احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

تحریرات پر اعتراض, جھوٹ بولنے کا اعتراض, صداقت مسیح موعودؑ, متفرق اعتراضات

متفق اعتراضات ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لوٹ کر آنے کا ذکر کسی حدیث میں نہیں

متفق اعتراضات ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لوٹ کر آنے کا ذکر کسی حدیث میں نہیں

اعتراض 22:۔
‘‘ کیا الیاس نبی، ملاکی نبی کی ’’پیشگوئی کے مطابق دوبارہ دنیا میں آگیا؟ تا یہ لوگ بھی حضرت عیسیٰ کے دوبارہ آنے کی امید رکھیں۔ اور حدیثوں میں تو دوبارہ آنے کا کوئی لفظ بھی نہیں۔ ’’

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص290 خزائن جلد21)

یہاں بھی مرزا جی نے جھوٹ بولا ہےحالانکہ حدیث میں موجود ہے:

‘‘ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ ’’

(ابن جریر جلد 3صفحہ289)

بے شک عیسی فوت نہیں ہوئے اور وہ قیامت سے پہلے لوٹ کر آئیں گے۔’’لیکن ٹھہرئیے !مرزا جی کا قول بھی سن لیجئے:

”جیسا کہ حدیثوں میں وارد ہو چکا ہے کہ جب مسیح دوبارہ دنیا میں آئے گا تو تمام دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا۔”

(الحکم 2فروری 1908ء نمبر9جلد نمبر120 کالم نمبر2 ص3صفحہ3)

کیوں جناب مرزا جی کا کیسا جھوٹ پکڑا گیا؟

جواب:۔
حضرت مرزا صاحب پرنارواجھوٹ کا الزام لگانے کے شوق میں بے چارےمعترض کو دو غلط بیانیاں کرنی پڑیں۔اول یہ غلط دعویٰ کربیٹھےحضرت عیسیٰ کے دوبارہ آنے کا ذکر حدیث میں موجود ہے۔ دوسرے یہ خلاف حقیقت امرکہ حضرت مرزا صاحب نےخودحضرت مسیح کا دوبارہ آنا تسلیم کیا ہے۔

جہاں تک حدیث میں مسیح کے دوبارہ آنے کے ذکر کا تعلق ہے،حضرت مرزا صاحب کاتمام احادیث کی تحقیق وتفتیش اور مطالعہ کے بعد ایک صدی سے زائد عرصہ سےمسیح کی دوبارہ آمد کے قائل علماءکے لیےایک بہت بڑا چیلنج دیا۔جو119 سال سے لاجواب پڑا ہےاورآپؑ کی سچائی اور فتح کا نقارہ بجا رہا ہے۔آپ نےفرمایا:

‘‘اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح حدیث تو کیا وضعی حدیث بھی ایسی نہیں پاؤ گے جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسیٰ ؑ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے ہیں۔ اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئیں گے۔ اگر کوئی ایسی حدیث پیش کرے تو ہم ایسے شخص کو بیس ہزار روپیہ تک تاوان دے سکتے ہیں اور توبہ کرنا اور اپنی تمام کتابوں کا جلا دینا اس کے علاوہ ہو گا۔’’

(کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد 13صفحہ225)

آج تک کوئی عالم حدیث اس کا جواب پیش نہیں کر سکا۔حالانکہ اگر صرف اسی چیلنج کو دیکھا جائے تو جماعت احمدیہ اور دیگرفرقوں کے مابین سچائی کے لیے یہ فیصلہ کن ہے۔

ماہنامہ ‘‘ضیائے حدیث’’نےحضرت مرزا صاحب کے خلاف40 جھوٹ گھڑنے کا تکلف بےسبب کیا،اسکی بجائے اگر وہ یہی چیلنج توڑ دیتے تو بیس ہزار روپے انعام پانے کے علاوہ ان کی مذہبی فتح مسلّم ہوجاتی کیونکہ حضرت مرزا صاحب نے اپنے عقیدہ سے توبہ کرنے کےساتھ تمام کتابوں کے جلانے کا وعدہ کر رکھا تھا۔۔۔جب علمائے اہلحدیث کے نزدیک حضرت مرزا صاحب سے اختلاف کی بڑی وجہ مسئلہ حیات و وفات مسیح ہی تھا تو اس کے تصفیہ کے لیے اس سے بہتر کوئی تجویز نہیں ہو سکتی تھی۔کیونکہ بقول مولوی ثناء اللہ امرتسری مرکزی مسئلہ اور اصل الاصول وفات مسیح علیہ السلام ہی تھا۔(رسالہ تاریخ مرزا ص 24-25)مگر حیرت ہے حیات مسیحؑ کا دعویٰ کرنے والوں نےآج تک کوئی صحیح حدیث مرفوع متّصل حضرت عیسیٰ کے آسمان پر جانے اور زمین پرواپس آنے کی پیش نہیں کی۔اس کے مقابل پرقرآن کریم کی 30 آیات اور 12 احادیث رسولﷺ سے حضرت مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ کی وفات کو اپنی کتاب ‘‘ازالہ اوہام’’ وغیرہ میں ثابت کر دکھایا۔

اب اس جگہ جو حوالہ‘‘ضیائے حدیث’’کے معترض نے حدیث بناکرپیش کیا ہے۔فی الواقعہ وہ حدیث نہیں قول حسن بصری ہےاورمعترض نےحسن بصری کے قول کو حدیث یعنی قول رسول قرار دے دیا۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔کیونکہ رسول اللہﷺ سے یہ مرفوع روایت کہیں سے ثابت نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ حدیث کی کسی صحیح کتاب میں یہ حوالہ موجود نہیں۔نہ بخاری میں ہے،نہ مسلم میں،نہ ترمذی میں،نہ ابو داؤد،نسائی اور ابن ماجہ میں ہے۔نہ مؤطا امام مالک و محمد میں، نہ مسند احمد اور دارمی میں۔آخر اتنی اہم حدیث جس پرمسلمانوں کے ایک بنیادی عقیدہ حیات مسیح کی بنیادتھی نہ وہ کسی صحابی راوی نے بیان کی نہ صحاح ستہ میں ہے،صرف ایک کتاب تفسیر ابن جریر میں ہے یا ایک یا دو تفسیروں نے اس سےنقل کی ہے و بس۔

اب اس‘‘عیسی نہیں مرے’’کی روایت بیان کرنے والی کتاب اور اسکے راویوں کا حال بھی سن لیں۔اہل حدیث کے قابل احترام مشہورعالم مولاناشاہ عبدالعزیزصاحب محدث دہلوی اپنی تصنیف عجالہ نافعہ میں اس تفسیر ابن جریر کوطبقہ رابعہ کی کمزور روایات میں شمار کیا ہے۔جو قابل اعتبار نہیں کہ ان سے کسی عقیدہ کے اثبات کی سند لی جائے۔(رسالہ عجالہ نافعہ صفحہ7-8)یعنی نہ پہلا درجہ،نہ دوسرا،نہ تیسرا بلکہ چوتھا درجہ وہ بھی ناقابل اعتبار۔

پھر یہ روایت حسن بصری کی ہے جن کی مرسل روایت حجت نہیں ہوتی۔حضرت امام احمدبن حنبلؒ نے تو یہاں تک فرمایا:‘‘

لیس فی المرسلات أضعف من المرسلات الحسن’’

(تہذیب التہذیب جلد7صفحہ202و384زیرلفظ عطاء بن ابی رباح)

کہ حسن کی مرسل روایات اتنی زیادہ کمزور ہیں کہا س سے بڑھ کر کوئی کمزور روایت نہیں ہوگی۔

اس روایت کے چار راوی ضعیف ہیں۔ 1۔ اسحاق بن ابراہیم بن سعید المدنی: ابو زرعہ کے نزدیک اس کی حدیث بوجہ ضعف قابل انکار ہے ۔

(تہذیب التہذیب جلد اول صفحہ214،میزان الاعتدال جلداول صفحہ70)

2۔عبداللہ بن ابی جعفرعیسیٰ بن ماہانہے:عبدالعزیز بن سلام کے نزدیک یہ راوی فاسق تھا اور جو روایت یہ اپنے باپ سے کرے وہ لائق اعتبار نہیں ہوتی۔ (تہذیب التہذیب جلد پنجم صفحہ177،میزان الاعتدال جلددوم صفحہ26)

اورلَم ْیَمُت ْوالی روایت اس راوی نے اپنے باپ سے ہی روایت کی ہے۔جوبہرحال مردود ہے۔

3۔تیسرا راوی دوسرے راوی عبد اللہ کا باپ ابو جعفر عیسیٰ بن ماہان ہے جو نسائی اور عجلی کے نزدیک بھی قوی نہیں۔اورخطا کار اور سیئ الحفظ بھی ہے۔

(تہذیب التہذیب جلد12صفحہ57،میزان الاعتدال جلددوم صفحہ285)

4۔چوتھاراوی ربیع بن انس البکری المصریہے۔غالی شیعہ تھااورجوروایت اس سے ابو جعفر عیسیٰ بن ماہان کرے اس روایت سے لوگ بچتے ہیں۔

(تہذیب التہذیب جلد سوم صفحہ٢٣٩)

یہ لَمْ یَمُتْ والی روایت وہ ہےجواس راوی سےابوجعفرعیسیٰ بن ماہان نےکی ہے۔لہٰذاقابل قبول نہیں۔

جس روایت کے پانچ میں سے چار راوی ضعیف اور غیر ثقہ ہوں بلکہ بعض شیعہ بھی ہوں اس روایت کےجھوٹا اور جعلی ہونے میں کیا شبہ رہ گیا۔

ناظرین! امر واقعہ یہ ہے کہ جب حیات مسیح کے دعویٰ کے اثبات کے لیے قرآن و احادیث صحیحہ سے تو کچھ نہ ملاتوبناوٹی روایات کا سہارا لینےکی یہ ایک کوشش تھی سو وہ بھی ناکام ٹھہری۔اب ان کے جھوٹ کے ساتھ حضرت مسیح پر انّا للہ پڑھ ہی دینا چاہیے۔

دوسری غلط بیانی معترض نےیہ کی ہےکہ خودحضرت مرزا صاحب مسیح کی دوبارہ آمد مسیح کے قائل ہیں۔حالانکہ حضرت مرزاصاحب کی اصل عبارت جو معترض نے ادھوری لکھی ہے،مکمل پیش نہیں کی وہ خوداس کے خلاف گواہ ہے۔فرمایا:

‘‘سو مجھے دو بروز عطا ہوئے ہیں۔ بروز عیسیٰ و بروز محمد۔۔۔ عیسیٰ مسیح ہونے کی حیثیت سے میرا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو وحشیانہ حملوں اور خون ریزیوں سے روک دوں جیسا کہ حدیثوں میں صریح طور سے وارد ہو چکا ہے کہ جب مسیح دوبارہ دنیا میں آئے گا تو تمام دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا۔ سو ایسا ہی ہوتا جاتا ہے۔ آج کی تاریخ تک تیس ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ میرے ساتھ جماعت ہے۔’’

(الحکم 2فروری 1908صفحہ3)

اور اب توروحانی جہاد سے تیار ہونیوالی یہ عالمگیر جماعت 206 ممالک میں لاکھوں سے کروڑوں میں تبدیل ہوچکی ہے۔

اس حوالہ سے ظاہر ہےکہ حضرت مرزا صاحب نے واضح طور پر احادیث نزول مسیح سے مراد مثیل مسیح کی آمد لیتے ہوئےفرمایاکہ یہ پیشگوئی آپ کے ذریعہ پوری ہو چکی ہےاورآپ ہی وہ مسیح ہیں جن کے ذریعہ بغیر کسی دینی جنگ کے ایک جماعت قائم ہو رہی ہے۔

جب معترض یہ عبارت تسلیم کرکےاپنی تائید میں پیش کر رہا ہے تو اسےاس بروزی مسیح کو قبول کرنے کے سوا چارہ نہیں۔ورنہ اس کے ایسے معنے کرنا جو قائل کی مرضی کے خلاف ہوں ہرگز جائز نہیں۔بلکہ صریحاً بد دیانتی ہے جو ایک اہلحدیث عالم دین کو زیب نہیں دیتی۔

پس یہ اعتراض اگر توتجاہل عارفانہ کے طور پر اعتراض برائے اعتراض ہے؟تو واضح بد دیانتی ہے اور اگر لا علمی میں ہے تو پھر جہالت کاعظیم شاہکار ہے۔حضرت مرزا صاحب پرکوئی اعتراض ان کی کتابوں میں مندرج مسلک اور عقیدہ تو ہوسکتا ہےپہلے از خود کسی عبارت کا ایک مفہوم متعین کرنا اور پھر اس پر خود ہی اعتراض کرنایہ کہاں کا انصاف ہے۔

اب معترض کا پیش کردہ حوالہ الحکم 1908ء کا ہےجبکہ حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ تو 1891ء سے ازالہ اوہام میں وفات مسیح کے اعلان اور 30 آیتوں سے اس کے ثبوت کے بعد اظہار و اعلان فرمارہے ہیں کہ اس الہام الہٰی کے مطابق آپ ہی وہ مثیل مسیح ہیں کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہوچکا ہے اور اس کے رنگ میں ہوکر وعدہ کے مطابق تو آیا ہے۔اور1891ء سے1908ء تک مسلسل 18 سالوں میں شائع ہونیوالی جملہ کتابوں میں یہ مضمون اس طرح کھول کربیان فرمایا ہے کہ کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔

چنانچہ 1891ء میں اپنی کتاب ازالہ اوہام میں وفات مسیح ثابت کرنے کے بعدحضرت مرزا صاحب نے تحریر فرمایا کہ‘‘ہریک مسلمان کو یہ ماننا پڑے گا کہ فوت شدہ نبی ہرگز دنیا میں دوبارہ نہیں آسکتا۔ کیونکہ قرآن اورحدیث دونوں بالاتفاق اِس بات پر شاہد ہیں کہ جو شخص مر گیا پھر دنیا میں ہرگز نہیں آئے گااور قرآن کریم انّھم لا یرجعون(سورة انبیاء آیت96)کہہ کر ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے اُن کو رخصت کرتا ہے۔’’

(ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد 3ص459)

یہی مضمون آپ نے سورة نور کی آیت استخلاف آیت 56 کی روشنی میں متعدد کتب میں بیان فرمایا۔چنانچہ اپنی کتاب شہادة القرآن مطبوعہ1893ءمیں ہے:

‘‘اس امت میں بھی اس کے آخری زمانہ میں جو قرب قیامت کازمانہ ہے حضرت عیسیٰ کی مانند کوئی خلیفہ آنا چاہیے کہ جو تلوار سے نہیں بلکہ روحانی تعلیم اور برکات سے اتمام حجت کرے اور اس لحاظ سے کہ حضرت مسیح حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد آئے یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ مسیح موعود کا اس زمانہ میں ظہور کرنا ضروری ہو۔’’

پھر تحفہ گولڑویہ مطبوعہ1900ء میں فرمایا:

‘‘سو مسیح عیسیٰ بن مریم کی نسبت رجعت کا جو عقیدؔہ ہے اُس عقیدہ کے موافق عیسیٰ مسیح کی آمد ثانی کا یہی زمانہ ہے۔ سو وہ آمد ثانی بروزی طور پر ظہور میں آگئی’’ (تحفہ گولڑویہ ص129 تا133)

پھر اپنی کتاب نزول المسیح مطبوعہ1902ءمیں اس دوبارہ آمد مسیح کو بروزی قرار دیتے ہوئے فرمایا:

‘‘اسی بناء پر اس زمانہ کے علماء کا نام یہود رکھا گیا اور محمدی مسیح کا نام ابن مریم رکھا گیا اور پھر اُسی خاتم الخلفاء کا نام باعتبار ظہور بیّن صفات محمدیہ کے محمّد اور احمد رکھا گیا اور مستعار طور پر رسول اور نبی کہا گیا اور اُسی کو آدم سے لے کر اخیر تک تمام انبیاء کے نام دیئے گئے تا وعدۂ رجعت پورا ہو جائے۔ ’’

(نزول المسیح ص5 حاشیہ)

اب یہاں تو تمام انبیاء کی دوبارہ آمد کا ذکر ہے۔جس سے ظاہری آمد مراد نہیں ہوسکتی۔بروزی وعدۂ رجعت مراد ہے۔ورنہ صرف عیسیٰ ہی نہیں سب انبیاء کا دوبارہ آنا ماننا پڑے گا۔

پس حضرت مرزا صاحب کو 1891ء میں اللہ تعالیٰ نے الہاماً بتایا: ‘‘اناجعلناک المسیح ابن مریم’’ ہم نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا ہے۔

اس کے بعدسے جب حضرت مرزا صاحب مسیح کی دوبارہ آمد کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد مثیل مسیح کی آمد اپنی صفات اور خوبیوں کے ساتھ ایک نئے وجود میں ہے۔نہ کہ اصالتاً مسیح کی دوبارہ واپسی۔کیونکہ مسیح کا نزول اس کے رفع کی فرع ہے۔اور جب رفع قرآن وحدیث سے ثابت ہی نہیں اور نہ ہی جسمانی نزول ثابت ہے تو پھر ان کا نزول رسول اللہﷺ کے نزول کی طرح مرادلیا جائے گا۔قد انزل اللہ علیک ذکرا رسولا۔ یا اس کی تشریح ایلیا کے نزول کے مطابق کی جائے گی جیسا کہ حضرت مسیحؑ نے۔اس سے مراد حضرت یوحنا یحی بن زکریا کا منجانب اللہ آنامراد لیا۔

پس معترض نے حضرت مرزا صاحب کا دوبارہ آمد مسیح کے بارہ میں مؤقف جانتے ہوئےیہ اعتراض کیا ہے تویہ بد دیانتی کا اعلیٰ نمونہ ہے۔اور اگرلاعلمی میں ایسا کیا ہے تو جہالت کا شاہکار ہے۔

Please follow and like us:
error0

Theme by Anders Norén

%d bloggers like this: