احمدی مسلم دلائل بمع سکین

احمدی مسلمانوں کے عقائد اور غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جوابات

تحریرات پر اعتراض, صداقت مسیح موعودؑ, متفرق اعتراضات

متفرق اعتراضات ۔ ہندوستان میں ایک نبی گذرا۔جو سیاہ رنگ کا تھا۔اس کا نام کاہن تھا یعنی کنہیا جس کو کرشن کہتے ہیں

متفرق اعتراضات ۔ ہندوستان میں ایک نبی گذرا۔جو سیاہ رنگ کا تھا۔اس کا نام کاہن تھا یعنی کنہیا جس کو کرشن کہتے ہیں

اعتراض:۔
معترض نے اپنے اس مضمون کے صفحہ نمبر163پر جھوٹ نمبر4کے زیر عنوان ایک اعتراض یہ کیا ہے ۔لکھتا ہے۔

مرزا قادیانی نے ہندوستان کے کرشن کنہیا کو نبی ثابت کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ پر جھوٹ بولا کہ آپ نے فرمایا:۔

”کَانَ فِی الْہِنْدِ نَبِیاًّ اَسْوَدَ اللَّوْنِ اِسْمُہ کَاھِناً ۔“ہندوستان میں ایک نبی گذرا۔جو سیاہ رنگ کا تھا۔اس کا نام کاہن تھا یعنی کنہیا جس کو کرشن کہتے ہیں۔

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص10جلد23صفحہ382)

یہ اقتباس درج کر کے معترض اعتراض یہ کرتا ہے۔ حدیث کی کسی کتاب میں ان الفاظ کے ساتھ حدیث نہیں ہے۔

جواب:۔
قارئین کرام! حقیقت کیا ہے؟حقیقت یہ ہے کہ حضرت بانیٴ جماعت احمدیہ علیہ السلام اس جگہ پر اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی مخالفین اسلام کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔جسے داغدار ثابت کرنے کے لئے معترض اس پر اعتراض کررہا ہے۔

حضرت بانیٴ جماعت احمدیہ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ دوسرے مذاہب کا حال یہ ہے کہ ان کی کتابیں پڑھو ۔ان کے ماننے والوں کے خیالات سنو تو وہ یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے صرف ہماری قوم میں ،صرف ہمارے وطن میں ہدایت کا سلسلہ جاری فرمایا اور کسی قوم کو اپنی ہدایت سے فیض یاب نہیں کیا۔ کسی قوم میں خدا تعالیٰ نے ہادی اور راہنما نہیں بھیجے۔گویا دنیا کی تمام قومیں جن کی خدا تعالیٰ نے جسمانی نشو ونما کا انتظام کیا ۔انہیں ہر قسم کی دنیاوی نعمت سے مالا مال کیا لیکن ان کی اخلاقی اور روحانی راہنمائی کے لئے کوئی انتظام نہ کیا۔یہ بات خدا تعالیٰ کی ذاتِ بابرکات کے خلاف ہے۔ ہر قوم کے اعتقاد کے مطابق گویاخدا نے صرف انہی کی قوم کو مخصوص کیا ہادی اور راہنما بھیجنے کے لئے۔باقی تمام قوموں کو چھوڑ دیا۔ حالانکہ خدا تعالیٰ سورة الفاتحہ میں فرماتا ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۔(فاتحہ:2)قرآن اس خدا کو پیش کرتا ہے جو تمام جہانوں کی پرورش کرنے والا ہے۔تمام قوموں کی پرورش کرنے والا ہے۔خواہ جسمانی پرورش ہو خواہ روحانی پرورش ۔

چنانچہ قرآن پاک نے فرمایا۔

وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّاخَلَافِیْھَانَذِیْر۔ (فاطر:25)ہر قوم میں خدا کی طرف سے ڈرانے والاآیا۔

وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ۔(الحج:35)ہر قوم میں خدا کا ہادی آیا تھا۔

فرمایا وَلَقَدْ بَعَثْنَافِی کُلِّ اُمَّةٍ رَسُوْلاً۔ہم نے ہر قوم میں اپنا رسول مبعوث فرمایا اور ہر رسول اپنی قوم کو یہ پیغام دینے آیا تھا کہ اَنِ اعْبُدُوَا اللّٰہَ ۔ اللہ کی عبادت کرو۔ وَاجْتَنِبُوْا الطَّاغُوْتِ ۔(النحل:37) اور شیطانی باتوں سے بچتے رہو۔ اس کے بعد کیا ہوا ۔بعد میں آنے والوں نے اپنے راہنماوٴں کی تعلیمات میں بگاڑ پیدا کر دیا۔کئی باتیں نکال دیں،کئی باتیں ان کی کتابوں میں داخل کر دیں۔ ان کی طرف نہایت نامناسب باتیں منسوب کردیں۔حضرت بانیٴ جماعت احمدیہ علیہ السلام فرماتے ہیں:۔

قرآن کریم کاکمال ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی خاص قوم کے ساتھ مخصوص نہیں کرتا ۔ہر قوم کی راہنمائی کا اقرار کرتا ہے ۔ہر قوم کے آنے والے انبیاء اور ہادیوں کا احترام قائم کرتا ہے ۔بلکہ قرآن پاک فرماتا ہے کہ اس وقت تک کوئی مومن بن نہیں سکتا جب تک وہ ہر قوم میں آنے والے رسول کی سچائی پر ایمان نہ لائے۔

یہ ہے مضمون ،یہ ہے وہ پس منظر جس میں اس مضمون کو بیان کیا گیا ۔جس پر معترض اعتراض کرتا ہے۔چنانچہ آپ نے حدیث بیان کی کہ کَانَ فِی الْہِنْدِ نَبِیًّا ۔ہندوستان میں ایک نبی تھا۔ اَسْوَدَ اللَّوْنِ۔جس کا رنگ کالا تھا ۔اِسْمُہ کَاھِناً ۔(تاریخ ہمدان دیلمی باب الکاف)اس کا نام کاہن تھا۔یہ کتاب ،یہ حدیث تاریخ ہمدان دیلمی کے باب الکاف میں موجود ہے ۔یہ اعتراض گذشتہ ایک صدی سے ہمارے مخالفین پیش کرتے چلے آرہے ہیں اور ہم اپنی ہر کتاب میں اس کتاب کا حوالہ دے رہے ہیں۔لیکن چونکہ عوام کو اس حقیقت کی خبر نہیں ہوتی ۔وہ عوام کو گمراہ کرنے کے لئے عوام کو دھوکہ دینے کے لئے یہ اعتراض بار بار تحریر اور تقریر میں بیان کرتے رہتے ہیں۔

تفاسیر کی کتب دیکھئے۔تفسیر کشاف میں،تفسیر مدارک التنزیل میں حضرت علیؓ کی حدیث ہے کہ حضرت علی فرماتے ہیں۔اِنَّ اللّٰہَ بَعَثَ نَبِیاًّ اَسْوَدَ۔(الکشاف جز ثالث زیر آیت غافر مطبوعہ دارالفکر)اللہ تعالیٰ نے کالے رنگ کا نبی مبعوث فرمایاتھا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت علی کو کس طرح پتاچلا ،کیا قرآن پاک میں لکھا ہے؟قرآن پاک میں تو نہیں لکھا۔پھر دوسرا ذریعہ علم کیا ہے ؟ کہ انہوں نے حضرت محمد مصطفی ﷺ سے اس بات کو سناہو اور آگے امت کو پہنچایا ۔ چنانچہ علم اسماء الرجال کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت علیؓ اور آئمہ اہل بیت اکثر اوقات جب کوئی حدیث نبوی بیان کرتے ہیں تو حدیث نبوی بیان کرتے ہوئے وہ حضرت رسول پاک ﷺ کانام بیان نہیں کرتے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم خاندان نبوت کے فرد ہیں۔ ہم اپنی طرف سے کوئی بات بیان نہیں کر رہے۔ہم جو بات بیان کر رہے ہیں وہ حضرت محمد مصطفے ﷺ کی زبان سے ہم نے سنی ہے۔

پس حوالہ موجود ہونے کے باوجود اعتراض کرنا معترض کی اپنی کم علمی کا ثبوت ہے ۔

Please follow and like us:
error0