُل ھٰذِہ سَبِیلِی اَدعُوا اِلَی اللّٰہِ عَلَی بَصِیرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیO(یوسف :۱۰۸ ، ۱۰۹)

ترجمہ ۔ تو کیا یہ اس بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ان پر اللہ کے عذابوں میں سے کوئی سخت عذاب آجائے یا اچانک ان پر وہ گھڑی آجائے اور انہیں پتہ بھی نہ لگے ۔ تو کہہ دے کہ یہ میرا طریق ہے ۔میں تو اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور جنہوں نے میری پیروی اختیار کی ہے میں اور وہ سب بصیرت پر قائم ہیں۔

بَل تَاتِیھِم بَغتَۃً فَتَبھَتُھُم فَلا یَستَطِیعُونَ رَدَّھَا وَلَاھُم یُنظَرُوْنَ۔ (الانبیاء : ۴۱)

ترجمہ :۔ لیکن وہ ان کے پاس اچانک آئے گی اور ان کو حیران کر دے گی پس وہ اس کو ردّ کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔

اور فرمایا :۔

کَذٰلِکَ سَلَکنٰہُ فِی قُلُوبِ المُجرِمِینَ O لَایُومِنُونَ بَہ حَتّٰی یَرَوُا العَذَابَ الاَلِیْمَ O فَیَاتِیَھُم بَغتَۃً وَّھُم لَا یَشعُرُونَ O(الشعراء:۲۰۱ تا ۲۰۳)

ترجمہ :۔ اسی طرح ہم نے مجرموں کے دلوں میں یہ بات داخل کر چھوڑی ہے ۔ پس وہ ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھ لیں پس وہ ان کی لاعلمی میں ان کے پاس اچانک آجائے گا۔

اور فرمایا :۔

ھَل یَنظُرُونَ اِلاَّ السَّاعَۃَ اَن تَاتِیَھُم بَغتَۃً وَّھُم لَا یَشعُرُونَ O(الزخرف :۶۷)

ترجمہ :۔ وہ فقط قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جس کے لئے اچانک آنا مقدّر ہے ۔ مگر وہ اسے سمجھتے نہیں ۔

اور فرمایا :۔

وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ حَتّٰی تَاتِیَھُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً اَوْیَاتِیَھُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ (الحج :۵۶)

ترجمہ : ۔اور کافر اس کے متعلق اس وقت تک کہ گھڑی اچانک آجائے یا ان کے پاس اس دن کا عذاب آجائے جو اپنے پیچھے کچھ نہیں چھوڑتا ، شبہ میں پڑے رہیں گے۔

پس اللہ تعالیٰ کے اس قول ’’ لَا یَزَالُ الَّذِینَ کَفَرُوا فِی مِریَۃٍ مِّنہٗ ‘‘ سے یہ ثابت ہوا کہ انکار کرنے والے اس کے بارہ میں ہمیشہ شک میں رہیں گے کہ علاماتِ قطعیہ جو شک کو ختم کرنے والی ہیں اور ظاہری علامات جو قربِ قیامت کی نشاندھی کرتی ہیں وہ کبھی بھی ظاہر نہ ہوں گی بلکہ صرف نظریاتی نشانیاں ظاہر ہوں گی جو تاویلات کی محتاج ہوتی ہیں اور وہ بھی سوائے استعارات کے رنگ کے ظاہر نہ ہوں گی ۔ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آسمان کے دروازے کھل جائیں اور عیسیٰ ؑ لوگوں کی نظروں کے سامنے اتر آئیں اور ان کے ہاتھ میں ہتھیار بھی ہو اور ان کے ساتھ فرشتے بھی اتریں اور زمین پھٹ جائے اور اس میں سے ایک عجیب قسم کا کیڑا نکلے جو لوگوں سے کلام کرے کہ یقیناًاللہ تعالیٰ کے نزدیک (پسندیدہ اور) اصل دین اسلام ہی ہے اور یاجوج وماجوج بھی اپنی مغربی صورت اور لمبے کانوں کے ساتھ خروج کریں اور دجّال کا گدھا بھی نکلے اور لوگ اس کے کانوں کے درمیان ستّرہاتھ کا فاصلہ بھی دیکھیں اور دجّال بھی خروج کرے اور لوگ اس کے ساتھ جنّت اور آگ نیز اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے خزانے دیکھیں اور سورج مغرب سے طلوع کرے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خبر دی اور لوگ آسمان سے متواتر آوازیں سنیں کہ یقیناًمہدی خلیفۃ اللہ ہے ان سب کے باوجود کافروں کے دل میں شکّ وشبہ باقی رہے۔

اسی لئے میں نے متعدد بار اپنی کتب میں لکھا ہے کہ یہ سب استعارے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کی آزمائش چاہتا ہے تا کہ وہ جان لے کہ کون اپنے نورِ قلب سے اس کو پہچانتا ہے اور کون گمراہ ہونے والوں میں سے ہے۔ اگر ہم فرض کر لیں کہ یہ علامات اپنی ظاہری شکل میں ظاہر ہوں گی تو کوئی شک نہیں کہ اس کے لازمی نتائج یہ نکلیں گے کہ تمام کے تمام لوگوں کے دلوں سے شکّ وشبہ اور تردّد دور ہو جائے گا جس طرح کہ قیامت کے دن دور ہو گا ۔ پس جب شکوے دور ہو جائیں اور پردے اٹھ جائیں تو مغرب سے تعلق رکھنے والی خوفناک علامات کے منکشف ہو جانے کے بعد ان ایّام میں اور قیامت کے دن میں کیا فرق باقی رہ جائے گا۔

اے صاحبِ عقل ! غور کر کہ جب لوگ ایک شخص کو آسمان سے نازل ہوتا دیکھیں جب کہ اس کے ہاتھ میں ہتھیار ہو اور اس کے ساتھ ملائکہ بھی ہوں جو کہ ابتدائے دنیا سے غائب تھے جبکہ لوگ ان کے وجود کے بارہ میں شکّ کرتے تھے۔ پس وہ نازل ہوں گے اور گواہی دیں گے کہ یقیناًرسول سچّا ہے۔ اسی طرح لوگ آسمان سے خدا تعالیٰ کی آوازیں سنیں گے یقیناًمہدی خلیفۃ اللہ ہے اور وہ لفظ ’’ کافر ‘‘ دجّال کی پیشانی سے پڑھ لیں اور وہ دیکھ لیں کہ سورج مغرب سے طلوع ہوا ہے اور زمین پھٹ گئی ہے اور اس میں سے دآبّۃ الارض نکلا ہے جس کے پاؤں زمین پر اور سر آسمان کو چھوتا ہے اوروہ مومن اور کافر کو نشان لگائے گا اور ان کی آنکھوں کے درمیان مومن یا کافر لکھے گا اور بلند آواز سے گواہی دے گا کہ اسلام سچّا ہے اور حق کھل گیا ہے اور ہر طرف روشن ہو گیا ہے اور اسلام کی سچائی کے انوار ظاہر ہو گئے ہیں ۔ حتّٰی کہ چوپائے ، درندے اور بچھّو بھی اس کی سچّائی پر گواہی دیں گے تو یہ کیسے ممکن ہو گا کہ ان عظیم الشان نشانیوں کو دیکھنے کے بعد سطحِ زمین پر کوئی کافر باقی رہ جائے یا خدا تعالیٰ کے بارہ میں اور اس گھڑی کے بارہ میں کوئی شک باقی رہ جا ئے۔ پس حسّی اور ظاہری علوم ایسی چیز ہیں کہ اسے کافر اور مومن (یکساں) قبول کرتے ہیں اور جن کو انسانیت کے قویٰ عطا ہوئے ہیں ان میں سے کوئی ان کے بارہ میں اختلاف نہیں کرتا۔ مثلاً جب دن چڑھا ہوا ہو اور سورج طلوع ہو چکا ہو اور لوگ بیدار ہوں تو اس سے نہ کوئی کافر اور نہ ہی کوئی مومن انکار کرے گا ۔ بالکل اسی طرح جب سب پردے اٹھ جائیں اور متواتر گواہیاں موجود ہوں اور نشانات ظاہر ہو جائیں اور مخفی امور آشکار ہو جائیں اور فرشتے اتر آئیں اور آسمان کی آوازیں سنی جائیں تو ان ایّام میں اور روزِ قیامت میں کیافرق باقی رہ جائے گا اور انکار کرنے والوں کے لئے کیا مفرّ رہ جائے گا ؟ایسی صورت میں تو لازم ہے کہ ان ایّام میں سب کے سب کافر مسلمان ہو جائیں اور اس گھڑی کے بارہ میں کوئی شک باقی نہ رہے لیکن قرآن کریم نے بار بار بیان فرمایا ہے کہ کفّاریومِ قیامت تک اپنے کفر پر قائم رہیں گے وہ ساعۃ کے بارہ میں اپنے شک وشبہ میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ وہ گھڑی ایسی حالت میں اچانک آجائے گی کہ انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو گا اور لفظ بغتۃً واضح طور پر یہ دلالت کر رہا ہے کہ یہ قطعی علامات جن کے بعد قیامت کے بارہ میں کوئی شک باقی نہ رہ سکے گا ، کبھی بھی ظاہر نہ ہوں گی اور نہ ہی اللہ تعالیٰ انہیں ایسے طور پر ظاہر کرے گا کہ سب پردے اٹھ جائیں اور وہ علاماتِ قیامت کو دیکھنے کا یقینی آئینہ بن جائے بلکہ یہ معاملہ یومِ قیامت تک نظریاتی ہی رہے گا ۔ یہ تمام نشانیاں ظاہر تو ہوں گی لیکن بد یہی طور پر نہیں کہ ان کو قبول کئے بغیر چارہ ہی نہ رہے بلکہ ایسے طور پر کہ عاقل تو اس سے فائدہ اٹھاسکیں گے اور متعصّب جاہل ان کو محسوس نہ کر سکیں گے۔ پس اس بارہ میں تدبّر سے کام لے کیونکہ یہ معاملہ تدبّر کرنے والوں کے لئے بصیرت افروز ہے۔ ‘‘ (حمامۃ البشریٰ ۔ روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۳۰۲ تا ۳۰۵)

%d bloggers like this: