احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

الہامات و پیشگوئیوں پر اعتراض, متفرق اعتراضات

قادیان میں آنے پر معجزہ دکھانے کا دعوٰی اور پنڈت دیانند

اور پنڈت دیانند کی واعتراضراشد علی اور اس کا پیر پھراپنی’’بے لگام کتاب‘‘ میں ازراہ تبلیس رقمطراز ہیں۔

’’قادیانی معجزنمائیاں :۔

مرزا صاحب نے اعلان کیا کہ جو کوئی اسلام کی حقانیت کا نشان دیکھنا چاہے وہ ایک سال قادیان میں ان کے ساتھ قیام کرے۔ اس عرصے میں کچھ نہ کچھ دیکھ لے گا۔ اگر کوئی نشان ظاہر نہ ہوا تو۱۰۰روپے حرجانہ مرزا صاحب ادا کریں گے مگر اللہ کے فضل سے یہ نام نہاد مسیح موعود چونکہ خود کسی قسم کے معجزات دکھانے پر قادر نہ تھے اس لئے ہر وہ ہتھکنڈہ و تاویل پیش کرتے تھے جس سے ان کی جان چھوٹ جائے اور ان کو کسی قسم کا خارق عادت معجزہ نہ دکھلانا پڑے۔ مرزا صاحب کی بدقسمتی سے آریہ سماج کے پنڈت دیانند صاحب تیار ہو گئے کہ ۱۰۰روپے مرزا صاحب کسی بینک میں جمع کرادیں۔ وہ ایک سال قادیان میں رکیں گے۔ جب مرزا صاحب نے دیکھا کہ یہ بلا تو گلے ہی پڑ گئی ہے تو نت نئی اور غیر معقول شرائط عائد کرنا شروع کر دیں۔ مثلاً اس ایک سال میں پورے ہندوستان سے کوئی دوسرا آریہ ہندو مرزا صاحب سے شرط کے مطابق پیسوں کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ دوسری شرط یہ عائد کی کہ نشان دیکھنے کے بعد اگر مسلمان نہ ہو تو جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔تیسری شرط یہ تھی کہ نشان دیکھنے کے بعد پنڈت صاحب کے تمام معتقدین اسلام کی حقانیت کا اقرار کریں ورنہ جرمانہ ادا کریں۔ (رئیس قادیان ج اول ص ۱۰۰)

’’ اگر حضورملکہ معظمہ میرے تصدیق دعوے کے لئے مجھ سے نشان دیکھنا چاہئیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ ابھی ایک سال پورا نہ ہو کہ وہ نشان ظاہر ہو جاوے۔ ۔۔۔۔۔۔لیکن اگر کوئی نشان ظاہر نہ ہو اور میں جھوٹا نکلوں تو میں اس سزا میں راضی ہوں کہ حضور ملکہ معظمہ کے پایہ تخت کے آگے پھانسی دیا جاؤں۔ ‘‘(تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۲۷۶ حاشیہ)‘‘

(i ) حقیقت یہ ہے کہ راشد علی اور اس کے پیر کا خون کھول اٹھتا ہے جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسلام کے فتح نصیب جرنیل کی شان میں دیکھتے ہیں اور وہ بہت ہی تلملاتے ہیں جب آپ ؑ دیگر مذاہب کے مذہبی اور سیاسی راہنماؤں اور بادشاہوں کو مخاطب کر کے، اسلام کی حجت ان پر قائم فرماتے ہیں۔

پہلے تو یہ پیر اور مرید عیسائیوں کے لئے اپنی غیرت کا اظہار کرتے تھے اب ہندوؤں کی وکالت میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف منہ میں کف بھرنے لگے ہیں۔

اوّل تو مذکورہ بالا کتاب ’’ رئیس قادیان ‘‘ جس کا انہوں نے حوالہ دیا ہے ، ہرگزجماعت احمدیہ کے لئے حجّت نہیں ہے۔ اسکی کسی عبارت کو وجہِ اعتراض نہیں بنایا جا سکتا۔

دوم یہ کہ جو کچھ راشد علی اور اس کے پیر نے اس کتاب کے حوالہ سے لکھا ہے ،تلبیس کو بروئے کار لاتے ہوئے، حقائق کو چھپا کر لکھا ہے۔ اصل واقعہ کیا تھا ؟ اسلام کو اس موقع پر ہندوؤں پر کیا فوقیت حاصل ہوئی اس کی مختصر مگر سچی روئیداد یہ ہے کہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پنڈت دیانند صاحب بانی آریہ سماج سے روحوں کے بے انت ہونے پر ایک تحریر ی مباحثہ اخبارات میں ۱۸۷۸ء سے چل رہا تھا ۔پنڈت دیانند جی نے بالمواجہ مباحثہ کے لئے بھی پیغام بھیجا ۔چنانچہ ان کے الفاظ یہ تھے۔’ اگر ہمارے اس جواب میں کچھ شک ہو تو بالمواجہ بحث کرنی چاہئے ۔‘ اس بارہ میں ان کا ایک خط بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں آیا۔ اس خط میں انہوں نے بحث کا شوق ظاہر کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر یہ اعلان فرمایا کہ یہ بحث بالمواجہہ ہم کو بسرو چشم منظور ہے ! سوامی جی کو مقامِ بحث اور ثالث بالخیر اور انعقادِ جلسہ کی تجویز بذریعہ اخبار مشتہر کرنے کی دعوت دی گئی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ یہ تمام خطوط ’مکتوباتِ احمد۔ جلد دوم ‘ میں چھپ چکے ہیں ۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ سوامی جی نے پہلے تو روحوں کے بے انت ہونے کے مسئلہ کو ترک کر دیا اور دوسرے یہ کہ مباحثہ کے لئے انہیں ہمت اور حوصلہ نہ ہوا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اعلان میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ

’’ اگر سوامی صاحب نے اس اعلان کا کوئی جواب مشتہر نہ کیا تو بس یہ سمجھو کہ سوامی صاحب صرف باتیں کر کے اپنے موافقین کے آنسو پونچھتے ہیں ‘‘

باوجود غیرت دلانے والے الفاظ کے بھی سوامی جی میدان میں نہ آئے۔ ان کی شکست کا بیّن ثبوت یہ بھی ہے کہ ان کی زندگی کے حالات لکھنے والے ان واقعات کو سرے سے ہضم ہی کر گئے۔ بہرحال حضرت اقدس ؑ نے یہ اعلان ۱۰ جون ۱۸۷۸ء کو کیا تھا جس پر سوامی جی خاموش رہے ۔بالآخر ۹ فروری ۱۸۷۹ء کو اخبار سفیرِ ہند میں حضرت اقدس ؑ نے پانسو روپیہ کا ایک انعامی اشتہار دیا جو متعدد بار متواتر شائع ہوا۔ اس اعلان میں حضرت اقدس ؑ نے سوامی دیانند صاحب کے متبعین کو بھی چیلنج دیا کہ

’’ وہ روحوں کا بے انت ہونا ثابت کریں اور نیز یہ کہ پرمیشر کو ان کی تعداد معلوم نہیں ‘‘

اس اعلان پر آریہ سماج میں ایک کھلبلی سی پیدا ہوئی ۔اس وقت لاہور کی آریہ سماج بہت بڑی نمایاں سماج تھی منشی جیوند اس صاحب اس کے سیکرٹری تھے انہوں نے ایک اعلان کے ذریعہ انکار کر دیا کہ:۔

’’آریہ سماج والے سوامی دیانند کے توابعین سے نہیں ہیں ‘‘

اور انہوں نے مسئلہ مذکورہ کے متعلق بھی لکھ دیا کہ

’’ آریہ سماج کے اصولوں میں داخل نہیں جو اس کا دعویدار ہو اس سے سوال کرنا چاہئے۔ ‘‘

پس آریہ سماج پر یہ اسلام کی ایک بیّن فتح تھی۔ جس کا راشد علی اور اس کے پیر کو بہت دُکھ ہے۔ ان کے موکّل سوامی دیانند جی کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے قلم سے بھی حقیقت حال ملاحظہ فرمائیں۔ آپ فرماتے ہیں۔

’’ اس احقر نے ان کو ان کی وفات سے ایک مدّت پہلے راہِ راست کی طرف دعوت کی اور آخرت کی رسوائی یاد دلائی اور ان کے مذہب اور اعتقاد کا سراسر باطل ہونا براہین قطعیہ سے ان پر ظاہر کیا اور نہایت عمدہ اور کامل دلائل سے بادب تمام ان پر ثابت کر دیا کہ دہریوں کے بعد تمام دنیا میں آریوں سے بدتر اور کوئی مذہب نہیں کیونکہ یہ لوگ خدائے تعالیٰ کی سخت درجہ پر تحقیر کرتے ہیں کہ اس کو خالق اور ربّ العالمین نہیں سمجھتے اور تمام عالم کو یہاں تک کہ دنیا کے ذرّہ ذرّہ کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں اور صفتِ قدامت اور ہستی حقیقی میں اس کے برابر سمجھتے ہیں۔ اگر ان کو کہو کہ کیا تمہارا پرمیشر کوئی روح پیدا کر سکتا ہے یا کوئی ذرّہ جسم کا وجود میں لا سکتا ہے یا ایسا ہی کوئی اور زمین وآسمان بھی بتا سکتا ہے یا کسی اپنے عاشق صادق کو نجات ابدی دے سکتا ہے اور بار بار کتاّ بلاّ بننے سے بچا سکتا ہے یا اپنے کسی محبِ خالص کی توبہ قبول کر سکتا ہے تو ان سب باتوں کا یہی جواب ہے کہ ہرگز نہیں۔ اس کو یہ قدرت ہی نہیں کہ ایک ذرّہ اپنی طرف سے پیدا کر سکے اور نہ اس میں یہ رحیمیت ہے کہ کسی اوتار یا کسی رکھی یا مُنی کو یا کسی ایسے کو بھی کہ جس پر وید اترا ہو ہمیشہ کے لئے نجات دے اور پھر اس کا مرتبہ ملحوظ رکھ کر مکتی خانہ سے باہر دفع نہ کرے اور اپنے اس پیارے کو جس کے دل میں پرمیشر کی پریت اور محبت رچ گئی ہے بار بار کتّا بلاّ بننے سے بچاوے۔

مگر افسوس کہ پنڈت صاحب نے اس نہایت ذلیل اعتقاد سے دست کشی اختیار نہ کی اور اپنے تمام بزرگوں اور اوتاروں وغیرہ کی اہانت اور ذلّت جائز رکھی مگر اس ناپاک اعتقاد کو نہ چھوڑا ۔ اور مرتے دم تک یہی ان کا ظن رہا کہ گو کیساہی اوتار ہو رام چندر ہو یا کرشن ہو۔ یا خود وہی ہو جس پر وید اترا ہے پرمیشور کو ہرگز منظور ہی نہیں کہ اس پر دائمی فضل کرے۔ بلکہ وہ اوتار بنا کر پھر بھی انہیں کو کیڑے مکوڑے ہی بناتا رہے گا۔ وہ کچھ ایسا سخت دل ہے کہ عشق اور محبت کااس کو ذرا پاس نہیں۔ اورا یسا ضعیف ہے کہ اس میں خود بخود بنانے کی ذرہ طاقت نہیں۔ یہ پنڈت صاحب کا خوش عقیدہ تھا جس کو پر زور دلائل سے ردّ کر کے پنڈت صاحب پر یہ ثابت کیا گیا تھا کہ خدائے تعالیٰ ہرگز ادھورا اور ناقص نہیں بلکہ مبدء ہے تمام فیضوں کا اور جامع ہے تمام خوبیوں کا اور مستجمع ہے جمیع صفاتِ کاملہ کا اور واحد لاشریک ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور مبعودیت میں اور پھر اس کے بعد دو دفعہ بذریعہ خط رجسٹری شدہ حقیقت دینِ اسلام سے بدلائلِ واضحہ ان کو متنبّہ کیا گیا اور دوسرے خط میں یہ بھی لکھا گیا کہ اسلام وہ دین ہے جو اپنی حقیقت پر دوہرا ثبوت ہر وقت موجود رکھتا ہے ۔ایک معقولی دلائل جن سے اصولِ حقّہ اسلام کی دیوار روئیں کی طرح مضبوط اور مستحکم ثابت ہوتی ہیں۔ دوسری آسمانی آیات وربّانی تائیدات اور غیبی مکاشفات اور رحمانی الہامات و مخاطبات اور دیگر خوارق عادات جو اسلام کے کامل متبعین سے ظہور میں آتے ہیں جن سے حقیقی نجات ایسے جہان میں سچے ایماندار کو ملتی ہے۔ یہ دونوں قسم کے ثبوت اسلام کے غیر میں ہرگز نہیں پائے جاتے اور نہ ا ن کو طاقت ہے کہ اس کے مقابلہ پر کچھ دم مارسکیں۔ لیکن اسلام میں وجود اس کا متحقق ہے ۔ سو اگر ان دونوں قسم کے ثبوت میں سے کسی قسم کے ثبوت میں شک ہو تو اسی جگہ قادیان میں آکراپنی تسلی کر لینی چاہئے اور یہ بھی پنڈت صاحب کو لکھا گیا کہ معمولی خرچ آپ کی آمد ورفت کا اور نیز واجبی خرچ خوراک ہمارے ذمہ رہے گا اور وہ خط ان کے بعض آریوں کو بھی دکھلایا گیا اور دونوں رجسٹریوں کی ان کی دستخطی رسید بھی آگئی پر انہوں نے حبِّ دنیا اور ناموسِ دنیوی کے باعث اس طرف ذرا بھی توجّہ نہ کی یہاں تک کہ جس دنیا سے انہوں نے پیار کیا اور ربط بڑھایا تھا آخر بصد حسرت اس کو چھوڑ کر اور تمام درہم ودینار سے بمجبوری جدا ہو کر اس دارالفنا سے کوچ کر گئے اور بہت سی غفلت اور ظلمت اور ضلالت اور کفر کے پہاڑ اپنے سر پر لے گئے اور ان کے سفرِ آخرت کی خبر بھی کہ جو ان کو تیس اکتوبر ۱۸۸۳ ء میں پیش آیا تخمیناً تین ماہ پہلے خداوند کریم نے اس عاجز کو دیدی تھی چنانچہ یہ خبر بعض آریہ کو بتلائی بھی گئی تھی۔ خیر یہ سفر تو ہر یک کو درپیش ہی ہے اور کوئی آگے اور کوئی پیچھے اس مسافر خانہ کو چھوڑنے والا ہے مگر یہ افسوس ایک بڑا افسوس ہے کہ پنڈت صاحب کو خدا نے ایسا موقع ہدایت پانے کا دیا کہ اس عاجز کو ان کے زمانہ میں پیدا کیا مگر وہ باوصف ہرطور کے اعلام کی ہدایت پانے سے بے نصیب گئے۔ روشنی کی طرف ان کو بلایا گیا ۔ مگر انہوں نے کم بخت دنیا کی محبت سے اس روشنی کو قبول نہ کیا اور سر سے پاؤں تک تاریکی میں پھنسے رہے۔ ایک بندۂ خدا نے بارہا ان کو ان کی بھلائی کے لئے اپنی طرف بلایا مگر انہوں نے اس طرف قدم بھی نہ اٹھایا اور یونہی عمر کو بیجا تعصّبوں اور نخوتوں میں ضائع کر کے حباب کی طرح ناپدید ہو گئے۔ حالانکہ اس عاجز کے دس ہزار روپیہ کے اشتہار کا اوّل نشانہ وہی تھے اور اسی وجہ سے ایک مرتبہ رسالہ برادر ہند میں بھی ان کے لئے اعلان چھپوایا گیا تھا مگر ان کی طرف سے کبھی صدا نہ اٹھی یہاں تک کہ خاک میں یا راکھ میں جاملے۔‘‘ (براہین احمدیہ ۔ روحانی خزائن۔ جلد ۱ صفحہ ۶۳۵ تا ۶۴۱ حاشیہ نمبر ۱۱)

یہ اصل روئیداد ہے راشد علی اور اس کے پیر کے پنڈت دیانند کی ۔اسلام کی اس فتح پر اور پنڈت دیانند کی شکست پر کسی کو صدمہ پہنچتا ہے یا تکلیف ہوتی ہے تو وہ خواہ بھاڑ میں جائے یا جہنم میں ،ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ہمیں تو یہ خوشی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے آریہ سماج کے مقابل پراسلام کا بول بالا فرمایا۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب ہندوؤں کی آریہ سماج اور برہمو سماج کی تحریکوں نے ، جو اپنے شباب پر تھیں ،اسلام کو اپنے اعتراضات کا نشانا بنایا ہوا تھا ۔ گویا اسلام دشمنوں کے نرغہ میں گھر کر رہ گیا تھا۔ ان سب تحریکوں کا مقصدِ وحید اسلام کو کچل ڈالنا اور قرآنِ مجید اور بانئی اسلام کی صداقت کو دنیا کی نگاہوں میں مشتبہ کرنا تھا۔ آریہ سماج ویدوں کے بعد کسی الہام الٰہی کی قائل نہ تھی اور برہمو سماج والے سرے سے الہام الٰہی کے منکر تھے۔ اور مجرّد عقل کو حصولِ نجات کے لئے کافی خیال کرتے تھے اور تعلیم یافتہ مسلمان یورپ کے گمراہ کُن فلسفہ سے متاثّر ہو کر اور عیسائی ملکوں کی ظاہری ومادی ترقیات کو دیکھ کر الہامِ الٰہی کے منکر ہو رہے تھے اوران حالات میں علماء کے گروہ کا حال یہ تھا کہ وہ آپس میں تکفیر بازی کی جنگ لڑ رہا تھا۔

اس ماحول میں جب کہ قرآنِ مجید کی حقیّت اور آنحضرت ﷺ کی صداقت خود مسلمان کہلانے والوں پر بھی مشتبہ ہو رہی تھی اور کئی ان میں سے عیسائیت کی آغوش میں بھی گررہے تھے، آپ نے براہین احمدیہ کتاب لکھی۔ جس میں آپ نے قرآنِ مجید کا کلامِ الٰہی اور مکمل کتاب اور بے نظیر ہونا اور آنحضرت ﷺ کا اپنے دعویٰ نبوّت ورسالت میں صادق ہونا ،ناقابلِ تردید دلائل سے ثابت کیا اور ان دلائل کے مقابل ،کسی دشمنِ اسلام کے ایسے دلائل کے ثلث یا ربع یا خمس پیش کرنے والے کے لئے دس ہزار روپیہ کا انعام مقرر کیا اور ہر مخالفِ اسلام کو مقابلہ کے لئے دعوت دی۔

اس کتاب سے مسلمانوں کے حوصلے بڑھ گئے۔ چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے جو سردارِ اہلِ حدیث تھے اس کتاب کا خلاصہ مطالب لکھنے کے بعد اپنی رائے ان الفاظ میں ظاہر کی۔

’’ اب ہم اپنی رائے نہایت مختصر اور بے مبالغہ الفاظ میں ظاہر کرتے ہیں۔ ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں شائع نہیں ہوئی۔ اور آئندہ کی خبر نہیں لعل اللہ یحدث بعد ذلک امراً اور اس کا مولّف بھی اسلام کی مالی وجانی وقلمی ولسانی وحالی وقالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔

ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم سے کم ایک ایسی کتاب بتا دے جس میں جملہ فرقہائے مخالفین اسلام خصوصاً فرقہ آریہ وبرہم سماج سے اس زور شور سے مقابلہ پایا جاتا ہو۔ اور دو چار ایسے اشخاص انصارِ اسلام کی نشان دہی کرے جنہوں نے اسلام کی نصرت مالی وجانی وقلمی ولسانی کے علاوہ حالی نصرت کا بیڑا اٹھا لیا ہو۔ اور مخالفین اسلام ومنکرین الہام کے مقابلہ میں مردانہ تحدّی کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہو کہ جس کو وجود الہام میں شک ہو وہ ہمارے پاس آکر اس کا تجربہ ومشاہدہ کر لے اور اس تجربہ ومشاہدہ کا اقوام غیر کو مزہ بھی چکھا دیا ہو۔ ‘‘ (اشاعۃ السنہ جلد ۷ صفحہ ۱۶۹۔مطبع ریاض ہند امرتسر)

’ براہینِ احمدیّہ‘ وہ عظیم الشان کتاب ہے جو اپنے زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے بے نظیر کتاب ثابت ہوئی جس کا مقابلہ کرنے سے تمام منکرینِ اسلام عاجز آگئے اور اسلام کو فتح عظیم حاصل ہوئی۔

(ii) راشد علی اور اس کے پیر نے اسلام کی حقّانیت کے لئے اس نشان نمائی پر بھی اعتراض کیا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ملکہ وکٹوریہ کو پیش کیا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا مقصدِ وحید اشاعتِ توحیدِ الہی اور تبلیغِ پیغامِ خداوندی تھا۔ اس لئے آپ ؑ نے ملکہ وکٹوریہ کی ڈائمنڈ جوبلی کی تقریب پر بھی جو ماہ جون ۱۸۹۷ء میں بڑی دھوم دھام سے منائی جانے والی تھی۔ تبلیغِ اسلام کا پہلو نکال لیا اور ’’ تحفہ قیصریہ ‘‘ کے نام سے ایک رسالہ ۲۵ مئی ۱۸۹۷ء کو شائع فرمایا۔ اس رسالہ میں جوبلی کی تقریب پر مبارکباد کے علاوہ نہایت لطیف پرایہ اور حکیمانہ انداز میں آنحضرت ﷺ اور اسلام کی صداقت کا اظہار اور ان اصولوں کا ذکر فرمایا جو امنِ عالم اور اخوّتِ عالمگیر کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

