متفرق اعتراضات

کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں.جواب

شعر ’’ کرم خاکی ہوں ۔۔۔‘‘ پر ہرزہ سرائی

۔جس طرح سؤر گندگی کے ڈھیر میں اپنی تھوتھنی دھنسا کر گند کھاتا ہے اسی طرح مخالفین نے بھی جھوٹ کے گند میں اپنی تھوتھنی داخل کر کے انتہائی گند او ر غلاظت سے بھرے ہوئے خیالات سے اپنا منہ بھرا ہے۔ اس کا ثبوت یہی مذکورہ بالا گند ہے جو اس نے بکا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی جگہ بھی اردو میں ایسا نہیں فرمایا کہ جس کا وہ ترجمہ ہو سکے جو مخالفین کے گندے ذہن نے اختراع کیا ہے ۔کہ

“I am the obscene part of men and the shamful place of humans (Insaan ki Jaaye sharam)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جس شعر پر مخالفین نے جھوٹ کاگند کھایا ہے وہ یہ ہے۔

کِرمِ خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

ہوں بشر، کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔ روحانی خزائن جلد ۲۱صفحہ ۱۲۷)

اس شعر کے ساتھ کے اشعار بھی ملاحظہ فرمائیں۔ آپ ؑ فرماتے ہیں۔

کام جو کرتے ہیں تیری رہ میں پاتے ہیں جزا

مجھ سے کیا دیکھا کہ یہ لطف وکرم ہے بار بار

تیرے کاموں سے مجھے حیرت اے میرے کریم

کس عمل پر مجھ کو دی ہے خلعتِ قرب وجوار

کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

ہوں بشر،کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

یہ سراسر فضل واحساں ہے کہ میں آیا پسند

ورنہ درگہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمتگذار

ان اشعار سے صاف ظاہر ہے کہ’’ کِرمِ خاکی‘‘و الے شعر میں ’’ مرے پیارے ‘‘ کے الفاظ خدائے کریم کو مخاطب کر کے کہے گئے ہیں۔اوریہ شعر بھی حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی مناجات میں سے ہے جو آپ نے خدا تعالیٰ کے حضور کیں۔ نیزیہ شعرآپ کے عجز وانکسار اور خدا تعالیٰ کے حضور تذلّل کا آئینہ دار ہے جو کہ شانِ نبوّت کا ایک خاصّہ ہے ۔جس طرح ہمارے آقا ومولیٰ نے جب خدا تعالیٰ کے حضور اپنے عجز وانکسار اور تذلّل کا اظہار کیا تو عرض کی

’’ انّی ذلیل فاعزّنی ‘‘

( جامع الصغیر للسیوطی ؒ ۔الجزء الثانی ۔صفحہ ۸۶۔ المکتبہ الاسلامیہ سمندری۔مطبوعہ ۱۳۹۴ھ)

’’ کہ میں ذلیل ہوں مجھے عزّت عطا فرما ۔‘‘

اسی طرح حضرت ایّوب علیہ السلام نے بارگاہِ ربُّ العزّت میں اپنے آپ کو عبدِ ذلیل قرار دیا۔(تفسیر کبیر لامام رازی جلد ۶ صفحہ ۱۸۱ مصری)

لیکن جہاں تک مذکورہ بالا زیر بحث شعر کا تعلق ہے اس کے الفاظ ویسے ہی ہیں جیسے حضرت داؤد علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے حضور مناجات کرتے ہوئے پیش کئے۔ آپ فرماتے ہیں ۔

’’اے میرے خدا ! اے میرے خدا ! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ۔۔۔ پر میں تو کیڑا ہوں ، انسان نہیں ۔ آدمیوں میں انگشت نما ہوں اور لوگوں میں حقیر۔‘

حضرت داؤد علیہ السلام کی ان مناجات کا انگلش ترجمہ بائیبل (زبور نمبر ۲۲آیات ۱تا۶)میں یہ لکھا ہے

“But I am a worm, and no man a reproach of men and despised of the people.”

بعینہ یہی ترجمہ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے شعر کا ہے۔اس کا صاف اور صحیح مطلب تو یہ ہے کہ میں ایک بشر ہی تو ہوں ،اس وجہ سے انسانوں کی طرف سے مجھے نفرت اور حقارت کا ملنا ایک لازمی امرہے۔

پس خدا تعالیٰ کے حضور یہ عجزو انکسار اور تذلّل کا اظہار تو شانِ نبوّت کا خاصّہ ہے اور خاص طور پر شانِ داؤدی ؑ ہے۔ مناجات کے ان الفاظ پر اگر راشد علی نے گند اچھالا ہے تو اس کی زد حضرت داؤد علیہ السلام کی مناجات پر تو پڑتی ہی ہے مگر اس کے ساتھ آنحضرت ﷺ اور حضرت ایّوب علیہ السلام کی منکسرانہ التجائیں بھی اس کی لپیٹ میں آتی ہیں۔ نعوذ باللہ من ذلک

پس راشد علی سے ہماری یہی درخواست ہے کہ جو گند اس نے اچھالا ہے اسے خود ہی نِگل لے ۔ ورنہ وہ توہینِ انبیاء ؑ کا کھلا کھلا مرتکب ہے۔کیونکہ اس کے اس حملہ میں حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے ساتھ دوسرے نبی بھی حصّہ دار بنتے ہیں۔

دیکھئے کس طرح حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کا یہ فرمان بار بار اپنی سچائی کو ظاہر کرتا ہے کہ

انبیاء ؑ کے طور پر حجت ہوئی ان پر تمام

ان کے جو حملے ہیں ان میں سب نبی ہیں حصّہ دار

میری نسبت جو کہیں کِیں سے وہ سب پر آتا ہے

چھوڑ دیں گے کیا وہ سب کو کفر کر کے اختیار

اس باب میں آخر میں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ راشد علی نے یہ بھی صریح جھوٹ بولا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو الفاظ استعمال فرمائے ہیں اس کے اردو میں معانی انسان کے’ عضوِ نہانی‘ کے ہیں۔ کسی لغت میں ’’ عار ‘‘ کے معنے نہ انسان کی جائے شرم کے ہیں اور نہ ہی اس کے معنے ہیں “Private parts of men” ۔ اور اگر اس نے الفاظ ’’ کی جائے نفرت ‘‘ سے یہ مطلب نکا لا ہے تو یہ اس کی غلیظ حماقت پر دلیل ہے۔کیونکہ شعر میں اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ’’نفرت کی جائے‘‘ یعنی لفظ’’جائے ‘‘ سے مراد’کیاجانا‘ ہے’ جگہ‘ مراد نہیں ہے ۔نہ ہی جائے نفرت کا معنٰی جائے شرم ہوتا ہے ۔پس راشد علی یقیناجھوٹا اور گندا ہے۔

%d bloggers like this: