احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

الہامات و پیشگوئیوں پر اعتراض, متفرق اعتراضات

قرآن خدا کا کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں. الہام پر اعتراض کا جواب

قرآن خدا کا کلام اور میرے منہ کی باتیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک اردو الہام ’’قرآن خدا کا کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں ‘‘ کا ترجمہ ، راشد علی یہ کرتا ہے کہ ۔

“Quran is Gods book and words of my mouth”. (Beware…)

یہ تحریر کر کے وہ نامعلوم کیا ثابت کرنا چاہتا ہے۔

اس الہام کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود یہ بیان فرمائی کہ

’’ خدا کے منہ کی باتیں ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے منہ کی باتیں۔ اس طرح ضمائر کے اختلاف کی مثالیں قرآن شریف میں موجود ہیں۔ ‘‘(ملفوظات جلد ۹صفحہ ۳۰۸ )

اس الہام میں خدا تعالیٰ قرآنِ کریم کے بے نظیر، خالص اور محفوظ ہونے کی وضاحت فرمائی ہے اور حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام، جن پر یہ الہام نازل ہوا ہے، خود اس کی تشریح یہ بیان کرتے ہیں کہ اس میں ’’ میرے منہ ‘‘ سے مراد خدا تعالیٰ کا منہ ہے۔ اور ’’ میرے ‘‘ کی ضمیر خدا تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔تو اس وضاحت کے بعد کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ آپ ؑ کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو آپ ؑ نے کہی ہی نہیں۔ قرانِ شریف میں انصرافِ ضمائر کی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے۔

وَاللّٰهُ الَّذِىْۤ اَرْسَلَ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّيِّتٍ (فاطر: ۱۰)

ترجمہ :۔اور اللہ وہ ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے جو بادل کو اٹھاتی ہیں۔ پھر ہم اس کو ایک مردہ ملک کی طرف ہانک کر لے جاتے ہیں۔

یہاں پہلے اللہ تعالیٰ کے لئے غائب کی ضمیر کا استعمال کیا گیا ہے ۔ پھر اچانک انصراف کر کے اسے متکلّم کی طرف پھیر دیا گیا ہے ۔ چنانچہ ’ فَسُقْنَاہُ ‘ میں’’ نا‘‘ کی ضمیر بظاہر انسانوں کی طرف معلوم ہوتی ہے مگر دراصل یہاں ’’ نا‘‘ سے مراد بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پس ایسی مثالیں خدا تعالیٰ کے کلام میں پائی جاتی ہیں مگر راشد علی کو خدا تعالےٰ کا یہ طرزِ کلام صرف پسند ہی نہیں بلکہ اس کے نزدیک سخت قابلِ اعتراض بھی ہے۔

Please follow and like us:
error0

Theme by Anders Norén