احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

ذات پر اعتراضات, سیرت و کردار حضرت مسیح موعودؑ, صداقت مسیح موعودؑ, متفرق اعتراضات

کبھی کبھی زنا ۔ حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانیؑ پر زنا کا الزام ۔ الفضل 31 اگست 1938

کبھی کبھی زنا ۔ حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانیؑ پر زنا کا الزام ۔ الفضل 31 اگست 1938

اہم نوٹ ۔ ایک گمنام خط ۔ جس میں ایک نامعلوم دشمن کی طرف سے یہ جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگایا گیا ہے ۔ جو کہ اس شمارہ الفضل کے صفحہ 5 تا 12 موجود ہے۔ ان سب صفحات میں خط کا مضمون اور اس کا جواب جاری ہے۔ جزاک اللہ خیرا

Facebook Link

اصل اخبار دیکھیں اور ڈاؤنلوڈ کریں

اخبار محفوظ کریں

یہ بالکل غلط اور جھوٹا اعتراض ہے ۔ مخالفین احمدیت مخالفت کی آگ میں اسقدر اندھے ہوگئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے پیاروں سے رقابت اپنا شیوہ بنا رکھا ہے۔تحریف میں تو یہودیوں سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں۔یہ ایسی ہی طرز کا اعتراض ہے کہ جس طرح کوئی قرآن کریم کی آیت ’’لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ‘‘(النساء :44) کا حوالہ دیکر کہدے کہ نماز نہ پڑھنے کا حکم ہے، جبکہ اس کے بعد ’’وَاَنْتُمْ سُکٰرٰ ی ‘‘(جب تم پر مدہوشی کی کیفیت ہو)کے الفاظنہ پڑھے۔اس اعتراض میں کس طر ح تحریف اور بہتان سے کام لیا گیا ہے اس کا اندازہ ان کی پیش کردہ معترضہ عبارت سے لگا یا جاسکتا ہے۔مخالفین جو حوالہ پیش کرتے ہیں وہ ملاحظہ ہو:۔

“حضرت مسیح موعودؑولی اللہ تھے۔اور ولیا ء اللہ بھی کبھی کبھی زنا کرلیا کرتے ہیں۔اگر انھوں نے کبھی کبھار زنا کرلیا ۔تو اس میں حرج کیا ہوا۔پھر لکھا ہے۔ہمیں حضرت مسیح موعودپر اعتراض نہیں ۔کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کرتے تھے۔ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے۔کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔”

(روزنامہ الفضل قادیان دارالامان مؤ رخہ31اگست1938ء)

الفضل کا نا مکمل حوالہ دے کر یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ نعوذ باللہ جماعت احمدیہ خود اس بات کو تسلیم کرتی ہے۔حالانکہ یہ تحریف اور افتراء کی وہ صورت ہے کہ جس سے نہ صرف حضر ت اقدس مسیح موعودؑ اورحضرت خلیفۃالمسیح الثانی ؓ بلکہ خدا کے اولیاء اور نبیوں کی بھی ہتک کی جارہی ہےکہ وہ کبھی کبھار زنا کیا کرتے تھے۔یہ وہی روش ہے جو آنحضرت ﷺ پر اعتراض کرنے والے غیر مسلم اپناتے ہیں۔

حقیقت حال یہ ہے کہ معترضہ عبارت دراصل ایک منافق کی ہے جس نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کو بہت سے گمنام خطوط لکھے جن میں اپنی منافقت کا اظہار کرتے ہوئے اعتراضات کیے۔اسی کے ایک خط کو حضرت صاحب نے اپنے ایک خطبہ میں پیش کیا ۔آپؓ نے فرما یا کہ ایک طرف یہ شخص اپنے اخلاص کا اظہار کرتا ہے تو دوسری طرف سلسلہ سے دشمنی کا اظہار حضرت مسیح موعودؑ اور آپؓ پر اس قسم کے بے ہودہ الزام لگا کر کرتا ہے۔خطبہ کے اصل الفاظ یہ ہیں:۔

“اس قدر اعتراضات کرنے کے با وجود ہر خط میں بڑا اخلاص بھی ظاہر کیا ہوا ہوتا ہے۔اور لکھا ہوتا ہے ۔ہم سلسلہ کے خادم ہیں۔مگر اس کی سلسلہ سے محبت کا اندازہ اسی سے ہوسکتا ہے کہ ایک خط میں جس کے متعلق اس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اسی کا لکھا ہوا ہے۔اس پر یہ تحریر کیا ہے کہ حضرت مسیح موعودولی اللہ تھے۔اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کرلیا کرتے ہیں۔اگر انھوں نے کبھی کبھار زنا کرلیا ۔تو اس میں حرج کیا ہوا۔پھر لکھا ہے۔ہمیں حضرت مسیح موعودپر اعتراض نہیں ۔کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کرتے تھے۔ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے۔کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔اس اعتراض سے پتہ لگتا ہے۔کہ یہ شخص پیغامی طبع ہے۔اس لئے کہ ہما را حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق اعتقاد ہے کہ آپ نبی اللہ تھے ۔مگر پیغامی اس بات کو نہیں مانتے اور وہ آپ کو صرف ولی اللہ سمجھتے ہیں۔تو جب کو ئی شخص ایک سچائی پر اعترا ض کرتا ہے اسے لازماً دوسری سچا ئیوں پر بھی اعتراض کرنا پڑتا ہے۔”

(الفضل قادیان دارالامان مؤ رخہ31اگست1938ءص6)

منافقین تمام انبیاء کے ادوار میں موجو د رہے ہیں۔جن کا کام محض اعتراضات کرنا اور نبیوں کے سلسلہ کو کھوکھلا کرنا ہوتا ہے۔اسی وجہ سے مؤ منین کو خدا تعالیٰ مخاطب کرکے فرما تا ہے:۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ
(الحجرات :7)
ترجمہ :۔ اے وہ لوگو جو اىمان لائے ہو! تمہارے پاس اگر کوئى بدکردار کوئى خبر لائے تو (اس کى) چھان بىن کرلىا کرو، اىسا نہ ہو کہ تم جہالت سے کسى قوم کو نقصان پہنچا بىٹھو پھر تمہىں اپنے کئے پر پشىمان ہونا پڑے ۔

Please follow and like us:
error0

Theme by Anders Norén

%d bloggers like this: