احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدیاحمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

تحریرات پر اعتراض, جھوٹ بولنے کا اعتراض, صداقت مسیح موعودؑ, متفرق اعتراضات

متفرق اعتراضات ۔ ہمارے امام المحدثین حضرت اسماعیل صاحب اپنی صحیح بخاری میں یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کتابوں میں کوئی لفظی تحریف نہیں

متفرق اعتراضات ۔ ہمارے امام المحدثین حضرت اسماعیل صاحب اپنی صحیح بخاری میں یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کتابوں میں کوئی لفظی تحریف نہیں

اعتراض 19:۔
‘‘ہمارے امام المحدثین حضرت اسماعیل صاحب اپنی صحیح بخاری میں یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کتابوں میں کوئی لفظی تحریف نہیں۔’’ (ازالہ اوہام حصہ اول ص239،خزائن جلد 3 ص239 )

امام بخاری کا نام اسمٰعیل نہیں بلکہ محمد ہے۔مرزا جی نے امام بخاری پر بھی جھوٹ بولا ہے۔

دوسرا جھوٹ کہ بخاری شریف میں لکھا ہے کہ ان کتابوں میں لفظی تحریف نہیں۔

جواب:۔
یہ اعتراض بھی سہو کتابت سے تعلق رکھتا ہے جسے نمبر بڑھانے کے لیے الگ اعتراض کے طور پر پیش کیا گیا ہےکیونکہ حضرت مرزا صاحب نے اپنی کتب میں قریباً 85 دفعہ امام بخاری کا نام تحریر فرمایا ہے۔اور کئی جگہ امام بخاری کا نام ‘‘محمد’’درج ہے۔جس کامطلب ہے کہ آپ امام بخاری کے نام بخوبی آگاہ تھے۔اگر اس جگہ سہو کاتب سےیا غلطی سے‘‘محمد بن’’کے الفاظ رہ گئے تو یہ محل اعتراض نہیں۔کجا یہ کہ ایسے سہو کو جھوٹ سے تعبیر کیا جائے۔

حضرت مرزا صاحب نے جو حوالہ صحیح بخاری کادیا معترض اسے بھی جھوٹ قرار دیتا ہے کہ یہ حوالہ بخاری شریف میں لکھا ہے کہ ان کتابوں میں کوئی لفظی تحریف نہیں۔حالانکہ امام بخاری کا یہ مؤقف صحیح بخاری کتاب التوحید میں موجود ہے۔حضرت مرزا صاحب پر جھوٹ کے اس اعتراض سے معترض کی اپنی علمیت کا پول ضرور کھل گیاکہ اہل حدیث ہو کر بخاری کا حوالہ حضرت مرزا صاحب سے پوچھتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو۔حضرت مرزا صاحب امام زمانہ ہیں۔جنہوں نے اہلحدیث کو قرآن بھی سکھانا تھا اور از سرِنو حدیث بھی پڑھانی تھی۔

{يُحَرِّفُونَ} [النساء: 46]: «يُزِيلُونَ، وَلَيْسَ أَحَدٌ يُزِيلُ لَفْظَ كِتَابٍ مِنْ كُتُبِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَكِنَّهُمْ يُحَرِّفُونَهُ، يَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ تَأْوِيلِهِ

(بخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالیٰ بل ھو قرآن مجید فی لوح محفوظ)

یعنی (النساء : اور المائدہ : میں وارد لفظ) یحرفون کے لیے یزیلون کی تعبیر اختیار کی گئی ہے، حالانکہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں سے کسی کتاب کے الفاظ مٹا نہیں سکتا، بلکہ وہ بایں معنی اس میں تحریف کرتے ہیں کہ اس کے الفاظ و کلمات کے اصل مدعا اور مفہوم سے پھیر دیتے ہیں ۔

امام بخاری کا یہ حوالہ جس سیاق و سباق میں حضرت مرزا صاحب نے پیش کیا وہ بڑا دلچسپ اور پڑھنے کے لائق ہے کہ مسیح کے آنے سے پہلے ایلیاء نبی کے آسمان سے آنے کی خبر۔۔۔ جو رتھ پر آسمان سے۔۔۔ مسیح کی تشریح کہ وہ یوحنا۔۔۔

اصل عبارت

‘‘ہم نے ایلیا کے صعود و نزول کا ِقصہ اس غرض سے اس جگہ لکھا ہے کہ تا ہمارے بھائی مسلمان ذرہ غور کر کے سوچیں کہ جس مسیح ابن مریم کے لئے وہ لڑتے مرتے ہیں اُسی نے یہ فیصلہ دیا ہے اور اسی فیصلہ کی قرآن شریف نے بھی تصدیق کی ہے۔ اگر آسمان سے اُتر نا اِسی طور سے جائز نہیں جیسے طور سے ایلیا کا اُتر نا حضرت مسیح نے بیان فرمایا ہے تو پھر مسیح منجانب اللہ نبی نہیں ہے بلکہ نعوذ باللہ قرآن شریف پر بھی اعتراض آتا ہے جو مسیح کی نبوت کا مصدق ہے اب اگر مسیح کو سچا نبی ماننا ہے تو اس کے فیصلہ کو بھی مان لینا چاہئے زبردستی سے یہ نہیں کہنا چاہئے کہ یہ ساری کتابیں محرّف و مبدّل ہیں بلا شبہ ان مقامات سے تحریف کا کچھ علاقہ نہیں اور دونوں فریق یہود و نصاریٰ ان عبارتوں کی صحت کے قائل ہیں اور پھر ہمارے امام المحدثین حضرت اسماعیل صاحب اپنی صحیح بخاری میں یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کتابوں میں کوئی لفظی تحریف نہیں۔

یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے اور پہلے بھی ہم کئی مرتبہ ذکرکرؔ آئے ہیں کہ جس قدر پیشگوئیاں خدائے تعالیٰ کی کتابوں میں موجود ہیں اُن سب میں ایک قسم کی آزمائش ارادہ کی گئی ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر کوئی پیشگوئی صاف اور صریح طور پر کسی نبی کے بارے میں بیان کی جاتی تو سب سے پہلے مستحق ایسی پیشگوئی کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے کیونکہ اگر مسیح کے اُترنے سے انکار کیا جائے تو یہ امر کچھ مستوجب کفر نہیں لیکن اگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے انکار کیا جاوے تو بلاشبہ وہ انکار جاودانی جہنّم تک پہنچائے گا۔ مگر ناظرین کو معلوم ہوگا کہ تمام توریت و انجیل میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اور ایسا ہی حضرت مسیح کی نسبت بھی کوئی ایسی کھلی کھلی اور صاف پیشگوئی نہیں پائی جاتی جس کے ذریعہ سے ہم یہودیوں کو جا کر گردن سے پکڑلیں۔حضرت مسیح بھی باربار یہودیوں کو کہتے رہے کہ میری بابت موسیٰ نے توریت میں لکھا ہے مگر یہودیوں نے ہمیشہ انہیں یہی جواب دیا کہ اگر چہ یہ سچ ہے کہ ہماری کتابوں میں ایک مسیح کے آنے کی بھی خبر دی گئی ہے مگر تم خود دیکھ لوکہ مسیح کے آنے کا ہمیں یہ نشان دیا گیا ہے کہ ضرور ہے کہ اس سے پہلے ایلیا آسمان سے اُترے جس کا آسمان پر جانا سلاطین کی کتاب میںؔ بیان کیا گیا ہے اس کے جواب میں ہر چند حضرت مسیح یہی کہتے رہے کہ وہ ایلیا یو حنا یعنی یحیٰ زکریا کا بیٹا ہے مگر اس دور دراز تاویل کو کون سُنتا تھا اور ظاہر تقریر کی رُو سے یہودی لوگ اس عذ ر میں سچے معلوم ہوتے تھے سو اگرچہ خدائے تعالیٰ قادر تھا کہ ایلیا نبی کو آسمان سے اُتارتا اور یہودیوں کے تمام وساوس بکلّی رفع کر دیتا لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا تا صادق اور کاذب دونوں آزمائے جائیں کیونکہ شریر آ دمی صرف ظاہری حُجّت کی رُو سے بے شبہ ایسے مقام میں سخت انکار کر سکتا ہے لیکن ایک را ستباز آدمی کے سمجھنے کے لئے یہ راہ کھلی تھی کہ آسمان سے اُترنا کسی اور طور سے تعبیر کیا جائے اور ایک نبی جو دوسری علامات صدق اپنے ساتھ رکھتا ہے
اُن علامات کے لحاظ سے اُس پر ایمان لایا جاوے ہاں یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ اگر سلاطین اور ملاکی کے بیانات کو مسلمان لوگ بھی یہودیوں کی طرح محمول پر ظاہر کریں تو وہ بھی کسی طرح یحیٰی بن زکریا کو مصداق اُس کی پیشگوئی کا نہیں ٹھہراسکتے اور اس پیچ میں آکر مسیح ابن مریم کی نبوت بھی ہر گز ثابت نہیں ہو سکتی۔ قرآن شریف نے مسیح کی تا ویل کو جو ایلیا نبی کے آسمان سے اُتر نے کے بارہ میں انہوں نے کی تھی قبولؔ کر لیا اورمسیح کو اور یحییٰ کو سچا نبی ْٹھہرایا ورنہ اگر قرآن شریف ایلیا کا آسمان سے اُترنا اسی طرح معتبر سمجھتا یعنی ظاہری طور پر جیسا کہ ہمارے بھائی مسلمان مسیح کے اُترنے کے بارہ میں سمجھتے ہیں تو ہرگز مسیح کو نبی قرار نہ دیتا کیونکہ سلاطین اور ملاکی آسمانی کتابیں ہیں اگر ان مقامات میں اُن کے ظاہری معنے معتبر ہیں تو ان معانی کے چھوڑنے سے وہ سب کتابیں نکمّی اور بے کار ٹھہر جائیں گی۔ میرے دوست مولوی محمد حسین صاحب اس مقام میں بھی غور کریں ؟ اور اگر یہ کہا جا ئے کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ سلاطین اور ملاکی کے وہ مقامات محر ّ ف و مبدّل ہوں تو جیسا کہ ابھی میں لکھ چکا ہوں تو یہ سراسر وہم و گمان باطل ہے کیونکہ اگر وہ مقام محر ف و مبدل ہوتے تو مسیح بن مریم کا یہودیوں کے مقابل پر یہ عمدہ جواب تھاکہ جو کچھ تمہاری کتابوں میں ایلیا کا آسمان پر جانا اورپھر اُترنے کا وعدہ لکھاہے یہ بات ہی غلط ہے اور یہ مقامات تحریف شدہ ہیں۔

بلکہ مسیح نے تو ایسا عذر پیش نہ کرنے سے اُن مقامات کی صحت کی تصدیق کردی۔ ماسوا اس کے وہ کتابیں جیسے یہودیوں کے پاس تھیں ویسے ہی حضرت مسیح اور اُن کے حواری اُن کتابوں کو پڑھتے تھے اوراُن کے نگہبان ہوگئے تھے اور یہودیوں کے لئے ؔہم کوئی ایسا موجب عند العقل قرار نہیں دے سکتے جو ان مقامات کے محرف کرنے کے لئے انہیں بے قرار کرتا۔ اب حاصل کلام یہ کہ مسیح کی پیشگوئی کے بارے میں ایلیا کے قصّہ نے یہودیوں کی راہ میں ایسے پتھر ڈال دئے کہ اب تک وہ اپنے اس راہ کو صاف نہیں کر سکے اوربے شمار روحیں اُن کی کفر کی حالت میں اِس دنیا سے کوچ کر گئیں۔’’

(ازالہ اوہام حصہ اول ص 239،روحانی خزائن جلد 3 ص238 تا240 )

Please follow and like us:
error0

Theme by Anders Norén

%d bloggers like this: