احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

متفرق اعتراضات

قرآن خدا کا کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں ۔ الجواب

قرآن خدا کا کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں

ahmadimuslim.de فورم پر دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اعتراض ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا ایک الہام بیان فرمایا ہے  قرآن خدا کا کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں

۔ اس سے غیر احمدی یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ  حضرت مرزااحمد علیہ السلام کا کلام ہے اور آپؑ نے فرمایا ہے کہ نعوذباللہ قرآن میرے منہ کی باتیں ہیں۔

الجواب۔ مختصراً یہ کہ یہ مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا کلام نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف سے الہام ہے اور یہاں (میرے) کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف ہے نہ کہ خود حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی طرف۔
تفصیل درج ذیل ہے۔

سب سے پہلے ہم اس بات کو ثابت کریں گے کہ یہ الہام ہے نہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام ۔

۔ یہ فقرہ جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں جہاں بھی آیا ہے وہاں اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الہام ہی بتایا ہے۔

سب سے پہلا حوالہ یہ ہے ۔ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۔ روحانی خزائن جلد  1 صفحہ 641 حاشیہ نمبر 3

 

اس عبارت میں صاف فرمایا گیا ہے کہ یہ الہامات ہیں۔ اس میں ذیر بحث الہام بھی موجود ہے۔

دوسرا حوالہ۔ اس کے بعد دوسرا حوالہ یکم جنوری 1899ء کی کتاب ایام صلح سے ہے ۔

ایام صلح روحانی خزائن جلد 14 صفحہ  308۔  پی ڈی ایف صفحہ 327

یہاں بھی اس ساری عبارت کو الہام کہا گیا ہے جس میں زیر بحث الہام موجود ہے ۔

تیسری جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس الہام کا ذکر حقیقۃ الوحی میں فرمایا ہے اس کا حوالہ یہ ہے ۔

حقیقت الوحی ۔ روحانی خزائن جلد نمبر 22صفحہ 87 پیڈی ایف صفحہ 104

یہی حقیقت الوحی کا حوالہ ہے جو عام طور پر غیر احمدیوں کی طرف سے دیا جاتا ہے اور اس میں وجہ یہ ہے کہ ان کا مقصد صرف اور صرف دھوکا دینا ہے۔ کیونکہ یہاں عبارت کے ساتھ یا پچھلے صفحہ پر الہام کا لفظ نہیں  لکھا۔ تفصیل اسکی درج ذیل ہے۔

تفصیل

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقیقت الوحی کتاب کے صفحہ نمبر 72 پر لکھا ہے اب میں چند الہامات نمونہ کے طور پر ذیل میں لکھتے ہیں۔ اور پھر صفحہ نمبر 73 سے ﷽ سے یہ الہامات شروع ہوتے ہیں اورصفحہ نمبر 111 پر یہ لفظ (خاتمہ) کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں۔ ان 38 صفحات میں یعنی صفحہ 73 سے صفحہ 111 کے لفظ (خاتمہ) تک سوائے عربی عبارت کے ترجمہ اور حاشیہ کے صرف اور صرف الہامات ہی درج ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کااپنا ذاتی ایک لفظ بھی نہیں ہے۔

پس اور کی تحقیق سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ذیر بحث فقرے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذاتی نہیں بلکہ اللہ کا کلام (الہام)ہیں۔ اب ہم ذیل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وضاحت ان الفاظ کے بارے میں پیش کرتے ہیں جو کہ آپ نے جولائی 1907ء کو یعنی آج 15 فروری 2017ء سے تقریباً 110 سال قبل ہی فرما دی تھی۔

یہ اعتراض اصل میں تب بھی کسی فتہ پرداز کی طرف سے کیا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسکا جواب بھی تب ہی دے دیا تھا۔ غیر احمدی مولوی اس بات کو جانتے بوجھتےہوئے پھر پیش کر دیتے ہیں تا کہ معصوم عوام کو دھوکہ میں ڈال کر سچ سے دور رکھا جا سکے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رؤیا اور کشوف والہامات کے مجموعہ ۔۔۔ تزکرہ ۔۔۔ میں زیر بحث الہام 1883ء کے زیل میں درج ہے جسکا حوالہ درج ذیل ہے۔

تذکرہ نیا ایڈیشن صفحہ 77

 

اس میں زیر بحث عبارت کو صاف الہام کے طور پر لکھا گیا ہے اور حاشیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی کی ہوئی وضاحت درج ہے کہ اس الہام میں ۔۔۔۔ قرآن (میرے) منہ کی باتیں ہے میں (میرے ) کی ضمیر خدا کی طرف ہے یعنی اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ  قرآن میرے منہ کی باتیں ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ قرآن اللہ کے منہ کی باتیں ہیں۔

اب ہم ثبوت کے طور پر بدر اخبار کے 11 جولائی 1907ء کے شمارے کو پیش کرتے ہیں جسکا حوالہ ۔۔۔تذکرہ۔۔ کے حاشیہ میں دیا گیا ہے ۔

اس تشریح کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات میں بھی ہے حوالہ درج ذیل ہے

ملفوظات (جدید) جلد 5 صفحہ 236

کہا جاتا ہے کہ کسی بھی عبارت کی وہی تشریح قابل قبول ہوتی ہے جو اس عبارت کے بیان کرنے والے نے کی ہو۔ پس یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہو چکی ہے کہ یہ عبارت ایک الہام ہے نہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا کلام اور دوسرا یہ کہ اس میں قرآن (میرے) منہ کی باتیں ہیں میں میرے سے مراد اللہ تعالیٰ ہے یعنی قرآن اللہ تعالیٰ کے منہ کی باتیں ہے۔

آخری وضاحت

اب آخر پر اس بات کی وضاحت کر دینا ضروری ہے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ اس میں عبارت کے پہلے حصہ میں

تو خدا کا لفظ موجود ہے مگر دوسرے میں میرے کا لفظ ہے تو اس کا جواب یہ ہے اس طرح ضمیروں کے بدل جانے کی مثالیں اللہ کے کلام میں عام ملتی ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حوالوں سے خوب ثابت ہو تاہے ۔

قرانِ شریف میں انصرافِ ضمائر کی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے۔
(وَاللّٰهُ الَّذِىْۤ اَرْسَلَ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّيِّتٍ (فاطر: ۱۰

ترجمہ :۔اور اللہ وہ ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے جو بادل کو اٹھاتی ہیں۔ پھر ہم اس کو ایک مردہ ملک کی طرف ہانک کر لے جاتے ہیں۔

یہاں پہلے اللہ تعالیٰ کے لئے غائب کی ضمیر کا استعمال کیا گیا ہے ۔ پھر اچانک انصراف کر کے اسے متکلّم کی طرف پھیر دیا گیا ہے ۔ چنانچہ ’ فَسُقْنَاہُ ‘ میں’’ نا‘‘ کی ضمیر بظاہر انسانوں کی طرف معلوم ہوتی ہے مگر دراصل یہاں ’’ نا‘‘ سے مراد بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَخْرَجْنَا بِہٖ نَبَاتَ کُلِّ شَیۡءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْہُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْہُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًا ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنۡ طَلْعِہَا قِنْوَانٌ دَانِیَۃٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیۡتُوۡنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِہًا وَّ غَیۡرَ مُتَشٰبِہٍ ؕ اُنۡظُرُوۡۤا اِلٰی ثَمَرِہٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوۡنَ۔  سورۃ الانعام آیت 200

ترجمہ۔ اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر ہم نے اس سے ہر قسم کی روئیدگی پیدا کی۔ پھر ہم نے اس میں سے ایک سبزہ نکالا جس میں سے ہم تہ بہ تہ بیج نکالتے ہیں۔ اور کھجور کے درختوں میں سے بھی ان کے خوشوں سے بھرپور جھکے ہوئے تہ بہ تہ پھل اور اسی طرح انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار، ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی اور نہ ملتے جلتے بھی۔ ان کے پھلوں کی طرف غور سے دیکھو جب وہ پھل دیں اور ان کے پکنے کی طرف۔ یقیناً ان سب میں ایک ایمان لانے والی قوم کے لئے بڑے نشانات ہیں۔

ياأيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن وأحصوا العدة واتقوا الله ربكم لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة وتلك حدود الله ومن يتعد حدود الله فقد ظلم نفسه لا تدري لعل الله يحدث بعد ذلك أمرا  ۔ سورۃ االطلاق آیت 2

ترجمہ۔  اے نبی جب تم لوگ اپنی عورتوں کو طلاق دیا کرو۔۔۔۔۔۔

پس ایسی مثالیں خدا تعالیٰ کے کلام میں پائی جاتی ہیں مگر مولویوں کو خدا تعالےٰ کا یہ طرزِ کلام صرف نا پسند ہی نہیں بلکہ ان کے نزدیک سخت قابلِ اعتراض بھی ہے۔

Please follow and like us:
error0