آپ نے اسلامی تعلیم کا خلاصہ بیان کر کے ملکہ معظّمہ کو لندن میں ایک جلسۂ مذاہب منعقد کرانے کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ اس سے انگلستان کے باشندوں کو اسلام کے متعلق صحیح معلومات حاصل ہوں گی۔ پھر آپ ؑ نے عیسائیوں کے اس عقیدہ کی کہ ’’ مسیح صلیب پر مر کر ان کے لئے ملعون ہوا ‘‘ شناعت وقباحت ظاہر کر کے ملکہ معظمہ سے درخواست کی کہ پیلاطوس نے یہودیوں کے رعب سے ایک مجرم قیدی کو تو چھوڑ دیا اور یسوع کو جو بے گناہ تھا نہ چھوڑا۔ مگر اے ملکہ! اس شصت سالہ جوبلی کے وقت جو خوشی کا وقت ہے تو یسوع کو چھوڑنے کے لئے کوشش کر۔ اور یسوع مسیح کی عزت کو اس لعنت کے داغ سے جو اس پر لگایا جاتا ہے اپنی مردانہ ہمت سے پاک کر کے دکھلا۔

آپ نے اپنے دعویٰ کی صداقت میں ملکہ موصوفہ کو نشان دکھانے کا وعدہ کیا۔ بشرطیکہ نشان دیکھنے کے بعد آپ کا پیغام قبول کر لیا جائے اور نشان ظاہر نہ ہونے کی صورت میں اپنا پھانسی دے دیا جانا قبول کر لیا اور فرمایا اگر کوئی نشان ظاہر نہ ہو اور میں جھوٹا نکلوں تو میں اس سزا پر راضی ہوں کہ حضور ملکہ معظمہ کے پایہ تخت کے آگے پھانسی دیا جاؤں اور یہ سب الحاح اس لئے ہے کہ کاش ہماری محسنہ ملکہ معظمہ کو آسمان کے خدا کی طرف خیال آجائے جس سے اس زمانے میں عیسائی مذہب بے خبر ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ملکہ معظمہ کو اپنے اس رسالہ ’’ تحفہ قیصریہ ‘‘ میں پادریوں کے غلط عقائد سے آگاہ کیا اور خدا تعالیٰ کو گواہ ٹھہرا کر لکھا کہ

’’ اس نے مجھے اس بات پر بھی اطلاع دی ہے کہ درحقیقت یسو ع مسیح ،خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہے اور ان میں سے ہے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں اور ان میں سے ہے جن کو خدا اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنے نور کے سایہ کے نیچے رکھتا ہے۔ لیکن جیسا کہ گمان کیا گیا ہے خدا نہیں ہے۔ ہاں خدا سے واصل ہے اور ان کاملوں میں سے ہے جو تھوڑے ہیں۔

اور خدا کی عجیب باتوں میں سے جو مجھے ملی ہیں ایک یہ بھی ہے جو میں نے عین بیداری میں جو کشفی بیداری کہلاتی ہے یسوع مسیح سے کئی دفعہ ملاقات کی ہے اور اس سے باتیں کر کے اس کے اصل دعویٰ اور تعلیم کا حال دریافت کیا ہے یہ ایک بڑی بات ہے جو توجّہ کے لائق ہے کہ حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفّارہ اور تثلیث اور ابنیّت ہے۔ ایسے متنفّر پائے جاتے ہیں کہ گویا ایک بھاری افترا جو ان پر کیا گیا ہے وہ یہی ہے ۔یہ مکاشفہ کی شہادت بے دلیل نہیں ہے بلکہ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی طالبِ حق نیّت کی صفائی سے ایک مدّت تک میرے پاس رہے اور وہ حضرت مسیح کو کشفی حالت میں دیکھنا چاہے تو میری توجّہ اور دعا کی برکت سے وہ ان کو دیکھ سکتا ہے ان سے باتیں بھی کر سکتا ہے اور ان کی نسبت ان سے گواہی بھی لے سکتا ہے ۔کیونکہ میں وہ شخص ہوں جس کی روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی روح سکونت رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسا تحفہ ہے جو حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ انگلستان وہند کی خدمتِ عالیہ میں پیش کرنے کے لائق ہے۔

دنیا کے لوگ اس بات کو نہیں سمجھیں گے۔ کیونکہ وہ آسمانی اسرار پر کم ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن تجربہ کرنے والے ضرور اس سچائی کو پائیں گے۔

میری سچائی پر اور بھی آسمانی نشان ہیں جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں اور اس ملک کے لوگ ان کو دیکھ رہے ہیں اب میں اس آرزو میں ہوں کہ جو مجھے یقین بخشا گیا ہے وہ دوسروں کے دلوں میں کیونکر اتارا جائے۔ میرا شوق مجھے بیتاب کر رہا ہے کہ میں ان آسمانی نشانوں کی حضرت عالی قیصرہ ہند میں اطلاع دوں۔ میں یسوع مسیح کی طرف سے ایک سچیّ سفیر کی حیثیت میں کھڑا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ جو کچھ آجکل عیسائیت کے بارے میں سکھایا جاتا ہے یہ حضرت یسوع مسیح کی حقیقی تعلیم نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر حضرت مسیح دنیا میں پھر آئے تو وہ اس تعلیم کو شناخت بھی نہ کر سکتے۔ ‘‘(تحفہ قیصریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۲۷۲ تا ۲۷۴)

پھر آپ ؑ نے اسے یہ بھی لکھا کہ

’’ کیا خوب ہو کہ جناب کو اس چھپی ہوئی توہین پر بھی نظر ڈالنے کے لئے توجہ پیدا ہو جو یسوع مسیح کی شان میں کی جاتی ہے۔ کیا خوب ہو کہ جناب ممدوحہ دنیا کی تمام لغات کے رو سے عموماً اور عربی اور عبرانی کے رو سے خصوصاً لفظ لغت کے مفہوم کی تفتیش کریں۔ اور تمام لغات کے فاضلوں کی اس امر کے لئے گواہیاں لیں کہ کیا یہ سچ نہیں کہ ملعون صرف اس حالت میں کسی کو کہا جائے گا جب کہ اس کا دل خدا کی معرفت اور محبّت اور قرب سے دور پڑ گیا ہو۔ اور جبکہ بجائے محبّت کے اس کے دل میں خدا کی عداوت پیدا ہو گئی ہو۔ اسی وجہ سے لغتِ عرب میں لعین شیطان کا نام ہے۔ پس کس طرح یہ ناپاک نام جو شیطان کے حصہ میں آگیا۔ ایک پاک دل کی طرف منسوب کیا جائے۔ میرے مکاشفہ میں مسیح نے اپنی بریّت اس سے ظاہر کی ہے اور عقل بھی یہی چاہتی ہے کہ مسیح کی شان اس سے برتر ہے ۔ لعنت کا مفہوم ہمیشہ دل سے تعلق رکھتا ہے۔ اور یہ نہایت صاف بات ہے کہ ہم خدا کے مقرّب اور پیارے کو کسی تاویل سے ملعون اور لعنتی کے نام سے موسوم نہیں کر سکتے۔ یہ یسوع مسیح کا پیغام ہے۔ جو میں پہنچاتا ہوں۔ اس میں میرے سچے ہونے کی یہی نشانی ہے جو مجھ سے وہ نشان ظاہر ہوتے ہیں جو انسانی طاقتوں سے برتر ہیں۔ اگر حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند وانگلستان توجّہ کریں تو میرا خدا قادر ہے کہ ان کی تسلی کی لئے بھی کوئی نشان دکھادے۔ جو بشارت اور خوشی کا نشان ہو۔ بشرطیکہ نشان دیکھنے کے بعد میرے پیغام کو قبول کر لیں اور میری سفارت جو یسوع مسیح کی طرف سے ہے۔ اس کے موافق ملک میں عملدرآمد کرایا جائے مگر نشان خدا کے ارادہ کے موافق ہو گا نہ انسان کے ارادہ کے موافق ہاں فوق العادت ہو گا۔ اور عظمتِ الٰہی اپنے اندر رکھتا ہو گا۔ *

حضور ملکہ معظمہ اپنی روشن عقل کے ساتھ سوچیں کہ کسی کا خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن نام رکھنا جو لعنت کا مفہوم ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی اور بھی توہین ہو گی؟ پس جس کو خدا کے تمام فرشتے مقر ّ ب مقر ّ ب کہہ رہے ہیں اور جو خدا کے نور سے نکلا ہے اگر اس کا نام خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن رکھا جائے تو اس کی کس قدر اہانت ہے ؟ افسوس اس توہین کو یسوع کی نسبت اس زمانہ میں چالیس کروڑ انسان نے اختیار کر رکھا ہے۔ اے ملکہ معظمہ ! یسوع مسیح سے توُ یہ نیکی کر خدا تجھ سے بہت نیکی کرے گا ۔میں دعا مانگتا ہوں کہ اس کارروائی کے لئے خدا تعالیٰ آپ ہماری محسنہ ملکہ معظمہ کے دل میں القا کرے۔ پیلا طوس نے جس کے زمانہ میں یسوع تھا۔ ناانصافی سے یہودیوں کے رعب کے نیچے آکر ایک مجرم قیدی کو چھوڑ دیا۔ اور یسوع جو بے گناہ تھا اس کو نہ چھوڑا لیکن اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند ہم عاجزانہ ادب کے ساتھ تیرے حضور میں کھڑے ہو کر عرض کرتے ہیں کہ تو اس خوشی کے وقت میں جو شصت سالہ جوبلی کا وقت ہے یسوع کے چھوڑنے کے لئے کوشش کر۔ اس وقت ہم اپنی نہایت پاک نیّت سے جو خدا کے خوف اور سچائی سے بھری ہوئی ہے تیری جناب میں اس التماس کے لئے جرات کرتے ہیں کہ یسوع مسیح کی عزّت کو اس داغ سے جو اس پر لگایا جاتا ہے اپنی مردانہ ہمّت سے پاک کر کے دکھلا۔‘‘ *اگر حضور ملکہ معظّمہ میرے تصدیق دعوٰی کیلئے مجھ سے نشان دیکھنا چاہیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ ابھی ایک سال پورا نہ ہوکہ وہ ظاہر ہو جائے۔اور نہ صرف یہی بلکہ دعا کر سکتا ہوں کہ یہ تما م زمانہ عافیّت و صحت سے بسر ہو۔لیکن اگر کوئی نشان ظاہر نہ ہو۔ اور میں جھوٹا نکلوں تو میں اس سزا میں راضی ہوں کہ حضور ملکہ معظّمہ کے پایہ تخت کے آگے پھانسی دیا جاؤں ۔ یہ سب الحاح اس لئے ہے کہ کاش ہماری محسنہ ملکہ معظّمہ کو اس آسمان کے خدا کی طرف خیال آ جائے جس سے اس زمانہ میں عیسائی مذہب بے خبر ہے۔ منہ (تحفہ قیصریہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۲صفحہ ۲۷۵ ، ۲۷۶ )

پس رسالہ ’’ تحفہ قیصریہ ‘‘ ملکہ وکٹوریہ کے نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے ایک خط تھا جو اسلام اور حضرت محمّد رسول اللہ ﷺ کی سچائی ، عیسائیت کےمروّجہ عقائد کے بطلان اور اسلام کے زندہ اور روحانی تاثیرات سے پُر اور زندہ نشانون کے اعجاز سے مزیّن تھا۔ یہ رسالہ ملکہ معظمہ کو اسلام قبول کرنے اور شہنشاہ دو عالم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی غلامی میں آنے کی ایسی کھلی کھلی دعوت تھی جس کی توفیق صرف مامورِ زمانہ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود ومہدی معہود علیہ السلام کو ملی۔ آپ نے جس شانِ حق کے ساتھ یہ دعوت دی اس کی نظیر ہمیں صرف اسوۂ نبی حضرت محمّدمصطفی ﷺ میں ہی ملتی ہے۔ جس طرح آپ ؐ نے ایک ادب اور سچائی اور دعاؤں کے ساتھ بادشاہوں کو خط لکھے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ملکہ کو خط لکھا اور اسے یہ دعا بھی دی۔

’’ اے قادر توانا ! ہم تیری بے انتہا قدرت پر نظر کر کے ایک اور دعا کے لئے تیری جناب میں جرات کرتے ہیں کہ ہماری محسنہ قیصرہ ہند کو مخلوق پرستی کی تاریکی سے چھوڑا کر لا الہ الا اللّٰہ محمّد رسول اللّٰہ پر اس کا خاتمہ کر۔ ‘‘(تحفہ قیصریہ ۔ جلسہ احباب ۔ روحانی خزائن جلد۱۲ صفحہ ۲۹۰)

پس راشد علی اور اس کا پیر جس طرح خود خدا تعالیٰ کے نشانوں سے تہی دست ہیں اسی طرح اسلام کو بھی نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت کے نشانوں سے خالی اور بے فیض مذہب سمجھتے ہیں مگر ہم خدا تعالیٰ کے نشانوں کا روز مشاہدہ کرتے ہیں جو وہ اپنے دین اورحضرت محمد مصطفی ﷺ کے دین کی تائیدکے لئے اپنے ادنیٰ غلاموں کو عطا کرتا ہے۔ اور ہم دیکھتے ہیں آج اسلام موسیٰ ؑ کا طور ہے جہاں خدا بولتا ہے۔فالحمد ﷲ

Please follow and like us:
error0

Theme by Anders Norén